بھیانک انجام

Urdu Font Short Stories

راحیلہ بہت خوبصورت تھی۔ اس کی خوبصورتی کے چرچے پورے گاؤں میں تھے۔ وہ بہت کم گو تھی اور بلا ضرورت کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ راحیلہ مجھ پر بھروسہ کرتی تھی اور پیار بھی بہت کرتی تھی۔ کوئی مسئلہ ہو، پریشانی یا تکلیف، وہ ہر بات مجھ سے آکر شیئر کرتی تھی۔

ایک دن ہم کالج سے واپس آرہے تھے۔ وہ حسب معمول مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اچانک رک گئی اور کہنے لگی، “ایک لڑکا ہمارا پیچھا کرتا ہے، کیا تم نے غور کیا؟” میں نے اس کی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ہنسی مذاق میں ٹال دیا، لیکن وہ ایک حساس دل رکھتی تھی۔

وہ اس بات سے پریشان رہنے لگی۔ میں دراصل یہ چاہتی تھی کہ لڑکے والی بات میں دلچسپی نہ لوں تاکہ وہ بھی اس بات کو اہمیت دینا چھوڑ دے، لیکن جس دن اس نے مجھے ایک خط دکھایا جو محلے کا ایک لڑکا دے گیا تھا، تو میرے کان کھڑے ہو گئے اور میں نے سوچا کہ اب مجھے اس معاملے میں ضرور دخل دینا چاہیے۔ آخر وہ ذاتِ شریف ہے کون، جو اس بری طرح میری دوست کے پیچھے پڑ گیا ہے اور کسی جن بھوت کی طرح اس کو پریشان کر رہا ہے؟ میں نے پوچھا کہ خط میں کیا لکھا ہے؟ اس نے کہا، “میں نے بغیر پڑھے جلا دیا۔” میں نے کہا، “تم کو ایک بار پڑھ لینا چاہئے تھا یا پھر فون پر بات کر کے دیکھو، آخر وہ چاہتا کیا ہے؟” وہ میری بات مان گئی۔ شاید یہی میری غلطی تھی کہ میں نے اس میں یہ جرات پیدا کی کہ وہ لڑکی جو میرے علاوہ کسی سے بات نہ کرتی تھی، میرے کہنے پر ایک غیر مرد سے بات کرنے پر رضامند ہو گئی۔ بس یہی میری خطا تھی جس کی سزا میری سہیلی کو ملی، کیونکہ مرد پر اعتبار کرنا، وہ بھی غیر مرد پر، عورت کی بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔

اکثر مرد تو عورت کو اپنی خواہشات پر قربان کر دیتے ہیں اور ایک بد نیت شخص کسی کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ عورت کو چاہئے کہ وہ اچھے اور برے مرد کی پہچان کرے، اور اگر نہیں کر سکتی تو کسی پر اعتبار نہ کرے۔ میری سہیلی بھی ایک ایسے ہی مرد کے ہاتھوں ختم ہو گئی۔ اس نے میرے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اس لڑکے سے بات کی اور اس کا نام وغیرہ پوچھا۔ اس نے بتایا کہ “میرا نام خرم ہے، میں فیصل آباد میں رہتا ہوں اور تم کو دل و جان سے پسند کرتا ہوں”۔ اور نجانے کیا کیا کہا! اس نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے گویا میری سہیلی کو رام کر لیا۔ اب وہ روز اس کو فون کرنے لگا۔ راحیلہ بھی اس میں دلچسپی لینے لگی۔ مجھ سے بھی وہ اب ہمہ وقت اسی کی باتیں کرتی کہ وہ ایسا ہے، وہ یہ کہتا ہے۔ ہر وقت وہ مجھے اس کے بارے میں بتاتی اور میں سوچتی کہ اس کو کیسے روکوں، کیسے سمجھاؤں؟ کہیں یہ معاملہ بے قابو ہی نہ ہو جائے۔ میں اب اس کو نصیحت بھی نہیں کرتی تھی کہ کہیں وہ مجھ سے دور نہ ہو جائے اور اپنی باتیں چھپانے لگ جائے۔ اس طرح وہ خود کو زیادہ نقصان پہنچا سکتی تھی۔

ایک دن راحیلہ مجھے بہت خوش نظر آرہی تھی۔ وہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ خرم نے مجھے فلاں باغ میں بلایا ہے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا کیونکہ خرم کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور یہاں وہ کبھی کبھی اپنی خالہ کے گھر آتا تھا، اور خط بھی بڑی چالاکی سے لکھتا تھا یعنی راحیلہ کی سہیلی فریحہ کے نام سے۔ راحیلہ خرم کے خیالوں میں اندھی ہو چکی تھی۔ جب میں نے اس کو سختی سے منع کیا، تو وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ وہ مجھ سے لڑ پڑی کہ “تم نہیں چاہتیں میں خوشیوں بھری زندگی کے خواب دیکھوں، کیونکہ اب تم مجھ سے حسد کرنے لگی ہو”۔ میری اتنی پیاری سہیلی اور ایسی باتیں! میں اس کی زبان سے یہ سن کر زمین میں دھنستی چلی گئی۔ مجھے یقین نہ آیا کہ راحیلہ اس طرح کی باتیں کر سکتی ہے؟ میرے بہت روکنے پر بھی وہ نہ رکی اور خرم سے ملنے چلی گئی۔ اب کی دفعہ خرم ایک مہینے کے لئے آیا تھا۔ وہ روز اس کو کہیں نہ کہیں بلاتا اور یہ ایسے اس کا حکم مانتی، جیسے اگر نہیں مانے گی تو اس کا دیوتا اس سے ناراض ہو جائے گا۔

ایک دن اس نے اسے اپنے ایک دوست کے گھر بلایا اور کہا کہ “میں اور تم شادی کر لیتے ہیں، اور ابھی کسی کو نہیں بتانا کیونکہ میری کچھ مجبوریاں ہیں۔ ایک ماہ بعد میں اس لائق ہو جاؤں گا کہ تمہارا بوجھ اٹھا سکوں، پھر میں تم کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا”۔ اس نے ایسی باتیں کہیں کہ راحیلہ اس کے جھانسے میں آگئی۔ وہ پوری طرح اس کی گرفت میں آچکی تھی۔ خرم نے جعلی نکاح نامہ تیار کیا، جعلی گواہ بنا لیے اور اس کو یہ باور کرا دیا کہ “تم میری بیوی ہو اور اب میرا تم پر حق ہے”۔ راحیلہ اس سے اور زیادہ ملنے لگی، پھر ایک دن وہ میری سہیلی کو کبھی نہ ختم ہونے والی کہانی دے کر غائب ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، تو گھر والے اس کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کے ہاں کچھ ماہ بعد نواسے یا نواسی کی آمد ہے۔

شکر ہے، یہ بات راحیلہ کے بھائی کو معلوم نہ ہوئی، ورنہ وہ اسے زندہ ہی جلا ڈالتا۔ والدین نڈھال ہو گئے، مگر انہوں نے بیٹی کو سنبھالا اور کہا کہ کسی سے اس کا ذکر نہ کرے۔ یہ خبر ایسی تھی کہ کوئی باپ اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ اب اس کے والد کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ ایسے میں انہیں ایک بار دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد ان کی صحت روز بہ روز گرنے لگی۔ والدین کے لئے یہ بات کتنی اذیت ناک بلکہ جان لیوا تھی۔ اب ایک ہی حل تھا کہ کسی طرح اس کی جلد از جلد شادی کر دی جائے۔ راحیلہ کے والد کی دکان پر ایک ہونہار لڑکا کام کرتا تھا، اس کے ماں باپ فوت ہو چکے تھے۔ انکل فیاض نے اسے اپنے پاس رکھ لیا تھا اور تھوڑا بہت پڑھایا لکھایا بھی تھا۔

یہ لڑکا ان کے دور کے رشتہ داروں میں سے تھا۔ انکل نے اس کی ایسی تربیت کی تھی کہ وہ کافی اچھا انسان بن چکا تھا۔ اس کا بھی راحیلہ کے والد کے علاوہ کوئی سہارا نہیں تھا۔ راحیلہ کے والد نے عنایت سے اپنی بیٹی کی شادی کی بات کی، تو وہ بہت خوش ہوا کہ اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔ یوں یہ مشکل حل ہو گئی۔ راحیلہ کی شادی عنایت سے ہو گئی، لیکن چونکہ وہ خرم کے پیار میں پاگل تھی، اس لیے اب جینے کے قابل نہ رہی اور دن بہ دن اس کی طبیعت خراب ہوتی گئی۔ پھر جب اس کی ذہنی اذیت ناقابلِ برداشت ہو گئی، تو اس نے اپنے والد کو خط لکھا کہ “آپ کے کہنے پر میں نے عنایت سے شادی کی، اگرچہ میری شادی پہلے ہی ہو چکی تھی”۔ اس نے وہ حقیقت بھی لکھ دی جس کا زہر وہ اکیلی سہتی رہی تھی کہ “خرم بے وفا نہیں۔ اس نے مجھ سے نکاح کیا تھا اور میرے لئے اپنے ماں باپ کو راضی کرنے گیا تھا۔ میں اس کے انتظار میں گھٹتی رہی۔ میں عنایت کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی، یہ ایک بہت بڑا دھوکا ہے اور میں اس کو دھوکا نہیں دے سکتی، لہٰذا آج میں اپنی زندگی ختم کر رہی ہوں، کیونکہ روز روز مرنے سے ایک ہی دن مر جانا بہتر ہے”۔

یوں میری پیاری سہیلی حقائق کی تلخیوں کا سامنا نہ کر سکی اور اس نے زہر کھا لیا۔ اس صدمے سے اس کے والد کی جان بھی چلی گئی۔ اس سارے قصے میں سب سے زیادہ معصوم کردار عنایت کا تھا، وہ بیچارا ناحق لٹا۔ راحیلہ نے مر کر اس کو بھی ذلیل اور رسوا کیا۔ مجھے اپنی سہیلی کے بے موت مرنے کا بہت دکھ ہوا، لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گی کہ کاش وہ یہ سب کرنے سے پہلے سوچ لیتی تو کہانی بہت مختلف ہوتی۔ اس نے خود کو بھی برباد کیا اور گھر والوں کو بھی ذلیل و رسوا کروایا۔
 
 کبھی کبھی وہ مجھے بہت یاد آتی ہے اور میرے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ خدا اس کے گناہ معاف کر دے اور اس جیسی لڑکیوں کو ہدایت دے کہ وہ ایسا قدم اٹھانے سے پہلے سوچ لیں کہ اس کام کا انجام کیا ہوگا؟ میں نے راحیلہ کے انجام سے کافی سبق حاصل کیا اور اس کے تجربے سے یہی سیکھا کہ غیر مردوں پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ میں اس عمر میں تھی، جب لڑکیاں سنہرے خواب بنتی ہیں، جو عینِ فطرت ہے اور اس امر سے ان کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم ان کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ سمجھدار مائیں اپنی بچیوں کی رہنمائی کرتی ہیں، لیکن آبرومندی اور تحفظ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ لڑکیاں نہ صرف فرماں بردار ہوں بلکہ ماں باپ کی عزت و ناموس کا بھی احساس رکھتی ہوں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ