ابو ایک فیکٹری میں کام کر کے اپنی محنت کی کمائی سے ہم بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔ تنخواہ معقول تھی لیکن ذاتی مکان نہ تھا۔ کرایے کے مکان میں رہتے تھے، آدھی کمائی کرایے میں چلی جاتی تھی جس وجہ سے بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا۔ امی قناعت پسند تھیں، کسی طرح گزارہ چل رہا تھا ورنہ چھ بچوں کی کفالت آسان بات نہیں تھی۔ میں سب سے بڑی تھی، میرے بعد دو بہنیں اور پھر تین بھائی تھے۔ میٹرک پاس کر کے میں گھر بیٹھ گئی۔ روبینہ اور فریحہ اسکول جاتی تھیں۔ بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ امی کچھ سلائی کڑھائی جانتی تھیں۔ وہ گھریلو قسم کی خاتون تھیں اور کچھ ڈرپوک بھی تھیں۔ کوئی ستائے یا زیادتی کرے تو لڑنے جھگڑنے کے بجائے خاموش ہو جاتی تھیں۔ ان کی مسکین طبیعت کی وجہ سے محلے والے ان کو پسند کرتے تھے۔
ہم پہلے جہاں رہتے تھے، اس محلے میں خان صاحب کا مکان تھا۔ ان کا بیٹا جوان تھا اور کافی خوبصورت تھا۔ یہ خوشحال لوگ تھے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں رہتا تھا اور وہ خان صاحب کو خرچے کے لیے وقتاً فوقتاً رقم بھجواتا تھا۔ مکان اچھا تھا، انہوں نے گاڑی بھی رکھی ہوئی تھی، الغرض ٹھاٹ باٹھ کی زندگی تھی۔ کچھ عرصے بعد خان صاحب کا انتقال ہو گیا تو گھر کا سربراہ ان کا چھوٹا بیٹا سعود بن گیا۔ بہن کی منگنی ہو چکی تھی، اس کی شادی کر دی گئی، لڑکی کا نام فاطمہ تھا۔ فاطمہ کی شادی پر مجھ کو بھی بلایا گیا۔ امی مجھے شادی میں ساتھ لے گئیں، جب سعود نے دیکھا تو مجھے پسند کر لیا۔
کچھ دن بعد اس کی ماں اس کے پاس میرا رشتہ لینے آ گئیں۔ میرے والدین نے سوچا کہ کھاتا پیتا گھرانہ ہے اور لڑکا خوش شکل اور تعلیم یافتہ ہے، چنانچہ فوراً ہاں کر دی۔ اگرچہ سعود برسرِ روزگار نہیں تھا اور روپے پیسے کی کمی تھی، اس کی ماں نے کہا: “یہ ابھی پڑھ رہا ہے، تعلیم مکمل کر لے گا تو اپنے بھائی کے پاس امریکہ چلا جائے گا۔” خیر، میرے سیدھے سادے والدین نے اس معاملے پر گہرائی سے غور نہ کیا اور میری شادی سعود سے کر دی۔ میری شادی کے بعد میری ساس بدل گئیں۔ میرے والدین کو ان لوگوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ تھیں۔ خیر، چھ ماہ آرام سے گزر گئے۔ پھر سعود نے کہا کہ اس مکان کا سودا ہو گیا ہے کیونکہ مزید پڑھنے کے لیے رقم درکار ہو گی۔ اب ہم کچھ عرصہ کرایے کے گھر میں رہیں گے۔ جلد ہی انہوں نے ایک کرایے کا مکان ڈھونڈ لیا اور مجھے وہاں لے آئے। اپنے گھر کا سامان فروخت کر دیا، بس ضرورت کا ساتھ رہنے دیا۔
کچھ دنوں بعد میری طبیعت خراب ہو گئی کیونکہ میں امید سے تھی، صحن دھوتے ہوئے پاؤں پھسل گیا تو طبیعت بگڑ گئی، امید جاتی رہی اور مجھ کو اسپتال جانا پڑا۔ ڈاکٹرز نے ایڈمٹ کر لیا۔ مجھے وہاں چھوڑ کر سعود امی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کی بیٹی اسپتال میں ہے، آپ کی ضرورت ہے میرے ساتھ چلیے۔ امی جان فوراً سعود کے ہمراہ اسپتال آ گئیں، میں وہاں داخل تھی اور میرا چھوٹا سا آپریشن ہوا۔ سعود نے دوائیں وغیرہ لا دیں اور امی کو ہدایت کی کہ حسنہ کا خیال رکھنا، میں بینک سے رقم نکلوانے جا رہا ہوں، چند گھنٹوں بعد لوٹ آؤں گا۔ صبح سے دوپہر، پھر شام ہو گئی لیکن وہ نہیں آئے۔ رات بھر امی میرے ساتھ رہیں، ابو کو فون کیا تو وہ بھی آ گئے۔ تین دن تک سعود کا انتظار کیا وہ نہ لوٹے، امی ابو بے حد پریشان تھے کہ کیا ماجرا ہوا کہ داماد نہیں پلٹا، خدا خیر کرے۔ اسپتال والوں نے چھٹی کر دی۔ والد صاحب نے کسی دوست سے قرض لے کر بل بھرا اور مجھے اپنے گھر لے آئے۔ انتظار ہوتا رہا، مگر یہ نہ ختم ہونے والا انتظار تھا، سعود کو نہ آنا تھا نہ آئے۔
ابو نے وہاں جا کر پتا کیا تو پڑوسی نے بتایا کہ وہ کرایے کا مکان چھوڑ گئے ہیں اور سامان بھی لے گئے ہیں۔ اب صاف ظاہر تھا کہ دھوکا ہوا ہے، سعود مجھ سے جان چھڑا گیا ہے۔ سعود کے ساتھ جتنے دن گزارے، پیار محبت سے ساتھ رہے تھے۔ مجھ کو یقین نہ آتا تھا کہ عمر بھر کا بندھن باندھ کر وہ یوں چھوڑ گئے ہیں۔ میں دعا کر رہی تھی کہ وہ خیریت سے ہوں، کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔ ان کی بہن کے گھر کا پتا نہ تھا اور نہ ہی کسی کو علم تھا کہ کہاں سے پتا کرتے۔ امی ابو نے صبر سے انتظار کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے کہہ دیا کہ عمر بھر انتظار کرنا پڑے تو کروں گی۔ رات دن اپنے شوہر کو یاد کر کے روتی تھی اور ان کے سلامتی کے ساتھ لوٹ آنے کی دعائیں کرتی رہتی تھی۔
چھ ماہ بعد انہوں نے طلاق بھجوا دی، خط میں لکھا تھا کہ میری مجبوری ہے، بیوی کو ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا اس لیے طلاق دے رہا ہوں کیونکہ مجھ کو مقررہ تاریخ کو امریکہ جانا ہے ورنہ ویزا کینسل ہو جائے گا، واپس جلد نہیں آ پاؤں گا اس لیے آزاد کر رہا ہوں، نہیں چاہتا کہ بیچاری خواہ مخواہ میرے انتظار میں بوڑھی ہوتی رہے۔ یوں مجھ بد نصیب کی پہلی شادی کا قصہ ختم ہوا۔ میری طلاق سے چھوٹی بہنوں پر اثر پڑ سکتا تھا، اس لیے والدین نے محلے میں کسی کو نہ بتایا اور مکان چھوڑ دیا۔ ایک دوسرے علاقے میں کرایے کا مکان لے کر والد صاحب وہاں سکونت پذیر ہو گئے۔ ہمارے نئے مالکِ مکان کا نام اجمل تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی، پہلی بیوی کو فوت ہوئے عرصہ ہو چکا تھا۔ خدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا، جب سے بیوی فوت ہوئی تھی اکیلے رہنے پر مجبور تھے۔ عمر رسیدہ ہونے کے باعث دوبارہ رشتہ نہ ملا تو صبر کر لیا۔ کوئی بہن بھائی نہ تھا جو رشتے کے لیے تگ و دو کرتا۔ اجمل صاحب کا دو منزلہ ذاتی مکان کافی عمدہ بنا ہوا تھا۔ نچلی منزل میں وہ خود قیام پذیر تھے اور اوپری حصہ ہم کو کرایے پر دے دیا تھا۔
اجمل صاحب اکثر ہوٹل سے کھانا کھاتے جس کی وجہ سے ان کا پیٹ خراب رہتا اور صحت پر بھی برا اثر پڑ رہا تھا۔ امی جان نے ان کی تنہائی پر رحم کھاتے ہوئے انہیں کھانا دینے کی پیشکش کر دی۔ دونوں وقت کا کھانا ہمارے گھر سے جانے لگا تو وہ ہشاش بشاش ہو گئے اور صحت بھی کافی اچھی ہو گئی۔ اجمل صاحب بہت نیک اور شریف انسان تھے، مگر کرایے کے معاملے میں کافی سخت تھے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو وہ کرایہ وصول کرنے آ جاتے، تین دن کی مہلت دیتے، اگر کرایہ نہ ملتا تو چوتھے روز جھگڑا شروع کر دیتے تھے۔ ابو کو ایک بڑی مل میں ملازمت مل گئی، تنخواہ زیادہ تھی، لہٰذا وہ پرانی فیکٹری چھوڑ کر نئی مل میں سپروائزر ہو گئے۔
ہم خوش تھے کہ پہلے سے اچھی تنخواہ مل رہی ہے، لیکن شومئی قسمت کہ چھ ماہ بعد ہی مل میں ہڑتال ہو گئی اور ہم کافی پریشان تھے کیونکہ مل مالکوں نے چھانٹی کر دی اور کچھ ملازمین کو برطرف کر دیا جس میں ابو بھی شامل تھے۔ والد صاحب صدمے سے بیمار پڑ گئے، کوئی جمع پونجی پاس نہ تھی اور تازہ ملازمت پر ہی گزارہ تھا۔ کنبہ بھی بڑا تھا، اس فکر نے والد صاحب کا کلیجہ چھلنی کرنا شروع کر دیا۔ دو ماہ کی تگ و دو کے باوجود ملازمت نہ ملی اور جب وہ مکان کا کرایہ ادا نہ کر سکے تو اجمل صاحب نے گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ ہمارا یہ حال تھا کہ گھر میں راشن کے لیے بھی پیسہ نہ تھا، مکان خالی کر کے کہاں جاتے؟ ابو شریف آدمی تھے، کسی سے رقم ادھار مانگتے ہوئے بھی شرماتے تھے۔ پھر روز روز کا خرچہ، اتنا ادھار کون دیتا۔ انہوں نے اپنی بدحالی کا کسی سے تذکرہ نہ کیا۔ امی کبھی خرفے اور کبھی مولی کے پتے پکا کر سالن بنا لیتیں تاکہ وقت کٹ جائے۔
جب اجمل نے دیکھا کہ ان کے گھر میں کھانا بھی نہیں پکتا تو محلے والوں کے سمجھانے پر وہ خاموش ہو گئے۔ وہ امی کو اپنے کھانے کے لیے سبزی لا کر دیا کرتے تھے۔ وہ خود کھا لیتے اور جو بچ جاتی وہ ہم کھاتے۔ اجمل صاحب کو ہمارے حالات کا علم ہو چکا تھا، انہوں نے دو ماہ کی مہلت دے دی کہ جب تک روزگار لگ جائے گا، تب کرایہ لے لیں گے۔ ابو کو کہیں کام نہ ملا اور ہماری پریشانی البتہ بڑھ گئی۔ ایک دن اسی پریشانی کے عالم میں وہ سڑک پار کر رہے تھے کہ تیز رفتار بس کے نیچے آ گئے۔ مسجد میں اعلان ہوا تب ہم کو علم ہوا کہ ابو اسپتال میں تھے اور وفات پا گئے ہیں۔
محلے کی خواتین ہمارے گھر پر تعزیت کے لیے جمع ہو گئیں۔ عورتیں کہہ رہی تھیں کہ بشیر صاحب کے کنبے کا اب کیا ہو گا، ان کے تینوں لڑکے چھوٹے ہیں اور بیٹیاں اسکول جاتی ہیں۔ کمانے والا کوئی نہیں، اوپر سے مکان بھی کرایے کا ہے، اجمل صاحب تو چار دن بعد چلتا کر دیں گے، ان کو مفت میں نہ رکھیں گے۔ ابو کو فوت ہوئے دوسرا ہفتہ تھا کہ اجمل صاحب امی کے پاس آئے اور کہا: “اب تم نے کیا سوچا ہے بہن؟ کیا عدت کی مدت بھی اس مکان میں گزارو گی؟ پہلے ہی چار ماہ کا کرایہ تمہارے مرحوم شوہر پر واجب ہے، آئندہ کرایہ کہاں سے دو گی؟”
امی رونے لگیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دیں، کہنے لگیں: “حسنہ میٹرک پاس ہے، اس کو کہیں ملازمت پر لگوا دیں، آپ کی بہت احسان مند رہوں گی۔” اجمل صاحب نے جواب دیا: “بجائے ملازمت کے، اس کی شادی کسی ایسے آدمی سے کر دو جو تم کو اور تمہارے بچوں کو سر چھپانے کی جگہ دے دے۔ آج کل ملازمت میٹرک پاس کو کہاں ملتی ہے۔” ان کی بات درست تھی، بی اے پاس لڑکیاں دھکے کھا رہی تھیں، مجھ کو ملازمت کہاں سے ملتی۔ لیکن ایسا رشتہ بھی کہاں سے ملے گا جو داماد بن کر سارے کنبے کا سہارا بن جائے۔ “اگر برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟” اجمل صاحب نے جواب دیا۔ “ایسا رشتہ موجود ہے، تم ہاں کر دو تو۔” “لڑکا اچھا ہو گا تو ہاں کیوں نہ کروں گی، آخر بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہیں۔” اجمل صاحب ذرا سا ہنسے: “لڑکا تو نہیں، رشتہ کہو، میں بھی کب سے گھر بسانے کا خواہش مند ہوں۔ تمہاری لڑکی نیک اور شریف ہے، اگر مجھ سے اپنی بچی کا نکاح کر دو تو سب کو سہارا دے دوں گا۔ پھر تمہیں کہیں جانے اور مکان خالی کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔”
“کیا کہہ رہے ہیں اجمل صاحب! قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہو اور میری پھول جیسی بچی، جو ابھی سولہ برس کی ہوئی ہے، لوگ کیا کہیں گے کہ اتنی بڑی عمر کے شخص کو کیوں لڑکی بیاہ دی۔” “لوگوں کی فکر نہ کرو، کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اگر لوگ اتنے ہی اچھے ہوتے تو تم کو بے کسی میں سہارا نہ دے دیتے۔” پھر اجمل یہ کہہ کر چلے گئے کہ: “میری پیشکش پر غور کرنا، در بدر ہونے سے بہتر ہے عزت سے یہیں رہو۔” میں دوسرے کمرے میں ان کی ساری باتیں سن رہی تھی۔ امی کو روتے پا کر گلے لگایا، چپ کرایا اور پھر میں نے کہا: “اماں! اس میں رونے کی کیا بات ہے، اجمل صاحب نے صحیح کہا ہے، آج کل معاشرے میں کون کسی کا ساتھ دیتا ہے اور کس کو فرصت ہے کہ کسی کی مجبوریاں سنے اور دکھ بانٹے۔ آپ لوگوں کی پروا نہ کریں بلکہ اپنی مجبوری دیکھیں۔ اس گھر سے نکل کر ہم آخر جائیں گے کہاں؟ آپ کا یا ابو کا کوئی رشتہ دار ہم کو دو دن اپنے گھر رکھنے کا نہیں، آپ اجمل صاحب سے میرا نکاح کر دیں، اسی میں ہماری بھلائی ہے۔”
“حسنہ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟” امی نے آنکھیں نکال کر میری جانب دیکھا۔ “کہیں تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟ وہ ساٹھ سال کا بوڑھا، جس کے منہ میں دانت اور پیٹ میں آنت نہیں، کیا وہ شادی کے لائق ہے؟ وہ اولاد پیدا کرنے کے بھی لائق نہ ہو گا۔ کیا اس مردے کے ساتھ تم کو قبر میں دھکا دے دوں؟” “دھکا دے دو اماں! میری اکیلی کی قربانی سے سارے بہن بھائی دھکے کھانے سے بچ جائیں گے۔ لوگ بس اتنا کہہ کر چپ ہو جائیں گے کہ جانے کیا مجبوری تھی کہ اس نے پھول سی بیٹی بوڑھے کھوسٹ کی جھولی میں ڈال دی، اور مجبوری صاف ظاہر ہے کہ ہم کو رہنے کا ٹھکانہ چاہیے۔”
اگلے روز اجمل صاحب نے اماں سے جواب مانگا تو انہوں نے کہا: “تم اپنا یہ مکان میری بیٹی کے نام کر دو تو میں حسنہ کو تمہارے نکاح میں دے دیتی ہوں۔” اجمل میاں کے ہاں اولاد نہ تھی اور اب جوان و خوبصورت بیوی مل رہی تھی، گھاٹے کا سودا نہ تھا۔ انہوں نے مکان نام کر دینے کی حامی بھر لی اور پھر اماں کی عدت ختم ہونے سے پہلے میرا نکاح اجمل سے ہو گیا۔ محلے کے چند شرفا اس نکاح میں شریک ہوئے مگر سبھی دم بخود تھے کہ ایسا کیونکر ہوا۔ بیوہ نے یہ کیا کیا، اس سے تو اچھا تھا خود اجمل سے نکاح کر لیتی۔ اب کسی کو کیا خبر کہ اجمل کی ڈیمانڈ میں ہی تھی، میری ماں نہیں۔ محلے والوں نے حسبِ توقع خوب باتیں بنائیں، کسی نے کہا: “اس عورت کو بیٹی پیاری نہیں تھی، مکان کے لالچ میں مردے سے بیاہ کر دیا۔” “پیاری کیوں نہ تھی، کیا حسنہ میری اولاد نہیں؟ مجبوری تھی، اگر اس کا اجمل سے نکاح نہ کرتی تو پھر سڑک پر بیٹھتی۔ کوئی دو دن بھی مجھ کو بچوں سمیت اپنی چھت تلے پناہ نہ دیتا، کیا تم دے سکتی ہو؟” اس سوال پر اعتراض کرنے والی پڑوسن شرما گئی۔
ایسے ہی اماں نے دو چار دنوں میں سب اعتراض کرنے والوں کو ٹھیک کر دیا، اپنی مجبوری بتا کر ان کے منہ بند کر دیے س۔ یہ حقیقت تھی کہ اجمل نے سات نفوس کا خرچہ اٹھایا اور میں نے قربانی دی تھی اپنوں کے لیے۔ اگر مجھے ایک اور زندگی بھی ملتی اور مجھ کو اپنی ماں اور ان کے بچوں کی خاطر قربانی دینی پڑتی، تو وہ زندگی بھی ان کے سکھ پر وار دیتی۔ اجمل شادی کے دس برس بعد تک جیے، اس عرصے میں انہوں نے میری دونوں بہنوں کی شادیاں کر دئیں، وہ اچھے گھروں میں بیاہی گئیں۔ بھائی تینوں پڑھ لکھ گئے اور نوکری پر لگ گئے، سبھی اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے۔ مجھے اجمل سے کوئی گلہ نہیں، بس افسوس ہے اس بات کا کہ آخری دم تک میں ان کو یہ نہ بتا سکی کہ میں طلاق یافتہ تھی، اور آج بھی اپنے پہلے شوہر کی تصویر میرے دل پر نقش ہے۔ میں کبھی سعود کو نہ بھلا سکی۔
اجمل کے دیے ہوئے مکان میں اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رہتی ہوں۔ دو بھائیوں کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی، شادی کے بعد وہ بھی چلے جائیں گے، تب کا سوچتی ہوں تو لگتا ہے زندگی تنہا کیسے بسر ہو گی۔ امی جان بوڑھی ہو گئی ہیں، ان کی دیکھ بھال میں سکھ ملتا ہے مگر زندگی کا اصل سکھ آج تک نہیں ملا۔ اے کاش سعود لوٹ آئیں، ان کی ایک جھلک دیکھنے کو جیتی ہوں۔ بے شک انہوں نے بے وفائی کی ہے، لیکن محبت کا کوئی نام نہیں، محبت پر کسی کا اختیار نہیں اور محبت ایک بڑی طاقت ہے کہ جس کا کوئی مول نہیں ہے۔
ہم پہلے جہاں رہتے تھے، اس محلے میں خان صاحب کا مکان تھا۔ ان کا بیٹا جوان تھا اور کافی خوبصورت تھا۔ یہ خوشحال لوگ تھے۔ بڑا بیٹا امریکہ میں رہتا تھا اور وہ خان صاحب کو خرچے کے لیے وقتاً فوقتاً رقم بھجواتا تھا۔ مکان اچھا تھا، انہوں نے گاڑی بھی رکھی ہوئی تھی، الغرض ٹھاٹ باٹھ کی زندگی تھی۔ کچھ عرصے بعد خان صاحب کا انتقال ہو گیا تو گھر کا سربراہ ان کا چھوٹا بیٹا سعود بن گیا۔ بہن کی منگنی ہو چکی تھی، اس کی شادی کر دی گئی، لڑکی کا نام فاطمہ تھا۔ فاطمہ کی شادی پر مجھ کو بھی بلایا گیا۔ امی مجھے شادی میں ساتھ لے گئیں، جب سعود نے دیکھا تو مجھے پسند کر لیا۔
کچھ دن بعد اس کی ماں اس کے پاس میرا رشتہ لینے آ گئیں۔ میرے والدین نے سوچا کہ کھاتا پیتا گھرانہ ہے اور لڑکا خوش شکل اور تعلیم یافتہ ہے، چنانچہ فوراً ہاں کر دی۔ اگرچہ سعود برسرِ روزگار نہیں تھا اور روپے پیسے کی کمی تھی، اس کی ماں نے کہا: “یہ ابھی پڑھ رہا ہے، تعلیم مکمل کر لے گا تو اپنے بھائی کے پاس امریکہ چلا جائے گا۔” خیر، میرے سیدھے سادے والدین نے اس معاملے پر گہرائی سے غور نہ کیا اور میری شادی سعود سے کر دی۔ میری شادی کے بعد میری ساس بدل گئیں۔ میرے والدین کو ان لوگوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ تھیں۔ خیر، چھ ماہ آرام سے گزر گئے۔ پھر سعود نے کہا کہ اس مکان کا سودا ہو گیا ہے کیونکہ مزید پڑھنے کے لیے رقم درکار ہو گی۔ اب ہم کچھ عرصہ کرایے کے گھر میں رہیں گے۔ جلد ہی انہوں نے ایک کرایے کا مکان ڈھونڈ لیا اور مجھے وہاں لے آئے। اپنے گھر کا سامان فروخت کر دیا، بس ضرورت کا ساتھ رہنے دیا۔
کچھ دنوں بعد میری طبیعت خراب ہو گئی کیونکہ میں امید سے تھی، صحن دھوتے ہوئے پاؤں پھسل گیا تو طبیعت بگڑ گئی، امید جاتی رہی اور مجھ کو اسپتال جانا پڑا۔ ڈاکٹرز نے ایڈمٹ کر لیا۔ مجھے وہاں چھوڑ کر سعود امی کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کی بیٹی اسپتال میں ہے، آپ کی ضرورت ہے میرے ساتھ چلیے۔ امی جان فوراً سعود کے ہمراہ اسپتال آ گئیں، میں وہاں داخل تھی اور میرا چھوٹا سا آپریشن ہوا۔ سعود نے دوائیں وغیرہ لا دیں اور امی کو ہدایت کی کہ حسنہ کا خیال رکھنا، میں بینک سے رقم نکلوانے جا رہا ہوں، چند گھنٹوں بعد لوٹ آؤں گا۔ صبح سے دوپہر، پھر شام ہو گئی لیکن وہ نہیں آئے۔ رات بھر امی میرے ساتھ رہیں، ابو کو فون کیا تو وہ بھی آ گئے۔ تین دن تک سعود کا انتظار کیا وہ نہ لوٹے، امی ابو بے حد پریشان تھے کہ کیا ماجرا ہوا کہ داماد نہیں پلٹا، خدا خیر کرے۔ اسپتال والوں نے چھٹی کر دی۔ والد صاحب نے کسی دوست سے قرض لے کر بل بھرا اور مجھے اپنے گھر لے آئے۔ انتظار ہوتا رہا، مگر یہ نہ ختم ہونے والا انتظار تھا، سعود کو نہ آنا تھا نہ آئے۔
ابو نے وہاں جا کر پتا کیا تو پڑوسی نے بتایا کہ وہ کرایے کا مکان چھوڑ گئے ہیں اور سامان بھی لے گئے ہیں۔ اب صاف ظاہر تھا کہ دھوکا ہوا ہے، سعود مجھ سے جان چھڑا گیا ہے۔ سعود کے ساتھ جتنے دن گزارے، پیار محبت سے ساتھ رہے تھے۔ مجھ کو یقین نہ آتا تھا کہ عمر بھر کا بندھن باندھ کر وہ یوں چھوڑ گئے ہیں۔ میں دعا کر رہی تھی کہ وہ خیریت سے ہوں، کوئی حادثہ پیش نہ آ گیا ہو۔ ان کی بہن کے گھر کا پتا نہ تھا اور نہ ہی کسی کو علم تھا کہ کہاں سے پتا کرتے۔ امی ابو نے صبر سے انتظار کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے کہہ دیا کہ عمر بھر انتظار کرنا پڑے تو کروں گی۔ رات دن اپنے شوہر کو یاد کر کے روتی تھی اور ان کے سلامتی کے ساتھ لوٹ آنے کی دعائیں کرتی رہتی تھی۔
چھ ماہ بعد انہوں نے طلاق بھجوا دی، خط میں لکھا تھا کہ میری مجبوری ہے، بیوی کو ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا اس لیے طلاق دے رہا ہوں کیونکہ مجھ کو مقررہ تاریخ کو امریکہ جانا ہے ورنہ ویزا کینسل ہو جائے گا، واپس جلد نہیں آ پاؤں گا اس لیے آزاد کر رہا ہوں، نہیں چاہتا کہ بیچاری خواہ مخواہ میرے انتظار میں بوڑھی ہوتی رہے۔ یوں مجھ بد نصیب کی پہلی شادی کا قصہ ختم ہوا۔ میری طلاق سے چھوٹی بہنوں پر اثر پڑ سکتا تھا، اس لیے والدین نے محلے میں کسی کو نہ بتایا اور مکان چھوڑ دیا۔ ایک دوسرے علاقے میں کرایے کا مکان لے کر والد صاحب وہاں سکونت پذیر ہو گئے۔ ہمارے نئے مالکِ مکان کا نام اجمل تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے اوپر تھی، پہلی بیوی کو فوت ہوئے عرصہ ہو چکا تھا۔ خدا نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا، جب سے بیوی فوت ہوئی تھی اکیلے رہنے پر مجبور تھے۔ عمر رسیدہ ہونے کے باعث دوبارہ رشتہ نہ ملا تو صبر کر لیا۔ کوئی بہن بھائی نہ تھا جو رشتے کے لیے تگ و دو کرتا۔ اجمل صاحب کا دو منزلہ ذاتی مکان کافی عمدہ بنا ہوا تھا۔ نچلی منزل میں وہ خود قیام پذیر تھے اور اوپری حصہ ہم کو کرایے پر دے دیا تھا۔
اجمل صاحب اکثر ہوٹل سے کھانا کھاتے جس کی وجہ سے ان کا پیٹ خراب رہتا اور صحت پر بھی برا اثر پڑ رہا تھا۔ امی جان نے ان کی تنہائی پر رحم کھاتے ہوئے انہیں کھانا دینے کی پیشکش کر دی۔ دونوں وقت کا کھانا ہمارے گھر سے جانے لگا تو وہ ہشاش بشاش ہو گئے اور صحت بھی کافی اچھی ہو گئی۔ اجمل صاحب بہت نیک اور شریف انسان تھے، مگر کرایے کے معاملے میں کافی سخت تھے۔ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو وہ کرایہ وصول کرنے آ جاتے، تین دن کی مہلت دیتے، اگر کرایہ نہ ملتا تو چوتھے روز جھگڑا شروع کر دیتے تھے۔ ابو کو ایک بڑی مل میں ملازمت مل گئی، تنخواہ زیادہ تھی، لہٰذا وہ پرانی فیکٹری چھوڑ کر نئی مل میں سپروائزر ہو گئے۔
ہم خوش تھے کہ پہلے سے اچھی تنخواہ مل رہی ہے، لیکن شومئی قسمت کہ چھ ماہ بعد ہی مل میں ہڑتال ہو گئی اور ہم کافی پریشان تھے کیونکہ مل مالکوں نے چھانٹی کر دی اور کچھ ملازمین کو برطرف کر دیا جس میں ابو بھی شامل تھے۔ والد صاحب صدمے سے بیمار پڑ گئے، کوئی جمع پونجی پاس نہ تھی اور تازہ ملازمت پر ہی گزارہ تھا۔ کنبہ بھی بڑا تھا، اس فکر نے والد صاحب کا کلیجہ چھلنی کرنا شروع کر دیا۔ دو ماہ کی تگ و دو کے باوجود ملازمت نہ ملی اور جب وہ مکان کا کرایہ ادا نہ کر سکے تو اجمل صاحب نے گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا۔ ہمارا یہ حال تھا کہ گھر میں راشن کے لیے بھی پیسہ نہ تھا، مکان خالی کر کے کہاں جاتے؟ ابو شریف آدمی تھے، کسی سے رقم ادھار مانگتے ہوئے بھی شرماتے تھے۔ پھر روز روز کا خرچہ، اتنا ادھار کون دیتا۔ انہوں نے اپنی بدحالی کا کسی سے تذکرہ نہ کیا۔ امی کبھی خرفے اور کبھی مولی کے پتے پکا کر سالن بنا لیتیں تاکہ وقت کٹ جائے۔
جب اجمل نے دیکھا کہ ان کے گھر میں کھانا بھی نہیں پکتا تو محلے والوں کے سمجھانے پر وہ خاموش ہو گئے۔ وہ امی کو اپنے کھانے کے لیے سبزی لا کر دیا کرتے تھے۔ وہ خود کھا لیتے اور جو بچ جاتی وہ ہم کھاتے۔ اجمل صاحب کو ہمارے حالات کا علم ہو چکا تھا، انہوں نے دو ماہ کی مہلت دے دی کہ جب تک روزگار لگ جائے گا، تب کرایہ لے لیں گے۔ ابو کو کہیں کام نہ ملا اور ہماری پریشانی البتہ بڑھ گئی۔ ایک دن اسی پریشانی کے عالم میں وہ سڑک پار کر رہے تھے کہ تیز رفتار بس کے نیچے آ گئے۔ مسجد میں اعلان ہوا تب ہم کو علم ہوا کہ ابو اسپتال میں تھے اور وفات پا گئے ہیں۔
محلے کی خواتین ہمارے گھر پر تعزیت کے لیے جمع ہو گئیں۔ عورتیں کہہ رہی تھیں کہ بشیر صاحب کے کنبے کا اب کیا ہو گا، ان کے تینوں لڑکے چھوٹے ہیں اور بیٹیاں اسکول جاتی ہیں۔ کمانے والا کوئی نہیں، اوپر سے مکان بھی کرایے کا ہے، اجمل صاحب تو چار دن بعد چلتا کر دیں گے، ان کو مفت میں نہ رکھیں گے۔ ابو کو فوت ہوئے دوسرا ہفتہ تھا کہ اجمل صاحب امی کے پاس آئے اور کہا: “اب تم نے کیا سوچا ہے بہن؟ کیا عدت کی مدت بھی اس مکان میں گزارو گی؟ پہلے ہی چار ماہ کا کرایہ تمہارے مرحوم شوہر پر واجب ہے، آئندہ کرایہ کہاں سے دو گی؟”
امی رونے لگیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جواب دیں، کہنے لگیں: “حسنہ میٹرک پاس ہے، اس کو کہیں ملازمت پر لگوا دیں، آپ کی بہت احسان مند رہوں گی۔” اجمل صاحب نے جواب دیا: “بجائے ملازمت کے، اس کی شادی کسی ایسے آدمی سے کر دو جو تم کو اور تمہارے بچوں کو سر چھپانے کی جگہ دے دے۔ آج کل ملازمت میٹرک پاس کو کہاں ملتی ہے۔” ان کی بات درست تھی، بی اے پاس لڑکیاں دھکے کھا رہی تھیں، مجھ کو ملازمت کہاں سے ملتی۔ لیکن ایسا رشتہ بھی کہاں سے ملے گا جو داماد بن کر سارے کنبے کا سہارا بن جائے۔ “اگر برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟” اجمل صاحب نے جواب دیا۔ “ایسا رشتہ موجود ہے، تم ہاں کر دو تو۔” “لڑکا اچھا ہو گا تو ہاں کیوں نہ کروں گی، آخر بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہیں۔” اجمل صاحب ذرا سا ہنسے: “لڑکا تو نہیں، رشتہ کہو، میں بھی کب سے گھر بسانے کا خواہش مند ہوں۔ تمہاری لڑکی نیک اور شریف ہے، اگر مجھ سے اپنی بچی کا نکاح کر دو تو سب کو سہارا دے دوں گا۔ پھر تمہیں کہیں جانے اور مکان خالی کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔”
“کیا کہہ رہے ہیں اجمل صاحب! قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہو اور میری پھول جیسی بچی، جو ابھی سولہ برس کی ہوئی ہے، لوگ کیا کہیں گے کہ اتنی بڑی عمر کے شخص کو کیوں لڑکی بیاہ دی۔” “لوگوں کی فکر نہ کرو، کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اگر لوگ اتنے ہی اچھے ہوتے تو تم کو بے کسی میں سہارا نہ دے دیتے۔” پھر اجمل یہ کہہ کر چلے گئے کہ: “میری پیشکش پر غور کرنا، در بدر ہونے سے بہتر ہے عزت سے یہیں رہو۔” میں دوسرے کمرے میں ان کی ساری باتیں سن رہی تھی۔ امی کو روتے پا کر گلے لگایا، چپ کرایا اور پھر میں نے کہا: “اماں! اس میں رونے کی کیا بات ہے، اجمل صاحب نے صحیح کہا ہے، آج کل معاشرے میں کون کسی کا ساتھ دیتا ہے اور کس کو فرصت ہے کہ کسی کی مجبوریاں سنے اور دکھ بانٹے۔ آپ لوگوں کی پروا نہ کریں بلکہ اپنی مجبوری دیکھیں۔ اس گھر سے نکل کر ہم آخر جائیں گے کہاں؟ آپ کا یا ابو کا کوئی رشتہ دار ہم کو دو دن اپنے گھر رکھنے کا نہیں، آپ اجمل صاحب سے میرا نکاح کر دیں، اسی میں ہماری بھلائی ہے۔”
“حسنہ! یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟” امی نے آنکھیں نکال کر میری جانب دیکھا۔ “کہیں تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا؟ وہ ساٹھ سال کا بوڑھا، جس کے منہ میں دانت اور پیٹ میں آنت نہیں، کیا وہ شادی کے لائق ہے؟ وہ اولاد پیدا کرنے کے بھی لائق نہ ہو گا۔ کیا اس مردے کے ساتھ تم کو قبر میں دھکا دے دوں؟” “دھکا دے دو اماں! میری اکیلی کی قربانی سے سارے بہن بھائی دھکے کھانے سے بچ جائیں گے۔ لوگ بس اتنا کہہ کر چپ ہو جائیں گے کہ جانے کیا مجبوری تھی کہ اس نے پھول سی بیٹی بوڑھے کھوسٹ کی جھولی میں ڈال دی، اور مجبوری صاف ظاہر ہے کہ ہم کو رہنے کا ٹھکانہ چاہیے۔”
اگلے روز اجمل صاحب نے اماں سے جواب مانگا تو انہوں نے کہا: “تم اپنا یہ مکان میری بیٹی کے نام کر دو تو میں حسنہ کو تمہارے نکاح میں دے دیتی ہوں۔” اجمل میاں کے ہاں اولاد نہ تھی اور اب جوان و خوبصورت بیوی مل رہی تھی، گھاٹے کا سودا نہ تھا۔ انہوں نے مکان نام کر دینے کی حامی بھر لی اور پھر اماں کی عدت ختم ہونے سے پہلے میرا نکاح اجمل سے ہو گیا۔ محلے کے چند شرفا اس نکاح میں شریک ہوئے مگر سبھی دم بخود تھے کہ ایسا کیونکر ہوا۔ بیوہ نے یہ کیا کیا، اس سے تو اچھا تھا خود اجمل سے نکاح کر لیتی۔ اب کسی کو کیا خبر کہ اجمل کی ڈیمانڈ میں ہی تھی، میری ماں نہیں۔ محلے والوں نے حسبِ توقع خوب باتیں بنائیں، کسی نے کہا: “اس عورت کو بیٹی پیاری نہیں تھی، مکان کے لالچ میں مردے سے بیاہ کر دیا۔” “پیاری کیوں نہ تھی، کیا حسنہ میری اولاد نہیں؟ مجبوری تھی، اگر اس کا اجمل سے نکاح نہ کرتی تو پھر سڑک پر بیٹھتی۔ کوئی دو دن بھی مجھ کو بچوں سمیت اپنی چھت تلے پناہ نہ دیتا، کیا تم دے سکتی ہو؟” اس سوال پر اعتراض کرنے والی پڑوسن شرما گئی۔
ایسے ہی اماں نے دو چار دنوں میں سب اعتراض کرنے والوں کو ٹھیک کر دیا، اپنی مجبوری بتا کر ان کے منہ بند کر دیے س۔ یہ حقیقت تھی کہ اجمل نے سات نفوس کا خرچہ اٹھایا اور میں نے قربانی دی تھی اپنوں کے لیے۔ اگر مجھے ایک اور زندگی بھی ملتی اور مجھ کو اپنی ماں اور ان کے بچوں کی خاطر قربانی دینی پڑتی، تو وہ زندگی بھی ان کے سکھ پر وار دیتی۔ اجمل شادی کے دس برس بعد تک جیے، اس عرصے میں انہوں نے میری دونوں بہنوں کی شادیاں کر دئیں، وہ اچھے گھروں میں بیاہی گئیں۔ بھائی تینوں پڑھ لکھ گئے اور نوکری پر لگ گئے، سبھی اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے۔ مجھے اجمل سے کوئی گلہ نہیں، بس افسوس ہے اس بات کا کہ آخری دم تک میں ان کو یہ نہ بتا سکی کہ میں طلاق یافتہ تھی، اور آج بھی اپنے پہلے شوہر کی تصویر میرے دل پر نقش ہے۔ میں کبھی سعود کو نہ بھلا سکی۔
اجمل کے دیے ہوئے مکان میں اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ رہتی ہوں۔ دو بھائیوں کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی، شادی کے بعد وہ بھی چلے جائیں گے، تب کا سوچتی ہوں تو لگتا ہے زندگی تنہا کیسے بسر ہو گی۔ امی جان بوڑھی ہو گئی ہیں، ان کی دیکھ بھال میں سکھ ملتا ہے مگر زندگی کا اصل سکھ آج تک نہیں ملا۔ اے کاش سعود لوٹ آئیں، ان کی ایک جھلک دیکھنے کو جیتی ہوں۔ بے شک انہوں نے بے وفائی کی ہے، لیکن محبت کا کوئی نام نہیں، محبت پر کسی کا اختیار نہیں اور محبت ایک بڑی طاقت ہے کہ جس کا کوئی مول نہیں ہے۔
(ختم شد)
.jpg)
