میں نے ایک متوسط طبقے کے گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ہم چار بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ بہنوں میں، میں سب سے چھوٹی ہوں اور دونوں بھائی مجھ سے بھی چھوٹے ہیں۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، اس وقت سے آج تک مسرت نام کی کوئی شے میرے نصیب میں نہیں آئی۔ والد صاحب معمولی سا کام کرتے ہیں۔ جہاں اتنے افراد کھانے والے ہوں اور کفالت کرنے والا صرف ایک، وہاں غربت کے اندھیرے راج نہیں کریں گے تو بھلا اور کیا ہوگا؟
جب میری بڑی بہنیں شادی کی عمر کو پہنچیں تو والدین کو ان کے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بڑی باجی نے والد صاحب کا ہاتھ بٹانے کے لیے ایک کمپنی میں ملازمت کر لی۔ وہ گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے جہیز کی تیاری بھی کرنے لگیں۔ کچھ عرصے بعد دوسری بہن نے بھی بڑی باجی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جاب شروع کر دی۔ یوں دونوں بہنوں نے مل کر والد صاحب کا بوجھ کافی حد تک کم کر دیا۔ اسی دوران بڑی باجی کا رشتہ آیا اور وہ پلک جھپکتے ہی بیاہ کر اپنے پیا دیس سدھار گئیں۔ اب منجھلی بہن اکیلے ہی جاب پر جانے لگی، لیکن جلد ہی مجھ سے بڑی بہن نے بھی ملازمت کرنے کی ٹھان لی اور یوں پھر سے دو بہنیں کام پر جانے لگیں، جس سے گھر کے حالات کافی حد تک سنور گئے۔
میں ان دنوں مڈل کلاس (آٹھویں جماعت) میں پڑھتی تھی۔ جب کشور آپا کا رشتہ آیا تو والد صاحب نے ہامی بھر لی اور یوں وہ بھی بیاہ کر اپنے گھر کی ہو گئیں۔ اب حسبِ روایت مجھ سے بڑی بہن، فردوس اکیلے ملازمت پر جا رہی تھی۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: “میں ایک گارمنٹس کمپنی میں کام کرتی ہوں، کیا تم میرے ساتھ چلو گی؟” ان دنوں میری تمام تر توجہ تعلیم پر تھی، لہذا میں نے کوئی فوری جواب نہ دیا۔ فردوس نے ماں جی سے کہا: “امی جان! کیا میں افشاں کو اپنے ساتھ کمپنی لے جاؤں؟” ماں جی پریشان ہو کر بولیں: “فردوس بیٹی! تم اور تمہاری بڑی بہن سمجھدار ہو، زمانے کے نشیب و فراز کو سمجھتی ہو، لیکن یہ تو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی، ابھی یہ بھلا جاب کیسے کر پائے گی؟” فردوس نے اعتماد سے جواب دیا: “امی! یہ سب مجھ پر چھوڑ دیں، میں اپنی ذمہ داری پر اسے ساتھ لے جاؤں گی، ویسے بھی میں اکیلے جاتے ہوئے اچھا محسوس نہیں کرتی۔”
یوں فردوس مجھے گھر کی چار دیواری سے نکال کر انسانوں کے اس سمندر میں لے آئی جہاں ہر طرف شور ہی شور تھا اور لوگوں کی بے ہنگم بولیاں تھیں۔ یہ میری زندگی کا پہلا قدم تھا، مجھے سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا، یہاں تک کہ کھلے آسمان تلے بھی گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ فردوس نے منیجر سے پہلے ہی بات کر لی تھی، اس لیے بغیر کسی دشواری کے مجھے بھی ملازمت مل گئی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں گھر سے باہر نکل کر والد کا ہاتھ بٹاؤں گی۔
کہتے ہیں جب انسان شہر کے ہجوم میں نکلتا ہے تو کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آ ہی جاتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں اپنے کام میں مصروف تھی کہ مجھے محسوس ہوا کوئی میری طرف مسلسل دیکھ رہا ہے۔ قدرت نے عورت میں یہ حس رکھی ہے کہ وہ مرد کی نظروں کی تپش فوراً بھانپ لیتی ہے۔ میں نے جب دائیں جانب دیکھا تو ایک وجیہہ نوجوان مجھے تک رہا تھا۔ نظریں ملتے ہی وہ جھینپ گیا اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا۔ اس کی شخصیت اور دیکھنے کا انداز میرے دل میں گھر کر گیا، اور میں بے تابی سے اس کے پیغام کا انتظار کرنے لگی۔
ٹھیک تیسرے دن اس لڑکے نے، جس کا نام انیس تھا، میری میز پر ایک پیغام بھجوایا، جسے میں نے بغیر کسی حیل و حجت کے قبول کر لیا۔ یوں خاموش محبت کا ایک سفر شروع ہوا۔ شروع میں دل میں خوف تھا کہ اگر فردوس کو خبر ہوئی تو کیا ہوگا؟ لیکن یہ خوف تب ختم ہوا جب فردوس نے خود مجھ سے کہا: “اگر تم انیس کو پسند کرتی ہو تو کوئی بری بات نہیں، لیکن اپنی اور گھر کی عزت کا خیال رکھنا اور اس کے ساتھ کہیں اکیلے مت جانا۔” فردوس کی اس بات نے جیسے مجھے آزادی کا پروانہ دے دیا ہو۔
کچھ دنوں بعد میں انیس کو اپنی ماں سے ملوانے گھر لے آئی۔ ماں جی ایک اجنبی لڑکے کو میرے ساتھ دیکھ کر حیران و پریشان ہو گئیں۔ میں نے ان کا تعارف کروایا اور بتایا کہ ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ماں جی اس اچانک افتاد پر پریشان تھیں، لیکن فردوس نے انہیں یقین دلایا کہ انیس ایک اچھا لڑکا ہے۔ اس کے بعد ہماری قربتیں بڑھتی گئیں۔ میں انیس کی محبت میں گرفتار تھی، لیکن وہ شادی کے معاملے پر ہچکچاتا تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ سنجیدہ نہیں ہے، مگر میں پھر بھی اسے راضی کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
کمپنی میں ہمارا ایک مختصر سا گروپ بن گیا تھا؛ ہم تین سہیلیاں اور وہ تین دوست۔ ایک دن کام جلدی ختم ہوا تو ہم سب ساحلِ سمندر پر پکنک کے لیے چلے گئے۔ وہاں خوب ہلہ گلہ کیا اور شام کو گھر لوٹ آئے۔ میں جانتی تھی کہ میں غلط راستے پر ہوں، لیکن محبت اندھی ہوتی ہے۔ جب منیجر کو ہمارے اس طرح بن بتائے جانے کا علم ہوا تو اس نے ہم سب کو ملازمت سے نکال دیا۔ اس واقعے نے ہمیں الگ کر دیا؛ ایک طرف کام چھوٹنے کا غم اور دوسری طرف انیس سے بچھڑنے کا دکھ۔
کچھ عرصے بعد مجھے دوسری کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ انیس کا کوئی اتا پتا نہ تھا، بس کبھی کبھار اس کا دوست رضوان مل جاتا تو خیریت معلوم ہو جاتی۔ نئی کمپنی میں ‘نذر’ نامی ایک لڑکا مجھے پسند کرنے لگا۔ اس نے فردوس کے ذریعے رشتہ بھیجا۔ فردوس نے مجھے سمجھایا: “انیس کا کچھ پتا نہیں وہ کہاں ہے، میری مانو تو نذر اچھا لڑکا ہے، ہاں کر دو۔” میں نے کوئی راستہ نہ پا کر ہامی بھر لی، حالانکہ دل اب بھی انیس کے لیے دھڑکتا تھا۔ نذر واقعی ایک متاثر کن شخصیت کا مالک تھا۔
میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ نذر کو انیس کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ اس سچائی نے ہمارے درمیان جھگڑوں کی بنیاد ڈال دی۔ نذر جذباتی اور روایتی ذہن کا مالک تھا، وہ بات بات پر غصہ کرتا مگر مجھ سے بے پناہ مخلص بھی تھا۔ نذر کی جنونی محبت مجھے خوفزدہ کرنے لگی تھی۔ اسی دوران انیس دوبارہ میری زندگی میں نمودار ہوا اور میں نے نذر سے پیچھا چھڑانے کے لیے بے رخی اختیار کر لی۔
میری بے رخی نے نذر کو توڑ کر رکھ دیا اور اس نے خود کو نشے کی لت میں ڈال دیا، مگر وہ مجھے نہ بھول سکا۔ فردوس نے مشورہ دیا کہ اگر تم نذر سے جان چھڑانا چاہتی ہو تو کسی اور لڑکے سے دوستی کر لو تاکہ وہ بدظن ہو کر تمہیں چھوڑ دے۔ میں نے فردوس کی بات مان کر محلے کے ایک لڑکے ‘فیصل’ سے دوستی کر لی جو مجھے روز بائیک پر لانے اور لے جانے لگا۔
یہ دیکھ کر نذر کی دیوانگی انتہا کو پہنچ گئی اور اس نے نیند کی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔ ہسپتال میں اس کی جان تو بچ گئی لیکن میں نے اس پر واضح کر دیا کہ میں صرف انیس سے محبت کرتی ہوں۔ اب میری زندگی تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی؛ انیس، نذر اور فیصل۔ فیصل، جسے میں نے صرف نذر کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، اب وہ مجھے چھوڑنے کو تیار نہ تھا کیونکہ وہ میری مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔
انیس میری پہلی محبت تھی جسے میں نے نادانی میں اپنا محافظ سمجھ لیا۔ نذر ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا تھا جسے میری اپنی غلطیوں نے طوفان بنا دیا، اور فیصل وہ بوجھ بن گیا جس سے میں کبھی آزاد نہ ہو سکی۔ آج میں زندگی کے اس موڑ پر کھڑی ہوں جہاں ہر طرف اندھیرا ہے۔ تحفظ کی تلاش میں، میں نے اپنی ہنستی مسکراتی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں سے جہنم بنا لیا ہے۔ اب نہ انیس کا پتا ہے، نہ نذر کی خیر خبر، اور نہ ہی فیصل کا کوئی سراغ۔ میں آج بھی اکیلی ہوں اور ایک ایسے تحفظ کی تلاش میں ہوں جو شاید اب مجھے کبھی میسر نہ آ پائے گا۔
جب میری بڑی بہنیں شادی کی عمر کو پہنچیں تو والدین کو ان کے مستقبل کی فکر لاحق ہو گئی۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بڑی باجی نے والد صاحب کا ہاتھ بٹانے کے لیے ایک کمپنی میں ملازمت کر لی۔ وہ گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے جہیز کی تیاری بھی کرنے لگیں۔ کچھ عرصے بعد دوسری بہن نے بھی بڑی باجی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے جاب شروع کر دی۔ یوں دونوں بہنوں نے مل کر والد صاحب کا بوجھ کافی حد تک کم کر دیا۔ اسی دوران بڑی باجی کا رشتہ آیا اور وہ پلک جھپکتے ہی بیاہ کر اپنے پیا دیس سدھار گئیں۔ اب منجھلی بہن اکیلے ہی جاب پر جانے لگی، لیکن جلد ہی مجھ سے بڑی بہن نے بھی ملازمت کرنے کی ٹھان لی اور یوں پھر سے دو بہنیں کام پر جانے لگیں، جس سے گھر کے حالات کافی حد تک سنور گئے۔
میں ان دنوں مڈل کلاس (آٹھویں جماعت) میں پڑھتی تھی۔ جب کشور آپا کا رشتہ آیا تو والد صاحب نے ہامی بھر لی اور یوں وہ بھی بیاہ کر اپنے گھر کی ہو گئیں۔ اب حسبِ روایت مجھ سے بڑی بہن، فردوس اکیلے ملازمت پر جا رہی تھی۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: “میں ایک گارمنٹس کمپنی میں کام کرتی ہوں، کیا تم میرے ساتھ چلو گی؟” ان دنوں میری تمام تر توجہ تعلیم پر تھی، لہذا میں نے کوئی فوری جواب نہ دیا۔ فردوس نے ماں جی سے کہا: “امی جان! کیا میں افشاں کو اپنے ساتھ کمپنی لے جاؤں؟” ماں جی پریشان ہو کر بولیں: “فردوس بیٹی! تم اور تمہاری بڑی بہن سمجھدار ہو، زمانے کے نشیب و فراز کو سمجھتی ہو، لیکن یہ تو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی، ابھی یہ بھلا جاب کیسے کر پائے گی؟” فردوس نے اعتماد سے جواب دیا: “امی! یہ سب مجھ پر چھوڑ دیں، میں اپنی ذمہ داری پر اسے ساتھ لے جاؤں گی، ویسے بھی میں اکیلے جاتے ہوئے اچھا محسوس نہیں کرتی۔”
یوں فردوس مجھے گھر کی چار دیواری سے نکال کر انسانوں کے اس سمندر میں لے آئی جہاں ہر طرف شور ہی شور تھا اور لوگوں کی بے ہنگم بولیاں تھیں۔ یہ میری زندگی کا پہلا قدم تھا، مجھے سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا، یہاں تک کہ کھلے آسمان تلے بھی گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ فردوس نے منیجر سے پہلے ہی بات کر لی تھی، اس لیے بغیر کسی دشواری کے مجھے بھی ملازمت مل گئی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں گھر سے باہر نکل کر والد کا ہاتھ بٹاؤں گی۔
کہتے ہیں جب انسان شہر کے ہجوم میں نکلتا ہے تو کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آ ہی جاتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں اپنے کام میں مصروف تھی کہ مجھے محسوس ہوا کوئی میری طرف مسلسل دیکھ رہا ہے۔ قدرت نے عورت میں یہ حس رکھی ہے کہ وہ مرد کی نظروں کی تپش فوراً بھانپ لیتی ہے۔ میں نے جب دائیں جانب دیکھا تو ایک وجیہہ نوجوان مجھے تک رہا تھا۔ نظریں ملتے ہی وہ جھینپ گیا اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گیا۔ اس کی شخصیت اور دیکھنے کا انداز میرے دل میں گھر کر گیا، اور میں بے تابی سے اس کے پیغام کا انتظار کرنے لگی۔
ٹھیک تیسرے دن اس لڑکے نے، جس کا نام انیس تھا، میری میز پر ایک پیغام بھجوایا، جسے میں نے بغیر کسی حیل و حجت کے قبول کر لیا۔ یوں خاموش محبت کا ایک سفر شروع ہوا۔ شروع میں دل میں خوف تھا کہ اگر فردوس کو خبر ہوئی تو کیا ہوگا؟ لیکن یہ خوف تب ختم ہوا جب فردوس نے خود مجھ سے کہا: “اگر تم انیس کو پسند کرتی ہو تو کوئی بری بات نہیں، لیکن اپنی اور گھر کی عزت کا خیال رکھنا اور اس کے ساتھ کہیں اکیلے مت جانا۔” فردوس کی اس بات نے جیسے مجھے آزادی کا پروانہ دے دیا ہو۔
کچھ دنوں بعد میں انیس کو اپنی ماں سے ملوانے گھر لے آئی۔ ماں جی ایک اجنبی لڑکے کو میرے ساتھ دیکھ کر حیران و پریشان ہو گئیں۔ میں نے ان کا تعارف کروایا اور بتایا کہ ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔ ماں جی اس اچانک افتاد پر پریشان تھیں، لیکن فردوس نے انہیں یقین دلایا کہ انیس ایک اچھا لڑکا ہے۔ اس کے بعد ہماری قربتیں بڑھتی گئیں۔ میں انیس کی محبت میں گرفتار تھی، لیکن وہ شادی کے معاملے پر ہچکچاتا تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ سنجیدہ نہیں ہے، مگر میں پھر بھی اسے راضی کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
کمپنی میں ہمارا ایک مختصر سا گروپ بن گیا تھا؛ ہم تین سہیلیاں اور وہ تین دوست۔ ایک دن کام جلدی ختم ہوا تو ہم سب ساحلِ سمندر پر پکنک کے لیے چلے گئے۔ وہاں خوب ہلہ گلہ کیا اور شام کو گھر لوٹ آئے۔ میں جانتی تھی کہ میں غلط راستے پر ہوں، لیکن محبت اندھی ہوتی ہے۔ جب منیجر کو ہمارے اس طرح بن بتائے جانے کا علم ہوا تو اس نے ہم سب کو ملازمت سے نکال دیا۔ اس واقعے نے ہمیں الگ کر دیا؛ ایک طرف کام چھوٹنے کا غم اور دوسری طرف انیس سے بچھڑنے کا دکھ۔
کچھ عرصے بعد مجھے دوسری کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ انیس کا کوئی اتا پتا نہ تھا، بس کبھی کبھار اس کا دوست رضوان مل جاتا تو خیریت معلوم ہو جاتی۔ نئی کمپنی میں ‘نذر’ نامی ایک لڑکا مجھے پسند کرنے لگا۔ اس نے فردوس کے ذریعے رشتہ بھیجا۔ فردوس نے مجھے سمجھایا: “انیس کا کچھ پتا نہیں وہ کہاں ہے، میری مانو تو نذر اچھا لڑکا ہے، ہاں کر دو۔” میں نے کوئی راستہ نہ پا کر ہامی بھر لی، حالانکہ دل اب بھی انیس کے لیے دھڑکتا تھا۔ نذر واقعی ایک متاثر کن شخصیت کا مالک تھا۔
میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ نذر کو انیس کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ اس سچائی نے ہمارے درمیان جھگڑوں کی بنیاد ڈال دی۔ نذر جذباتی اور روایتی ذہن کا مالک تھا، وہ بات بات پر غصہ کرتا مگر مجھ سے بے پناہ مخلص بھی تھا۔ نذر کی جنونی محبت مجھے خوفزدہ کرنے لگی تھی۔ اسی دوران انیس دوبارہ میری زندگی میں نمودار ہوا اور میں نے نذر سے پیچھا چھڑانے کے لیے بے رخی اختیار کر لی۔
میری بے رخی نے نذر کو توڑ کر رکھ دیا اور اس نے خود کو نشے کی لت میں ڈال دیا، مگر وہ مجھے نہ بھول سکا۔ فردوس نے مشورہ دیا کہ اگر تم نذر سے جان چھڑانا چاہتی ہو تو کسی اور لڑکے سے دوستی کر لو تاکہ وہ بدظن ہو کر تمہیں چھوڑ دے۔ میں نے فردوس کی بات مان کر محلے کے ایک لڑکے ‘فیصل’ سے دوستی کر لی جو مجھے روز بائیک پر لانے اور لے جانے لگا۔
یہ دیکھ کر نذر کی دیوانگی انتہا کو پہنچ گئی اور اس نے نیند کی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔ ہسپتال میں اس کی جان تو بچ گئی لیکن میں نے اس پر واضح کر دیا کہ میں صرف انیس سے محبت کرتی ہوں۔ اب میری زندگی تین حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی؛ انیس، نذر اور فیصل۔ فیصل، جسے میں نے صرف نذر کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا تھا، اب وہ مجھے چھوڑنے کو تیار نہ تھا کیونکہ وہ میری مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔
انیس میری پہلی محبت تھی جسے میں نے نادانی میں اپنا محافظ سمجھ لیا۔ نذر ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا تھا جسے میری اپنی غلطیوں نے طوفان بنا دیا، اور فیصل وہ بوجھ بن گیا جس سے میں کبھی آزاد نہ ہو سکی۔ آج میں زندگی کے اس موڑ پر کھڑی ہوں جہاں ہر طرف اندھیرا ہے۔ تحفظ کی تلاش میں، میں نے اپنی ہنستی مسکراتی زندگی کو خود اپنے ہاتھوں سے جہنم بنا لیا ہے۔ اب نہ انیس کا پتا ہے، نہ نذر کی خیر خبر، اور نہ ہی فیصل کا کوئی سراغ۔ میں آج بھی اکیلی ہوں اور ایک ایسے تحفظ کی تلاش میں ہوں جو شاید اب مجھے کبھی میسر نہ آ پائے گا۔
(ختم شد)

