عورت کا کرب

Urdu Stories

میں سابق مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکہ میں پیدا ہوئی تھی۔ اس دنیا میں آنکھ کھولی تو بسترِ راحت کے بجائے بدقسمتی کا منحوس سایہ مجھ پر منڈلا رہا تھا۔ میری پیدائش کے محض ایک روز بعد میری والدہ انتقال کر گئیں۔ میں وہ بدنصیب تھی جسے سگی ماں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی آغوش میں نہ لے سکی۔ میری پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوئی تھی اور اس میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں نے ماں کی جان لے لی۔

بے چارے ابا اکیلے مجھے کیسے پالتے؟ چنانچہ انہوں نے مجھے ایک واقف کار کے حوالے کر دیا جن کی اہلیہ بانجھ تھیں اور اولاد کی شدت سے آرزومند تھیں۔ اللہ نے ان کی سن لی اور میری صورت میں ان کی مراد بر آئی۔ میری پرورش بہت لاڈ پیار سے ہونے لگی، مگر یہ سکھ زیادہ دن برقرار نہ رہ سکا۔ شاید میں ازلی کم نصیب تھی کہ مجھے پالنے والوں پر اچانک کڑے دن آ گئے۔ منصور صاحب اور ان کی بیگم، جنہوں نے مجھے گود لیا تھا، غربت کی لپیٹ میں آ گئے۔

انہی دنوں مشرقی پاکستان کے حالات کشیدہ ہو گئے۔ منصور صاحب کو کاروبار میں شدید نقصان ہوا اور وہ دیوالیہ ہو گئے۔ ان کی فیکٹری ڈھاکہ میں تھی؛ جب وہاں حالات بگڑے تو ایک دن مکتی باہنی نے فیکٹری کو نذرِ آتش کر دیا اور وہ بمشکل اپنی جان بچا کر مغربی پاکستان پہنچے۔ اپنے ہمراہ وہ صرف مجھے اور کپڑوں کا ایک بیگ لا سکے۔

“جان بچی لاکھوں پائے” کے مصداق اسی پر رب کا شکر ادا کیا، لیکن بقا کے لیے وسائل درکار تھے۔ یہاں نہ اپنا گھر تھا اور نہ ہی کوئی کام۔ وہ بے چارے کئی رشتہ داروں کے پاس گئے تاکہ کوئی روزگار مل سکے۔ بالآخر ایک عزیز نے انہیں اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔ ابا نے کبھی ایسے کٹھن دن نہ دیکھے تھے، مگر اب حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ایک معمولی ملازمت کو بھی غنیمت جان کر قبول کر لیا۔ سارا سرمایہ ڈھاکہ میں رہ گیا تھا، اس لیے اپنا کاروبار کرنا ناممکن تھا۔

دال روٹی کا سلسلہ تو چل نکلا، لیکن میرا بچپن محرومیوں کی نذر ہو گیا اور میری چھوٹی چھوٹی معصوم خواہشیں افلاس کی کند چھری سے ذبح ہوتی رہیں۔ جب گڑیوں سے کھیلنے کے دن تھے، تب میں اپنے ننھے ہاتھوں سے جھاڑو پونچھا کرتی تھی۔ مجھے گود لینے والی ماں غربت کی مار نہ سہہ سکیں اور بیمار رہنے لگیں۔ میں سات برس کی عمر ہی سے گھر کے کاموں میں جُت گئی۔ رفتہ رفتہ سالن بنانا، کپڑے دھونا اور دیگر گھریلو امور سیکھ لیے۔

ابا نے اپنی بساط کے مطابق اماں کا علاج کروایا، مگر وہ بیماری کے چنگل میں پھنستی چلی گئیں۔ ڈاکٹروں نے جگر کا کینسر تشخیص کیا اور آخر کار یہ مرض ان کی جان لے کر ہی ٹلا۔

اب گھر میں صرف ابا اور میں رہ گئے تھے۔ اس وقت میری عمر تیرہ برس تھی۔ والد میری فکر میں گھلنے لگے؛ وہ نوکری پر جاتے تو میں پیچھے اکیلی رہ جاتی۔ آس پاس کا ماحول اچھا نہ تھا، مفلسی کے باعث ہم ایک ایسے محلے میں رہنے پر مجبور تھے جہاں اوباش، جواری اور نشئی افراد کا ڈیرہ تھا۔ والد نے کسی بہتر علاقے میں مکان تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر وہاں کے کرائے ان کی دسترس سے باہر تھے۔ ان کے لیے یہ دن کسی صحرائی مسافر کے راستے میں بکھرے ببول کے کانٹوں کی طرح تھے۔ آج بھی ان دنوں کی یاد خارِ مغیلاں کی طرح دل میں چبھتی ہے تو جگر سے لہو ٹپکنے لگتا ہے۔ دعا کرتی ہوں کہ خدا کبھی کسی بچی کو اس کے والدین سے جدا نہ کرے۔

جب میں سولہ برس کی ہوئی تو میرے چہرے پر ابھرتے شباب کو دیکھ کر ابا کے ماتھے پر فکر کی جھریاں گہری ہونے لگیں۔ محلے کے لفنگے جانتے تھے کہ ابا کام پر چلے جاتے ہیں اور میں گھر میں تنہا ہوتی ہوں۔ وہ جیسے تاک میں رہتے اور ابا کے جاتے ہی ہمارے گھر کی دیواروں سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے اور مجھ پر آوازیں کستے۔ میں خوفزدہ ہو کر صحن سے کمرے میں چلی جاتی اور اندر سے کنڈی لگا لیتی کہ کہیں وہ دیوار پھلانگ کر اندر نہ آ جائیں۔

جب ابا آتے اور میں انہیں یہ سب بتاتی تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے۔ گھر میں باقاعدہ باورچی خانہ نہ تھا، کمرے کی دیوار کے ساتھ مٹی کا چولہا بنا ہوا تھا اور میں صحن میں لکڑیاں جلا کر کھانا بناتی تھی۔ ابا پوچھتے کہ “آج کھانا کیوں نہیں بنایا؟” تو میں بتاتی کہ محلے کے لڑکوں کے ڈر سے میں صحن میں نہیں بیٹھ سکی۔ وہ کڑھتے ہوئے کہتے: “بیٹی تو رحمت ہوتی ہے، میں اس رحمت کی حفاظت کیسے کروں؟”

وہ دن رات میرے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر میں رہنے لگے۔ بدقسمتی سے انہی دنوں ان کی نوکری بھی ختم ہو گئی اور نوبت فاقوں تک آ پہنچی۔ اوپر سے مالکِ مکان نے کرائے کے لیے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ میرے اصل والد تو ڈھاکہ میں رہ گئے تھے اور ان کا کچھ پتا نہ تھا؛ ابا نے کئی بار رابطے کی کوشش کی مگر سب لاحاصل رہا۔

ایک روز جب مالکِ مکان نے سامان باہر پھینکنے کی دھمکی دی تو ابا رو پڑے۔ ان کی بے بسی دیکھ کر اسے کچھ رحم آیا اور کہنے لگا: “آخر کب تک مہلت دوں؟ تین ماہ گزر چکے ہیں۔” ابا نے کہا: “جب تک نوکری نہیں ملتی۔ مجھے بس اپنی بچی کی فکر ہے، اس کا گھر بسا دوں تو میں کسی دکان کے تھڑے یا فٹ پاتھ پر بھی سو جاؤں گا۔ کئی جگہ رشتے کا کہا ہے، مگر میری غربت دیکھ کر کوئی حامی نہیں بھرتا۔”

مالکِ مکان نے دلاسہ دیا اور اپنے ایک رشتہ دار رفیع سے ذکر کیا۔ رفیع نے کہا کہ وہ اپنے سالے سے رشتہ کروا سکتا ہے، لیکن اس کی بیوی اپنے بھائی کے لیے بہت محتاط ہے۔ اس نے شرط رکھی کہ اگر لڑکی کچھ دن ہمارے گھر آ کر رہے اور میری بیوی کی خدمت کرے، تو شاید وہ اس رشتے پر راضی ہو جائے۔

والد نے مالکِ مکان پر بھروسہ کر لیا اور مجھے رفیع صاحب کے گھر بھیج دیا۔ خود مکان خالی کر کے مسجد کے ایک حجرے میں ٹھہر گئے اور وہاں صفائی کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس طرح انہیں رہائش اور کھانا میسر آ گیا اور وہ روز مجھ سے ملنے آتے تھے۔

میں رفیع صاحب کے گھر خوش تھی، ان کی بیوی زبیدہ ایک نیک خاتون تھیں۔ وہ مجھ سے محبت سے پیش آتیں اور میں نے بھی سلیقے سے ان کا گھر سنبھال لیا۔ خالہ زبیدہ مجھ سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ آخر کار اپنے بھائی کنعان کو شادی کے لیے راضی کر لیا۔

کنعان میٹرک پاس تھا اور جوتوں کا اچھا کاروبار کرتا تھا۔ وہ مجھ سے سات برس بڑا تھا، مگر خوش شکل اور مہذب انسان تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو مجھے وہ پسند آ گیا۔ یوں میری شادی کی تاریخ طے پا گئی۔

اسی دوران ابا بیمار ہو گئے؛ ان کے گردوں میں پتھری تھی۔ رفیع صاحب نے فراخ دلی دکھائی اور آپریشن کے تمام اخراجات خود برداشت کیے۔ ابا صحت یاب ہو گئے اور میری شادی کنعان سے ہو گئی۔ افلاس کا طویل سفر طے کرنے کے بعد میں ایک خوشحال گھرانے میں آ گئی تھی۔ اچھے لباس اور خوراک نے میرا رنگ روپ نکھار دیا اور کنعان مجھ پر جان چھڑکنے لگا۔ میں خدمت گزار اور صابر تھی، بچپن کی محرومیوں نے مجھے قناعت سکھا دی تھی۔ میری حیا اور سلیقہ مندی نے پہلے ہی روز کنعان کا دل جیت لیا۔

رفیع صاحب کو سب حاجی صاحب کہتے تھے۔ ان کی بیوی، جنہیں میں خالہ کہتی تھی، میرے سگھڑ پن کی معترف تھیں۔ وہ کہتیں کہ شائستہ جیسی بہو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ کنعان، حاجی صاحب کے کاروباری شریک تھے۔ انہوں نے میرے لیے گھر پر استانی کا انتظام کیا، جس کی بدولت میں نے دو سال میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔

میں اب شوق سے کتابیں پڑھتی، جس سے میری شخصیت میں مزید نکھار آ گیا۔ اب میں کنعان کی آنکھوں کا تارا اور اپنی نند کے دل کی ٹھنڈک تھی۔ بچپن کے دکھوں کے بعد اب میں خوشیوں کے جھولے میں جھول رہی تھی۔

والد صاحب اب کمزور ہو چکے تھے اور کنعان کے اصرار کے باوجود انہوں نے داماد کے گھر رہنا گوارا نہ کیا۔ ایک روز سردیوں میں نمونیہ ہوا اور وہ چند ہی دن میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ مجھے ان کی وفات کا گہرا صدمہ ہوا، انہوں نے کبھی محسوس نہ ہونے دیا تھا کہ میں ان کی سگی بیٹی نہیں ہوں۔ سچ ہے کہ خوشیاں اور غم زندگی میں باری باری آتے رہتے ہیں۔

میں کنعان کے ساتھ ایک مثالی زندگی گزار رہی تھی، وہ میرے جینے کا سہارا تھے۔ لیکن ایک دن جب وہ لاہور سے مال بک کروا کر لوٹ رہے تھے، ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ میری بستی بسائی دنیا اجڑ گئی۔ میری نند اپنے اکلوتے بھائی کے غم میں نڈھال تھیں۔ عدت کے بعد خالہ مجھے اپنے گھر لے آئیں۔ سات برس تک میں ایک مردہ روح کے ساتھ وہاں رہی، مگر شوہر کا غم نہ بھلا سکی۔

پھر تقدیر نے ایک اور وار کیا۔ ایک روز خالہ کو باغ میں سانپ نے کاٹ لیا اور حاجی صاحب کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ گئیں۔ خالہ کی وفات کے بعد میں بالکل تنہا اور بے بس ہو گئی۔ اب حاجی صاحب کے سوا میرا کوئی نہ تھا اور میں دو وقت کی روٹی کے لیے ان کی محتاج تھی۔

میں انہیں والد کی جگہ سمجھتی تھی، مگر ایک دن انہوں نے مجھ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے حیرت اور دکھ سے کہا کہ “میں آپ کو اپنا بزرگ سمجھتی ہوں، اگر میں بوجھ ہوں تو میں کہیں اور کام کر لوں گی۔”

تب انہوں نے اپنی اصلیت ظاہر کی اور کہا: “تم نہیں جانتیں، میں نے تمہارے باپ سے تمہیں خرید لیا تھا۔ جب انہیں آپریشن کے لیے رقم چاہیے تھی، تو انہوں نے تمہیں میری تحویل میں دیا تھا۔ میں تب ہی سے تم سے شادی کرنا چاہتا تھا، مگر زبیدہ کی وجہ سے خاموش رہا۔ اب تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں۔”

دو دن بعد ان پر وحشت سوار ہوئی اور انہوں نے زبردستی کی کوشش کی۔ میں نے خدا کا واسطہ دیا، مگر وہ نہ مانے۔ میں لاچار تھی، میرا کوئی سہارا نہ تھا۔ بالآخر دنیا کی نظر میں اپنی عزت بچانے اور بقا کی خاطر مجھے رفیع سے نکاح کرنا پڑا۔

نکاح کے وقت “قبول ہے” کہتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ کاش کوئی ان عورتوں کا کرب سمجھ 
سکے جو پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر ایسے سمجھوتے کرنے پر مجبور کر دی جاتی ہیں۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ