لالچی بھائی

urdu stories in urdu
 
چھوٹے بھائی نے ایک دن جوا کھیلتے ہوئے مجھے داؤ پر لگا دیا اور ہار گیا۔ شام کو جواری مجھے لینے گھر آ گئے۔  بھائی اشرف شرم اور غصے سے کانپتے ہوئے اندر آئے۔ میں بھاگ کر انہیں پانی پلانے لگی اور ان کا پسینہ خشک کیا، مگر جب بھائی اشرف نے حقیقت سنائی تو میں سکتے میں رہ گئی۔ خیر، انہوں نے میرے بدلے تاوان کی رقم جواریوں کو دی اور بہن کی عزت بچا لی۔ 
👇👇 
میرے تین بھائی تھے اور میں اکلوتی بہن تھی۔ ہمارے ماں باپ انتقال کر چکے تھے۔ بڑے بھائی لاپروا اور نکھٹو تھے۔ منجھلے بھائی اشرف، جو “استاد” کے نام سے مشہور تھے، گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ ایک دن بڑے بھائی نے گھر میں ہنگامہ کھڑا کر دیا اور بھائی اشرف پر برس پڑے۔ کہنے لگے: “تم حرام کماتے ہو اور ہمیں بھی حرام کھلاتے ہو۔ ہم تمہاری کمائی نہیں کھانا چاہتے۔” یہ کہتے ہوئے انہوں نے بھائی اشرف کو مارنا شروع کر دیا اور اتنا مارا کہ وہ نڈھال ہو کر چارپائی سے لگ گئے۔

میں بھائیوں کے آپسی اختلافات دیکھ کر چپ چاپ روتی رہی۔ جب بھائی اشرف کی حالت کچھ سنبھلی تو انہوں نے مجھ سے مشورہ کیا اور ہم پاکستان آ گئے۔ ہمارے ساتھ سب سے چھوٹا بھائی بھی آ گیا؛ حالانکہ وہ بڑے بھائی کا طرف دار تھا، پھر بھی جانے کیا سوچ کر وہ ہمارے ساتھ ہو لیا۔ ہم نے کرائے پر مکان لیا اور روزی کی تلاش میں لگ گئے۔ ہم اکثر ذکر کرتے کہ آخر بڑے بھائی نے ہمیں گھر سے کیوں آنے دیا؟ کیوں نہیں روکا؟ آخر ایک دن اس کا جواب ہمیں مل گیا۔ ہمارے بڑے بھائی نے دوسری شادی کر لی تھی، اسی لیے وہ ہم سے جھگڑا کر رہے تھے تاکہ راستہ صاف ہو سکے۔

ادھر بھائی اشرف نے دن رات محنت مزدوری شروع کر دی۔ کبھی دودھ بیچتے، کبھی غبارے، کبھی نوکری کرتے، اور پھر ایک سنار کی دکان پر ملازمت کر لی۔ سونے کے کام میں اللہ تعالیٰ نے خوب برکت دی۔ پھر انہوں نے اپنی دکان کھول لی اور اپنا مکان بھی خرید لیا، اور میرا جہیز جمع کرنے لگے۔ ایک وقت آیا کہ انہوں نے مجھے سر سے پاؤں تک سونے میں لاد دیا۔

ابتدا میں میری قسمت مہربان رہی، اچھے اچھے رشتے آتے، مگر مالی حالات (شروع میں) اچھے نہ ہونے کی وجہ سے لوگ لوٹ جاتے۔ اس کا اثر بھائی اشرف پر اتنا گہرا ہوا کہ وہ کہنے لگے: “میں نے عہد کر لیا ہے کہ اپنی بہن کے لیے بہت بڑا گھر دیکھوں گا اور جہیز بھی منہ مانگا دوں گا۔” اب رشتے آتے مگر بھائی اشرف کو “خوب سے خوب تر” کی تلاش رہتی، اسی لیے وہ انکار کرتے رہے۔

دوسری طرف سب سے چھوٹا بھائی، بڑے بھائی ہی کی طرح نکھٹو اور لاپروا تھا۔ وہ بھائی اشرف کی کمائی پر عیش کرتا رہا اور بری صحبت کی وجہ سے نشے کا عادی بن گیا، جوا اور ستہ کھیلنے لگا۔ بھائی اشرف منع کرتے مگر وہ نہ مانتا۔ پھر ایک دن ایسا واقعہ ہوا جسے سن کر سر شرم سے جھک جائے۔

چھوٹے بھائی نے ایک دن جوا کھیلتے ہوئے مجھے داؤ پر لگا دیا اور ہار گیا۔ جب چند جواریوں کو بھائی اشرف نے اپنے گھر کے سامنے دیکھا تو انہیں تشویش ہوئی۔ جب جواریوں نے بتایا کہ “ہم تو وہ لڑکی لینے آئے ہیں جسے ہم نے جوئے میں جیتا ہے”، تو بھائی اشرف شرم اور غصے سے کانپتے ہوئے اندر آئے۔ میں بھاگ کر انہیں پانی پلانے لگی اور ان کا پسینہ خشک کیا، مگر جب بھائی اشرف نے حقیقت سنائی تو میں سکتے میں رہ گئی۔

خیر، انہوں نے میرے بدلے تاوان کی رقم جواریوں کو دی اور بہن کی عزت بچا لی۔ اس دوران چھوٹا بھائی، جو مجھے بہانے سے باہر لے جا کر جواریوں کے حوالے کرنا چاہتا تھا، بھائی اشرف کو دیکھ کر رفو چکر ہو گیا اور کئی دن گھر سے غائب رہا۔ اس واقعے کا بھائی اشرف کی طبیعت پر گہرا اثر ہوا اور انہیں دل کا شدید دورہ پڑا۔ میں تنہا کیا کرتی؟ محلے والوں کو جمع کر کے انہیں اسپتال پہنچایا اور کئی دن تک وہاں ان کی تیمارداری کرتی رہی۔

گھر آنے کے بعد پتا چلا کہ چھوٹا بھائی گھر آیا تھا مگر تالا دیکھ کر واپس چلا گیا تھا اور کہہ گیا تھا کہ پھر آئے گا۔ کچھ دن بعد، جب بھائی اشرف کام پر تھے، وہ آیا اور میری خوشامد کرنے لگا کہ “مجھے معاف کر دو اور بھائی اشرف سے میری سفارش کر دو”۔ آخر مجھے رحم آ گیا اور میں نے بھائی اشرف سے سفارش کی۔ وہ خود بھی بھائی اشرف کے پاؤں پڑ گیا اور گڑگڑانے لگا۔ کافی دیر بعد بھائی اشرف راضی ہو گئے۔ اس طرح چھوٹا بھائی دوبارہ گھر میں رہنے لگا۔

کچھ دن خیریت سے گزرے مگر اس نے پھر اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ میری سہیلیاں آتیں تو ان پر بری نظر رکھتا اور آوازیں کستا۔ میری ایک سہیلی نے بتایا کہ تمہارے چھوٹے بھائی نے چار لڑکیوں کی زندگی تباہ کر دی ہے اور اب ہم پر بھی بری نظر رکھتا ہے۔ یہ سن کر میں ہکا بکا رہ گئی۔ جب میں نے چھوٹے بھائی سے اس متعلق پوچھا تو جواب دینے کے بجائے اس نے بڑے پیار سے اس سہیلی کا نام پوچھا جس نے مجھے حقیقت بتائی تھی۔ میں سادگی میں آ گئی اور نام بتا دیا۔

میری سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ بدمعاشوں والے لہجے میں بولا: “اب تمہاری اس سہیلی کی خیر نہیں۔ اس نے تمہیں کیوں بتایا؟” میں نے بڑی منت سماجت کی اور اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ اس وقت تو وہ غصے میں باہر چلا گیا، مگر تھوڑی دیر بعد جب وہ چند دوستوں کے ساتھ بیٹھک میں باتیں کر رہا تھا تو ایک نسوانی آواز نے مجھے چونکا دیا۔

میں نے بھائی سے اشاروں میں پوچھا تو وہ بولا: “میرے معاملے میں مت بولا کرو، جو کر رہا ہوں کرنے دو۔” میں چپ ہو گئی۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ کسی عورت کو لائے تھے۔ غرض یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ وہ میری سہیلیوں کو بھی تنگ کرتا رہا۔ میں جب سختی سے منع کرتی اور کہتی کہ محلے کی لڑکیاں ماں بہنوں کے برابر ہوتی ہیں تو کہتا: “بہن تو صرف سگی ہوتی ہے، باقی کوئی بہن نہیں ہوتی۔” میں دل ہی دل میں سلگتی رہتی۔ اگر بھائی اشرف کو بتاتی تو وہ اسے گھر سے نکال دیتے اور مزید بیمار ہو جاتے۔ اب تو وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔

وہ مجھ سے اکثر کہتے: “اچھا رشتہ آئے تو تیرے ہاتھ پیلے کر دوں۔” میں کہتی: “بھیا، پہلے آپ اپنی شادی کر لیں تاکہ میں بھابھی کے نخرے اٹھاؤں۔” وہ کہتے: “نہیں، میں تیری شادی پہلے کروں گا۔ تو نے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ کیا پتا تیری بھابھی کیسی ہو۔ اب میں تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہونے دوں گا۔ بڑا بھائی کیا کم ظالم تھا کہ یہ چھوٹا اس سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔” بس وہ اسی قسم کی باتیں کرتے، اس لیے میں انہیں (چھوٹے بھائی کی کرتوتیں) نہ بتاتی۔

پھر ایک دن دونوں بھائی خوشی خوشی سرگوشیاں کرتے نظر آئے۔ میں خوشگوار حیرت کا شکار تھی۔ بعد میں پتا چلا کہ چھوٹا بھائی میرے رشتے کی بات کر رہا تھا اور بھائی اشرف نے لڑکے والوں کو بلانے کی حامی بھر لی ہے۔ چند دن بعد لڑکے والے آئے۔ میں جب چائے لے کر اندر گئی تو ایک ادھیڑ عمر عورت نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ دوسری بولی: “ماشاء اللہ، بال تو بہت لمبے ہیں مگر رنگ سانولا ہے۔” تیسری بولی: “عمر زیادہ لگتی ہے، میرا بھائی تو کم عمر ہے۔”

اسی دوران بھائی اشرف بھی اندر گئے۔ ایک عورت نے لڑکے کی تصویر دکھائی اور بولی: “آپ کسی دن لڑکی کو لے کر ہمارے گھر آ جائیں تاکہ ہمارے رشتہ دار بھی دیکھ لیں۔” بھائی اشرف یہ بات برداشت نہ کر سکے اور سخت الفاظ میں کہہ دیا کہ ہمارے ہاں یہ دستور نہیں، جسے لڑکی دیکھنی ہو وہ ہمارے گھر آ کر دیکھ لے۔

جب لڑکے والے چلے گئے تو بھائی اشرف نے وہ تصویر مجھے دکھائی۔ میں نے جب اس پر نظر ڈالی تو سوائے خاموشی کے کچھ نہ کہہ سکی، کیونکہ وہ تقریباً پچاس پچپن سال کے آدمی کی تصویر تھی جو شکل سے ہی نشہ باز معلوم ہوتا تھا۔ بھائی اشرف بھی پریشان ہو گئے۔ کہنے لگے: “یہ لڑکا صحیح نہیں لگتا، عمر بھی زیادہ ہے۔ آخر چھوٹا یہ رشتہ کیوں لایا ہے؟”

کچھ دن بعد پتا چلا کہ میرے چھوٹے بھائی نے میرے “دام” لگا دیے تھے اور شادی کا بہانہ بنا کر مجھے ان کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ یہ سن کر بھائی اشرف کو شدید صدمہ پہنچا اور انہیں دل کا دورہ پڑا۔ محلے والے ہی میرے کام آئے اور انہیں اسپتال پہنچایا۔ جب اشرف بھائی کو ہوش آیا تو وہ ماں باپ کو یاد کر کے روتے رہے، پھر بڑے اور چھوٹے بھائی کو برا بھلا کہتے ہوئے دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے سینے سے لگا کر تسلی دی اور محلے والوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کو جمع کر کے اعلان کیا کہ: “میرا مکان، پیسے اور تمام جائیداد میری بہن کے نام ہے، سب گواہ رہنا۔”

اس کے بعد وہ کلمہ پڑھتے پڑھتے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ میں تو بھائی اشرف کی چارپائی سے لگ کر روتے روتے بے ہوش ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے مجھے انجکشن لگایا اور محلے والے مجھے گھر لے آئے۔

چھوٹا بھائی غائب تھا۔ لوگ اسے ڈھونڈتے رہے۔ آدھی رات کو وہ گھر آیا تو چیخنے چلانے لگا کہ “جنازہ ابھی تک گھر میں رکھا ہے، تعفن پھیل جائے گا، جلدی دفناؤ”۔ محلے والے اس پر برس پڑے تو وہ پھر غائب ہو گیا۔ صبح بھائی اشرف کو دفنا دیا گیا۔ ابھی لوگ فاتحہ کے بعد کھانا کھا رہے تھے کہ چھوٹا بھائی بولا: “مکان کے کاغذات کہاں ہیں؟ میں نے الماری اور بکس دیکھ لیے ہیں مگر نہیں مل رہے۔”

میں اب ظلم سہنے سے توبہ کر چکی تھی، فوراً اس پر جھپٹ پڑی۔ اس وقت سب لوگ جمع ہو گئے اور اسے بتایا کہ مکان اور ساری جائیداد اس کی بہن کے نام ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی محلے والوں نے اسے سختی سے تنبیہ کر دی کہ آج کے بعد وہ اس محلے میں نظر نہ آئے، ورنہ اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔

اس دن تو وہ چلا گیا، مگر بعد میں پتا چلا کہ اس نے میرے پیچھے آدمی لگا رکھے ہیں کہ میں کہاں جاتی ہوں اور کس سے ملتی ہوں۔ میں بھائی اشرف کی زندگی میں جہاں جہاں جاتی تھی، اب بھی وہیں جاتی اور انہی لوگوں سے ملتی تھی، مگر اسے یہ بھی گوارا نہ ہوا۔ اس نے مجھ پر الزام لگایا کہ میں خراب لوگوں سے ملتی ہوں اور اس سلسلے میں اس نے کونسلر کو میرے خلاف درخواست دے دی۔

جب کونسلر نے مجھے بلوایا تو میں محلے والوں کو ساتھ لے کر اس کے دفتر پہنچ گئی۔ وہاں بھائی نے دھمکی دی کہ مکان کا قبضہ دے دو۔ اس پر میں نے غصے میں آ کر اس پر حملہ کر دیا، مگر لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔ بھائی زخمی حالت میں بھاگ گیا۔ لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر وہ ہاتھ نہ آیا۔ میں اور محلے والے انتظار کرتے رہے کہ شاید پولیس آئے گی، مگر کوئی نہ آیا۔

میری عمر دو بھائیوں کی بے غیرتی کے نتیجے میں ڈھل چکی ہے۔ تیسرا بھائی، جو صحیح معنوں میں بھائی تھا، اللہ کے پاس جا چکا ہے۔ میں اب محلے کے بچوں کو قرآنِ پاک پڑھا کر وقت گزار رہی ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ایسے بھائی کسی کو نہ دے جو بہنوں کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ