بیوی کا انجام

urdu stories in urdu
 
نورین کی شادی ہو گئی اور سب نے سکھ کا سانس لیا۔ جیسے ہی اس کا شوہر بیرون ملک گیا وہ آزاد ہو گئی اور ایک بدمعاش ٹائپ انسان سے دوستی لگا لی، آخر نورین کے ان تعلقات کی خبر اس کے شوہر کو مل گئی، وہ واپس آیا اور اپنی آنکھوں سے بیوی کو ایک غیر مرد کیساتھ دیکھ کر غصےسے آگ بگولہ ہو گیا، اسی دن جب وہ مرد چلا گیا تو نورین کا شوہر گھر میں داخل ہوا اور اس کا منہ اور ہاتھ باندھ کر سٹور میں ڈال دیا اور کچن میں موجود چھری اٹھائی اور اس کی کی دھار تیز کرنے لگا۔
👇👇
ہماری ملازمہ کی بیٹی نورین بہت شاطر دماغ تھی اس نے نا صرف دو دلوں کو جدا کر دیا بلکہ ہنستے بستے گھر بھر اجاڑ کر رکھ دیئے۔ ایک بار امی ندا کے گھر جا رہی تھیں۔ نورین سامان پکڑنے کے بہانے ان کے ساتھ ہو لی۔ ندا نے اس کے ساتھ اچھا رویہ رکھا اور گھر میں بھی اس سے ٹھیک طرح پیش آئی؛ حالانکہ وہ جانتی تھی کہ یہ ہماری ملازمہ کی بیٹی ہے، لیکن وہ نیک فطرت اور خدا ترس لڑکی تھی۔ نورین کو ہر کسی سے میل جول کا بہت شوق تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ سارے محلے میں گھومتی پھرے، لیکن وہ ایک غریب بیوہ کی بیٹی تھی۔ اس کا معاشرتی مقام کچھ بھی نہیں تھا۔ لوگ اسے ذرّہ بھر اہمیت دینے کو تیار نہ تھے، اسی لیے وہ ہمارا دامن پکڑ کر چلتی تھی۔

عمران کی امی سے اس نے اچھی واقفیت بنا لی تو روز ہی ان کے گھر جا کر ان کے کام کرنے لگی۔ صاف بات ہے، جو کسی کو آرام دیتا ہے، وہ اس کے دل میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ ثریا خالہ اس لڑکی کو اچھا سمجھتی تھیں۔ اس دوران اس نے خالہ کے کان بھرنے شروع کر دیے۔ وہ ندا کے بارے میں غلط سلط اور الٹی سیدھی باتیں کرنے لگی۔ ایسی باتوں سے خالہ پریشان ہو جاتیں، مگر جواب میں کچھ نہ کہتیں بلکہ خاموش ہو جاتیں۔

ایک دن نورین ندا کے گھر گئی۔ اس کی امی کہیں گئی ہوئی تھیں۔ گھر میں صرف ندا کے ابو تھے۔ نورین نے ان سے کہا: “انکل، ایک بات کہوں؟ برا تو نہیں مانیں گے؟” وہ بولے: “بولو، کیا کہنا چاہتی ہو؟” نورین نے کہا: “آپ ہی کے بھلے کی بات ہے۔” یہ سن کر وہ چونک پڑے۔ نورین بولی: “ہاں انکل، اس میں آپ کا بھلا ہے۔ یہ چھوٹا منہ اور بڑی بات سہی، مگر آپ کی عزت پر حرف نہ آ جائے، اس سے پہلے سنبھل جائیے۔ ندا کو چھت پر بالکل نہ جانے دیں، کیونکہ وہ عمران سے رابطہ کرتی ہے اور اسے خط لکھ کر چھت سے پھینکتی ہے۔” اس کے علاوہ بھی اس نے اپنی طرف سے کچھ ایسی باتیں گھڑ دیں کہ بے چارے انکل پریشان ہو گئے کہ یہ لڑکی ان کی بیٹی کے بارے میں کیسی کیسی باتیں کر رہی ہے۔ پھر اس نے کہا: “پلیز انکل، ندا کو مت بتائیے گا کہ میں نے آپ سے یہ سب کہا ہے، ورنہ وہ مجھ سے جھگڑا کرے گی۔” یہ سب کہہ کر وہ ہمارے گھر آ گئی۔

جب ندا گھر آئی تو اس کے والد نے کہا: “ندا! آئندہ تم چھت پر نہیں جاؤ گی اور تمہارا گھر سے نکلنا بھی بند ہے۔” یہ سن کر ندا گھبرا گئی اور بولی: “ابو! کیا ہوا ہے؟ آپ کیوں مجھ پر پابندیاں لگا رہے ہیں؟” انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نورین کیا کہہ کر گئی ہے۔ ندا کی امی بھی اس کی ہر بات مانتی تھیں۔ خدا جانے نورین کی باتوں میں کیا کمال تھا کہ لوگ اس پر یقین کر لیتے تھے۔

ان دنوں میری دوست بہت پریشان تھی۔ وہ اب میرے گھر بھی نہیں آتی تھی کیونکہ اس پر پابندی تھی۔ وہ بہت مجبور ہو گئی تھی۔ میں جب اس کے گھر جاتی تو وہ کہتی: “سمیرا، خدا جانے کیا بات ہے کہ امی ابو مجھ سے ایسا سلوک کر رہے ہیں۔ وہ میرا قصور بھی نہیں بتاتے۔” میں اسے تسلی دیتی کہ والدین بہرحال اچھا ہی سوچتے ہیں۔ شاید وہ تمہارے لیے کچھ بہتر سوچ رہے ہوں گے۔ ہمارا رزلٹ آ گیا۔ ندا نے دوسری پوزیشن لی تھی، لیکن بدقسمتی سے نورین کی وجہ سے انکل نے اسے کالج میں داخلہ بھی نہیں لینے دیا۔

ادھر عمران بھی پریشان تھا۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: “سمیرا باجی! اللہ جانے ندا کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ عرصے سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔ میں شادی کروں گا تو اسی سے۔ میں نے اپنی امی کو بھی بتا دیا ہے۔” میں نے اسے مشورہ دیا کہ تم اپنی امی کو ندا کے گھر بھیجو تاکہ بات طے ہو جائے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کے والدین کہیں اور رشتہ پکا کر دیں۔ چنانچہ عمران کی امی میری والدہ کے ساتھ ندا کے گھر گئیں اور رشتہ مانگا، مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم برادری سے باہر شادی نہیں کرتے۔ اس کے بعد انہوں نے گھر بھی بدل لیا تاکہ عمران اور ندا ایک دوسرے سے رابطہ نہ کر سکیں‌۔

میرا کزن بہت پریشان ہو گیا۔ اس کی حالت دیوانوں جیسی ہو گئی تھی۔ اسے ایک پل چین نہ تھا۔ میرے والدین نے عمران کے والدین کو مشورہ دیا کہ اسے بیرونِ ملک بھیج دیں، ورنہ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنی بڑی بیٹی کے پاس بیرونِ ملک بھیج دیا تاکہ نئے ماحول میں جا کر وہ ندا کو بھول جائے۔ جب نورین کو عمران کے جانے کا پتا چلا تو وہ اداس ہو گئی۔ شاید وہ چاہتی تھی کہ وہ یہیں رہے، حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا جیون ساتھی نہیں بن سکتا۔ انہی دنوں رضیہ خالہ نے اس کی منگنی اپنے بھائی کے بیٹے سے کر دی۔ منگنی پر اس کا ردِعمل دبا دبا سا تھا۔ میں اس کی کیفیت اچھی طرح سمجھتی تھی۔ روبرو تو میں اسے کچھ نہیں کہتی تھی، لیکن دل میں وہ مجھے اچھی نہیں لگتی تھی۔

کچھ عرصے بعد نورین کی شادی اپنے منگیتر سے ہو گئی۔ اپنی شادی پر وہ بالکل خوش نہیں تھی، بلکہ پتھر کی مورت بنی بیٹھی تھی، جیسے اسے کسی اجنبی دنیا کے سپرد کیا جا رہا ہو۔ جب وہ بیاہ کر چلی گئی تو میں نے سکھ کا سانس لیا، کیونکہ اسے دیکھ کر مجھے الجھن ہوتی تھی۔ اس لڑکی نے دو دلوں کا سکون چھینا تھا اور میرا سکون بھی ختم کر دیا تھا، کیونکہ ندا مجھ سے بھی جدا ہو گئی تھی۔ اب وہ ادھر نہیں آتی تھی، یقیناً والدین اسے آنے نہیں دیتے تھے۔

کچھ عرصہ نورین اپنی ساس کے پاس رہی، پھر اس نے ضد کی کہ ماں کے گھر کے قریب گھر لے لیا جائے، میرا یہاں دل نہیں لگتا۔ جب اس نے اصغر کے بہت کان بھرے تو وہ رضیہ خالہ کے پاس آیا اور کہا: “تم کیا کہتی ہو؟ تمہاری بیٹی تو یہاں رہنے کو تیار نہیں ہے۔” رضیہ خالہ بولیں: “میں تو خود کسی کے گھر رہ رہی ہوں۔ وہ مجھے ہر وقت مکان خالی کرنے کو کہتے رہتے ہیں۔ اب میں جہاں کام کرتی ہوں، وہیں جا کر رہ جاؤں گی۔ تمہیں کرائے کا مکان لینا پڑے گا۔” اصغر نے بیوی کی خوشی کے لیے رضیہ خالہ کے گھر کے قریب ایک چھوٹا سا کرائے کا مکان لے لیا اور بیوی اور اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ وہاں منتقل ہو گیا۔ انہی دنوں وہ ویزے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا تاکہ بیرونِ ملک جا کر زیادہ کما سکے اور حالات سنور جائیں تو اپنا ذاتی مکان بنا لے۔ بالآخر ایک دوست کے ذریعے وہ بیرونِ ملک چلا گیا۔

اب گھر میں نورین اور اس کی ساس رہ گئیں۔ شوہر کے جاتے ہی نورین کو گھومنے پھرنے کی آزادی مل گئی اور اس نے محلے کے ایک آوارہ نوجوان سے تعلقات قائم کر لیے۔ اس کا نام شیدا تھا۔ وہ سینما ہال میں ٹکٹوں کی بلیک کا کام کرتا تھا۔ اس کے علاقے کے بدمعاشوں سے تعلقات تھے اور منشیات فروشوں سے بھی اس کی شناسائی تھی۔ شیدے کا قد کاٹھ اور مضبوط جسم نورین کو متاثر کر گیا۔ پھر اسے مفت فلمیں دیکھنے کا شوق بھی لگ گیا اور وہ اکثر اس کے ساتھ سینما جانے لگی۔ شیدے کو بھی ایسی عورت کی تلاش تھی جس کا شوہر بیرونِ ملک ہو، جو خرچ بھیجتا ہو اور جس پر گھر والوں کی سخت نگرانی نہ ہو۔ نورین اس کے لیے آسان ہدف تھی۔ اصغر جو رقم بھیجتا، وہ شیدا کے ساتھ جا کر بینک میں جمع کروا دیتی، کیونکہ اسے اس پر اعتبار تھا۔

رفتہ رفتہ یہ تعلقات مشہور ہونے لگے۔ ایسی باتیں کب تک چھپتی ہیں؟ نورین کی ساس کو اعتراض ہوا کہ ایک غیر مرد کیوں گھر آتا ہے۔ کچھ عرصے بعد ساس کی طبیعت خراب رہنے لگی اور وہ اکثر سوئی رہتی تھیں۔ رفتہ رفتہ ان کی صحت بگڑتی گئی اور ایک دن ان کا انتقال ہو گیا۔ اصغر کو خبر دی گئی، مگر وہ روزگار کے خوف سے واپس نہ آ سکا اور ماں کے آخری دیدار سے محروم رہا۔

اصغر کو گئے تین سال ہو چکے تھے۔ اس دوران نورین نے شیدے کے ساتھ اپنی مرضی کی زندگی گزاری۔ محلے والے اس سے نفرت کرنے لگے، مگر کسی کے پاس ٹھوس ثبوت نہ تھا کہ اصغر کو اطلاع دیتے۔ ایک دن نورین ایک حکیم کے پاس گئی۔ شیدا بھی ساتھ تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو میاں بیوی ظاہر کیا اور اولاد نہ ہونے کا بہانہ کر کے دوا مانگی۔ حکیم کو ان پر شک ہوا۔ بعد میں تحقیق کرنے پر اسے معلوم ہوا کہ نورین شادی شدہ ہے اور اس کا شوہر بیرونِ ملک ہے۔ حکیم نے کسی طرح اصغر کا پتا حاصل کیا اور اسے خط لکھ دیا۔

خط ملتے ہی اصغر شدید صدمے میں آ گیا اور فوراً وطن واپس آ گیا۔ اس نے آ کر حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ وہ سیدھا حکیم کے پاس پہنچا، انہوں نے اسے اپنے پاس روک لیا اور کہا: “آج شام آٹھ بجے وہ عورت اپنے ساتھی کے ہمراہ مجھ سے دوا لینے آئے گی۔ تم اس سے یہاں ملاقات کر لینا۔” اس شام نورین شیدے کے ہمراہ حکیم کے مطب میں دوا لینے آگئی۔ پردے کے پیچھے اصغر موجود تھا۔ حکیم نے نورین سے کچھ ذاتی سوالات کیے۔ انہوں نے اصغر سے وعدہ لیا تھا کہ تم اپنے جذبات پر قابو رکھو گے اور میرے مطب میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرو گے جس سے مجھ کو تکلیف پہنچے یا نقصان ہو۔ لہٰذا اصغر نے ضبط و تحمل سے تمام باتیں پردے کے پیچھے سنیں اور جب نورین دوا لے کر شیدے کے ساتھ مطب سے نکلی تو اصغر بھی تعاقب میں تھا۔

جونہی وہ دونوں گھر پہنچے تو شیدے نے نورین سے کہا: “آج مجھے کچھ کام ہے، میں کل آؤں گا۔” یہ کہہ کر وہ دروازے سے ہی رخصت ہوا اور نورین گھر کے اندر چلی گئی۔ اس کے پیچھے ہی اصغر بھی گھر میں داخل ہو گیا۔ ابھی وہ برقعہ اتارنے بھی نہیں پائی تھی کہ اصغر نے دوپٹے سے کس کر اس کا منہ باندھ دیا، پھر صحن میں پڑی رسی سے اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اسٹور میں دھکیل کر بند کر دیا۔ پھر اس نے باورچی خانے سے چھری اٹھائی، اس کی دھار تیز کی اور اسٹور میں پڑی بے بس نورین کے گلے پر پھیر کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یوں غصہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اسٹور کا دروازہ بند کر کے وہ غسل خانے چلا گیا، جہاں نہا دھو کر کپڑے تبدیل کیے اور رات کے اندھیرے میں نکل گیا۔

صبح جب دودھ والا آیا تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اس نے بیل بجائی، مگر کوئی دودھ لینے نہیں آیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن نورین زندہ ہوتی تو جواب دیتی۔ وہ حیران و پریشان کھڑا تھا کہ اچانک نورین کی ماں آ گئی۔ وہ کبھی کبھی صبح تڑکے بیٹی کے پاس آیا کرتی تھی کیونکہ اس کے بعد اسے گھروں میں کام کے لیے جانا ہوتا تھا۔ جونہی اس نے صحن میں قدم رکھا، اسے بیٹی کہیں نظر نہ آئی۔ گھر میں موت کا سکوت طاری تھا۔ نجانے کیوں اس کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ سوچنے لگی: “سو بار اس لڑکی سے کہا ہے کہ اکیلی نہ رہ، میرے پاس چلی آ، لیکن یہ نہیں مانتی۔” ایسا سوچتے ہوئے وہ برآمدے سے کمروں میں گئی، وہاں بھی کوئی نہ تھا، تب وہ اسے پکارنے لگی۔ اسے خیال ہوا کہ شاید چائے بنا رہی ہو۔ باورچی خانے کا دروازہ بند تھا اور باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ غسل خانے وغیرہ کے دروازے بھی کھلے ہوئے تھے، اب اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ پھر وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔ ہانپتی کانپتی وہ واپس اتری اور دوبارہ کمرے میں گئی۔ دفعتاً اس کی نظر فرش پر پھیلی ہوئی خون کی لکیروں پر پڑی۔ ان لکیروں کا تعاقب کرتے ہوئے وہ اسٹور کے دروازے تک پہنچی اور پھر چیختی ہوئی باہر نکل گئی اور گلی میں دھاڑیں مارنے لگی۔

لوگ اکٹھے ہو گئے، وہ کانپتے ہاتھوں سے اندر اشارہ کر رہی تھی۔ لوگ اندر پہنچے اور پھر ان کو نورین کی خون میں لت پت لاش ملی، جس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور منہ بھی دوپٹے سے کس کر باندھا گیا تھا۔ سب کو اطلاع ہو گئی کہ نورین قتل ہو گئی ہے۔ پھر پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے ساتھ دو تین دن تک خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہیں؛ وجہِ قتل اور شیدے سے تنہائی اور غلط تعلقات کے افسانے منظرِ عام پر آ گئے۔ شیدے کو بھی پولیس نے گرفتار کر لیا اور قتل کا شبہ اس پر کیا گیا، لیکن اصل قاتل کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا تھا کیونکہ نورین کا شوہر تو لوگوں کی نظر میں ابھی تک دیارِ غیر میں تھا۔ یہ حقیقت تو صرف حکیم صاحب ہی جانتے تھے کہ اصل قاتل شیدا نہیں بلکہ اس کا جیون ساتھی ہے، جو اس کے لیے کمانے اور محنت مشقت کے ذریعے دولت اکٹھی کرنے گیا ہوا تھا تاکہ نورین کے لیے نیا مکان اور پرآسائش زندگی مہیا کر سکے۔

اب سوچتی ہوں کہ نورین کی شخصیت میں کوئی کمی یا خلل ضرور تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کیوں ندا سے عمران کو جدا کرتی؟ شاید ندا اور عمران کی آہ تھی جس نے اسے ایسے انجام سے دوچار کیا۔ آج بھی دیارِ غیر جا کر کمانے والے مرد، جو خوشیوں کی تلاش میں پردیس ہو رہتے ہیں تاکہ ان کے بیوی بچوں کا معیارِ زندگی بلند ہو، وہاں سخت محنت تو کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ عورتیں شوہر کی جدائی برداشت نہ کرتے ہوئے بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہیں اور ان کے آباد گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ تبھی تو کہتے ہیں کہ باہر کی ساری سے، گھر کی آدھی روٹی بھلی۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ