رنگین تتلی

Urdu Stories
 
 نصرت آنٹی، زونی کے ساتھ ہمارے محلے میں منتقل ہوئی تھیں۔ طرح دار، چرب زبان، نک سک سے درست، بہت خوش اخلاق اور دوسروں کا دل موہ لینے والی یہ خاتون جلد ہی ہمارے محلے میں گھل مل گئی تھیں۔ ماں کے برعکس زونی، جس کا اصل نام زبیدہ تھا، ایک سہمی ہوئی چڑیا کی مانند دکھائی دیتی تھی۔ سرخ و سفید شہابی رنگت، سونے جیسے بھورے بال، بڑی بڑی آنکھیں، ستواں ناک، گلاب کی پنکھڑی جیسے سرخ ہونٹ، لمبا نکلتا ہوا قد؛ نرم و نازک اور گھبرائی گھبرائی سی زونی خوبصورتی اور معصومیت کے ساتھ قدرت کا منہ بولتا انمول نمونہ تھی۔ میں نے بہت کم اتنی حسین لڑکیاں دیکھی تھیں۔ وہ بولتی تو لگتا منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ چال سبک، ادا ایسی کہ اس کے نازک سے سراپا کو قیامت خیز بنا جاتی تھی۔ جب کبھی وہ مسکراتی، سیپ میں موتیوں کی طرح اس کے دانت جھلکتے تھے؛ غرض یہ کہ ایک بار اس کی طرف دیکھ کر نظریں ہٹانے کو جی نہ چاہتا تھا۔

اس بیان میں، میں کچھ جذباتی اور کچھ شاعرانہ مزاج ہوگئی ہوں، مگر یہ سچ ہے۔ نصرت آنٹی کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر ایک اعلیٰ افسر تھے، ہارٹ اٹیک سے ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ ایک بیٹا تھا، جو اپنی بیوی کے ساتھ کینیڈا میں رہتا تھا اور ماں بیٹی یہاں پاکستان میں تھیں۔ اب معلوم نہیں یہ باتیں درست تھیں یا نہیں، کیونکہ زونی کے منہ سے نہ تو کبھی اس کے باپ کا تذکرہ سنا تھا اور نہ ہی بھائی بھاوج کا۔ ویسے بھی وہ جب آتی، نصرت آنٹی سائے کی طرح اس کے ساتھ ہوتیں اور جب بھی زونی کوئی بات کرتی، تو ان کی کڑی نگاہوں کی زد میں ہوتی تھی۔ جب کبھی زونی اکیلی میری طرف آتی، تو نصرت آنٹی کسی نہ کسی بہانے اسے لے کر واپس چلی جاتیں۔

ان لوگوں کو آئے ہوئے تقریباً مہینہ ہونے والا تھا کہ ایک روز وہ زونی کی سالگرہ کا دعوت نامہ لے کر آئیں۔ یہ اس کی سولہویں سالگرہ کی تقریب تھی۔ محلے کے اور لوگ بھی مدعو تھے۔ وقتِ مقررہ پر ان کے گھر پہنچے، تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہر طرف رنگ و نور کا سیلاب تھا، برقی قمقمے جل بجھ رہے تھے اور مہمان خواتین ریشمی کامدار مہنگے ملبوسات اور زیورات سے لدی ہوئی تھیں۔ مرد بھی قیمتی پوشاک میں تھے۔ آنٹی قیمتی مہرون رنگ کی کامدار ساڑھی میں ملبوس ادھر سے ادھر اڑی پھر رہی تھیں، جبکہ زونی نے سفید براق لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے، مگر چہرہ ہر قسم کے بناؤ سنگھار سے عاری تھا۔ یوں لگتا تھا کوئی حور آسمان سے اس دھرتی پر اتر آئی ہو۔ کیک کاٹنے کے بعد کھانا شروع ہوا، تو سارا محلہ یہی کہہ رہا تھا کہ یہ تو کسی کے ولیمے کی دعوت ہے۔ کھانے کے بعد رقص و موسیقی کا پروگرام تھا۔ ہم تو تھوڑی دیر بعد آگئے تھے، مگر اگلے دن سنا کہ رات گئے تک محفل جمی رہی تھی اور مہمانوں کے قہقہے آسمان کو چھو رہے تھے۔

میری اور زونی کی ملاقات جمعہ کے روز ہوا کرتی تھی، کیونکہ صبح میں ہسپتال جاتی اور شام کو میرا کلینک ہوتا تھا۔ زونی مجھے آپا کہہ کر مخاطب کرتی تھی۔ وہ ہر جمعہ کو یہی کہتی کہ آپ سے ملنے کے لیے مجھے پورا ہفتہ انتظار میں کاٹنا پڑتا ہے۔ اس نے پوچھا کہ اگر میں برا نہ مانوں تو وہ کبھی کبھی میرے کلینک آجایا کرے؟ میں نے اس کی اس پیشکش کو خوش دلی سے قبول کر لیا، تو گویا اسے خزانہ ہاتھ آگیا۔ اکثر مجھ سے کہتی کہ اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ رہے کیونکہ کالج سے واپسی کے بعد وہ گھر میں بند ہوتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی ماں کبھی کسی انکل کے ساتھ پارٹی پر گئی ہوتی، کبھی شاپنگ، کبھی کسی انکل کے ساتھ فلم دیکھتی تو کبھی کوئی انکل ان سے ملنے آیا ہوتا تھا، جس وجہ سے زونی خاصی بیزاری محسوس کرتی تھی۔ ماں کے پاس بیٹی کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا تھا اور وہ تنہائی سے گھبرا کر میرے پاس آجاتی تھی۔

میں کبھی کبھار اسے آئس کریم کھلانے لے جاتی یا کبھی کلینک سے واپسی پر چائنیز ریسٹورنٹ لے جاتی۔ اس کی پسند کا کوئی ہیئر بینڈ لے دیتی یا کبھی کانچ کی چوڑیاں، وہ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے پھولے نہ سماتی تھی۔ یوں زونی کی اور میری دوستی ہوگئی۔ آنٹی بھی مجھے بڑا عزیز رکھتی تھیں۔ ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے ان کا اور ان کی کسی خاص سہیلی کا علاج فوری ہو جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ زونی کی مجھ سے دوستی کے باعث اس نے ماں کا پیچھا چھوڑ دیا تھا۔

وقت تیزی سے گزر رہا تھا کہ ایک صبح زونی بکھرے بالوں اور اجڑی صورت لیے میرے پاس آئی اور گلے لگ کر زار و قطار رونے لگی۔ میں اس وقت ہسپتال جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ زونی کی یہ حالت دیکھ کر ایک دم گھبرا گئی اور پوچھا کہ سب خیریت تو ہے نا! اس نے مجھے ایسی بات بتائی کہ میرے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ زونی نے بتایا کہ رات نصرت آنٹی کسی انکل کے ساتھ کہیں مہندی کی تقریب میں گئی تھیں کہ انہی انکل کا بیٹا زونی کو لینے آگیا۔ اس نے معذرت کرلی، تو اس نے کہا کہ چائے پلوا دیں۔ چائے پینے کے دوران اس طاہر نامی نوجوان نے کچھ ایسی لچھے دار باتیں کیں کہ زونی پر اس کی باتوں کا جادو چل گیا، یوں رات کی سیاہی اس کے اجلے تن کو داغدار کر گئی۔ میں نے آنٹی کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ تو اس نے بتایا کہ وہ تمام رات نہیں آئیں اور ابھی تک ان کا کچھ پتا نہیں ہے۔

میں نے فوری طور پر اپنے ہسپتال نہ آنے کی اطلاع دی اور زونی کو حوصلہ دیتی رہی۔ اس کا منہ ہاتھ دھلوایا، ناشتہ کروایا اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ تھوڑی دیر تک وہ روتی رہی، پھر کچھ دیر بعد سو گئی۔ میری والدہ نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی ہے؟ میں بات ٹال گئی اور کہا کہ زونی کی طبیعت خراب ہے اور آنٹی کہیں گئی ہوئی ہیں، اس لیے یہ میرے پاس آگئی ہے۔ آنٹی کا انتظار دن کے گیارہ بجے ختم ہوا، جب وہ بیٹی کو لینے آئیں۔ میں نے کہا کہ آپ گھر چلیں، میں زونی کو لے کر آتی ہوں۔

آنٹی نے جب اپنی لڑکی کی شکستہ حالی دیکھی اور خلافِ معمول مجھے بھی خاموش پایا، تو ٹھٹھک گئیں۔ پوچھا کہ کیا بات ہے؟ میں نے نہایت مناسب لفظوں میں زونی کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بارے میں انہیں اطلاع دی۔ پہلے تو وہ سناٹے میں آگئیں، پھر بیٹی کو مارنے لگیں۔ وہ اس بیچاری کو بے بھاؤ کی سنا رہی تھیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ “میں نے کتنا تجھے سنبھال کر رکھا اور تو نے میری محنت پر پانی پھیر دیا”۔ ان کے اس جملے پر میں چونک سی گئی۔ لڑکی بیچاری بے تحاشا روئے جا رہی تھی، تب ہی آنٹی کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا، پھر جلدی سے زونی کو گلے لگا کر رونے لگیں اور خود کو کوسنا شروع کر دیا۔ اس وقت میں نے آنٹی سے بڑے سخت الفاظ میں کہا کہ اس حادثے کی ذمہ دار وہ خود ہیں۔ خود کو بیوہ کہتی ہیں اور بناؤ سنگھار میں کسی نئی نویلی دلہن سے آگے ہیں؛ یہ سب ان کی لاپروائی اور بے توجہی کا نتیجہ ہے۔ میں نے انہیں یہ مشورہ بھی دیا کہ طاہر کے باپ سے بات کریں اور اس بات کو زیادہ ہوا نہ دیں، کیونکہ ابھی کسی کو کچھ علم نہیں ہے، ورنہ جتنے منہ ہوں گی، اتنی باتیں بنیں گی۔ جلد از جلد طاہر سے زونی کی شادی کروا دیں، اسی میں ان کی اور ان کی بیٹی کی عافیت ہے اور عزت بھی۔

مجھے نہیں معلوم کہ آنٹی پر میری باتوں کا کیا اثر ہوا اور انہوں نے کیا فیصلہ کیا۔ شب و روز گزرتے چلے گئے، تقریباً دو ماہ بعد جب میں ایک رات اپنے کلینک سے واپسی پر پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے گیٹ بند کرنے والی تھی، تو کسی نے مجھے “آپا” کہہ کر آواز دی۔ آواز زونی جیسی لگتی تھی، میں نے گیٹ کے اوپر سے جھانک کر دیکھا تو ایک جانی پہچانی سی شکل نظر آئی۔ باہر ایک الٹرا ماڈرن لڑکی کھڑی مسکرا مسکرا کر مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس کے شانوں تک کٹے ہوئے بال اس کے چمپئی رخساروں کو چھو رہے تھے۔ اس نے نہایت تنگ لباس پہن رکھا تھا۔ مجھے اپنی طرف انجان نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ بولی: “آپا! آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟ میں آپ کی زونی ہوں”۔

جو دھند میرے ذہن پر چھائی ہوئی تھی، یکدم چھٹ گئی اور تصویر واضح ہوگئی۔ یقیناً وہ زونی ہی تھی، مگر اس حلیے میں! میں حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے لگی کہ کہاں وہ حوروں جیسی پاکیزہ زونی اور کہاں یہ نہایت لچر نظر آنے والی آوارہ سی لڑکی۔ کیا واقعی یہ زونی ہی تھی؟ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ تب وہ دوبارہ گویا ہوئی کہ کیا میں اسے اندر نہیں بلاؤں گی؟ میں نے اسے اندر آنے کو کہا تو وہ بولی: “نہیں، لان میں بیٹھتے ہیں”۔

سلام دعا کے بعد میں نے اس کے بیہودہ حلیے کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے بتانا شروع کیا کہ نصرت آنٹی کے طاہر سے شادی نہ کرنے کے مسلسل انکار اور میری سرد مہری کو دیکھتے ہوئے اس نے طاہر سے کہا تھا کہ وہ اس سے نکاح کر لے، کیونکہ اب وہ کہیں کی نہیں رہی ہے۔ یوں دو دوستوں کی موجودگی میں طاہر نے نکاح کر لیا اور کرائے کا فلیٹ لے کر اس میں رہنے لگے۔ وہاں روزانہ طاہر کے چار پانچ دوست آتے، کھانا پینا اور ہلا گلا ہوتا اور وہ چلے جاتے۔ اسی طرح ہفتہ دس دن پر لگا کر کسی سہانے خواب کی طرح غائب ہوگئے۔ اب طاہر نے اپنا اصل رنگ دکھانا شروع کیا۔ یوں وہ روز اس کے دوستوں کے ہاتھوں کھلونا بننے پر مجبور ہوگئی۔ اب نہ تو نصرت آنٹی کے پاس واپس جا سکتی تھی اور نہ ہی طاہر کی قید سے بھاگ سکتی تھی۔ پھر طاہر اور اس کے پانچ بدمعاش دوست اسی فلیٹ میں رہنے لگے۔ فلیٹ بھی ایک غیر آباد علاقے میں تھا اور بلڈنگ تقریباً خالی تھی۔ یوں یہ ننھی معصوم چڑیا ان چھ خطرناک شکروں کے درمیان پھنس گئی۔
اسی طرح ایک ماہ کا عرصہ بیت گیا، اس دوران طاہر کی ماں نے اس کا رشتہ کسی کروڑ پتی کی بیٹی سے کر دیا۔ زونی نے کہا کہ اب تو مجھے آزاد کر دو، مگر وہ اور اس کے ساتھی زونی کو آزاد کرنے پر تیار نہ ہوئے۔ وہ بہت روئی، گڑگڑائی، مگر طاہر ایک ظالم جلاد کی طرح بے حس پتھر بنا رہا۔ یوں کئی راتیں اس نے رو رو کر گزار دیں۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو آخر کار پھول جیسی نرم و نازک عورت نے چٹان کی طرح سخت بننے کا عزم کر لیا۔ وہ جو شرم و حیا کا پیکر تھی، یکدم ہی بے حیائی پر اتر آئی۔ وہ سیدھی طاہر کے گھر پہنچی اور اس کے ماں باپ سے کہا کہ ان کا بیٹا تو اسے برباد کر ہی چکا ہے، مگر اب وہ ان کے پورے گھرانے کو میڈیا کے ذریعے رسوا کرے گی۔ انہوں نے کہا: “تم پریس والوں کو بتاؤ گی تو ہمارا کیا جائے گا، تم ہی بدنام ہو جاؤ گی”۔ زونی نے جواب دیا: “مجھے پروا نہیں، مگر تم لوگوں اور تم جیسے ‘بڑے باپوں’ کی بگڑی اولادوں کو پتا چلے گا کہ کس طرح کسی کی آبرو سے کھیلا جاتا ہے”۔

طاہر کا باپ کاروباری دنیا میں اچھی ساکھ رکھنے والا آدمی تھا اور خاصا مشہور بھی تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر زونی چاہے تو کچھ دے دلا کر معاملہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ تب زونی کو احساس ہوا کہ نصرت آنٹی نے ایک روز اسے “سادہ چیک” (Blank Cheque) کیوں کہا تھا۔ سو اس نے پچاس لاکھ روپے طلب کیے۔ طاہر کے باپ نے بیٹے کے باقی ساتھیوں کے والدین کو زونی کی دھمکی سنائی اور کہا کہ یہ رقم جمع کر کے زونی کو دے دو، ورنہ وہ میڈیا پر آکر سب کا جلوس نکال دے گی اور ان کی عزت خاک میں مل جانے کے ساتھ ساتھ انہیں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑے گی۔ یوں زونی نے چیک کیش کروا لیا اور ڈیڑھ ماہ بعد طلاق لے کر نصرت آنٹی کے گھر آگئی۔
اس کے واپس آنے سے آنٹی بڑی خوش ہوئیں اور زونی کو خوب پیار کیا۔ آنٹی اس بات پر تو خوش تھیں کہ ان کی بیٹی لوٹ آئی ہے، مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر تھیں کہ وہ اب معصوم نہیں رہی تھی بلکہ ایک خونخوار زخمی شیرنی بن گئی تھی۔ اس کی شخصیت کے دو روپ ہو چکے تھے۔ ماں کے سامنے وہ اب بھی وہی ڈری سہمی چڑیا بنی رہتی اور ان کے جاتے ہی ایک خطرناک عورت میں بدل جاتی؛ اس نے دنیا سے بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اُدھر نصرت آنٹی ان تمام باتوں سے بے خبر اپنی ہی دنیا میں مگن تھیں۔ وہ زونی کو سہمی ہوئی چڑیا سمجھ رہی تھیں، جبکہ وہ اس علاقے میں ایک “رنگین تتلی” کے نام سے مشہور ہو چکی تھی۔ اس قسم کی باتیں میرے کانوں میں بھی پڑ رہی تھیں، مگر میں ان باتوں کو دانستہ یا نادانستہ ماننے کو تیار نہ تھی، پھر بھی میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ بغیر چنگاری کے دھواں نہیں اٹھتا اور جہاں رائی ہوتی ہے وہیں پہاڑ بنتا ہے۔

بہر حال ایک روز میں اپنے کلینک سے جلد فارغ ہو کر واپسی کے لیے باہر آئی، تو دیکھا کہ زونی میرا انتظار کر رہی تھی۔ وہ مجھے کچھ افسردہ سی دکھائی دی۔ میں نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھول دیا اور اسے حسبِ عادت چائنیز ریستوران لے گئی۔ اس کی پسند کا مینو آرڈر کرنے کے بعد میں نے پوچھا کہ “آج کل کیا چکر چل رہا ہے؟ یہ کس قسم کی باتیں گردش کر رہی ہیں؟” میرے سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ اس کو تباہ کرنے میں ایک مرد کا ہاتھ تھا اور موقع اس کی اپنی ماں کا فراہم کردہ تھا۔ نہ وہ اپنی رنگین دنیا میں کھوئی رہتیں، نہ ہی اس کے ساتھ اس قسم کا بھیانک ماضی نتھی ہوتا۔ اس لیے اب وہ ہر اس عورت کو، جو کسی مرد کے ساتھ ازدواجی بندھن میں منسلک اور خوش ہو، تباہ کر دینا چاہتی ہے کیونکہ اس کی اپنی تباہی کے ذمہ دار بھی ایک عورت اور ایک مرد ہی تھے۔میں زونی کے خیالات سن کر کانپ گئی۔ اس کی معصوم سوچیں کیسے جوالا مکھی بن گئی تھیں اور کتنے عزم سے اس نے کہا تھا کہ جب تک وہ زندہ رہے گی، یہ کھیل کھیلتی رہے گی۔ زونی کی تمام باتیں نہایت خطرناک تھیں اور کسی بڑے طوفان کی آمد کی اطلاع دے رہی تھیں۔ اس کی باتیں سن کر میرے دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے، چھریاں سی چل رہی تھیں اور میں سوچتی تھی کہ کیونکر اس منہ زور سیلابِ بلا کا رخ موڑا جائے، جو ہر طرف تباہی پھیلانے کے درپے ہے۔ وہ کہہ رہی تھی: “آپا مجھے معاف کر دیجیے گا۔ میں جس آگ میں جل رہی ہوں، اسے میں ہی جانتی ہوں۔ کیا خبر یہ آگ مجھے بھسم ہی کر ڈالے اور میرا انجام کیا ہو؟ بس میرے لیے دعا کیجیے گا”۔

یہ زونی اور میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد میں نے سنا کہ نصرت آنٹی گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں نے اخبار میں پڑھا کہ زونی نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے، پھر میں نے کئی رسالوں میں اس کی بڑی بے باک تصاویر دیکھیں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ