فرحانہ یہ سب باتیں سن
کر کانپ اٹھی، چہرہ فق ہو گیا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ دل دھک
دھک کرنے لگا، وہ سکتے کے عالم میں کچھ دیر کھڑی رہی، پھر جا کر پلنگ پر
اوندھے منہ گر گئی۔ کیونکہ یہ راز اب کھل گیا تھا کہ اس کا شوہر منیجر صاحب کی سالی فرخندہ کے دامِ الفت کا اسیر ہو چکا تھا۔ دو دو راتیں گھر سے باہر گزارتا اور وہ اس کے شوہر کے ہوش و حواس پر چھا چکی تھی۔ وہ بلا کی حسین و چالاک لڑکی تھی۔
👇👇
دن خوشگوار تھے اور راتیں پرکیف۔ چاندنی چٹکی ہوتی تو دونوں بے تاب ہو کر گھر سے نکل پڑتے، کسی گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر میٹھی میٹھی باتیں کرتے۔ محبت کے دو متوالے ایک دوسرے کے لیے زندگی کا جزو بن کر رہ گئے تھے، مگر تقدیر کے منصوبے کچھ اور ہی تھے۔ ان کی مسرت بھری ازدواجی زندگی جلد ختم ہو جانے والی تھی۔ رفتہ رفتہ اظفر کی دلچسپیاں کچھ کم ہوتی نظر آئیں، وہ پہلی سی بات ہی نہ رہی۔ اگرچہ اس کی محبت میں کچھ فرق نہ آیا تھا، لیکن وہ اکثر کھویا کھویا سا رہتا، کھل کر کوئی بات نہ کرتا۔ کبھی باتیں کرتے کرتے ایک دم اداس نظر آنے لگتا۔ فرحانہ یہ تبدیلی محسوس کر رہی تھی۔
ایک ہفتے سے تو اس کا یہ معمول تھا کہ آفس سے سیدھا گھر آنے کی بجائے دس بجے واپس لوٹتا۔ کئی مرتبہ دریافت کرنے پر صرف اتنا بتایا کہ شام سے ہی گھر میں بیٹھنا پڑتا ہے، اس لیے دوست کے گھر چلا جاتا ہوں۔ یہ جواب وہ محبت آمیز لہجے میں دیتا تاکہ فرحانہ کو تسلی ہو جائے۔ اگر وہ اعتراض کرتی کہ تنہائی میں دل گھبرانے لگتا ہے، تو آئندہ جلد آنے کا وعدہ کر کے کچھ چپ سا نظر آنے لگتا اور اس حالت میں گہری سوچ میں ڈوب جاتا۔ اس کی حالت دیکھ کر فرحانہ دل میں نادم ہوتی کہ خواہ مخواہ بے جا اعتراض کر کے اسے ناخوش کیا۔ آئندہ ایسا نہ کروں گی، لیکن آج وہ غصے سے بھری بیٹھی تھی۔ دو روز سے اظفر گھر نہیں آیا تھا۔ رات کو بھی گھر سے باہر رہا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے رات باہر گزاری تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ خدا معلوم کیا بات ہوئی ہے، کون سا ایسا کام پڑ گیا ہے، جو وہ باہر رہنے کے لیے مجبور ہو گیا۔ وہ دل ہی دل میں یہ باتیں سوچ رہی تھی کہ سامنے سے اظفر آتا دکھائی دیا۔ فرحانہ نے اسے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا اور اپنے کمرے کی طرف چل دی۔ وہ بھی سیدھا اس کے پیچھے چلا آیا۔
“خیر تو ہے، کچھ اداس نظر آرہی ہو؟” یہ کہتے ہوئے وہ اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ “ابھی تک رات کے لباس میں ہو، شاید ناشتہ وغیرہ بھی نہیں کیا؟ چہرہ اترا ہوا، بال بکھرے ہوئے، ایسی حالت کیوں بنائی ہے؟”
“کوئی خاص بات نہیں، مجھے آپ سے صرف اتنا کہنا ہے کہ چند روز کے لیے مجھے کراچی جانا ہے۔”
“کیوں؟ کوئی ضروری کام ہے؟ ابھی کل ہی تو تمہاری امی جان کا خط آیا ہے، وہ سب خیریت سے ہیں۔ ویسے تمہارا جی چاہے تو دو تین روز کے لیے جا سکتی ہو۔”
“میں آج یا کل ہی جانا چاہتی ہوں اور کچھ عرصہ ٹھہروں گی۔”
اظفر خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گیا، پھر کچھ وقفے کے بعد بولا، “فرحانہ، یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ میں نے ہمیشہ تمہاری خوشی کو مقدم سمجھا اور آئندہ بھی تمہیں ہر طرح خوش دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن ذرا یہ تو سوچو کہ تمہاری غیر موجودگی میں میرا وقت کاٹے نہیں کٹے گا۔ گھر ویران دکھائی دے گا، دل ہر وقت اچاٹ رہے گا۔ اس کا اندازہ تمہیں پچھلی دفعہ جانے سے ہو گیا تھا کہ میں نے کس طرح تمہارے بن دن گزارے تھے۔”
یہ بات سن کر فرحانہ غصے سے جل اٹھی۔ “آپ کی یہ باتیں بے کار ہیں۔ وہ پہلی سی تو بات ہی نہیں رہی۔ میری موجودگی یا غیر موجودگی آپ کے لیے یکساں ہے۔”
“تمہیں خواہ مخواہ بد گمان نہیں ہونا چاہیے۔ خدا گواہ ہے، میری دلی تمنا ہے کہ تمام عمر تمہیں خوش رکھوں۔” مگر اس نے آج بیوی کے سامنے صریحاً جھوٹ بولا تھا۔
آخر ایک روز سب بات ظاہر ہو گئی۔ فرحانہ کی سہیلی رشیدہ نے کئی دنوں کی چھان بین کے بعد حقیقتِ حال سے اسے آگاہ کیا۔ اظفر، منیجر صاحب کی سالی فرخندہ کے دامِ الفت کے اسیر ہو چکے تھے۔ ہر دوسرے تیسرے روز وہ منیجر صاحب کے ہاں مدعو ہوتے۔ تمام رات راگ و رنگ کی محفل گرم ہوتی، کبھی پکنک کا پروگرام مرتب کر لیتے، تمام وقت عیش و عشرت میں بسر ہوتا، فرخندہ ان سب باتوں میں پیش پیش ہوتی۔ اسی طرح وہ اظفر کے ہوش و حواس پر چھا چکی تھی۔ وہ بلا کی حسین و چالاک لڑکی تھی۔ چچا زاد سے نسبت ہو کر چھوٹ چکی تھی، جو ایک سرکاری آفیسر تھا۔ وہ اب کسی نئے شکار کی تلاش میں تھی اور اس کی نظرِ انتخاب اظفر پر پڑی، جو اس کی ایک ایک ادا پر نثار تھا۔
فرحانہ یہ سب باتیں سن کر کانپ اٹھی، چہرہ فق ہو گیا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ دل دھک دھک کرنے لگا، وہ سکتے کے عالم میں کچھ دیر کھڑی رہی، پھر جا کر پلنگ پر اوندھے منہ گر گئی۔ “خدایا! یہ کتنے بے وفا نکلے، ہر مرتبہ دریافت کرنے پر مجھے کتنے بھولے پن اور پیار بھرے لہجے میں ٹال دیتے ہیں، گویا کوئی بات ہی نہیں۔ اب تک میں کتنی بے وقوف بنتی رہی۔ انہیں کس قدر شریف الطبع اور وفا شعار خیال کرتی رہی، آنکھیں بند کیے ان کی جھوٹی محبت پر اعتبار کرتی رہی۔ بظاہر میری ہر خواہش کا احترام، میری ہر ضرورت کا خیال، میرے جذبات کا احساس۔۔۔ کیا یہ سب دھوکا تھا، فریب تھا؟ آخر میں نے کیا بگاڑا تھا، جو مجھ پر یہ ستم کیا۔ بیوی کے ہوتے ہوئے ایک غیر عورت میں دلچسپ لی!”
وہ پیچ و تاب کھا رہی تھی، غصہ لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہا تھا۔ چہرہ غضب ناک ہو رہا تھا، آنکھیں سرخ تھیں۔ کسی خیال کے آتے ہی ہونٹ چبا کر رہ جاتی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ میں انتقام لیے بغیر دم نہ لوں گی۔ وہ مجھے برباد کرنا چاہتے ہیں، میں انہیں تباہ کروں گی۔ انہوں نے مجھے ٹھکرایا، میرے جذبات و احساسات کا خون کیا ہے، میں ان کی خوشیاں پامال کروں گی۔ تمام عمر کے لیے بے کار، ناکارہ بنا دوں گی، میٹھی چھری بن کر بدلہ لوں گی۔ آتشِ انتقام اس کی نس نس میں بھڑک اٹھی تھی۔ خون کھول رہا تھا، وہ غصے سے دیوانی ہو رہی تھی۔ ایک خطرناک ارادہ، ایک بھیانک تجویز اس کے دماغ میں آ رہی تھی کہ اچانک اظفر کمرے میں داخل ہوا اور قریب ہی پلنگ پر بیٹھ گیا۔
“کیا بات ہے، طبیعت تو ٹھیک ہے؟” اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ خاموش رہی، پھر دوبارہ پوچھنے پر نگاہ اٹھائی، تو آنکھوں نے وہی پہلا سا اظفر دیکھا، وہی خوبصورت چہرہ، وہی ملائمت بھری آنکھیں، جو اسے محبت سے دیکھ رہی تھیں، وہی ہونٹ جن پر نامعلوم سی مسکراہٹ ہر وقت کھیلتی تھی۔ فرحانہ کا غصہ ایک لمحے کے لیے سرد پڑ گیا۔ انتقام لینے کی تمام تجویزیں دماغ سے نکل گئیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
اس کی یہ حالت دیکھتے ہی اظفر کا رنگ اڑ گیا۔ وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے کہنے لگا، “غمگین و پریشان کیوں ہو؟ میں شرمندہ ہوں اپنی غلطی پر، میری وجہ سے اکثر تمہیں رنجیدہ رہنا پڑتا ہے۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دو، کل صرف اس لیے گھر نہیں آ سکا کہ ایک پرانا دوست مل گیا تھا۔ مدت بعد ملے تھے، باتیں کرتے کرتے زیادہ رات ہو گئی، تو اس نے وہیں ٹھہرا لیا۔ مجھے سخت افسوس ہے۔ آئندہ میں تمہیں شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔”
تبھی جوشِ غضب سے فرحانہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور ایسی طنزیہ اور تیز نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا کہ اظفر کو نظریں جھکانی پڑیں۔ “مجھے سب باتوں کا علم ہو گیا ہے۔ اب میں کسی صورت بھی آپ کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں۔ میں آپ سے علیحدگی چاہتی ہوں تاکہ آپ اور فرخندہ کے درمیان رکاوٹ نہ بن سکوں۔”
تمام رات اس بحث مباحثے میں گزری۔ اظفر نے حتی المقدور کوشش کی کہ کسی طرح معاملہ رفع دفع ہو جائے، لیکن چونکہ فرحانہ کو معتبر ذریعے سے تمام علم ہو چکا تھا، اس لیے شوہر کی کوئی بات بھی اس کی طبیعت کے میل کو نہ دھو سکی۔ دوسرے روز وہ شکستہ دل اور روتی آنکھوں کے ساتھ میکے چلی گئی۔ چھ بجے شام جب اظفر آیا، تو برآمدے میں نوکر سو رہا تھا۔ اس نے سیدھا کمرے کا رخ کیا۔ کمرہ خالی تھا، وہ ٹھٹک کر وہیں کھڑا ہو گیا، میز پر رقعہ پڑا تھا، جس پر لکھا تھا: “اس گھر کو چھوڑتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، لیکن میں جا رہی ہوں تاکہ آپ کی خوشیوں میں حائل نہ ہو سکوں۔ میری بربادی ہی آپ کی نئی دنیا آباد کر سکتی ہے، اس لیے آپ سے علیحدہ ہونا بہتر سمجھا۔”
اظفر کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ اس کی دنیا اندھیر ہو گئی، در و دیوار کاٹنے کو دوڑتے تھے، نظروں کے سامنے بیوی کا اداس چہرہ جم گیا۔ دماغ میں وہی صورت تھی جب وہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے۔ شوہر کے اتنے بھاری قصور پر کتنے ضبط سے کام لیا، ایک بھی سخت لفظ منہ سے نہیں نکالا۔ سخت غصے کی حالت میں بھی اپنے اوپر قابو رکھا، دل کی بھڑاس آنکھوں کے رستے نکالی، لیکن زبان سے اف تک نہیں کی۔ کتنے دن اس کی بے اعتنائی صبر سے برداشت کرتی رہی، تمام دن اس کے آنے کے لیے آنکھیں فرشِ راہ رکھتی، راتیں انتظار میں بیٹھ کر گزار دیتی، لیکن حرفِ شکایت زبان پر نہ لاتی۔ آخر کار تمام بھید کھل جانے پر کیسی خاموشی سے اس کے راستے سے ہٹ گئی۔ ان حالات میں اظفر بے تاب و بے قرار ہو رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ پر لگا کر بیوی کے پاس چلا جائے، لیکن کیا منہ لے کر جاتا؟ شدتِ غم سے وہ نڈھال ہو رہا تھا۔
ایک ہفتہ گزر گیا، فرحانہ کی کوئی خیر خبر نہ ملی۔ دفتر سے آکر اظفر دروازہ بند کیے پڑا رہتا۔ کھانا پینا چھوٹ چکا تھا۔ ایک ٹیس سی سینے میں اٹھتی اور وہ بے قابو ہو جاتا۔ زندہ دل اور ہنستا ہوا اظفر غم و الم کی تصویر بن کر رہ گیا۔ آٹھ دس روز وہ منیجر صاحب کے گھر بھی نہ گیا۔ ایک روز راستے میں فرخندہ سے ملاقات ہوئی، تو وہ اسے گھر لے گئی، یوں کچھ روز بعد پھر آمد و رفت شروع ہو گئی۔ اب دونوں ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے لگے۔ گھنٹوں بیٹھے باتیں کرتے، کبھی اچانک سے اظفر اداس اور غمگین نظر آتا، تو وہ میٹھی میٹھی باتوں سے بہلا لیتی۔ تھوڑی دیر بعد پھر وہی اظفر ہوتا اور وہی فرخندہ۔ سیر و تفریح کے وقت دونوں اکٹھے رہتے، سینما اکٹھے جاتے۔ رات کو جب کبھی باتیں کرتے کرتے دیر ہو جاتی تو وہ فرخندہ کے گھر پر ہی سو رہتا۔ غرض یہ کہ کام کاج کے بعد تمام وقت دونوں کا ایک ساتھ گزرتا۔
جس وقت وہ اکیلا اپنے کمرے میں بیٹھا ہوتا، تو بارہا خیال آتا کہ فرحانہ کے پاس جائے، تہہ دل سے معافی مانگ لے اور آئندہ فرخندہ سے قطع تعلق کر لے، لیکن باہر جا کر یہ سب خیالات مٹ جاتے۔ ایک دن چھٹی کے روز اظفر منیجر صاحب کے گھر گیا، تو نوکر سے معلوم ہوا کہ گھر والے سب کہیں گئے ہوئے ہیں۔ خدا معلوم کس خیال سے جب وہ اندر گیا، تو گھر کے کسی کونے سے دھیمی دھیمی باتوں کی آواز سنائی دی۔ آگے بڑھ کر فرخندہ کے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا۔ کمرہ بند تھا۔ سوراخ سے جھانک کر دیکھا، تو صوفے پر ایک نوجوان وردی میں ملبوس فرخندہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دونوں خوب گھل مل کر باتیں کر رہے تھے۔ سرگوشیوں میں پیار و محبت کی باتیں ہو رہی تھیں۔ وہ الٹے پاؤں واپس چلا آیا۔
اب وہ زندگی سے بیزار ہو رہا تھا۔ منہ چھپا کر دنیا سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ ایسی جگہ چلا جانا چاہتا تھا جہاں وہ کسی سے واقف نہ ہو اور اسے کوئی نہ جانتا ہو۔ ایسی پرسکون و خاموش جگہ جہاں دنیا کے ہنگامے، دوستوں کی محفلیں اور عشق و محبت کی رنگینیاں بالکل نہ ہوں۔ وہ ایسا گوشۂ تنہائی چاہتا تھا جہاں وہ تا قیامت آنکھیں بند کیے بیٹھا رہے۔ ادھر فرحانہ کو بھی اظفر کی بڑھتی ہوئی محبت کی داستانیں معلوم ہو گئی تھیں۔ وہ سن کر کلیجہ تھام کر رہ جاتی، کبھی غصے میں آنکھوں سے چنگاریاں برسنے لگتیں، تو کبھی دل برداشتہ ہو کر آنسو بہنے لگتے۔ اس کا دل پاش پاش ہو چکا تھا۔ دنیا کی بے وفائی و بے ثباتی درد بن کر رگ و پے میں بس چکی تھی۔ ہر وقت ہنستی مسکراتی شوخ و شریر فرحانہ چند ہی دنوں میں تصویرِ غم بن گئی۔ اس کی پر سوز آہیں دیکھنے والوں کو متاثر کیے بنا نہ رہتیں۔ اس حالت میں ایک برس گزر چکا تھا؛ زندہ درگور، مگر کسی نہ کسی طرح زندہ تھی۔
ایک روز میں باہر بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے کہا کہ اظفر آئے ہیں۔ فرحانہ کے کانوں نے سنا لیکن یقین نہ آیا۔ ایک منٹ بعد خود باہر سے آواز سنی تو چہرہ ایک دم سرخ ہو کر سفید پڑ گیا اور وہ اٹھ کر اندر چلی گئی۔ اظفر سیدھا اس کے پیچھے چلا آیا۔ پردہ اٹھا کر کمرے میں داخل ہوا تو سامنے حسرت و یاس کی تصویر نظر آئی۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی ایک برس پہلے والی فرحانہ ہے۔ سامنا ہوتے ہی دونوں کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے، کچھ دیر دونوں اسی طرح خاموش بیٹھے دل کا بوجھ ہلکا کرتے رہے، آخر اظفر نے خاموشی کو توڑا۔
“کیا حال ہے؟ بہت کمزور ہو رہی ہو۔” “اچھا ہے، جی رہی ہوں۔” فرحانہ نے تھکی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ “مجھے معاف کر دو فرحانہ! میں نے بڑی بھاری غلطی کی، جس کی کافی سزا بھگت چکا ہوں۔ اب بھول جاؤ وہ تلخیاں اور اپنے اس گناہ گار کو معاف کر دو۔” تھوڑے سے وقفے کے بعد وہ بولی، “اب وہ بات ہی نہیں رہی اظفر صاحب! وہ دل ہی نہ رہا جس میں امیدیں مہکتی تھیں، ہزاروں ارمان بے قرار تھے۔ اب میری ہستی ایک زندہ لاش ہے، جو خدا معلوم کیوں اب تک سانس لے رہی ہے؟” “خدارا! گزری ہوئی باتیں فراموش کر دو، میں اس قابل تو نہیں کہ تم سے آنکھیں چار کر سکوں، تمہیں میری وجہ سے بہت صدمے جھیلنے پڑے ہیں، پھر بھی چاہو تو میرے گناہوں کو معاف کر کے مجھے ایک دفعہ پھر زندہ رہنے کے قابل بنا سکتی ہو، ورنہ تمام عمر دل کے ناسور رستے رہیں گے اور قیامت تک سکون نصیب نہ ہو سکے گا۔”
فرحانہ کی آنکھوں سے جھڑیاں لگ گئیں، وہ اٹھ کر پلنگ پر لیٹ گئی اور کچھ دیر اسی طرح آنکھیں بند کیے پڑی رہی۔ اظفر بھی قریب ہی کرسی پر بیٹھ گیا۔ “میں زور تو نہیں دے سکتا، صرف التجا کرتا ہوں کہ میری زندگی اور موت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں امید کی آخری کرن لے کر یہاں آیا تھا۔ میری آئندہ زندگی تمہارے رحم و کرم پر ہے، اب تم سے جدا رہ کر زندہ رہنے کی گنجائش نہیں۔” “یہ وقتی جذبات ہیں اظفر صاحب! جب آپ نے میری ذات کو نظر انداز کر کے دوسری طرف توجہ دی، اس کے بعد ایک برس بھی گزر گیا، اسی طرح آج کے بعد بھی وقت گزرتا رہے گا۔ آہستہ آہستہ غم غلط ہو جائے گا۔ مجھے تو تباہ ہونا ہی تھا، آپ خوشحال زندگی گزارنے کی کوشش کریں اور سمجھ لیں کہ آپ کی زندگی میں میرا کبھی کوئی دخل ہی نہیں تھا۔” “خدا کے لیے فرحانہ! میرے حال پر رحم کرو، ورنہ میں مرنے کے بعد بھی سکون حاصل نہ کر سکوں گا۔” “میں مجبور ہوں اظفر صاحب! میں بہت شکستہ دل اور ناامید ہو چکی ہوں۔ اب کوئی چیز میری خوشی واپس نہیں لا سکتی۔”
فرحانہ ان دنوں بے حد مایوس رہتی تھی۔ وہ اکثر میرے پاس آ جاتی تھی اور میں اس کا دل بڑھایا کرتی تھی۔ وہ مردوں کے خلاف بولتی تو میں اس کے پرجوش الفاظ ٹھنڈے دل سے سنتی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ وہ اسی طرح اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتی ہے۔ اگر اسے میرا سہارا بھی نہ ہوتا تو وہ سچ مچ بیمار ہو جاتی یا خودکشی کر لیتی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی جب میں نے سنا کہ فرحانہ اپنے گھر چلی گئی ہے۔ اظفر اسے اس کی بہن شبانہ کے گھر سے منا کر لے گیا اور وہ اب اپنے گھر میں خوش و خرم ہے۔ دیر سے ہی سہی، اگر بدگمانی کے بادل چھٹ جائیں، گھر میں اجالا بھر جائے اور دو دل مطمئن ہو جائیں تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔
کافی دن سے میں اس سے نہیں مل سکی تھی کیونکہ اپنے کاموں میں مصروف رہی۔ اس روز فرحانہ کی یاد شدت سے آئی تو میں اس کے گھر جا پہنچی۔ وہ میری بچپن کی دوست تھی، خوشی ہو یا غم، وہ کوئی بات مجھ سے نہیں چھپاتی تھی۔ مجھ کو اچانک سامنے دیکھ کر خوشی سے اس کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ بہت خوش تھی۔ میں نے پوچھا، “کہو! کیا حال ہے؟ تم تو دنیا کے سارے مردوں کو بے وفا کہتی تھیں، اب کیا کہتی ہو؟” یہ سن کر وہ جھینپ سی گئی اور بولی، “اظفر پہلے کچھ عرصہ بھٹک گئے تھے، لیکن اب وہ صراطِ مستقیم پر آ گئے ہیں۔ وہ پہلے والے اظفر نہیں رہے، اب بالکل بدل گئے ہیں۔ میرا بہت خیال رکھتے ہیں، ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں، کئی بار اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ چکے ہیں اور اب روز وقت پر گھر آ جاتے ہیں۔ جب کہتی ہوں، سیر کرانے بھی لے جاتے ہیں۔” “چلو مبارک ہو، تمہیں اور کیا چاہیے۔” میں بھی خوش ہو گئی کہ اظفر سدھر گیا تھا۔ میری دوست خوش تھی، اس کا گھر آباد تھا اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ پر مسرت زندگی بسر کر رہی تھی۔
میں کئی بار فرحانہ کے گھر گئی، اس وقت جب اس کا شوہر گھر پر نہ ہوتا۔ وہ بالکل نارمل ہو چکی تھی، پھر سے شوہر کی محبت اور شرافت کے گن گانے لگی تھی اور اپنے شریکِ حیات پر مکمل اعتبار کرنے لگی تھی۔ ظاہر ہے، اعتبار ہوتا ہے تو شریکِ سفر بھی ساتھ سفر کرتا ہے اور گھر بنتا ہے۔ اگر یہ واقعہ صرف شک کی بنیاد پر ہوتا، تو میں حقیقت کو اپنی سہیلی سے چھپا کر یقیناً مجرم بنتی، لیکن ایک اور واقعہ بھی پیش آیا۔
جب میرے بھائی نے مجھے یہ بتایا، تو میں نے کہا، “تم بس چپ رہو گے بھیا! اظفر نہیں سدھرے گا۔ چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ لیکن اگر فرحانہ واقعی جذبات میں آ کر گھر سے نکل کھڑی ہوئی، تو کہاں جائے گی؟ در بدر ہی رہے گی۔”
فرحانہ کو کافی دنوں تک شوہر کی سرگرمیوں کا علم نہ ہوا کیونکہ وہ گھر کی چار دیواری سے نکلتی ہی نہ تھی۔ وہ کہتی تھی کہ شوہر کے گھر میں ہی سکون ہوتا ہے، عورت دوسری جگہ دربدر ہو جاتی ہے۔
“خیر تو ہے، کچھ اداس نظر آرہی ہو؟” یہ کہتے ہوئے وہ اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ “ابھی تک رات کے لباس میں ہو، شاید ناشتہ وغیرہ بھی نہیں کیا؟ چہرہ اترا ہوا، بال بکھرے ہوئے، ایسی حالت کیوں بنائی ہے؟”
“کوئی خاص بات نہیں، مجھے آپ سے صرف اتنا کہنا ہے کہ چند روز کے لیے مجھے کراچی جانا ہے۔”
“کیوں؟ کوئی ضروری کام ہے؟ ابھی کل ہی تو تمہاری امی جان کا خط آیا ہے، وہ سب خیریت سے ہیں۔ ویسے تمہارا جی چاہے تو دو تین روز کے لیے جا سکتی ہو۔”
“میں آج یا کل ہی جانا چاہتی ہوں اور کچھ عرصہ ٹھہروں گی۔”
اظفر خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گیا، پھر کچھ وقفے کے بعد بولا، “فرحانہ، یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ میں نے ہمیشہ تمہاری خوشی کو مقدم سمجھا اور آئندہ بھی تمہیں ہر طرح خوش دیکھنا چاہتا ہوں، لیکن ذرا یہ تو سوچو کہ تمہاری غیر موجودگی میں میرا وقت کاٹے نہیں کٹے گا۔ گھر ویران دکھائی دے گا، دل ہر وقت اچاٹ رہے گا۔ اس کا اندازہ تمہیں پچھلی دفعہ جانے سے ہو گیا تھا کہ میں نے کس طرح تمہارے بن دن گزارے تھے۔”
یہ بات سن کر فرحانہ غصے سے جل اٹھی۔ “آپ کی یہ باتیں بے کار ہیں۔ وہ پہلی سی تو بات ہی نہیں رہی۔ میری موجودگی یا غیر موجودگی آپ کے لیے یکساں ہے۔”
“تمہیں خواہ مخواہ بد گمان نہیں ہونا چاہیے۔ خدا گواہ ہے، میری دلی تمنا ہے کہ تمام عمر تمہیں خوش رکھوں۔” مگر اس نے آج بیوی کے سامنے صریحاً جھوٹ بولا تھا۔
آخر ایک روز سب بات ظاہر ہو گئی۔ فرحانہ کی سہیلی رشیدہ نے کئی دنوں کی چھان بین کے بعد حقیقتِ حال سے اسے آگاہ کیا۔ اظفر، منیجر صاحب کی سالی فرخندہ کے دامِ الفت کے اسیر ہو چکے تھے۔ ہر دوسرے تیسرے روز وہ منیجر صاحب کے ہاں مدعو ہوتے۔ تمام رات راگ و رنگ کی محفل گرم ہوتی، کبھی پکنک کا پروگرام مرتب کر لیتے، تمام وقت عیش و عشرت میں بسر ہوتا، فرخندہ ان سب باتوں میں پیش پیش ہوتی۔ اسی طرح وہ اظفر کے ہوش و حواس پر چھا چکی تھی۔ وہ بلا کی حسین و چالاک لڑکی تھی۔ چچا زاد سے نسبت ہو کر چھوٹ چکی تھی، جو ایک سرکاری آفیسر تھا۔ وہ اب کسی نئے شکار کی تلاش میں تھی اور اس کی نظرِ انتخاب اظفر پر پڑی، جو اس کی ایک ایک ادا پر نثار تھا۔
فرحانہ یہ سب باتیں سن کر کانپ اٹھی، چہرہ فق ہو گیا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ دل دھک دھک کرنے لگا، وہ سکتے کے عالم میں کچھ دیر کھڑی رہی، پھر جا کر پلنگ پر اوندھے منہ گر گئی۔ “خدایا! یہ کتنے بے وفا نکلے، ہر مرتبہ دریافت کرنے پر مجھے کتنے بھولے پن اور پیار بھرے لہجے میں ٹال دیتے ہیں، گویا کوئی بات ہی نہیں۔ اب تک میں کتنی بے وقوف بنتی رہی۔ انہیں کس قدر شریف الطبع اور وفا شعار خیال کرتی رہی، آنکھیں بند کیے ان کی جھوٹی محبت پر اعتبار کرتی رہی۔ بظاہر میری ہر خواہش کا احترام، میری ہر ضرورت کا خیال، میرے جذبات کا احساس۔۔۔ کیا یہ سب دھوکا تھا، فریب تھا؟ آخر میں نے کیا بگاڑا تھا، جو مجھ پر یہ ستم کیا۔ بیوی کے ہوتے ہوئے ایک غیر عورت میں دلچسپ لی!”
وہ پیچ و تاب کھا رہی تھی، غصہ لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہا تھا۔ چہرہ غضب ناک ہو رہا تھا، آنکھیں سرخ تھیں۔ کسی خیال کے آتے ہی ہونٹ چبا کر رہ جاتی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ میں انتقام لیے بغیر دم نہ لوں گی۔ وہ مجھے برباد کرنا چاہتے ہیں، میں انہیں تباہ کروں گی۔ انہوں نے مجھے ٹھکرایا، میرے جذبات و احساسات کا خون کیا ہے، میں ان کی خوشیاں پامال کروں گی۔ تمام عمر کے لیے بے کار، ناکارہ بنا دوں گی، میٹھی چھری بن کر بدلہ لوں گی۔ آتشِ انتقام اس کی نس نس میں بھڑک اٹھی تھی۔ خون کھول رہا تھا، وہ غصے سے دیوانی ہو رہی تھی۔ ایک خطرناک ارادہ، ایک بھیانک تجویز اس کے دماغ میں آ رہی تھی کہ اچانک اظفر کمرے میں داخل ہوا اور قریب ہی پلنگ پر بیٹھ گیا۔
“کیا بات ہے، طبیعت تو ٹھیک ہے؟” اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ وہ خاموش رہی، پھر دوبارہ پوچھنے پر نگاہ اٹھائی، تو آنکھوں نے وہی پہلا سا اظفر دیکھا، وہی خوبصورت چہرہ، وہی ملائمت بھری آنکھیں، جو اسے محبت سے دیکھ رہی تھیں، وہی ہونٹ جن پر نامعلوم سی مسکراہٹ ہر وقت کھیلتی تھی۔ فرحانہ کا غصہ ایک لمحے کے لیے سرد پڑ گیا۔ انتقام لینے کی تمام تجویزیں دماغ سے نکل گئیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
اس کی یہ حالت دیکھتے ہی اظفر کا رنگ اڑ گیا۔ وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے کہنے لگا، “غمگین و پریشان کیوں ہو؟ میں شرمندہ ہوں اپنی غلطی پر، میری وجہ سے اکثر تمہیں رنجیدہ رہنا پڑتا ہے۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دو، کل صرف اس لیے گھر نہیں آ سکا کہ ایک پرانا دوست مل گیا تھا۔ مدت بعد ملے تھے، باتیں کرتے کرتے زیادہ رات ہو گئی، تو اس نے وہیں ٹھہرا لیا۔ مجھے سخت افسوس ہے۔ آئندہ میں تمہیں شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔”
تبھی جوشِ غضب سے فرحانہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور ایسی طنزیہ اور تیز نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا کہ اظفر کو نظریں جھکانی پڑیں۔ “مجھے سب باتوں کا علم ہو گیا ہے۔ اب میں کسی صورت بھی آپ کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں۔ میں آپ سے علیحدگی چاہتی ہوں تاکہ آپ اور فرخندہ کے درمیان رکاوٹ نہ بن سکوں۔”
تمام رات اس بحث مباحثے میں گزری۔ اظفر نے حتی المقدور کوشش کی کہ کسی طرح معاملہ رفع دفع ہو جائے، لیکن چونکہ فرحانہ کو معتبر ذریعے سے تمام علم ہو چکا تھا، اس لیے شوہر کی کوئی بات بھی اس کی طبیعت کے میل کو نہ دھو سکی۔ دوسرے روز وہ شکستہ دل اور روتی آنکھوں کے ساتھ میکے چلی گئی۔ چھ بجے شام جب اظفر آیا، تو برآمدے میں نوکر سو رہا تھا۔ اس نے سیدھا کمرے کا رخ کیا۔ کمرہ خالی تھا، وہ ٹھٹک کر وہیں کھڑا ہو گیا، میز پر رقعہ پڑا تھا، جس پر لکھا تھا: “اس گھر کو چھوڑتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، لیکن میں جا رہی ہوں تاکہ آپ کی خوشیوں میں حائل نہ ہو سکوں۔ میری بربادی ہی آپ کی نئی دنیا آباد کر سکتی ہے، اس لیے آپ سے علیحدہ ہونا بہتر سمجھا۔”
اظفر کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ اس کی دنیا اندھیر ہو گئی، در و دیوار کاٹنے کو دوڑتے تھے، نظروں کے سامنے بیوی کا اداس چہرہ جم گیا۔ دماغ میں وہی صورت تھی جب وہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، بال بکھرے ہوئے تھے۔ شوہر کے اتنے بھاری قصور پر کتنے ضبط سے کام لیا، ایک بھی سخت لفظ منہ سے نہیں نکالا۔ سخت غصے کی حالت میں بھی اپنے اوپر قابو رکھا، دل کی بھڑاس آنکھوں کے رستے نکالی، لیکن زبان سے اف تک نہیں کی۔ کتنے دن اس کی بے اعتنائی صبر سے برداشت کرتی رہی، تمام دن اس کے آنے کے لیے آنکھیں فرشِ راہ رکھتی، راتیں انتظار میں بیٹھ کر گزار دیتی، لیکن حرفِ شکایت زبان پر نہ لاتی۔ آخر کار تمام بھید کھل جانے پر کیسی خاموشی سے اس کے راستے سے ہٹ گئی۔ ان حالات میں اظفر بے تاب و بے قرار ہو رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ پر لگا کر بیوی کے پاس چلا جائے، لیکن کیا منہ لے کر جاتا؟ شدتِ غم سے وہ نڈھال ہو رہا تھا۔
ایک ہفتہ گزر گیا، فرحانہ کی کوئی خیر خبر نہ ملی۔ دفتر سے آکر اظفر دروازہ بند کیے پڑا رہتا۔ کھانا پینا چھوٹ چکا تھا۔ ایک ٹیس سی سینے میں اٹھتی اور وہ بے قابو ہو جاتا۔ زندہ دل اور ہنستا ہوا اظفر غم و الم کی تصویر بن کر رہ گیا۔ آٹھ دس روز وہ منیجر صاحب کے گھر بھی نہ گیا۔ ایک روز راستے میں فرخندہ سے ملاقات ہوئی، تو وہ اسے گھر لے گئی، یوں کچھ روز بعد پھر آمد و رفت شروع ہو گئی۔ اب دونوں ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے لگے۔ گھنٹوں بیٹھے باتیں کرتے، کبھی اچانک سے اظفر اداس اور غمگین نظر آتا، تو وہ میٹھی میٹھی باتوں سے بہلا لیتی۔ تھوڑی دیر بعد پھر وہی اظفر ہوتا اور وہی فرخندہ۔ سیر و تفریح کے وقت دونوں اکٹھے رہتے، سینما اکٹھے جاتے۔ رات کو جب کبھی باتیں کرتے کرتے دیر ہو جاتی تو وہ فرخندہ کے گھر پر ہی سو رہتا۔ غرض یہ کہ کام کاج کے بعد تمام وقت دونوں کا ایک ساتھ گزرتا۔
جس وقت وہ اکیلا اپنے کمرے میں بیٹھا ہوتا، تو بارہا خیال آتا کہ فرحانہ کے پاس جائے، تہہ دل سے معافی مانگ لے اور آئندہ فرخندہ سے قطع تعلق کر لے، لیکن باہر جا کر یہ سب خیالات مٹ جاتے۔ ایک دن چھٹی کے روز اظفر منیجر صاحب کے گھر گیا، تو نوکر سے معلوم ہوا کہ گھر والے سب کہیں گئے ہوئے ہیں۔ خدا معلوم کس خیال سے جب وہ اندر گیا، تو گھر کے کسی کونے سے دھیمی دھیمی باتوں کی آواز سنائی دی۔ آگے بڑھ کر فرخندہ کے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا ہو گیا۔ کمرہ بند تھا۔ سوراخ سے جھانک کر دیکھا، تو صوفے پر ایک نوجوان وردی میں ملبوس فرخندہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور دونوں خوب گھل مل کر باتیں کر رہے تھے۔ سرگوشیوں میں پیار و محبت کی باتیں ہو رہی تھیں۔ وہ الٹے پاؤں واپس چلا آیا۔
اب وہ زندگی سے بیزار ہو رہا تھا۔ منہ چھپا کر دنیا سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ ایسی جگہ چلا جانا چاہتا تھا جہاں وہ کسی سے واقف نہ ہو اور اسے کوئی نہ جانتا ہو۔ ایسی پرسکون و خاموش جگہ جہاں دنیا کے ہنگامے، دوستوں کی محفلیں اور عشق و محبت کی رنگینیاں بالکل نہ ہوں۔ وہ ایسا گوشۂ تنہائی چاہتا تھا جہاں وہ تا قیامت آنکھیں بند کیے بیٹھا رہے۔ ادھر فرحانہ کو بھی اظفر کی بڑھتی ہوئی محبت کی داستانیں معلوم ہو گئی تھیں۔ وہ سن کر کلیجہ تھام کر رہ جاتی، کبھی غصے میں آنکھوں سے چنگاریاں برسنے لگتیں، تو کبھی دل برداشتہ ہو کر آنسو بہنے لگتے۔ اس کا دل پاش پاش ہو چکا تھا۔ دنیا کی بے وفائی و بے ثباتی درد بن کر رگ و پے میں بس چکی تھی۔ ہر وقت ہنستی مسکراتی شوخ و شریر فرحانہ چند ہی دنوں میں تصویرِ غم بن گئی۔ اس کی پر سوز آہیں دیکھنے والوں کو متاثر کیے بنا نہ رہتیں۔ اس حالت میں ایک برس گزر چکا تھا؛ زندہ درگور، مگر کسی نہ کسی طرح زندہ تھی۔
ایک روز میں باہر بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے کہا کہ اظفر آئے ہیں۔ فرحانہ کے کانوں نے سنا لیکن یقین نہ آیا۔ ایک منٹ بعد خود باہر سے آواز سنی تو چہرہ ایک دم سرخ ہو کر سفید پڑ گیا اور وہ اٹھ کر اندر چلی گئی۔ اظفر سیدھا اس کے پیچھے چلا آیا۔ پردہ اٹھا کر کمرے میں داخل ہوا تو سامنے حسرت و یاس کی تصویر نظر آئی۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی ایک برس پہلے والی فرحانہ ہے۔ سامنا ہوتے ہی دونوں کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے، کچھ دیر دونوں اسی طرح خاموش بیٹھے دل کا بوجھ ہلکا کرتے رہے، آخر اظفر نے خاموشی کو توڑا۔
“کیا حال ہے؟ بہت کمزور ہو رہی ہو۔” “اچھا ہے، جی رہی ہوں۔” فرحانہ نے تھکی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ “مجھے معاف کر دو فرحانہ! میں نے بڑی بھاری غلطی کی، جس کی کافی سزا بھگت چکا ہوں۔ اب بھول جاؤ وہ تلخیاں اور اپنے اس گناہ گار کو معاف کر دو۔” تھوڑے سے وقفے کے بعد وہ بولی، “اب وہ بات ہی نہیں رہی اظفر صاحب! وہ دل ہی نہ رہا جس میں امیدیں مہکتی تھیں، ہزاروں ارمان بے قرار تھے۔ اب میری ہستی ایک زندہ لاش ہے، جو خدا معلوم کیوں اب تک سانس لے رہی ہے؟” “خدارا! گزری ہوئی باتیں فراموش کر دو، میں اس قابل تو نہیں کہ تم سے آنکھیں چار کر سکوں، تمہیں میری وجہ سے بہت صدمے جھیلنے پڑے ہیں، پھر بھی چاہو تو میرے گناہوں کو معاف کر کے مجھے ایک دفعہ پھر زندہ رہنے کے قابل بنا سکتی ہو، ورنہ تمام عمر دل کے ناسور رستے رہیں گے اور قیامت تک سکون نصیب نہ ہو سکے گا۔”
فرحانہ کی آنکھوں سے جھڑیاں لگ گئیں، وہ اٹھ کر پلنگ پر لیٹ گئی اور کچھ دیر اسی طرح آنکھیں بند کیے پڑی رہی۔ اظفر بھی قریب ہی کرسی پر بیٹھ گیا۔ “میں زور تو نہیں دے سکتا، صرف التجا کرتا ہوں کہ میری زندگی اور موت تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں امید کی آخری کرن لے کر یہاں آیا تھا۔ میری آئندہ زندگی تمہارے رحم و کرم پر ہے، اب تم سے جدا رہ کر زندہ رہنے کی گنجائش نہیں۔” “یہ وقتی جذبات ہیں اظفر صاحب! جب آپ نے میری ذات کو نظر انداز کر کے دوسری طرف توجہ دی، اس کے بعد ایک برس بھی گزر گیا، اسی طرح آج کے بعد بھی وقت گزرتا رہے گا۔ آہستہ آہستہ غم غلط ہو جائے گا۔ مجھے تو تباہ ہونا ہی تھا، آپ خوشحال زندگی گزارنے کی کوشش کریں اور سمجھ لیں کہ آپ کی زندگی میں میرا کبھی کوئی دخل ہی نہیں تھا۔” “خدا کے لیے فرحانہ! میرے حال پر رحم کرو، ورنہ میں مرنے کے بعد بھی سکون حاصل نہ کر سکوں گا۔” “میں مجبور ہوں اظفر صاحب! میں بہت شکستہ دل اور ناامید ہو چکی ہوں۔ اب کوئی چیز میری خوشی واپس نہیں لا سکتی۔”
عورت آخر عورت ہوتی ہے اور بیوی تو عورت کا کمزور ترین روپ ہے۔ مرد کے رحم و کرم پر، جسے شوہر کہتے ہیں، اس کے ساتھ اپنی خوبیوں کے بدلے عورت نے تحفظ حاصل کرنا ہوتا ہے اور اپنی زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ بھلا اس رشتے میں محض محبت کا دخل ہی کتنا ہوتا ہے، زیادہ تر تو سمجھوتوں پر ہی اس بازی کو جیتا جاتا ہے۔
فرحانہ ان دنوں بے حد مایوس رہتی تھی۔ وہ اکثر میرے پاس آ جاتی تھی اور میں اس کا دل بڑھایا کرتی تھی۔ وہ مردوں کے خلاف بولتی تو میں اس کے پرجوش الفاظ ٹھنڈے دل سے سنتی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ وہ اسی طرح اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتی ہے۔ اگر اسے میرا سہارا بھی نہ ہوتا تو وہ سچ مچ بیمار ہو جاتی یا خودکشی کر لیتی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی جب میں نے سنا کہ فرحانہ اپنے گھر چلی گئی ہے۔ اظفر اسے اس کی بہن شبانہ کے گھر سے منا کر لے گیا اور وہ اب اپنے گھر میں خوش و خرم ہے۔ دیر سے ہی سہی، اگر بدگمانی کے بادل چھٹ جائیں، گھر میں اجالا بھر جائے اور دو دل مطمئن ہو جائیں تو اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔
کافی دن سے میں اس سے نہیں مل سکی تھی کیونکہ اپنے کاموں میں مصروف رہی۔ اس روز فرحانہ کی یاد شدت سے آئی تو میں اس کے گھر جا پہنچی۔ وہ میری بچپن کی دوست تھی، خوشی ہو یا غم، وہ کوئی بات مجھ سے نہیں چھپاتی تھی۔ مجھ کو اچانک سامنے دیکھ کر خوشی سے اس کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ بہت خوش تھی۔ میں نے پوچھا، “کہو! کیا حال ہے؟ تم تو دنیا کے سارے مردوں کو بے وفا کہتی تھیں، اب کیا کہتی ہو؟” یہ سن کر وہ جھینپ سی گئی اور بولی، “اظفر پہلے کچھ عرصہ بھٹک گئے تھے، لیکن اب وہ صراطِ مستقیم پر آ گئے ہیں۔ وہ پہلے والے اظفر نہیں رہے، اب بالکل بدل گئے ہیں۔ میرا بہت خیال رکھتے ہیں، ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں، کئی بار اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگ چکے ہیں اور اب روز وقت پر گھر آ جاتے ہیں۔ جب کہتی ہوں، سیر کرانے بھی لے جاتے ہیں۔” “چلو مبارک ہو، تمہیں اور کیا چاہیے۔” میں بھی خوش ہو گئی کہ اظفر سدھر گیا تھا۔ میری دوست خوش تھی، اس کا گھر آباد تھا اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ پر مسرت زندگی بسر کر رہی تھی۔
پھر کافی دنوں تک ادھر نہ جا سکی۔ تبھی ایک روز اظفر کو دیکھا اور بری طرح چونک گئی، کیونکہ اس کے ساتھ جو عورت تھی وہ فرحانہ نہیں تھی۔ میں نے دوبارہ غور سے دیکھا کیونکہ مجھ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، مگر حقیقت وہی تھی جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔ سچ مچ وہ کوئی دوسری عورت ہی تھی۔ اظفر نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا، تبھی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا بھیڑ میں گم ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ مجھے جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ میں اس کی بیوی کی گہری سہیلی ہوں۔ غصے سے میرا خون کھول اٹھا، جی چاہا کہ اظفر کو شوٹ کر دوں، لیکن ضبط کے سوا چارہ نہ تھا۔ سب جان کر بھی میں چپ رہی تاکہ میری دوست اپنے گھر میں سکون سے رہے۔ میں یہ تلخ حقیقت بتا کر اس کا گھر اجاڑنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ ایک بار تو اس کا گھر تقریباً اجڑ ہی چکا تھا۔ اس بار اگر میں اسے بتا دیتی تو یقیناً اس کا بسا بسایا گھر دوبارہ آباد نہیں ہو سکتا تھا، لہٰذا نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اظفر کا پردہ رکھ لیا اور فرحانہ کو یہ حقیقت نہ بتا سکی کہ اس کا شوہر اب بھی سدھرا نہیں ہے۔ میں نے لب سی لیے، البتہ میں اب اظفر کے سامنے نہیں جاتی تھی۔ مجھ میں اس کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا اور غالباً اظفر میں بھی مجھ سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہیں تھی۔
میں کئی بار فرحانہ کے گھر گئی، اس وقت جب اس کا شوہر گھر پر نہ ہوتا۔ وہ بالکل نارمل ہو چکی تھی، پھر سے شوہر کی محبت اور شرافت کے گن گانے لگی تھی اور اپنے شریکِ حیات پر مکمل اعتبار کرنے لگی تھی۔ ظاہر ہے، اعتبار ہوتا ہے تو شریکِ سفر بھی ساتھ سفر کرتا ہے اور گھر بنتا ہے۔ اگر یہ واقعہ صرف شک کی بنیاد پر ہوتا، تو میں حقیقت کو اپنی سہیلی سے چھپا کر یقیناً مجرم بنتی، لیکن ایک اور واقعہ بھی پیش آیا۔
ایک روز میرے بھائی نے ایک تفریحی مقام پر اظفر کو ایک حسین لڑکی کے ساتھ دیکھا۔ بھائی نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا، تو اظفر نے جواب میں کہا، “نعمان! ان سے ملو، یہ تمہاری بھابھی ہیں۔” “بھابھی؟” بھائی نے حیرانی سے سوال کیا۔ “مگر وہ تو باجی فرحانہ۔۔۔” “ہاں ہاں، وہ بھی ہیں، مگر یہ میری دوسری وائف (بیوی) ہیں۔ حیران کیوں ہو؟ کیا مردوں کی دو بیویاں نہیں ہوتیں؟ مگر تم فرحانہ کو مت بتا دینا۔ فرحانہ بات کو دل پر لے لیتی ہے اور بیمار پڑ جاتی ہے، اس لیے میں نے اسے اس بارے میں بتانے سے گریز کیا ہے تاکہ وہ بھی پرسکون اور خوش رہے اور ہم بھی خوش رہیں۔ تم تو جانتے ہو، فرحانہ کے والد نہیں ہیں اور والدہ اپنے بیٹے کے پاس ہوتی ہیں، وہ دل کی مریضہ ہیں؛ اگر بات بڑھ گئی تو نقصان ہو گا۔”
جب میرے بھائی نے مجھے یہ بتایا، تو میں نے کہا، “تم بس چپ رہو گے بھیا! اظفر نہیں سدھرے گا۔ چور چوری سے جائے، ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ لیکن اگر فرحانہ واقعی جذبات میں آ کر گھر سے نکل کھڑی ہوئی، تو کہاں جائے گی؟ در بدر ہی رہے گی۔”
فرحانہ کو کافی دنوں تک شوہر کی سرگرمیوں کا علم نہ ہوا کیونکہ وہ گھر کی چار دیواری سے نکلتی ہی نہ تھی۔ وہ کہتی تھی کہ شوہر کے گھر میں ہی سکون ہوتا ہے، عورت دوسری جگہ دربدر ہو جاتی ہے۔
(ختم شد)
