بے وفا بیوی

Sublimegate Urdu Stories

ہم روز شام کو اس مخصوص راستے پر سیر کو نکلتے تھے۔ یہ ٹیڑھا میڑھا، جنگلی پھولوں سے بھرا راستہ جسے ہم ‘زندگی کا راستہ’ کہتے تھے، اس پر ساتھ ساتھ چلنا ہمیں ایک میٹھے خواب جیسا لگتا تھا۔ جس روز یہ حادثہ ہوا، اس شام بھی جون میرے ساتھ تھا اور ہم محبت کے اس راستے کو ایک دوسرے میں گم، محویت سے طے کرتے جا رہے تھے۔ ہمارے لب خاموش تھے لیکن کان ہمارے دلوں کی سرگوشیاں سن رہے تھے۔ اچانک میرے سینڈل کے تلے پتھر آگیا، میں توازن برقرار نہ رکھ سکی اور ڈھلوان سے نیچے لڑھکتی چلی گئی۔ میرے سر پر اتنی شدید چوٹ لگی کہ میں بینائی سے محروم ہوگئی اور زندگی کے راستے ٹٹولنے کے لیے تنہا رہ گئی۔

حادثے سے ایک ماہ قبل جون سے میری دوستی محبت میں تبدیل ہوچکی تھی۔ ہمارا شادی کا پروگرام پکا تھا۔ عین ممکن تھا کہ اسی سال موسمِ بہار میں ہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جاتے، مگر گرتے وقت جون کا ہاتھ یوں میرے ہاتھ سے چھوٹا کہ ہم ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ کہنے کو یہ حادثہ تھا، لیکن یہ محض حادثہ نہیں، میرا جون سے بچھڑ جانا تھا۔ وہ ساتھ تھا تو ایک دنیا ساتھ تھی، وہ نہ رہا تو کچھ بھی نہ رہا۔ دل میں امنگ رہی نہ پھولوں میں رنگ؛ نہ خواب رہے، نہ خیال۔ اس کے بن سکھ چین حرام اور جینا دشوار ہوا۔ پہلے زندگی میں اندھیرا ایک معمولی شے تھی، مگر اب اندھیرے کا اصل مطلب اچھی طرح سمجھ میں آگیا تھا۔ اب ہر تعلق ایک واہمہ اور ہر رشتہ ایک فریب تھا۔ آنکھیں کیا گئیں، ہم بچھڑ گئے، جذبے سو گئے، آرزوؤں کو موت آگئی اور زندگی ایک سزا بن گئی۔

بینائی سے محرومی میرے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔ دوست بھی زیادہ دنوں تک دوستی کا بوجھ برداشت نہ کر سکے۔ کس کو اتنی فرصت تھی کہ دن رات میری دلجوئی کرتا؟ یہاں لندن میں تو لوگ لمحوں کا حساب رکھتے ہیں اور اپنے قیمتی وقت کو رائیگاں جانے نہیں دیتے۔ جون پر انحصار تھا، یہ سمجھ کر کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ اس نے بلاشبہ کچھ دن دلجوئی کی بھی اور کئی بار اپنے اس عہد کو دوہرایا کہ وہ مجھے تنہا نہ چھوڑے گا؛ میری بینائی کھو دینے سے اس کے ارادے میں تبدیلی واقع نہیں ہوئی، لہٰذا وہ جلد مجھ سے شادی کرلے گا، لیکن میں نے تھوڑے ہی دنوں بعد محسوس کر لیا کہ جھوٹ کی یہ گاڑی اب زیادہ دور تک چلنے والی نہیں ہے۔ جون نے شعوری کوشش کی کہ اس کے دل کی بدلتی کیفیات مجھ پر آشکار نہ ہوں، مگر میں نے بینائی کھو کر احساس کی دولت پا لی تھی۔ میں وہ باتیں بھی محسوس کر لیتی تھی جو عام حالات میں درگزر کر دی جاتی ہیں۔

جلد ہی مجھے علم ہو گیا کہ وہ کسی اور لڑکی میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ وہ اب مجھ سے سلیقے کے ساتھ پیچھا چھڑانا چاہتا تھا تاکہ مجھ کو یک دم جھٹکا نہ لگے اور وہ اس لڑکی کے ساتھ زیادہ آزادی سے مل سکے۔ میرا وجود اب اس کی روح پر ایک ایسا بوجھ بن گیا تھا جسے وہ نہ اتار کر پھینک سکتا تھا اور نہ ہی عمر بھر اٹھا کر چلنے کا اس میں حوصلہ تھا۔ یہ تکلیف دہ سچ جوں ہی مجھ پر آشکار ہوا، میں نے خود اس سے ترکِ تعلق کی ابتدا کر دی تاکہ جدائی میں وقت کم خرچ ہو اور تکلیف بھی کم ہو۔ وقت تو کم لگا اور ہم جدا ہو گئے، مگر تکلیف صرف مجھے ہوئی، جون کو نہیں۔ جو میرے دل کا حال ہوا، بیان نہیں کر سکتی۔ مختصر یہ کہ ہر سانس ایک فردِ جرم اور ہر سوچ ایک سولی بن گئی تھی۔ میں دن کی روشنی میں بھی اپنی روح کے سنسان شہر کی اندھیری گلیوں میں بھٹکتی رہتی تھی۔

ایک اندھی لڑکی جس نے دنیا کی رنگینیاں دیکھ لی ہوں، جس نے اپنا محبوب اور اس کا پیار بھی دیکھ لیا تھا جسے اس نے اپنا سب کچھ سمجھا، اب اس بے نور آنکھوں والی کا کوئی نہ رہا اور محبوب نے بھی محض اس باعث الوداع کہا کہ ایک اتفاقیہ حادثے نے اسے بے نور کر دیا تھا۔ کیا کوئی اس ہستی کا درد محسوس کر سکتا ہے؟

یہ میرا درد تھا اور مجھے ہی سہنا تھا، یہ میری آگ تھی اور مجھے ہی اس میں جلنا تھا۔ یہ دردِ جدائی کی آگ تھی جو میرے دل و دماغ، جسم و جان، رگ رگ اور نس نس کو جلا رہی تھی۔ روح کی پاتال تک یہ آگ نہ ٹھنڈی ہوتی تھی اور نہ فنا ہوتی تھی۔ سوچتی تھی، اے کاش یہ حادثہ نہ ہوا ہوتا! اور اگر ہونا بھی تھا تو کاش، جون مجھ سے نہ ملا ہوتا۔ کیا کہوں، ان دنوں کیا کچھ اس دلِ زار پر نہ گزری۔ ایک ایسے وقت میں جب مجھے محبت اور سہارے کی اشد ضرورت تھی، میرے اردگرد کوئی نہ رہا تھا۔ میں نے خود کو سمجھایا کہ صدمے کو حوصلے سے برداشت کرنا ہے اور جواں مردی سے جینا ہے؛ کیونکہ اب زندگی اپنی محزونو کے ہم رکاب ہو جانے سے اب میری تنہائی اس قدر ویران نہ رہی تھی۔ اس نئے بے زبان ساتھی نے میری سنسان زندگی کو دلچسپ بنا دیا تھا۔ جب میں اکیلا پن محسوس کرتی تو زونو سے باتیں کرتی، پیار سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی، تو وہ بھی محبت کا جواب محبت سے دیتا؛ مجھ سے کھیلتا اور مسرت بھری آوازیں نکالتا۔ وہ میرے نزدیک کسی خطرے کو محسوس کرتا تو غرانے لگتا یا بھونکنا شروع کر دیتا۔ مجھے اداس دیکھ کر میرے پیروں میں لوٹنے لگتا، تب میرا دل خوشی سے لبریز ہو جاتا اور میں خدا کی مشکور ہوتی جس نے اس دنیا میں صرف انسانوں کو ہی نہیں، وفادار جانوروں کو بھی پیدا کیا تھا، جو جانور ہو کر بھی انسان کا دکھ سمجھ سکتے تھے۔ وہ پیار کے عوض بے وفائی کا درد دامن میں نہیں ڈالتے تھے اور بے زبان ہو کر بھی پیار کا جواب پیار سے دینا جانتے تھے۔رومیوں سے سمجھوتے کے ساتھ یونہی گزارنی تھی، تو آج ہی سے کیوں نہیں؟ کل کا انتظار کیوں؟

پھر مجھے خبر ملی کہ جون نے شادی کر لی ہے اور نئی زندگی کی شروعات کر کے بہت خوش ہے۔ وہ ہنی مون پر گئے ہیں۔ میری ایک مشترکہ دوست یہ خبریں مجھے دیتی تھی۔ انہوں نے نیا گھر لیا ہے، اسے سجا رہے ہیں اور اپنی دنیا کو مزید خوبصورت بنا رہے ہیں، مگر مجھے کیا؟ میری دنیا تو اندھیر ہو چکی تھی۔

انہی دنوں بلائنڈ ایسوسی ایشن والوں سے میرا رابطہ ہوا۔ مجھے معمول کی زندگی گزارنے کے لیے کسی ‘آنکھوں والے’ کی ضرورت تھی جو ہر قدم پر میری رہنمائی کر سکے اور مجھے ٹھوکروں سے بچا سکے۔ گھر میں، بازار میں، چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے میری مدد کرنا ایک طرح کی غلامی بھی تھی جو کسی (عام) انسان کے بس کی بات نہ تھی۔ ایسوسی ایشن کی طرف سے مجھے ایک پیارا سا مددگار عطا ہوا۔ یہ ایک سدھایا ہوا کتا تھا جو نابینا انسانوں کے لیے لاٹھی کا کام کرتا تھا۔ ان کتوں کی تربیت پر یہ ادارہ بڑی محنت کرتا تھا۔ ان کو شہر کے تمام علاقے، بازار، حتیٰ کہ دکانیں اور ان کے نام تک یاد کرا دیے جاتے تھے۔

میری ایک بڑی مشکل حل ہو چکی تھی۔ ‘زونو’ ہر دم میرے ساتھ رہتا تھا۔ میں جہاں بھی جاتی—سڑک پر سیر کے لیے، گھر میں یا بازار میں—وہ قدم بہ قدم میرے ساتھ رہتا۔ مجھے گڑھوں، کھائیوں اور اونچے نیچے راستوں سے بچاتا اور سیدھے راستے پر چلاتا۔ جب میں اسے کہتی کہ “میرے پیارے دوست! آج فلاں بازار کے فلاں اسٹور پر جانا ہے” تو وہ میری آنکھیں بن جاتا اور مجھے میری مطلوبہ جگہ لے جاتا۔ ہم اکٹھے بازار میں سے گزرتے، شاپنگ کرتے اور گھر آ جاتے۔

زونو کے ہم رکاب ہو جانے سے اب میری تنہائی اس قدر ویران نہ رہی تھی۔ اس نئے بے زبان ساتھی نے میری سنسان زندگی کو دلچسپ بنا دیا تھا۔ جب میں اکیلا پن محسوس کرتی تو زونو سے باتیں کرتی، پیار سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی، تو وہ بھی محبت کا جواب محبت سے دیتا؛ مجھ سے کھیلتا اور مسرت بھری آوازیں نکالتا۔ وہ میرے نزدیک کسی خطرے کو محسوس کرتا تو غرانے لگتا یا بھونکنا شروع کر دیتا۔ مجھے اداس دیکھ کر میرے پیروں میں لوٹنے لگتا، تب میرا دل خوشی سے لبریز ہو جاتا اور میں خدا کی مشکور ہوتی جس نے اس دنیا میں صرف انسانوں کو ہی نہیں، وفادار جانوروں کو بھی پیدا کیا تھا، جو جانور ہو کر بھی انسان کا دکھ سمجھ سکتے تھے۔ وہ پیار کے عوض بے وفائی کا درد دامن میں نہیں ڈالتے تھے اور بے زبان ہو کر بھی پیار کا جواب پیار سے دینا جانتے تھے۔

رفتہ رفتہ میں زونو پر اتنا زیادہ بھروسہ کرنے لگی کہ انسانوں سے توقعات لگانا چھوڑ دیں اور میرا انسانوں کی دنیا سے جذباتی تعلق بھی باقی نہ رہا۔ لوگ ذرا دیر کے لیے ملتے، ہمدردی کرتے اور اپنی مصروفیات میں گم ہو جاتے۔ میں ان کی ملاقاتوں کے ایک ایک پل کو یاد کرتی رہتی اور وہ بھول بھی چکے ہوتے۔ اب میرے لیے انسانی رشتوں اور کاغذی پھولوں میں کوئی فرق نہ رہا تھا، جن میں صرف دکھاوے کا حسن ہوتا ہے مگر خوشبو نہیں ہوتی۔ میں جب اپنے روشن دنوں کو یاد کرتی تو اکثر زونو سے کہتی: “میرے پیارے دوست! انسانوں کی روحیں مر چکی ہیں، اب صرف روبوٹ رہ گئے ہیں۔ تم جیسوں سے ناتا اچھا ہے؛ تمہارے اندر ایک جانور کی روح سہی، مگر ابھی اس کی موت واقع نہیں ہوئی۔ تم زندہ روح والے ہو۔” تب وہ میری تائید میں بھونکنے لگتا، جیسے میری بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو اور وہ میرے گرد چکر کاٹنے لگتا۔

کئی سال اسی طرح بیت گئے۔ میں زونو کی اور وہ میرا اس قدر عادی ہو گیا تھا کہ اب ہمیں جدائی کا تصور محال لگتا تھا۔ میں ایک منٹ اس کے بغیر رہ سکتی تھی اور نہ وہ ایک پل میرے بنا رہ پاتا۔ ہم ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ جس دن زونو موجود نہ ہوتا، مجھے کھانا اچھا نہ لگتا۔ ایک روز میں نے اس سے کہا: “دیکھو زونو! آج شاپنگ کرنی ہے، تیار رہو۔ اس کے بعد ہم اپنی مخصوص سڑک پر ٹہلنے چلیں گے، زندگی کے راستے پر۔”

زونو اس راستے کو خوب پہچانتا تھا۔ جس سڑک کے ساتھ میری زندگی کی خوبصورت یادیں وابستہ تھیں، اب میں اس راستے کے اطراف کھلے پھولوں کو دیکھ تو نہ سکتی تھی لیکن ان کی مہک کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کر سکتی تھی، جو مجھے ماضی کے خوبصورت دنوں کی طرف لے جاتی تھی۔ اس راستے پر ٹریفک نہیں چلتا تھا۔ سڑک پر سکون رہتا اور وہ سنسان و خاموش رہتی تھی۔ یہاں مجھے سوچنے میں دشواری ہوتی تھی اور نہ چلنے میں، کیونکہ زونو میرے آگے آگے چلتا اور کہیں پیچ و خم آ جاتا تو بھونکنے لگتا، تب میں اپنی چھڑی سے راستہ ٹٹول لیتی تھی۔ جب سڑک کے سامنے ڈھلوان آ جاتی تو زونو رک کر میرا دامن کھینچ لیتا اور واپس مڑنے کو کہتا۔
ہم کئی برس اسی طرح ‘زندگی کے راستے’ پر سیر کو آتے رہے۔ زونو کو بھی سب سے زیادہ یہی راستہ پسند تھا، شاید اس لیے کہ یہاں سکون تھا اور میرے لیے یہاں میرا ماضی بکھرا ہوا تھا۔ اسے کیا خبر تھی کہ میری زندگی سے خوشیاں اسی سڑک کے ایک موڑ پر جدا ہوئی تھیں اور میری آنکھوں کی روشنی چھینی گئی تھی۔ بس وہ خاموشی سے آگے آگے چلتا جاتا اور میں اس کے پیچھے پیچھے ماضی کے اس سنہرے راستے پر سہم سہم کر قدم بڑھاتی جاتی۔ اس کے گلے میں پڑا ہوا پٹہ ایک زنجیر کے ساتھ جڑا ہوتا جو میرے ہاتھ میں رہتا۔ سامنے سے کوئی آتا دکھائی دیتا یا کوئی رکاوٹ ہوتی تو وہ بھونک کر مجھے مطلع کر دیتا اور ہم ٹھہر جاتے یا پھر ایک جانب ہو جاتے۔

اس روز بھی سامنے پتھر پڑا تھا، زونو نے بھونک کر مجھے خبردار کیا، مگر میں جانے کن خیالوں میں غرق تھی کہ اس کے بھونکنے کا نوٹس ہی نہ لیا اور ٹھوکر کھا کر سڑک پر لگی ریلنگ سے جا ٹکرائی۔ ریلنگ میرے ماتھے میں یوں پیوست ہوئی کہ خون کا فوارہ ابل پڑا اور میں گر کر بے ہوش ہوگئی۔ زونو مجھے چھوڑ کر الٹی سمت کو بھاگا؛ وہ بھونک بھونک کر لوگوں کو میری مدد کے لیے بلا رہا تھا۔ اس کے گلے میں پڑے پٹے پر بلائنڈ ایسوسی ایشن کی طرف سے کچھ ہدایات کندہ تھیں، لہٰذا لوگ اس کے اس طرح بھونکنے کا فوری نوٹس لیتے تھے۔ یوں زونو کی بدولت لوگ میری مدد کو آگئے اور وہ مجھے اسپتال لے گئے۔ جب مجھے ہوش آیا اور آنکھیں کھلیں، تو میری دنیا میں پھر سے چاند اور سورج طلوع ہو چکے تھے۔ میری آنکھوں کی روشنی اس چوٹ کے لگنے کے بعد واپس آگئی تھی۔

اب زونو کا کام ختم ہو چکا تھا۔ مجھے اس کی ضرورت نہ رہی تھی؛ جب آنکھوں کا نور لوٹ آیا تو پھر لاٹھی کی کیا ضرورت؟ بلائنڈ ایسوسی ایشن نے اپنا سدھایا ہوا تربیت یافتہ کتا مجھ سے واپس طلب کر لیا۔ میں مصر تھی کہ زونو کو واپس نہیں دوں گی مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ کتا تربیت یافتہ ہے، اب اسے کسی دوسرے نابینا شخص کو دے دیا جائے گا تاکہ اس کے لیے زندگی کے ان دیکھے راستوں پر چلنا سہل ہو جائے۔ متعلقہ ادارے کے ناظم نے ایک طویل تقریر کے بعد بالآخر مجھے قائل کر لیا کہ زونو کی مجھ سے زیادہ کسی دوسرے انسان کو ضرورت ہے جو آنکھوں کے نور سے محروم ہو، لہٰذا مجھے کتا واپس کر دینا چاہیے۔
میں نے روتے ہوئے زونو کو ان کے دفتر پہنچا دیا۔ میں تو انسان تھی، دل پر اور اپنی محبت پر جبر کر سکتی تھی۔ میں نے تو پہلے بھی اپنے پیاروں کے بچھڑ جانے کی اذیت برداشت کی تھی، لیکن زونو انسان نہ تھا کہ اپنی محبت کو دھوکا دیتا یا اپنے پیار بھرے دل پر جبر کی سل رکھ لیتا۔ اس نے تو بھونک بھونک کر ساری عمارت سر پر اٹھا لی۔ وہ اس قدر مضطرب ہوا کہ منتظمین کا ناک میں دم کر دیا؛ خود اپنا اور ان کا جینا حرام کر ڈالا۔ چار دن تک اس نے کھانے کو منہ نہ لگایا۔ وہ لوگ اسے منا منا کر تھک گئے، مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ بالآخر انسانوں نے ایک کتے کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ انہوں نے مجھے بلوایا کہ زونو کی جان خطرے میں ہے؛ اس نے کسی دوسرے شخص کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا ہے اور بھوک نے اسے نڈھال کر دیا ہے۔

میں نے کئی دنوں کے بھوکے زونو کو پیار کیا، اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا اور ناظم صاحب سے کہہ سن کر اسے اپنے ساتھ لے آئی۔ میں نے انہیں پیش کش کی کہ انہوں نے جس قدر رقم اس کتے کی تربیت پر خرچ کی ہے، میں وہ ادا کرنے کو تیار ہوں، مگر وہ اس بے زبان کا دل نہ توڑیں۔ انہوں نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور زونو کو بطور تحفہ مجھے بخش دیا۔

انہی دنوں جون کی اپنی بیوی سے آخری زبردست جنگ ہوئی اور دونوں میں طلاق ہوگئی۔ وہ سخت دلبرداشتہ ہو کر میرے پاس آیا اور اپنی بے وفا بیوی کا رونا رویا۔ وہ دوبارہ میرا ہاتھ تھامنے کو تیار تھا، مگر میرے دل میں اب اس کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہی تھی۔ اس کی محبت میرے دل میں مر چکی تھی۔ میں نے زونو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: “نہیں جون! اب میں تمہیں قبول نہیں کر سکتی، کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تم کتوں کو پسند نہیں کرتے۔ کل تم کہو گے کہ زونو گھر میں نہیں رہے گا اور میں اسے نہیں چھوڑ سکتی۔ اس میں ایک ایسی بڑی خوبی ہے جو تم میں نہیں ہے، اور وہ ہے ‘وفا’۔ میں اس پر اعتبار کر سکتی ہوں، مگر تم پر نہیں۔”
جون اپنی اس توہین پر بہت جز بز ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ میں اسے صاف جواب دے رہی ہوں اور زونو کا تو محض بہانہ تھا، ورنہ ہم دونوں اس کے ساتھ بھی اکٹھے رہ سکتے تھے۔ وہ خفا ہو کر لندن سے ہی چلا گیا، مگر مجھے اس کے جانے کا آج بھی کوئی ملال نہیں، کیونکہ وہ میرے دل سے اس دن سے بھی پہلے رخصت ہو چکا تھا، جب وہ مجھے نابینا جان کر بے سہارا چھوڑ گیا تھا۔

میں اب بھی سوچتی ہوں کہ جب انسان کو حقیر کرنا ہوتا ہے تو اسے ‘کتا’ کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ اس جانور میں کچھ ایسی صفات ہیں جو (آج کے) انسان میں نہیں پاتیں جاتیں۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ