میں ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئی، جہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام اشیاء میسر تھیں۔ کسی بات کا غم نہیں ستاتا تھا، مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ غم کیا بلا ہے۔ خوبصورتی مجھے ورثے میں ملی، قدرت نے مجھے بہت حسین بنایا تھا اور گھر والوں نے بھی بے حد پیار دیا، کیونکہ میں گھر میں سب سے بڑی تھی۔ میرے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں اور چاروں مجھ سے چھوٹے تھے۔
میں شروع سے ہی بہت لائق تھی۔ میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا اور میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔ کالج جانے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر میں نے حوصلہ نہ ہارا۔ شاید حوصلہ نامی صفت اللہ تعالیٰ نے میرے اندر بے پناہ رکھ دی تھی۔ میں روزانہ دو گھنٹے کا سفر طے کر کے کالج پہنچتی تھی، کیونکہ کچھ راستہ پیدل بھی چلنا پڑتا تھا، پہلے ٹانگے پر اور پھر بس میں۔ یوں ایک لمبے سفر اور طویل مشقت کے بعد کالج پہنچتی تھی، پھر بھی میں نے ہمت نہ ہاری، لیکن آخرکار میری ساری محنت ضائع ہو گئی۔
ان دنوں میں میڈیکل کے تیسرے سال میں تھی کہ میرے ساتھ ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس کے بارے میں دعا کرتی ہوں کہ کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ ہو۔ ہمارے خاندان میں ایک شادی تھی۔ سب گھر والوں نے شادی میں جانا تھا، لیکن میرے امتحانات قریب ہونے کی وجہ سے میں نہ جا سکی۔ چنانچہ گھر والے مجھے چھوڑ کر صبح سویرے شادی میں روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ شام تک واپس آ جائیں گے۔ ہمارے ایک کزن فواد نے کراچی سے شادی میں شرکت کے لیے آنا تھا، لیکن ٹرین لیٹ ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکا۔ اس لیے گھر والے اس کا انتظار کیے بغیر روانہ ہو گئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ جب فواد آئے تو اسے وہیں بھیج دینا۔
گھر والوں کے جانے کے بعد میں پڑھائی میں مصروف ہو گئی۔ پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی اور میں گہری نیند سو گئی۔ کچھ دیر بعد فواد آ گیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر میں بیدار نہ ہو سکی۔ کافی دیر تک دروازہ نہ کھلنے پر وہ پریشان ہو گیا اور دیوار پھلانگ کر اندر آ گیا۔ ہمارے ہمسائے نے اسے دیوار پھلانگتے دیکھ لیا۔ انہیں معلوم تھا کہ شازیہ گھر میں اکیلی ہے، چنانچہ انہوں نے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ میں ابھی تک سو رہی تھی۔ فواد نے آ کر مجھے جگایا۔ میں نے اسے کھانا دیا اور ابو کا پیغام بھی پہنچایا۔ جب وہ کھانا کھا کر شادی میں جانے کے لیے گھر سے نکلا تو باہر چار پانچ لوگ ڈنڈے ہاتھوں میں لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فواد پر حملہ کر دیا، پھر اسے گھسیٹتے ہوئے تھانے لے گئے۔
میں چیختی چلاتی رہی، مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔ ہر کوئی اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ لڑکی اس کے ساتھ بھاگ رہی تھی، کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم نے چھاپہ مار کر انہیں قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا ہے۔ غرض جتنے منہ، اتنی باتیں۔ وہ دن میری زندگی میں قیامت کی طرح گزرا۔ میں نے ابو کو فون کیا۔ وہ فوراً گھر والوں کو لے کر آ گئے۔ میں نے دروازہ کھولا اور ابو کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ابو نے مجھے تسلی دی اور کہا: “بیٹا، کیا بات ہے؟ مجھے سب کچھ بتاؤ، ڈرو مت۔” وہ دروازے پر پڑے خون کے نشانات پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ میرے منہ سے صرف اتنا نکلا کہ محلے والے فواد کو مار دیں گے۔ ابو فوراً باہر نکلے۔ باہر لوگ جمع تھے، کوئی کچھ کہہ رہا تھا اور کوئی کچھ۔ ابو سیدھے گاڑی میں بیٹھ کر تھانے گئے اور فواد کو چھڑوا لائے۔ وہ زخموں سے نڈھال تھا۔ جب وہ گھر آیا تو میں اس کے بھی گلے لگ کر رونے لگی۔ پتہ نہیں مجھ میں اتنا حوصلہ کہاں سے آ گیا تھا۔
سب گھر والے موجود تھے، مگر مجھے اس کی جان کی فکر تھی۔ ابو اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور مرہم پٹی کروائی۔ پھر میں نے ابو کو ساری تفصیل بتا دی۔ انہوں نے میری بات پر یقین کیا، کیونکہ وہ پڑھے لکھے اور باشعور انسان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں اب سمجھدار ہوں اور ایسا نہیں کر سکتی۔ بعد میں ابو نے محلے کے سمجھدار لوگوں کو اکٹھا کر کے ساری بات تفصیل سے سمجھائی کہ فواد سولہ سترہ سال کا لڑکا ہے، میٹرک کا طالب علم ہے اور کراچی سے آ کر ہمارے ساتھ شادی میں جانے والا تھا۔ وقتی طور پر سب مان گئے، لیکن بعد میں محلے والوں نے ہم سے میل جول کم کر دیا۔
میری دوستوں نے میرے گھر آنا بند کر دیا۔ میں نے قسمیں کھا کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کی، مگر بے سود۔ انہوں نے مجھے گناہ گار ٹھہرا دیا۔ لوگ کتنے سنگدل اور عجیب ہوتے ہیں، صرف باتیں بنانا جانتے ہیں۔ میں نے چار ماہ بڑی بے چینی میں گزارے۔ اس کے بعد میری پڑھائی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میں ڈاکٹر بنتے بنتے رہ گئی اور ایک عام سی لڑکی بن کر رہ گئی۔ زندگی کے معنی ہی بدل گئے، بلکہ زندگی بے معنی ہو گئی۔ کہتے ہیں جو جیسا کرتا ہے، ویسا ہی بھرتا ہے۔ مجھے نہ جانے کس جرم کی سزا ملی، لیکن ہمارے پڑوسی کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملی۔ اسی نے سب سے پہلے فواد کو دیوار پھلانگتے دیکھا اور شور مچایا، لوگوں کو اکٹھا کیا، ڈنڈے منگوائے اور کہا کہ دروازے پر گھات لگا کر کھڑے رہو، آخرکار وہ مردود یہیں سے نکلے گا۔ اسی پڑوسی نے بغیر سوچے سمجھے میری پاکیزگی پر الزام لگایا، مجمع اکٹھا کیا، فواد کو تھانے لے جانے میں پیش پیش رہا اور میری زندگی برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس نے محلے والوں سے کہا کہ اگر تمہاری لڑکیاں شازیہ کے گھر گئیں یا اس سے دوستی رکھی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔۔
اس شخص کا نام رشید تھا۔ وہ نہ جانے کہاں سے آ کر ہمارے قصبے میں آباد ہوا تھا۔ اس کی بیوی زبان دراز اور جھگڑالو تھی، رشید کی اس سے بالکل نہیں بنتی تھی بلکہ ان دونوں کے درمیان ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ جب تک یہ شخص قصبے میں رہا، اس نے محلے والوں کو بھڑکائے رکھا، جس کی وجہ سے نہ میں اور نہ ہی میری بہنیں اسکول جا سکتی تھیں۔ سب لوگ ہمیں نفرت اور حقارت سے دیکھتے تھے۔ ہمارا گھر اپنا تھا، اس لیے ہم محلہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ ابا جان کو محلے والوں کے اس رویے پر بہت دکھ ہوتا تھا۔
ایک دن سنا کہ رشید صاحب کا تبادلہ ہو گیا ہے۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ چلو اس فسادی ہمسائے سے تو جان چھوٹی۔ وہ اپنے دونوں لڑکوں کو بھی ساتھ لے گیا اور وہیں اسکول میں داخل کرا دیا۔ وہ چھٹیوں میں یا پندرہ دن بعد گھر آتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد محلے میں کچھ سکون ہو گیا اور لوگ اس واقعے کی شدت کو بھولنے لگے۔
انہی دنوں اماں جان بیمار ہو گئیں۔ نہ جانے کیسے ہماری پڑوسن، بیگم رشید، کے دل میں انسانیت جاگی اور وہ امی کی خیریت پوچھنے آ گئیں۔ اصل میں وہ ہمارے گھر ٹوہ لینے آئی تھیں۔ خیر، امی نے انہیں اچھی طرح بٹھایا اور کوئی شکایت کیے بغیر خاطر مدارت کی۔ باتوں باتوں میں خالہ نے بتایا کہ ان کا بڑا بیٹا مراد سعودی عرب جا رہا ہے تاکہ بھائیوں کی پڑھائی کا بوجھ سنبھال سکے۔ خالہ کی ایک بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی اور ایک بیٹا میرپور میں پڑھ رہا تھا۔
یوں مراد کو گئے تین سال گزر گئے۔ وہ کما کر پیسے بھیجتا رہا اور گھر والوں کے حالات سدھر گئے۔ جب تین سال بعد وہ پاکستان آیا تو والدین نے اس کی شادی کا سوچا۔ خالہ اپنی بھتیجی کو بیاہ کر لانا چاہتی تھیں، لیکن رشید صاحب اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو ہرگز بہو نہیں بنانا چاہتے تھے۔ اس بات پر بھی کافی جھگڑا رہا، مگر آخرکار جیت رشید صاحب کی ہوئی۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں میں سے ایک لڑکی کو پسند کر لیا، جس کا نام رفعت تھا۔
شادی کے بعد جب مراد نے رفعت کو دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا، وہ تو اس کے خوابوں کی شہزادی نکلی۔ یوں اس کی ویران زندگی میں بہار آ گئی۔ رفعت صورت کی جتنی اچھی تھی، سیرت کی بھی اتنی ہی پیاری نکلی۔ شادی پر انہوں نے ہمیں نہیں بلایا، مگر بعد میں خالہ آئیں اور امی سے کہا کہ برادری کے ڈر کی وجہ سے آپ لوگوں کو نہیں بلا سکی، اب آ کر دلہن کو دیکھ جائیے۔ میں نے اور سب گھر والوں نے منع کر دیا اور ہم دلہن کو دیکھنے نہیں گئے۔ کچھ عرصہ بعد مراد واپس سعودی عرب چلا گیا۔
تھوڑے ہی دنوں بعد مراد کو گھر سے ایسے خطوط ملنے لگے، جن میں لکھا ہوتا کہ تمہاری بیوی گھر کا ذرا بھی کام نہیں کرتی، ساس کا ادب نہیں کرتی، سارا وقت بن ٹھن کر رہتی ہے اور جب چاہتی ہے بغیر بتائے محلے کے گھروں میں چلی جاتی ہے۔ ایک دفعہ تو ماں نے ایسا خط لکھا جس نے بیٹے کی دنیا ہی اندھیر کر دی۔ خالہ نے بیٹے کو لکھا کہ تمہاری بیوی ہر وقت فون پر غیر مردوں سے باتیں کرتی ہے اور ایک دفعہ تو کسی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر چلی بھی گئی تھی۔ واپسی پر جب ہم نے اس سے باز پرس کی تو وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی۔ اب ہم ایسی بے حیا بہو کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں، بہتر ہے کہ تم اسے طلاق بھیج دو۔
یہ خط ملتے ہی مراد کا سکون لٹ گیا۔ حالات جاننے کے لیے وہ کام کاج چھوڑ کر واپس وطن آ گیا، لیکن گھر والوں اور خصوصاً ماں نے اس پر اتنا دباؤ ڈالا کہ اسے رفعت کو طلاق دینی پڑی۔ اب خالہ کی بن آئی، انہوں نے بیٹے پر زور دیا کہ وہ ان کی بھتیجی صائمہ سے شادی کر لے۔ پہلے تو وہ نہ مانا، لیکن پھر ماں کی خوشی کی خاطر ہار مان لی اور اس کی شادی ماں کی بھتیجی سے ہو گئی۔
جس وقت صائمہ کی شادی ہوئی، اس کی عمر سترہ برس تھی۔ مراد ایک ماہ رہ کر واپس سعودی عرب چلا گیا اور حسبِ معمول اپنی نئی نویلی دلہن کو والدین کے پاس چھوڑ گیا۔ پہلے پہل تو صائمہ سسرال میں ٹھیک رہی، پھر کچھ پریشان رہنے لگی۔ خالہ اسے میکے کم جانے دیتی تھیں۔ رفعت ایک صابر لڑکی تھی، لیکن ہر انسان کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے، صائمہ ویسی نہ تھی۔ وہ تیز طبیعت اور جھگڑالو ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بے صبری بھی تھی۔
وہ بات بات پر ساس سے الجھنے لگی۔ ہر وقت کہتی تھی کہ مجھے میکے بھیجو یا پھر مراد لوٹ آئے، میں یہاں آپ لوگوں کے پاس قیدی بن کر کیوں رہوں؟ اب پھر مراد کے پاس والدہ کے خط پہنچنے لگے کہ نئی دلہن تمہارے لیے بے قرار رہتی ہے اور ہم سے بلاوجہ لڑتی جھگڑتی ہے، تم ہی کہو ہم کیا کریں؟ ایک بار پہلے بھی مراد کا گھر برباد ہو چکا تھا، اس لیے وہ اب تحمل سے کام لے رہا تھا۔ وہ ان باتوں کا جواب گول کر جاتا؛ سعودی عرب سے جلد آنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی اتنی آسانی سے چھٹی ملتی ہے۔
صائمہ درحقیقت جوشیلی لڑکی تھی، وہ بھرپور عمر کے دور میں تھی اور جیون ساتھی کی طویل جدائی نہیں سہہ سکتی تھی۔ وہ خود کو تنہا محسوس کرتی اور گھٹی گھٹی رہتی تھی، اسے کہیں پاس پڑوس میں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس نے یہ عادت بنا لی تھی کہ جب بور ہوتی تو چھت پر چلی جاتی اور منڈیر سے گلی میں جھانکتی رہتی۔ کبھی بچے کرکٹ کھیل رہے ہوتے، کبھی کوئی مداری تماشہ دکھا رہا ہوتا اور کبھی بارات جا رہی ہوتی؛ یہ سب وہ بچیوں جیسی محویت سے دیکھتی رہتی۔ جب ساس آواز لگاتیں: “صائمہ! چھت پر کیا کر رہی ہو؟ نیچے آ جاؤ،” تو وہ ساس سے الجھ پڑتی اور کہتی: “کیا میں تمہاری قید میں ہوں؟ دو منٹ کو کھلی ہوا میں سانس بھی نہیں لینے دیتی ہو، اگر دیکھ لو کہ میں کیا کر رہی ہوں۔” صائمہ کو ساس سے یہی خار تھی کہ وہ اسے جلدی میکے نہیں جانے دیتی تھی اور نہ وہاں رکنے دیتی تھی، جس کا بدلہ صائمہ ان سے لڑ جھگڑ کر نکالتی تھی۔
انہیں دنوں مراد نے رشید کو سعودی عرب کا ویزا بھیج دیا۔ وہ ملازمت چھوڑ کر بیٹے کے پاس چلا گیا، یوں اب گھر میں صرف عورتیں ہی باقی رہ گئی تھیں۔ سسر کے جاتے ہی صائمہ کی بے چینی ختم ہو گئی اور سارا ڈر و خوف جاتا رہا۔ اب وہ ساس کو ذرا بھی خاطر میں نہ لاتی تھی، جو رشتے میں اس کی پھوپھی لگتی تھیں۔ اگر وہ زیادہ سختی کرتیں، تو بھائی بھی آ جاتے۔ غرض، مراد کی ماں نے بھتیجی کو بہو بنا کر خود کو بری طرح پھنسا لیا تھا۔
اب صائمہ زیادہ وقت چھت پر گزارنے لگی اور ساس نے لڑائی کے خوف سے اس کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔ ایک دن وہ منڈیر سے گلی میں جھانک رہی تھی کہ سامنے والے گھر کے ایک نوجوان نے اپنی چھت سے اس کی طرف پھول پھینکا۔ یہ ایک خوبصورت لڑکا تھا اور سامنے والے مکان میں بطور کرایہ دار رہائش پذیر تھا۔ صائمہ نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور شرماتے ہوئے نیچے چلی گئی۔
ان دنوں وہ ایک بچی کی ماں بھی بن چکی تھی۔ بچی کی پرورش کا زیادہ تر ذمہ صائمہ نے اپنی ساس کو سونپ دیا تھا۔
دوسرے روز وہ دوبارہ چھت پر آئی، شام کا وقت تھا۔ وہ روزانہ شام کو گھنٹہ آدھ گھنٹہ چھت پر ٹھہر کر گلی کا منظر ضرور دیکھتی تھی۔ آج بھی سامنے والا نوجوان، عامر، اس کی راہ تک رہا تھا۔ اس نے پھولوں کا گجرا پوری قوت سے اس کی جانب پھینکا، جو صائمہ کے سامنے منڈیر پر آ گرا۔ گجرا سفید کلیوں کا تھا، جس میں جگہ جگہ گلاب کی پتیاں پروئی ہوئی تھیں۔ وہ گجرا موتیے کے عطر میں بسا ہوا اور اتنا معطر تھا کہ اس کی خوشبو نے صائمہ کے حواس گم کر دیے۔
صائمہ نے گجرا اٹھایا، اسے سونگھا اور شرماتے ہوئے نیچے چلی گئی۔ اس کے بعد یہ ایک معمول بن گیا۔ جب بھی وہ اوپر جاتی، عامر کی نگاہیں اور پھولوں کے گجرے اس کا انتظار کر رہے ہوتے۔ پہلے تو اس نے اس نئے تعلق کو قبول نہ کیا کیونکہ وہ شادی شدہ تھی، لیکن پھر اس کا دل بھی عامر کی طرف مائل ہو گیا۔ پہلے وہ شوہر کی جدائی سے پریشان رہتی تھی، لیکن اس نئے مشغلے کے بعد وہ مراد کو بالکل بھول گئی۔
گلی میں ایک چار دیواری تھی جو صائمہ کے کچن کی دیوار کے ساتھ ملتی تھی۔ یہ دونوں اس چار دیواری کی آڑ کا فائدہ اٹھا کر روشندان کے گول سوراخ سے باتیں کرنے لگے۔ دوپہر کو جب ساس سو جاتیں اور بچی بھی سو رہی ہوتی، تو صائمہ باورچی خانے میں کرسی پر چڑھ کر عامر سے باتیں کرتی۔ ایک دن گلی میں بچوں نے انہیں باتیں کرتے دیکھ لیا، لیکن عامر نے بچوں کو ٹافیاں دے کر خاموش کروا دیا۔
اب صائمہ کا دھیان بالکل شوہر سے ہٹ گیا۔ اسے مراد کو گئے ہوئے تین سال ہو چکے تھے، جو صرف ایک ماہ کی دلہن کو چھوڑ کر گیا تھا۔ اب بھی مراد کے خط آتے رہتے تھے۔ شروع میں صائمہ مراد کے لیے بہت تڑپتی تھی اور اس کے بغیر اس کا دل نہیں لگتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ وہ مایوس ہو گئی۔ نہ کہیں آنا جانا ہوتا تھا اور نہ ہی سیر و تفریح؛ میکے والے بھی مہینہ دو مہینہ بعد آتے اور ساس ہر تین ماہ بعد صرف ایک دن کے لیے اسے میکے لے کر جاتیں اور شام کو ساتھ ہی واپس لے آتیں۔
ایسی آزادی کسی کے ساتھ کی متقاضی ہو جاتی ہے اور کسی پیار کرنے والے کی چاہ بڑھ جاتی ہے۔ اس نے بھی اپنی تنہائی کا حل نکال لیا اور اپنے نئے پڑوسی سے دل لگا بیٹھی۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ جب اس کا خاوند پردیس سے آئے گا تو وہ اسے کیا جواب دے گی۔ یوں وہ بے وفائی کے راستے پر گامزن ہو گئی۔
ایک دن جب اس کی ساس گھر میں نہیں تھیں اور نند بھی کالج گئی ہوئی تھی، اس نے ہمت کر کے عامر کو گھر بلا لیا۔ مگر میرے والد نے اسے گھر میں داخل ہوتے دیکھ لیا۔ حیرت اور غصے کے عالم میں انہوں نے سامنے والے محلے دار سے کہا: “کرائے دار عامر، رشید صاحب کے گھر گیا ہے۔” جیسے ہی یہ خبر محلے میں پہنچی، سب پڑوسی اپنی اپنی رائے بنانے لگے۔ کچھ کہنے لگے کہ یہ معمولی بات نہیں، دیکھنا پڑے گا۔ کچھ لوگ صدمے میں تھے اور کچھ نے افواہوں کا سلسلہ شروع کر دیا کہ سنا ہے اس گھرانے میں پہلے ہی کچھ مسئلے چل رہے تھے۔
چند دن بعد رشید صاحب اور مراد واپس آ گئے۔ محلے میں ہر طرف سرگوشیاں چل رہی تھیں، لیکن اصل حقیقت ابھی تک کسی کو معلوم نہ تھی۔ میرے والد نے فیصلہ کیا کہ سب کچھ صاف صاف بیان کر دیں۔ ایک شام سب پڑوسی جمع ہوئے تو میرے والد نے حقیقت بتائی: “جو ہوا وہ معمولی نہیں۔ رشید صاحب نے (پہلے) ایک معصوم لڑکی کی پاکیزگی پر تہمت لگا کر اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔” رشید صاحب کی حالت دکھی تھی اور ان کے دل میں پچھتاوے کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کی ایک غلط فہمی اور حرکت نے ایک معصوم لڑکی (رفعت) کی زندگی برباد کر دی تھی۔
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے مزید کہا: “میں نے نہ صرف اپنی بیٹی بلکہ تمہارے خاندان کا وقار بھی خاک میں ملا دیا۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب کبھی دھوکہ نہیں دوں گی اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایمانداری کے راستے پر چلوں گی۔” بے شک سچائی اور پچھتاوے کی طاقت سب سے بڑی ہوتی ہے۔ یہ لمحہ صرف شرمندگی کا نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کا تھا۔ سچ، خلوص اور حقیقی توبہ کا آغاز۔
میں شروع سے ہی بہت لائق تھی۔ میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا اور میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔ کالج جانے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر میں نے حوصلہ نہ ہارا۔ شاید حوصلہ نامی صفت اللہ تعالیٰ نے میرے اندر بے پناہ رکھ دی تھی۔ میں روزانہ دو گھنٹے کا سفر طے کر کے کالج پہنچتی تھی، کیونکہ کچھ راستہ پیدل بھی چلنا پڑتا تھا، پہلے ٹانگے پر اور پھر بس میں۔ یوں ایک لمبے سفر اور طویل مشقت کے بعد کالج پہنچتی تھی، پھر بھی میں نے ہمت نہ ہاری، لیکن آخرکار میری ساری محنت ضائع ہو گئی۔
ان دنوں میں میڈیکل کے تیسرے سال میں تھی کہ میرے ساتھ ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس کے بارے میں دعا کرتی ہوں کہ کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ ہو۔ ہمارے خاندان میں ایک شادی تھی۔ سب گھر والوں نے شادی میں جانا تھا، لیکن میرے امتحانات قریب ہونے کی وجہ سے میں نہ جا سکی۔ چنانچہ گھر والے مجھے چھوڑ کر صبح سویرے شادی میں روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ شام تک واپس آ جائیں گے۔ ہمارے ایک کزن فواد نے کراچی سے شادی میں شرکت کے لیے آنا تھا، لیکن ٹرین لیٹ ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکا۔ اس لیے گھر والے اس کا انتظار کیے بغیر روانہ ہو گئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ جب فواد آئے تو اسے وہیں بھیج دینا۔
گھر والوں کے جانے کے بعد میں پڑھائی میں مصروف ہو گئی۔ پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی اور میں گہری نیند سو گئی۔ کچھ دیر بعد فواد آ گیا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر میں بیدار نہ ہو سکی۔ کافی دیر تک دروازہ نہ کھلنے پر وہ پریشان ہو گیا اور دیوار پھلانگ کر اندر آ گیا۔ ہمارے ہمسائے نے اسے دیوار پھلانگتے دیکھ لیا۔ انہیں معلوم تھا کہ شازیہ گھر میں اکیلی ہے، چنانچہ انہوں نے لوگوں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ میں ابھی تک سو رہی تھی۔ فواد نے آ کر مجھے جگایا۔ میں نے اسے کھانا دیا اور ابو کا پیغام بھی پہنچایا۔ جب وہ کھانا کھا کر شادی میں جانے کے لیے گھر سے نکلا تو باہر چار پانچ لوگ ڈنڈے ہاتھوں میں لیے کھڑے تھے۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فواد پر حملہ کر دیا، پھر اسے گھسیٹتے ہوئے تھانے لے گئے۔
میں چیختی چلاتی رہی، مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔ ہر کوئی اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ لڑکی اس کے ساتھ بھاگ رہی تھی، کوئی کہہ رہا تھا کہ ہم نے چھاپہ مار کر انہیں قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا ہے۔ غرض جتنے منہ، اتنی باتیں۔ وہ دن میری زندگی میں قیامت کی طرح گزرا۔ میں نے ابو کو فون کیا۔ وہ فوراً گھر والوں کو لے کر آ گئے۔ میں نے دروازہ کھولا اور ابو کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ابو نے مجھے تسلی دی اور کہا: “بیٹا، کیا بات ہے؟ مجھے سب کچھ بتاؤ، ڈرو مت۔” وہ دروازے پر پڑے خون کے نشانات پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔ میرے منہ سے صرف اتنا نکلا کہ محلے والے فواد کو مار دیں گے۔ ابو فوراً باہر نکلے۔ باہر لوگ جمع تھے، کوئی کچھ کہہ رہا تھا اور کوئی کچھ۔ ابو سیدھے گاڑی میں بیٹھ کر تھانے گئے اور فواد کو چھڑوا لائے۔ وہ زخموں سے نڈھال تھا۔ جب وہ گھر آیا تو میں اس کے بھی گلے لگ کر رونے لگی۔ پتہ نہیں مجھ میں اتنا حوصلہ کہاں سے آ گیا تھا۔
سب گھر والے موجود تھے، مگر مجھے اس کی جان کی فکر تھی۔ ابو اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور مرہم پٹی کروائی۔ پھر میں نے ابو کو ساری تفصیل بتا دی۔ انہوں نے میری بات پر یقین کیا، کیونکہ وہ پڑھے لکھے اور باشعور انسان تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں اب سمجھدار ہوں اور ایسا نہیں کر سکتی۔ بعد میں ابو نے محلے کے سمجھدار لوگوں کو اکٹھا کر کے ساری بات تفصیل سے سمجھائی کہ فواد سولہ سترہ سال کا لڑکا ہے، میٹرک کا طالب علم ہے اور کراچی سے آ کر ہمارے ساتھ شادی میں جانے والا تھا۔ وقتی طور پر سب مان گئے، لیکن بعد میں محلے والوں نے ہم سے میل جول کم کر دیا۔
میری دوستوں نے میرے گھر آنا بند کر دیا۔ میں نے قسمیں کھا کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کی، مگر بے سود۔ انہوں نے مجھے گناہ گار ٹھہرا دیا۔ لوگ کتنے سنگدل اور عجیب ہوتے ہیں، صرف باتیں بنانا جانتے ہیں۔ میں نے چار ماہ بڑی بے چینی میں گزارے۔ اس کے بعد میری پڑھائی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میں ڈاکٹر بنتے بنتے رہ گئی اور ایک عام سی لڑکی بن کر رہ گئی۔ زندگی کے معنی ہی بدل گئے، بلکہ زندگی بے معنی ہو گئی۔ کہتے ہیں جو جیسا کرتا ہے، ویسا ہی بھرتا ہے۔ مجھے نہ جانے کس جرم کی سزا ملی، لیکن ہمارے پڑوسی کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملی۔ اسی نے سب سے پہلے فواد کو دیوار پھلانگتے دیکھا اور شور مچایا، لوگوں کو اکٹھا کیا، ڈنڈے منگوائے اور کہا کہ دروازے پر گھات لگا کر کھڑے رہو، آخرکار وہ مردود یہیں سے نکلے گا۔ اسی پڑوسی نے بغیر سوچے سمجھے میری پاکیزگی پر الزام لگایا، مجمع اکٹھا کیا، فواد کو تھانے لے جانے میں پیش پیش رہا اور میری زندگی برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس نے محلے والوں سے کہا کہ اگر تمہاری لڑکیاں شازیہ کے گھر گئیں یا اس سے دوستی رکھی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔۔
اس شخص کا نام رشید تھا۔ وہ نہ جانے کہاں سے آ کر ہمارے قصبے میں آباد ہوا تھا۔ اس کی بیوی زبان دراز اور جھگڑالو تھی، رشید کی اس سے بالکل نہیں بنتی تھی بلکہ ان دونوں کے درمیان ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ جب تک یہ شخص قصبے میں رہا، اس نے محلے والوں کو بھڑکائے رکھا، جس کی وجہ سے نہ میں اور نہ ہی میری بہنیں اسکول جا سکتی تھیں۔ سب لوگ ہمیں نفرت اور حقارت سے دیکھتے تھے۔ ہمارا گھر اپنا تھا، اس لیے ہم محلہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ ابا جان کو محلے والوں کے اس رویے پر بہت دکھ ہوتا تھا۔
ایک دن سنا کہ رشید صاحب کا تبادلہ ہو گیا ہے۔ ہم بہت خوش ہوئے کہ چلو اس فسادی ہمسائے سے تو جان چھوٹی۔ وہ اپنے دونوں لڑکوں کو بھی ساتھ لے گیا اور وہیں اسکول میں داخل کرا دیا۔ وہ چھٹیوں میں یا پندرہ دن بعد گھر آتا تھا۔ اس کے جانے کے بعد محلے میں کچھ سکون ہو گیا اور لوگ اس واقعے کی شدت کو بھولنے لگے۔
انہی دنوں اماں جان بیمار ہو گئیں۔ نہ جانے کیسے ہماری پڑوسن، بیگم رشید، کے دل میں انسانیت جاگی اور وہ امی کی خیریت پوچھنے آ گئیں۔ اصل میں وہ ہمارے گھر ٹوہ لینے آئی تھیں۔ خیر، امی نے انہیں اچھی طرح بٹھایا اور کوئی شکایت کیے بغیر خاطر مدارت کی۔ باتوں باتوں میں خالہ نے بتایا کہ ان کا بڑا بیٹا مراد سعودی عرب جا رہا ہے تاکہ بھائیوں کی پڑھائی کا بوجھ سنبھال سکے۔ خالہ کی ایک بیٹی ڈاکٹر بن رہی تھی اور ایک بیٹا میرپور میں پڑھ رہا تھا۔
یوں مراد کو گئے تین سال گزر گئے۔ وہ کما کر پیسے بھیجتا رہا اور گھر والوں کے حالات سدھر گئے۔ جب تین سال بعد وہ پاکستان آیا تو والدین نے اس کی شادی کا سوچا۔ خالہ اپنی بھتیجی کو بیاہ کر لانا چاہتی تھیں، لیکن رشید صاحب اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو ہرگز بہو نہیں بنانا چاہتے تھے۔ اس بات پر بھی کافی جھگڑا رہا، مگر آخرکار جیت رشید صاحب کی ہوئی۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں میں سے ایک لڑکی کو پسند کر لیا، جس کا نام رفعت تھا۔
شادی کے بعد جب مراد نے رفعت کو دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا، وہ تو اس کے خوابوں کی شہزادی نکلی۔ یوں اس کی ویران زندگی میں بہار آ گئی۔ رفعت صورت کی جتنی اچھی تھی، سیرت کی بھی اتنی ہی پیاری نکلی۔ شادی پر انہوں نے ہمیں نہیں بلایا، مگر بعد میں خالہ آئیں اور امی سے کہا کہ برادری کے ڈر کی وجہ سے آپ لوگوں کو نہیں بلا سکی، اب آ کر دلہن کو دیکھ جائیے۔ میں نے اور سب گھر والوں نے منع کر دیا اور ہم دلہن کو دیکھنے نہیں گئے۔ کچھ عرصہ بعد مراد واپس سعودی عرب چلا گیا۔
تھوڑے ہی دنوں بعد مراد کو گھر سے ایسے خطوط ملنے لگے، جن میں لکھا ہوتا کہ تمہاری بیوی گھر کا ذرا بھی کام نہیں کرتی، ساس کا ادب نہیں کرتی، سارا وقت بن ٹھن کر رہتی ہے اور جب چاہتی ہے بغیر بتائے محلے کے گھروں میں چلی جاتی ہے۔ ایک دفعہ تو ماں نے ایسا خط لکھا جس نے بیٹے کی دنیا ہی اندھیر کر دی۔ خالہ نے بیٹے کو لکھا کہ تمہاری بیوی ہر وقت فون پر غیر مردوں سے باتیں کرتی ہے اور ایک دفعہ تو کسی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر چلی بھی گئی تھی۔ واپسی پر جب ہم نے اس سے باز پرس کی تو وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی۔ اب ہم ایسی بے حیا بہو کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں، بہتر ہے کہ تم اسے طلاق بھیج دو۔
یہ خط ملتے ہی مراد کا سکون لٹ گیا۔ حالات جاننے کے لیے وہ کام کاج چھوڑ کر واپس وطن آ گیا، لیکن گھر والوں اور خصوصاً ماں نے اس پر اتنا دباؤ ڈالا کہ اسے رفعت کو طلاق دینی پڑی۔ اب خالہ کی بن آئی، انہوں نے بیٹے پر زور دیا کہ وہ ان کی بھتیجی صائمہ سے شادی کر لے۔ پہلے تو وہ نہ مانا، لیکن پھر ماں کی خوشی کی خاطر ہار مان لی اور اس کی شادی ماں کی بھتیجی سے ہو گئی۔
جس وقت صائمہ کی شادی ہوئی، اس کی عمر سترہ برس تھی۔ مراد ایک ماہ رہ کر واپس سعودی عرب چلا گیا اور حسبِ معمول اپنی نئی نویلی دلہن کو والدین کے پاس چھوڑ گیا۔ پہلے پہل تو صائمہ سسرال میں ٹھیک رہی، پھر کچھ پریشان رہنے لگی۔ خالہ اسے میکے کم جانے دیتی تھیں۔ رفعت ایک صابر لڑکی تھی، لیکن ہر انسان کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے، صائمہ ویسی نہ تھی۔ وہ تیز طبیعت اور جھگڑالو ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بے صبری بھی تھی۔
وہ بات بات پر ساس سے الجھنے لگی۔ ہر وقت کہتی تھی کہ مجھے میکے بھیجو یا پھر مراد لوٹ آئے، میں یہاں آپ لوگوں کے پاس قیدی بن کر کیوں رہوں؟ اب پھر مراد کے پاس والدہ کے خط پہنچنے لگے کہ نئی دلہن تمہارے لیے بے قرار رہتی ہے اور ہم سے بلاوجہ لڑتی جھگڑتی ہے، تم ہی کہو ہم کیا کریں؟ ایک بار پہلے بھی مراد کا گھر برباد ہو چکا تھا، اس لیے وہ اب تحمل سے کام لے رہا تھا۔ وہ ان باتوں کا جواب گول کر جاتا؛ سعودی عرب سے جلد آنا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی اتنی آسانی سے چھٹی ملتی ہے۔
صائمہ درحقیقت جوشیلی لڑکی تھی، وہ بھرپور عمر کے دور میں تھی اور جیون ساتھی کی طویل جدائی نہیں سہہ سکتی تھی۔ وہ خود کو تنہا محسوس کرتی اور گھٹی گھٹی رہتی تھی، اسے کہیں پاس پڑوس میں بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس نے یہ عادت بنا لی تھی کہ جب بور ہوتی تو چھت پر چلی جاتی اور منڈیر سے گلی میں جھانکتی رہتی۔ کبھی بچے کرکٹ کھیل رہے ہوتے، کبھی کوئی مداری تماشہ دکھا رہا ہوتا اور کبھی بارات جا رہی ہوتی؛ یہ سب وہ بچیوں جیسی محویت سے دیکھتی رہتی۔ جب ساس آواز لگاتیں: “صائمہ! چھت پر کیا کر رہی ہو؟ نیچے آ جاؤ،” تو وہ ساس سے الجھ پڑتی اور کہتی: “کیا میں تمہاری قید میں ہوں؟ دو منٹ کو کھلی ہوا میں سانس بھی نہیں لینے دیتی ہو، اگر دیکھ لو کہ میں کیا کر رہی ہوں۔” صائمہ کو ساس سے یہی خار تھی کہ وہ اسے جلدی میکے نہیں جانے دیتی تھی اور نہ وہاں رکنے دیتی تھی، جس کا بدلہ صائمہ ان سے لڑ جھگڑ کر نکالتی تھی۔
انہیں دنوں مراد نے رشید کو سعودی عرب کا ویزا بھیج دیا۔ وہ ملازمت چھوڑ کر بیٹے کے پاس چلا گیا، یوں اب گھر میں صرف عورتیں ہی باقی رہ گئی تھیں۔ سسر کے جاتے ہی صائمہ کی بے چینی ختم ہو گئی اور سارا ڈر و خوف جاتا رہا۔ اب وہ ساس کو ذرا بھی خاطر میں نہ لاتی تھی، جو رشتے میں اس کی پھوپھی لگتی تھیں۔ اگر وہ زیادہ سختی کرتیں، تو بھائی بھی آ جاتے۔ غرض، مراد کی ماں نے بھتیجی کو بہو بنا کر خود کو بری طرح پھنسا لیا تھا۔
اب صائمہ زیادہ وقت چھت پر گزارنے لگی اور ساس نے لڑائی کے خوف سے اس کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا۔ ایک دن وہ منڈیر سے گلی میں جھانک رہی تھی کہ سامنے والے گھر کے ایک نوجوان نے اپنی چھت سے اس کی طرف پھول پھینکا۔ یہ ایک خوبصورت لڑکا تھا اور سامنے والے مکان میں بطور کرایہ دار رہائش پذیر تھا۔ صائمہ نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور شرماتے ہوئے نیچے چلی گئی۔
ان دنوں وہ ایک بچی کی ماں بھی بن چکی تھی۔ بچی کی پرورش کا زیادہ تر ذمہ صائمہ نے اپنی ساس کو سونپ دیا تھا۔
دوسرے روز وہ دوبارہ چھت پر آئی، شام کا وقت تھا۔ وہ روزانہ شام کو گھنٹہ آدھ گھنٹہ چھت پر ٹھہر کر گلی کا منظر ضرور دیکھتی تھی۔ آج بھی سامنے والا نوجوان، عامر، اس کی راہ تک رہا تھا۔ اس نے پھولوں کا گجرا پوری قوت سے اس کی جانب پھینکا، جو صائمہ کے سامنے منڈیر پر آ گرا۔ گجرا سفید کلیوں کا تھا، جس میں جگہ جگہ گلاب کی پتیاں پروئی ہوئی تھیں۔ وہ گجرا موتیے کے عطر میں بسا ہوا اور اتنا معطر تھا کہ اس کی خوشبو نے صائمہ کے حواس گم کر دیے۔
صائمہ نے گجرا اٹھایا، اسے سونگھا اور شرماتے ہوئے نیچے چلی گئی۔ اس کے بعد یہ ایک معمول بن گیا۔ جب بھی وہ اوپر جاتی، عامر کی نگاہیں اور پھولوں کے گجرے اس کا انتظار کر رہے ہوتے۔ پہلے تو اس نے اس نئے تعلق کو قبول نہ کیا کیونکہ وہ شادی شدہ تھی، لیکن پھر اس کا دل بھی عامر کی طرف مائل ہو گیا۔ پہلے وہ شوہر کی جدائی سے پریشان رہتی تھی، لیکن اس نئے مشغلے کے بعد وہ مراد کو بالکل بھول گئی۔
گلی میں ایک چار دیواری تھی جو صائمہ کے کچن کی دیوار کے ساتھ ملتی تھی۔ یہ دونوں اس چار دیواری کی آڑ کا فائدہ اٹھا کر روشندان کے گول سوراخ سے باتیں کرنے لگے۔ دوپہر کو جب ساس سو جاتیں اور بچی بھی سو رہی ہوتی، تو صائمہ باورچی خانے میں کرسی پر چڑھ کر عامر سے باتیں کرتی۔ ایک دن گلی میں بچوں نے انہیں باتیں کرتے دیکھ لیا، لیکن عامر نے بچوں کو ٹافیاں دے کر خاموش کروا دیا۔
اب صائمہ کا دھیان بالکل شوہر سے ہٹ گیا۔ اسے مراد کو گئے ہوئے تین سال ہو چکے تھے، جو صرف ایک ماہ کی دلہن کو چھوڑ کر گیا تھا۔ اب بھی مراد کے خط آتے رہتے تھے۔ شروع میں صائمہ مراد کے لیے بہت تڑپتی تھی اور اس کے بغیر اس کا دل نہیں لگتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ وہ مایوس ہو گئی۔ نہ کہیں آنا جانا ہوتا تھا اور نہ ہی سیر و تفریح؛ میکے والے بھی مہینہ دو مہینہ بعد آتے اور ساس ہر تین ماہ بعد صرف ایک دن کے لیے اسے میکے لے کر جاتیں اور شام کو ساتھ ہی واپس لے آتیں۔
ان حالات نے اسے چڑچڑا اور باغی بنا دیا تھا۔ پھر جب بچی پیدا ہوئی، تو اس نے اس میں دل لگانے کی کوشش کی، مگر بچے کی پرورش اور دیکھ بھال ایک مشکل کام تھا۔ تاہم خالہ کو اپنی پوتی بہت پیاری تھی، اس لیے انہوں نے بہو سے صلح کی پالیسی اختیار کر لی۔ صائمہ نے بچی کو ساس کی گود میں دے دیا اور خود (ذمہ داریوں سے) آزاد ہو گئی۔
ایسی آزادی کسی کے ساتھ کی متقاضی ہو جاتی ہے اور کسی پیار کرنے والے کی چاہ بڑھ جاتی ہے۔ اس نے بھی اپنی تنہائی کا حل نکال لیا اور اپنے نئے پڑوسی سے دل لگا بیٹھی۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ جب اس کا خاوند پردیس سے آئے گا تو وہ اسے کیا جواب دے گی۔ یوں وہ بے وفائی کے راستے پر گامزن ہو گئی۔
ایک دن جب اس کی ساس گھر میں نہیں تھیں اور نند بھی کالج گئی ہوئی تھی، اس نے ہمت کر کے عامر کو گھر بلا لیا۔ مگر میرے والد نے اسے گھر میں داخل ہوتے دیکھ لیا۔ حیرت اور غصے کے عالم میں انہوں نے سامنے والے محلے دار سے کہا: “کرائے دار عامر، رشید صاحب کے گھر گیا ہے۔” جیسے ہی یہ خبر محلے میں پہنچی، سب پڑوسی اپنی اپنی رائے بنانے لگے۔ کچھ کہنے لگے کہ یہ معمولی بات نہیں، دیکھنا پڑے گا۔ کچھ لوگ صدمے میں تھے اور کچھ نے افواہوں کا سلسلہ شروع کر دیا کہ سنا ہے اس گھرانے میں پہلے ہی کچھ مسئلے چل رہے تھے۔
چند دن بعد رشید صاحب اور مراد واپس آ گئے۔ محلے میں ہر طرف سرگوشیاں چل رہی تھیں، لیکن اصل حقیقت ابھی تک کسی کو معلوم نہ تھی۔ میرے والد نے فیصلہ کیا کہ سب کچھ صاف صاف بیان کر دیں۔ ایک شام سب پڑوسی جمع ہوئے تو میرے والد نے حقیقت بتائی: “جو ہوا وہ معمولی نہیں۔ رشید صاحب نے (پہلے) ایک معصوم لڑکی کی پاکیزگی پر تہمت لگا کر اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔” رشید صاحب کی حالت دکھی تھی اور ان کے دل میں پچھتاوے کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ ان کی ایک غلط فہمی اور حرکت نے ایک معصوم لڑکی (رفعت) کی زندگی برباد کر دی تھی۔
رشید صاحب نے لرزتی آواز میں کہا: “میں نے اپنی حرکتوں سے ایک معصوم کا اعتماد توڑا، اس کے جذبات سے کھیلا اور اپنے گھر کے وقار کو داغدار کیا۔ میں اپنی غلطیوں کا ذمہ دار ہوں اور دل سے معافی مانگتا ہوں۔” دوسری طرف صائمہ پہلی بار مراد کے سامنے کھڑی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز تھی اور آنکھوں میں شرمندگی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اب چھپنے کا کوئی راستہ نہیں۔ مراد کی نگاہوں میں دکھ اور مایوسی تھی۔ صائمہ نے روتے ہوئے کہا: “مراد! میں نے اپنی تنہائی اور کمزوری کے باعث غلط راستہ اختیار کیا۔ میں نے تمہارے اعتماد اور رشتے کی حرمت کو توڑا، میں دل کی گہرائی سے معافی مانگتی ہوں۔”
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے مزید کہا: “میں نے نہ صرف اپنی بیٹی بلکہ تمہارے خاندان کا وقار بھی خاک میں ملا دیا۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اب کبھی دھوکہ نہیں دوں گی اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ایمانداری کے راستے پر چلوں گی۔” بے شک سچائی اور پچھتاوے کی طاقت سب سے بڑی ہوتی ہے۔ یہ لمحہ صرف شرمندگی کا نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کا تھا۔ سچ، خلوص اور حقیقی توبہ کا آغاز۔
(ختم شد)
