وفا کی رات

urdu short stories

میرا ایک ہی بھائی تھا جس کا نام امی نے روشن ضمیر رکھا تھا۔ وہ اپنے نام کی طرح روشن ضمیر، رحم دل اور ہر کسی کے دکھ سکھ میں کام آنے والا انسان تھا۔ ایک بار وہ بازار گیا تو وہاں ایک لڑکے کو کسمپرسی کی حالت میں دیکھا۔ اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور وہ کئی وقت کا بھوکا پیاسا معلوم ہوتا تھا۔ بھائی نے اس کی ہتھیلی پر چند نوٹ رکھنے چاہے تو وہ رو پڑا۔ تب روشن نے پوچھا: “تمہیں کیا دکھ ہے؟ مجھے بتاؤ تاکہ میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں۔” وہ بولا: “میری مصیبت طویل ہے، سڑک پر کھڑے کھڑے نہیں بتا سکتا۔” روشن نے کہا: “اچھا تو آؤ میرے ساتھ گھر چلو، وہاں آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”

روشن بھائی اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے اور پہلے کھانے کا پوچھا۔ اس نے کہا: “میں کئی دنوں سے نہایا نہیں ہوں، اگر اجازت دیں تو پہلے صاف ستھرا ہونا چاہتا ہوں۔” لڑکے نے اپنا نام ارشاد بتایا۔ نہا دھو کر اس کی اصل صورت نکھر گئی تھی۔ بہرحال، پیٹ میں کئی دنوں سے ایک لقمہ بھی نہ گیا تھا، اس لیے نقاہت سے رنگ زرد ہو رہا تھا۔ اتنے میں والدہ نے کھانا تیار کر دیا۔ جب دونوں کھانا کھا چکے تو روشن بھائی نے پوچھا: “ہاں دوست! اب بتاؤ کہ تم کون ہو اور کس قسم کی مشکل میں گرفتار ہو؟”

اس نے کہا: “میں ایک یتیم لڑکا ہوں۔ ازلی یتیم ہوں، نہ مجھے اپنی ماں کا پتا ہے اور نہ باپ کا علم۔ ایک بے اولاد جوڑے نے یتیم خانے سے مجھے گود لیا تھا اور میں انہی کے گھر پلا بڑھا۔ وہ بہت اچھے لوگ تھے، میں انہی کو اپنے حقیقی والدین سمجھتا تھا۔ جب میں نے میٹرک کیا تو ابا وفات پا گئے اور میری ماں کو ان کے سسرال والوں نے ساتھ رکھنے سے انکار کر دیا۔ ماں کو ان کے بھائی (میرے ماموں) لے گئے لیکن انہوں نے مجھے ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا۔ ماں روتی ہوئی ان کے ساتھ چلی گئیں۔ ان کے جانے کے بعد میں اپنے تایا اور چچاؤں کے ساتھ رہنے لگا۔ انہوں نے اپنے بھائی کے لے پالک لڑکے کو بطور اولاد قبول نہ کیا اور مجھے صاف بتا دیا کہ تم ہمارے بھائی کی حقیقی اولاد نہیں ہو۔ ہمارے بھائی نے تمہیں یتیم خانے سے گود لیا تھا، لہٰذا یہ مت سمجھنا کہ ہماری جائیداد میں تمہارا کوئی حصہ ہے۔ اگر سمجھداری سے اپنی حد میں رہو گے تو اس گھر میں رہ سکتے ہو، وہ بھی صرف ہمارے مرحوم بھائی کی خاطر؛ ورنہ غیروں کو اپنے گھر میں جگہ دینا ہماری روایات میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ بھلے تم اس حقیقت سے ناواقف تھے، لیکن ہمارا سارا خاندان اس راز کو جانتا ہے کہ تم اس خون سے نہیں ہو۔”

یہ کہتے ہوئے ارشاد کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے اشک پونچھتے ہوئے بتایا: “جب تک امی ابو زندہ تھے، خاندان میں میری حیثیت ان کی سگی اولاد جیسی تھی۔ انہوں نے مجھے ناز و نعم سے پالا، لیکن ان کے بعد میری قدر ایک ملازم سے بھی بدتر ہو گئی۔ میرا کمرہ مجھ سے چھین لیا گیا اور میں چھت پر بنی ایک کوٹھری میں سونے لگا جس کا زینہ بھی باہر سے تھا۔ دو وقت کے کھانے کے بدلے میرے والد کے بھائی، ان کی بیویاں اور بچے مجھ سے خادموں کی طرح کام لیتے اور حکم چلاتے تھے۔ کالج میں داخلہ تو دور کی بات، انہوں نے گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ مجھے دکان پر بھی بٹھا دیا۔ میں صبح سویرے دکان کھولتا اور شام تک وہاں ڈیوٹی دیتا۔ جب تھکا ہارا گھر آتا تو ہر فرد مجھ سے نوکروں کی طرح کام لیتا۔ ان کا سلوک دن بدن توہین آمیز ہوتا گیا۔ صرف ایک دادی جان تھیں جو اب بھی مجھ سے پہلے کی طرح پیار کرتی تھیں، مگر وہ معذور تھیں اور ان کا کسی پر بس نہ چلتا تھا۔ ان کی وفات کے بعد تو گویا اس گھر میں میرے لیے کوئی جگہ ہی نہ رہی اور زندگی عذاب بن گئی، لیکن میں پھر بھی سب سہتا رہا۔ آخر جاتا بھی تو کہاں جاتا؟”

“ایک روز صفائی کرتے ہوئے مجھ سے میز کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ اس بات پر تایا نے بہت برا بھلا کہا اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ میں بھی اب مزید ذلت برداشت کرنے کی سکت کھو چکا تھا، چنانچہ صبح ہی گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ سوچا کہ کہیں محنت مزدوری کر لوں گا لیکن اب اس گھر میں نہیں رہوں گا۔ مجھے گھر سے نکلے آج چوتھا دن ہے۔ تین راتیں ایک دکان کے تھڑے پر سو کر گزاریں۔ میری جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی اور تن پر بس وہی ایک جوڑا تھا جو پہن کر نکلا تھا۔ میں نے کئی دکانوں پر ملازمت کے لیے درخواست کی، مگر ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ ضرورت نہیں ہے۔”

“آج میں اسی مایوسی کے عالم میں سوچ رہا تھا کہ ریلوے اسٹیشن چلا جاؤں۔ اگر وہاں مزدوری نہ ملی تو ریل کی پٹڑی تو ہے ہی، شاید وہی مجھے میرے ان پیارے والدین کے پاس پہنچا دے جنہوں نے مجھے گود لیا تھا۔ میں اسی کشمکش میں تھا کہ آپ کی نظر مجھ پر پڑی اور آپ نے اتنے مہربان لہجے میں بات کی کہ میں بنا سوچے سمجھے آپ کے ساتھ ہو لیا۔ سچ ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہی کافی ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ شاید اللہ نے آپ کو میرے لیے ‘فرشتۂ رحمت’ بنا کر بھیجا ہے۔ واقعی اللہ مسبب الاسباب ہے، وہ رازق ہے اور کسی کو بھوکا نہیں رکھتا۔”

ارشاد نے آنسو پونچھ کر بات مکمل کی تو روشن بھائی اندر آئے اور امی کو بلا کر لے گئے۔ ڈرائنگ روم میں جانے کیا باتیں ہوئیں کہ تھوڑی دیر بعد امی نے باہر آ کر کہا: “پہلے میرا ایک بیٹا تھا، اب دو ہیں۔ ایک روشن ضمیر اور دوسرا ارشاد احمد۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج میرا بیٹا اکیلا نہیں رہا، اسے ایک بھائی مل گیا ہے۔”

اس روز کے بعد ارشاد ہمارے گھر میں رہنے لگا۔ میرے والد وفات پا چکے تھے، اس لیے روشن بھائی ہی گھر کے کرتا دھرتا تھے اور وہی ہمارا گھر چلا رہے تھے۔ رفتہ رفتہ ہم سب نے اسے ذہنی طور پر گھر کا فرد تسلیم کر لیا۔ ارشاد نے بہت دکھ دیکھے تھے، اس لیے وہ ہمیشہ اپنی حد میں رہنے کا عادی تھا۔ امی کبھی کبھی مجھے آواز دے دیتیں: “جاؤ! ارشاد بھائی کو کھانا دے آؤ۔” میں کھانے کی ٹرے اس کے کمرے میں لے جاتی اور خاموشی سے میز پر رکھ کر آ جاتی۔ وہ بھی نظریں جھکائے، بغیر کچھ کہے ٹرے پکڑ لیتا اور میں فوراً پلٹ آتی۔ اس کی عادات اور حرکات و سکنات نہایت شریفانہ تھیں۔ وہ واقعی فرشتہ صفت انسان تھا اور اس کا ذہن اتنا پاکیزہ تھا کہ اس کے بارے میں کبھی کوئی غلط خیال دل میں نہیں آتا تھا۔

ہمارے پڑوس میں زلیخا نامی ایک لڑکی رہتی تھی جو کافی تیز طرار اور ‘چلتی پرزہ’ تھی۔ ارشاد جب بھی بھائی کے انتظار میں بیٹھک میں بیٹھا ہوتا، وہ اپنے چوبارے کی کھڑکی کھول کر اسے متوجہ کرنے کی کوشش کرتی۔ کبھی تانک جھانک کرتی، کبھی کھانس کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی اور پھر نوبت یہاں تک آپہنچی کہ اس نے کھڑکی سے ارشاد پر کنکر پھینکنے شروع کر دیے۔ شروع میں تو ارشاد خاموش رہا، لیکن جب یہ سلسلہ نہ رکا تو اس نے روشن بھائی کو آگاہ کر دیا: “مجھے لگتا ہے اب میرا بیٹھک میں بیٹھنا ٹھیک نہیں، کہیں اس لڑکی کی شرارتوں کی وجہ سے مجھ پر کوئی مصیبت نہ ٹوٹ پڑے۔”

روشن بھائی اس لڑکی کی طراری سے واقف تھے۔ انہوں نے ارشاد سے کہا: “جب وہ ایسی حرکت کرے تو اس کی پھینکی ہوئی چیزیں سنبھال کر میرے حوالے کر دیا کرو۔” زلیخا کی ہمت اتنی بڑھ گئی کہ وہ اب چھوٹے چھوٹے پتھروں میں خط لپیٹ کر بیٹھک میں اچھالنے لگی۔ ارشاد وہ پتھر اٹھا کر روشن بھائی کو دے دیتا۔ معاملہ پڑوس کا تھا، اس لیے ارشاد خوفزدہ رہتا تھا لیکن روشن بھائی کا کہنا تھا کہ یہ خطوط بطور ثبوت رکھنے چاہئیں، کیونکہ ایسی لڑکیاں ‘گوہرِ مقصود’ حاصل نہ ہونے پر انتقامی کارروائی کے طور پر کوئی بہتان بھی لگا سکتی ہیں۔ روشن ضمیر کو اس لڑکی سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ وہ اس کی حرکتوں پر غصے میں رہتا تھا، مگر پھر کچھ سوچ کر خاموش ہو جاتا۔

خدا کی قدرت دیکھیے کہ انہی دنوں زلیخا کے لیے ایک اچھا رشتہ آیا اور اس کی شادی ہو گئی۔ قدرت کے کھیل بھی عجب ہیں؛ جس لڑکی سے روشن بھائی چڑتے تھے، اس کی شادی ہوتے ہی ان کا دل پسیج گیا۔ محبت کی وہ چنگاری جو کہیں اندر دبی ہوئی تھی، اس وقت شعلہ بنی جب وہ رخصت ہو کر اپنے گھر چلی گئی۔ اس کے کمرے کی کھڑکی بند ہوئی تو جیسے روشن بھائی کے دل کی کھڑکی بھی بند ہو گئی اور انہیں گھٹن ہونے لگی۔ یہ ایک ایسا انجانا رشتہ تھا جس کی پہچان ہی اس وقت ہوئی جب وہ لڑکی کسی اور کی ہو چکی تھی۔
میرے ہنستے مسکراتے بھائی کو اچانک چپ لگ گئی۔ وہ کھانا پینا بھول کر ہر وقت سوچوں میں گم رہنے لگا۔ پہلے پہل سگریٹ نوشی شروع کی اور پھر باقاعدہ نشہ کرنے لگا۔ اس اچانک تبدیلی پر ہم سب حیران تھے اور وجہ سوائے ارشاد کے کسی کو معلوم نہ تھی، مگر اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ہمیں کچھ بتاتا۔ وہ خود روشن بھائی کی حالت پر بہت پریشان رہتا اور انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا، لیکن ان کا مرض لاعلاج ہو چکا تھا۔

ہماری آمدنی کا ذریعہ والد صاحب کی دکانوں کا کرایہ تھا، جس سے گزر بسر اچھی ہو جاتی تھی۔ جب ہم نے دیکھا کہ بھائی دنیا و مافیا سے بے خبر ہو گئے ہیں، تو امی نے ارشاد سے کہا: “اب وہ تمام ذمہ داریاں جو روشن سنبھالتا تھا، تمہارے ذمے ہیں۔” اب حال یہ تھا کہ روشن بھائی نشہ آور سگریٹ پی کر بیٹھک میں لمبی تان کر سوئے رہتے تھے۔

ارشاد نے بہت چاہا کہ کسی طرح روشن بھائی نشہ ترک کر دیں، مگر ناکام رہا۔ ایک روز اس نے سگریٹ بھائی کے منہ سے چھین کر باہر پھینک دی۔ بس پھر کیا تھا، روشن بھائی آپے سے باہر ہو گئے اور ان سے سخت تلخ کلامی کی۔ اس کے بعد بھائی گھر سے چلے گئے اور واپس نہ آئے۔ خدا جانے وہ کہاں چلے گئے تھے؛ چار دن گزر گئے اور امی سخت پریشان تھیں۔ ارشاد سے والدہ کی پریشانی دیکھی نہ جاتی تھی، مگر اس میں کچھ بتانے کی ہمت بھی نہ تھی۔ تاہم، جب اس نے مجھے چھپ چھپ کر روتے دیکھا تو خاموش نہ رہ سکا اور اصل بات سے آگاہ کر دیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ بھائی کو ڈھونڈ کر اور منا کر واپس گھر لے آئے گا۔

وہ ان کے کئی دوستوں کے پاس گیا اور بالآخر بھائی کو کسی طرح منا کر گھر لے ہی آیا۔ دکھ اس بات کا نہ تھا کہ روشن بھائی گھر سے چلے گئے تھے، بلکہ رونا تو اس بات کا تھا کہ وہ نشہ کرنے لگے تھے۔ جب امی کو حقیقت کا علم ہوا تو انہیں دل کا دورہ پڑ گیا۔ اس واقعے کا بھائی کے دل پر گہرا اثر ہوا اور انہوں نے نشہ چھوڑ کر دوبارہ کام پر جانا شروع کر دیا۔

جب بھائی کے (پرانے) دوست انہیں بلانے آتے تو ارشاد امی کی ہدایت پر کہہ دیتا کہ وہ گھر پر موجود نہیں ہیں۔ اس بات پر وہ لڑکے اسے باہر دھمکاتے جس سے وہ ڈر جاتا تھا۔ انہی چرسی اور اوباش لڑکوں میں سے ایک، بھائی روشن کا پوچھتا ہوا ہمارے برآمدے تک آ گیا۔ اتفاق سے میں دروازہ کھولنے گئی تو اس نے میری کلائی پکڑ لی۔ میرے منہ سے چیخ نکل گئی اور عین اسی وقت ارشاد وہاں پہنچ گیا۔ غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ اس نے اس لڑکے کو گردن سے پکڑ کر ایسا زور دار جھٹکا دیا کہ وہ دہرا ہو کر گر گیا۔ اسے دہلیز سے زوردار چوٹ لگی جس سے اس کی گردن کا مہرہ ٹوٹ گیا۔
ہمسائے اسے اسپتال لے گئے، مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور دم توڑ گیا۔ پولیس آئی اور ارشاد کو گرفتار کر کے لے گئی۔ تفتیش کے دوران پتا چلا کہ نہ تو ارشاد کے کپڑوں پر خون تھا اور نہ ہی مقتول کے جسم پر چوٹ کا کوئی نمایاں نشان تھا۔ وہ کچھ دن حوالات میں رہا اور بالآخر پولیس نے اسے رہا کر دیا، لیکن مرنے والے لڑکے کے بھائیوں کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تھا۔ انہوں نے رہائی کے بعد ایک دن گلی میں ارشاد کو پکڑ لیا اور اسے اس بے رحمی سے مارا کہ وہ شدید زخمی ہو گیا اور اس کی حالت تشویشناک ہو گئی۔

اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر وہ یتیم لڑکا، جس نے ہماری چھت تلے پناہ لی تھی، وفات پا گیا۔ اس کی موت کا ہم سب کو بہت دکھ ہوا، لیکن شاید یہی اس کا مقدر تھا۔ وہ یتیم پیدا ہوا، جب تک زندہ رہا بے رحم زمانے کے ہاتھوں دکھ اٹھائے اور آخر کار اپنی وفا کی پاسداری کرتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ جب تک امی زندہ رہیں، اسے یاد کر کے روتی رہیں۔ ہم بھی آج تک ارشاد کو نہیں بھلا سکے۔ خدا جانے وہ کیسی قسمت لے کر آیا تھا کہ زندگی بھر ایک دن بھی سکون کا نہ دیکھ سکا۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ