فرخ میری پھپھو کا بیٹا تھا۔ بچپن میں وہ بہت لائق، سلجھا ہوا اور مہذب ہوا کرتا تھا، پھر جانے کیا ہوا کہ یکدم اس کے رویے میں تبدیلی آنے لگی۔ وہ روز بروز منہ زور اور نکھٹو ہوتا گیا۔ ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے۔ بدقسمتی سے پھپھو نے مجھے فرخ کے لیے تب ہی مانگ لیا تھا جب میں دوسری جماعت میں پڑھتی تھی۔ ذرا ہوش سنبھالا تو ایسے جملے کانوں میں پڑنے لگے کہ فرخ، رمنا کا منگیتر ہے۔ نو عمر لڑکیوں کو یہ باتیں ویسے ہی اچھی لگتی ہیں، سو مجھے بھی فرخ اچھا لگنے لگا۔ وہ مجھ سے ہنسی مذاق کرتا، کبھی خوب شرارتیں کرتا اور تنگ بھی کرتا، لیکن مجھے اس کا تنگ کرنا بھی بھلا لگتا تھا۔ اس کی کوئی بات بری نہیں لگتی تھی۔ وہ صورت کا تو اچھا تھا، دل کا حال اللہ جانے؛ بظاہر تو وہ مجھ پر جان چھڑکتا تھا۔
مجھے یاد ہے، ایک بار میں پھپھو کے گھر گئی، مجھ سے کانچ کا گلاس ٹوٹ کر گر گیا اور اس کی ایک نوکیلی کرچ میرے ہاتھ میں چبھ گئی۔ ہاتھ زخمی ہوا تو فرخ بے قرار ہو گیا اور دوڑ کر دوا اور پٹی لے آیا۔ جب اس نے میرے ہاتھ پر دوا لگائی تو تکلیف سے میری شکل بگڑ گئی؛ وہ تڑپ اٹھا، جیسے مجھے نہیں بلکہ اسے تکلیف ہو رہی ہو۔ ان باتوں سے میں یہی سمجھتی تھی کہ جیسے مجھے اس سے پیار ہے، ویسے ہی اسے بھی مجھ سے محبت ہے۔ اسی یقین کے ساتھ میں اس کے سپنے دیکھنے لگی۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، وہ بتائے بغیر گھر سے چلا جاتا اور اکثر رات گئے لوٹتا۔ پھپھو اس کے انتظار میں لمحے گنتیں اور پریشان رہتیں۔ ایک دو محلے والوں نے پھپھو کے کان بھرے کہ آپ کا بیٹا غلط لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا ہے، اس کی شادی کر دیں ورنہ کہیں راہ سے نہ بھٹک جائے۔ جب پھپھو نے فرخ سے شادی کی بات کی تو اس نے جواب دیا کہ وہ کسی اور لڑکی سے محبت کرتا ہے، مگر وہ اس کی ہو نہیں سکتی، اس لیے وہ شادی نہیں کرے گا۔ یہ سن کر مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ کیا واقعی فرخ نے ایسا کہا ہوگا؟ کیا وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے؟ پھر اس کا مجھ سے لگاؤ اور وہ والہانہ پن، کیا سب فریب تھا؟ کیا واقعی مردوں کی محبت محض ایک کھیل ہوتی ہے؟
امی نے بھی اس بات کو تسلیم نہ کیا اور کہا کہ وہ فی الحال شادی سے بچنے کے لیے ایسا کہہ رہا ہے۔ پھپھو فرخ کے پیچھے پڑ گئیں کہ یا تو اس لڑکی کا نام بتاؤ، یا اپنی بچپن کی منگیتر سے شادی کرو؛ اب تمہیں میرا فیصلہ ماننا ہوگا۔ آخرکار فرخ ہار گیا اور ماں جیت گئی۔ روز روز کی تکرار سے تنگ آ کر اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ یوں میں اپنے بچپن کے ساتھی کی دلہن بن کر پھپھو کے گھر آ گئی۔ پھپھو نے میرا بہت چاؤ کیا، وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں، مگر فرخ کا رویہ جلد ہی سرد مہری میں بدل گیا۔
پھپھو مجھے دلاسا دیتیں کہ مایوس نہ ہونا، یہ میرا بیٹا ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ موڈی انسان ہے، کبھی محبت لٹانے لگتا ہے اور کبھی بالکل بیگانہ ہو جاتا ہے۔ میں اپنے شوہر کی طبیعت کے نت نئے رنگ دیکھ کر حیران رہ جاتی۔ کبھی اسے سوچتی، تو کبھی آئینے میں اپنی صورت دیکھتی کہ کہیں مجھ میں ہی تو کوئی کمی نہیں۔ ہر کسی کو اپنی صورت اچھی لگتی ہے، مگر آئینے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ میں اتنی خوبصورت تھی کہ پارسا سے پارسا آنکھ بھی مجھ پر ٹھہر کر بہک سکتی تھی، لیکن فرخ کا دل کسی اور ہی مٹی کا بنا ہوا تھا؛ وہ موم نہیں بلکہ پتھر تھا۔ میں اکثر سوچتی کہ وہ لڑکی کیسی ہوگی جس نے اس سنگ دل کے دل پر قبضہ جما رکھا ہے۔
پہلے ہی دن اس نے یہ کہہ کر میرا دل توڑ دیا تھا کہ اس نے مجھ سے شادی صرف اس لیے کی ہے کہ وہ ماں کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا، مگر مجھ سے ایک چیز کا مطالبہ کبھی نہ کرنا—اور وہ ہے محبت۔ وہ نہ مجھ سے محبت کر سکتا ہے اور نہ کبھی کرے گا، کیونکہ جس سے اسے محبت ہے، وہ کوئی اور ہے۔
میں نئی زندگی میں خوشیاں سمیٹنے کے بجائے روز ہی رو کر سوتی تھی اور ایک نئی امید لے کر اٹھتی تھی کہ شاید اس صبح کا سورج میرے لیے خوشی کی کوئی نئی کرن لائے۔ یوں ہی صبح و شام سورج نکلتا اور ڈھلتا رہا؛ میں کبھی آس سے بندھتی اور کبھی ٹوٹتی رہی۔ بالآخر میں نے اپنی بدنصیبی سے سمجھوتہ کر لیا، اور میں کر بھی کیا سکتی تھی؟ ماں باپ کے گھر واپس جانا ان کی پریشانیوں میں اضافے کے سوا کچھ نہ تھا۔ جوں توں زندگی کی گاڑی کو گھسیٹنا ہی میری تقدیر تھا۔
وقت کسی مرجھائے ہوئے شجر کی مانند میرے سر پر سایہ کیے رہا۔ کہیں سے چھاؤں اور کہیں سے دھوپ چھن چھن کر مجھ پر پڑتی رہی۔ روز و شب گزرتے رہے اور میں تین بچوں کی ماں بن گئی۔ عورت جب بچوں کی پرورش میں محو ہو جائے تو وہ خود سے بالکل بیگانہ اور غافل ہو جاتی ہے، اور میں تو پہلے ہی اپنی ادھوری محبت اور معاشرتی بندھنوں میں قید ہو چکی تھی۔ مجھے اپنے سراپا تک کا ہوش نہ رہا۔ جب تک پھپھو زندہ تھیں، وہ میرا ساتھ دیتی رہیں۔ ان کی وفات کے بعد گھر اور بچوں کی تمام ذمہ داری مجھ پر آن پڑی، پھر تو جیسے میں اپنی ہستی ہی بھول گئی۔
اس دور میں فرخ نے مجھے بہت تنگ کیا اور بے انتہا نظر انداز کیا۔ میں بیمار بھی ہو جاتی تو ان کے دل میں میرے لیے رحم نہ جاگتا۔ دوا اور علاج کا پوچھنے کے بجائے وہ مجھ سے الٹی خدمت لیتے۔ بے وقت مہمان لے آتے اور شدید بخار میں بھی مجھ سے کھانا پکواتے۔ مہمان بند کمرے میں ہوتے اور جب فرخ کچن میں کھانا لینے آتے تو ان کے منہ سے شراب کی بو آتی، جس سے میرا سر چکرانے لگتا۔
اب فرخ نے باقاعدہ شراب نوشی شروع کر دی تھی۔ والد کافی دولت چھوڑ گئے تھے اور جائیداد کا کرایہ بھی آتا تھا، چنانچہ وہ خوب روپیہ لٹاتے اور رات رات بھر غائب رہتے۔ میں ساری رات ان کے انتظار میں جاگ کر نڈھال ہو جاتی۔ فرخ نے اگرچہ مجھے صبر کرنا سکھا دیا تھا، مگر میرے اس صبر سے ہمیشہ ناجائز فائدہ ہی اٹھایا۔
اب وہ گھر میں ایسے مہمانوں کو مدعو کرنے لگے تھے جنہیں کوئی بھی بیوی برداشت نہیں کر سکتی۔ گھر کے قریب بنے ڈیرے پر غلط قسم کی عورتیں آنے لگیں۔ آوارہ دوستوں کی دعوتیں ہوتیں اور گھر سے کھانا پکوا کر وہاں بھیجا جاتا۔ کوئی بھی عورت یہ ستم کب تک برداشت کر سکتی ہے؟ لیکن میں نے یہ سب اس لیے سہا کہ میرے ساتھ تین بچے تھے، اور بچوں والی عورت کے لیے شوہر کے گھر کے سوا کہیں اور سر چھپانے کی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ میری مجبوری تھی کہ میں ان کی آوارگی، گالم گلوچ اور بے رخی سہتی رہی۔
گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ہی ان کا ڈیرہ تھا۔ فرخ اور ان کے دوستوں کے قہقہے گھر کے آنگن تک سنائی دیتے تھے، مگر وہ جب گھر آتے تو مزاج برہم اور لہجہ کھردرا ہوتا۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ ان کی ان نازیبا حرکتوں کا میرے بچوں پر برا اثر پڑے گا۔
ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔ بچوں نے آ کر بتایا کہ بابا جان کی بیٹھک میں کوئی عورت آئی ہوئی ہے۔ فرخ تین دن تک گھر سے کھانا منگواتے رہے، مگر ملازموں کے ذریعے؛ خود گھر میں قدم تک نہ رکھتے تھے۔ ملازم کی مجال نہ تھی کہ بیٹھک کے بارے میں ایک لفظ بھی زبان پر لائے۔
تین دن گزر گئے۔ چھوٹا بیٹا بیمار تھا اور میں بے حد بے چین تھی۔ آخر ایک دن میں خود بیٹھک تک چلی گئی۔ دروازہ کھلا تھا اور ملازم وہاں موجود نہیں تھا۔ اندر والے کمرے میں چارپائی پر ایک جوان عورت بیٹھی تھی اور اس کے برابر میرا شوہر موجود تھا۔
مجھے دیکھتے ہی فرخ تڑپ کر اٹھے، میرا بازو پکڑ کر باہر لائے اور میرے منہ پر زور دار تھپڑ مار کر کہا: “یہاں کیوں آئی ہو؟ جانتی ہو گھر سے نکل کر یہاں آنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟”
ان کا غصہ انہیں کچھ سمجھنے نہیں دے رہا تھا۔ کون سی عورت یہ توہین برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا شوہر کسی اور عورت کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا ہو؟ میں چیخ اٹھی، مگر انہوں نے میرا منہ دبا دیا اور مجھے گھسیٹتے ہوئے گھر لے آئے۔ وہاں لا کر مجھے بے تحاشا مارنا شروع کر دیا۔
وہ چیختے رہے: “تم نے ایسی گھٹیا عورتوں جیسی حرکت کیوں کی؟ کیوں بیٹھک میں آئی؟ جانتی ہو وہ میری عیاشی کا اڈا ہے؟ اگر وہاں کوئی دوست موجود ہوتا تو میری ناک کٹ جاتی!”
یہ اس شخص کی منطق تھی جس کی بیوی برسوں سے اس کے ساتھ رہ رہی تھی، اس کی تمام تر بدکرداریاں برداشت کر رہی تھی اور ہر ستم خاموشی سے سہہ رہی تھی۔ فرخ غصے میں پاگل ہو چکا تھا، اسے اپنے بیمار بچے کا بھی خیال نہ رہا۔ وہ میری جان کے درپے تھا۔ میرا قصور کیا تھا؟ آپ ہی بتائیے۔ کیا صرف عورت ہونا ہی میرا جرم تھا؟
اس دن اس نے مجھے اتنا مارا کہ میں صدمے اور تشدد سے نیم جان ہو گئی۔ وہ میرے منہ پر کپڑا باندھ کر مارتا رہا تاکہ آواز باہر نہ جائے اور اس کی نام نہاد عزت پر حرف نہ آئے۔ جب وہ تھک گیا تو مجھے کمرے میں بند کر دیا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ معصوم بچے کیا سوچ رہے ہوں گے، جو یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ بے رحمی نے اس کے دل پر قفل ڈال دیا تھا۔
اس وقت دل چاہتا تھا کہ کاش زلزلہ آ جائے اور سب کچھ تباہ ہو جائے، یا زمین پھٹ جائے اور ہم سب اس گھر سمیت اس میں سما جائیں۔ یا پھر میں اتنا چیخوں کہ آسمان پھٹ جائے۔ میں گھٹ گھٹ کر روتی اور سسکتی رہی مگر کچھ نہ کر سکی۔ قسمت نے میری محبت کا صلہ مجھے اذیت کی صورت میں دیا تھا۔ شوہر کا اپنی بیوی کی موجودگی میں کسی غیر عورت سے محبت جتلانا، عورت کی نسوانیت کی سب سے بڑی توہین ہے۔ جو عورتیں یہ دکھ سہتی ہیں، وہ اندر سے مر جاتی ہیں۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد میں نے بچوں کو آواز دی: “سلو بیٹا! دروازہ کھولو، مجھے بہت گھٹن ہو رہی ہے۔” اس نے ہمت کر کے کنڈی کھولی اور میں باہر آئی۔ فرخ نے اس ‘گستاخی’ کی سزا یہ دی کہ پورے چھ ماہ گھر نہیں آئے۔ ضرورت کی چیزیں ملازم یا بچوں کے ہاتھوں بھیج دیتے، مگر کہلواتے کہ “میں تمہاری ماں کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔”
انہوں نے ڈیرے پر ہی باورچی خانہ بنوا لیا۔ ان چھ مہینوں میں، میں اس چار دیواری میں قید رہ کر بیمار ہو گئی۔ انہی دنوں فرخ کے ایک دوست اور ان کی بیوی افریقہ سے آئے۔ وہ یہاں ایک ہفتہ ٹھہرے۔ انہوں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ ہم بظاہر قریب، مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ زریں بھابھی نے جب مجھ سے اصل حالات پوچھے، تو ایک غمگسار پا کر میں نے اپنا کچھ حال بیان کر دیا اور ان سے قسم لی کہ وہ فرخ کو کچھ نہ بتائیں۔ انہوں نے یہی سمجھایا کہ بچوں کی خاطر عورت کو سب کچھ سہنا پڑتا ہے، ورنہ بچے بچھڑ جاتے ہیں۔
انہی کی کوششوں سے فرخ صلح پر راضی ہوئے، مگر شرط یہ رکھی کہ میں ان کے بیرونی معاملات پر کبھی کوئی سوال نہیں کروں گی۔ میں نے یہ کڑی شرط مان لی۔ اس کے بعد میں نے خود کو مردہ تصور کر لیا؛ میں اب محض ایک روبوٹ بن کر رہ گئی تھی۔
میں کہتی: “تمہارے باپ کا تم پر حق ہے۔ اگر انہوں نے مجھ پر ظلم کیا بھی، تب بھی وہ تمہارے باپ ہیں۔ انسانیت یہی ہے کہ کمزور پر رحم کیا جائے۔ نفرت کو کبھی اپنے دل میں جگہ مت دینا۔ یہ ایک منفی جذبہ ہے جو انسان کی شخصیت کو سنوارتا نہیں بلکہ چاٹ جاتا ہے۔ تمہیں نہ صرف اس دنیا میں، بلکہ آخرت میں بھی اپنے رب کے حضور سرخرو ہونا ہے۔”
وقت نے فرخ کو وہ سب سکھا دیا تھا جو میں برسوں کی کوشش کے باوجود نہ سکھا سکی تھی۔ بسترِ علالت پر لیٹے ہوئے وہ اکثر خلا میں تکتے رہتے، جیسے اپنے ماضی کے کسی منظر میں قید ہوں۔ کبھی کبھار ان کی آنکھوں کے کنارے نم ہو جاتے، مگر زبان پر کوئی لفظ نہ آتا۔ میں ان کے سرہانے بیٹھی رہتی، انہیں وقت پر دوا دیتی اور بچوں کو بھی ان کے پاس بٹھاتی۔ میری طرف سے نہ کوئی شکوہ تھا، نہ شکایت؛ شاید یہی خاموشی انہیں اندر سے توڑ رہی تھی۔
ایک رات انہوں نے نحیف آواز میں میرا نام لیا۔ میں نے برسوں بعد پہلی بار ان کی آنکھوں میں خوف دیکھا—وہی خوف جو انسان کو اپنے کیے کا حساب یاد آنے پر محسوس ہوتا ہے۔ بولے: “میں نے تمہیں بہت دکھ دیا ہے، ہے نا؟”
میں نے کوئی جواب نہیں دیا، صرف اتنا کہا: “اب آرام کیجیے، آپ کی دوا کا وقت ہو گیا ہے۔”
وہ رات بھر بے چین رہے۔ صبح فجر کے وقت ان کی سانسیں بوجھل ہونے لگیں تو بچوں کو بلایا گیا۔ انہوں نے سب کے سامنے بمشکل اتنا کہا: “میں اچھا شوہر نہیں تھا… مگر اس نے کبھی مجھ سے بدلہ نہیں لیا۔”
وقت کے ساتھ بچے سنبھل گئے اور میں نے اپنی زندگی پہلی بار اپنے نام کی۔ میں نے بچوں کو صرف یہی سکھایا کہ اصل طاقت ظلم میں نہیں، بلکہ صبر اور عدل میں ہوتی ہے۔ عورت کمزور نہیں ہوتی، وہ بس خاموش ہوتی ہے۔ اور جب اس کی خاموشی بولنے لگے، تو زمانہ گواہ بن جاتا ہے۔ میں نے زندگی میں دوبارہ محبت کو تو نہیں ڈھونڈا، مگر عزت اور سکون پا لیا، اور یہی میری اصل جیت تھی۔
مجھے یاد ہے، ایک بار میں پھپھو کے گھر گئی، مجھ سے کانچ کا گلاس ٹوٹ کر گر گیا اور اس کی ایک نوکیلی کرچ میرے ہاتھ میں چبھ گئی۔ ہاتھ زخمی ہوا تو فرخ بے قرار ہو گیا اور دوڑ کر دوا اور پٹی لے آیا۔ جب اس نے میرے ہاتھ پر دوا لگائی تو تکلیف سے میری شکل بگڑ گئی؛ وہ تڑپ اٹھا، جیسے مجھے نہیں بلکہ اسے تکلیف ہو رہی ہو۔ ان باتوں سے میں یہی سمجھتی تھی کہ جیسے مجھے اس سے پیار ہے، ویسے ہی اسے بھی مجھ سے محبت ہے۔ اسی یقین کے ساتھ میں اس کے سپنے دیکھنے لگی۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، وہ بتائے بغیر گھر سے چلا جاتا اور اکثر رات گئے لوٹتا۔ پھپھو اس کے انتظار میں لمحے گنتیں اور پریشان رہتیں۔ ایک دو محلے والوں نے پھپھو کے کان بھرے کہ آپ کا بیٹا غلط لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا ہے، اس کی شادی کر دیں ورنہ کہیں راہ سے نہ بھٹک جائے۔ جب پھپھو نے فرخ سے شادی کی بات کی تو اس نے جواب دیا کہ وہ کسی اور لڑکی سے محبت کرتا ہے، مگر وہ اس کی ہو نہیں سکتی، اس لیے وہ شادی نہیں کرے گا۔ یہ سن کر مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ کیا واقعی فرخ نے ایسا کہا ہوگا؟ کیا وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے؟ پھر اس کا مجھ سے لگاؤ اور وہ والہانہ پن، کیا سب فریب تھا؟ کیا واقعی مردوں کی محبت محض ایک کھیل ہوتی ہے؟
امی نے بھی اس بات کو تسلیم نہ کیا اور کہا کہ وہ فی الحال شادی سے بچنے کے لیے ایسا کہہ رہا ہے۔ پھپھو فرخ کے پیچھے پڑ گئیں کہ یا تو اس لڑکی کا نام بتاؤ، یا اپنی بچپن کی منگیتر سے شادی کرو؛ اب تمہیں میرا فیصلہ ماننا ہوگا۔ آخرکار فرخ ہار گیا اور ماں جیت گئی۔ روز روز کی تکرار سے تنگ آ کر اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ یوں میں اپنے بچپن کے ساتھی کی دلہن بن کر پھپھو کے گھر آ گئی۔ پھپھو نے میرا بہت چاؤ کیا، وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں، مگر فرخ کا رویہ جلد ہی سرد مہری میں بدل گیا۔
پھپھو مجھے دلاسا دیتیں کہ مایوس نہ ہونا، یہ میرا بیٹا ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ موڈی انسان ہے، کبھی محبت لٹانے لگتا ہے اور کبھی بالکل بیگانہ ہو جاتا ہے۔ میں اپنے شوہر کی طبیعت کے نت نئے رنگ دیکھ کر حیران رہ جاتی۔ کبھی اسے سوچتی، تو کبھی آئینے میں اپنی صورت دیکھتی کہ کہیں مجھ میں ہی تو کوئی کمی نہیں۔ ہر کسی کو اپنی صورت اچھی لگتی ہے، مگر آئینے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ میں اتنی خوبصورت تھی کہ پارسا سے پارسا آنکھ بھی مجھ پر ٹھہر کر بہک سکتی تھی، لیکن فرخ کا دل کسی اور ہی مٹی کا بنا ہوا تھا؛ وہ موم نہیں بلکہ پتھر تھا۔ میں اکثر سوچتی کہ وہ لڑکی کیسی ہوگی جس نے اس سنگ دل کے دل پر قبضہ جما رکھا ہے۔
پہلے ہی دن اس نے یہ کہہ کر میرا دل توڑ دیا تھا کہ اس نے مجھ سے شادی صرف اس لیے کی ہے کہ وہ ماں کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا، مگر مجھ سے ایک چیز کا مطالبہ کبھی نہ کرنا—اور وہ ہے محبت۔ وہ نہ مجھ سے محبت کر سکتا ہے اور نہ کبھی کرے گا، کیونکہ جس سے اسے محبت ہے، وہ کوئی اور ہے۔
میں نئی زندگی میں خوشیاں سمیٹنے کے بجائے روز ہی رو کر سوتی تھی اور ایک نئی امید لے کر اٹھتی تھی کہ شاید اس صبح کا سورج میرے لیے خوشی کی کوئی نئی کرن لائے۔ یوں ہی صبح و شام سورج نکلتا اور ڈھلتا رہا؛ میں کبھی آس سے بندھتی اور کبھی ٹوٹتی رہی۔ بالآخر میں نے اپنی بدنصیبی سے سمجھوتہ کر لیا، اور میں کر بھی کیا سکتی تھی؟ ماں باپ کے گھر واپس جانا ان کی پریشانیوں میں اضافے کے سوا کچھ نہ تھا۔ جوں توں زندگی کی گاڑی کو گھسیٹنا ہی میری تقدیر تھا۔
وقت کسی مرجھائے ہوئے شجر کی مانند میرے سر پر سایہ کیے رہا۔ کہیں سے چھاؤں اور کہیں سے دھوپ چھن چھن کر مجھ پر پڑتی رہی۔ روز و شب گزرتے رہے اور میں تین بچوں کی ماں بن گئی۔ عورت جب بچوں کی پرورش میں محو ہو جائے تو وہ خود سے بالکل بیگانہ اور غافل ہو جاتی ہے، اور میں تو پہلے ہی اپنی ادھوری محبت اور معاشرتی بندھنوں میں قید ہو چکی تھی۔ مجھے اپنے سراپا تک کا ہوش نہ رہا۔ جب تک پھپھو زندہ تھیں، وہ میرا ساتھ دیتی رہیں۔ ان کی وفات کے بعد گھر اور بچوں کی تمام ذمہ داری مجھ پر آن پڑی، پھر تو جیسے میں اپنی ہستی ہی بھول گئی۔
اس دور میں فرخ نے مجھے بہت تنگ کیا اور بے انتہا نظر انداز کیا۔ میں بیمار بھی ہو جاتی تو ان کے دل میں میرے لیے رحم نہ جاگتا۔ دوا اور علاج کا پوچھنے کے بجائے وہ مجھ سے الٹی خدمت لیتے۔ بے وقت مہمان لے آتے اور شدید بخار میں بھی مجھ سے کھانا پکواتے۔ مہمان بند کمرے میں ہوتے اور جب فرخ کچن میں کھانا لینے آتے تو ان کے منہ سے شراب کی بو آتی، جس سے میرا سر چکرانے لگتا۔
اب فرخ نے باقاعدہ شراب نوشی شروع کر دی تھی۔ والد کافی دولت چھوڑ گئے تھے اور جائیداد کا کرایہ بھی آتا تھا، چنانچہ وہ خوب روپیہ لٹاتے اور رات رات بھر غائب رہتے۔ میں ساری رات ان کے انتظار میں جاگ کر نڈھال ہو جاتی۔ فرخ نے اگرچہ مجھے صبر کرنا سکھا دیا تھا، مگر میرے اس صبر سے ہمیشہ ناجائز فائدہ ہی اٹھایا۔
اب وہ گھر میں ایسے مہمانوں کو مدعو کرنے لگے تھے جنہیں کوئی بھی بیوی برداشت نہیں کر سکتی۔ گھر کے قریب بنے ڈیرے پر غلط قسم کی عورتیں آنے لگیں۔ آوارہ دوستوں کی دعوتیں ہوتیں اور گھر سے کھانا پکوا کر وہاں بھیجا جاتا۔ کوئی بھی عورت یہ ستم کب تک برداشت کر سکتی ہے؟ لیکن میں نے یہ سب اس لیے سہا کہ میرے ساتھ تین بچے تھے، اور بچوں والی عورت کے لیے شوہر کے گھر کے سوا کہیں اور سر چھپانے کی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ میری مجبوری تھی کہ میں ان کی آوارگی، گالم گلوچ اور بے رخی سہتی رہی۔
گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ہی ان کا ڈیرہ تھا۔ فرخ اور ان کے دوستوں کے قہقہے گھر کے آنگن تک سنائی دیتے تھے، مگر وہ جب گھر آتے تو مزاج برہم اور لہجہ کھردرا ہوتا۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ ان کی ان نازیبا حرکتوں کا میرے بچوں پر برا اثر پڑے گا۔
ایک دن تو حد ہی ہو گئی۔ بچوں نے آ کر بتایا کہ بابا جان کی بیٹھک میں کوئی عورت آئی ہوئی ہے۔ فرخ تین دن تک گھر سے کھانا منگواتے رہے، مگر ملازموں کے ذریعے؛ خود گھر میں قدم تک نہ رکھتے تھے۔ ملازم کی مجال نہ تھی کہ بیٹھک کے بارے میں ایک لفظ بھی زبان پر لائے۔
تین دن گزر گئے۔ چھوٹا بیٹا بیمار تھا اور میں بے حد بے چین تھی۔ آخر ایک دن میں خود بیٹھک تک چلی گئی۔ دروازہ کھلا تھا اور ملازم وہاں موجود نہیں تھا۔ اندر والے کمرے میں چارپائی پر ایک جوان عورت بیٹھی تھی اور اس کے برابر میرا شوہر موجود تھا۔
مجھے دیکھتے ہی فرخ تڑپ کر اٹھے، میرا بازو پکڑ کر باہر لائے اور میرے منہ پر زور دار تھپڑ مار کر کہا: “یہاں کیوں آئی ہو؟ جانتی ہو گھر سے نکل کر یہاں آنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟”
ان کا غصہ انہیں کچھ سمجھنے نہیں دے رہا تھا۔ کون سی عورت یہ توہین برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا شوہر کسی اور عورت کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا ہو؟ میں چیخ اٹھی، مگر انہوں نے میرا منہ دبا دیا اور مجھے گھسیٹتے ہوئے گھر لے آئے۔ وہاں لا کر مجھے بے تحاشا مارنا شروع کر دیا۔
وہ چیختے رہے: “تم نے ایسی گھٹیا عورتوں جیسی حرکت کیوں کی؟ کیوں بیٹھک میں آئی؟ جانتی ہو وہ میری عیاشی کا اڈا ہے؟ اگر وہاں کوئی دوست موجود ہوتا تو میری ناک کٹ جاتی!”
یہ اس شخص کی منطق تھی جس کی بیوی برسوں سے اس کے ساتھ رہ رہی تھی، اس کی تمام تر بدکرداریاں برداشت کر رہی تھی اور ہر ستم خاموشی سے سہہ رہی تھی۔ فرخ غصے میں پاگل ہو چکا تھا، اسے اپنے بیمار بچے کا بھی خیال نہ رہا۔ وہ میری جان کے درپے تھا۔ میرا قصور کیا تھا؟ آپ ہی بتائیے۔ کیا صرف عورت ہونا ہی میرا جرم تھا؟
اس دن اس نے مجھے اتنا مارا کہ میں صدمے اور تشدد سے نیم جان ہو گئی۔ وہ میرے منہ پر کپڑا باندھ کر مارتا رہا تاکہ آواز باہر نہ جائے اور اس کی نام نہاد عزت پر حرف نہ آئے۔ جب وہ تھک گیا تو مجھے کمرے میں بند کر دیا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ معصوم بچے کیا سوچ رہے ہوں گے، جو یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ بے رحمی نے اس کے دل پر قفل ڈال دیا تھا۔
اس وقت دل چاہتا تھا کہ کاش زلزلہ آ جائے اور سب کچھ تباہ ہو جائے، یا زمین پھٹ جائے اور ہم سب اس گھر سمیت اس میں سما جائیں۔ یا پھر میں اتنا چیخوں کہ آسمان پھٹ جائے۔ میں گھٹ گھٹ کر روتی اور سسکتی رہی مگر کچھ نہ کر سکی۔ قسمت نے میری محبت کا صلہ مجھے اذیت کی صورت میں دیا تھا۔ شوہر کا اپنی بیوی کی موجودگی میں کسی غیر عورت سے محبت جتلانا، عورت کی نسوانیت کی سب سے بڑی توہین ہے۔ جو عورتیں یہ دکھ سہتی ہیں، وہ اندر سے مر جاتی ہیں۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد میں نے بچوں کو آواز دی: “سلو بیٹا! دروازہ کھولو، مجھے بہت گھٹن ہو رہی ہے۔” اس نے ہمت کر کے کنڈی کھولی اور میں باہر آئی۔ فرخ نے اس ‘گستاخی’ کی سزا یہ دی کہ پورے چھ ماہ گھر نہیں آئے۔ ضرورت کی چیزیں ملازم یا بچوں کے ہاتھوں بھیج دیتے، مگر کہلواتے کہ “میں تمہاری ماں کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔”
انہوں نے ڈیرے پر ہی باورچی خانہ بنوا لیا۔ ان چھ مہینوں میں، میں اس چار دیواری میں قید رہ کر بیمار ہو گئی۔ انہی دنوں فرخ کے ایک دوست اور ان کی بیوی افریقہ سے آئے۔ وہ یہاں ایک ہفتہ ٹھہرے۔ انہوں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ ہم بظاہر قریب، مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ زریں بھابھی نے جب مجھ سے اصل حالات پوچھے، تو ایک غمگسار پا کر میں نے اپنا کچھ حال بیان کر دیا اور ان سے قسم لی کہ وہ فرخ کو کچھ نہ بتائیں۔ انہوں نے یہی سمجھایا کہ بچوں کی خاطر عورت کو سب کچھ سہنا پڑتا ہے، ورنہ بچے بچھڑ جاتے ہیں۔
انہی کی کوششوں سے فرخ صلح پر راضی ہوئے، مگر شرط یہ رکھی کہ میں ان کے بیرونی معاملات پر کبھی کوئی سوال نہیں کروں گی۔ میں نے یہ کڑی شرط مان لی۔ اس کے بعد میں نے خود کو مردہ تصور کر لیا؛ میں اب محض ایک روبوٹ بن کر رہ گئی تھی۔
وقت گزر ہی جاتا ہے، سو گزر گیا۔ بچے جوان ہو گئے اور پھر وہ دن آیا جس کی میں نے کبھی دعا نہیں کی تھی؛ فرخ بیمار پڑ گئے۔ پہلے شوگر اور پھر فالج نے انہیں بستر سے لگا دیا۔ بچے دل سے ان کی خدمت نہیں کرتے تھے، مگر میں انہیں سمجھاتی کہ باپ کی عزت کرو۔ نفرت کو دل میں جگہ نہ دو، یہ دیمک کی طرح انسان کو کھا جاتی ہے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بچے کم ظرف بنیں۔
میں کہتی: “تمہارے باپ کا تم پر حق ہے۔ اگر انہوں نے مجھ پر ظلم کیا بھی، تب بھی وہ تمہارے باپ ہیں۔ انسانیت یہی ہے کہ کمزور پر رحم کیا جائے۔ نفرت کو کبھی اپنے دل میں جگہ مت دینا۔ یہ ایک منفی جذبہ ہے جو انسان کی شخصیت کو سنوارتا نہیں بلکہ چاٹ جاتا ہے۔ تمہیں نہ صرف اس دنیا میں، بلکہ آخرت میں بھی اپنے رب کے حضور سرخرو ہونا ہے۔”
وقت نے فرخ کو وہ سب سکھا دیا تھا جو میں برسوں کی کوشش کے باوجود نہ سکھا سکی تھی۔ بسترِ علالت پر لیٹے ہوئے وہ اکثر خلا میں تکتے رہتے، جیسے اپنے ماضی کے کسی منظر میں قید ہوں۔ کبھی کبھار ان کی آنکھوں کے کنارے نم ہو جاتے، مگر زبان پر کوئی لفظ نہ آتا۔ میں ان کے سرہانے بیٹھی رہتی، انہیں وقت پر دوا دیتی اور بچوں کو بھی ان کے پاس بٹھاتی۔ میری طرف سے نہ کوئی شکوہ تھا، نہ شکایت؛ شاید یہی خاموشی انہیں اندر سے توڑ رہی تھی۔
ایک رات انہوں نے نحیف آواز میں میرا نام لیا۔ میں نے برسوں بعد پہلی بار ان کی آنکھوں میں خوف دیکھا—وہی خوف جو انسان کو اپنے کیے کا حساب یاد آنے پر محسوس ہوتا ہے۔ بولے: “میں نے تمہیں بہت دکھ دیا ہے، ہے نا؟”
میں نے کوئی جواب نہیں دیا، صرف اتنا کہا: “اب آرام کیجیے، آپ کی دوا کا وقت ہو گیا ہے۔”
وہ رات بھر بے چین رہے۔ صبح فجر کے وقت ان کی سانسیں بوجھل ہونے لگیں تو بچوں کو بلایا گیا۔ انہوں نے سب کے سامنے بمشکل اتنا کہا: “میں اچھا شوہر نہیں تھا… مگر اس نے کبھی مجھ سے بدلہ نہیں لیا۔”
یہ ان کا اعترافِ جرم تھا، اور شاید یہی ان کی سزا بھی۔ چند دن بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ گھر میں سناٹا تھا، مگر میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آیا تھا۔ میں نے انہیں معاف کیا یا نہیں، یہ الگ بات ہے، لیکن میں نے اپنے دل میں نفرت کو بھی جگہ نہیں دی تھی۔ میں نے اپنا معاملہ اپنے رب پر چھوڑ دیا تھا—وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
وقت کے ساتھ بچے سنبھل گئے اور میں نے اپنی زندگی پہلی بار اپنے نام کی۔ میں نے بچوں کو صرف یہی سکھایا کہ اصل طاقت ظلم میں نہیں، بلکہ صبر اور عدل میں ہوتی ہے۔ عورت کمزور نہیں ہوتی، وہ بس خاموش ہوتی ہے۔ اور جب اس کی خاموشی بولنے لگے، تو زمانہ گواہ بن جاتا ہے۔ میں نے زندگی میں دوبارہ محبت کو تو نہیں ڈھونڈا، مگر عزت اور سکون پا لیا، اور یہی میری اصل جیت تھی۔
(ختم شد)

