میں نے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا۔ والدین نے میرا نام زوبیہ رکھا۔ میرے والدین کم آمدنی میں بھی پرسکون اور قناعت بھری زندگی گزار رہے تھے۔ انہوں نے اپنے تمام بچوں پر توجہ دی لیکن مجھے سب سے زیادہ پیار ملا، کیونکہ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ زوبیہ کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
میں بچپن سے ہی الگ تھلگ رہنے کی عادی تھی۔ لوگ سمجھتے کہ یہ معذور ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہ تھا۔ اللہ جانے مجھ میں کیا کمی تھی کہ ارد گرد کی ہر شے مجھ پر حاوی ہو جاتی۔ میں جن لوگوں کے درمیان اٹھتی بیٹھتی، ان کی عادات اپنانے کی کوشش کرتی۔ میری بہنیں ٹوکتی تھیں کہ تم دوسروں کی نقل کیوں کرتی ہو؟ ہر انسان کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے جو اس کی شناخت بنتی ہے اور ہر انسان دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ اپنی شخصیت کو مضبوط بنانے کی کوشش کرو اور دوسروں سے متاثر یا مرعوب ہونا چھوڑ دو۔
میں کسی کی نہ سنتی اور لوگوں کی نصیحت کو ان کا وہم جانتی تھی، حالانکہ غلطی پر میں خود تھی۔ مجھے اپنے سوا باقی سبھی لوگ غلط نظر آتے تھے۔ جب والدین نے بھی میری کچھ غلط باتوں کی نشاندہی کی تو میں فکرمند رہنے لگی، پھر یہ سوچ خود پر اتنی حاوی کر لی کہ میری نیند اڑ گئی اور میں رات رات بھر جاگتی رہتی۔
ہمارے آنگن میں آم کا ایک بڑا سا درخت تھا۔ اس کا تنا اتنا لمبا تھا کہ سارا درخت چھت کے اوپر چھتری کی طرح چھایا ہوا تھا۔ جب اس میں کیریاں لگتیں یا آم آتے، تو ہم چھت پر جا کر انہیں توڑ لیتے تھے۔ ان دنوں میری عمر چودہ برس تھی۔ ایک روز نہا کر چھت پر گئی، دوپہر کے دو بجے کا وقت ہو گا۔ بال گیلے تھے اس لیے کھولے ہوئے تھے۔ میرے بال لمبے تھے اور کمر سے نیچے تک آتے تھے، سبھی ان کی تعریف کرتے تھے۔ مجھے چھت پر جاتے ہوئے نانی نے دیکھا تو روکا کہ: “بھری دوپہر میں کیوں اوپر جا رہی ہو؟ دھوپ تیز ہے اور یہ وقت چھت پر جانے کا نہیں ہے۔”
“دھوپ ہے تو کیا ہوا، آم کے درخت کا سایہ بھی تو ہے!” میں نے ترنت جواب دیا اور نانی کے وہم پر ہنستی ہوئی اوپر چلی گئی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ مغرب کے وقت چھت پر نہ جایا کرو اور دوپہر کو آم کی شاخوں کو مت ہلایا کرو۔ “تو پھر ہم کب کیریاں توڑیں؟” میں دل ہی دل میں کڑھتی رہتی۔ نانی ہر دم بس میرے ہی پیچھے پڑی رہتی تھیں، اس روز بھی میں ان کی تنبیہ پر بڑبڑاتی ہوئی جا رہی تھی۔
واقعی بھری دوپہر تھی اور دھوپ تیز تھی، اس لیے میں جلدی سے آم کے سائے میں ہو گئی۔ درخت پر خوب بڑی بڑی کیریاں لگی تھیں۔ جی چاہا کہ ڈھیر ساری توڑ کر یہیں بیٹھ کر کھا لوں۔ میں نے چھت پر ایک اینٹ کے نیچے کاغذ کی پڑیا میں پسی ہوئی سرخ مرچ اور نمک چھپا رکھا تھا۔ جب جی چاہتا دبے قدموں چھت پر چلی جاتی، تازہ کیریاں اپنے ہاتھ سے توڑ کر نمک مرچ لگا کر خوب کھاتی اور چٹخارے لیتی۔
وقت اکثر دوپہر کا ہی ہوتا تھا کیونکہ اس وقت تقریباً سبھی سو جاتے تھے سوائے نانی اماں کے۔ نہ جانے وہ کب سوتی تھیں، انہیں نہ دن میں نیند آتی تھی نہ رات کو۔ میری جب بھی آنکھ کھلتی، وہ جاگ رہی ہوتیں۔ کبھی ان کی کھانسی کی آواز سے میری آنکھ کھل جاتی۔
گیلے بال کھولے اس دن میں تنہا ہی کیریاں کھا رہی تھی کہ چھت پر اچانک دھوپ غائب ہو گئی اور بادل سے چھا گئے، ہر طرف کچھ کچھ اندھیرا ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے آندھی آنے والی ہو۔ آندھی کے بارے میں سوچا ہی تھا کہ یکایک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ واقعی آندھی آ گئی تھی۔ آم کے درخت کی ٹہنیاں خوب زور زور سے ہلنے لگیں، بلکہ پورا درخت اس طرح ہل رہا تھا جیسے آندھی نہیں بلکہ کوئی طوفان آ گیا ہو۔ تبھی بہت ساری کیریاں شاخوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں۔
میں آندھی کو بھول کر کیریوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔ میں نے اپنا دوپٹہ چھت کے فرش پر بچھا لیا اور گرتی ہوئی کیریوں کو اکٹھا کر کے دوپٹے میں ڈالنے لگی۔ جب نانی نے مجھے نیچے نہ پایا تو وہ کسی نہ کسی طرح چھت پر پہنچ گئیں۔ وہ سیڑھیاں بہت کم چڑھتی تھیں کیونکہ ان کا سانس پھول جاتا تھا، مگر آج انہوں نے میری تلاش میں یہ دشوار مرحلہ بھی طے کر لیا تھا۔ دراصل وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں، اسی لیے ہمیشہ میری ٹوہ میں رہتی تھیں کہ زوبیہ کہاں ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ “یہ بڑی عجیب لڑکی ہے، خودسر اور لاپرواہ ہے۔ نہ جانے کس وقت کیا کر گزرے یا اس کے ساتھ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آ جائے، اسے کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔”
ان کا دھڑکا درست ثابت ہوا۔ وہ جب چھت پر آئیں تو میں انہیں وہاں بے ہوش پڑی ملی۔ بھاگ بھاگ کر گرتی ہوئی کیریاں اکٹھا کرتے ہوئے نہ جانے کب میں بے ہوش ہو گئی تھی۔ نانی نے مجھے اس حال میں دیکھا تو چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا: “جلدی آؤ! چھت پر آؤ، زوبیہ بے ہوش پڑی ہے!” ان کی آواز سن کر ابو اور بھائی دوڑتے ہوئے اوپر آئے اور مجھے اٹھا کر نیچے لائے۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھی۔ نرس نے میرے کھلے بالوں کو ایک ربن سے باندھ دیا تھا۔ خیر، ہوش آنے کے بعد کچھ طبی امداد دی گئی اور ابو مجھے گھر لے آئے۔
سب نے لاکھ پوچھا کہ کیا ہوا تھا اور تم چھت پر کیسے بے ہوش ہو گئیں؟ مگر میں کچھ نہ بتا سکی۔ بھلا بے ہوش ہونے والے کو کیا خبر کہ وہ کیوں بے ہوش ہوا؟ میرے دماغ میں اس حادثے کی کوئی یاد باقی نہ تھی۔ اس روز نانی نے حکم دیا کہ آج کے بعد زوبیہ اکیلی چھت پر نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا: “سیڑھیوں کے دروازے پر تالا لگوا دو، اگر کبھی یہ جلدی میں چھت کی منڈیر سے آنگن میں گر گئی تو کیا ہو گا؟” یہ ان کے خدشات تھے، لیکن اس روز کے بعد سے مجھ میں ایک عجیب طرح کا احساس اور بے چینی بھر گئی۔ ایک ایسی وحشت جو روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔
پھر مجھے دورے پڑنے لگے۔ اچانک بیٹھے بیٹھے میں زور سے چیختی، دس پندرہ منٹ یہی کیفیت رہتی، پھر بے حال ہو کر زمین پر گر پڑتی اور بے ہوش ہو جاتی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر مجھے ایک ماہرِ نفسیات کے پاس لے جایا گیا، جس نے میرا حال سن کر کچھ دوائیں تجویز کر دیں۔ ان دواؤں کے کھانے سے یوں لگتا تھا جیسے میرے دماغ میں کوئی فلم چل رہی ہو۔
ان دنوں میری حالت پاگلوں جیسی ہو گئی تھی۔ لوگ میرا حلیہ اور اٹھنے بیٹھنے کا انداز دیکھ کر مذاق اڑاتے۔ والدہ سمجھاتی تھیں کہ میں دوسروں کے سامنے ایسی حرکتیں نہ کیا کروں کہ لوگوں کو مذاق اڑانے کا موقع ملے، مگر میں کچھ نہ سمجھ پاتی کیونکہ میں ایسی ذہنی کیفیت میں تھی کہ مجھے خود اپنی خبر نہ تھی۔
وقت گزرتا رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ بیماری بھی بڑھتی گئی۔ کئی کئی دن میں نہ نہاتی اور نہ منہ دھوتی، کپڑے بھی والدہ زبردستی بدلواتیں اور کنگھی کرتیں۔ کبھی کئی کئی راتیں نہ سوتی اور جب سوتی تو دو دو دن سوتی رہتی۔ غرض میری بیماری سے گھر کے معمولات اور تمام افراد پریشان تھے۔ جب زیادہ دورے پڑتے تو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے، وہ ایسی دوائیں دیتا جن سے دماغ سن ہو جاتا۔ اسی کشمکش میں، میں اکیس بائیس سال کی ہو گئی۔
اب چہرے پر عجب سی بے رونقی اور ہونق پن چھا گیا تھا۔ جو لوگ رشتوں کے لیے آتے، وہ مشکوک ہو جاتے۔ میں ان کے سامنے ایک ہی کام بار بار کرتی جس سے وہ سمجھ جاتے کہ لڑکی نارمل نہیں ہے، اور وہ دوبارہ نہ آتے۔ ڈاکٹر دوا باقاعدگی سے کھانے پر زور دیتے، لیکن کچھ عرصہ استعمال کرنے سے میرا جی گھبرانے لگتا اور سدھ بدھ کھونے لگتی، یہ دیکھ کر میرے گھر والے دوا بند کر دیتے۔
میں اب مایوسی کی انتہا پر پہنچ گئی تھی۔ دن رات خودکشی کے خیالات آنے لگے تھے۔ جیتے جی میری زندگی مردوں سے بدتر ہو گئی تھی اور بے چینی کی وجہ سے میں ہر وقت چلتی رہتی، یہاں تک کہ تھک کر چور ہو جاتی، مگر پھر بھی بے چینی ختم نہ ہوتی۔
کسی دوا سے آرام نہ آتا تھا۔ میں اتنی شدید ذہنی اذیت میں تھی کہ بعض اوقات کافرانہ خیالات آتے، پھر میں اپنے اللہ سے معافی مانگتی اور کہتی کہ: “اے اللہ! میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میرا کیا قصور ہے؟ اے خالقِ کائنات! مجھے معاف کر دے اور شفا عطا فرما۔”
رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور میں اپنے رب سے فریاد کر رہی تھی۔ آسمان ابر آلود ہوا تو جی چاہا کہ چھت پر جا کر آسمان کا نظارہ کروں۔ سیڑھیوں کے دروازے کو میری وجہ سے گھر والوں نے تالا لگا دیا تھا، کیونکہ انہیں خوف تھا کہ کہیں میں بے قراری کی کیفیت میں اوپر سے چھلانگ نہ لگا دوں۔ امی سو رہی تھیں، میں نے چپکے سے ان کی الماری کے اوپر سے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دبے پاؤں سیڑھیوں تک پہنچی اور تالا کھول کر چھت پر آ گئی۔
آج لگا جیسے دوبارہ جنم لیا ہو، ٹھنڈی ہوا نے دل و دماغ میں تازگی بھر دی۔ جی چاہا کہ رقص کروں، ناچوں، گاؤں اور اچھلوں کودوں، جیسے مدتوں بعد قید سے رہائی ملی ہو۔ میں نے حسرت سے آم کے پیڑ کو دیکھا۔ خزاں کی وجہ سے سارے پتے جھڑ چکے تھے اور شاخیں سوکھی ہوئی نظر آ رہی تھیں، جیسے ان پر بسیرا کرنے والے لوگ کہیں دور چلے گئے ہوں۔ ویران درخت پر نہ کوئی چڑیا تھی اور نہ کوئی اور پرندہ، یہاں تک کہ کوے جو ہمہ وقت آموں پر منڈلایا کرتے تھے، وہ بھی کوچ کر گئے تھے۔ یہ آموں کا موسم نہ تھا، مجھے وہ دن یاد آ رہے تھے جب درخت کی ٹہنیاں پہلے پہلے آموں اور ہری ہری کیریوں سے لدی ہوتی تھیں اور میں ہاتھ بڑھا کر انہیں توڑ لیا کرتی تھی۔
وہ دن بھی یاد آیا جب میں کیریاں کھانے چھت پر آئی تھی کہ اچانک آندھی آ گئی اور میں کیریوں کو اکٹھا کرتے ہوئے بدحواس سی ہو گئی تھی، اور پھر جب گر کر بے ہوش ہوئی تو پھر کچھ خبر نہ رہی۔ اس دن کی یاد آتے ہی میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ آج اپنے اللہ سے عاجزی سے التجا کروں کہ ویسے ہی دن میری زندگی میں دوبارہ آ جائیں جیسے پہلے تھے۔ جب میں ٹھیک ٹھاک اور صحت مند ہوا کرتی تھی اور زندگی سے لطف اندوز ہو سکتی تھی۔
اس خیال کے آتے ہی میں نے آسمان کی طرف دیکھا، بادل چھاتے جا رہے تھے۔ میں نے چھت کے فرش کو صاف کیا، دو زانو ہو کر بیٹھ گئی اور سر سجدے میں رکھ دیا۔ میں رو رو کر اور گڑگڑا کر دعا کرنے لگی: “اے خالقِ کائنات! میری دعا قبول فرما لے اور مجھے پہلے جیسا صحت مند کر دے۔” میں نے دیر تک دعا مانگی، رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ آنسو تھے کہ بہتے جا رہے تھے اور رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی کہ میری دعا سن لی گئی۔
کافی دیر تک جب گھر والوں نے مجھے نہ پایا تو ڈھونڈ مچ گئی، بالآخر وہ سیڑھیوں کی طرف آئے۔ سیڑھیوں پر کچھ روشنی محسوس ہوئی تو وہ اوپر آ گئے اور دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے۔ بھائی اور بہن دوڑتے ہوئے چھت کی جانب آئے جہاں میں دو زانو بیٹھی تھی۔ انہوں نے کہا: “دیکھو! یہی تو اس کی حرکتیں ہیں، نہ جانے کب سے یہاں بیٹھی ہے اور کیا کر رہی ہے۔”
“دعا کر رہی ہوں بھائی جان،” میں نے کہا، “آپ پریشان نہ ہوں، میں ٹھیک ہوں۔”
“اچھا اب نیچے آ جاؤ، شام ہونے لگی ہے۔” انہوں نے بازو سے پکڑ کر مجھے اٹھایا اور نیچے لے آئے۔ امی کے منہ سے نکلا: “اللہ تیرا شکر ہے کہ یہ صحیح سلامت ہے۔” میں نے کسی کی نہ سنی، کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ گئی اور آنکھیں موند لیں۔ یونہی آنکھیں بند کیے نہ جانے کب نیند آ گئی۔
اس ڈاکٹر کے پاس جانا تو بس ایک بہانہ تھا، انہوں نے ساری تفصیل سنی، رپورٹیں اور پرانے نسخے دیکھے۔ انہوں نے ایک دوا دی اور ساتھ ہی ایک دعا بھی لکھ کر دی۔ گھر آکر میں نے دوا کھائی اور امی نے وہ دعا پڑھ کر مجھ پر دم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزہ کر دکھایا؛ وہ دوا کھا کر میں ایسی سوئی کہ جب صبح بیدار ہوئی تو بالکل بھلی چنگی تھی۔ مجھے اپنی گزشتہ زندگی ایک خواب کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ اللہ نے میرے ساتھ اتنا بڑا معجزہ کر دیا ہے۔ میں نے خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
میں بالکل پہلے جیسی ہو گئی۔ بعد میں میں نے اپنے بال بھی دوبارہ بڑھا لیے، کیونکہ بیماری کے دنوں میں، میں نہاتی کم تھی اور بالوں میں جوئیں پڑ جاتی تھیں، اسی لیے امی نے بال کٹوا دیے تھے۔ وہ بیماری کی علامات اور عجیب و غریب کیفیات، جنہیں صرف میں ہی محسوس کر سکتی تھی، اب یوں غائب ہو گئی تھیں جیسے وہ سب محض میرا وہم تھا۔
رفتہ رفتہ میری بھوک کھل گئی اور میں ٹھیک طرح سے کھانے لگی۔ چہرے کی رونق بحال ہو گئی اور حواس باختگی سے مکمل نجات مل گئی۔ یادداشت بہتر ہونے لگی اور اب میں صحیح سمت میں سوچ سکتی تھی۔ ہاتھ پاؤں اب میرے قابو میں تھے؛ پہلے اگر میں کرسی یا چارپائی پر بیٹھی ہوتی تو بلا ارادہ ایک ٹانگ تیزی سے ہلاتی رہتی تھی اور مجھے خود پتہ نہ چلتا تھا، لیکن دیکھنے والے اسے نوٹ کرتے تھے۔ اب میں بالکل نارمل انداز میں بیٹھتی تھی۔
امی میری صحت مندی پر بہت خوش تھیں اور اب انہوں نے پھر سے میری شادی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔ ایک روز ابو مجھے انہی ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئے جن کی دوا سے مجھے شفا ملی تھی، ہم دراصل ان کا شکریہ ادا کرنے گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب جب مجھ سے باتیں کر رہے تھے، اسی وقت ایک خوبصورت نوجوان کمرے میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر نصیر صاحب نے تعارف کرایا: “یہ میرا فرزند ہے اور اس کا نام ارجمند ہے۔ یہ بھی ڈاکٹر ہے۔” ارجمند نے ایک نظر مجھے دیکھا، سلام کیا اور واپس چلا گیا۔
اگلے دن امی نے مجھ سے ارجمند کے بارے میں پوچھا۔ میں اسے دیکھ تو چکی تھی اور میرے ذہن میں اس کی صورت کا نقش موجود تھا، چنانچہ میں نے کہا: “امی جان! ٹھیک ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
آج میں بہت خوش ہوں۔ مجھے اپنے سسر ڈاکٹر نصیر صاحب کی بتائی ہوئی ‘دعائے شفا’ اب بھی یاد ہے۔ جب بھی میں یا میرے بچے بیمار ہوں، میں اس دعا کو دوا پر پڑھ کر ضرور پھونکتی ہوں اور پھر دوا استعمال کرتی ہوں۔ بے شک دعا اور دوا مل کر ہی مریض کو شفا یاب کرتے ہیں۔
میں بچپن سے ہی الگ تھلگ رہنے کی عادی تھی۔ لوگ سمجھتے کہ یہ معذور ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہ تھا۔ اللہ جانے مجھ میں کیا کمی تھی کہ ارد گرد کی ہر شے مجھ پر حاوی ہو جاتی۔ میں جن لوگوں کے درمیان اٹھتی بیٹھتی، ان کی عادات اپنانے کی کوشش کرتی۔ میری بہنیں ٹوکتی تھیں کہ تم دوسروں کی نقل کیوں کرتی ہو؟ ہر انسان کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے جو اس کی شناخت بنتی ہے اور ہر انسان دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ اپنی شخصیت کو مضبوط بنانے کی کوشش کرو اور دوسروں سے متاثر یا مرعوب ہونا چھوڑ دو۔
میں کسی کی نہ سنتی اور لوگوں کی نصیحت کو ان کا وہم جانتی تھی، حالانکہ غلطی پر میں خود تھی۔ مجھے اپنے سوا باقی سبھی لوگ غلط نظر آتے تھے۔ جب والدین نے بھی میری کچھ غلط باتوں کی نشاندہی کی تو میں فکرمند رہنے لگی، پھر یہ سوچ خود پر اتنی حاوی کر لی کہ میری نیند اڑ گئی اور میں رات رات بھر جاگتی رہتی۔
ہمارے آنگن میں آم کا ایک بڑا سا درخت تھا۔ اس کا تنا اتنا لمبا تھا کہ سارا درخت چھت کے اوپر چھتری کی طرح چھایا ہوا تھا۔ جب اس میں کیریاں لگتیں یا آم آتے، تو ہم چھت پر جا کر انہیں توڑ لیتے تھے۔ ان دنوں میری عمر چودہ برس تھی۔ ایک روز نہا کر چھت پر گئی، دوپہر کے دو بجے کا وقت ہو گا۔ بال گیلے تھے اس لیے کھولے ہوئے تھے۔ میرے بال لمبے تھے اور کمر سے نیچے تک آتے تھے، سبھی ان کی تعریف کرتے تھے۔ مجھے چھت پر جاتے ہوئے نانی نے دیکھا تو روکا کہ: “بھری دوپہر میں کیوں اوپر جا رہی ہو؟ دھوپ تیز ہے اور یہ وقت چھت پر جانے کا نہیں ہے۔”
“دھوپ ہے تو کیا ہوا، آم کے درخت کا سایہ بھی تو ہے!” میں نے ترنت جواب دیا اور نانی کے وہم پر ہنستی ہوئی اوپر چلی گئی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ مغرب کے وقت چھت پر نہ جایا کرو اور دوپہر کو آم کی شاخوں کو مت ہلایا کرو۔ “تو پھر ہم کب کیریاں توڑیں؟” میں دل ہی دل میں کڑھتی رہتی۔ نانی ہر دم بس میرے ہی پیچھے پڑی رہتی تھیں، اس روز بھی میں ان کی تنبیہ پر بڑبڑاتی ہوئی جا رہی تھی۔
واقعی بھری دوپہر تھی اور دھوپ تیز تھی، اس لیے میں جلدی سے آم کے سائے میں ہو گئی۔ درخت پر خوب بڑی بڑی کیریاں لگی تھیں۔ جی چاہا کہ ڈھیر ساری توڑ کر یہیں بیٹھ کر کھا لوں۔ میں نے چھت پر ایک اینٹ کے نیچے کاغذ کی پڑیا میں پسی ہوئی سرخ مرچ اور نمک چھپا رکھا تھا۔ جب جی چاہتا دبے قدموں چھت پر چلی جاتی، تازہ کیریاں اپنے ہاتھ سے توڑ کر نمک مرچ لگا کر خوب کھاتی اور چٹخارے لیتی۔
وقت اکثر دوپہر کا ہی ہوتا تھا کیونکہ اس وقت تقریباً سبھی سو جاتے تھے سوائے نانی اماں کے۔ نہ جانے وہ کب سوتی تھیں، انہیں نہ دن میں نیند آتی تھی نہ رات کو۔ میری جب بھی آنکھ کھلتی، وہ جاگ رہی ہوتیں۔ کبھی ان کی کھانسی کی آواز سے میری آنکھ کھل جاتی۔
گیلے بال کھولے اس دن میں تنہا ہی کیریاں کھا رہی تھی کہ چھت پر اچانک دھوپ غائب ہو گئی اور بادل سے چھا گئے، ہر طرف کچھ کچھ اندھیرا ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے آندھی آنے والی ہو۔ آندھی کے بارے میں سوچا ہی تھا کہ یکایک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ واقعی آندھی آ گئی تھی۔ آم کے درخت کی ٹہنیاں خوب زور زور سے ہلنے لگیں، بلکہ پورا درخت اس طرح ہل رہا تھا جیسے آندھی نہیں بلکہ کوئی طوفان آ گیا ہو۔ تبھی بہت ساری کیریاں شاخوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں۔
میں آندھی کو بھول کر کیریوں کی طرف متوجہ ہو گئی۔ میں نے اپنا دوپٹہ چھت کے فرش پر بچھا لیا اور گرتی ہوئی کیریوں کو اکٹھا کر کے دوپٹے میں ڈالنے لگی۔ جب نانی نے مجھے نیچے نہ پایا تو وہ کسی نہ کسی طرح چھت پر پہنچ گئیں۔ وہ سیڑھیاں بہت کم چڑھتی تھیں کیونکہ ان کا سانس پھول جاتا تھا، مگر آج انہوں نے میری تلاش میں یہ دشوار مرحلہ بھی طے کر لیا تھا۔ دراصل وہ مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں، اسی لیے ہمیشہ میری ٹوہ میں رہتی تھیں کہ زوبیہ کہاں ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ “یہ بڑی عجیب لڑکی ہے، خودسر اور لاپرواہ ہے۔ نہ جانے کس وقت کیا کر گزرے یا اس کے ساتھ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آ جائے، اسے کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔”
ان کا دھڑکا درست ثابت ہوا۔ وہ جب چھت پر آئیں تو میں انہیں وہاں بے ہوش پڑی ملی۔ بھاگ بھاگ کر گرتی ہوئی کیریاں اکٹھا کرتے ہوئے نہ جانے کب میں بے ہوش ہو گئی تھی۔ نانی نے مجھے اس حال میں دیکھا تو چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا: “جلدی آؤ! چھت پر آؤ، زوبیہ بے ہوش پڑی ہے!” ان کی آواز سن کر ابو اور بھائی دوڑتے ہوئے اوپر آئے اور مجھے اٹھا کر نیچے لائے۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں تھی۔ نرس نے میرے کھلے بالوں کو ایک ربن سے باندھ دیا تھا۔ خیر، ہوش آنے کے بعد کچھ طبی امداد دی گئی اور ابو مجھے گھر لے آئے۔
سب نے لاکھ پوچھا کہ کیا ہوا تھا اور تم چھت پر کیسے بے ہوش ہو گئیں؟ مگر میں کچھ نہ بتا سکی۔ بھلا بے ہوش ہونے والے کو کیا خبر کہ وہ کیوں بے ہوش ہوا؟ میرے دماغ میں اس حادثے کی کوئی یاد باقی نہ تھی۔ اس روز نانی نے حکم دیا کہ آج کے بعد زوبیہ اکیلی چھت پر نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا: “سیڑھیوں کے دروازے پر تالا لگوا دو، اگر کبھی یہ جلدی میں چھت کی منڈیر سے آنگن میں گر گئی تو کیا ہو گا؟” یہ ان کے خدشات تھے، لیکن اس روز کے بعد سے مجھ میں ایک عجیب طرح کا احساس اور بے چینی بھر گئی۔ ایک ایسی وحشت جو روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔
پھر مجھے دورے پڑنے لگے۔ اچانک بیٹھے بیٹھے میں زور سے چیختی، دس پندرہ منٹ یہی کیفیت رہتی، پھر بے حال ہو کر زمین پر گر پڑتی اور بے ہوش ہو جاتی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر مجھے ایک ماہرِ نفسیات کے پاس لے جایا گیا، جس نے میرا حال سن کر کچھ دوائیں تجویز کر دیں۔ ان دواؤں کے کھانے سے یوں لگتا تھا جیسے میرے دماغ میں کوئی فلم چل رہی ہو۔
ان دنوں میری حالت پاگلوں جیسی ہو گئی تھی۔ لوگ میرا حلیہ اور اٹھنے بیٹھنے کا انداز دیکھ کر مذاق اڑاتے۔ والدہ سمجھاتی تھیں کہ میں دوسروں کے سامنے ایسی حرکتیں نہ کیا کروں کہ لوگوں کو مذاق اڑانے کا موقع ملے، مگر میں کچھ نہ سمجھ پاتی کیونکہ میں ایسی ذہنی کیفیت میں تھی کہ مجھے خود اپنی خبر نہ تھی۔
وقت گزرتا رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ بیماری بھی بڑھتی گئی۔ کئی کئی دن میں نہ نہاتی اور نہ منہ دھوتی، کپڑے بھی والدہ زبردستی بدلواتیں اور کنگھی کرتیں۔ کبھی کئی کئی راتیں نہ سوتی اور جب سوتی تو دو دو دن سوتی رہتی۔ غرض میری بیماری سے گھر کے معمولات اور تمام افراد پریشان تھے۔ جب زیادہ دورے پڑتے تو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے، وہ ایسی دوائیں دیتا جن سے دماغ سن ہو جاتا۔ اسی کشمکش میں، میں اکیس بائیس سال کی ہو گئی۔
اب چہرے پر عجب سی بے رونقی اور ہونق پن چھا گیا تھا۔ جو لوگ رشتوں کے لیے آتے، وہ مشکوک ہو جاتے۔ میں ان کے سامنے ایک ہی کام بار بار کرتی جس سے وہ سمجھ جاتے کہ لڑکی نارمل نہیں ہے، اور وہ دوبارہ نہ آتے۔ ڈاکٹر دوا باقاعدگی سے کھانے پر زور دیتے، لیکن کچھ عرصہ استعمال کرنے سے میرا جی گھبرانے لگتا اور سدھ بدھ کھونے لگتی، یہ دیکھ کر میرے گھر والے دوا بند کر دیتے۔
میں اب مایوسی کی انتہا پر پہنچ گئی تھی۔ دن رات خودکشی کے خیالات آنے لگے تھے۔ جیتے جی میری زندگی مردوں سے بدتر ہو گئی تھی اور بے چینی کی وجہ سے میں ہر وقت چلتی رہتی، یہاں تک کہ تھک کر چور ہو جاتی، مگر پھر بھی بے چینی ختم نہ ہوتی۔
کسی دوا سے آرام نہ آتا تھا۔ میں اتنی شدید ذہنی اذیت میں تھی کہ بعض اوقات کافرانہ خیالات آتے، پھر میں اپنے اللہ سے معافی مانگتی اور کہتی کہ: “اے اللہ! میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میرا کیا قصور ہے؟ اے خالقِ کائنات! مجھے معاف کر دے اور شفا عطا فرما۔”
رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور میں اپنے رب سے فریاد کر رہی تھی۔ آسمان ابر آلود ہوا تو جی چاہا کہ چھت پر جا کر آسمان کا نظارہ کروں۔ سیڑھیوں کے دروازے کو میری وجہ سے گھر والوں نے تالا لگا دیا تھا، کیونکہ انہیں خوف تھا کہ کہیں میں بے قراری کی کیفیت میں اوپر سے چھلانگ نہ لگا دوں۔ امی سو رہی تھیں، میں نے چپکے سے ان کی الماری کے اوپر سے چابیوں کا گچھا اٹھایا اور دبے پاؤں سیڑھیوں تک پہنچی اور تالا کھول کر چھت پر آ گئی۔
آج لگا جیسے دوبارہ جنم لیا ہو، ٹھنڈی ہوا نے دل و دماغ میں تازگی بھر دی۔ جی چاہا کہ رقص کروں، ناچوں، گاؤں اور اچھلوں کودوں، جیسے مدتوں بعد قید سے رہائی ملی ہو۔ میں نے حسرت سے آم کے پیڑ کو دیکھا۔ خزاں کی وجہ سے سارے پتے جھڑ چکے تھے اور شاخیں سوکھی ہوئی نظر آ رہی تھیں، جیسے ان پر بسیرا کرنے والے لوگ کہیں دور چلے گئے ہوں۔ ویران درخت پر نہ کوئی چڑیا تھی اور نہ کوئی اور پرندہ، یہاں تک کہ کوے جو ہمہ وقت آموں پر منڈلایا کرتے تھے، وہ بھی کوچ کر گئے تھے۔ یہ آموں کا موسم نہ تھا، مجھے وہ دن یاد آ رہے تھے جب درخت کی ٹہنیاں پہلے پہلے آموں اور ہری ہری کیریوں سے لدی ہوتی تھیں اور میں ہاتھ بڑھا کر انہیں توڑ لیا کرتی تھی۔
وہ دن بھی یاد آیا جب میں کیریاں کھانے چھت پر آئی تھی کہ اچانک آندھی آ گئی اور میں کیریوں کو اکٹھا کرتے ہوئے بدحواس سی ہو گئی تھی، اور پھر جب گر کر بے ہوش ہوئی تو پھر کچھ خبر نہ رہی۔ اس دن کی یاد آتے ہی میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ آج اپنے اللہ سے عاجزی سے التجا کروں کہ ویسے ہی دن میری زندگی میں دوبارہ آ جائیں جیسے پہلے تھے۔ جب میں ٹھیک ٹھاک اور صحت مند ہوا کرتی تھی اور زندگی سے لطف اندوز ہو سکتی تھی۔
اس خیال کے آتے ہی میں نے آسمان کی طرف دیکھا، بادل چھاتے جا رہے تھے۔ میں نے چھت کے فرش کو صاف کیا، دو زانو ہو کر بیٹھ گئی اور سر سجدے میں رکھ دیا۔ میں رو رو کر اور گڑگڑا کر دعا کرنے لگی: “اے خالقِ کائنات! میری دعا قبول فرما لے اور مجھے پہلے جیسا صحت مند کر دے۔” میں نے دیر تک دعا مانگی، رونے کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو گئیں۔ آنسو تھے کہ بہتے جا رہے تھے اور رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی کہ میری دعا سن لی گئی۔
کافی دیر تک جب گھر والوں نے مجھے نہ پایا تو ڈھونڈ مچ گئی، بالآخر وہ سیڑھیوں کی طرف آئے۔ سیڑھیوں پر کچھ روشنی محسوس ہوئی تو وہ اوپر آ گئے اور دیکھا کہ دروازہ کھلا ہے۔ بھائی اور بہن دوڑتے ہوئے چھت کی جانب آئے جہاں میں دو زانو بیٹھی تھی۔ انہوں نے کہا: “دیکھو! یہی تو اس کی حرکتیں ہیں، نہ جانے کب سے یہاں بیٹھی ہے اور کیا کر رہی ہے۔”
“دعا کر رہی ہوں بھائی جان،” میں نے کہا، “آپ پریشان نہ ہوں، میں ٹھیک ہوں۔”
“اچھا اب نیچے آ جاؤ، شام ہونے لگی ہے۔” انہوں نے بازو سے پکڑ کر مجھے اٹھایا اور نیچے لے آئے۔ امی کے منہ سے نکلا: “اللہ تیرا شکر ہے کہ یہ صحیح سلامت ہے۔” میں نے کسی کی نہ سنی، کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ گئی اور آنکھیں موند لیں۔ یونہی آنکھیں بند کیے نہ جانے کب نیند آ گئی۔
میں دو دن تک سوتی رہی اور جب اٹھی تو والدہ نے بتایا: “آج تمہارے ابو کو ان کے ایک دوست نے کسی ڈاکٹر کا بتایا ہے۔ ان کی بیٹی بھی ایسے ہی بے ہوش ہو کر گری تھی، بہت علاج کروائے مگر آرام نہ آیا، بالآخر اس ڈاکٹر کے علاج سے وہ ٹھیک ہو گئی۔” میں نے کہا: “امی جان! اتنے ڈاکٹروں کو دکھا چکے ہیں، اب اس ڈاکٹر کو دکھانے کی حسرت بھی پوری کر لیں۔ ویسے شفا تو اللہ تعالیٰ کی رضا سے ہی ملتی ہے۔”
اس ڈاکٹر کے پاس جانا تو بس ایک بہانہ تھا، انہوں نے ساری تفصیل سنی، رپورٹیں اور پرانے نسخے دیکھے۔ انہوں نے ایک دوا دی اور ساتھ ہی ایک دعا بھی لکھ کر دی۔ گھر آکر میں نے دوا کھائی اور امی نے وہ دعا پڑھ کر مجھ پر دم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے معجزہ کر دکھایا؛ وہ دوا کھا کر میں ایسی سوئی کہ جب صبح بیدار ہوئی تو بالکل بھلی چنگی تھی۔ مجھے اپنی گزشتہ زندگی ایک خواب کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ اللہ نے میرے ساتھ اتنا بڑا معجزہ کر دیا ہے۔ میں نے خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
میں بالکل پہلے جیسی ہو گئی۔ بعد میں میں نے اپنے بال بھی دوبارہ بڑھا لیے، کیونکہ بیماری کے دنوں میں، میں نہاتی کم تھی اور بالوں میں جوئیں پڑ جاتی تھیں، اسی لیے امی نے بال کٹوا دیے تھے۔ وہ بیماری کی علامات اور عجیب و غریب کیفیات، جنہیں صرف میں ہی محسوس کر سکتی تھی، اب یوں غائب ہو گئی تھیں جیسے وہ سب محض میرا وہم تھا۔
رفتہ رفتہ میری بھوک کھل گئی اور میں ٹھیک طرح سے کھانے لگی۔ چہرے کی رونق بحال ہو گئی اور حواس باختگی سے مکمل نجات مل گئی۔ یادداشت بہتر ہونے لگی اور اب میں صحیح سمت میں سوچ سکتی تھی۔ ہاتھ پاؤں اب میرے قابو میں تھے؛ پہلے اگر میں کرسی یا چارپائی پر بیٹھی ہوتی تو بلا ارادہ ایک ٹانگ تیزی سے ہلاتی رہتی تھی اور مجھے خود پتہ نہ چلتا تھا، لیکن دیکھنے والے اسے نوٹ کرتے تھے۔ اب میں بالکل نارمل انداز میں بیٹھتی تھی۔
امی میری صحت مندی پر بہت خوش تھیں اور اب انہوں نے پھر سے میری شادی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔ ایک روز ابو مجھے انہی ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئے جن کی دوا سے مجھے شفا ملی تھی، ہم دراصل ان کا شکریہ ادا کرنے گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب جب مجھ سے باتیں کر رہے تھے، اسی وقت ایک خوبصورت نوجوان کمرے میں داخل ہوا۔ ڈاکٹر نصیر صاحب نے تعارف کرایا: “یہ میرا فرزند ہے اور اس کا نام ارجمند ہے۔ یہ بھی ڈاکٹر ہے۔” ارجمند نے ایک نظر مجھے دیکھا، سلام کیا اور واپس چلا گیا۔
ارجمند کی تعیناتی ایک سرکاری ہسپتال میں بطور ماہرِ نفسیات ہوئی تھی۔ کچھ دن گزرے تو ابو نے امی کو بتایا کہ ارجمند نے زوبیہ کو پسند کر لیا ہے اور وہ رشتے کا خواہاں ہے۔ “آج ڈاکٹر نصیر کا فون آیا تھا۔ زوبیہ سے پوچھ لو، اگرچہ وہ اب ٹھیک ہو گئی ہے، پھر بھی اس کی رائے جاننا ضروری ہے۔”
اگلے دن امی نے مجھ سے ارجمند کے بارے میں پوچھا۔ میں اسے دیکھ تو چکی تھی اور میرے ذہن میں اس کی صورت کا نقش موجود تھا، چنانچہ میں نے کہا: “امی جان! ٹھیک ہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔”
آج میں بہت خوش ہوں۔ مجھے اپنے سسر ڈاکٹر نصیر صاحب کی بتائی ہوئی ‘دعائے شفا’ اب بھی یاد ہے۔ جب بھی میں یا میرے بچے بیمار ہوں، میں اس دعا کو دوا پر پڑھ کر ضرور پھونکتی ہوں اور پھر دوا استعمال کرتی ہوں۔ بے شک دعا اور دوا مل کر ہی مریض کو شفا یاب کرتے ہیں۔
(ختم شد)

