صفیہ کا باپ زمیندار تھا اور کاشتکاری کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمت بھی کرتا تھا۔ اس کی تین بیویاں تھیں۔ صفیہ کی ماں شہر میں، جبکہ دوسری بیویاں گاؤں میں رہتی تھیں۔ صفیہ اپنی ماں کی اکلوتی اولاد نہیں تھی۔
وہ پانچ برس کی تھی جب اس کے والدین کے درمیان ناچاقی ہو گئی۔ اس کا باپ، محمد فاضل، دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنا چاہتا تھا۔ اسی بات پر فاضل اور صفیہ کی ماں میں تکرار ہو گئی۔ وہ ایک بیوی کو پہلے ہی طلاق دے چکا تھا اور اب چاہتا تھا کہ بقیہ دونوں بیویاں گاؤں میں اکٹھی رہیں، مگر صفیہ کی ماں نے جانے سے انکار کر دیا۔ محمد فاضل کو یہ بات ناگوار گزری، کیونکہ اس کی بڑی بیوی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس رویے نے اسے بڑی بیوی کا گرویدہ بنا دیا۔ یہ جھگڑا طول پکڑتا گیا اور آخرکار میاں بیوی میں علیحدگی ہو گئی۔ فاضل ہمیشہ کے لیے صفیہ کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا۔
بڑی بیوی اپنے بیٹوں کے ساتھ اکیلی رہتی تھی۔ اسے گھر سنبھالنے میں دشواری ہو رہی تھی اور کام کی زیادتی اس کے بس سے باہر تھی، چنانچہ اسے ایک مددگار کی ضرورت تھی۔ ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ صفیہ کو اپنے پاس رکھ لے۔ اس طرح وہ شوہر کی نظروں میں بھی معتبر ٹھہرے گی اور اسے کام کاج میں مدد بھی مل جائے گی۔ اگرچہ صفیہ ابھی گھر داری کے لائق نہ تھی، مگر چھوٹے موٹے کام کر سکتی تھی۔ بس یہی سوچ کر بختو نے فاضل کو پٹی پڑھانا شروع کر دی کہ بیٹی کی پرورش ہم زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ محمد فاضل نہیں چاہتا تھا کہ معصوم صفیہ کو ماں کی ممتا سے محروم کرے، مگر آخرکار وہ بختو کی باتوں میں آ گیا اور بیٹی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اپنے گھر لے آیا۔
وہ بیچاری روتی بلکتی رہ گئی، مگر بے بسی کے باعث کچھ نہ کر سکی۔ صفیہ کی ماں اپنے شوہر کے دیے ہوئے مکان میں رہتی تھی اور محلے کے بچوں کو قرآن پڑھا کر اور کپڑے سی کر اپنا اور صفیہ کا پیٹ پالتی تھی۔ صفیہ بھی دیگر بچوں کے ساتھ وہیں قرآن پڑھا کرتی تھی۔
شروع میں تو بختو نے اس کی خوب آؤ بھگت کی اور کچھ دن بہت اچھا سلوک کیا، مگر پھر آہستہ آہستہ اسے کام کاج پر لگا دیا۔ وہ اپنی ماں کو بہت یاد کرتی تھی۔ بختو کی ظاہری محبت بھی اس کے دل سے ماں کی تڑپ ختم نہ کر سکی۔ جب بختو نے پیار کا دکھاوا بھی چھوڑ دیا تو صفیہ مزید سہمی ہوئی رہنے لگی۔ بختو اسے پڑھنے کی مہلت بھی نہیں دیتی تھی، حالانکہ صفیہ کی شدید خواہش تھی کہ وہ قرآن پاک کی تعلیم مکمل کر لے۔ جب بھی وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کرتی، سوتیلی ماں ٹال مٹول سے کام لیتی۔ دراصل بختو اسے اپنے آرام اور کام کاج کے لیے لائی تھی، پڑھانے لکھانے کے لیے نہیں۔
رفتہ رفتہ بختو نے گھر بھر کا سارا کام صفیہ کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ باہر سے پانی لانا بھی اسی بچی کی ذمہ داری ٹھہری۔ کڑکتی سردی میں اپنے ننھے منے ہاتھوں سے وہ برتن مانجھتی اور اپنی ماں کو یاد کر کے روتی، مگر اس پرائے دیس میں اس کی پکار سننے والا کوئی نہ تھا۔ وہ اپنے باپ کے گھر میں بھی ایک اجنبی کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔
جب دیورانیاں رہنے کے لیے آئیں تو صفیہ کی آزمائش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان کے بچے صفیہ کے ہم عمر تھے، جو سارا دن کھیلتے کودتے جبکہ صفیہ کام میں جتی رہتی۔ اگر وہ کبھی کچھ کہتی تو بختو فوراً ڈانٹ دیتی کہ “تُو میری بیٹیوں اور نواسیوں سے جلتی ہے۔” ان سب میں سے ایک لڑکی ‘زاہدہ’ کے ساتھ صفیہ کی خوب بنتی تھی اور دونوں کا وقت ساتھ گزرتا، مگر جب وہ چلی جاتی تو صفیہ کئی روز تک اداسی کے بھنور میں گھری رہتی۔
وہ اکثر دعا مانگتی: “یا اللہ! مجھے میری ماں سے ملا دے یا اس زندگی سے نجات کا کوئی راستہ نکال دے۔” اس کے معصوم ذہن میں موت ہی واحد چھٹکارا بن کر ابھرتی تھی۔ وہ اکثر سوچتی کہ اس کی کیسی قسمت ہے کہ جہاں اسے گڑیوں کے گھروندے بنانے چاہیے تھے، وہاں وہ گھر کے وسیع و عریض آنگن میں جھاڑو لگا رہی ہے۔
اس کی سب سے بڑی آرزو قرآن پاک مکمل کرنا تھی۔ وہ محلے میں قرآن پڑھانے والی استانی کو ہمیشہ عقیدت اور محبت بھری نظروں سے دیکھتی، کیونکہ اسے ان میں اپنی ماں کا عکس نظر آتا تھا۔ جہاں وہ پانی بھرنے جاتی تھی، وہاں اس کی ملاقات ایک نیک دل خاتون سے ہو گئی، جنہیں لوگ ‘بی بی’ کہہ کر پکارتے تھے۔ صفیہ نے ان سے پڑھانے کی درخواست کی تو بی بی، جو اس کے حالات سے واقف تھیں، فوراً مان گئیں۔ اب صفیہ پانی بھرنے کے بہانے بی بی کے گھر جاتی، سبق پڑھتی اور واپس آ جاتی۔
اس نے بی بی سے التجا کی تھی کہ یہ بات اس کی سوتیلی ماں کو معلوم نہ ہو۔ اب وہ بڑی ہو رہی تھی، اس لیے ذرا سی دیر ہونے پر بختو سوالات کی بوچھاڑ کر دیتی۔ صفیہ ہمیشہ یہی عذر پیش کرتی کہ کنویں پر بہت رش تھا۔
صفیہ نہایت لگن سے قرآن مجید پڑھ رہی تھی۔ ایک دن سبق کے دوران اسے کچھ زیادہ دیر ہو گئی۔ گھر پہنچتے ہی سوتیلی ماں نے جلتی ہوئی لکڑی سے اس کی پٹائی شروع کر دی۔ عین اسی وقت صفیہ کا باپ آ گیا۔ اس نے بختو کو سخت سست کہا اور بیٹی کو اس کے چنگل سے چھڑوایا۔ بختو نے جب دیکھا کہ فاضل بیٹی کی طرف مائل ہو رہا ہے، تو اس نے پینترا بدل کر صفیہ پر الزام تراشی شروع کر دی: “یہ نہ جانے کہاں کس کے ساتھ گھومتی رہتی ہے! پانی بھرنے کے بہانے گھنٹوں غائب رہتی ہے۔ میری اب وہ عمر نہیں کہ میں کنویں سے گھڑے بھر کر لاؤں۔ اگر میں تمہاری اولاد کی فکر نہیں کروں گی تو اور کون کرے گا؟”
ان چکنی چپڑی باتوں سے وہ صفیہ کے باپ کو خاموش کرانے میں تو کامیاب ہو گئی، مگر باپ یہ نہ بھانپ سکا کہ اس کی بیٹی اس گھر میں کس قدر ناخوش ہے۔
اس مار پیٹ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ باپ کبھی کبھار اسے اس کی ماں سے ملوانے لے جانے لگا۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب وہ ماں سے ملی تو رو رو کر برا حال کر لیا؛ وہ واپس آنے کو تیار نہ تھی۔ ماں بھی اپنے آنگن کے پھول کو مرجھایا ہوا دیکھ کر تڑپ اٹھی، مگر صفیہ کو زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ واپسی کے پورے راستے اس کے دل کا دکھ آنکھوں سے بہتا رہا۔ یہ بے آواز آنسو باپ کو متاثر نہ کر سکے، بلکہ اس نے جھڑک کر کہا: “اگر یہی حال رہا تو آئندہ تمہیں یہاں نہیں لاؤں گا۔” یہ دھمکی کام کر گئی اور صفیہ کے آنسو تو تھم گئے، مگر اندر کا کرب سرد آہوں میں ڈھل گیا۔
گھر پہنچ کر جب وہ پانی بھرنے نکلی تو سب سے پہلے بی بی کو یہ خوشخبری سنائی کہ وہ اپنی ماں سے مل آئی ہے۔ صفیہ کے چہرے کی تابندگی دیکھ کر بی بی بھی نہال ہو گئیں۔ انہوں نے صفیہ کی تربیت اور تعلیم میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ تیرہ برس کی عمر میں صفیہ نے قرآن پاک مکمل کر لیا، مگر اس کے باوجود وہ بی بی سے ملنے ضرور جایا کرتی تھی۔
جوانی اپنے تمام تر رنگ و روپ کے ساتھ صفیہ کی عمر کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ اس کا قد کاٹھ اور حسن ایسا نکھرا کہ بختو پریشان رہنے لگی۔ صفیہ کا سراپا ایسا تھا کہ دیکھنے والے کا دل مچل جائے۔ لمبا قد، صراحی دار گردن اور آنکھوں میں جھیل جیسی سوگواری کی نمی؛ وہ جب نظر اٹھاتی تو فضا میں اداسی سی گھل جاتی۔ کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ان دلکش آنکھوں میں دکھ کا کتنا گہرا سمندر پنہاں ہے۔
بی بی کا بیٹا، اسرار، شہر میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بی بی کی دلی خواہش تھی کہ صفیہ ہمیشہ کے لیے ان کے گھر کی رونق بن جائے۔ انہیں بس اسرار کی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار تھا، جو اب آخری سال میں تھا۔ ایک دن صفیہ بی بی کے گھر موجود تھی کہ اچانک اسرار آ پہنچا۔ وہ اس ‘جنگلی ہرنی’ کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اور اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا: “ویرانے میں بھی پھول کھلتے ہیں!”
ایک روز جب بختو گھر پر نہیں تھی، بی بی نے فاضل سے اس رشتے کی بات کرنے کا ارادہ کیا۔ فاضل اس غیر متوقع پیشکش پر حیران بھی ہوا اور خوش بھی؛ اس نے فوراً رضا مندی ظاہر کر دی۔ صفیہ کو تو جیسے یقین ہی نہ آیا کہ اس کی قسمت بھی کوئی ایسی خوبصورت کروٹ لے سکتی ہے۔
بختو جب اپنی بیٹی کے گھر سے واپس آئی اور محمد فاضل نے اسے رشتہ طے ہونے کی خبر سنائی، تو یہ اس پر بجلی بن کر گری۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر صفیہ بیاہ کر چلی گئی تو اس کے گھر کا کیا ہوگا؟ گھر کا سارا نظام تو اسی کے دم سے چل رہا تھا۔ مگر وہ فاضل کے اٹل فیصلوں کے سامنے بے بس تھی، اس لیے خاموش رہی۔ البتہ دل ہی دل میں اسے یہ بات کچوکے لگاتی رہی کہ صفیہ کی قسمت اس کی اپنی بیٹیوں سے بھی بہتر نکل آئی ہے۔
آخرکار صفیہ کی شادی ہو گئی۔ باپ کے گھر سے تو اسے کچھ خاص نہ ملا، البتہ اس کی ماں نے اپنی بساط کے مطابق بہت کچھ جوڑ رکھا تھا۔ شادی کے بعد صفیہ کی زندگی میں سکون کا سورج طلوع ہوا۔ اسرار اس کے حسن کا اسیر تھا اور ساس سسر اس کی سیرت کے معترف۔ اسے زندگی کی ہر آسائش میسر تھی۔ وہ پلٹ کر کبھی باپ کے گھر نہ گئی، البتہ بختو کبھی کبھار خود اس سے ملنے آ جایا کرتی تھی۔ شادی کے پانچ سال پلک جھپکتے گزر گئے اور صفیہ کی دنیا ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی مسکراہٹوں سے مہک اٹھی۔ اسرار بظاہر خوش تھا، مگر صفیہ کا یہ اطمینان بختو کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا؛ وہ اسے دوبارہ کسی آزمائش میں دیکھنا چاہتی تھی۔
زاہدہ، جو صفیہ سے محبت تو کرتی تھی، مگر اس کی خوشحالی دیکھ کر اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جلنے لگی تھی۔ وہ شہر میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چھٹیوں میں گاؤں آتی رہتی تھی۔ ایک بار وہ صفیہ سے ملنے آئی تو وہاں اس کی ملاقات اسرار سے ہوئی۔
زاہدہ آزاد خیال تھی اور اپنے بناؤ سنگھار پر خاص توجہ دیتی تھی، جبکہ صفیہ کی پہچان اس کی سادگی تھی۔ اسرار اپنے حلقہ احباب میں ایک خوش مزاج اور جدت پسند انسان سمجھا جاتا تھا، اور وہ اپنی بیوی کو بھی فیشن ایبل دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ اکثر صفیہ کو اس بات پر ٹوکتا، جسے وہ کبھی سنجیدگی سے لیتی اور کبھی ٹال دیتی۔ زاہدہ اس کے معیار پر پورا اترتی تھی، اور مرد کا دل بدلتے دیر نہیں لگتی۔ شادی کے ابتدائی برسوں میں اسرار کو لگا تھا کہ صفیہ نے اس کی زندگی مکمل کر دی ہے، مگر اب اسے اپنی زندگی میں ایک انجانی سی کمی محسوس ہونے لگی تھی۔
زاہدہ سے ملاقات کے بعد اسرار کو شدت سے احساس ہوا کہ شاید یہی وہ عورت ہے جو اس کے مزاج اور معیار کے عین مطابق ہے۔ زاہدہ بھی اس کی شخصیت سے مسحور تھی۔ وہ کچھ دن اپنی نانی کے گھر قیام پذیر رہی اور اس دوران اسرار سے اس کی ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ بختو نے اس صورتِ حال کو سنہری موقع جانا اور زاہدہ کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ صفیہ، اسرار جیسی شخصیت کے جوڑ کی نہیں ہے، اس لیے اسے اپنا راستہ خود بنانا چاہیے۔
زاہدہ ابھی خوابوں کی عمر میں تھی؛ اسے اسرار بھا گیا تھا۔ اس نے نانی کے سامنے اعتراف کر لیا کہ وہ اسرار سے شادی کی خواہشمند ہے۔ بختو اب کسی ایسے لمحے کی تلاش میں تھی کہ اسرار کے خیالات مکمل طور پر بدل دے، مگر صفیہ کی ساس اس کی سب سے بڑی ڈھال تھیں۔ جب تک وہ زندہ تھیں، کسی کی جرات نہ تھی کہ صفیہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ اسرار بھی اپنی ماں کا بے حد فرمانبردار اور ان سے محبت کرنے والا بیٹا تھا۔
اسرار اب صفیہ سے پیچھا چھڑانے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ اس کا رویہ اکھڑا اکھڑا رہنے لگا۔ جب اس نے زاہدہ سے علیحدہ نکاح کی بات کی تو اس نے صاف انکار کر دیا: “صفیہ میری خالہ ہے، جب تک وہ تمہارے نکاح میں ہے، میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔”
زندگی بھر جس شوہر نے محبت کے دعوے کیے، وہ اب صفیہ کے لیے جلاد بن چکا تھا، مگر صفیہ نے وقار اور صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ ایک دن جب اس نے رویے کی تبدیلی کی وجہ پوچھی تو اسرار نے بے دردی سے کہا: “تم پرانے خیالات کی عورت ہو، مجھے تمہیں اپنے دوستوں میں لے جاتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔” یہ سن کر صفیہ کا دل ٹوٹ کر کرچی ہو گیا، اس نے خود کو دنیا سے کاٹ لیا اور اپنی ذات کے خول میں سمٹ گئی۔
اسی دوران صفیہ کی ساس کا اچانک انتقال ہو گیا اور گھر کا واحد سہارا چھن گیا۔ اسرار نے موقع پا کر صفیہ کو طلاق دے دی اور بچوں کو اپنے پاس رکھ لیا۔ صفیہ کے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ سواری کر سکے، وہ میلوں پیدل چل کر شام ڈھلے اپنی ماں کے گھر پہنچی۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ماں کا کلیجہ منہ کو آگیا۔ صفیہ ماں کے گلے لگ کر اس قدر روئی کہ بے ہوش ہو گئی۔
ادھر زاہدہ اور اسرار کی شادی ہوگئی۔ زاہدہ نے بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی ماں انہیں خود چھوڑ کر گئی تھی۔ صفیہ برسوں تڑپتی رہی، مگر اپنی اولاد کی صورت نہ دیکھ سکی۔ ڈاکٹروں کے مشورے اور ماں کے اصرار پر صفیہ نے اپنے ماموں زاد اکرم سے شادی کر لی۔ اکرم مالدار تو نہ تھا، مگر ایک نیک سیرت اور مضبوط کردار کا انسان تھا۔ اس نے صفیہ کو وہ عزت دی جس کی وہ حقدار تھی۔
جب بچے صفیہ سے ملنے آئے تو ان کے لبوں پر پیار کے بجائے شکوے تھے۔ انہوں نے تلخی سے کہا: “تم ماں کہلانے کے لائق نہیں، تم نے ہمیں کیوں چھوڑا؟” صفیہ کے قدموں تلے زمین نکل گئی، مگر اس نے ضبط کے ساتھ جواب دیا: “بیٹا! ماں اولاد کو کبھی نہیں چھوڑتی، حالات کی سنگینی نے مجھے تم سے جدا کیا تھا۔ میں نے ہر رات تمہارے لیے مصلے پر آنسو بہائے ہیں۔”
بچوں نے جب اپنی ماں کی آنکھوں میں سچائی کی وہ تڑپ دیکھی، تو برسوں کی جمی ہوئی برف پگھلنے لگی۔ سب سے چھوٹے بیٹے نے آگے بڑھ کر صفیہ کا ہاتھ تھام لیا۔ یہ ایک چھوٹا سا قدم فاصلوں کو مٹانے کے لیے کافی تھا۔ صفیہ نے جان لیا کہ سچی محبت اور صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتے، اور ماں کا دل آخرکار اپنی اولاد تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔
وہ پانچ برس کی تھی جب اس کے والدین کے درمیان ناچاقی ہو گئی۔ اس کا باپ، محمد فاضل، دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھنا چاہتا تھا۔ اسی بات پر فاضل اور صفیہ کی ماں میں تکرار ہو گئی۔ وہ ایک بیوی کو پہلے ہی طلاق دے چکا تھا اور اب چاہتا تھا کہ بقیہ دونوں بیویاں گاؤں میں اکٹھی رہیں، مگر صفیہ کی ماں نے جانے سے انکار کر دیا۔ محمد فاضل کو یہ بات ناگوار گزری، کیونکہ اس کی بڑی بیوی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس رویے نے اسے بڑی بیوی کا گرویدہ بنا دیا۔ یہ جھگڑا طول پکڑتا گیا اور آخرکار میاں بیوی میں علیحدگی ہو گئی۔ فاضل ہمیشہ کے لیے صفیہ کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا۔
بڑی بیوی اپنے بیٹوں کے ساتھ اکیلی رہتی تھی۔ اسے گھر سنبھالنے میں دشواری ہو رہی تھی اور کام کی زیادتی اس کے بس سے باہر تھی، چنانچہ اسے ایک مددگار کی ضرورت تھی۔ ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ صفیہ کو اپنے پاس رکھ لے۔ اس طرح وہ شوہر کی نظروں میں بھی معتبر ٹھہرے گی اور اسے کام کاج میں مدد بھی مل جائے گی۔ اگرچہ صفیہ ابھی گھر داری کے لائق نہ تھی، مگر چھوٹے موٹے کام کر سکتی تھی۔ بس یہی سوچ کر بختو نے فاضل کو پٹی پڑھانا شروع کر دی کہ بیٹی کی پرورش ہم زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ محمد فاضل نہیں چاہتا تھا کہ معصوم صفیہ کو ماں کی ممتا سے محروم کرے، مگر آخرکار وہ بختو کی باتوں میں آ گیا اور بیٹی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اپنے گھر لے آیا۔
وہ بیچاری روتی بلکتی رہ گئی، مگر بے بسی کے باعث کچھ نہ کر سکی۔ صفیہ کی ماں اپنے شوہر کے دیے ہوئے مکان میں رہتی تھی اور محلے کے بچوں کو قرآن پڑھا کر اور کپڑے سی کر اپنا اور صفیہ کا پیٹ پالتی تھی۔ صفیہ بھی دیگر بچوں کے ساتھ وہیں قرآن پڑھا کرتی تھی۔
شروع میں تو بختو نے اس کی خوب آؤ بھگت کی اور کچھ دن بہت اچھا سلوک کیا، مگر پھر آہستہ آہستہ اسے کام کاج پر لگا دیا۔ وہ اپنی ماں کو بہت یاد کرتی تھی۔ بختو کی ظاہری محبت بھی اس کے دل سے ماں کی تڑپ ختم نہ کر سکی۔ جب بختو نے پیار کا دکھاوا بھی چھوڑ دیا تو صفیہ مزید سہمی ہوئی رہنے لگی۔ بختو اسے پڑھنے کی مہلت بھی نہیں دیتی تھی، حالانکہ صفیہ کی شدید خواہش تھی کہ وہ قرآن پاک کی تعلیم مکمل کر لے۔ جب بھی وہ اپنی اس خواہش کا اظہار کرتی، سوتیلی ماں ٹال مٹول سے کام لیتی۔ دراصل بختو اسے اپنے آرام اور کام کاج کے لیے لائی تھی، پڑھانے لکھانے کے لیے نہیں۔
رفتہ رفتہ بختو نے گھر بھر کا سارا کام صفیہ کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ باہر سے پانی لانا بھی اسی بچی کی ذمہ داری ٹھہری۔ کڑکتی سردی میں اپنے ننھے منے ہاتھوں سے وہ برتن مانجھتی اور اپنی ماں کو یاد کر کے روتی، مگر اس پرائے دیس میں اس کی پکار سننے والا کوئی نہ تھا۔ وہ اپنے باپ کے گھر میں بھی ایک اجنبی کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔
جب دیورانیاں رہنے کے لیے آئیں تو صفیہ کی آزمائش میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان کے بچے صفیہ کے ہم عمر تھے، جو سارا دن کھیلتے کودتے جبکہ صفیہ کام میں جتی رہتی۔ اگر وہ کبھی کچھ کہتی تو بختو فوراً ڈانٹ دیتی کہ “تُو میری بیٹیوں اور نواسیوں سے جلتی ہے۔” ان سب میں سے ایک لڑکی ‘زاہدہ’ کے ساتھ صفیہ کی خوب بنتی تھی اور دونوں کا وقت ساتھ گزرتا، مگر جب وہ چلی جاتی تو صفیہ کئی روز تک اداسی کے بھنور میں گھری رہتی۔
وہ اکثر دعا مانگتی: “یا اللہ! مجھے میری ماں سے ملا دے یا اس زندگی سے نجات کا کوئی راستہ نکال دے۔” اس کے معصوم ذہن میں موت ہی واحد چھٹکارا بن کر ابھرتی تھی۔ وہ اکثر سوچتی کہ اس کی کیسی قسمت ہے کہ جہاں اسے گڑیوں کے گھروندے بنانے چاہیے تھے، وہاں وہ گھر کے وسیع و عریض آنگن میں جھاڑو لگا رہی ہے۔
اس کی سب سے بڑی آرزو قرآن پاک مکمل کرنا تھی۔ وہ محلے میں قرآن پڑھانے والی استانی کو ہمیشہ عقیدت اور محبت بھری نظروں سے دیکھتی، کیونکہ اسے ان میں اپنی ماں کا عکس نظر آتا تھا۔ جہاں وہ پانی بھرنے جاتی تھی، وہاں اس کی ملاقات ایک نیک دل خاتون سے ہو گئی، جنہیں لوگ ‘بی بی’ کہہ کر پکارتے تھے۔ صفیہ نے ان سے پڑھانے کی درخواست کی تو بی بی، جو اس کے حالات سے واقف تھیں، فوراً مان گئیں۔ اب صفیہ پانی بھرنے کے بہانے بی بی کے گھر جاتی، سبق پڑھتی اور واپس آ جاتی۔
اس نے بی بی سے التجا کی تھی کہ یہ بات اس کی سوتیلی ماں کو معلوم نہ ہو۔ اب وہ بڑی ہو رہی تھی، اس لیے ذرا سی دیر ہونے پر بختو سوالات کی بوچھاڑ کر دیتی۔ صفیہ ہمیشہ یہی عذر پیش کرتی کہ کنویں پر بہت رش تھا۔
صفیہ نہایت لگن سے قرآن مجید پڑھ رہی تھی۔ ایک دن سبق کے دوران اسے کچھ زیادہ دیر ہو گئی۔ گھر پہنچتے ہی سوتیلی ماں نے جلتی ہوئی لکڑی سے اس کی پٹائی شروع کر دی۔ عین اسی وقت صفیہ کا باپ آ گیا۔ اس نے بختو کو سخت سست کہا اور بیٹی کو اس کے چنگل سے چھڑوایا۔ بختو نے جب دیکھا کہ فاضل بیٹی کی طرف مائل ہو رہا ہے، تو اس نے پینترا بدل کر صفیہ پر الزام تراشی شروع کر دی: “یہ نہ جانے کہاں کس کے ساتھ گھومتی رہتی ہے! پانی بھرنے کے بہانے گھنٹوں غائب رہتی ہے۔ میری اب وہ عمر نہیں کہ میں کنویں سے گھڑے بھر کر لاؤں۔ اگر میں تمہاری اولاد کی فکر نہیں کروں گی تو اور کون کرے گا؟”
ان چکنی چپڑی باتوں سے وہ صفیہ کے باپ کو خاموش کرانے میں تو کامیاب ہو گئی، مگر باپ یہ نہ بھانپ سکا کہ اس کی بیٹی اس گھر میں کس قدر ناخوش ہے۔
اس مار پیٹ کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ باپ کبھی کبھار اسے اس کی ماں سے ملوانے لے جانے لگا۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب وہ ماں سے ملی تو رو رو کر برا حال کر لیا؛ وہ واپس آنے کو تیار نہ تھی۔ ماں بھی اپنے آنگن کے پھول کو مرجھایا ہوا دیکھ کر تڑپ اٹھی، مگر صفیہ کو زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ واپسی کے پورے راستے اس کے دل کا دکھ آنکھوں سے بہتا رہا۔ یہ بے آواز آنسو باپ کو متاثر نہ کر سکے، بلکہ اس نے جھڑک کر کہا: “اگر یہی حال رہا تو آئندہ تمہیں یہاں نہیں لاؤں گا۔” یہ دھمکی کام کر گئی اور صفیہ کے آنسو تو تھم گئے، مگر اندر کا کرب سرد آہوں میں ڈھل گیا۔
گھر پہنچ کر جب وہ پانی بھرنے نکلی تو سب سے پہلے بی بی کو یہ خوشخبری سنائی کہ وہ اپنی ماں سے مل آئی ہے۔ صفیہ کے چہرے کی تابندگی دیکھ کر بی بی بھی نہال ہو گئیں۔ انہوں نے صفیہ کی تربیت اور تعلیم میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ تیرہ برس کی عمر میں صفیہ نے قرآن پاک مکمل کر لیا، مگر اس کے باوجود وہ بی بی سے ملنے ضرور جایا کرتی تھی۔
جوانی اپنے تمام تر رنگ و روپ کے ساتھ صفیہ کی عمر کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ اس کا قد کاٹھ اور حسن ایسا نکھرا کہ بختو پریشان رہنے لگی۔ صفیہ کا سراپا ایسا تھا کہ دیکھنے والے کا دل مچل جائے۔ لمبا قد، صراحی دار گردن اور آنکھوں میں جھیل جیسی سوگواری کی نمی؛ وہ جب نظر اٹھاتی تو فضا میں اداسی سی گھل جاتی۔ کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ان دلکش آنکھوں میں دکھ کا کتنا گہرا سمندر پنہاں ہے۔
بی بی کا بیٹا، اسرار، شہر میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ بی بی کی دلی خواہش تھی کہ صفیہ ہمیشہ کے لیے ان کے گھر کی رونق بن جائے۔ انہیں بس اسرار کی تعلیم مکمل ہونے کا انتظار تھا، جو اب آخری سال میں تھا۔ ایک دن صفیہ بی بی کے گھر موجود تھی کہ اچانک اسرار آ پہنچا۔ وہ اس ‘جنگلی ہرنی’ کو دیکھ کر دنگ رہ گیا اور اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا: “ویرانے میں بھی پھول کھلتے ہیں!”
ایک روز جب بختو گھر پر نہیں تھی، بی بی نے فاضل سے اس رشتے کی بات کرنے کا ارادہ کیا۔ فاضل اس غیر متوقع پیشکش پر حیران بھی ہوا اور خوش بھی؛ اس نے فوراً رضا مندی ظاہر کر دی۔ صفیہ کو تو جیسے یقین ہی نہ آیا کہ اس کی قسمت بھی کوئی ایسی خوبصورت کروٹ لے سکتی ہے۔
بختو جب اپنی بیٹی کے گھر سے واپس آئی اور محمد فاضل نے اسے رشتہ طے ہونے کی خبر سنائی، تو یہ اس پر بجلی بن کر گری۔ وہ سوچنے لگی کہ اگر صفیہ بیاہ کر چلی گئی تو اس کے گھر کا کیا ہوگا؟ گھر کا سارا نظام تو اسی کے دم سے چل رہا تھا۔ مگر وہ فاضل کے اٹل فیصلوں کے سامنے بے بس تھی، اس لیے خاموش رہی۔ البتہ دل ہی دل میں اسے یہ بات کچوکے لگاتی رہی کہ صفیہ کی قسمت اس کی اپنی بیٹیوں سے بھی بہتر نکل آئی ہے۔
آخرکار صفیہ کی شادی ہو گئی۔ باپ کے گھر سے تو اسے کچھ خاص نہ ملا، البتہ اس کی ماں نے اپنی بساط کے مطابق بہت کچھ جوڑ رکھا تھا۔ شادی کے بعد صفیہ کی زندگی میں سکون کا سورج طلوع ہوا۔ اسرار اس کے حسن کا اسیر تھا اور ساس سسر اس کی سیرت کے معترف۔ اسے زندگی کی ہر آسائش میسر تھی۔ وہ پلٹ کر کبھی باپ کے گھر نہ گئی، البتہ بختو کبھی کبھار خود اس سے ملنے آ جایا کرتی تھی۔ شادی کے پانچ سال پلک جھپکتے گزر گئے اور صفیہ کی دنیا ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی مسکراہٹوں سے مہک اٹھی۔ اسرار بظاہر خوش تھا، مگر صفیہ کا یہ اطمینان بختو کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا؛ وہ اسے دوبارہ کسی آزمائش میں دیکھنا چاہتی تھی۔
زاہدہ، جو صفیہ سے محبت تو کرتی تھی، مگر اس کی خوشحالی دیکھ کر اندر ہی اندر حسد کی آگ میں جلنے لگی تھی۔ وہ شہر میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور چھٹیوں میں گاؤں آتی رہتی تھی۔ ایک بار وہ صفیہ سے ملنے آئی تو وہاں اس کی ملاقات اسرار سے ہوئی۔
زاہدہ آزاد خیال تھی اور اپنے بناؤ سنگھار پر خاص توجہ دیتی تھی، جبکہ صفیہ کی پہچان اس کی سادگی تھی۔ اسرار اپنے حلقہ احباب میں ایک خوش مزاج اور جدت پسند انسان سمجھا جاتا تھا، اور وہ اپنی بیوی کو بھی فیشن ایبل دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ اکثر صفیہ کو اس بات پر ٹوکتا، جسے وہ کبھی سنجیدگی سے لیتی اور کبھی ٹال دیتی۔ زاہدہ اس کے معیار پر پورا اترتی تھی، اور مرد کا دل بدلتے دیر نہیں لگتی۔ شادی کے ابتدائی برسوں میں اسرار کو لگا تھا کہ صفیہ نے اس کی زندگی مکمل کر دی ہے، مگر اب اسے اپنی زندگی میں ایک انجانی سی کمی محسوس ہونے لگی تھی۔
زاہدہ سے ملاقات کے بعد اسرار کو شدت سے احساس ہوا کہ شاید یہی وہ عورت ہے جو اس کے مزاج اور معیار کے عین مطابق ہے۔ زاہدہ بھی اس کی شخصیت سے مسحور تھی۔ وہ کچھ دن اپنی نانی کے گھر قیام پذیر رہی اور اس دوران اسرار سے اس کی ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ بختو نے اس صورتِ حال کو سنہری موقع جانا اور زاہدہ کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ صفیہ، اسرار جیسی شخصیت کے جوڑ کی نہیں ہے، اس لیے اسے اپنا راستہ خود بنانا چاہیے۔
زاہدہ ابھی خوابوں کی عمر میں تھی؛ اسے اسرار بھا گیا تھا۔ اس نے نانی کے سامنے اعتراف کر لیا کہ وہ اسرار سے شادی کی خواہشمند ہے۔ بختو اب کسی ایسے لمحے کی تلاش میں تھی کہ اسرار کے خیالات مکمل طور پر بدل دے، مگر صفیہ کی ساس اس کی سب سے بڑی ڈھال تھیں۔ جب تک وہ زندہ تھیں، کسی کی جرات نہ تھی کہ صفیہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے۔ اسرار بھی اپنی ماں کا بے حد فرمانبردار اور ان سے محبت کرنے والا بیٹا تھا۔
کچھ دن بعد زاہدہ نے بیماری کا بہانہ کیا اور بختو کے ہمراہ اسرار کے کلینک جانے لگی۔ ان قربتوں نے اسرار کے دل میں زاہدہ کے لیے جگہ بنا دی اور اسے اپنی وفا شعار، پریوں جیسی حسین اور باسلیقہ بیوی میں خامیاں نظر آنے لگیں۔ وہ یہاں تک کہنے لگا کہ صفیہ سے شادی اس کی زندگی کی بڑی غلطی تھی۔ اس کا اعتراض تھا کہ صفیہ کم تعلیم یافتہ ہے، وہ بچوں کی تربیت کیا کرے گی؟ حالانکہ صفیہ پہلے کی طرح جازبِ نظر تھی اور اب تو اسے گھر داری کا پہلے سے کہیں بہتر سلیقہ آگیا تھا۔
اسرار اب صفیہ سے پیچھا چھڑانے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ اس کا رویہ اکھڑا اکھڑا رہنے لگا۔ جب اس نے زاہدہ سے علیحدہ نکاح کی بات کی تو اس نے صاف انکار کر دیا: “صفیہ میری خالہ ہے، جب تک وہ تمہارے نکاح میں ہے، میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔”
زندگی بھر جس شوہر نے محبت کے دعوے کیے، وہ اب صفیہ کے لیے جلاد بن چکا تھا، مگر صفیہ نے وقار اور صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ ایک دن جب اس نے رویے کی تبدیلی کی وجہ پوچھی تو اسرار نے بے دردی سے کہا: “تم پرانے خیالات کی عورت ہو، مجھے تمہیں اپنے دوستوں میں لے جاتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔” یہ سن کر صفیہ کا دل ٹوٹ کر کرچی ہو گیا، اس نے خود کو دنیا سے کاٹ لیا اور اپنی ذات کے خول میں سمٹ گئی۔
اسی دوران صفیہ کی ساس کا اچانک انتقال ہو گیا اور گھر کا واحد سہارا چھن گیا۔ اسرار نے موقع پا کر صفیہ کو طلاق دے دی اور بچوں کو اپنے پاس رکھ لیا۔ صفیہ کے پاس اتنے پیسے بھی نہ تھے کہ سواری کر سکے، وہ میلوں پیدل چل کر شام ڈھلے اپنی ماں کے گھر پہنچی۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ماں کا کلیجہ منہ کو آگیا۔ صفیہ ماں کے گلے لگ کر اس قدر روئی کہ بے ہوش ہو گئی۔
ادھر زاہدہ اور اسرار کی شادی ہوگئی۔ زاہدہ نے بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی ماں انہیں خود چھوڑ کر گئی تھی۔ صفیہ برسوں تڑپتی رہی، مگر اپنی اولاد کی صورت نہ دیکھ سکی۔ ڈاکٹروں کے مشورے اور ماں کے اصرار پر صفیہ نے اپنے ماموں زاد اکرم سے شادی کر لی۔ اکرم مالدار تو نہ تھا، مگر ایک نیک سیرت اور مضبوط کردار کا انسان تھا۔ اس نے صفیہ کو وہ عزت دی جس کی وہ حقدار تھی۔
برسوں بعد اللہ نے صفیہ کے آنگن میں دوبارہ بچوں کی کلکاریاں بکھیر دیں، مگر وہ اپنے پہلے بچوں کو نہ بھول پائی۔ پندرہ سال گزر گئے تو اس کی ممتا بے قرار ہو اٹھی۔ اس نے اکرم سے التجا کی کہ وہ اسے ایک بار اس کے بچوں سے ملوا دے۔ اکرم نے فراخ دلی دکھائی اور اسرار سے جا کر درخواست کی۔
جب بچے صفیہ سے ملنے آئے تو ان کے لبوں پر پیار کے بجائے شکوے تھے۔ انہوں نے تلخی سے کہا: “تم ماں کہلانے کے لائق نہیں، تم نے ہمیں کیوں چھوڑا؟” صفیہ کے قدموں تلے زمین نکل گئی، مگر اس نے ضبط کے ساتھ جواب دیا: “بیٹا! ماں اولاد کو کبھی نہیں چھوڑتی، حالات کی سنگینی نے مجھے تم سے جدا کیا تھا۔ میں نے ہر رات تمہارے لیے مصلے پر آنسو بہائے ہیں۔”
بچوں نے جب اپنی ماں کی آنکھوں میں سچائی کی وہ تڑپ دیکھی، تو برسوں کی جمی ہوئی برف پگھلنے لگی۔ سب سے چھوٹے بیٹے نے آگے بڑھ کر صفیہ کا ہاتھ تھام لیا۔ یہ ایک چھوٹا سا قدم فاصلوں کو مٹانے کے لیے کافی تھا۔ صفیہ نے جان لیا کہ سچی محبت اور صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتے، اور ماں کا دل آخرکار اپنی اولاد تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔
(ختم شد)
