شازیہ میری پیاری سہیلی تھی، ہم ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ یونیورسٹی کے دنوں میں اس کی ملاقات انور نامی لڑکے سے ہوئی۔ وہ ایک لاابالی، ہنس مکھ، بے فکر اور وجیہہ نوجوان تھا۔ بنیادی طور پر اس کا تعلق گاؤں سے تھا، مگر تعلیم کی خاطر اس کا خاندان شہر منتقل ہو گیا تھا۔ انور سیاسیات میں ایم اے کر رہا تھا، جبکہ میں اور شازیہ شعبہ انگریزی ادب سے وابستہ تھیں، تاہم ہماری ملاقات اکثر ہو جاتی تھی کیونکہ وہ ایک بہترین مقرر تھا اور تقریری مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ شازیہ بھی ایک اچھی مقررہ تھی۔ جب بھی کوئی مقابلہ ہوتا، کبھی شازیہ اول آتی اور کبھی انور بازی لے جاتا۔ دونوں کی شناسائی اسی حوالے سے ہوئی تھی۔
انور ایک خوش حال گھرانے کا چشم و چراغ اور فکرِ معاش سے آزاد تھا۔ دیہات میں ان کی وسیع زرعی زمین تھی، اس لیے وہ محض مستقبل سنوارنے کے لیے تعلیم حاصل نہیں کر رہا تھا، لیکن شازیہ ایک متوسط طبقے کی لڑکی تھی جس کے لیے تعلیم کڑے وقت کا ہتھیار ثابت ہو سکتی تھی۔ وہ اپنی پڑھائی میں نہایت سنجیدہ تھی اور ہمیشہ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوتی۔ دو سال سکون سے گزر گئے۔ ایک دن انور نے شازیہ سے اپنے دل کا مدعا بیان کر دیا کہ وہ اس سے شادی کا خواہش مند ہے۔ شازیہ یہ سن کر ششدر رہ گئی۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ انور ہی نہیں بلکہ وہ خود بھی اسے چاہتی ہے اور دل ہی دل میں اس جذبے کی آبیاری کرتی رہی ہے جس کا اظہار اس نے کبھی کسی سے نہیں کیا تھا۔ دو برس تک دونوں نے اپنے جذبات پوشیدہ رکھے اور ایک دوسرے سے نہایت احترام و تکریم کے ساتھ ملتے رہے، لیکن عین جدائی کے وقت ان جذبوں نے ایسی شدت اختیار کی کہ انور نے سوچا اگر اب اظہار نہ کیا تو شاید پھر کبھی شازیہ سے ملاقات نہ ہو پائے۔
شازیہ کی رضامندی کے بعد انور نے اپنے والدین کو اس کے گھر بھیجا۔ انہوں نے شازیہ کے والد سے کہا: “ہم بیٹے کے اصرار پر آپ کے پاس آ تو گئے ہیں، لیکن ہمارے اپنے رسم و رواج ہیں۔ ہم برادری سے باہر شادیاں نہیں کرتے۔ انور کا نکاح بچپن میں اس کی چچا زاد سے ہو چکا ہے اور ہم اس نکاح کو بھی برقرار رکھیں گے۔” شازیہ کے والد نے جواب دیا: “شاید آپ لوگ ہم سے مذاق کرنے آئے ہیں یا اس کی منکوحہ سے مذاق کرنا چاہتے ہیں۔ میں اپنی بیٹی کا رشتہ آپ کو نہیں دے سکتا۔ انور اپنی منکوحہ کو آباد کرے یا طلاق دے کر یہ قصہ ختم کرے، صرف اسی صورت میں یہ رشتہ ہو سکتا ہے۔” انور کے والدین نے گھر آکر بیٹے کو صاف کہہ دیا کہ وہ اپنی بیٹی کو سوکن پر بیاہنے کو تیار نہیں ہیں، لہٰذا تم شازیہ کا خیال دل سے نکال دو۔ ہم تمہاری منکوحہ کو بیاہ کر گھر لائیں گے، وہ تمہارے چچا کی بیٹی ہے، اسے طلاق دے کر ہم خاندان کے ٹکڑے نہیں کر سکتے۔ اصل بات یہ تھی کہ انور کے والدین شازیہ کو بہو بنانا ہی نہیں چاہتے تھے، وہ صرف بیٹے کی ضد کے آگے مجبور ہوئے تھے۔ خیر، بات وہیں دم توڑ گئی۔
اس صورتحال سے شازیہ کو شدید صدمہ پہنچا کیونکہ وہ کسی قیمت پر انور کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ یہی حال انور کا تھا، مگر وہ مجبور تھا۔ وہ شازیہ کے والد کی شرط پوری نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ بھی خاندانی روایات کا پابند تھا اور اپنی منکوحہ کو طلاق دینا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ جب شازیہ اپنے والدین کو راضی نہ کر سکی تو اس کے دل میں بغاوت نے سر اٹھایا۔ اس نے سوچا، زندگی میری ہے اور فیصلے دوسرے کر رہے ہیں۔ میں ہر قیمت پر انور کو اپنا شریکِ حیات چنوں گی، ورنہ کسی اور سے نکاح ہرگز نہیں کروں گی۔ انہی دنوں اس کے لیے چند نہایت اچھے رشتے آئے۔ شازیہ کی ماں نے اس پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ ان میں سے کوئی ایک رشتہ قبول کر لے، کیونکہ انہیں ابھی چار اور بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے تھے جو ابھی زیرِ تعلیم تھیں۔ والد ایک سفید پوش انسان تھے جنہیں دولت سے زیادہ اپنی عزت عزیز تھی۔ باپ نے بھی بیٹی کو بہت سمجھایا۔ جب شازیہ نے دیکھا کہ اس کی خوشی پر کوئی راضی نہیں ہے، تو اس نے انور سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ اب وہ کیا کرے؟ انور نے مشورہ دیا: “ہمت کر کے مجھ سے نکاح کر لو۔ نکاح کے بعد بے شک تم اپنے گھر واپس چلی جانا اور اس بات کو تب تک خفیہ رکھنا جب تک حالات ہمارے حق میں نہ ہو جائیں۔”
نادان شازیہ، انور کے بہکاوے میں آ کر عدالت چلی گئی اور دونوں نے نکاح کر لیا۔ نکاح کے بعد وہ گھر واپس آگئی اور کچھ دنوں تک اس بات کا علم کسی کو نہ ہونے دیا۔ تاہم، جب گھر والوں کی طرف سے ایک اور رشتے کے لیے دباؤ بڑھا، تو اس نے مجبور ہو کر وہ نکاح نامہ اپنے باپ کے سامنے رکھ دیا۔ والد یہ صدمہ سہہ نہ سکے اور شدید بیمار ہو گئے۔ جب ان کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ گئی، تو شازیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے نہ صرف باپ سے معافی مانگی، بلکہ یہ عہد بھی کیا کہ وہ اس کاغذی بندھن کو ختم کر دے گی اور ان کی مرضی کے مطابق جہاں وہ کہیں گے، شادی کر لے گی۔ اس نے فوراً انور کو گاؤں سے بلوایا اور کہا: “تم مجھے معاف کر دو اور ہمارے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو ختم کر دو، کیونکہ اس میں میرے خاندان کی عزت اور والد کی زندگی کا سوال ہے۔” انور ایک شریف نفس انسان تھا اور شازیہ سے سچی محبت کرتا تھا۔ اس نے جب اسے اس قدر بے بس دیکھا تو کہا: “جیسا تم چاہو گی، میں ویسا ہی کروں گا، میں تمہیں دکھ میں نہیں دیکھ سکتا۔ اگر تمہاری یہی خوشی ہے تو میں اپنے دل پر جبر کر لوں گا اور تمام دکھ سہہ کر بھی تمہیں اور تمہارے خاندان کو رسوائی سے بچا لوں گا۔” یوں جس خاموشی سے یہ نکاح ہوا تھا، اسی خاموشی سے انور نے شازیہ کو اس بندھن سے آزاد کر دیا۔
اس واقعے کے چھ ماہ بعد شازیہ کے والد نے اس کی شادی اپنے عزیزوں میں ایک نوجوان سے کر دی اور وہ رخصت ہو کر اپنے گھر چلی گئی۔ جس دن وہ دلہن بنی، اس کے چہرے پر اداسی اور دل میں بلا کا اضطراب تھا۔ وہ زار و قطار رو رہی تھی؛ میں نے اسے گلے لگایا اور ڈھارس بندھائی کہ سبھی لڑکیاں اپنے گھر جاتی ہیں اور عورت کا اصل گھر تو اس کے شوہر کا ہی ہوتا ہے، پھر وہ اس قدر کیوں رو رہی ہے؟ اس نے سسکتے ہوئے کہا: “بات یہ ہے کہ میں دوغلی زندگی نہیں جی سکوں گی۔ میں جھوٹ سے نفرت کرتی ہوں، مگر اب مجھے ایک جھوٹی زندگی گزارنی پڑے گی اور اپنے شوہر سے سچ چھپانا ہو گا۔ تم ہی بتاؤ، میں انور کو کیسے بھلا پاؤں گی جو میرے رگ و پے میں بسا ہے؟” میں نے اسے رخصت کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ بے شک سچ ایک بڑی حقیقت ہے، لیکن یہ سب اپنے شوہر کو مت بتانا، ورنہ وہ اس کی تلخی برداشت نہیں کر پائے گا اور تمہیں بہرصورت دوغلی زندگی جینا ہو گی، کیونکہ ہمارا معاشرہ سچے لوگوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاتا۔
شازیہ رخصت ہو گئی، مگر اس کی فطرت دوغلے پن کو قبول کرنے سے قاصر تھی۔ اس نے ہمت کر کے اپنے شوہر “سہیل” کو انور کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ اس نے کہا: “آپ جو چاہیں مجھے سزا دیں، اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں بلکہ میری تقدیر کی خرابی ہے، مگر اس سزا میں اب آپ کو بھی شریک ہونا پڑے گا کیونکہ میرے والدین نے آپ کو میرا شریکِ حیات بنا دیا ہے۔” سہیل ایک ذہنی طور پر پختہ اور انسان شناس شخص تھا۔ اس نے حوصلہ مندی سے جواب دیا: “شازیہ! غلطیاں انسان ہی سے ہوتی ہیں اور میں بھی کوئی فرشتہ نہیں ہوں۔ تم نے کوئی گناہ نہیں کیا، بلکہ اپنی پسند کے انسان کے ساتھ زندگی گزارنے کی آرزو کی تھی۔ اگر میرے ماضی کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں، تو تمہاری ایک ایسی خواہش جو معاشرتی ڈھانچے کی وجہ سے جرم بن گئی، کیوں معاف نہیں ہو سکتی؟ میں نے تمہیں تہہِ دل سے قبول کر لیا ہے، کیونکہ تمہارے سچ نے میرے دل میں تمہارا احترام بڑھا دیا ہے۔” شازیہ ششدر رہ گئی۔ سہیل نے پیار سے کہا: “سمجھ لو کہ میری زندگی میں آنے سے پہلے تمہارا کوئی ماضی نہیں تھا۔ اسے قصہ پارینہ سمجھ کر بھول جاؤ۔”
یہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ جو بات بگڑ سکتی تھی، وہ سچائی کی بدولت مزید بنتی گئی۔ سہیل شازیہ کی قدر کرنے لگا اور چند ہی سالوں میں اس کا گھر بچوں کی رونق سے بھر گیا۔ شازیہ بچوں کی پرورش میں ایسی مگن ہوئی کہ ماضی کے تمام زخم بھر گئے۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا؛ بیٹی نے بی اے کر لیا، بڑا بیٹا عمر بھی بی اے میں تھا اور چھوٹا بیٹا فخر ایف اے میں پہنچ گیا، کہ اچانک سہیل کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایک سفید پوش انسان تھا، جتنا کماتا تھا گھر پر لگ جاتا تھا، کچھ پس انداز (سیونگز) نہ تھا۔ سہیل کے جانے سے گھر پر معاشی بدحالی کے سائے منڈلانے لگے، کیونکہ اب کوئی دوسرا کمانے والا نہ تھا۔
جب زندگی کی محرومیوں سے لڑتے لڑتے شازیہ تھک گئی، تو اسے بچوں کی خاطر گھر سے قدم نکالنا پڑا۔ اس نے ملازمت کے حصول کے لیے بہت دھکے کھائے اور بالآخر تنگ آ کر ایک فیکٹری میں نوکری کر لی۔ یہاں آٹھ گھنٹے ادویات کی پیکنگ کے عوض اسے اتنی تنخواہ مل جاتی تھی جس سے دال روٹی کا سلسلہ چل نکلتا۔ وہ دن گن گن کر کاٹ رہی تھی کہ کسی طرح اس کے بیٹے پڑھ لکھ کر برسرِ روزگار ہو جائیں تاکہ وہ زندگی کے آخری ایام سکون سے گزار سکے۔ ایک دن وہ فیکٹری سے گزر رہی تھی کہ اس کا سامنا انور سے ہو گیا۔ وہ فیکٹری کے مالک سے ملنے آیا تھا جو اس کا دوست تھا۔ پہلی نظر میں وہ شازیہ کو پہچان نہ سکا، مگر محبت کرنے والے بھلا کب بھولتے ہیں؟ آخر کار دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ شازیہ نظریں جھکا کر اس کے قریب سے گزر جانا چاہتی تھی، لیکن انور نے اسے روک لیا اور کہا: “شازیہ! اتنی مدت بعد تمہیں دیکھا ہے، تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ یہ تمہاری کیا حالت ہو گئی ہے؟” جواب میں شازیہ نے اپنی بپتا اسے سنا دی۔
جب وہ دستخط کر کے نکل رہے تھے، تو اتفاق سے شازیہ کا دیور راحیل وہاں آ گیا۔ وہ بھی جائیداد کے کسی کام سے آیا تھا۔ اس نے ان دونوں کو ساتھ دیکھا تو پوچھا: “تم یہاں کیسے؟” پھر جب اس نے شازیہ کے ہاتھ میں کاغذات دیکھے تو سمجھ گیا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اس نے سخت لہجے میں پوچھا: “یہ شخص کون ہے اور تمہیں مکان کیوں لے کر دے رہا ہے؟” شازیہ بری طرح گھبرا گئی اور اس کے لب سل گئے۔ اسے جھوٹ بولنا آتا ہی نہ تھا، جب اسے گڑبڑاتے دیکھا تو انور نے تڑخ کر جواب دیا: “میں کون ہوں، تمہیں اس سے کیا؟ تم تو ویسے ہی اپنی بیوہ بھابھی کو مکان سے بے دخل کرنے کے چکر میں ہو، کوئی تو اس بے سہارا کو چھت فراہم کرے گا! دیکھو مسٹر، شور مچانے کی ضرورت نہیں، اب یہ تمہاری بھابھی نہیں، میری منکوحہ ہے۔”
گھر پہنچ کر راحیل نے شازیہ کے تینوں بچوں کو اکٹھا کیا اور اشتعال دلاتے ہوئے کہا: “اپنی ماں سے پوچھو کہ اس نے یہ نکاح کیوں کیا اور اگر کیا تھا تو تم سے کیوں چھپایا؟” بچے ششدر رہ گئے۔ انہوں نے سوال کیا: “ماں! یہ ہم کیا سن رہے ہیں؟ چچا کیا کہہ رہے ہیں؟ سچ بتاؤ، اصل معاملہ کیا ہے؟” شازیہ نے سر جھکا لیا۔ اب دونوں صورتوں میں اس کی موت تھی؛ اگر انکار کرتی تب بھی ماری جاتی اور سچ کہتی تو بھی، کیونکہ اسے بتانا پڑتا کہ انور سے اس کا رشتہ کیا تھا۔ آخر کار مجبور ہو کر اسے زبان کھولنی ہی پڑی۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: “انور میرا سابقہ شوہر ہے، لیکن وہ نکاح محض کاغذ کی حد تک ہوا تھا۔” ابھی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کے بڑے بیٹے نے غصے سے کہا: “تم ماں نہیں، ممتا کے نام پر گالی ہو!” یہ الفاظ شازیہ کے دل پر تیر بن کر لگے۔ اس کا جی چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
آج وہ یہی سمجھتی ہے کہ اس کی بھری پری لہلہاتی کھیتی کو آگ لگانے والا وہی شخص ہے، جو نیکی کرنے کی آرزو میں اس کا سب کچھ اجاڑ گیا۔
انور ایک خوش حال گھرانے کا چشم و چراغ اور فکرِ معاش سے آزاد تھا۔ دیہات میں ان کی وسیع زرعی زمین تھی، اس لیے وہ محض مستقبل سنوارنے کے لیے تعلیم حاصل نہیں کر رہا تھا، لیکن شازیہ ایک متوسط طبقے کی لڑکی تھی جس کے لیے تعلیم کڑے وقت کا ہتھیار ثابت ہو سکتی تھی۔ وہ اپنی پڑھائی میں نہایت سنجیدہ تھی اور ہمیشہ فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوتی۔ دو سال سکون سے گزر گئے۔ ایک دن انور نے شازیہ سے اپنے دل کا مدعا بیان کر دیا کہ وہ اس سے شادی کا خواہش مند ہے۔ شازیہ یہ سن کر ششدر رہ گئی۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ انور ہی نہیں بلکہ وہ خود بھی اسے چاہتی ہے اور دل ہی دل میں اس جذبے کی آبیاری کرتی رہی ہے جس کا اظہار اس نے کبھی کسی سے نہیں کیا تھا۔ دو برس تک دونوں نے اپنے جذبات پوشیدہ رکھے اور ایک دوسرے سے نہایت احترام و تکریم کے ساتھ ملتے رہے، لیکن عین جدائی کے وقت ان جذبوں نے ایسی شدت اختیار کی کہ انور نے سوچا اگر اب اظہار نہ کیا تو شاید پھر کبھی شازیہ سے ملاقات نہ ہو پائے۔
شازیہ کی رضامندی کے بعد انور نے اپنے والدین کو اس کے گھر بھیجا۔ انہوں نے شازیہ کے والد سے کہا: “ہم بیٹے کے اصرار پر آپ کے پاس آ تو گئے ہیں، لیکن ہمارے اپنے رسم و رواج ہیں۔ ہم برادری سے باہر شادیاں نہیں کرتے۔ انور کا نکاح بچپن میں اس کی چچا زاد سے ہو چکا ہے اور ہم اس نکاح کو بھی برقرار رکھیں گے۔” شازیہ کے والد نے جواب دیا: “شاید آپ لوگ ہم سے مذاق کرنے آئے ہیں یا اس کی منکوحہ سے مذاق کرنا چاہتے ہیں۔ میں اپنی بیٹی کا رشتہ آپ کو نہیں دے سکتا۔ انور اپنی منکوحہ کو آباد کرے یا طلاق دے کر یہ قصہ ختم کرے، صرف اسی صورت میں یہ رشتہ ہو سکتا ہے۔” انور کے والدین نے گھر آکر بیٹے کو صاف کہہ دیا کہ وہ اپنی بیٹی کو سوکن پر بیاہنے کو تیار نہیں ہیں، لہٰذا تم شازیہ کا خیال دل سے نکال دو۔ ہم تمہاری منکوحہ کو بیاہ کر گھر لائیں گے، وہ تمہارے چچا کی بیٹی ہے، اسے طلاق دے کر ہم خاندان کے ٹکڑے نہیں کر سکتے۔ اصل بات یہ تھی کہ انور کے والدین شازیہ کو بہو بنانا ہی نہیں چاہتے تھے، وہ صرف بیٹے کی ضد کے آگے مجبور ہوئے تھے۔ خیر، بات وہیں دم توڑ گئی۔
اس صورتحال سے شازیہ کو شدید صدمہ پہنچا کیونکہ وہ کسی قیمت پر انور کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ یہی حال انور کا تھا، مگر وہ مجبور تھا۔ وہ شازیہ کے والد کی شرط پوری نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ بھی خاندانی روایات کا پابند تھا اور اپنی منکوحہ کو طلاق دینا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔ جب شازیہ اپنے والدین کو راضی نہ کر سکی تو اس کے دل میں بغاوت نے سر اٹھایا۔ اس نے سوچا، زندگی میری ہے اور فیصلے دوسرے کر رہے ہیں۔ میں ہر قیمت پر انور کو اپنا شریکِ حیات چنوں گی، ورنہ کسی اور سے نکاح ہرگز نہیں کروں گی۔ انہی دنوں اس کے لیے چند نہایت اچھے رشتے آئے۔ شازیہ کی ماں نے اس پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ ان میں سے کوئی ایک رشتہ قبول کر لے، کیونکہ انہیں ابھی چار اور بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے تھے جو ابھی زیرِ تعلیم تھیں۔ والد ایک سفید پوش انسان تھے جنہیں دولت سے زیادہ اپنی عزت عزیز تھی۔ باپ نے بھی بیٹی کو بہت سمجھایا۔ جب شازیہ نے دیکھا کہ اس کی خوشی پر کوئی راضی نہیں ہے، تو اس نے انور سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ اب وہ کیا کرے؟ انور نے مشورہ دیا: “ہمت کر کے مجھ سے نکاح کر لو۔ نکاح کے بعد بے شک تم اپنے گھر واپس چلی جانا اور اس بات کو تب تک خفیہ رکھنا جب تک حالات ہمارے حق میں نہ ہو جائیں۔”
نادان شازیہ، انور کے بہکاوے میں آ کر عدالت چلی گئی اور دونوں نے نکاح کر لیا۔ نکاح کے بعد وہ گھر واپس آگئی اور کچھ دنوں تک اس بات کا علم کسی کو نہ ہونے دیا۔ تاہم، جب گھر والوں کی طرف سے ایک اور رشتے کے لیے دباؤ بڑھا، تو اس نے مجبور ہو کر وہ نکاح نامہ اپنے باپ کے سامنے رکھ دیا۔ والد یہ صدمہ سہہ نہ سکے اور شدید بیمار ہو گئے۔ جب ان کی حالت تشویشناک حد تک بگڑ گئی، تو شازیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے نہ صرف باپ سے معافی مانگی، بلکہ یہ عہد بھی کیا کہ وہ اس کاغذی بندھن کو ختم کر دے گی اور ان کی مرضی کے مطابق جہاں وہ کہیں گے، شادی کر لے گی۔ اس نے فوراً انور کو گاؤں سے بلوایا اور کہا: “تم مجھے معاف کر دو اور ہمارے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو ختم کر دو، کیونکہ اس میں میرے خاندان کی عزت اور والد کی زندگی کا سوال ہے۔” انور ایک شریف نفس انسان تھا اور شازیہ سے سچی محبت کرتا تھا۔ اس نے جب اسے اس قدر بے بس دیکھا تو کہا: “جیسا تم چاہو گی، میں ویسا ہی کروں گا، میں تمہیں دکھ میں نہیں دیکھ سکتا۔ اگر تمہاری یہی خوشی ہے تو میں اپنے دل پر جبر کر لوں گا اور تمام دکھ سہہ کر بھی تمہیں اور تمہارے خاندان کو رسوائی سے بچا لوں گا۔” یوں جس خاموشی سے یہ نکاح ہوا تھا، اسی خاموشی سے انور نے شازیہ کو اس بندھن سے آزاد کر دیا۔
اس واقعے کے چھ ماہ بعد شازیہ کے والد نے اس کی شادی اپنے عزیزوں میں ایک نوجوان سے کر دی اور وہ رخصت ہو کر اپنے گھر چلی گئی۔ جس دن وہ دلہن بنی، اس کے چہرے پر اداسی اور دل میں بلا کا اضطراب تھا۔ وہ زار و قطار رو رہی تھی؛ میں نے اسے گلے لگایا اور ڈھارس بندھائی کہ سبھی لڑکیاں اپنے گھر جاتی ہیں اور عورت کا اصل گھر تو اس کے شوہر کا ہی ہوتا ہے، پھر وہ اس قدر کیوں رو رہی ہے؟ اس نے سسکتے ہوئے کہا: “بات یہ ہے کہ میں دوغلی زندگی نہیں جی سکوں گی۔ میں جھوٹ سے نفرت کرتی ہوں، مگر اب مجھے ایک جھوٹی زندگی گزارنی پڑے گی اور اپنے شوہر سے سچ چھپانا ہو گا۔ تم ہی بتاؤ، میں انور کو کیسے بھلا پاؤں گی جو میرے رگ و پے میں بسا ہے؟” میں نے اسے رخصت کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ بے شک سچ ایک بڑی حقیقت ہے، لیکن یہ سب اپنے شوہر کو مت بتانا، ورنہ وہ اس کی تلخی برداشت نہیں کر پائے گا اور تمہیں بہرصورت دوغلی زندگی جینا ہو گی، کیونکہ ہمارا معاشرہ سچے لوگوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاتا۔
شازیہ رخصت ہو گئی، مگر اس کی فطرت دوغلے پن کو قبول کرنے سے قاصر تھی۔ اس نے ہمت کر کے اپنے شوہر “سہیل” کو انور کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ اس نے کہا: “آپ جو چاہیں مجھے سزا دیں، اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں بلکہ میری تقدیر کی خرابی ہے، مگر اس سزا میں اب آپ کو بھی شریک ہونا پڑے گا کیونکہ میرے والدین نے آپ کو میرا شریکِ حیات بنا دیا ہے۔” سہیل ایک ذہنی طور پر پختہ اور انسان شناس شخص تھا۔ اس نے حوصلہ مندی سے جواب دیا: “شازیہ! غلطیاں انسان ہی سے ہوتی ہیں اور میں بھی کوئی فرشتہ نہیں ہوں۔ تم نے کوئی گناہ نہیں کیا، بلکہ اپنی پسند کے انسان کے ساتھ زندگی گزارنے کی آرزو کی تھی۔ اگر میرے ماضی کے گناہ معاف ہو سکتے ہیں، تو تمہاری ایک ایسی خواہش جو معاشرتی ڈھانچے کی وجہ سے جرم بن گئی، کیوں معاف نہیں ہو سکتی؟ میں نے تمہیں تہہِ دل سے قبول کر لیا ہے، کیونکہ تمہارے سچ نے میرے دل میں تمہارا احترام بڑھا دیا ہے۔” شازیہ ششدر رہ گئی۔ سہیل نے پیار سے کہا: “سمجھ لو کہ میری زندگی میں آنے سے پہلے تمہارا کوئی ماضی نہیں تھا۔ اسے قصہ پارینہ سمجھ کر بھول جاؤ۔”
یہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ جو بات بگڑ سکتی تھی، وہ سچائی کی بدولت مزید بنتی گئی۔ سہیل شازیہ کی قدر کرنے لگا اور چند ہی سالوں میں اس کا گھر بچوں کی رونق سے بھر گیا۔ شازیہ بچوں کی پرورش میں ایسی مگن ہوئی کہ ماضی کے تمام زخم بھر گئے۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا؛ بیٹی نے بی اے کر لیا، بڑا بیٹا عمر بھی بی اے میں تھا اور چھوٹا بیٹا فخر ایف اے میں پہنچ گیا، کہ اچانک سہیل کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایک سفید پوش انسان تھا، جتنا کماتا تھا گھر پر لگ جاتا تھا، کچھ پس انداز (سیونگز) نہ تھا۔ سہیل کے جانے سے گھر پر معاشی بدحالی کے سائے منڈلانے لگے، کیونکہ اب کوئی دوسرا کمانے والا نہ تھا۔
جب زندگی کی محرومیوں سے لڑتے لڑتے شازیہ تھک گئی، تو اسے بچوں کی خاطر گھر سے قدم نکالنا پڑا۔ اس نے ملازمت کے حصول کے لیے بہت دھکے کھائے اور بالآخر تنگ آ کر ایک فیکٹری میں نوکری کر لی۔ یہاں آٹھ گھنٹے ادویات کی پیکنگ کے عوض اسے اتنی تنخواہ مل جاتی تھی جس سے دال روٹی کا سلسلہ چل نکلتا۔ وہ دن گن گن کر کاٹ رہی تھی کہ کسی طرح اس کے بیٹے پڑھ لکھ کر برسرِ روزگار ہو جائیں تاکہ وہ زندگی کے آخری ایام سکون سے گزار سکے۔ ایک دن وہ فیکٹری سے گزر رہی تھی کہ اس کا سامنا انور سے ہو گیا۔ وہ فیکٹری کے مالک سے ملنے آیا تھا جو اس کا دوست تھا۔ پہلی نظر میں وہ شازیہ کو پہچان نہ سکا، مگر محبت کرنے والے بھلا کب بھولتے ہیں؟ آخر کار دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ شازیہ نظریں جھکا کر اس کے قریب سے گزر جانا چاہتی تھی، لیکن انور نے اسے روک لیا اور کہا: “شازیہ! اتنی مدت بعد تمہیں دیکھا ہے، تم تو بالکل بدل گئی ہو۔ یہ تمہاری کیا حالت ہو گئی ہے؟” جواب میں شازیہ نے اپنی بپتا اسے سنا دی۔
وقت گزرتا رہا، مگر شازیہ نے فیکٹری کی ملازمت نہ چھوڑی۔ وہ کسی سے، یہاں تک کہ انور سے بھی مالی امداد لینے کی روادار نہ تھی جو آج بھی اپنا سب کچھ اس پر نچھاور کرنے کو تیار تھا۔ وہ اب بھی ہر ماہ دو ماہ بعد فیکٹری آ کر اس سے مل لیتا تھا۔ ہر بار وہ اصرار کرتا کہ “جتنا چاہے پیسہ لے لو، مگر یہ نوکری چھوڑ دو،” لیکن وہ ہمیشہ یہی جواب دیتی کہ جب وقت آئے گا، لے لوں گی، ابھی ضرورت نہیں اور میں محنت مزدوری کو عار نہیں سمجھتی۔ آخر کار وہ وقت آ ہی گیا۔ شازیہ کی بیٹی فریحہ کا رشتہ ایک نہایت خوش حال گھرانے میں طے پا گیا اور اب وہ شادی کی تاریخ مانگ رہے تھے۔ شازیہ پریشان تھی کہ کس طرح عزت کے ساتھ بیٹی کو رخصت کرے اور اخراجات کے لیے رقم کہاں سے لائے؟ ایک دن وہ اسی ادھیڑ بن میں فیکٹری سے نکلی تو سامنے انور کھڑا تھا۔ وہ اسے پریشان دیکھ کر بولا: “تم آج بہت مضطرب لگ رہی ہو۔ تمہیں قسم ہے، اگر مجھے اپنا سمجھتی ہو تو حقیقت ضرور بتانا۔” اس کے بے حد اصرار پر شازیہ نے بتا دیا کہ فریحہ کی شادی کا مسئلہ ہے، رقم پاس نہیں اور مکان بھی دیور کے نام ہے۔ انور نے وعدہ کیا کہ وہ یہ دونوں مسئلے حل کر دے گا۔ ایک ہفتے بعد انور نے بتایا کہ اس نے مکان کا بندوبست کر لیا ہے اور وہ یہ مکان شازیہ کے نام خریدنا چاہتا ہے تاکہ وہ رہائش کی فکر سے آزاد ہو جائے؛ پھر وہ اسے رجسٹرار کے پاس لے گیا تاکہ کاغذات پر اس کے دستخط کروا سکے۔
جب وہ دستخط کر کے نکل رہے تھے، تو اتفاق سے شازیہ کا دیور راحیل وہاں آ گیا۔ وہ بھی جائیداد کے کسی کام سے آیا تھا۔ اس نے ان دونوں کو ساتھ دیکھا تو پوچھا: “تم یہاں کیسے؟” پھر جب اس نے شازیہ کے ہاتھ میں کاغذات دیکھے تو سمجھ گیا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اس نے سخت لہجے میں پوچھا: “یہ شخص کون ہے اور تمہیں مکان کیوں لے کر دے رہا ہے؟” شازیہ بری طرح گھبرا گئی اور اس کے لب سل گئے۔ اسے جھوٹ بولنا آتا ہی نہ تھا، جب اسے گڑبڑاتے دیکھا تو انور نے تڑخ کر جواب دیا: “میں کون ہوں، تمہیں اس سے کیا؟ تم تو ویسے ہی اپنی بیوہ بھابھی کو مکان سے بے دخل کرنے کے چکر میں ہو، کوئی تو اس بے سہارا کو چھت فراہم کرے گا! دیکھو مسٹر، شور مچانے کی ضرورت نہیں، اب یہ تمہاری بھابھی نہیں، میری منکوحہ ہے۔”
گھر پہنچ کر راحیل نے شازیہ کے تینوں بچوں کو اکٹھا کیا اور اشتعال دلاتے ہوئے کہا: “اپنی ماں سے پوچھو کہ اس نے یہ نکاح کیوں کیا اور اگر کیا تھا تو تم سے کیوں چھپایا؟” بچے ششدر رہ گئے۔ انہوں نے سوال کیا: “ماں! یہ ہم کیا سن رہے ہیں؟ چچا کیا کہہ رہے ہیں؟ سچ بتاؤ، اصل معاملہ کیا ہے؟” شازیہ نے سر جھکا لیا۔ اب دونوں صورتوں میں اس کی موت تھی؛ اگر انکار کرتی تب بھی ماری جاتی اور سچ کہتی تو بھی، کیونکہ اسے بتانا پڑتا کہ انور سے اس کا رشتہ کیا تھا۔ آخر کار مجبور ہو کر اسے زبان کھولنی ہی پڑی۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: “انور میرا سابقہ شوہر ہے، لیکن وہ نکاح محض کاغذ کی حد تک ہوا تھا۔” ابھی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کے بڑے بیٹے نے غصے سے کہا: “تم ماں نہیں، ممتا کے نام پر گالی ہو!” یہ الفاظ شازیہ کے دل پر تیر بن کر لگے۔ اس کا جی چاہا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
فخر یہ کہہ کر گھر سے نکل گیا: “جب تو یہاں سے چلی جائے گی، تبھی ہم اس گھر میں قدم رکھیں گے۔” بھائی کو جاتا دیکھ کر فریحہ بھی اس کے پیچھے لپکی۔ شازیہ نے تڑپ کر پکارا: “ٹھہر جاؤ! میری بات تو سن لو۔” شازیہ کے لہجے میں ایک گھٹی ہوئی زخمی چیخ تھی، مگر فریحہ اتنی بالغ نظر کہاں تھی کہ ماں کی مجبوریاں سمجھ پاتی۔ وہ بھی غم و غصے کی آگ میں جل رہی تھی۔ شازیہ تنہا رہ گئی۔ زندگی کے دشت میں ننگے پاؤں چل کر اس نے جن کانٹوں کو چنا تھا، آج ان کی چبھن سے اس کی روح کا تار تار زخمی ہو چکا تھا۔ جن پودوں کی آبیاری اس نے اپنے خونِ دل سے کی تھی، آج وہی اس پر آگ برسا رہے تھے۔ وہ اکیلی رہ گئی تھی؛ کوئی بھی تو اس کا اپنا نہ رہا، یہاں تک کہ اولاد بھی نہیں، بلکہ آج اولاد ہی اس کی سب سے بڑی دشمن بن کر کھڑی تھی۔ راحیل نے بچوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا اور شازیہ کو گھر سے نکال دیا۔ بچے اس سے بات کرنے تک کے روادار نہ رہے۔ انہوں نے ماں کی برسوں کی قربانیاں اور شفقتیں لمحوں میں فراموش کر دیں۔ شازیہ بے آسرا ہو کر میرے پاس آگئی؛ اس نے فیکٹری کی نوکری چھوڑ دی اور اب وہ انور سے ملنے پر بھی آمادہ نہ تھی۔
آج وہ یہی سمجھتی ہے کہ اس کی بھری پری لہلہاتی کھیتی کو آگ لگانے والا وہی شخص ہے، جو نیکی کرنے کی آرزو میں اس کا سب کچھ اجاڑ گیا۔
(ختم شد)

