والد کو اپنے کاروبار کے لیے کسی مددگار کی ضرورت تھی، انہوں نے سوچا کہ یہ شخص بے گھر اور بیروزگار ہے، چلو اسے رکھ لیتا ہوں، اسے ٹھکانہ بھی مل جائے گا اور آسرا بھی۔ انہوں نے اسے گھر کے پچھواڑے اسٹور والے چھوٹے سے کمرے میں رہائش دے دی۔ میں جب بور ہوتی تو اس کوٹھڑی کا رخ کرتی؛ کبھی ٹھنڈے پانی کی بوتل دینے اور کبھی کھانا دینے کے بہانے۔ دراصل میں اس سے باتیں کر کے اپنی تنہائی دور کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ ایک چالاک اور شاطر آدمی تھا۔
👇👇
👇👇
ہم چھوٹے سے تھے جب ایک روز اماں تخت سے فرش پر پاؤں رکھتے ہوئے پھسل گئیں اور ان کے پاؤں میں شدید چوٹ آئی۔ وہ تکلیف سے کراوہ رہی تھیں اور انہیں سہارا دے کر اٹھانے والا کوئی نہ تھا۔ میں ان دنوں صرف چھ سال کی تھی اور چاہتی تھی کہ کسی کو پکاروں جو اماں کی مدد کو آئے۔ تبھی گلی سے دو عورتیں آتی دکھائی دیں، میں نے اشارے سے انہیں بلایا۔ جب وہ قریب آئیں تو میں نے بتایا کہ میری اماں گر پڑی ہیں، انہیں اٹھائیں۔ وہ اندر آ گئیں۔
کراہتی ہوئی ماں کو انہوں نے سہارا دے کر اٹھایا، بستر پر لٹایا اور پانی پلایا۔ امی نے نحیف آواز میں کہا، “مجھے سخت چوٹ لگی ہے، فون اٹھا کر دو تاکہ میں اپنے شوہر کو آفس اطلاع کروں، وہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے۔” ان میں سے ایک خاتون جو کم عمر تھی، اس نے فون اٹھا کر امی کو دے دیا۔ میری والدہ نے ابو سے بات کی اور کہا، “فوری آ جائیے، گرنے کی وجہ سے سخت چوٹ لگی ہے اور لگتا ہے ہڈی میں کہیں فریکچر ہو گیا ہے۔”
فون بند کر کے وہ ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گلی کے نکڑ والے کالے گیٹ کے بڑے بنگلے میں جھاڑو پونچھا کرتی ہیں اور مزید کام ڈھونڈ رہی ہیں۔ امی نے فوراً کہا، “مجھے ایک کام والی کی سخت ضرورت ہے، میرے لیے چھوٹے بچوں کو سنبھالنا مشکل مسئلہ ہے۔ اگر کوئی ایسی عورت یا لڑکی مل جائے جو صبح سے شام تک میرے پاس رہ سکے اور بچوں و گھر کے کاموں میں مدد کرے تو میں اچھی تنخواہ دوں گی۔” ان میں سے جو بڑی عمر کی تھی، وہ بولی، “میری اس بیٹی کو سارے دن کے لیے اپنے پاس رکھ لو، یہ تمہارا کام کر دے گی اور کھانا پکانا بھی جانتی ہے۔”
اماں نے لڑکی کی موہنی صورت پر غور کیے بغیر اسے فوراً رکھنا قبول کر لیا اور جو تنخواہ اس کی ماں نے مانگی، اس کی ہامی بھر لی کیونکہ اماں کو اس وقت کسی مددگار کی سخت ضرورت تھی اور وہ اٹھنے بیٹھنے کے قابل بھی نہ تھیں۔ میرا چھوٹا بھائی جو ابھی صرف آٹھ ماہ کا تھا، جھولے میں سو رہا تھا۔ اس عورت نے کہا، “بی بی! میں تمہاری تکلیف دیکھ کر اپنی بیٹی آپ کے پاس چھوڑے جاتی ہوں، کل صبح جب سامنے والے گھر کام پر آؤں گی تو آپ کی طرف چکر لگا لوں گی اور رشیدہ کو بھی دیکھ لوں گی۔” یہ کہہ کر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ رشیدہ نے میری ماں کے سارے کام منٹوں میں کر دیے، اتنی دیر میں ابو بھی گھر آ گئے۔ والدہ نے بتایا کہ اس بچی کو ابھی ملازم رکھا ہے، اللہ نے اسے فرشتہ بنا کر اس مشکل گھڑی میں بھیج دیا ورنہ منّے کو جھولے سے نکال کر فیڈر بنا کر دینے والا کوئی نہ تھا۔ خیر، والد صاحب نے لڑکی سمیت ہم سب کو گاڑی میں بٹھایا اور والدہ کو ہسپتال لے گئے۔
ایکسرے وغیرہ کے بعد ڈاکٹروں نے امی کو ایڈمٹ کر لیا، چنانچہ ابو انہیں وہیں چھوڑ کر ہمیں گھر لے آئے۔ رات بھر وہ لڑکی ہم تینوں بہن بھائیوں کے پاس رہی۔ صبح والد نے پھپھو کو فون کیا تو وہ حیدرآباد سے کراچی پہنچ گئیں کیونکہ والد صاحب ہم بچوں کو ایک انجان لڑکی کے پاس تن تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ پھپھو کے اپنے تین چھوٹے بچے تھے؛ وہ ایک کو ساتھ لے آئیں جبکہ دو کو اپنی نند کے گھر چھوڑ دیا تھا۔
دوپہر کو رشیدہ کی ماں زبیدہ آئی تو پھپھو نے اسے شاباش دی کہ “تمہاری بیٹی بہت اچھی ہے، ورنہ اس عمر کی لڑکیاں کہاں اس طرح بچے سنبھالتی ہیں؟” اس نے واقعی بہت توجہ سے بچوں کا خیال رکھا، رات کو فیڈر بنا کر دیتی رہی اور صبح ناشتہ بھی تیار کیا۔ زبیدہ نے بتایا، “یہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی رہی ہے، اس لیے کم عمری میں ہی اسے ان کاموں کا سلیقہ آ گیا ہے۔ جب میں کام پر جاتی تھی تو یہی گھر سنبھالتی تھی۔” پھپھو نے کہا، “تمہارا بھلا ہو زبیدہ! تم اس آڑے وقت میں مل گئیں ورنہ کون اپنی لڑکی کو انجان گھر میں چھوڑتا ہے۔”
زبیدہ بولی، “بی بی! میں اس گھر میں پہلی بار آئی ہوں لیکن آس پاس کے کئی گھروں میں کام کیا ہے اور اس بلاک سے واقف ہوں۔ رشیدہ کا باپ سوتیلا ہے، اس لیے میں اسے کسی اچھے گھر میں رات دن کے لیے ملازم رکھنا چاہتی تھی۔ میرا شوہر نشہ کرتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا، جب زیادہ نشہ کر لے تو مجھے اور بچوں کو مارنے لگتا ہے۔ اس کی بد مزاجی سے یہ بچی گھبراتی ہے اور اسے گھر میں سکون نہیں ملتا۔ آپ کی بھابی کو پہلی نظر میں دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اچھی خاتون ہیں، اسی لیے انہیں تکلیف میں دیکھ کر اسے یہاں چھوڑ دیا۔”
کچھ دیر وہ پھپھو سے باتیں کرتی رہی۔ ابو ہسپتال سے واپس آئے تو بتایا کہ امی کا آپریشن ہو گیا ہے، کولہے کی ہڈی میں سخت چوٹ آئی ہے اور انہیں چلنے پھرنے میں وقت لگے گا۔ پھپھو ایک ہفتہ بمشکل رہ پائیں کیونکہ ان کی نند کے فون آ رہے تھے کہ بچے پریشان ہیں، جلد واپس آ جاؤ۔ پھپھو کے جانے کے بعد گھر کے انتظام کا تمام دار و مدار رشیدہ پر تھا، جس نے نہایت خوش اسلوبی سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ والدہ اس سے بہت خوش تھیں؛ وہ چار ماہ بعد چلنے کے قابل ہوئیں، تب تک وہ سارا دن لیٹی رہتیں یا ٹانگ پھیلا کر ٹیک لگا کر بیٹھ جاتیں۔
کڑا وقت گزر جاتا ہے۔ امی ٹھیک ہو گئیں لیکن رشیدہ اب گھر کا لازمہ بن گئی۔ وہ ایسی تھی جیسے لنگڑے کی لاٹھی یا اندھے کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ میری ماں کو ایسی ہی معاون کی ضرورت تھی۔ انہوں نے رشیدہ کا اتنا خیال رکھنا شروع کر دیا جتنا کوئی ماں اپنی بیٹی کا رکھتی ہے اور رشیدہ بھی چھوٹی بہن کی طرح محبت اور توجہ سے میری اماں کا سہارا بن گئی تھی۔
اس کی ماں کو تو بس تنخواہ سے غرض تھی۔ وہ ہر ماہ آکر بیٹی کی محنت کے روپے لے جاتی اور کہتی، “بیگم صاحبہ! چاہے اسے تمام عمر کے لیے رکھ لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بے شک اس کی شادی اپنی مرضی سے کر دینا، مجھے آپ پر بھروسا ہے، اب آپ ہی اس کی وارث ہیں۔” انسان سوچتا کیا ہے اور ہوتا کیا ہے۔ ماں جس لڑکی کو اپنے لیے رحمت کا فرشتہ سمجھ رہی تھیں، معلوم نہ تھا کہ ایک دن وہی ان کی دربدر ی کا سامان بنے گی۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا، یہاں تک کہ رشیدہ کو ہمارے گھر آئے پانچ سال بیت گئے۔ لگتا تھا کہ یہ پانچ سال پانچ دن تھے جو پلک جھپکتے گزر گئے تھے۔
ایک روز اس کی ماں آئی تو کافی بیمار لگ رہی تھی۔ اس نے امی سے کہا، “رشیدہ کا اب آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ دراصل یہ چھوٹی سی تھی جب میرا خاوند اسے کہیں سے اٹھا لایا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ یہ ایک ویران جگہ روتی ہوئی ملی تھی، لیکن مجھے شک تھا کہ وہ اسے اغوا کر کے لایا ہے۔ اس وقت میں امید سے تھی، میں نے بچی کو اپنے پاس رکھ لیا۔ میرا خاوند اسے لایا ہی اس لیے تھا کہ پہلے یہ ہماری خدمت کرے گی اور پھر جب سیانی ہو جائے گی تو اسے کسی امیر گھر میں اپنی بیٹی ظاہر کر کے رکھوا دیں گے اور اس کی تنخواہ بٹورتے رہیں گے۔ میں نے اسے اس وقت سے پالا ہے جب یہ صرف دو سال کی تھی۔ مجھے اپنی اولاد کی طرح اس سے پیار ہے۔ اب جبکہ یہ بڑی ہو گئی ہے، ڈر ہے میرا خاوند اسے بیچ نہ دے۔ باجی! میں نہ رہوں تو آپ اس کی شادی کر دینا، اسے کبھی اپنے گھر سے نہ نکالنا، کبھی بے آسرا نہ کرنا اور نہ ہی اسے میرے خاوند کے حوالے کرنا۔”
اس کے بعد زبیدہ کبھی واپس نہ آئی۔ یقیناً وہ مر گئی ہو گی ورنہ کبھی تو لوٹ کر آتی۔ امی، رشیدہ کی جوانی اور خوبصورتی سے بے نیاز بس اس سے خدمت لیے جا رہی تھیں۔ رشیدہ نے میری ماں کو اتنا آرام دیا تھا کہ وہ اس کی شادی کے بارے میں سوچنے سے کتراتی تھیں۔ ہوش تب آیا جب والد صاحب نے اس گھریلو ملازمہ سے شادی کر لی۔ تب اماں اپنی اس توہین کو برداشت نہ کر سکیں اور والد سے جھگڑ کر میکے چلی گئیں۔
میں دس سال کی ہو چکی تھی اور میری چھوٹی بہن چھ سات برس کی ہو گی۔ بھائی سب سے چھوٹا تھا۔ ماں صرف اسے اپنے ہمراہ لے گئیں۔ جب گھر کی نوکرانی مالکہ بن جائے تو اصل مالکہ کو صدمہ تو ہوتا ہی ہے، تب گھر بھی عقوبت خانہ لگنے لگتا ہے۔
اس لاغر سی لڑکی نے ہمارے گھر رہ کر کچھ ایسا رنگ روپ نکالا تھا کہ دیکھنے والا دیکھتا رہ جاتا۔ لیکن اماں کو ہم بچوں اور گھرداری سے فرصت نہ تھی جو نظر بھر کر اس کے سرو قامت پر غور کر لیتیں۔ وہ اسے ابھی تک وہی بے بس اور لاچار چھوکری سمجھ رہی تھیں جو ان کے ٹکڑوں پر پل رہی تھی۔ اس کی نوخیزی گھر میں کیا قیامت لانے والی ہے، انہیں اس کا احساس نہ ہوا اور پانی سر سے گزر گیا۔ جب ہوش آیا تو اماں کی خوشیاں اس طوفانِ بلا خیز میں ڈوب چکی تھیں اور تدبیروں کے سب سرے ان کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔
ماں کے احتجاج پر ابا نے اپنا فیصلہ سنا دیا، “رشیدہ یہاں ہی رہے گی، میری دوسری بیوی بن کر۔ تم رہو یا نہ رہو، تمہاری مرضی۔ یہ گھر میرا ہے، تم اسے جہیز میں نہیں لائی ہو۔” ابا کے کڑے تیور دیکھ کر میری ماں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ انہوں نے سوچا بھی نہ تھا کہ ان کا جیون ساتھی ایک ادنیٰ سی چھوکری کی خاطر کسی دن یوں طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لے گا۔ جس گھر کو وہ ہمیشہ کے لیے اپنا سمجھتی رہی تھیں، ایک روز اچانک پتا چلا کہ یہ گھر ان کا نہیں ہے۔ یہ سخت صدمے والی بات تھی، لیکن ان کا کلیجہ جانے کس مٹی کا بنا تھا کہ وہ مریں نہیں، بس گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔
عورت اپنا گھر چھوڑ دے تو کوئی دوسرا گھر اسے پناہ نہیں دیتا۔ ماں کا بھی یہی حال ہوا؛ کبھی ایک بھائی کے گھر تو کبھی دوسرے کے۔ جب بھابھیاں جینا دوبھر کر دیتیں تو کسی اور رشتہ دار کے گھر چند دن کے لیے سر چھپا لیتیں۔ انہوں نے کئی گھر بدلے مگر اپنے گھونسلے میں واپس نہ آ سکیں۔ رشیدہ ابا سے ڈرتی تھی، تبھی ہمارا خیال رکھتی تھی۔ اس نے ہم دونوں بہنوں کو اچھی طرح سنبھال لیا۔ پھر جب اس کے اپنے بچے ہو گئے تو اب ہمیں انہیں سنبھالنا پڑا۔ ہماری جگہ اس نے اور اس کی جگہ ہم نے لے لی۔ اب گھر کا سارا کام ہمارے کندھوں پر آ گیا تھا۔
اس صورتحال کو میرا ذہن قبول نہ کرتا تھا۔ جب میں سولہ برس کی ہوئی تو دل میں بغاوت کے جذبات نے جنم لیا۔ اب رات بھر نیند نہ آتی اور دن خواب و خیال کے پردوں میں لپیٹ کر گزارنے کی کوشش کرتی۔ رشیدہ کم عقل کو ہماری عمر کے تقاضوں کو سمجھنے کی کیا ضرورت تھی، ہم صحیح کرتے یا غلط، وہ ہمیں نہ روکتی ٹوکتی اور نہ کبھی کچھ کہتی۔ میں نے محلے میں سہیلیاں بنا لیں، جی چاہتا تو ان کے پاس چلی جاتی اور گھنٹوں گھر سے غائب رہتی۔ اس طرح ماں کی یاد سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتے کرتے میں آوارہ مزاج ہو گئی۔ انہی دنوں ابا نے ایک ملازم رکھا جو عمر میں ابا سے دو چار برس چھوٹا ہو گا۔ ہم اسے چچا کہتے تھے کیونکہ وہ والد کا دور پار کا رشتہ دار بھی تھا۔
والد کو اپنے کاروبار کے لیے کسی مددگار کی ضرورت تھی، انہوں نے سوچا کہ یہ شخص بے گھر اور بیروزگار ہے، چلو اسے رکھ لیتا ہوں، اسے ٹھکانہ بھی مل جائے گا اور آسرا بھی۔ انہوں نے اسے گھر کے پچھواڑے اسٹور والے چھوٹے سے کمرے میں رہائش دے دی جو خالی پڑا ہوا تھا۔ میں جب بور ہوتی تو اس کوٹھڑی کا رخ کرتی؛ کبھی ٹھنڈے پانی کی بوتل دینے اور کبھی کھانا دینے کے بہانے۔ دراصل میں اس سے باتیں کر کے اپنی تنہائی دور کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ ایک چالاک اور شاطر آدمی تھا۔
مجھے اچھے برے کی تمیز نہ تھی، ایک روز ابا اچانک گھر آ گئے اور انہوں نے مجھے اس کی کوٹھڑی سے نکلتے دیکھ لیا۔ میرا حلیہ کسی آنے والے برے وقت کی چغلی کھا رہا تھا۔ ابا کو مجھے اس حال میں دیکھ کر غش آ گیا۔ آج انہیں احساس ہوا کہ بدنظری اور بددیانتی کی سزا کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے غضنفر کو نکال دیا اور مجھ پر بھی چند تھپڑ رسید کیے۔ پھر انہوں نے میری سوتیلی ماں رشیدہ پر غصہ نکالا کہ “تم نے دھیان کیوں نہ رکھا کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ لڑکی اس مردود کے پاس کوٹھڑی میں گھسی کیا کر رہی تھی؟ کچھ ہوش ہے تمہیں؟”
اتفاق سے اسی دن پشاور سے میرے سگے چچا آ گئے، انہوں نے جب مجھے روتے بلکتے پایا تو ابا سے کہا کہ اسے کچھ دن کے لیے میرے گھر بھیج دو، چچی اس کا خیال رکھیں گی ورنہ تمہاری بچی ذہنی پریشانی کا شکار ہو جائے گی۔ والد تو غصے میں تھے ہی، کہنے لگے “لے جاؤ اس منحوس کو! یہ میری نظروں سے دفع ہو جائے تو اچھا ہے۔” ادھر چچی نے میری اصل امی کو فون کر دیا کہ تمہاری بیٹی ہمارے گھر ہے، ملنا چاہو تو آ کر مل لو۔ ماں نے ماموں کو بھیجا کہ جا کر اسے لے آؤ، دو چار دن بیٹی میرے پاس رہ لے گی ورنہ اس کا باپ کبھی ملنے نہیں دے گا۔
کسی کو علم نہ تھا کہ میں کتنے بڑے خطرے میں گھر چکی ہوں۔ میں اب ہر حال میں غضنفر کو ڈھونڈنا اور اس سے ملنا چاہتی تھی کیونکہ یہ مصیبت اسی کی لائی ہوئی تھی، ورنہ میری رسوائی اور موت یقینی تھی۔ اپنا راز بتاتی بھی تو کس کو؟ ماموں کے آنے پر میں اس لیے خوش تھی کہ کسی صورت گھر سے نکل بھاگنے کا موقع ملے گا۔ سفر کے دوران ماموں نے مجھے بس میں عورتوں والی نشست پر بٹھا دیا اور خود مردانہ حصے میں جا بیٹھے۔ ایک جگہ بس رکی تو وہ کچھ لینے کے لیے نیچے اترے، میں بھی موقع پا کر بس سے اتری اور دوسری بس میں چڑھ گئی جو روانہ ہونے کو تیار تھی۔ میرے بیٹھتے ہی بس چل پڑی۔ ماموں جب واپس لوٹے ہوں گے تو مجھے بس میں نہ پا کر یقیناً اپنا سر پیٹ لیا ہو گا۔ میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ماں اور ماموں کا کیا بنے گا اور وہ چچا اور ابا کو کیا جواب دیں گے کہ لڑکی کدھر گئی۔ مجھے تو بس جلد از جلد غضنفر کے پاس پہنچنے کی جلدی تھی تاکہ اسے اس راز سے آگاہ کر سکوں جو میرے لیے موت کی پکار بننے والا تھا۔
بس جب آخری اڈے پر رکی تو میں نے اتر کر ایک رکشہ والے کو بلایا۔ وہ سواری سمجھ کر دوڑا آیا لیکن مجھ جیسی کم عمر لڑکی کو تنہا دیکھ کر ہچکچایا۔ تبھی میں نے کہا، “بھائی! میں مصیبت زدہ ہوں اور سوتیلی ماں کے ظلم سے بھاگ کر نکلی ہوں، تم مجھے راولپنڈی میں فلاں جگہ پہنچا دو، وہاں میرے رشتہ دار کا گھر ہے، میں ان کے پاس چلی جاؤں گی۔” وہ رکشہ والا نیک آدمی نہ تھا۔ اس نے مجھے بٹھا لیا اور ایک ایسی جگہ لے گیا جہاں ہم جیسی بھٹکی ہوئی لاوارث اور کم سن لڑکیوں کے ذریعے دولت کمائی جاتی تھی۔
یہ بازارِ حسن تھا، جہاں روحیں کچلی جاتی تھیں مگر جسم ترو تازہ تھے۔ وہاں سجاوٹ میں بناوٹ اور ہنسی میں سسکیاں لپٹی ہوئی تھیں۔ جس عورت نے مجھے خریدا، اسے میں نے روتے ہوئے بتا دیا کہ “میں شادی شدہ ہوں اور امید سے ہوں؛ میرا شوہر مجھے مارتا پیٹتا تھا، میں اس کے ظلم سے تنگ آ کر بھاگی تھی کہ یہ رکشہ والا مل گیا اور یہاں لے آیا۔ مہربانی کر کے مجھے میری ماں کے پاس پہنچا دو۔” وہ بولی، “ابھی نہیں، کچھ دن ٹھہرو اور انتظار کرو، بعد میں پہنچا دوں گی۔”
بیٹی نے جنم لیا تو ماہ جبیں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا، اس نے سارے محلے میں مٹھائی بانٹی، خوشی منائی اور بولی، “اس کی پرورش ناز و نعم سے کرو۔ تم نے ہمیں جو انعام دیا ہے، ہم اس کی پوری قدر کریں گے۔” میں اچھی طرح جان چکی تھی کہ وہ کیوں خوش ہے؛ ظاہر ہے کہ اسے اصل کے ساتھ سود بھی وصول ہو گیا تھا۔ میں دن رات وہاں سے نکلنے کی تدبیریں سوچتی رہتی تھی۔ آخر ایک دن ایک پھول بیچنے والے کے ذریعے اس دوزخ سے نجات کا راستہ مل گیا۔
وہ باقاعدگی سے وہاں کے ہر گھر میں مہکتے ہوئے گجرے دینے آیا کرتا تھا۔ ایک روز جب وہ آیا تو میں رو رہی تھی اور آنگن میں بیٹھی اپنی معصوم بچی کو سلا رہی تھی۔ اس نے مجھے روتا دیکھ کر ترس کھایا؛ اس وقت وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ اس نے سرگوشی میں کہا، “اگر کسی کو پیغام بھجوانا ہے تو بتا دو، میں پہنچا دوں گا۔” تبھی میں نے اپنے والد کا نام اور پتا اسے بتا کر کہا، “انہیں جا کر میرا احوال سنانا، اگر وہ قبول کریں گے تو آ کر لے جائیں گے۔” ایک ہفتہ بعد اس نے آ کر بتایا، “تمہارے والد کو سب بتا دیا ہے، اگر تم کل کسی بھی وقت مارکیٹ میں فلاں صراف کی دکان پر پہنچ جاؤ تو وہ تمہیں وہاں سے گھر لے جائیں گے۔”
یہ صراف والد کا بچپن کا دوست تھا، دونوں نے پہلی جماعت سے میٹرک تک ساتھ پڑھا تھا۔ اتفاق سے ماہ جبیں بھی اپنے زیورات اسی دکان سے لیا کرتی تھی۔ گجرے والا اس صراف کو جانتا تھا۔ اگلے روز جب ماہ جبیں دوپہر کا کھانا کھا کر قیلولہ فرما رہی تھی، گجرے والے نے محافظ کو ایک موٹی رقم دی جو والد نے اسے بھجوائی تھی۔ یوں پولیس کو شامل کیے بغیر، ماہ جبیں کے محافظ کی مدد سے میں وہاں سے نکل کر صراف کی دکان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔
کچھ دنوں بعد وہ میری چھوٹی بہن کو بھی وہاں لے آئے اور امی سے کہا، “مجھ سے ناراض رہنا ہے تو رہو، لیکن ان بچیوں کو اپنے پاس رکھو، انہیں تمہاری ضرورت ہے۔ سگی ماں سے بڑھ کر کوئی جوان بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، شاید باپ بھی نہیں۔ اگر میں حفاظت کر سکتا تو آج مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔”
والد نے کافی رقم بینک میں امی کے نام جمع کرا دی تاکہ وہ عزت کے ساتھ ہماری شادی کر سکیں۔ ماموں کو ہمارے رشتوں کی تلاش کا فرض سونپا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں قسمت لکھی تھی، ہم دونوں بہنوں کے رشتے ہو گئے اور شادی کے بعد اب ہم اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں، لیکن مجھے اپنی بیٹی کی جدائی کا غم نہیں بھولتا۔ خدا جانے وہ کس حال میں ہوگی۔
کراہتی ہوئی ماں کو انہوں نے سہارا دے کر اٹھایا، بستر پر لٹایا اور پانی پلایا۔ امی نے نحیف آواز میں کہا، “مجھے سخت چوٹ لگی ہے، فون اٹھا کر دو تاکہ میں اپنے شوہر کو آفس اطلاع کروں، وہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے۔” ان میں سے ایک خاتون جو کم عمر تھی، اس نے فون اٹھا کر امی کو دے دیا۔ میری والدہ نے ابو سے بات کی اور کہا، “فوری آ جائیے، گرنے کی وجہ سے سخت چوٹ لگی ہے اور لگتا ہے ہڈی میں کہیں فریکچر ہو گیا ہے۔”
فون بند کر کے وہ ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گلی کے نکڑ والے کالے گیٹ کے بڑے بنگلے میں جھاڑو پونچھا کرتی ہیں اور مزید کام ڈھونڈ رہی ہیں۔ امی نے فوراً کہا، “مجھے ایک کام والی کی سخت ضرورت ہے، میرے لیے چھوٹے بچوں کو سنبھالنا مشکل مسئلہ ہے۔ اگر کوئی ایسی عورت یا لڑکی مل جائے جو صبح سے شام تک میرے پاس رہ سکے اور بچوں و گھر کے کاموں میں مدد کرے تو میں اچھی تنخواہ دوں گی۔” ان میں سے جو بڑی عمر کی تھی، وہ بولی، “میری اس بیٹی کو سارے دن کے لیے اپنے پاس رکھ لو، یہ تمہارا کام کر دے گی اور کھانا پکانا بھی جانتی ہے۔”
اماں نے لڑکی کی موہنی صورت پر غور کیے بغیر اسے فوراً رکھنا قبول کر لیا اور جو تنخواہ اس کی ماں نے مانگی، اس کی ہامی بھر لی کیونکہ اماں کو اس وقت کسی مددگار کی سخت ضرورت تھی اور وہ اٹھنے بیٹھنے کے قابل بھی نہ تھیں۔ میرا چھوٹا بھائی جو ابھی صرف آٹھ ماہ کا تھا، جھولے میں سو رہا تھا۔ اس عورت نے کہا، “بی بی! میں تمہاری تکلیف دیکھ کر اپنی بیٹی آپ کے پاس چھوڑے جاتی ہوں، کل صبح جب سامنے والے گھر کام پر آؤں گی تو آپ کی طرف چکر لگا لوں گی اور رشیدہ کو بھی دیکھ لوں گی۔” یہ کہہ کر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ رشیدہ نے میری ماں کے سارے کام منٹوں میں کر دیے، اتنی دیر میں ابو بھی گھر آ گئے۔ والدہ نے بتایا کہ اس بچی کو ابھی ملازم رکھا ہے، اللہ نے اسے فرشتہ بنا کر اس مشکل گھڑی میں بھیج دیا ورنہ منّے کو جھولے سے نکال کر فیڈر بنا کر دینے والا کوئی نہ تھا۔ خیر، والد صاحب نے لڑکی سمیت ہم سب کو گاڑی میں بٹھایا اور والدہ کو ہسپتال لے گئے۔
ایکسرے وغیرہ کے بعد ڈاکٹروں نے امی کو ایڈمٹ کر لیا، چنانچہ ابو انہیں وہیں چھوڑ کر ہمیں گھر لے آئے۔ رات بھر وہ لڑکی ہم تینوں بہن بھائیوں کے پاس رہی۔ صبح والد نے پھپھو کو فون کیا تو وہ حیدرآباد سے کراچی پہنچ گئیں کیونکہ والد صاحب ہم بچوں کو ایک انجان لڑکی کے پاس تن تنہا نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ پھپھو کے اپنے تین چھوٹے بچے تھے؛ وہ ایک کو ساتھ لے آئیں جبکہ دو کو اپنی نند کے گھر چھوڑ دیا تھا۔
دوپہر کو رشیدہ کی ماں زبیدہ آئی تو پھپھو نے اسے شاباش دی کہ “تمہاری بیٹی بہت اچھی ہے، ورنہ اس عمر کی لڑکیاں کہاں اس طرح بچے سنبھالتی ہیں؟” اس نے واقعی بہت توجہ سے بچوں کا خیال رکھا، رات کو فیڈر بنا کر دیتی رہی اور صبح ناشتہ بھی تیار کیا۔ زبیدہ نے بتایا، “یہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی رہی ہے، اس لیے کم عمری میں ہی اسے ان کاموں کا سلیقہ آ گیا ہے۔ جب میں کام پر جاتی تھی تو یہی گھر سنبھالتی تھی۔” پھپھو نے کہا، “تمہارا بھلا ہو زبیدہ! تم اس آڑے وقت میں مل گئیں ورنہ کون اپنی لڑکی کو انجان گھر میں چھوڑتا ہے۔”
زبیدہ بولی، “بی بی! میں اس گھر میں پہلی بار آئی ہوں لیکن آس پاس کے کئی گھروں میں کام کیا ہے اور اس بلاک سے واقف ہوں۔ رشیدہ کا باپ سوتیلا ہے، اس لیے میں اسے کسی اچھے گھر میں رات دن کے لیے ملازم رکھنا چاہتی تھی۔ میرا شوہر نشہ کرتا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا، جب زیادہ نشہ کر لے تو مجھے اور بچوں کو مارنے لگتا ہے۔ اس کی بد مزاجی سے یہ بچی گھبراتی ہے اور اسے گھر میں سکون نہیں ملتا۔ آپ کی بھابی کو پہلی نظر میں دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اچھی خاتون ہیں، اسی لیے انہیں تکلیف میں دیکھ کر اسے یہاں چھوڑ دیا۔”
کچھ دیر وہ پھپھو سے باتیں کرتی رہی۔ ابو ہسپتال سے واپس آئے تو بتایا کہ امی کا آپریشن ہو گیا ہے، کولہے کی ہڈی میں سخت چوٹ آئی ہے اور انہیں چلنے پھرنے میں وقت لگے گا۔ پھپھو ایک ہفتہ بمشکل رہ پائیں کیونکہ ان کی نند کے فون آ رہے تھے کہ بچے پریشان ہیں، جلد واپس آ جاؤ۔ پھپھو کے جانے کے بعد گھر کے انتظام کا تمام دار و مدار رشیدہ پر تھا، جس نے نہایت خوش اسلوبی سے اپنی ذمہ داری نبھائی۔ والدہ اس سے بہت خوش تھیں؛ وہ چار ماہ بعد چلنے کے قابل ہوئیں، تب تک وہ سارا دن لیٹی رہتیں یا ٹانگ پھیلا کر ٹیک لگا کر بیٹھ جاتیں۔
کڑا وقت گزر جاتا ہے۔ امی ٹھیک ہو گئیں لیکن رشیدہ اب گھر کا لازمہ بن گئی۔ وہ ایسی تھی جیسے لنگڑے کی لاٹھی یا اندھے کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ میری ماں کو ایسی ہی معاون کی ضرورت تھی۔ انہوں نے رشیدہ کا اتنا خیال رکھنا شروع کر دیا جتنا کوئی ماں اپنی بیٹی کا رکھتی ہے اور رشیدہ بھی چھوٹی بہن کی طرح محبت اور توجہ سے میری اماں کا سہارا بن گئی تھی۔
اس کی ماں کو تو بس تنخواہ سے غرض تھی۔ وہ ہر ماہ آکر بیٹی کی محنت کے روپے لے جاتی اور کہتی، “بیگم صاحبہ! چاہے اسے تمام عمر کے لیے رکھ لیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بے شک اس کی شادی اپنی مرضی سے کر دینا، مجھے آپ پر بھروسا ہے، اب آپ ہی اس کی وارث ہیں۔” انسان سوچتا کیا ہے اور ہوتا کیا ہے۔ ماں جس لڑکی کو اپنے لیے رحمت کا فرشتہ سمجھ رہی تھیں، معلوم نہ تھا کہ ایک دن وہی ان کی دربدر ی کا سامان بنے گی۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا، یہاں تک کہ رشیدہ کو ہمارے گھر آئے پانچ سال بیت گئے۔ لگتا تھا کہ یہ پانچ سال پانچ دن تھے جو پلک جھپکتے گزر گئے تھے۔
ایک روز اس کی ماں آئی تو کافی بیمار لگ رہی تھی۔ اس نے امی سے کہا، “رشیدہ کا اب آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ دراصل یہ چھوٹی سی تھی جب میرا خاوند اسے کہیں سے اٹھا لایا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ یہ ایک ویران جگہ روتی ہوئی ملی تھی، لیکن مجھے شک تھا کہ وہ اسے اغوا کر کے لایا ہے۔ اس وقت میں امید سے تھی، میں نے بچی کو اپنے پاس رکھ لیا۔ میرا خاوند اسے لایا ہی اس لیے تھا کہ پہلے یہ ہماری خدمت کرے گی اور پھر جب سیانی ہو جائے گی تو اسے کسی امیر گھر میں اپنی بیٹی ظاہر کر کے رکھوا دیں گے اور اس کی تنخواہ بٹورتے رہیں گے۔ میں نے اسے اس وقت سے پالا ہے جب یہ صرف دو سال کی تھی۔ مجھے اپنی اولاد کی طرح اس سے پیار ہے۔ اب جبکہ یہ بڑی ہو گئی ہے، ڈر ہے میرا خاوند اسے بیچ نہ دے۔ باجی! میں نہ رہوں تو آپ اس کی شادی کر دینا، اسے کبھی اپنے گھر سے نہ نکالنا، کبھی بے آسرا نہ کرنا اور نہ ہی اسے میرے خاوند کے حوالے کرنا۔”
اس کے بعد زبیدہ کبھی واپس نہ آئی۔ یقیناً وہ مر گئی ہو گی ورنہ کبھی تو لوٹ کر آتی۔ امی، رشیدہ کی جوانی اور خوبصورتی سے بے نیاز بس اس سے خدمت لیے جا رہی تھیں۔ رشیدہ نے میری ماں کو اتنا آرام دیا تھا کہ وہ اس کی شادی کے بارے میں سوچنے سے کتراتی تھیں۔ ہوش تب آیا جب والد صاحب نے اس گھریلو ملازمہ سے شادی کر لی۔ تب اماں اپنی اس توہین کو برداشت نہ کر سکیں اور والد سے جھگڑ کر میکے چلی گئیں۔
میں دس سال کی ہو چکی تھی اور میری چھوٹی بہن چھ سات برس کی ہو گی۔ بھائی سب سے چھوٹا تھا۔ ماں صرف اسے اپنے ہمراہ لے گئیں۔ جب گھر کی نوکرانی مالکہ بن جائے تو اصل مالکہ کو صدمہ تو ہوتا ہی ہے، تب گھر بھی عقوبت خانہ لگنے لگتا ہے۔
اس لاغر سی لڑکی نے ہمارے گھر رہ کر کچھ ایسا رنگ روپ نکالا تھا کہ دیکھنے والا دیکھتا رہ جاتا۔ لیکن اماں کو ہم بچوں اور گھرداری سے فرصت نہ تھی جو نظر بھر کر اس کے سرو قامت پر غور کر لیتیں۔ وہ اسے ابھی تک وہی بے بس اور لاچار چھوکری سمجھ رہی تھیں جو ان کے ٹکڑوں پر پل رہی تھی۔ اس کی نوخیزی گھر میں کیا قیامت لانے والی ہے، انہیں اس کا احساس نہ ہوا اور پانی سر سے گزر گیا۔ جب ہوش آیا تو اماں کی خوشیاں اس طوفانِ بلا خیز میں ڈوب چکی تھیں اور تدبیروں کے سب سرے ان کے ہاتھ سے نکل گئے تھے۔
ماں کے احتجاج پر ابا نے اپنا فیصلہ سنا دیا، “رشیدہ یہاں ہی رہے گی، میری دوسری بیوی بن کر۔ تم رہو یا نہ رہو، تمہاری مرضی۔ یہ گھر میرا ہے، تم اسے جہیز میں نہیں لائی ہو۔” ابا کے کڑے تیور دیکھ کر میری ماں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ انہوں نے سوچا بھی نہ تھا کہ ان کا جیون ساتھی ایک ادنیٰ سی چھوکری کی خاطر کسی دن یوں طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لے گا۔ جس گھر کو وہ ہمیشہ کے لیے اپنا سمجھتی رہی تھیں، ایک روز اچانک پتا چلا کہ یہ گھر ان کا نہیں ہے۔ یہ سخت صدمے والی بات تھی، لیکن ان کا کلیجہ جانے کس مٹی کا بنا تھا کہ وہ مریں نہیں، بس گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔
عورت اپنا گھر چھوڑ دے تو کوئی دوسرا گھر اسے پناہ نہیں دیتا۔ ماں کا بھی یہی حال ہوا؛ کبھی ایک بھائی کے گھر تو کبھی دوسرے کے۔ جب بھابھیاں جینا دوبھر کر دیتیں تو کسی اور رشتہ دار کے گھر چند دن کے لیے سر چھپا لیتیں۔ انہوں نے کئی گھر بدلے مگر اپنے گھونسلے میں واپس نہ آ سکیں۔ رشیدہ ابا سے ڈرتی تھی، تبھی ہمارا خیال رکھتی تھی۔ اس نے ہم دونوں بہنوں کو اچھی طرح سنبھال لیا۔ پھر جب اس کے اپنے بچے ہو گئے تو اب ہمیں انہیں سنبھالنا پڑا۔ ہماری جگہ اس نے اور اس کی جگہ ہم نے لے لی۔ اب گھر کا سارا کام ہمارے کندھوں پر آ گیا تھا۔
اس صورتحال کو میرا ذہن قبول نہ کرتا تھا۔ جب میں سولہ برس کی ہوئی تو دل میں بغاوت کے جذبات نے جنم لیا۔ اب رات بھر نیند نہ آتی اور دن خواب و خیال کے پردوں میں لپیٹ کر گزارنے کی کوشش کرتی۔ رشیدہ کم عقل کو ہماری عمر کے تقاضوں کو سمجھنے کی کیا ضرورت تھی، ہم صحیح کرتے یا غلط، وہ ہمیں نہ روکتی ٹوکتی اور نہ کبھی کچھ کہتی۔ میں نے محلے میں سہیلیاں بنا لیں، جی چاہتا تو ان کے پاس چلی جاتی اور گھنٹوں گھر سے غائب رہتی۔ اس طرح ماں کی یاد سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتے کرتے میں آوارہ مزاج ہو گئی۔ انہی دنوں ابا نے ایک ملازم رکھا جو عمر میں ابا سے دو چار برس چھوٹا ہو گا۔ ہم اسے چچا کہتے تھے کیونکہ وہ والد کا دور پار کا رشتہ دار بھی تھا۔
والد کو اپنے کاروبار کے لیے کسی مددگار کی ضرورت تھی، انہوں نے سوچا کہ یہ شخص بے گھر اور بیروزگار ہے، چلو اسے رکھ لیتا ہوں، اسے ٹھکانہ بھی مل جائے گا اور آسرا بھی۔ انہوں نے اسے گھر کے پچھواڑے اسٹور والے چھوٹے سے کمرے میں رہائش دے دی جو خالی پڑا ہوا تھا۔ میں جب بور ہوتی تو اس کوٹھڑی کا رخ کرتی؛ کبھی ٹھنڈے پانی کی بوتل دینے اور کبھی کھانا دینے کے بہانے۔ دراصل میں اس سے باتیں کر کے اپنی تنہائی دور کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ ایک چالاک اور شاطر آدمی تھا۔
مجھے اچھے برے کی تمیز نہ تھی، ایک روز ابا اچانک گھر آ گئے اور انہوں نے مجھے اس کی کوٹھڑی سے نکلتے دیکھ لیا۔ میرا حلیہ کسی آنے والے برے وقت کی چغلی کھا رہا تھا۔ ابا کو مجھے اس حال میں دیکھ کر غش آ گیا۔ آج انہیں احساس ہوا کہ بدنظری اور بددیانتی کی سزا کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے غضنفر کو نکال دیا اور مجھ پر بھی چند تھپڑ رسید کیے۔ پھر انہوں نے میری سوتیلی ماں رشیدہ پر غصہ نکالا کہ “تم نے دھیان کیوں نہ رکھا کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ لڑکی اس مردود کے پاس کوٹھڑی میں گھسی کیا کر رہی تھی؟ کچھ ہوش ہے تمہیں؟”
اتفاق سے اسی دن پشاور سے میرے سگے چچا آ گئے، انہوں نے جب مجھے روتے بلکتے پایا تو ابا سے کہا کہ اسے کچھ دن کے لیے میرے گھر بھیج دو، چچی اس کا خیال رکھیں گی ورنہ تمہاری بچی ذہنی پریشانی کا شکار ہو جائے گی۔ والد تو غصے میں تھے ہی، کہنے لگے “لے جاؤ اس منحوس کو! یہ میری نظروں سے دفع ہو جائے تو اچھا ہے۔” ادھر چچی نے میری اصل امی کو فون کر دیا کہ تمہاری بیٹی ہمارے گھر ہے، ملنا چاہو تو آ کر مل لو۔ ماں نے ماموں کو بھیجا کہ جا کر اسے لے آؤ، دو چار دن بیٹی میرے پاس رہ لے گی ورنہ اس کا باپ کبھی ملنے نہیں دے گا۔
کسی کو علم نہ تھا کہ میں کتنے بڑے خطرے میں گھر چکی ہوں۔ میں اب ہر حال میں غضنفر کو ڈھونڈنا اور اس سے ملنا چاہتی تھی کیونکہ یہ مصیبت اسی کی لائی ہوئی تھی، ورنہ میری رسوائی اور موت یقینی تھی۔ اپنا راز بتاتی بھی تو کس کو؟ ماموں کے آنے پر میں اس لیے خوش تھی کہ کسی صورت گھر سے نکل بھاگنے کا موقع ملے گا۔ سفر کے دوران ماموں نے مجھے بس میں عورتوں والی نشست پر بٹھا دیا اور خود مردانہ حصے میں جا بیٹھے۔ ایک جگہ بس رکی تو وہ کچھ لینے کے لیے نیچے اترے، میں بھی موقع پا کر بس سے اتری اور دوسری بس میں چڑھ گئی جو روانہ ہونے کو تیار تھی۔ میرے بیٹھتے ہی بس چل پڑی۔ ماموں جب واپس لوٹے ہوں گے تو مجھے بس میں نہ پا کر یقیناً اپنا سر پیٹ لیا ہو گا۔ میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ماں اور ماموں کا کیا بنے گا اور وہ چچا اور ابا کو کیا جواب دیں گے کہ لڑکی کدھر گئی۔ مجھے تو بس جلد از جلد غضنفر کے پاس پہنچنے کی جلدی تھی تاکہ اسے اس راز سے آگاہ کر سکوں جو میرے لیے موت کی پکار بننے والا تھا۔
بس جب آخری اڈے پر رکی تو میں نے اتر کر ایک رکشہ والے کو بلایا۔ وہ سواری سمجھ کر دوڑا آیا لیکن مجھ جیسی کم عمر لڑکی کو تنہا دیکھ کر ہچکچایا۔ تبھی میں نے کہا، “بھائی! میں مصیبت زدہ ہوں اور سوتیلی ماں کے ظلم سے بھاگ کر نکلی ہوں، تم مجھے راولپنڈی میں فلاں جگہ پہنچا دو، وہاں میرے رشتہ دار کا گھر ہے، میں ان کے پاس چلی جاؤں گی۔” وہ رکشہ والا نیک آدمی نہ تھا۔ اس نے مجھے بٹھا لیا اور ایک ایسی جگہ لے گیا جہاں ہم جیسی بھٹکی ہوئی لاوارث اور کم سن لڑکیوں کے ذریعے دولت کمائی جاتی تھی۔
یہ بازارِ حسن تھا، جہاں روحیں کچلی جاتی تھیں مگر جسم ترو تازہ تھے۔ وہاں سجاوٹ میں بناوٹ اور ہنسی میں سسکیاں لپٹی ہوئی تھیں۔ جس عورت نے مجھے خریدا، اسے میں نے روتے ہوئے بتا دیا کہ “میں شادی شدہ ہوں اور امید سے ہوں؛ میرا شوہر مجھے مارتا پیٹتا تھا، میں اس کے ظلم سے تنگ آ کر بھاگی تھی کہ یہ رکشہ والا مل گیا اور یہاں لے آیا۔ مہربانی کر کے مجھے میری ماں کے پاس پہنچا دو۔” وہ بولی، “ابھی نہیں، کچھ دن ٹھہرو اور انتظار کرو، بعد میں پہنچا دوں گی۔”
وہ مجھے لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گئی اور الٹراساؤنڈ کرایا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میرے ہاں بیٹی ہونے والی ہے تو وہ بہت خوش ہوئی اور بولی، “آرام سے رہو، یہ مشکل مرحلہ طے ہو جانے دو، بعد میں تم جہاں کہو گی، وہاں پہنچا دیں گے۔” اب میرے پاس اس کے یہاں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ میں سوچتی تھی کہ کاش میں غضنفر کے پاس جانے کا خیال نہ کرتی اور ماموں کے ساتھ ماں کے پاس چلی جاتی، تو کم از کم اس گندی جگہ تو نہ پھنستی۔
بیٹی نے جنم لیا تو ماہ جبیں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا، اس نے سارے محلے میں مٹھائی بانٹی، خوشی منائی اور بولی، “اس کی پرورش ناز و نعم سے کرو۔ تم نے ہمیں جو انعام دیا ہے، ہم اس کی پوری قدر کریں گے۔” میں اچھی طرح جان چکی تھی کہ وہ کیوں خوش ہے؛ ظاہر ہے کہ اسے اصل کے ساتھ سود بھی وصول ہو گیا تھا۔ میں دن رات وہاں سے نکلنے کی تدبیریں سوچتی رہتی تھی۔ آخر ایک دن ایک پھول بیچنے والے کے ذریعے اس دوزخ سے نجات کا راستہ مل گیا۔
وہ باقاعدگی سے وہاں کے ہر گھر میں مہکتے ہوئے گجرے دینے آیا کرتا تھا۔ ایک روز جب وہ آیا تو میں رو رہی تھی اور آنگن میں بیٹھی اپنی معصوم بچی کو سلا رہی تھی۔ اس نے مجھے روتا دیکھ کر ترس کھایا؛ اس وقت وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ اس نے سرگوشی میں کہا، “اگر کسی کو پیغام بھجوانا ہے تو بتا دو، میں پہنچا دوں گا۔” تبھی میں نے اپنے والد کا نام اور پتا اسے بتا کر کہا، “انہیں جا کر میرا احوال سنانا، اگر وہ قبول کریں گے تو آ کر لے جائیں گے۔” ایک ہفتہ بعد اس نے آ کر بتایا، “تمہارے والد کو سب بتا دیا ہے، اگر تم کل کسی بھی وقت مارکیٹ میں فلاں صراف کی دکان پر پہنچ جاؤ تو وہ تمہیں وہاں سے گھر لے جائیں گے۔”
یہ صراف والد کا بچپن کا دوست تھا، دونوں نے پہلی جماعت سے میٹرک تک ساتھ پڑھا تھا۔ اتفاق سے ماہ جبیں بھی اپنے زیورات اسی دکان سے لیا کرتی تھی۔ گجرے والا اس صراف کو جانتا تھا۔ اگلے روز جب ماہ جبیں دوپہر کا کھانا کھا کر قیلولہ فرما رہی تھی، گجرے والے نے محافظ کو ایک موٹی رقم دی جو والد نے اسے بھجوائی تھی۔ یوں پولیس کو شامل کیے بغیر، ماہ جبیں کے محافظ کی مدد سے میں وہاں سے نکل کر صراف کی دکان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔
افسوس کہ میں اپنی بیٹی کو ساتھ نہ لا سکی؛ اگر لے آتی تو شاید والد مجھے قبول نہ کرتے، اور اگر کر بھی لیتے تو زمانے کو کیا منہ دکھاتے کہ غیر شادی شدہ بیٹی کی گود میں یہ کس کی اولاد ہے؟ بیٹی کا دکھ عمر بھر مجھے سلگاتا رہے گا، مگر اسے اللہ اور اس کے نصیب کے حوالے کر کے میں والد کے گلے لگ گئی۔ صد شکر کہ انہوں نے مجھے ٹھکرایا نہیں اور گھر لے جانے کی بجائے میری اصل ماں کے حوالے کر دیا۔
کچھ دنوں بعد وہ میری چھوٹی بہن کو بھی وہاں لے آئے اور امی سے کہا، “مجھ سے ناراض رہنا ہے تو رہو، لیکن ان بچیوں کو اپنے پاس رکھو، انہیں تمہاری ضرورت ہے۔ سگی ماں سے بڑھ کر کوئی جوان بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، شاید باپ بھی نہیں۔ اگر میں حفاظت کر سکتا تو آج مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔”
والد نے کافی رقم بینک میں امی کے نام جمع کرا دی تاکہ وہ عزت کے ساتھ ہماری شادی کر سکیں۔ ماموں کو ہمارے رشتوں کی تلاش کا فرض سونپا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں قسمت لکھی تھی، ہم دونوں بہنوں کے رشتے ہو گئے اور شادی کے بعد اب ہم اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں، لیکن مجھے اپنی بیٹی کی جدائی کا غم نہیں بھولتا۔ خدا جانے وہ کس حال میں ہوگی۔
(ختم شد)
