روبی اور بیلا ایک ہی اسکول میں پڑھتی تھیں اور میٹرک کی طالبات تھیں۔ دونوں کے گھر قریب تھے، اس لیے وہ ہر دم ایک دوسرے کے ساتھ رہتی تھیں۔ میٹرک کے امتحانات کے بعد چھٹیاں ہوئیں تو روبی کی والدہ نے پیغام بھیجا کہ “میں روبی کو کٹنگ (سلائی کڑھائی) سکھا رہی ہوں، اگر بیلا سیکھنا چاہے تو روز شام کو آ جایا کرے۔” یوں بیلا روزانہ اپنی سہیلی کے گھر موجود ہوتی۔
روبی کے دو بھائی اور ایک بہن تھی، جس کی شادی ہو چکی تھی۔ بیلا کے تین بھائی تھے اور وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی، اس لیے وہ بہن کی کمی اپنی سہیلی سے پوری کرتی تھی۔ اچانک روبی کے بڑے بھائی کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں، جس پر ان دونوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ بڑے جوش و خروش سے تیاریاں ہو رہی تھیں کہ گھر میں مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی اور خوب چہل پہل ہو گئی۔ مہمانوں میں روبی کی ایک خالہ بھی آئی تھیں جو انگلینڈ میں رہتی تھیں۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا، خرم۔ وہ دوسری بار پاکستان آیا تھا؛ ایک بار اس وقت جب وہ بہت چھوٹا تھا۔
خرم یہاں آ کر بہت خوش تھا۔ شام ہوتے ہی لڑکے لڑکیاں ڈھولک بجانے بیٹھ جاتے اور پھر لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان مقابلہ ہوتا۔ ان کی شرط یہ ہوتی کہ اگر لڑکیاں ہار گئیں تو انہیں تمام مہمانوں کے لیے چائے بنانی ہوگی اور سارے برتن بھی دھونے پڑیں گے۔ اس بات پر خوب تماشہ ہوتا اور دو پارٹیاں بن جاتیں۔ گھر کے نوکر بہت خوش ہوتے کہ کام بٹ جاتا ہے، اس لیے وہ بھی لڑکیوں کے ہارنے کی دعائیں مانگتے تھے۔ لڑکوں کی سزا اس سے بھی زیادہ سخت تھی؛ اگر وہ ہار جاتے تو انہیں لڑکیوں والے کپڑے پہننے پڑتے۔ لڑکے قد آور اور لمبے تڑنگے تھے، جب وہ لڑکیوں والے کپڑے پہن کر ڈھولک سنبھالتے تو بالکل مسخرے معلوم ہوتے۔ کسی کو چھوٹے جمپر پہننے کو ملتے تو کسی کو بہت تنگ، جنہیں دیکھ کر ہنس ہنس کر سب کا برا حال ہو جاتا۔
لڑکیاں کم ہی ہارتی تھیں کیونکہ انہیں شادی کے گیت گانے اور ڈھولک بجانے کی خوب مشق تھی۔ خرم کی نظریں خاص طور پر بیلا پر رہتی تھیں۔ جب وہ گاتی تو خرم کو بہت اچھی لگتی۔ وہ اسے مسلسل دیکھتا رہتا جس سے بیلا گھبرا جاتی۔ آخر اس نے روبی سے کہا، “تیرا کزن مجھے جس طرح دیکھتا ہے، میں تو گانا ہی بھول جاتی ہوں۔” روبی نے شرارت سے کہا، “اچھا، تو یہ بات ہے؟ میں ابھی اسے بلا کر جھاڑ پلاتی ہوں۔” بیلا نے منع کیا مگر روبی نے خرم کو بلا ہی لیا اور کہا، “بھائی، یہ میری سہیلی کیا کہہ رہی ہے؟ جب ہم گا رہے ہوتے ہیں تو آپ اسے اس طرح کیوں دیکھتے ہیں؟” اس پر خرم نے قہقہہ لگایا اور بولا، “اچھا، تو پھر کس طرح دیکھوں؟” روبی نے کہا، “اسے زیادہ گھور کر مت دیکھا کریں، یہ گانا بھول جاتی ہے۔” خرم نے جواب دیا، “ٹھیک ہے، اب ذرا کم گھور کر دیکھوں گا۔” اس بات پر مزید قہقہے پڑے اور بیلا کھسیانی ہونے کے ساتھ ساتھ روہانسی ہو گئی۔ اس کے بعد اس سے ٹھیک طرح گایا نہ گیا اور اس کی آواز لرزنے لگی، جس کی وجہ سے لڑکیاں ہارنے لگیں۔ روبی کو احساس ہوا کہ اس نے بیلا سے مذاق کر کے غلطی کی ہے۔ رات کو بیلا اپنے گھر چلی گئی تو سب نے سمجھا کہ وہ ناراض ہو گئی ہے، چنانچہ خرم خود بیلا کے گھر گیا اور اس سے معافی مانگی۔ دوسرے دن جب بیلا آئی تو بہت خوش تھی۔ روبی نے پوچھا، “کیا بات ہے؟ آج تم بہت خوش نظر آ رہی ہو۔” بیلا نے شرما کر کہا، “ہاں، بات ہی کچھ ایسی ہے،” مگر اس نے وہ بات روبی کو نہ بتائی جو خرم نے اس سے کہی تھی۔
شادی کی گہما گہمی کے دوران بیلا اور خرم ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور ان کے دلوں میں محبت بڑھ گئی۔ خرم کی والدہ اپنے بیٹے کے لیے پاکستان ہی سے لڑکی پسند کرنا چاہتی تھیں۔ خرم نے اپنی ماں کو بتایا کہ مجھے بیلا پسند ہے اور میں اسی سے شادی کروں گا۔ وہ اپنے والدین کا اکلوتا اور خوبصورت بیٹا تھا، بھلا انہیں اور کیا چاہیے تھا۔ خرم کی ماں نے سوچا کہ شادی کا ہنگامہ ختم ہو جائے تو بیلا کے گھر جا کر اس کا رشتہ مانگ لیں گی۔ شادی کی تقاریب ختم ہوئیں تو مہمان رخصت ہونے لگے۔ خرم کی ماں نے بیلا کے والدین سے ملاقات کی اور اپنا مدعا بیان کیا۔ تھوڑی سی پس و پیش کے بعد انہوں نے رشتے کی منظوری دے دی اور یوں بیلا اور خرم کی منگنی ہو گئی۔ بیلا اتنی خوش تھی کہ بار بار خوشی سے روبی سے لپٹ جاتی تھی۔ آخر کار وہ دن بھی آ گیا جب خرم اور اس کے والدین کو واپس انگلینڈ جانا تھا۔ خرم بہت اداس تھا کیونکہ بیلا کے گھر والوں نے شادی کے لیے دو سال کی مہلت مانگی تھی۔
رخصت ہوتے وقت خرم نے بیلا سے خط لکھنے کا وعدہ لیا اور کہا کہ میں بھی تمہیں باقاعدگی سے خط لکھوں گا۔ بیلا نے مشورہ دیا، “تم مجھے روبی کے پتے پر خط لکھنا، ورنہ گھر میں میرے بھائیوں کو خط مل گئے تو شاید وہ مجھے نہ دیں۔” طے پایا کہ وہ روبی کے ذریعے ہی خط و کتابت کریں گے۔ وفا کے وعدوں اور پیمانوں کے ساتھ خرم انگلینڈ چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد بیلا کافی دن اداس رہی۔ اب اس کی اداسی کا واحد سہارا خرم کے خطوط تھے، جن کا وہ بڑی شدت اور دل و جان سے انتظار کرتی تھی۔ روبی بھی جانتی تھی کہ بیلا، خرم سے کتنی سچی محبت کرتی ہے۔
یہ نام و پیام کا سلسلہ روبی کے سہارے چلتا رہا، یہاں تک کہ خرم نے انگلینڈ میں اور بیلا نے یہاں اپنے امتحانات پاس کر لیے۔ اب خوشیوں کے دن نزدیک آ گئے تھے۔ بیلا کو خرم کا خط ملا کہ وہ لوگ پاکستان آنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ انہی دنوں روبی کے گھر انگلینڈ سے ایک تار (ٹیلی گرام) آیا؛ یہ نجانے کس نے بھجوایا تھا، لیکن یہ روبی کے بڑے بھائی کے نام تھا جس میں لکھا تھا: “آپ کا دوست خرم اپنی دلہن کے ساتھ فلاں تاریخ کو پہنچ رہا ہے، اسے ایئرپورٹ سے لے لیں۔”
جب روبی نے یہ تار پڑھا تو وہ ششدر رہ گئی کہ اچانک خرم کو کیا ہو گیا ہے؟ کہاں تو وہ لوگ جلد آنے والے تھے اور خرم بیلا کو محبت بھرے خط لکھ رہا تھا، اور کہاں اب وہ اپنی دلہن کے ساتھ آ رہا ہے! اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا۔ وہ بار بار خرم کا نام پڑھتی، لیکن اس خبر نے اسے اتنا گھبرا دیا کہ اس نے پتے اور بھیجنے والے کے نام پر ٹھیک سے غور ہی نہ کیا۔ اس نے وہ تار گھر والوں سے چھپا لیا تاکہ وہ کم از کم خرم اور اس کی دلہن کو لینے ایئرپورٹ نہ جائیں اور اس کی سہیلی کو مزید تکلیف اور رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کیا خرم نے بیلا کو دھوکے میں رکھا؟ وہ اسے محبت بھرے خط لکھتا رہا، تسلیاں دیتا رہا اور وہاں انگلینڈ میں شادی بھی کر لی؟ وہ ایسا قطعی نظر نہیں آتا تھا، لیکن انسان کے بارے میں کوئی کیا کہہ سکتا ہے، اسے بدلتے دیر نہیں لگتی۔ پھر خرم اور بیلا کا ساتھ ہی کتنا رہا تھا۔ اکثر لوگ یورپ جا کر ایسا بھیس بدلتے ہیں کہ بیوی بچوں کو بھلا کر نئی دنیا آباد کر لیتے ہیں۔ تمام رات روبی کو نیند نہ آئی، وہ یہی سوچتی رہی کہ سب سے دشوار مرحلہ یہ ہوگا کہ وہ بیلا کو کیسے بتائے گی کہ خرم نے وہاں شادی کر لی ہے اور اب اس کا انتظار نہ کرے۔ وہ تو یہ صدمہ سہہ نہ سکے گی اور مر جائے گی۔ بہرحال، اسے بتانا تو تھا، وہ کب تک اسے دھوکے میں رکھتی؟
اگلے روز بیلا آئی اور آتے ہی پوچھا، “کیا خرم کا خط آیا؟” روبی اس کا اشتیاق دیکھ کر کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی مگر اس کا دھیان کہیں اور تھا۔ بیلا نے اس کی پریشانی بھانپ لی اور پوچھا، “کیا بات ہے روبی؟ ایسا لگتا ہے جیسے تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو۔” روبی نے کہا، “بیلا! کیا تم سن سکو گی؟” بیلا نے اصرار کیا، “ہاں بتاؤ تو سہی، تمہیں میری قسم!” روبی نے زبان سے تو کچھ نہ بتایا، البتہ وہ ٹیلی گرام اسے دے دیا جسے پڑھ کر بیلا کا رنگ فق ہو گیا۔ اس وقت تو اس نے ضبط کیا اور فوراً اٹھ کر گھر چلی گئی، مگر گھر پہنچتے ہی اس کی حالت غیر ہو گئی۔ ماں کے پوچھنے پر اس نے ٹیلی گرام ان کے حوالے کر دیا۔ جب بیلا کے والد نے وہ تار پڑھا کہ “خرم فلاں تاریخ کو اپنی دلہن کے ساتھ پاکستان آ رہا ہے” تو وہ بھی سکتے میں رہ گئے۔
بیلا کی حالت روز بروز بگڑتی گئی، جسے دیکھ کر اس کے والدین نے پندرہ دن کے اندر اپنے ایک دوست کے بیٹے سے اس کی شادی کی تیاریاں شروع کر دیں تاکہ اس کا جی بہل سکے۔ وہ بیلا کی گہری محبت کی حقیقت نہ سمجھ سکے اور اسے محض ایک وقتی صدمہ خیال کیا۔ بیلا کہتی رہی، “خدارا! مجھے اس دکھ سے سنبھلنے تو دیں، زبردستی میری شادی نہ کریں ورنہ میں اپنی جان کھو دوں گی،” لیکن والدین نے ایک نہ مانی اور اسے زبردستی دلہن بنا دیا گیا۔ کوئی راہِ فرار نہ پا کر بیلا نے شادی سے صرف ایک روز پہلے زہر کھا لیا۔ وہ مایوں بیٹھی تھی اور اس کے ہاتھوں میں مہندی بھی لگ چکی تھی۔ جب روبی کو پتا چلا تو وہ دھک سے رہ گئی اور بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ مگر جو ہونا تھا، وہ ہو چکا تھا۔
کئی دنوں تک محلے میں بیلا کی موت کے چرچے رہے۔ ہر کوئی اسے موردِ الزام ٹھہراتا کہ جانے کیا معاملہ تھا جو دلہن بنی لڑکی نے خودکشی کر لی۔ بیلا کی موت کے ٹھیک ایک ماہ بعد اچانک خرم اور اس کے والدین آ گئے۔ انہیں دیکھ کر روبی حیران رہ گئی اور پوچھا، “خالہ جان! آپ کی بہو کہاں ہے؟”
“بہو! کون سی بہو؟” خالہ نے حیرت سے پوچھا، “ارے بھئی، بہو لینے تو میں اتنی دور سے یہاں آئی ہوں۔”
“کیا مطلب؟ کیا خرم نے وہاں شادی نہیں کی؟” روبی نے پوچھا۔
“نہیں تو! یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ ہم تو اب شادی کرنے آئے ہیں۔ خرم تو بیلا کا دیوانہ ہے، اسے بیلا کے سوا کوئی اور لڑکی پسند آ سکتی ہے کیا؟”
اب تو گھر بھر میں سناٹا چھا گیا۔ روبی نے ہمت کر کے پوچھا، “تو پھر وہ تار کس کا تھا؟”
“کون سا تار؟” روبی دوڑی ہوئی گئی اور وہ ٹیلی گرام اٹھا لائی۔ خالہ نے اسے دیکھ کر کہا، “یہ ہمارا نہیں ہے، اس پر ہمارے گھر کا پتا بھی نہیں ہے، یہ کسی اور کا ہوگا۔” یکدم روبی کو خیال آیا کہ ممکن ہے یہ اس کے بڑے بھائی کے کسی اور جاننے والے “خرم” کا ہو، جسے اس نے بھائی سے چھپا لیا تھا۔ جب بھائی نے وہ تار دیکھا تو سر پکڑ کر رہ گئے۔ واقعی وہ تار ان کے ایک اور دوست کے بارے میں تھا جو انگلینڈ میں رہتا تھا اور اس کا نام بھی خرم تھا۔
بھائی نے غصے اور دکھ سے کہا، “بے وقوف لڑکی! تم نے مجھے یہ تار کیوں نہ دکھایا؟ تم نے اسے مجھ سے چھپایا اور ایک ناحق جان چلی گئی۔”
“کس کی جان چلی گئی؟” خرم نے تڑپ کر پوچھا۔ جب اسے پتا چلا کہ بیلا نے خودکشی کر لی ہے تو وہ ساکت ہو گیا اور کافی دیر تک پتھر کا بت بنا بیٹھا رہا۔ کئی دنوں تک سب اسے سمجھاتے رہے لیکن اس کی حالت نہ سنبھلی۔ اسے بیلا کی موت کا بے حد دکھ تھا۔ وہ کہتا تھا، “اگر بیلا اپنی موت مر جاتی یا کسی اور سے بیاہ دی جاتی تو شاید مجھے اتنا صدمہ نہ ہوتا، دکھ تو اس بات کا ہے کہ وہ میری وجہ سے، اپنے وعدوں پر قربان ہو گئی۔”
خرم ایک ماہ تک ہمارے گھر رہا۔ وہ روزانہ بیلا کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتا تھا۔ ایک روز وہ حسبِ معمول صبح سویرے بیلا کی قبر کی جانب روانہ ہوا۔ قبرستان اور ہمارے گھر کے درمیان کافی فاصلہ تھا، مگر خرم روزانہ منہ اندھیرے پیدل ہی نکل جاتا تھا۔ راستے میں ایک گہری نہر بہتی تھی؛ اس روز بھی خرم وہاں سے گزرا مگر واپس نہ آیا۔ جب کافی دیر ہو گئی تو گھر والے اسے ڈھونڈنے نکلے۔ معلوم ہوا کہ وہ نہر کے کنارے کھڑا اپنے خیالوں میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک پاؤں پھسلنے سے نہر میں جا گرا۔ پاس کھڑے لوگوں نے اسے ڈوبتے ہوئے دیکھا، مگر کسی کو تیرنا نہیں آتا تھا، اس لیے وہ اسے بچا نہ سکے۔ فوراً پولیس کو اطلاع دی گئی، مگر تلاشِ بسیار کے بعد دوسرے دن اس کی لاش ملی جب وہ پانی کی سطح پر تیرنے لگی۔
روبی کے گھر میں بھی ویسا ہی کہرام مچ گیا جیسا ایک ماہ پہلے بیلا کے گھر مچا تھا۔ خرم کی والدہ کی حالت غیر تھی اور وہ بار بار بے ہوش ہو رہی تھیں۔ ایک ہی محلے میں آمنے سامنے دو گھروں کو موت نے اپنا نشانہ بنایا اور اپنی دھاک بٹھا لی۔ خدا جانے یہ محبت کی جیت تھی یا موت کی؟ وہ دو محبت کرنے والے تو شاید آسمان پر جا کر مل گئے ہوں گے، مگر پیچھے زمین والوں کی دنیا اجاڑ گئے۔
خالہ جان کافی دنوں تک ہوش میں نہ آئیں۔ خالو جان اگرچہ مرد تھے اور صدمہ برداشت کر رہے تھے، مگر وہ بھی اندر سے ٹوٹ چکے تھے۔ انہوں نے خالہ کو واپس انگلینڈ لے جانے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں ہمارا اپنا کوئی نہیں جو اس کڑے وقت میں میری بیوی کی دلجوئی کر سکے؛ وہ پردیس ہے اور دکھ سکھ میں اپنا وطن ہی دل کو راحت دیتا ہے۔ چنانچہ وہ دونوں مستقل طور پر پاکستان واپس آ گئے۔ وہ کہتے تھے کہ “ہم تو خرم کی وجہ سے وہاں تھے، جب وہی نہ رہا تو وہاں رہ کر کیا کریں گے؟ کیوں نہ اپنے پیاروں میں رہیں جو ہمارے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔”
اب خرم کی آخری آرام گاہ بھی پاکستان کی مٹی میں تھی۔ اس کی ماں کو وہاں جا کر سکون ملتا تھا۔ وہ روزانہ قبر پر جاتیں، فاتحہ پڑھتیں اور اپنے بیٹے سے دکھ درد کی باتیں کر کے واپس آ جاتیں۔ سچ ہے کہ انسان مٹی کا پتلا ہے، نہ جانے کب ٹوٹ کر بکھر جائے اور کب روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جائے، کوئی نہیں جانتا۔ بس اپنے رب سے ہر وقت خیر کی دعا مانگنی چاہیے۔
(ختم شد)

