میں اور سلیمان یونیورسٹی میں ہم جماعت تھے۔ وہ مجھے اپنی سادہ لوحی کی بنا پر اچھا لگتا تھا۔ اس میں وہ عیاری اور چالاکی بالکل نہ تھی جو عام طور پر دوسرے لڑکوں میں ہوتی ہے۔ اس کے پاس بیٹھ کر گفتگو کرتے ہوئے مجھے کبھی یہ احساس تک نہ ہوا کہ میں کسی صنفِ مخالف سے مخاطب ہوں؛ بلکہ یوں گماں ہوتا جیسے کسی سہیلی سے محوِ گفتگو ہوں۔ اس کی نگاہ میں کبھی میل دیکھا نہ نیت میں کھوٹ۔ حتیٰ کہ اسے کبھی دوسری لڑکیوں کو بھی ذو معنی نظروں سے دیکھتے نہیں پایا۔ ہر ایک سے بات کرنے کا اس کا انداز بچوں جیسا معصومانہ تھا۔
ہم نے دو برس اکٹھے تعلیم حاصل کی۔ وہ میرا ہم سبق بھی تھا۔ جب کبھی وہ مجھے پریشان دیکھتا تو خود بھی مضطرب ہو جاتا۔ وہ صرف میری ہی نہیں بلکہ ہر کسی کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا تھا۔ انسان جب کسی سے اس قدر مانوس ہو جائے تو لا محالہ وہ اس کی زندگی کا اہم جزو بن جاتا ہے اور اس کے بنا زندگی ادھوری سی لگنے لگتی ہے۔ کسی کی رفاقت کی عادت ہو جائے تو جدائی روح میں ایک خلا سا پیدا کر دیتی ہے۔ میں بھی جب آخری سال میں اس سے بچھڑنے کا خیال دل میں لاتی تو ایک گمنام سی اداسی مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ تب میں سوچتی، کیا یہی محبت ہے؟
نہیں، محبت جیسی کیفیت تو میں نے کبھی محسوس ہی نہ کی تھی۔ پھر یہ کیا تھا؟ یہ کیسا احساس تھا جو مجھے اذیت سے دوچار کر دیتا تھا؟ یہ سوچ کر میں پریشان ہو جاتی کہ اب ہم جدا ہو جائیں گے اور شاید پھر کبھی مل بھی نہ پائیں۔ بالآخر وہ لمحہ آ ہی گیا جب امتحانات ختم ہوئے اور ہمارا ایم اے مکمل ہو گیا۔
سب اپنی اپنی راہوں پر نکل گئے۔ یونیورسٹی کے آخری روز میں نے محسوس کیا کہ سلیمان بھی شدید اداس تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرا ہاتھ تھام کر اپنے دل کا حال کہہ دے، مگر میں نے اپنا رویہ ایسا رکھا کہ اسے جرأت نہ ہو سکی۔ میرا اپنا دل بھی اندر سے رو رہا تھا، مگر میں شاید ضرورت سے زیادہ حقیقت پسند واقع ہوئی تھی۔ میں جانتی تھی کہ سلیمان ایک متوسط گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ اس کا باپ ایک سرکاری محکمے میں فورمین تھا اور ان کا اپنا گھر بھی نہ تھا۔ ایم اے سے فراغت کے بعد یقیناً اسے ملازمت کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانی تھیں کیونکہ اس کے پاس کوئی سفارش نہ تھی۔ بالفرض ملازمت مل بھی جاتی، تب بھی اس کی تقدیر میں کون سی بڑی تبدیلی آ جاتی؟
ان حالات کے پیشِ نظر میں نے فیصلہ کیا کہ اسے کسی جھوٹی آس میں مبتلا کرنا درست نہیں۔ میں ایک آسودہ حال باپ کی بیٹی تھی اور میرے والدین میرا رشتہ کسی متمول خاندان میں کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک دوسرے کو خوش دلی سے الوداع کہہ دینا ہی قرینِ مصلحت تھا۔
وقت پر لگا کر اڑتا رہا۔ ہمیں بچھڑے کئی برس بیت گئے۔ ابتدا میں کچھ رابطہ رہا، پھر وہ بھی منقطع ہو گیا۔ میری شادی ایک امیر کبیر گھرانے میں ہوئی، لیکن بدقسمتی سے خوشیاں میرے نصیب میں نہ تھیں۔ شوہر عیاش اور بدقماش نکلا۔ اس کی عادتیں میرے لیے اس قدر تکلیف دہ تھیں کہ نوبت طلاق تک جا پہنچی اور میں بوجھل قدموں کے ساتھ والدین کے گھر لوٹ آئی۔
والدین بیٹی کے لیے گھر دیکھ سکتے ہیں، مقدر نہیں۔ میری قسمت میں جو لکھا تھا، وہی سامنے آیا۔ ساس سسر نیک سیرت تھے، مگر جب جیون ساتھی ہی راہِ راست سے بھٹکا ہوا ہو تو گھر والوں کی نیکی کس کام کی؟ وہ طلاق پر رنجیدہ تو تھے، مگر ہماری نظر میں مجرم ہی ٹھہرے کہ انہوں نے شادی سے پہلے بیٹے کے کرتوتوں پر پردہ ڈال کر ہمیں دھوکے میں رکھا۔ میرے ساتھ جو زیادتی ہوئی، اس کا ازالہ انہوں نے یوں کیا کہ میرا بھاری حقِ مہر ادا کیا، میرے نام کی گئی کوٹھی مجھے ہی دے دی اور ہیرے جواہرات سے لدے زیورات بھی میرے پاس ہی رہنے دیے۔
میں سسرال سے طلاق کا داغ تو لے کر آئی تھی، مگر خالی ہاتھ نہ تھی۔ میرے پاس اتنا کچھ تھا جو پرآسائش گزر بسر کے لیے کافی تھا، تاہم میں نے اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے لیکچررشپ اختیار کر لی۔ اس مصروفیت سے میرا دل بھی بہلا رہتا اور مستقل ذریعۂ آمدنی بھی میسر آگیا۔ تلخ تجربے کے بعد شادی کے نام سے ہی مجھے وحشت ہونے لگی تھی۔ انسان اپنی محرومیوں اور تنہائی سے بچنے کے لیے کسی نہ کسی مشغلے کی پناہ لیتا ہے، میں نے بھی ہر ہفتے شاپنگ کو اپنا معمول بنا لیا۔ کبھی کچھ خریدنا نہ بھی ہوتا تو یونہی بازاروں میں گھوم پھر کر وقت گزار لیتی، اس طرح تھکن کے باعث رات کو نیند ذرا سکون سے آ جاتی۔
ایک روز شہر کے مرکز میں واقع ایک شاپنگ سینٹر میں مٹر گشتی کرتے ہوئے میں اچانک جواہرات کی ایک بڑی سی دکان میں داخل ہو گئی۔ وہاں سامنے ہی دکان کا مالک بڑے طمطراق سے بیٹھا تھا، اسے دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میں بے اختیار اس کی جانب بڑھی۔
“سلیمان، تم؟” میں نے حیرانی سے پکارا۔
“ہاں ثنیہ، میں ہی ہوں۔ کیا تمہیں یقین نہیں آ رہا؟” اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
“لیکن تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” میں نے پوچھا۔
“اور تم… تم یہاں کیسے؟” اس نے جوابی سوال کیا۔
“میں جیولری دیکھنے آئی ہوں”۔
“اور میں اس دکان کا مالک ہوں۔ کہو، کچھ پسند آیا؟”
“پسند تو کر ہی رہی تھی کہ تم پر نظر پڑ گئی۔ یقین نہیں آتا کہ تم اتنے بڑے جوہری بن گئے ہو”۔
“وقت انسان کو بہت کچھ بنا دیتا ہے ثنیہ۔ سناؤ کیسی ہو؟ تم نے تو پھر کبھی رابطہ ہی نہیں کیا”۔
“حالات ہی کچھ ایسے حائل ہو گئے تھے کہ رابطہ ممکن نہ رہا۔ مگر تم تو اتنے سادہ تھے، یہ جیولری کا کاروبار کیسے سنبھال لیا؟”
وہ ہنسا اور کہنے لگا: “کیوں؟ کیا سادہ لوح لوگ کاروبار نہیں کر سکتے؟ کیا اس کے لیے عیار ہونا ضروری ہے؟”
“نہیں، میرا وہ مطلب نہیں تھا”۔ میں نے خجالت مٹانے کو کہا۔
“اچھا چھوڑیے، یہ بتائیے کہ کیا پرانے دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے؟”
“ہاں، اکثر سے ہوتی ہے۔ وہ مجھے ایک ماہر جوہری مانتے ہیں حالانکہ آمدنی واجبی سی ہے”۔ اس نے کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے کہا۔
“مگر تمہارے ٹھاٹھ تو نوابوں جیسے ہیں”۔
انہی باتوں کے بعد جب میں وہاں سے نکلی تو برسوں بعد خود کو حقیقی معنوں میں تازہ دم محسوس کیا۔ یوں لگا جیسے مدتوں بعد میری کوئی گم گشتہ قیمتی چیز مجھے واپس مل گئی ہو۔ اب ہمارے درمیان فون پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ وہ مجھے اپنی دکان پر آنے کا اصرار کرتا، گویا اس کے دل میں ماضی کی محبت کی شمع اب بھی روشن تھی۔ میں بھی ہفتے میں دو بار اس کے پاس جانے لگی۔ اس کے شوروم میں ایک پرتعیش کمرہ آرام کے لیے مخصوص تھا۔ میں وہاں جا کر بیٹھ جاتی اور وہ دکان ملازم کے سپرد کر کے میرے پاس آ بیٹھتا۔ ہم چائے پیتے اور بیتے دنوں کی یادیں تازہ کرتے۔
اس کی شاہ خرچی دیدنی تھی۔ ایک شاندار کار اس کے زیرِ استعمال تھی اور ہر چیز سے امارت ٹپکتی تھی۔ اس کا طرزِ زندگی دیکھ کر گماں ہوتا تھا جیسے وہ ہیروں کی کسی کان کا مالک ہو۔ ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا: “سلیمان، کیا تم نے شادی کر لی؟ تمہاری اہلیہ کیسی ہیں؟”
اس نے سرد آہ بھر کر جواب دیا: “کی تھی، مگر اب وہ علیحدہ رہتی ہے۔ میرے لیے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے”۔
سلیمان سے میری ملاقاتیں نہایت پرخلوص تھیں، مگر چند ہی روز میں مجھے احساس ہوا کہ وہ اب پہلے جیسا سادہ انسان نہیں رہا۔ اس کی وہ معصومیت جسے کبھی نادانی سمجھا جاتا تھا، اب مفقود ہو چکی تھی۔ اب اس کی ہر بات نپی تلی اور باضابطہ ہوتی تھی۔ وہ ملکی اور معاشرتی نشیب و فراز سے خوب واقف نظر آتا اور اکثر مجھ سے سیاسی و سماجی حالات پر گفتگو کر کے مجھے زچ کر دیتا۔
میرا موڈ بگڑتا دیکھ کر وہ مسکراتا اور کہتا: “میں وہی تو ہوں! یونیورسٹی میں تو تم میری باتوں سے کبھی بیزار نہیں ہوتی تھیں، اب کیا ہوا؟ تم بدل گئی ہو یا میں بدل گیا ہوں؟”
اگر میرا موڈ بوجھل ہوتا تو وہ مجھے زبردستی کسی مہنگے ہوٹل میں کھانے پر لے جاتا۔ رفتہ رفتہ اس کی پرانی آرزو نے پھر سر اٹھایا اور ایک دن اس نے مجھے شادی کی پیشکش کر دی۔ اس نے مجھے قائل کرتے ہوئے کہا کہ زندگی تنہا نہیں کٹتی، خاص طور پر جب عورت ادھیڑ عمر کو پہنچ جائے تو ایک رفیقِ حیات کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اس نے اپنی تنہائی کا واسطہ دے کر مجھے نکاح پر آمادہ کر ہی لیا۔ میں نے بہت سوچ بچار کے بعد اس کے ساتھ زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ چونکہ والد صاحب علاج کی غرض سے بیرونِ ملک مقیم تھے، اس لیے میں نے سلیمان سے کہا کہ ان کی واپسی تک انتظار کرے۔ وہ تو ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ میں دوبارہ گھر بساؤں، یہ میں ہی تھی جو اب تک راضی نہ ہوتی تھی۔
ایک روز میں اور سلیمان ایک ریستوران میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک اس کی نظریں شیشے کے دروازے پر جم گئیں۔ ایک فربہ اندام خاتون دو بچوں کے ہمراہ اندر داخل ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی سلیمان نے بدحواسی میں اپنی نشست بدل لی اور رخ دروازے کی طرف سے موڑ کر پیٹھ کر لی۔ جوں ہی وہ خاتون سیڑھیوں سے ریستوران کی بالائی منزل پر گئی، وہ عجلت میں مجھے لے کر وہاں سے باہر نکل آیا۔
مجھے اس کا یہ طرزِ عمل نہایت عجیب لگا۔ ذہن میں خیال کوند گیا کہ کہیں یہ وہی عورت تو نہیں جسے وہ اپنی “علیحدہ” رہنے والی بیوی کہتا تھا؟ بہرحال، اسے مضطرب دیکھ کر میں نے کریدنا مناسب نہ سمجھا اور خاموش رہی۔ اس واقعے کے چند روز بعد، میں اس کے جویلری شوروم میں بیٹھی تھی کہ وہی خاتون وہاں آ پہنچی۔ وہ ادھیڑ عمر کی تھی اور نہایت سلیقہ مند لباس زیبِ تن کیے ہوئے تھی۔ اسے دیکھتے ہی سلیمان میرے پاس سے اٹھ کر لپکا اور ان کے درمیان گفتگو ہونے لگی۔ تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ اس کی بیوی ہی ہے، اور ان کے مابین شاید طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس خاتون کے لب و لہجے میں ایک بیوی جیسا استحقاق نمایاں تھا۔
کچھ دیر بات چیت کے بعد وہ چلی گئی اور سلیمان واپس میرے پاس آ بیٹھا۔ میں نے استفسار کیا: “یہ کون تھیں؟”
وہ سپاٹ لہجے میں بولا: “میری بیوی تھی، جو مجھ سے الگ رہتی ہے۔ چونکہ دونوں بچے اسی کی تحویل میں ہیں، اس لیے ان کی تعلیم کے کسی مسئلے پر اسے میری مدد درکار تھی، اسی سلسلے میں آئی تھی”۔
میں خود بھی مطلقہ تھی اور ایک تنہا عورت کے دکھ سے واقف تھی، اس لیے میں نے سلیمان سے مزید کوئی باز پرس نہ کی؛ کیونکہ میں جانتی تھی کہ وہ فی الوقت گھر میں اکیلا ہی رہ رہا ہے اور کوئی عورت اس کے ساتھ مقیم نہیں۔ والد صاحب ایک ہفتے بعد وطن واپس آنے والے تھے اور میں سلیمان کے ساتھ مستقبل کی تیاریوں میں مگن تھی کہ اچانک تقدیر نے میری خوشیوں کو پر لگا کر اڑا دیا۔
میں ایک دن کلینک پر دوا لینے گئی تھی اور ڈاکٹر کے انتظار میں ویٹنگ روم میں بیٹھی تھی کہ وہی خاتون آ کر میرے برابر والی خالی نشست پر بیٹھ گئی۔ میں نے پہل کرتے ہوئے اپنا تعارف کروایا کہ میں سلیمان کی پرانی ہم جماعت ہوں اور آپ کو ان کے شوروم پر دیکھا تھا۔
وہ کہنے لگی: “جی ہاں، میں کبھی کبھار ملنے چلی جاتی ہوں۔ وہ میرے شوہر ہیں، مگر میں دبئی میں ملازمت کرتی ہوں۔ ہم ایک عرصے سے الگ رہ رہے ہیں اور ہمارے تعلقات بھی کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ بچے میرے پاس ہیں، اسی لیے ایک تعلق قائم ہے۔ وہ یہاں اپنی آزاد زندگی گزار رہا ہے اور میں وہاں محنت مشقت کر کے اپنے بچے پال رہی ہوں”۔
اس کا نام نورے تھا۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ نورے ایک نہایت بااخلاق، زیرک اور مخلص مگر دکھوں کی ماری ہوئی عورت ہے۔ میرے لیے اس کے گھریلو حالات جاننا ناگزیر تھا کیونکہ میں سلیمان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جا رہی تھی اور وہ اس کے بچوں کی ماں تھی۔ یہ ایک ایسا فطری رشتہ تھا جسے مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہ تھا۔ نورے نے بتایا کہ وہ چند روز قبل ہی دبئی سے چھٹیاں گزارنے آئی ہے تاکہ بچے اپنے باپ سے مل سکیں۔ اس کی باتیں سن کر میرے دل میں اس کی قدر بڑھ گئی۔ اس نے اپنے شوہر کے بارے میں کوئی بے جا گلہ شکوہ بھی نہ کیا۔
ادھر سلیمان ایک روز مجھے اپنے گھر لے گیا، یہ کہہ کر کہ وہ اس مکان کو میری پسند اور مشورے سے سجانا چاہتا ہے۔ اس دن اس نے نورے کے بارے میں نہایت لایعنی اور واہیات باتیں کیں، جن کا واحد مقصد اس کی کردار کشی کرنا تھا تاکہ وہ میری نظروں میں گر جائے۔ اس نے مجھ پر یہ تاثر جمانے کی بھرپور کوشش کی کہ نورے ایک انتہا درجے کی خود غرض اور لالچی عورت ہے۔
تاہم، چند ہی ملاقاتوں میں مجھ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ بنیادی طور پر سلیمان کے نظریات ہی ٹیڑھے ہیں، جبکہ نورے نہایت محتاط زندگی گزار رہی ہے تاکہ اس کے شوہر کی بے راہ روی اور عیاش طبعی کا سایہ بچوں، خصوصاً بڑے بیٹے پر نہ پڑے۔ وہ بچوں کے تمام اخراجات خود برداشت کرتی تھی تاکہ ان معصوموں کے دل میں کبھی احساسِ محرومی جنم نہ لے۔ میں نے نورے کا فون نمبر حاصل کر لیا تھا اور اب ہمارے درمیان دوستانہ رابطہ قائم ہو گیا تھا۔ وہ مجھ پر اعتبار کرنے لگی تھی اور ایک روز اس نے اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔
سلیمان نے اس سے پسند کی شادی کی تھی۔ والدین کی شدید مخالفت کے باوجود نورے نے اس کا ساتھ دیا اور اپنے خاندان سے ہمیشہ کے لیے ناتا توڑ لیا۔ اس وقت سلیمان بیروزگار تھا، چنانچہ نورے نے ملازمت کر کے حالات کو سنبھالا۔ اپنی ایک متمول سہیلی کے والد کے تعاون سے وہ دبئی چلی گئی جہاں اسے ایک اچھی نوکری مل گئی۔ سلیمان بھی وہاں پہنچ گیا، مگر اس نے کوئی باقاعدہ کام کرنے کے بجائے آرام طلبی کو ترجیح دی۔ نورے ہی تن تنہا مالی بوجھ اٹھاتی رہی۔
وقت گزرنے کے ساتھ وہ دو بچوں کے والدین بن گئے۔ بچوں کی پرورش کی ذمہ داری کے باعث نورے کو ملازمت میں دشواری ہونے لگی اور اسی بات پر میاں بیوی میں ان بن رہنے لگی۔ سلیمان کی فطرت کے چھپے ہوئے رنگ اب ظاہر ہونے لگے تھے۔ بالآخر نورے کی ملازمت ختم ہو گئی اور وہ ایک بار پھر کسمپرسی کا شکار ہو گئے۔
اسی دوران سلیمان کی ملاقات ایک تاجر سے ہوئی جس نے اسے ملازمت کی پیشکش کی، مگر یہ کوئی شفاف کاروبار نہ تھا۔ اس نے سلیمان کو ایسے کام سونپے جو سراسر جرم کے زمرے میں آتے تھے۔ سلیمان نے وہ کام بخوشی قبول کر لیا جبکہ نورے اس حقیقت سے بے خبر یہی سمجھتی رہی کہ اس کے شوہر کو کسی بڑی کمپنی میں معقول ملازمت مل گئی ہے۔ ایک روز سلیمان کے ایک خیر خواہ دوست نے نورے کو مطلع کیا کہ اس کا شوہر غلط راہ پر چل نکلا ہے، اگر وہ گرفتار ہو گیا تو پورا خاندان ذلیل و خوار ہو جائے گا۔ اس نے مشورہ دیا کہ سلیمان کو روکا جائے اور بدلے میں اسے کسی اچھی جگہ ملازمت دلوانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
نورے نے جب شوہر سے اس بارے میں باز پرس کی تو اس نے الٹا نورے پر اپنے اسی دوست کے ساتھ بدچلنی کا گھناؤنا الزام لگایا اور اسے گھر سے نکال دیا۔ نورے نے دوبارہ اپنی سہیلی سے رابطہ کیا جس نے اسے ایک صاحبِ ثروت گھرانے میں بزرگوں کی دیکھ بھال کی ملازمت دلوا دی۔ اسے رہائش بھی مل گئی اور ڈیوٹی کے دوران وہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ رکھ سکتی تھی۔ ایک روز سلیمان اچانک وہاں پہنچا اور منت سماجت کر کے اسے نوکری چھوڑنے اور گھر واپس چلنے پر اصرار کیا۔ بچوں کے مستقبل کے پیشِ نظر نورے کا دل پسیج گیا اور وہ اس کے ساتھ لوٹ آئی۔
سلیمان نے واپسی پر کہا: “تیاری کرو، ہم یورپ جا رہے ہیں”۔ نورے کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ چند روز بعد سلیمان بیوی بچوں کو لے کر یونان کے دارالحکومت ایتھنز روانہ ہوا۔ نورے کو یہ سفر نہایت پراسرار لگا کیونکہ سلیمان کے مالی حالات اس پرتعیش سفر کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ایتھنز کے بعد وہ اٹلی، جرمنی اور پولینڈ کی مسافت طے کر کے وطن واپس آئے۔ اس پورے سفر میں سلیمان اکثر بیوی بچوں کو ہوٹل میں چھوڑ کر کئی کئی گھنٹوں کے لیے غائب رہتا اور پوچھنے پر یہی کہتا کہ کاروباری ملاقاتیں ہیں۔
تین سال اسی طرح کے اسفار میں گزر گئے اور نورے کے دل کا بوجھ بڑھتا رہا۔ انجام کار اس پر یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ سلیمان ہیروں کے بین الاقوامی اسمگلروں کے گروہ کا سرگرم رکن ہے۔ وہ خوفزدہ ہو گئی کیونکہ یہ گروہ پولیس کو مطلوب تھا۔ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا مگر کوئی ثبوت نہ مل سکا۔ اسی مسئلے پر میاں بیوی کے درمیان خلیج بڑھ گئی اور نورے مستقل طور پر الگ ہو گئی۔ وہ دوبارہ دبئی چلی گئی اور حلال کی کمائی سے بچوں کی پرورش کرنے لگی، جبکہ سلیمان نے یہاں جیولری کی دکان کھول لی۔ وہ اب بے تحاشہ دولت مند بن چکا تھا، مگر اپنی بیوی اور بچوں کو اخراجات کے لیے ایک پائی تک نہ دیتا تھا۔
نورے کی زبانی یہ داستان سن کر میرے ذہن کے بند دریچے کھل گئے۔ میں نے سلیمان سے شادی کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی تو ایک بار پھر اپنی حقیقت پسندی کو بیدار پایا اور اس سے معذرت کر لی۔ یہ فیصلہ میں نے کسی دباؤ میں نہیں بلکہ اپنی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا۔ تاہم ہماری واجبی سی شناسائی برقرار رہی۔
سچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ ایک روز اخبار میں یہ خبر میری نظروں سے گزری کہ سلیمان جویلر کو ہیروں کی اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مجھے دلی افسوس ہوا۔ میں نے نورے سے رابطہ کیا تو وہ دبئی میں بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ کچھ عرصہ سے سلیمان اس پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ یا تو وہ صلح کر کے واپس آ جائے یا بچے اس کے حوالے کر دے۔ مگر نورے جانتی تھی کہ یہ ناجائز دولت کسی دن اسے لے ڈوبے گی، اسی لیے اس نے تکلیفیں جھیل کر بھی اپنے بچوں کو اس کے سائے سے دور رکھا۔
میں نے اسے حوصلہ دیا۔ سلیمان چونکہ بین الاقوامی پولیس کو مطلوب تھا، اس لیے اب اس سے کسی قسم کا رابطہ کرنا ممکن نہ رہا۔ عرصہ بیت گیا، اب معلوم نہیں اس کے ساتھ کیا بیتی، وہ رہا ہوا یا نہیں، اس کی کوئی
خبر نہ مل سکی۔
(ختم شد)

