ضد کا بھیانک انجام

3 Auratien 3 Kahaniyan

آج سے پندرہ برس پہلے میرے والد صاحب گاؤں کے ایک امیر ترین شخص کے ملازم تھے اور ان کی کار چلانے پر مامور تھے۔ خان صاحب کے فوت ہو جانے کے بعد ان کی جگہ ان کا بیٹا خان بہادر سردار بنا، تو بھی والد صاحب بدستور ڈرائیوری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ چھوٹے خان ابا جان پر بہت اعتماد کرتے تھے اور انہیں ایمان دار سمجھ کر وقتاً فوقتاً مشکل وقت میں ان کی مدد بھی کرتے تھے۔ مثلاً ایک بار جب میرے بھائی کی شادی کا موقع آیا، تو خان بہادر صاحب نے میرے ابو کو دس ہزار روپے دیے تاکہ وہ شادی کے اخراجات پورے کر سکیں۔

اس کے باوجود ہمارے گھریلو اخراجات اتنے زیادہ تھے کہ ابا مالک کے ساتھ روپے پیسے کے حساب کتاب میں ہیرا پھیری کر جاتے تھے۔ ایک بار چھوٹے خان صاحب نے ابا جان کی چوری پکڑ لی اور انہیں فوراً ملازمت سے برطرف کر دیا۔ جس روز ابو ملازمت سے الگ ہوئے، وہ ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ گاؤں میں کوئی بھی ابا جان کو ملازم رکھنے کے لیے تیار نہ تھا کیونکہ ہر شخص اس واقعے سے واقف ہو چکا تھا، جب کہ ہمارا کنبہ خاصا بڑا تھا۔ دوسری طرف ہمیں کھل کر خرچ کرنے کی عادت پڑ چکی تھی، جس کی وجہ سے ہم بڑی تکلیف میں پڑ گئے۔

اسی دوران ہمارے گاؤں میں ایک آدمی سعودی عرب کے ویزے لے کر آیا، جس پر میرے بڑے بھائی نے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے لیے دس ہزار روپے کی ضرورت تھی، لیکن اتنی رقم کا بندوبست کرنا مشکل تھا۔ آخر کار بھائی اور امی جان نے اپنا سارا زیور فروخت کر کے یہ رقم پوری کی اور بھائی جان سعودی عرب چلے گئے۔ وہاں جاتے ہی انہیں ملازمت مل گئی اور وہ ہمیں معقول رقم ماہوار بھیجنے لگے۔ بعد ازاں انہوں نے باقی سب بھائیوں کو بھی وہیں بلوا لیا۔ اب ہمارے گھر ہر ماہ ہزاروں روپے آسانی سے آنے لگے تھے۔

سچ ہے کہ خدائے تعالیٰ جب دن پھیرنا چاہے تو دیر نہیں لگتی۔ وہی گاؤں والے جو کبھی غربت کی وجہ سے ابا جان کو ناپسند کرتے تھے، اب انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے لگے۔ ہمیں کار، اچھا مکان اور تمام گھریلو آسائشیں میسر آ گئیں اور ہمارا گھرانہ علاقے کے معزز گھرانوں میں شمار ہونے لگا۔ ہمارے گاؤں میں ایک چوہدری صاحب بھی رہتے تھے جو خاصے خوشحال زمیندار تھے۔ ان کی بیوی کا ہمارے گھر آنا جانا شروع ہوا اور وہ ہم سے بہت محبت سے ملتیں۔ رفتہ رفتہ میل جول بڑھا تو ان کے آنے کا اصل مقصد واضح ہوا۔ ان کی ایک جوان بیٹی تھی جس کا رشتہ وہ ہمارے منجھلے بھائی شمشاد خان سے کرنا چاہتی تھیں۔

باتوں باتوں میں چوہدری صاحب کی بیوی نے یہاں تک بتا دیا کہ شمشاد اور جمیلہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ امی نے جب ابا جان سے ذکر کیا تو انہوں نے شمشاد بھائی کو خط لکھا اور ان کی رضا مندی ملنے پر رشتہ طے پا گیا۔ اس کے بعد میرا اپنی ہونے والی بھابھی جمیلہ کے گھر آنا جانا شروع ہو گیا۔ جمیلہ مجھ سے بہت پیار سے ملتی اور بہانے بہانے سے شمشاد بھائی کا تذکرہ کرتی۔ وہ اپنی اور بھائی کی ملاقاتوں کا حال اس انداز میں سناتی کہ مجھے ان باتوں میں بڑا لطف آتا اور میرے دل میں بھی کسی سے محبت کرنے کی آرزو جاگنے لگی۔

ان دنوں میری عمر محض چودہ سال تھی۔ ہمارے ہاں لڑکیاں چشموں سے پانی بھر کر لایا کرتی تھیں، چنانچہ میں بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ جاتی تھی۔ ایک دن جب میں پانی بھرنے گئی تو اتفاق سے چشمے پر اکیلی رہ گئی۔ وہاں مجھے گاؤں کا ایک خوبرو لڑکا فیروز ملا جو ان دنوں فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا۔ میں پانی سے بھرا ہوا گھڑا اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ قریب آیا اور گھڑا اٹھا کر میرے سر پر رکھ دیا۔ بس یہیں سے ہماری شناسائی کا آغاز ہوا، لیکن نہ میں نے اس سے کوئی بات کی اور نہ اس نے مجھ سے کچھ کہا۔ البتہ گھر جا کر اس نے اپنی ماں کو میرا نام بتا دیا کہ وہ شادی کرے گا تو اسی لڑکی سے۔

اس کی ماں ان دنوں اس کے لیے رشتہ تلاش کر رہی تھی، چنانچہ وہ ہمارے گھر رشتہ لے کر آ گئی۔ اس نے آتے ہی مجھے پیار سے گلے لگا لیا۔ یہ لوگ بھی گاؤں کے کھاتے پیتے گھرانوں میں شمار ہوتے تھے۔ فیروز کے والد سے میرے ابا جان کے اچھے مراسم تھے اور ابا کو ان کی شرافت بھی پسند تھی، لہٰذا انہوں نے یہ رشتہ منظور کر لیا اور میری منگنی فیروز سے ہو گئی۔ منگنی ہوتے ہی میرا گھر سے نکلنا بند ہو گیا اور فیروز سے پردہ کروا دیا گیا، یہاں تک کہ میں اس کی صورت دیکھنے کو ترسنے لگی۔ فیروز ایف ایس سی کے بعد پشاور میڈیکل کالج چلا گیا اور اسی دوران ہم لوگ لاہور منتقل ہو گئے۔

لاہور آ کر ابا جان نے ایک دکان خرید لی اور تھوک (Wholesale) کا کاروبار شروع کر دیا۔ اللہ کے فضل سے دکان خوب چلنے لگی تو ابا جان کو ملازموں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انہوں نے ایک ایسا ملازم رکھ لیا جو شکل و صورت سے نہایت مسکین اور شریف نظر آتا تھا۔ اس کا برتاؤ ایسا تھا کہ پہلی نظر میں ہی اس پر اعتبار آ جاتا تھا۔ ابا جان نے بھی اس پر بھروسہ کر لیا، چنانچہ وہ دکان کے ساتھ ساتھ گھر کے اہم کام بھی سرانجام دینے لگا۔

اس لڑکے کا نام ارشد تھا۔ وہ ابا جان کا ہاتھ بٹاتا اور گھر کے لیے سودا سلف بھی لا دیتا تھا۔ وہ وضع قطع میں صاف ستھرا، محنتی اور کچھ پڑھا لکھا بھی تھا۔ ان خوبیوں کی بنا پر ابو نے گھر اور دکان کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کر دیں۔ اس نے بھی کبھی کوئی غلط حرکت نہ کی اور ہمیشہ اپنے کام سے غرض رکھی۔ ان دنوں ہماری آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا؛ ایک طرف دکان کا منافع تھا اور دوسری طرف تینوں بھائی سعودی عرب سے خطیر رقم بھیج رہے تھے۔ دولت کی ریل پیل کے ساتھ گھر میں تھوڑی آزاد خیالی بھی آ گئی تھی، جیسا کہ عام طور پر خوشحال گھرانوں میں ہوتا ہے کہ پیسہ آتے ہی بچوں کو آزادی مل جاتی ہے اور والدین ان کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک بار مجھے اپنی سہیلی کی سالگرہ کے لیے تحفہ خریدنا تھا۔ میں نے ابا جان سے کہا تو وہ بولے: “آج مجھے وقت نہیں ہے، جمعہ کو لے چلوں گا۔” میں نے اصرار کیا: “ابا جان! سہیلی کی سالگرہ تو جمعرات کو ہے اور آج بدھ ہے۔ جمعرات کو ویسے بھی بازار بند ہوتے ہیں۔” ابا جان نے کہا: “اچھا، میں ارشد کو دکان سے بھیج دیتا ہوں، تم اس کے ساتھ جا کر لے آؤ۔” ارشد پر ابو کو مکمل اعتماد تھا، اس لیے گاڑی کی چابی اس کے حوالے کر کے اسے گھر بھیج دیا۔ میں اس کے ساتھ تحفہ خریدنے انارکلی چلی گئی۔ وہاں سے سہیلی کا تحفہ اور کچھ چھوٹی موٹی شاپنگ کرنے کے بعد ہم واپس آ رہے تھے کہ راستے میں ایک بک اسٹال دیکھ کر ارشد نے گاڑی روکی اور نیچے اتر گیا۔ جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک رسالہ تھا۔

میں نے تجسس سے پوچھا: “یہ کون سا رسالہ ہے؟ ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔” اس نے جواب دیا: “رسالہ تو بہت اچھا ہے، مگر آپ کے دیکھنے کا نہیں ہے۔” یہ کہہ کر اس نے رسالہ اپنی سیٹ کے نیچے چھپا دیا۔ میں مالک کی بیٹی تھی اور وہ ایک ملازم؛ اس کے اس ٹکے سے جواب پر مجھے سخت حیرت ہوئی اور اس قدر سبکی محسوس ہوئی کہ بیان نہیں کر سکتی۔ گھر آ کر میں سارا دن اسی الجھن میں مبتلا رہی۔ ارشد گاڑی گیراج میں کھڑی کر کے واپس دکان چلا گیا تھا۔ ابو نے اسے جو سرونٹ کوارٹر دیا تھا، وہ ہماری کوٹھی کی چار دیواری کے اندر ہی تھا۔ میں آسانی سے وہاں جا سکتی تھی، لیکن نہ جانے اس نے رسالہ کہاں چھپایا تھا۔ سوچا کہ اگر اس نے بکسے کو تالا لگا دیا ہوگا تو میرا وہاں جانا بے کار جائے گا۔

شام کو وہ دکان سے کچھ سامان لے کر آیا اور مجھے چڑا ہوا دیکھ کر دبی آواز میں بولا: “میرے کوارٹر میں آ جائیے گا، وہاں رسالہ دکھا دوں گا، لیکن یہاں گھر میں سب کے سامنے آپ کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا۔” رات کو سب گھر والے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور میں اندر ہی اندر سلگ رہی تھی۔ مجھے ارشد پر سخت غصہ آ رہا تھا اور جی چاہتا تھا کہ رسالہ پھاڑ کر اس کے منہ پر دے ماروں۔ بارہ بجے کے قریب جب سب سو گئے اور گھر کی بتیاں گل ہو گئیں، تو میرا کمرہ جو اوپر کی منزل پر تھا، وہاں صرف میری کھڑکی سے روشنی چھن رہی تھی یا پھر نیچے کوارٹر میں ارشد جاگ رہا تھا۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو اسے جاگتا پا کر میرا تن من جل اٹھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اپنے کمرے کی بتی بجھائی اور دبے قدموں اس کے کوارٹر کی طرف چل دی۔
وہ واقعی جاگ رہا تھا اور بستر پر نیم دراز رسالہ دیکھ رہا تھا۔ مجھے اچانک سامنے دیکھ کر اس نے رسالہ تکیے کے نیچے چھپا دیا اور کہنے لگا: “واقعی! کیا آپ کو رسالہ دیکھنے کا اتنا شوق ہے؟ آپ بازار سے خرید کیوں نہیں لیتیں؟” میں نے تڑخ کر جواب دیا: “میں خرید تو سکتی ہوں، مگر پہلے دیکھوں تو سہی کہ اس میں ہے کیا؟ مجھے تمہاری حرکت پر غصہ تھا کہ تم نے ایک معمولی سا رسالہ مجھے دکھانے سے انکار کیا۔ میں صرف یہ دیکھنے آئی ہوں کہ تم مجھے رسالہ کیسے نہیں دیتے۔” وہ مسکرا کر بولا: “اوہو! تو آپ نے میرے انکار کو چیلنج بنا لیا ہے؟ اگر میں اب بھی دینے سے انکار کر دوں تو؟” میں نے بھنا کر کہا: “تو میں ابو سے تمہاری شکایت کروں گی!” وہ پرسکون لہجے میں بولا: “یقیناً آپ شکایت نہیں کریں گی، کیونکہ میں نے کوئی قصور نہیں کیا اور جہاں تک رسالے کا تعلق ہے، میں اسے آپ کے کمرے میں لے جانے کے لیے نہیں دے سکتا۔ ہاں، اگر شوق ہے تو یہیں بیٹھ کر دیکھ لیجیے۔” میں نے ضد میں آ کر تکیہ اٹھا کر دور پھینک دیا اور رسالہ اس کے ہاتھ سے جھپٹ لیا۔

میری اس اچانک حرکت پر ارشد نے فوراً کوارٹر کا دروازہ بند کر دیا۔ اب میں وہاں بیٹھنے پر مجبور ہو گئی؛ میں اس کی چارپائی پر بیٹھ گئی اور رسالے کی ورق گردانی شروع کر دی۔ جوں جوں میں صفحات الٹتی جا رہی تھی، میرا حلق خشک اور رنگ فق ہوتا جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے ہاتھ پاؤں کی جان نکل گئی ہو۔ وہ رسالہ واقعی اچھا نہیں تھا اور نہ ہی میرے دیکھنے کے قابل تھا۔ ارشد ٹھیک کہہ رہا تھا۔

میری حالت غیر دیکھ کر اس کی ہمت بڑھ گئی اور وہ میرے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ کہنے لگا: “دیکھ لو! تم ناحق ناراض ہو رہی تھیں۔ یہ دیکھو، میرے پاس اور بھی رسالے ہیں، میں تمہیں سب دکھا دیتا ہوں۔ اب تو میری شکایت نہیں کرو گی نا؟” اس کے بعد جو کچھ ہوا، میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کر پاؤں گی، لیکن ارشد کی چال کامیاب ہو چکی تھی۔ اس نے میری ضدی طبیعت کو بھانپ لیا تھا اور میری معصومیت کا فائدہ اٹھایا۔ اس وقت میں حالات کی رو میں بہہ کر احتجاج کے تمام طریقے بھول گئی۔ مجھے اعتراف ہے کہ یہ سب اس منحوس رسالے کی وجہ سے ہوا۔ مجھے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی دولت اس کی بھینٹ چڑھانی پڑی۔ کاش! میں اس وقت اس رسالے کے پیچھے ارشد کے بچھائے ہوئے جال میں نہ آتی، تو یوں برباد نہ ہوتی۔
کچھ عرصے بعد میری شادی فیروز سے ہو گئی۔ شکر ہے کہ مجھے ایک اچھا اور چاہنے والا شوہر ملا جس نے کبھی مجھے پیار کی کمی محسوس نہیں ہونے دی، لیکن ایک دلی کرب مجھے آج بھی بے چین رکھتا ہے کہ ابا جان کے گھر ارشد اب بھی موجود ہے اور اسے پہلے کی طرح قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ وہ وہاں گھر کے ایک فرد کی طرح رہتا ہے۔ میری چھوٹی بہنیں اور بھابھیاں ہیں اور وہ ایک عیار و چالاک انسان ہے۔ گھر کی خواتین ارشد کے کاموں کی بڑھ چڑھ کر تعریفیں کرتی ہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ اگر اس نمک حرام ملازم نے دوبارہ ہماری عزت کو ڈسنے کی کوشش کی تو کیا ہوگا؟ میرے بھائی سعودی عرب میں اپنے گھر بار کی عزت کو محفوظ خیال کرتے ہوں گے۔ میں ارشد کی شکایت بھی نہیں کر سکتی کہ کہیں وہ میرے شوہر کو اس واقعے سے آگاہ نہ کر دے۔ خدا ایسے ذلیل ملازموں سے ہر شریف گھرانے کو محفوظ رکھے، لیکن اس میں میرا بھی قصور ہے۔ جب وہ مجھے رسالہ نہیں دکھانا چاہتا تھا تو میں نے کیوں ضد کی؟ کاش! میں اس کی بات مان لیتی۔
 
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ