میں سہ پہر کو کچن سمیٹ کر ابھی اپنے کمرے میں آئی ہی تھی کہ جسم جیسے بوجھل ہو کر رہ گیا۔ دن بھر کی تھکن ہڈیوں میں اتر چکی تھی۔ میں نے دوپٹے کو ڈھیلا کرتے ہوئے بستر پر لیٹ کر کمر سیدھی کرنے کی کوشش کی ہی تھی کہ اچانک دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ ایک لمحے کو دل چاہا کہ نظر انداز کر دوں، مگر اگلے ہی لمحے دوبارہ بیل بجی، اس بار پہلے سے زیادہ بے صبری کے ساتھ۔ میں نے گہرا سانس لیا اور بے دلی سے اٹھ کر گیٹ کی طرف بڑھنے لگی۔ قدم جیسے خود بخود گھسیٹتے جا رہے تھے اور ذہن میں یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ آخر یہ بھی کوئی وقت ہے آنے کا؟ گھر عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ جز وقتی ملازمہ اپنا کام نمٹا کر جا چکی تھی، اور بچیاں بھی اپنے کمروں میں آرام کر رہی تھیں۔ اس سنسانی میں وہ گھنٹی کسی اجنبی مداخلت کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔
میں ابھی گیٹ تک پہنچی ہی تھی کہ ایک بار پھر بیل بجی۔ اس بار میں نے قدرے جھنجھلاہٹ کے ساتھ پوچھا، “کون ہے؟”
“میں ہوں… دروازہ کھولو،” دوسری طرف سے ایک مانوس آواز آئی، ایسی آواز جسے وقت کی دھول بھی ماند نہ کر سکی تھی۔
“افتخار…” نام میرے لبوں سے بے اختیار پھسلا، جیسے کسی نے دل کے کسی بہت پرانے دروازے پر دستک دی ہو۔
چند لمحوں کے لیے میں وہیں ساکت کھڑی رہ گئی۔ نہ قدم اٹھ رہے تھے، نہ سانس ٹھیک سے آ رہی تھی۔ ایسا لگا جیسے وقت اچانک پیچھے کی طرف پلٹ گیا ہو اور میں پھر اسی دور میں جا پہنچی ہوں جہاں سب کچھ ادھورا رہ گیا تھا۔ پھر جیسے کسی انجانی قوت نے مجھے حرکت دی، میں نے کانپتے ہاتھوں سے گیٹ کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی وہ میرے سامنے تھا—وقت نے اس کے چہرے پر اپنی نشانیاں ضرور چھوڑ دی تھیں، مگر آنکھیں اب بھی ویسی ہی تھیں، گہری اور پرانی یادوں سے بھری ہوئی۔
ہم دونوں چند لمحوں تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، جیسے الفاظ کہیں کھو گئے ہوں۔ پھر میں خاموشی سے ایک طرف ہٹ گئی اور اسے اندر آنے کا راستہ دے دیا۔ وہ آہستہ قدموں سے اندر آیا اور میں اسے ڈرائنگ روم تک لے آئی۔ میں نے صوفے کی طرف اشارہ کیا تو وہ ایک گہرا سانس لے کر بیٹھ گیا، جیسے لمبے سفر کے بعد کسی منزل پر پہنچا ہو۔
کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی، بوجھل اور سوالوں سے بھری ہوئی۔ آخرکار میں نے ہی ہمت کر کے خاموشی توڑی، “پچیس برس بعد کیسے مجھے یاد کیا؟ کیسے آنا ہوا؟” میری آواز میں نہ جانے کتنے جذبات چھپے ہوئے تھے۔ حیرت، الجھن، اور کہیں نہ کہیں ایک دبی ہوئی شکایت بھی۔
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر دھیرے سے بولا، “میں ملک سے باہر تھا… جب واپس آیا تو پتا چلا کہ تمہارے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔ بہت افسوس ہوا…” اس نے ایک لمحے کو میری طرف دیکھا، جیسے میرے تاثرات پڑھنا چاہتا ہو۔ “اسی لیے تعزیت کے لیے چلا آیا… کیا تمہیں میرا یہاں آنا برا لگا ہے؟”
میں خاموش بیٹھی اس کی باتیں سنتی رہی۔ اس نے عارف مرحوم کے بارے میں چند رسمی جملے ادا کیے، مگر میرے لیے ہر لفظ جیسے کسی اور ہی کہانی کا دروازہ کھول رہا تھا۔ میں نے سر جھکا لیا۔ نہ میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب تھا، نہ ہی مزید کچھ پوچھنے کی ہمت۔ کمرے کی فضا مزید بوجھل ہو گئی تھی، جیسے ماضی اور حال ایک ہی لمحے میں آمنے سامنے کھڑے ہوں… اور میں ان کے بیچ کہیں کھو گئی ہوں۔
تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ “ٹھیک ہے… تمہارا غم سمجھتا ہوں۔ میں پھر آؤں گا۔” وہ چلا گیا۔ میں اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی، جیسے تپتی دھوپ میں کوئی سایہ لمحہ بھر کو نظر آیا ہو اور پھر اوجھل ہو گیا ہو۔ جیسے ساون کی دھوپ میں اچانک چلتا ہوا بادل… اور چلتے ہوئے بادلوں کو بھلا کوئی روک سکتا ہے؟ افتخار کے جانے کے بعد بھی کافی دیر تک میں وہیں بیٹھی رہی۔ مجھے یہ ہوش بھی نہ رہا کہ گیٹ کھلا ہے اور مجھے اسے بند کرنا ہے۔ کئی دن گزر جانے کے بعد بھی میں کھوئی کھوئی سی رہی۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ افتخار نے مجھے اب تک نہیں بھلایا۔
ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی تقدیر ہمیں جدا کر دے گی۔ میں دادی جان کی چہیتی پوتی تھی اور وہ ان کا لاڈلا نواسہ۔ میرے تایا ابو کا بیٹا، وہ تایا جو مجھے اپنی سگی بیٹیوں جیسا پیار کرتے تھے اور مجھے اپنی بہو بنانا چاہتے تھے۔ میں ان کا ارادہ جانتی تھی اور اس بات پر دادی سب سے زیادہ خوش تھیں۔ ہم دونوں اکثر دادی کے گھر ہوتے اور ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ تائی کہتیں، “گھر کی لڑکی، گھر کا لڑکا… دونوں ماں باپ کے سامنے رہیں گے تو نین سُکھ اور کلیجے کو ٹھنڈک رہے گی۔”
تایا ابو کی مال روڈ پر گھڑیوں کی دکان تھی، جہاں شام کو افتخار بیٹھتا اور تایا آرام کرنے گھر آ جاتے تھے۔ یہ اس دن کی بات ہے جب میں اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ مال روڈ پر خریداری کرنے گئی تھی۔ سامنے تایا ابو کی دکان تھی۔ افتخار نے ہمیں گزرتے دیکھا تو ہماری طرف آ گیا اور کہنے لگا، “دوپہر کی اس گرمی میں بازار میں چہل قدمی کی کیا سوجھی ہے؟ دکان میں آ جاؤ، کچھ ٹھنڈا پانی ہی پی لو۔” ہمیں بھی پیاس لگی تھی، چنانچہ ہم دکان میں چلے گئے۔ اتنے میں فائزہ کو یاد آیا کہ اس نے سامنے والی دکان سے جو خریداری کی تھی، وہاں اپنا شاپنگ بیگ بھول آئی ہے۔ وہ بولی، “باجی، آپ یہاں بیٹھیے، میں سامنے سے بیگ لے آؤں۔” یہ کہہ کر وہ دکان سے نکل گئی اور تیز قدموں سے سڑک پار کر گئی۔
افتخار شاید یہی چاہ رہا تھا کہ ہمیں چند لمحوں کی تنہائی میسر آئے تو دو باتیں کر لیں۔ اس نے اسی خیال سے اٹھ کر دکان کا بیرونی دروازہ بند کر کے لاک کر دیا تاکہ ان لمحات میں کوئی مخل نہ ہو، اور دروازے کے باہر ‘نماز کا وقفہ’ والا بورڈ بھی آویزاں کر دیا۔ میں اور افتخار ابھی بات شروع بھی نہ کر پائے تھے کہ تایا ابو کی گاڑی دروازے پر رکی۔ وہ اتر کر دکان کی طرف آئے مگر دروازہ مقفل تھا۔ دروازے کے شیشے گہرے رنگ کے تھے، اس لیے اندر سے ہم انہیں دیکھ نہ سکے۔ انہوں نے صورتحال بھانپ لی۔ ہم سمجھے کہ فائزہ واپس آ گئی ہے، لیکن دروازے پر تو تایا ابو کھڑے تھے۔ ان کی اچانک آمد پر ہم بری طرح گھبرا گئے۔
لاک کھولا تو وہ اندر آ گئے۔ مجھے وہاں بیٹھے دیکھا تو ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ کہنے لگے، “بیٹی! کیا گھر میں بیٹھ کر تم دونوں باتیں نہیں کر سکتے تھے جو تم افتخار سے ملنے دکان پر آ گئی ہو؟ یہ کوئی مناسب جگہ نہیں ہے۔” پھر افتخار سے مخاطب ہوئے، “تم نے دکان کا دروازہ اندر سے کیوں لاک کر دیا تھا؟” باپ کے استفسار پر وہ پریشان ہو گیا اور اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ میں بھی تایا جان کو دیکھ کر ششدہ رہ گئی تھی کیونکہ اس وقت فائزہ بھی موجود نہ تھی۔ اس سے قبل کہ میں کچھ وضاحت کرتی، وہ بولے، “چلو، باہر میری گاڑی میں بیٹھو، اور جو بات کرنی ہے گھر جا کر کر لینا۔ خبردار! آئندہ یہاں دکان پر آ کر ملاقات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
ہم تایا ابو کا بے حد احترام کرتے تھے اور اس وقت میں لحاظ کے مارے مری جا رہی تھی۔ وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے؟ شرم کے مارے جی چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ کاش میں بھی فائزہ کے ساتھ ہی دکان سے نکل جاتی۔ کیا خبر تھی کہ اچانک تایا ابو آ جائیں گے۔ بہرحال، تبھی فائزہ بھی آ گئی اور وہ ہم دونوں کو گھر لے آئے۔ تمام راستہ وہ خاموشی سے گاڑی چلاتے رہے۔ انہوں نے کوئی بات نہ کی اور نہ ہی ہم بہنوں کی زبان سے کوئی لفظ نکلا۔
شاید بات آئی گئی ہو جاتی، لیکن جب گھر پہنچنے پر تایا ابو نے بیٹے سے دوبارہ پوچھا تو افتخار نے کہہ دیا، “جی، وہ مجھے چاہتی ہے اور میں بھی اسے، اور ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔” افتخار نے جرأت کر کے یہ بات اس لیے کہی تھی تاکہ اپنا عندیہ واضح کر دے اور تایا ابو انکار نہ کر سکیں۔ اگلے روز شام کو جب چچا ابو اور تایا ابو دادی کے کمرے میں اکٹھے ہوئے (کیونکہ چھٹی والے دن چاروں بیٹے اپنی والدہ کے پاس جمع ہوتے اور رات کا کھانا وہیں کھاتے تھے)، تو اس روز خاندان کی تمام خواتین کو بھی وہاں بلوا لیا گیا۔ پھر تایا نے مجھے بھی بلوایا۔
تایا ابو نے اپنی بارعب آواز میں پوچھا، “رابعہ بیٹی، کیا یہ سچ ہے کہ تم افتخار کو پسند کرتی ہو اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہو؟ یہ بات مجھے افتخار نے بتائی ہے، لیکن میں ان سب کے سامنے تمہاری مرضی تمہارے اپنے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔” خاندان کے بزرگوں کے روبرو اپنی محبت کا اعتراف میرے لیے کسی کڑی آزمائش سے کم نہ تھا۔ مجھے شدید ذلت اور سبکی محسوس ہوئی۔ بھلا کون سی بیٹی اپنے ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے سامنے ایسے سوال کا جواب دے سکتی ہے؟ مجھے سمجھ نہ آیا کہ میری سرزنش کی جا رہی ہے یا مرضی معلوم کی جا رہی ہے۔ اگر مرضی ہی پوچھنی تھی تو امی یا تائی کے ذریعے بھی پوچھی جا سکتی تھی۔ آخر بھتیجی سے اس طرح پوچھنے کا یہ کون سا طریقہ تھا؟ تایا سے زیادہ مجھے افتخار پر غصہ آ رہا تھا کہ اس نے اپنے والد سے ایسی بات کیوں کہی جو اسے زیب نہیں دیتی تھی، اور یوں مجھے سب کی نظروں میں گرا دیا تھا۔
محبت اپنی جگہ، لیکن ذلت کے احساس اور غصے نے میرے حواس مختل کر دیے۔ تبھی میں نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہہ دیا، “جس نے بھی یہ کہا ہے کہ میں افتخار سے دکان پر ملنے گئی تھی، بالکل غلط کہا ہے۔ مجھ پر الزام لگایا گیا ہے۔” میں تایا ابو سے اس قدر خوفزدہ ہو گئی کہ صاف انکار کر دیا کہ نہ میں افتخار کو پسند کرتی ہوں اور نہ میں نے کبھی اس سے شادی کا کہا ہے۔ “ہم خریداری کرنے گئے تھے، دھوپ تیز تھی تو دکان میں چلے گئے تھے۔ نہ میری کوئی پسند ہے اور نہ ہی ملنا میرا مقصد تھا۔ میرا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے، یہ فیصلے تو بزرگوں کے کرنے کے ہوتے ہیں۔” یہ کہہ کر میں کمرے سے نکل گئی اور اپنے کمرے میں آ کر خوب پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ مجھے ہرگز امید نہ تھی کہ افتخار اس طرح بلا جھجھک اپنے والد سے میرے بارے میں ایسی بات کرے گا۔
جب دادی، پھوپھو اور تائی مجھ سے بات کرنے آئیں تو میرا دل جل رہا تھا۔ میں نے ان سے بھی کہہ دیا کہ اس موضوع پر اب مجھ سے کوئی بات نہ کرے اور مجھے افتخار سے شادی نہیں کرنی۔ “میں دکان پر نہیں گئی تھی، یہ تایا ابو کا سراسر بہتان ہے۔” غصے میں انسان بغیر سوچے سمجھے بول جاتا ہے، مگر تایا کو میری یہ بات بہت بری لگی۔ انہوں نے میرے ابو سے کہا، “تمہاری بیٹی نے میری بیوی سے کہا ہے کہ میں نے اس پر بہتان لگایا ہے، حالانکہ میں نے خود اسے دکان میں دیکھا تھا۔ جس بچی کو میں بیٹیوں کی طرح سمجھتا ہوں، وہ مجھے جھوٹا کہہ رہی ہے۔ وہ افتخار سے شادی پر بھی راضی نہیں ہے۔ میں نے اس بات کا برا منایا ہے۔ ہماری لڑکیوں کا دکان پر آنا جانا ویسے بھی نامناسب ہے۔ میرا مقصد اسے شرمندہ کرنا ہرگز نہ تھا، میں تو اسی کو بہو بنانا چاہتا تھا، مگر رابعہ نے میری نیت کو غلط سمجھا ہے۔”
وہ اپنے طرزِ عمل پر رنجیدہ تھے، کیونکہ سب کے سامنے سرزنش کرنا واقعی غلط طریقہ تھا۔ بہرحال، تائی کو موقع مل گیا کہ وہ میرا راستہ صاف کر دیں۔ پہلے وہ شوہر اور ساس کے فیصلے کے آگے خاموش تھیں، لیکن اب بولنے لگی تھیں۔ جب افتخار کو معلوم ہوا کہ رابعہ نے بزرگوں کے سامنے انکار کر دیا ہے، تو وہ غصے میں گھر سے چلا گیا اور کچھ دن اپنے ماموں کے پاس رہا۔ پھر وہ اسے دبئی اپنے بیٹے کے پاس لے گئے اور وہاں سے وہ امریکہ نکل گیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا۔ اس کے جانے کے بعد میری زندگی اجاڑ جنگل جیسی ہو گئی۔
ایک سال بعد عارف صاحب کا رشتہ آیا۔ سب نے اسے پسند کر لیا اور میری مرضی پوچھنے کی زحمت بھی نہ کی گئی۔ ویسے بھی یہ سب میرا ہی کیا دھرا تھا۔ نکاح کے وقت میرے آنسو تھمتے نہ تھے۔ دل اس قدر غمزدہ تھا کہ پھٹا جا رہا تھا۔ میں سوچتی تھی کہ یہ سب تو میرے اپنے تھے، پھر میں نے کیوں غصہ کیا اور کیوں جرأت سے کام نہ لیا؟ واقعی میں بے وقوف اور بزدل تھی، جس نے اپنی جنت کو خود ٹھوکر مار دی تھی۔
شادی کے ابتدائی دنوں میں سسرال میں اپنا غم چھپانا مشکل ہو گیا تھا۔ عورتیں کہتیں، “دلہنوں کو رخصتی کا غم تو ہوتا ہے، مگر اتنا روتے ہوئے ہم نے دورِ حاضر میں کسی کو نہیں دیکھا۔” میں اپنے دل کا حال کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی، مگر چہرہ تو دل کا آئینہ ہوتا ہے۔ مجھ سے محبت کرنے والے میرے دکھ سے بے خبر نہ تھے، سبھی جانتے تھے کہ میں اپنے گھر میں خوش نہیں ہوں۔
کہتے ہیں وقت ہر زخم کا مرہم ہے، چنانچہ مجھے بھی اپنے شوہر اور ان کے گھر کو اپنانے میں وقت لگا۔ اللہ نے تین بیٹیوں سے نوازا تو رفتہ رفتہ اولاد کی محبت میں ماضی کا غم دھندلا گیا۔ وقت گزرتا رہا۔ عارف کی رفاقت میں زندگی جوں توں، کبھی خوش تو کبھی ناخوش گزر ہی گئی۔ بچیاں جوان ہو گئیں اور ایک دن وہ، جنہیں تقدیر نے میرا جیون ساتھی بنایا تھا، ہمیں تنہا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
پچیس سال کا عرصہ بہت طویل ہوتا ہے۔ اس دوران میرے والدین، دادی، ساس، سسر، سبھی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اب صرف عارف ہی میرے اپنے تھے۔ انہوں نے زندگی میں مجھے کوئی دکھ نہ دیا اور میرا ہر طرح سے خیال رکھا، تاہم وہ ایک سفید پوش انسان تھے۔ رزقِ حلال کماتے تھے، اس لیے اپنی زندگی میں صرف ایک گھر بنا پائے جو اب ہمارا واحد سہارا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کوئی اثاثہ نہ چھوڑا تھا۔ ہمارا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ بیٹیوں کی پرورش اور تعلیم ہم دونوں نے بہت اچھے طریقے سے کی۔ بڑی بیٹی رمشا بیس سال کی تھی اور بی اے کر چکی تھی، منجھلی ایف اے میں تھی جبکہ تیسری بیٹی میٹرک میں تھی جب عارف وفات پا گئے۔
ان کی پنشن آتی تھی اور ہم نے گھر کا پچھلا حصہ کرائے پر دے رکھا تھا، جس سے کھینچ تان کر گزارہ ہو رہا تھا۔ میرے مرحوم شوہر بیٹیوں کی ملازمت کے خلاف تھے، اس لیے میں نے بھی انہیں کام کرنے نہ دیا۔ میری خواہش تھی کہ وقت پر ان کے ہاتھ پیلے ہو جائیں، لیکن آج کے دور میں اچھے رشتے ملنا بہت مشکل ہے۔ میں اسی فکر میں گھل رہی تھی کہ افتخار میرے سوئے ہوئے ماضی کو جگانے آ گیا۔
اس وقت بچیاں اپنے کمروں میں تھیں۔ انہوں نے اسے دیکھا نہ ہی انہیں اس کی آمد کا علم ہوا۔ میں نے دعا کی کہ افتخار دوبارہ نہ آئے، کیونکہ اس کا آنا اب میرے لیے باعثِ پریشانی بن سکتا تھا۔ میں جوان بیٹیوں کے سامنے اپنا ماضی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی تاکہ ان کے ذہنوں میں اپنی ماں کا جو پاکیزہ عکس ہے اسے ٹھیس نہ پہنچے۔
افتخار کو میری بیوگی کا سن کر دلی دکھ ہوا تھا۔ چند ہی دن بعد وہ پھر آ گیا۔ میں نے ملازمہ سے مہمان کو ڈرائنگ روم میں بٹھانے اور چائے لانے کو کہا۔ “چائے پیو افتخار، پچھلی بار بھی تم کچھ کھائے پئے بغیر چلے گئے تھے۔”
“میں تم سے ایک اہم بات کرنے آیا ہوں، اس کے بعد ہی میں واپس امریکہ جانے کا فیصلہ کروں گا۔ برا مت ماننا، ہم دونوں کم عمری اور ناسمجھی کی وجہ سے جدا ہوئے، حالانکہ والد صاحب کو اس کا شدید قلق رہا۔ ان سے غلطی ہوئی کہ سب کے سامنے تم سے باز پرس کی، اور مجھ سے یہ خطا ہوئی کہ بجائے سچ کہنے کے میں نے کچھ غلط بیانی کر دی۔ وہ وقت تو اب واپس نہیں آ سکتا، لیکن اس کی تلافی ممکن ہے۔ شاید تم نہیں جانتیں، میں نے اب تک شادی اس لیے نہیں کی کہ دل نے کسی اور کو قبول ہی نہ کیا۔ اب جب کہ میں تمہارے حالات جانتا ہوں، اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ تم پر تین بیٹیوں کی ذمہ داری ہے جن کا کوئی سہارا نہیں۔ التجا ہے کہ زندگی کو مزید دکھوں میں مت دھکیلو۔ میں اب تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔ ہم اب بھی ایک ہو سکتے ہیں اور مل کر یہ بوجھ بانٹ سکتے ہیں۔ تمہاری بچیوں کو بھی ایک حقیقی سرپرست کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی بات کہہ دی، اب فیصلہ تمہارا ہے۔”
ایک لمحے کو تو میں اس کی باتیں سن کر شش و پنج میں پڑ گئی۔ “افتخار! یہ کیسے ممکن ہے؟ میری بچیاں جوان ہیں، وہ اس عمر میں کسی دوسرے شخص کو بطورِ باپ کبھی قبول نہیں کریں گی۔ میں ان کی نظروں میں اپنا بھرم اور ان کی محبت دونوں کھو دوں گی۔”
“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ تم اس دنیا میں اکیلی ہو۔ میں نے عمر بھر کمایا ہے، اب یہ دولت میرے کس کام کی؟ میں تمہاری بیٹیوں کے لیے اچھے رشتے تلاش کروں گا اور انہیں عزت سے رخصت کریں گے۔ رابعہ! خدا کے لیے میری بات مان لو۔ تم نے بہت تنگی کاٹی ہے، اب ایک آسودہ زندگی گزارو تاکہ بڑھاپے میں کسی کی محتاج نہ رہو۔”
افتخار نے ہر ممکن طریقے سے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی۔ وہ کوئی اجنبی نہیں، میرا تایا زاد تھا۔ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ خلوصِ دل سے یہ سب کہہ رہا تھا اور میری بیوگی کا دکھ اسے بے چین کر رہا تھا۔ اس کی بہت منت سماجت پر میں نے کہا، “افتخار! جوان بیٹیوں کی موجودگی میں اس عمر میں دوسری شادی کا فیصلہ میرے لیے بہت مشکل ہے۔ اصرار نہ کرو کہ میں مزید پریشان ہو جاؤں۔ میں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچوں گی لیکن ابھی کوئی وعدہ نہیں کر سکتی۔”
میں ایک بار پھر جواب لینے آؤں گا۔ امید ہے تم حقیقت پسندی سے کام لو گی اور تمہارا جواب ‘ہاں’ میں ہی ہوگا۔” افتخار یہ کہہ کر چلا گیا۔ میں دو راہے پر کھڑی تھی۔ عورت بھلے اپنی آسائش کا نہ سوچے، مگر اولاد کی خاطر اسے سوچنا پڑتا ہے۔ گھر پر لون باقی تھا، قسطیں ابھی رہتی تھیں جو کرائے سے پوری کرنا مشکل تھا۔ مجھے لگا کہ اگر میں اس کی بات مان لوں تو بہت سی مشکلات حل ہو جائیں گی اور بچیوں کے رشتے بھی اچھے گھرانوں میں ہو سکیں گے۔
ابھی میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی کہ چند روز بعد میری بڑی بیٹی نے مجھ سے تنہائی میں بات کی۔ اس نے پوچھا، “ماں! وہ شخص کون تھا جو آپ سے ملنے آیا تھا؟” میں نے بتایا کہ وہ میرا تایا زاد ہے، امریکہ سے تمہارے ابو کی تعزیت کے لیے آیا ہے۔ “تو کیا تعزیت ایسے کی جاتی ہے؟ شاید آپ کو خبر نہیں، ہم بہنوں نے دروازے کے پیچھے سے آپ کی تمام باتیں سن لی ہیں۔ چھوٹی اور منجھلی تو دکھ سے نڈھال ہیں۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہماری پاکباز ماں کا ایسا ماضی ہوگا اور اب آپ اس آدمی کے ساتھ مل کر ہم سے چھپا کر دوسری شادی کے منصوبے بنا رہی ہیں۔”
میں نے بڑی مشکل سے دونوں بہنوں کو خاموش کروایا۔ رمشا نے دو ٹوک کہا، “شادی کے بارے میں سوچنا بھی مت اور اپنے کزن کو منع کر دیں کہ وہ اب یہاں نہ آئے۔ ہمیں غریبی، بھوک اور دکھ برداشت ہیں لیکن سوتیلا باپ نہیں۔ ہماری قسمت میں جو لکھا ہے وہ مل جائے گا۔” رمشا کے تیور دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا۔ بے اختیار منہ سے نکلا، “بیٹی! میں دوسری شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ تم لوگ ہی میری کائنات ہو۔ میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ تم بے فکر رہو، میں اسے منع کر دوں گی کہ یہ ممکن نہیں اور وہ اب یہاں نہیں آئے گا۔”
اگلی بار آنے سے پہلے افتخار نے فون کیا تو میں نے اسے صاف منع کر دیا کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں۔ “میں تم سے نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ میری بیٹیوں نے تمہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگر وہ باغی ہو گئیں تو میں یہ دکھ برداشت نہیں کر سکوں گی۔ میں نے اپنے حالات اللہ پر چھوڑ دیے ہیں۔ وہ وقت بیت گیا جو ہم نے گنوا دیا۔ میری بچیوں نے ہماری گفتگو سن لی تھی اور وہ کسی صورت سوتیلے باپ کو قبول نہیں کریں گی۔”
اس نے کہا، “ہم اپنی شادی کو تب تک خفیہ رکھ سکتے ہیں جب تک ان کی شادیاں نہیں ہو جاتیں۔” میں نے جواب دیا، “یہ بھی ناممکن ہے۔ افتخار! زندگی کے سنہرے دن گزر چکے، خواب اور امیدیں کھو گئیں۔ اب صرف ان کی راکھ باقی ہے اور اس راکھ کو اڑانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم جہاں سے آئے ہو وہیں لوٹ جاؤ، یہی میرا حتمی فیصلہ ہے۔”
افتخار نے مایوس ہو کر فون بند کر دیا اور پھر کبھی مڑ کر نہ دیکھا اور نہ ہی رابطہ کیا۔ میں نے سکون کا سانس تو لیا، مگر اس بات کا دکھ آج بھی دل میں ایک کانٹے کی طرح چبھتا ہے کہ قسمت نے دوسری بار بھی ہمیں ملنے نہ دیا، حالانکہ بیوہ کی دوسری شادی گناہ نہیں۔ مگر ‘ماں’ ہونا بذاتِ خود ایک بڑی آزمائش ہے۔ میں نے قربانی دی تاکہ میری بچیاں ذہنی اذیت سے بچ سکیں۔ آج وہ اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں اور میں بالکل اکیلی رہ گئی ہوں۔
(ختم شد)

