ماسک پہنے ہوئے بد شکل شیراز نے اپنی سرخی مائل آنکھوں سے ریستوران سے نکلتی خوبصورت لڑکی کو دیکھا جو شاید اپنی کزنز کے ساتھ تھی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی ہو۔ اسے خوبصورت عورتوں سے نفرت تھی۔ وہ ان کا دشمن اور قاتل تھا، مگر ابھی تک پولیس اسے گرفتار نہیں کر سکی تھی۔ وہ اپنے پیچھے کوئی ثبوت چھوڑنے کا عادی نہیں تھا۔ وہ بڑی ہوشیاری سے لڑکیوں کو اغوا کر کے شہر سے باہر، پرانے قبرستان کے ساتھ واقع قدیم بنگلے میں لے جاتا اور ان کی عصمت دری کر کے انہیں قتل کر دیتا تھا۔
لڑکی اپنی فیملی کے ساتھ ایک سفید کار میں بیٹھ گئی تو اس کے اندر لاوا سا کھولنے لگا، اور وہ اپنی سیاہ کرولا میں بیٹھ کر اس کے تعاقب میں چل پڑا۔ دونوں گاڑیاں متحرک ہو کر ایک ہی سمت بڑھنے لگیں۔ سفید کار کے دائیں بائیں دو موٹر سائیکل سوار لڑکے کار میں تانک جھانک کر رہے تھے۔ ایک لڑکا دراز قد اور خوبصورت تھا۔ شیراز اس سے بھی بیزار ہوا اور نظریں پھیر لیں۔
وہ اس لڑکی کا گھر دیکھ کر اسے گھیرنا چاہتا تھا۔ اس کے سرخ لب، نیلی آنکھیں، لمبے سیاہ بال، خوش نما چہرہ اور لمبا قد مقناطیسی کشش رکھتے تھے۔ اسے اپنی بدصورتی پر رنج ہوا اور یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے منہ پر تھوک دیا ہو۔ تبھی اس کی گاڑی کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ لہرا کر بے قابو ہو گئی، مگر اس کے مضبوط اعصاب کام آئے اور اس نے کار کو سنبھال لیا۔ البتہ پیچھے آنے والوں نے دو چار تبصرے ضرور کیے۔
اس نے نفرت سے انہیں دیکھا اور سفید کار کی طرف رفتار بڑھاتے ہوئے فاصلہ کم کرنے لگا۔ یہ تعاقب جوہر ٹاؤن فیز تھری میں، مغل آئی ہسپتال کے پاس واقع پارک کے کنارے ختم ہوا۔ سفید کار پارک کے نکڑ پر بنی خوبصورت کوٹھی کے گیٹ کے سامنے جا رکی۔ شیراز نے کوٹھی سے کچھ دور جا کر کار کو موڑا اور فرنٹ لان کی روشنی میں کوٹھی کو دیکھنے لگا۔
اس خوبصورت لڑکی کی کوٹھی بھی خوبصورت تھی، جہاں جگہ جگہ سے روشنی پھوٹ رہی تھی۔ پھر ایک دم اس کی آنکھوں میں حیرت کی بجلی دوڑ گئی۔ ایک لڑکا اپنی بائیک پارک کے جنگلے کے قریب روک کر لڑکی کی طرف بڑھا۔ شیراز نے پہچان لیا کہ یہ وہی تھا جو راستے میں اپنے دوست کے ساتھ کار کے ایک طرف موجود تھا۔ شیراز کے جبڑے سختی سے تن گئے اور اس کی آنکھوں میں نفرت بھر آئی۔ وہ خاموشی سے ٹکٹکی باندھ کر ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
لڑکی لڑکے کو دیکھ کر مسکرائی اور دونوں ایک دوسرے سے متعارف ہوئے۔ لڑکا تھوڑا سا جھکا اور کہنے لگا کہ وہ تو اسے دیکھ کر دیوانہ ہی ہو گیا ہے۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کا نام سوہا ہے اور پوچھا کہ کیا وہ اس کا تعاقب کرتے ہوئے یہاں تک چلا آیا ہے۔ اس کے انداز میں کہیں بھی ناگواری نہیں تھی۔
پھر دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے لگے۔ دلوں میں صورتیں اترنے لگیں۔ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے اردگرد بہت سے رنگ برنگے موتی بکھر گئے ہوں۔ سوہا کی کزنز ہنستے مسکراتے ہوئے اس دوستی کو دیکھنے لگیں، جبکہ گیٹ کیپر ساکت سا ہو گیا تھا۔
تبھی لڑکا ہوش میں آیا اور اس نے اپنا نام وہاج بتایا۔ اس نے سوہا کو اگلی رات نو بجے ڈیلکس ریسٹورنٹ آنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہیں سے ان کی کہانی شروع ہوگی۔ سوہا نے ناصحانہ لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر وقت ملا تو آ جائے گی، مگر اسے بڑے خواب نہیں دیکھنے چاہئیں۔
اسی وقت سیاہ بادل زور سے گرجا تو لڑکی کار سمیت اندر چلی گئی۔ وہاج چند لمحے گیٹ کو گھورتا رہا، پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا کہ شاید ان کا ملنا آسمان کو پسند نہیں آیا۔ بادل دوبارہ گرجے تو وہاج نے بائیک اسٹارٹ کی اور سڑک کی طرف بڑھ گیا۔ کالی کار بھی متحرک ہو کر اسی سمت دوڑنے لگی۔
☆☆☆
اگلے روز رات آٹھ بجے سوہا اپنی نیلی کرولا میں نکلی اور رفتار بڑھاتی ہوئی مقررہ ریسٹورنٹ کی طرف بڑھنے لگی۔ اسی وقت سیاہ بادل برس پڑے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ وہ موسم کو پرتشویش نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ دراز قامت وہاج اس کے دل کو بھا گیا تھا۔ اس کی کشش نے سوہا کو اپنی جانب کھینچ لیا تھا، اسی لیے وہ اور تیزی سے گاڑی چلانے لگی۔ بجلی کی چمک اور سڑکوں پر نصب بلند پول لائٹس میں ماحول پراسرار دکھائی دے رہا تھا۔
اسی دوران اس نے سڑک کے دائیں جانب سفید لباس میں ملبوس ایک بزرگ کو دیکھا جو گاڑیوں کو ہاتھ دے کر لفٹ حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ سوہا نرم دل اور ہمدرد تھی۔ اس نے گاڑی بزرگ کے قریب لا کر روک دی۔ بوڑھا خوش ہو کر قریب آیا تو سوہا نے ساتھ والی نشست کا دروازہ کھول دیا۔ بارش میں شرابور بوڑھا سمٹ کر سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے انکساری سے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ سوہا نے جواب دیا کہ بزرگوں کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ بارش میں بھیگ رہے ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ وہ وہاں کیوں کھڑا تھا۔
بوڑھے نے رومال سے چہرہ صاف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فیز تھری میں ایک دوست سے ملنے آیا تھا۔ وہ بے یار و مددگار تھا، دوست نے اس کی مدد کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اس کی بیوی نے دروازے سے ہی اسے لوٹا دیا۔ وہ واپس جانے کے لیے لفٹ کے انتظار میں کھڑا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ وہ دعا کر رہا تھا کہ کوئی اللہ کا بندہ اسے لفٹ دے دے، اور اتنے میں سوہا آ گئی۔ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا کہ وہ اس کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔
سوہا تیزی سے ڈرائیونگ کرنے لگی۔ بادل گرجتے رہے اور بارش یوں برستی رہی جیسے پورے علاقے کو تالاب بنا دے گی۔ بوڑھا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب گاڑی ایک ہسپتال کے کیمپس کے قریب پہنچی تو اچانک ایک ٹھنڈی لوہے کی چیز سوہا کی کمر میں چبھنے لگی۔ وہ چونک گئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ریوالور کی ٹھنڈی نال اس کی کمر سے لگی ہوئی تھی۔ پستول بوڑھے کے بائیں ہاتھ میں تھا۔
سوہا نے غصے سے بوڑھے کو گھورا اور اس حرکت پر برہمی کا اظہار کیا، مگر بوڑھا خباثت سے ہنسا اور کہا کہ معاملہ چوری ڈاکے سے کہیں آگے کا ہے۔ سوہا نے خوف زدہ ہو کر اس کی بات کا مطلب پوچھا۔ بوڑھے نے سرد لہجے میں حکم دیا کہ وہ خاموشی سے گاڑی شہر سے باہر کی طرف لے چلے، ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اس کے لہجے میں ایسی دہشت تھی کہ سوہا کانپ کر رہ گئی، حالانکہ وہ ایک نڈر اور دلیر لڑکی تھی۔
بوڑھا بدستور خباثت سے اسے گھور رہا تھا۔ مجبوراً سوہا نے گاڑی بائیں کے بجائے دائیں جانب موڑ دی۔ بارش اب کچھ ہلکی ہو گئی تھی، مگر بجلی کی چمک سانپ کی طرح بار بار آسمان پر لہرا جاتی، جس سے دل میں انجانا خوف اترتا جا رہا تھا۔ وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے خاموشی سے گاڑی چلا رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اس شخص نے کہا کہ اب وہ اسے بوڑھا نہیں بلکہ نوجوان کہے گی۔ اس نے اپنی مصنوعی داڑھی اور مونچھیں اتار کر پھینک دیں اور سفید چادر پچھلی سیٹ پر ڈال دی۔ اس تبدیلی کے بعد وہ جوان دکھائی دینے لگا، مگر اس کا چہرہ اب بھی بھدے ماسک میں چھپا ہوا تھا۔ سوہا نے سنبھل کر سخت لہجے میں کہا کہ وہ ایک بہروپیا ہے جو روپ دھار کر اس کا انتظار کر رہا تھا، مگر اس کی وجہ کیا ہے؟
اس نے مکاری سے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ اسے اغوا کر کے قبرستان کے ساتھ واقع ویران، آسیب زدہ بنگلے میں لے جانا چاہتا ہے۔ سوہا نے اس کی آنکھوں میں خونی چمک دیکھی تو اس کا دل دہل گیا۔ اس نے نوجوان کو گھورتے ہوئے کہا کہ کہیں وہ وہی بدمعاش تو نہیں جو نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر رہا ہے اور جس کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا؟ اس شخص نے اسے خاموشی سے گاڑی چلانے کا حکم دیا، اور سوہا کو اپنے سوال کا جواب مل گیا۔
شہر سے کئی لڑکیاں پراسرار طور پر غائب ہو چکی تھیں۔ سوہا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ کسی بڑے خطرے میں پھنس چکی تھی۔ کل دو مرتبہ کالی بلی نے اس کا راستہ کاٹا تھا، اور آج سیاہ بادلوں کے مرغولے بھی کسی انہونی کی نشاندہی کر رہے تھے۔
☆☆☆
رات کے نو بج چکے تھے۔ دراز قد وہاج، جو گریجویشن کر چکا تھا اور اب کسی اچھی ملازمت کی تلاش میں تھا، ریستوران کی آخری نشست پر پھولوں کا گلدستہ سجائے اور مینو سامنے رکھے، ہال کے داخلی دروازے کی جانب حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ ساڑھے نو بجے تک اس کی نظریں منتظر ہی رہیں، مگر سوہا نہ آئی۔ اس کا موبائل بھی آف تھا۔ وہاج کے چہرے پر سیاہ بادل کی مانند شکنیں پڑ گئیں۔ وہ گلدستے پر اداس نگاہیں ڈال کر تیزی سے خارجی دروازے کی طرف بڑھا اور پارکنگ سے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے مین روڈ پر نکل آیا۔
وہ سوہا کے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ تقریباً سات بجے دونوں کے درمیان موبائل پر گفتگو ہوئی تھی۔ وہ پُرامید تھا کہ وہ ضرور آئے گی۔ دل لگی انسان کے لیے کبھی کچا دھاگا ہوتی ہے اور کبھی مضبوط ڈور۔ عین اسی وقت ہوا کی بوچھاڑ میں ایک زخمی الو کار کی ونڈ اسکرین پر آ گرا اور ایک کراہ کے ساتھ پھسلتا ہوا بونٹ سے زمین پر جا پڑا۔ وہاج کا مضبوط دل دھک دھک کرنے لگا۔ زخمی الو کا گرنا اسے بدشگونی محسوس ہوا۔ اس نے کار کی رفتار اور تیز کر دی۔
وہ سوہا کے گھر کے سامنے پہنچ کر بیل پر انگلی رکھ کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر بعد ملازم نے دروازہ کھول دیا۔ وہاج کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ میم سوہا کہاں ہیں، وہ ریستوران نہیں پہنچیں۔ ملازم نے حیران و پریشان ہو کر اسے دیکھا، پھر پورچ کی طرف نگاہ ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی نیلے رنگ کی کرولا میں باہر جا چکی ہیں، اس نے خود گاڑی کی صفائی کی تھی۔ اس نے مشورہ دیا کہ وہ ان کی کزنز اور سہیلیوں کو فون کر کے پوچھیں۔ ملازم اس کی شخصیت سے متاثر ہو کر الٹے پاؤں اندر بھاگا۔ کچھ دیر بعد سوہا کی کزنز بھی وہاں آ گئیں اور متفکر نگاہوں سے موبائل فونز پر رابطہ کرنے کی کوشش کرنے لگیں، مگر نتیجہ وہی رہا “ڈھاک کے تین پات”۔ سوہا کا موبائل مسلسل بند جا رہا تھا۔
فوراً ہی پولیس کو اطلاع دے دی گئی۔ انسپکٹر غفران ان کے محلے میں ہی رہتا تھا اور ایک ذہین سراغ رساں تھا۔ وہاج نے اسے فون پر صورتحال سے آگاہ کیا تو انسپکٹر غفران نے لیڈی انسپکٹر صوفیہ کے ہمراہ آنے کا عندیہ دیا۔ وہاج مین روڈ پر دونوں جانب نظریں دوڑاتا ہوا پل کے دوسری جانب نکل گیا۔ یہ سڑک یونیورسٹی کیمپس کی طرف جا رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ گاڑی چلاتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔ اس نے راستے میں گزرنے والے پھیری والوں کو روک کر پوچھ گچھ کی، مگر وہ کسی بھی واقعے سے لاعلم تھے۔
اب اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور وہ متفکر سا آگے بڑھنے لگا۔ تقریباً نصف فرلانگ آگے جا کر وہ ایک بوڑھے فقیر کے پاس جا رکا، جو سبز لباس پہنے بیٹھا جھوم رہا تھا۔ اس نے جیب سے کچھ روپے نکال کر فقیر کے کاسے میں ڈال دیے۔ فقیر نے دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تمہارا بھلا کرے لڑکے، اللہ تمہاری مرادیں پوری کرے۔ وہاج نے فقیر سے پوچھا کہ کیا اس نے ادھر سے اس کی دوست کو گزرتے ہوئے دیکھا ہے؟ اس نے موبائل میں سوہا کی تصویر فقیر کو دکھائی۔ بوڑھا غور سے تصویر دیکھنے لگا، پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
فقیر نے بتایا کہ اس نے اس لڑکی کو تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اسی طرف سے نیلی کار میں بیٹھ کر آگے جاتے دیکھا تھا۔ پھر اس کی نظر کچھ فاصلے پر پڑی تو وہ حیران رہ گیا۔ وہاں سفید چادر اوڑھے ایک شخص بارش میں کھڑا تھا، جسے وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ وہ زور زور سے ہاتھ ہلا کر گاڑی کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ فقیر کے مطابق، سوہا نے اس شخص کو اگلی سیٹ پر بٹھایا اور کچھ ہی دیر میں وہ کار نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
سفید لباس والا بوڑھا آدمی؟ وہاج کے ہونٹ نصف دائرے کی صورت میں سکڑ گئے۔ وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا ہوا ہسپتال کے کیمپس کی طرف آیا، گاڑی روکی اور باہر نکل کر پل پر جا پہنچا۔ وہاں ایک لڑکا چھابڑی لگائے ابلے ہوئے چنے بیچ رہا تھا۔ چاند کسی سراغ رساں کے انداز میں پل پر آ کر نیچے سے گزرنے والی گاڑیوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہاج کی توجہ چنے والے کی طرف اس لیے مبذول ہوئی کہ اس نے سڑک کے کنارے سے زرد رنگ کا ایک ٹشو پیپر اٹھا لیا تھا۔ ایسا ہی ایک ٹشو اسے اس جگہ سے بھی ملا تھا جہاں سے بوڑھا نیلے رنگ کی کرولا میں سوار ہوا تھا۔
وہاج نے پچاس روپے کا ایک نیا نوٹ لڑکے کو تھماتے ہوئے پوچھا کہ کیا ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نیلے رنگ کی کوئی کار اس طرف سے گزری تھی، جس میں یہ میم صاحبہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تھیں؟ اس نے سوہا کی تصویر لڑکے کو دکھائی۔ نوٹ پا کر خوش ہونے والا لڑکا تصویر دیکھتے ہی چونک اٹھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے ان میم صاحبہ کو آہستہ آہستہ گاڑی اس طرف موڑتے دیکھا تھا، وہ پریشان دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے برابر والی نشست پر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کا ایک ہاتھ میم صاحبہ کی کمر کی طرف تھا۔
وہاج کے ہونٹ مزید سکڑ گئے۔ اس کے ذہن میں ایک ہی لفظ گونج رہا تھا، “اغوا”۔ اسے یقین ہو گیا کہ سوہا اغوا ہو چکی ہے اور یہ کام اس بوڑھے آدمی نے کیا ہے۔ اس نے غصے میں مٹھیاں بھینچتے ہوئے سوچا کہ اس کی محبت کو اس تک پہنچنے سے پہلے ہی چھین لیا گیا ہے، وہ اسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔
اسی وقت انسپکٹر غفران کی کار اس کے قریب آ کر رکی۔ اس کے ساتھ والی نشست پر لیڈی انسپکٹر صوفیہ بیٹھی تھی۔ انسپکٹر غفران کار سے اتر کر اس کے قریب آیا۔ وہاج نے اسے پوری صورتِ حال سے آگاہ کیا اور وہ زردی مائل ٹشو پیپر کے ٹکڑے بھی اس کے حوالے کر دیے جو اسے یہاں تک لے آئے تھے۔ انسپکٹر غفران نے اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ اس نے بنیادی کام کر دکھایا ہے۔ اس نے بتایا کہ اب تک جتنی لڑکیاں غائب ہوئی ہیں، انہیں ایک کالی کار میں اغوا کیا گیا ہے اور اغوا کرنے والا ایک لمبے قد کا جوان آدمی ہوتا ہے جس نے ماسک لگا رکھا ہوتا ہے۔
وہاج نے حیرت سے پوچھا کہ کیا عورتیں بھی اس کا نشانہ بن رہی ہیں؟ انسپکٹر نے بتایا کہ یہ ایک خطرناک نفسیاتی مریض ہے جو خوبصورت لڑکیوں کو اغوا کر رہا ہے، مگر اب تک اس کا یا اس کی کار کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ تاہم اب وہ اس کیس کو خود سنبھال رہا ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ اسے ضرور کیفرِ کردار تک پہنچائے گا۔ لیڈی انسپکٹر صوفیہ سوہا کی تصویر کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ انسپکٹر غفران اپنے موبائل فون پر متعلقہ تھانے کو سیاہ کار اور بوڑھے اغوا کار کے بارے میں آگاہ کر رہا تھا تاکہ پولیس شہر سے باہر بارڈر ایریا کی طرف پھیل جائے۔ سوہا کی کار کا نمبر مل چکا تھا اور اب باقاعدہ تلاش شروع کر دی گئی تھی۔
☆☆☆
سوہا کو قدیم بنگلے کے ہال میں بند کرنے کے بعد شیراز نے پستول جیب میں رکھا اور اس کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ سوہا نے نظریں چاروں طرف گھماتے ہوئے کمرے کا جائزہ لیا۔ ہال کی دیواروں پر ڈراؤنی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ اسے اپنے جسم میں سنسنی دوڑتی محسوس ہوئی۔ وہ ایک دلیر اور نڈر لڑکی تھی، لیکن اس وقت وہ کافی خوفزدہ سی تھی اور سینے پر ہاتھ رکھے، اُس جنونی دیوانے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک بدشکل اور ڈراؤنا سا آدمی تھا۔ اس کی مسکراہٹ وحشیانہ اور آنکھوں میں نفرت کے انگارے سلگ رہے تھے۔
تبھی سوہا کو کئی معصوم لڑکیوں کے چہرے یاد آئے، جو گم ہو چکی تھیں اور ان کے والدین روتے رہ گئے تھے۔ “مسٹر! کیا ارادہ ہے…؟” سوہا نے جرات کرتے ہوئے زہرخند لہجے میں پوچھا۔ بدشکل شیراز نے انگلی سے بستر کی طرف اشارہ کیا، جس کی چھت پر چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی لائٹیں جل رہی تھیں۔ تبھی سوہا نے اپنی سینڈل اتار کر زور سے اس کے منہ پر دے ماری۔
وہ غصے سے دھاڑتا ہوا آگے بڑھا، سوہا دلیری سے کھڑی رہی۔ جب وہ اس پر جھپٹا، تو سوہا چکمادے کر ایک طرف ہوگئی اور میز پر رکھا لیمپ اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ وہ اس حملے سے بچ نہ سکا۔ اس کا سر پھٹ گیا اور خون دھاروں کی صورت میں بہنے لگا، مگر وہ وحشی اور جنونی نہ رکا اور جھپٹ جھپٹ کر سوہا کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ سخت جان اور طاقتور تھا، اس لیے سر کے زخم کو برداشت کر گیا۔ بہتے ہوئے خون نے اس کے چہرے کو اور بھی خوفناک بنا دیا تھا۔
ہال میں ان دونوں کی جنگ جاری تھی، لیکن سوہا کب تک اس طاقتور شخص کا مقابلہ کرتی؟ بالآخر شیراز پستول کے دستے کے وار سے اسے بے ہوش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد اس نے سوہا کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور لاش اٹھا کر بنگلے کے صحن میں بنے گہرے کنویں کی طرف بڑھنے لگا، جہاں اس نے تیزاب ڈال رکھا تھا۔ کچھ دیر بعد سوہا کا خوبصورت مجروح جسم، تیزاب میں جل کر ہیبت ناک ہو چکا تھا۔
☆☆☆
پولیس چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں بازاروں، ریلوے اسٹیشنوں، مزاروں اور عام آبادیوں میں پھیل گئی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں سیاہ لباس پہنے ایک دراز قد آدمی کے خاکے تھے، جس نے اپنا چہرہ ماسک میں چھپا رکھا تھا۔ سر کے لمبے سیاہ بال گردن کی طرف لٹک رہے تھے اور گلے میں سیاہ ڈوری سے بندھا ہوا سیاہ رنگ کا تعویذ لٹک رہا تھا۔ اس نے اسے چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی، تصاویر کے ساتھ سیاہ رنگ کی کار کا خاکہ بھی بنا دیا گیا تھا۔ تین چار گھنٹے کی تلاش کے بعد بھی اس اغوا کار کا کوئی سراغ نہ ملا، البتہ بارڈر ایریا کے دو پیٹرول پمپوں کے کارندوں نے خاکہ دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا کہ اس شخص نے کئی بار ان کے پمپ سے گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا ہے اور کئی بار پیٹرول کے گیلن بھی لے کر گیا ہے۔ وہ اس کی کار میں عورتوں کو بھی ساتھ والی یا پچھلی نشست پر بیٹھا دیکھ چکے تھے۔ وہ انہیں کچھ روپے زیادہ دے کر خوش کر دیا کرتا تھا۔
انسپکٹر غفران اپنے اسسٹنٹ فرحان، رؤف، ابراہیم اور اسرار کے ساتھ بارڈر ایریا کے ایک ٹیلے پر سڑک کو ختم ہوتا دیکھ کر ماحول کا طائرانہ جائزہ لیتے ہوئے پرانے قبرستان کی طرف بڑھ گئے تھے۔ تبھی اچانک ایک لڑکا پولیس کو دیکھ کر آم کے ایک درخت سے چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور پراعتماد انداز میں آموں کا گچھا ہاتھ میں لیے سامنے آ کھڑا ہوا۔ “آپ پولیس انسپکٹر معلوم ہوتے ہیں۔”
“تمہارا خیال ٹھیک ہے، کیا کچھ بتانا چاہتے ہو؟” انسپکٹر غفران نے اس کے چہرے کو پڑھتے ہوئے کہا۔
“صاحب، میں بتانا چاہتا ہوں،” اس نے دردناک لہجے میں کہا، پھر خوف زدہ انداز میں ادھر ادھر دیکھ کر دوبارہ بولا۔ “میں نے اخبار میں اغوا کار سیاہ پوش کے بارے میں پڑھا ہے۔ وہ لڑکیوں کو اغوا کرتا ہے۔ باغ میں بھی اس نے ایک لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، مگر پھر وہ گر پڑا اور بھاگ نکلا۔ مگر… مگر… میری بڑی باجی تین دن سے گھر سے غائب ہیں۔ میرا بوڑھا باپ انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا ہے۔ میں بھی انہیں تلاش کر رہا ہوں، مگر وہ نہیں ملتیں۔” لڑکے کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔ پھر وہ قبرستان کے آخری سرے کی طرف موجود خستہ حال بنگلے کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا: “ادھر ایک بھوت رہتا ہے۔ میں نے ایک دن آم کے درخت سے اتر کر دبے پاؤں اس کا تعاقب کیا اور بنگلے کے قریب چلا گیا، لیکن تبھی اچانک مجھے چھینک آ گئی۔ وہ بھوت چونک کر مڑا تو میں بھاگ کر درخت کے تنے کے پیچھے چھپ گیا۔ اس بھوت کی انگلیوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں۔ اس نے مجھے ڈرانے کے لیے چند شعلے درخت کے گرد پھینکے تو خشک جھاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ تب میں جھاڑیوں میں چھپتا ہوا سڑک کی دوسری جانب ٹیلے پر واقع اپنے پرانے گھر میں جا پہنچا م”۔
وہ لڑکے کو ساتھ لے کر ہاتھ میں ریوالور لیے آگے بڑھنے لگا۔ اسی وقت باغ نما جگہ پر ایک کرخت اور ڈراؤنا سا قہقہہ گونج اٹھا۔ پولیس اہلکار ٹھٹھک کر رک گئے تو انسپکٹر کی تیز آواز ان کے کانوں میں پڑی: “بندوقیں تان کر آگے بڑھتے رہو… یہ محض ریکارڈنگ ہے، لوگوں کو ڈرانے کے لیے۔ اندر بھوت کے لبادے میں ایک بھیڑیا چھپا ہوا ہے۔”
وہ چلتے چلتے بھوت بنگلے کے دروازے کے سامنے جا پہنچے۔ بنگلے کے اردگرد اونچی گھاس اگی ہوئی تھی۔ جب ہوا کے تیز جھونکے شائیں شائیں کا شور مچاتے ہوئے اس میں سے گزرتے تو خاموشی کی روح تک لرز جاتی۔ بنگلے کے گیٹ پر ایک بڑی سی انسانی کھوپڑی نصب تھی، جس کی آنکھوں سے سرخ روشنی نکل کر ایک ڈراؤنا منظر پیش کر رہی تھی۔ انسپکٹر غفران نے دو فائر کر کے اس کھوپڑی کو اڑا کر رکھ دیا۔ یہ دیکھ کر لڑکا خوشی سے سرشار ہو کر بولا: “آپ ضرور اس کو پکڑ لیں گے۔”
انسپکٹر آگے بڑھا اور بنگلے کے سال خوردہ دروازے پر دباؤ ڈالا، جو اندر سے بند تھا۔ اس نے اپنے ماتحت اسرار کو دیوار پھلانگ کر اندر سے گیٹ کھولنے کا اشارہ کیا۔ اسرار فوراً متحرک ہوا، مگر اسی وقت بنگلے کے گیٹ کے دونوں جانب درختوں پر دو زور دار دھماکے ہوئے۔ بارود پھٹنے سے آگ کے شعلے اڑتے ہوئے نیچے گرنے لگے۔ انہیں الٹے قدموں ادھر ادھر بھاگنا پڑا۔ سب دوڑتے ہوئے آگ کے بکھرتے شعلوں سے دور آ کر ایک ٹیلے کے پاس رک گئے۔ انسپکٹر غفران نے ایک اہلکار سے رائفل لے کر فضا میں گھمائی، پھر بنگلے سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر ابھرے ہوئے ایک خشک ٹیلے پر نشانہ جما دیا، جہاں بنگلے کا بھوت موجود تھا۔ اسی وقت نشری نظام پر بھوت کی بھاری اور بارعب آواز سنائی دی: “پولیس والو! اس طرف نہ آنا، ورنہ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گے اور تمہاری جلی ہوئی لاشیں دوسرے پولیس والوں کو درختوں سے اتارنی پڑیں گی۔”
انسپکٹر غفران نے اس کی موجودگی محسوس کر کے اس سمت مسلسل فائرنگ کی، مگر وہ کھڑا قہقہے لگاتا رہا۔ گولیاں اس کے جسم سے ٹکرا کر اچھلنے لگیں۔ تبھی انسپکٹر نے غضب ناک ہو کر چلا کر کہا: “اے بہروپیے انسان! آج میں جا رہا ہوں، مگر اگلی بار تمہیں گھسیٹ کر اس بنگلے سے باہر نکالوں گا۔ موت تمہاری منتظر ہوگی۔” بھوت بھی چلا کر بولا۔
انسپکٹر غفران ساتھیوں سمیت مین روڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ دانت پیس رہا تھا، مگر ابھی وہ مکمل تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ اس وقت پسپا ہونا ہی بہتر تھا۔ انسپکٹر نے لڑکے کو گھر کی طرف روانہ کرتے ہوئے کہا: “بے فکر رہو، اب یہ بہروپیا مجرم میرے ہاتھوں سے بچ نہیں سکتا۔”
اگلے روز اس نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ بلٹ پروف جیکٹس پہن کر ہیلی کاپٹر کی مدد سے بنگلے کی چھت پر کود کر آپریشن کیا، مگر بنگلہ خالی تھا۔ انہیں کوئی سراغ بھی نہ مل سکا، البتہ ایک گہرے کنویں سے لڑکیوں کے ڈھانچے نکال کر انہیں پولیس تحویل میں لے لیا گیا۔ ایک پرانی بندوق کندھے سے لٹکائے سامنے والی بستی کا چوکیدار انسپکٹر غفران کے سامنے آ بیٹھا اور مستفسر نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
“شیر خان! اس بنگلے کا بھوت کب سے دہشت پھیلا رہا ہے؟” انسپکٹر غفران نے استفسار کیا۔
“انسپکٹر صاحب! بس یہی کوئی دو ڈھائی سال قبل یہ بنگلہ آسیب زدہ ہوا ہے اور انگلیوں سے آگ کے شعلے پھینکنے والے بھوت کی دھاک بستی اور اطراف میں پھیل گئی ہے۔ کچھ بہادر شکاری برسات کے موسم میں موسلا دھار بارش سے بچنے کے لیے بنگلے میں داخل ہوئے، لیکن پھر انہیں دور سے گزریوں نے بدحواسی کے عالم میں گرتے پڑتے بھاگتے دیکھا۔ پولیس والوں نے دن کے وقت بنگلے کا مکمل جائزہ لیا، مگر نہ بھوت ملا اور نہ کوئی اور سراغ دریافت ہوا۔ تب وہ رات میں بھی وہاں پہرہ دینے لگے۔ پھر اچانک ایک سپاہی لاپتہ ہو گیا اور صبح سورج کی روشنی پھیلتے ہی اس کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی دکھائی دی۔ اس کا جسم جلا ہوا تھا۔ پولیس والے گھبرا کر وہاں سے کھسک گئے۔ بھوت کی دہشت اس وقت اور پختہ ہو گئی جب اس نے دو اور پولیس والوں کو قتل کر کے درختوں سے لٹکا دیا۔ تب سے پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی، مگر اب آپ جیسے شہرت یافتہ سراغ رساں کے آنے کے بعد پولیس والے اور بستی کے لوگ پرامید ہیں کہ آپ بھوت کی گردن ناپ لیں گے۔” چوکیدار نے ایک اخبار میں انسپکٹر غفران کی چھپی تصویر اور کارنامے دیکھتے ہوئے کہا۔
انسپکٹر نے مسکرا کر اخبار دیکھا اور اسے لوٹا دیا۔ “چوکیدار! میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہو نہ ہو، وہ بھوت کوئی باغی قسم کا نوجوان ہے، جس کا تعلق قریب کی کسی بستی سے جڑا ہوا ہے۔”
“ایسا ممکن ہے،” چوکیدار کچھ سوچتا ہوا بولا، پھر اس پر جوش کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ چونک کر بولا۔ “انسپکٹر صاحب! اس بستی کی بوڑھی بیوہ ذکیہ بی بی کا اکلوتا بیٹا دو تین سال پہلے غائب ہو گیا تھا۔ آپ ان سے کچھ معلومات لے سکتے ہیں۔ بڑھیا بیچاری آج بھی اپنے بیٹے کی راہ دیکھتی رہتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں بیٹے کی محبت بسی ہوئی ہے۔ وہ اس کا واحد سہارا تھا۔ بی بی ذکیہ کا کہنا ہے کہ وہ جیون جوگا کبھی کبھی کسی رات آ کر ملنے کے بعد صبح سویرے غائب ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے، بس وہ کسی وجہ سے خفا ہو کر گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ وجہ مجھے معلوم نہیں، وہ ذکیہ بی بی ہی بتا سکتی ہے۔” چوکیدار یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گیا۔
☆☆☆
ذکیہ بی بی، جن کا گھر بستی کے اختتام پر واقع دس فٹ اونچے ٹیلے پر تھا، انسپکٹر غفران سے مل کر کچھ پُرامید ہوئیں۔ “انسپکٹر! چوکیدار نے مجھے بتایا تھا کہ آپ ذہین، دلیر اور کھوجی طبیعت کے مالک ہیں۔ آپ ضرور میرے بیٹے کو ڈھونڈ کر لے آئیں گے۔ میرا بیٹا کبھی کبھی اچانک مجھ سے ملنے چلا آتا ہے، لیکن ممتا کے پھول کھلتے ہی وہ مجھے چھوڑ کر اچانک چلا جاتا ہے اور میں پھر راستہ تکنے لگتی ہوں۔ میری ممتا کی پیاس اور بھڑکنے لگتی ہے۔”
“ذکیہ بی بی! میں آپ کا دکھ سمجھتا ہوں، مگر جب تک آپ مجھے یہ نہ بتائیں گی کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں گیا اور اس نے بستی کی زندگی کو خیرباد کیوں کہا، میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔” انسپکٹر غفران نے اپنی نگاہیں اس کے چہرے پر جما دیں، جس کی جھریوں میں زندگی کا کرب سمایا ہوا تھا۔
اس کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ وہ پلو سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے گومگو کی کیفیت میں بولی: “آپ بڑے سراغ رساں ہیں، آپ کو تو سب بتانا ہی پڑے گا۔ اس بستی کی خوبصورت لڑکی زمرد کی ایک گائے گم ہوگئی تھی۔ میرا بیٹا چراگاہوں اور ادھر ادھر گائے تلاش کر کے اسے واپس کرنے ان کی حویلی چلا گیا۔ وہ امیر لوگ ہیں اور میں ایک غریب بڑھیا ہوں۔ بدقسمتی سے میرا بیٹا بہت بدشکل ہے۔ محلے کے بچے اس سے ڈرے رہتے تھے۔ پھر ایک حادثے میں اس کا چہرہ اور بگڑ گیا۔ تب سے اس نے مستقل طور پر ماسک میں اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ اسی دوران زمرد اور میرے بیٹے شیراز میں میل جول بڑھا اور ان کی دوستی ہوگئی۔ ایک رات وہ دونوں ویران بنگلے میں جا پہنچے۔ زمرد نے میرے بیٹے سے کہا کہ وہ اسے اپنا چہرہ دکھا دے، ورنہ وہ اب اس سے نہیں ملے گی کیونکہ انسان کی شناخت تو چہرے سے ہی ہوتی ہے۔ میرے بیٹے نے کہا کہ ابھی اس کا علاج ہو رہا ہے، مگر وہ نہ مانی۔ تب میرے بیٹے نے اسے اپنا چہرہ دکھا دیا۔ وہ چیخ مار کر بھاگ نکلی۔ شیراز اس کے پیچھے بھاگا، اتنے میں ویران بنگلے کا دروازہ کھول کر چوکیدار اندر داخل ہوا۔ اس نے شیراز کا پیچھے بھاگنا مجرمانہ فعل سمجھا اور اپنی چھڑی سے اسے مارنے لگا۔ زمرد بھاگ کر گھر چلی گئی۔ شیراز دوبارہ اس سے ملا تو زمرد نے میرے بیٹے پر تھوک دیا۔ اس کے دل میں آگ سی لگ گئی۔”
“وہ اس ظالم لڑکی اور اس بستی سے بھاگ کر کہیں دور چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد زمرد بھی غائب ہوگئی تو اس کے باپ نے میرا جینا حرام کر دیا۔ پھر اخبار والوں نے میری جان چھڑائی۔ پولیس نے بھی یہ نظریہ قائم کیا کہ اس معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ کہا گیا کہ کوئی آوارہ بدشکل لڑکا اس لڑکی کو اٹھا کر لے گیا تھا۔ پھر ایک دن بستی کے چوک میں اس لڑکی کی لاش پڑی ملی۔ میں اس دن اپنی بہن سے ملنے شہر گئی ہوئی تھی، اس لیے میری جان بخشی ہوگئی۔” یہاں تک کہہ کر بڑھیا خاموش ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے۔ تبھی لیڈی انسپکٹر صوفیہ نے ٹشو پیپر سے اس کے آنسو پونچھے۔ “ہم آپ کا خیال رکھا کریں گے۔” یہ کہتے ہوئے وہ اور انسپکٹر غفران اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
☆☆☆
رات کو ذکیہ بی بی اپنی چارپائی صحن میں بچھا کر پیڈسٹل فین کی ہوا میں اداس آنکھوں سے آسمان کو تکتی ہوئی سو گئی تھی۔ کوئی ستارہ اس کے آنگن میں نہیں اتر سکتا تھا۔ سوچتے سوچتے نیند نے اسے اپنے بازوؤں میں سمیٹ ہی لیا تھا کہ اچانک ایک دھماکا سا ہوا اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ زرد بلب کی روشنی میں اس نے چارپائی سے چند گز آگے ایک سیاہ پتھر پڑا دیکھا، جس کے ساتھ ایک کاغذ بھی لپٹا ہوا تھا۔ وہ تجسس کے عالم میں اٹھی اور قریب جا کر پتھر کو اٹھا کر دیکھنے لگی۔ گول سیاہ پتھر پر ٹیپ سے کاغذ چپکا ہوا تھا۔ ذکیہ بی بی نے ادھر ادھر دیکھا اور ٹیپ اتار کر کاغذ کو پھیلایا۔ اس پر لکھا تھا:
“اماں، میں آج رات تم سے ملنے آنا چاہتا تھا مگر پولیس کے کارندے گھر کے باہر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ میں نے دوربین سے انہیں دیکھ لیا ہے۔ تم کل رات بارہ بجے کے قریب پرانے کنویں کے پاس پھیلے کھنڈر میں مجھ سے ملنے کے لیے آ جانا۔ مجھے تمہاری دعا کی ضرورت ہے۔ میرے دشمن بڑھتے جا رہے ہیں۔”
ذکیہ نے کاغذ اپنے لباس میں چھپایا اور چارپائی پر لیٹ کر اپنے بیٹے کی یادوں میں کھو گئی۔
اگلی رات وہ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر ویران راستہ اختیار کرتی ہوئی پرانے تالاب کے قریب واقع کھنڈر کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ جوش کے عالم میں تیز تیز چل رہی تھی۔ اسے اس وقت بڑھاپے کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ بیٹے کا سراپا اس کی نگاہوں میں سمایا ہوا تھا۔ خیالات میں کھوئی ہوئی وہ پرانے تالاب کے کھنڈر میں جا پہنچی اور اپنے بیٹے کو ادھر ادھر تلاش کرنے لگی۔ اچانک ایک موڑ پر شیراز اس کے سامنے آ کر اس کے سینے سے لگ گیا۔ ماں کے کلیجے میں ٹھنڈک سی پڑ گئی اور وہ اس کے لیے دعا گو ہو گئی۔
دوسری طرف، جن لڑکیوں کو اس نے برباد کر کے قتل کیا تھا، ان میں سے دو اب بھی اس کی قید میں تھیں۔ ان کے لواحقین، رشتہ دار اور ماں باپ جھولیاں اٹھا اٹھا کر اسے بددعائیں دے رہے تھے۔ ان کی نگاہیں آسمان کی طرف تھیں۔ انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کی آوازیں عرش کی طرف پرواز کر رہی ہوں۔ ایک ماں کی دعا کے مقابلے میں سینکڑوں مظلوموں کی بددعائیں تھیں۔
☆☆☆
رات کے وقت پھلوں سے بھرے دو ٹرک بارڈر ایریا کی خستہ حال سڑک پر قبرستان کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔ سڑک کے اختتام پر خاردار جھاڑیوں سے بھرا ہوا ایک میدان دور تک پھیلا ہوا تھا، جس کے دوسرے کنارے پر ایک پرانی پن چکی اور گودام واقع تھا۔ یہ عمارت گول دائرے کی صورت میں بنی ہوئی تھی۔
ٹرک کچے راستے پر اتر کر گودام کے گیٹ کی طرف بڑھنے لگے۔ قریب پہنچ کر ڈرائیوروں نے تین بار ہارن بجایا تو گیٹ کھل گیا۔ ڈرائیور ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے ٹرکوں کے ساتھ اندر داخل ہو گئے۔ وہ چوکنے اور محتاط تھے، کیونکہ انہیں پولیس کی موجودگی سے آگاہ کر دیا گیا تھا، مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ قبرستان کے پاس سے گزرتے وقت اونچے درختوں کی شاخوں پر بیٹھے دو سیاہ لباس والے پھرتیلے آدمی ٹرکوں پر کود کر اندر آ پہنچے تھے۔
گودام کے اندر روشنی ہوئی تو کچھ لوگ باہر نکل آئے۔ مال کی نگرانی پر مامور پولیس اہلکار بھی ریوالور ہاتھوں میں لیے ٹرکوں کی دیواروں میں پاؤں جما کر نیچے اترنے لگے۔ گودام کے مزدور ٹرک میں لدا ہوا پھل اتارنے لگے۔ اسی وقت گودام کے اندر سے چند مزید افراد برآمد ہوئے اور پھلوں کے نیچے دبی منشیات کی پیٹیاں اتارنے لگے۔ وہ پیٹیاں اٹھا کر گودام کے عقبی حصے میں ایک چبوترے پر ایستادہ بندر کے مجسمے کی دم کھینچتے تو فرشی زینہ کھل جاتا، جس سے وہ تہ خانے میں اتر جاتے۔ تہ خانے کے بڑے دروازے کے باہر سے منشیات فروخت کی جاتی تھی۔ پورا شہر بدقسمتی سے منشیات کی زد میں تھا۔ اسکول کے لڑکے لڑکیاں بھی اس لعنت میں مبتلا تھے؛ نوجوان نسل کی زندگیاں اور مستقبل تباہ و برباد ہو چکے تھے۔
دونوں پولیس اہلکار منشیات فروشوں کے تہ خانے میں اترنے کا منظر دیکھ کر محتاط انداز میں واپس مڑے اور گودام کا جائزہ لینے کے بعد موبائل میسج کے ذریعے انسپکٹر غفران کو صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے انہیں تہ خانے میں اترنے اور ایکشن لینے کا حکم دے دیا۔ دونوں سپاہیوں نے مزدوروں کے جانے کا انتظار کیا۔ سناٹا چھاتے ہی انہوں نے بندر کی دم کو جھٹکا دیا اور ریوالور ہاتھوں میں لیے سیڑھیاں اترنے لگے۔ وہاں ہلکی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ زینے کے اختتام پر لکڑی کا ایک دروازہ تھا۔ وہ اسے دھکیل کر ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے، جس کی دیواروں کے ساتھ لکڑی کی بڑی بڑی پرانی الماریاں لگی ہوئی تھیں اور کچھ لوگ ان میں سے منشیات نکال کر پیٹیوں میں منتقل کر رہے تھے۔
ہال کے وسط میں لٹکتے روشن فانوس کے نیچے لکڑی کا ایک چوکور کمرہ تھا، جو میٹنگ روم معلوم ہوتا تھا۔ دونوں سپاہی زینے کے دائیں بائیں رکھے پیٹرول کے قد آدم ڈرموں کے پیچھے چھپ کر ہال کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان کی انگلیاں پستول کے ٹریگر پر تھیں۔ ہال میں جگہ جگہ مسلح افراد کھڑے مال کی منتقلی دیکھ رہے تھے۔ وہ اکتائے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ اسی وقت منشیات کے بکس اٹھائے کچھ افراد تہ خانے کی مغربی دیوار تک جانے والی سیڑھیوں سے اوپر جانے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں لوگوں کے ناموں والی چٹیں تھیں، جن پر مال کی مقدار درج تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دونوں سپاہیوں نے پیچھے ہٹ کر ڈرموں کو ترچھا کر کے ہال کے فرش پر آگے کی طرف لڑھکا دیا۔
آواز سن کر مسلح افراد چونک کر اس طرف متوجہ ہوئے تو سپاہی فوراً ایک ستون کی آڑ میں چلے گئے۔ مسلح افراد لڑھکتے ڈرموں کو روکنے کے لیے آگے بڑھے، اور یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ دونوں سپاہیوں نے فوراً ان ڈرموں پر فائرنگ کر دی۔ یکدم پیٹرول کے ذخیرے میں آگ لگ گئی اور دھماکوں کے ساتھ شعلے بھڑک اٹھے۔ ہال کراہوں اور چیخوں سے گونج اٹھا۔ زد میں آنے والوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ اسی وقت تہ خانے کی مغربی دیوار میں زینے کے اوپر لگا لکڑی کا دروازہ ایک دھماکے سے اڑ گیا، جس پر سارجنٹ فرحان نے بم دے مارا تھا۔ اس کے ساتھیوں نے دروازے کے خلا میں کھڑے ہو کر باقی افراد کو کور کر لیا۔ ایک نے پستول چلانے کی کوشش کی تو اسے بھون کر رکھ دیا گیا۔
“خبردار! اپنے ہاتھ سر سے بلند کر کے باہر نکلو!” فرحان گرجا۔ “ہمارا بھوت تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا،” ایک شخص غصے سے چلایا، “تم یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے۔” “اب اس بھوت کا ہی نمبر ہے،” سارجنٹ فرحان نے پستول لہراتے ہوئے کہا۔
عین اسی لمحے ہال میں خوفناک قہقہے گونجنے لگے۔ فرحان چونک گیا۔ اس نے چھت کا جائزہ لیا۔ آواز چھت میں بنے روشن دان سے آ رہی تھی۔ اس نے وہاں دو فائر کیے، مگر پراسرار بھوت روشن دان کی سلاخوں سے غائب ہو چکا تھا۔
☆☆☆
آدھی رات کا وقت تھا، تبھی خوفناک چہرے والا بدشکل شیراز گودام کی گول عمارت کا ایک پتلا سا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ اس کی سرخ آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔ اس نے دائیں بائیں نگاہ ڈالی اور پرانے بنگلے کی طرف بڑھنے لگا۔ پن چکی کے عقب میں یہ عمارت بڑی پراسرار دکھائی دے رہی تھی۔ اسی وقت تیز ہوا کے جھونکوں سے پن چکی کے پر گھومنے لگے۔ تیز ہوا میدان میں پڑے تنکے اڑانے لگی، فضا میں گرد سی پھیل گئی اور ماحول سنسنی خیز ہونے لگا۔ وہ ادھر ادھر نگاہ ڈالتا، پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چل رہا تھا۔ اس کا لباس سیاہ اور سفید تھا، چہرہ سرخی مائل، ڈراؤنا اور لمبوترا، آنکھوں میں خوفناک سرخ چمک اور دو مڑے ہوئے سینگ بالوں میں ابھرے ہوئے تھے۔ اس کی انگلیوں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔
وہ اپنی آمد کی دہشت پھیلاتا ہوا وہاں سے گزر رہا تھا۔ درختوں اور چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے پیچھے چھپے پولیس والوں نے اسے للکارتے ہوئے رکنے کا اشارہ کیا، تو وہ ایک بھیانک قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔ پولیس اہلکاروں نے مشتعل ہو کر فائر کھول دیا، مگر اس پر گولیوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ انسپکٹر غفران دور ایک درخت پر بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ تیزی سے نیچے اترا اور دوڑتا ہوا اس طرف آنے لگا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں ریوالور تھے، لیکن شیراز بنگلے کی دیوار کے قریب جا کر زمین میں کہیں غائب ہو گیا۔ انسپکٹر غفران نے قریب آ کر زمین کا ناقدانہ جائزہ لیا، لیکن اسے کوئی راستہ نہ مل سکا۔
شیراز نے بنگلے کے سامنے والے میدان کے سرے پر واقع اپنی خفیہ پناہ گاہ میں آ کر سکون کا سانس لیا اور بوتل سے سرخ محلول نکال کر پینے لگا۔ اس نے اس ویران ٹیلے میں ایک بڑا کمرہ بنوا رکھا تھا، جس میں دونوں جانب دروازوں کے نیچے زمین تک سیڑھیاں بنوائی گئی تھیں۔ اپنی اس خفیہ قیام گاہ سے صرف وہی واقف تھا۔ اس کے کمرے کے ساتھ واش روم، کچن اور چھوٹا سا سرسبز و شاداب صحن بھی تھا۔ ٹیلے کا صرف یہی حصہ شاداب تھا، باقی ساری جگہ بنجر تھی۔ یہاں کھانے پینے کی اشیاء کافی تعداد میں موجود تھیں۔ اسلحہ اور گولہ بارود بھی تھا؛ وہ دو دن تک اس قیام گاہ میں چھپا رہا۔ پولیس اسے میدان کے اطراف اور بستیوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک کر واپس چلی گئی۔
تیسری رات وہ ٹیلے کے اوپری حصے سے میدان اور جنگل کا جائزہ لے رہا تھا، تبھی اس نے دوربین کے شیشوں میں ایک خوبصورت لڑکی کو کمر پر گھڑا رکھے آتے دیکھا۔ یہ دیکھ کر وہ جلدی سے نیچے اترا اور قیام گاہ سے نکل کر تالاب کی طرف بھاگنے لگا۔ ماحول سنسان اور خاموش تھا۔ پولیس والے مایوس ہو کر شہر جا چکے تھے۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ تالاب کے قریب درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر سانس درست کر رہا تھا۔ اس کی نگاہیں مسلسل لڑکی پر جمی ہوئی تھیں، جو گھڑا بھرنے کے بعد سہانے موسم میں گنگناتی ہوئی تالاب کے کنارے ٹہل رہی تھی۔ اس نے سرخ رنگ کا ایک خوبصورت جنگلی پھول بھی توڑ کر بالوں میں سجا لیا تھا۔
“بس کیا بتاؤں اچھی لڑکی! میری منگیتر ایسی ہی چاندنی رات میں گم ہوگئی تھی۔ میں راتوں کو اسے ڈھونڈتا پھرتا ہوں کہ شاید کہیں مل جائے۔” “تم نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی؟” لڑکی نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔ “ہاں مس، کروائی تھی اور بھی کئی جتن کیے مگر وہ ابھی تک نہیں ملی۔ میں راتوں کو سو نہیں سکتا، اس لیے کار لے کر گھومنے نکل آتا ہوں۔ میری گاڑی کا پانی اس بھوت بنگلے کے سامنے ختم ہوا، تو میں گھومتا ہوا ادھر نکل آیا۔ میں راتوں کو تالاب یا سوئمنگ پول میں نہانے کا شوق رکھتا ہوں۔” “تم چلتے پھرتے اچکے اور لوفر لگتے ہو۔” لڑکی نے اس کے بڑھتے قدموں کو دیکھ کر ڈانٹ سنائی۔
“اب تو میں تمہیں اچک کر ہی جاؤں گا۔ تم بے حد خوبصورت ہو۔ اپنا چہرہ تو دکھاؤ، تم خوبصورت ہو یا بدصورت…” لڑکی نے ایک مسکراہٹ اچھالی۔ شیراز نے ماسک نہ اتارا؛ وہ لڑکی کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا اور اچانک تیزی سے آگے بڑھ کر اس کو اٹھانے کی کوشش کی۔ لڑکی نے مزاحمت کی مگر وہ اسے دبوچ کر کندھے پر ڈالنے میں کامیاب ہوگیا اور بنگلے کے عقبی دروازے سے اندر داخل ہوتا ہوا بڑے ہال میں آ گیا، جہاں ایک شاندار گداز بستر کے اوپر چھت پر رنگین لائٹیں جل بجھ رہی تھیں۔
اس نے لڑکی کو بستر پر ڈال دیا، تبھی لڑکی کی لات اس کے منہ پر لگی۔ وہ غصے سے سرخ ہو کر غرایا، لیکن اگلے لمحے لڑکی نے اچھل کر جوڈو کا پوز بنایا اور بستر سے اتر آئی۔ شیراز بازو پھیلا کر اس کی طرف لپکا۔ لڑکی نے گھوم کر ٹانگ اس کی گردن پر ماری، وہ کئی قدم لڑکھڑا گیا، مگر پھر دیوانہ وار لڑکی پر حملہ آور ہوا۔ دونوں کے درمیان لاتیں اور گھونسے چل گئے۔ شیراز کے منہ سے خون کی لکیریں بہہ رہی تھیں، تو لڑکی کے جبڑے پر نیل پڑ گیا تھا۔ وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ “آگے آؤ درندے! تمہاری تو میں چمڑی اتار کر رکھ دوں گی۔”
بعد ازاں معلوم ہوا کہ شیراز انگلیوں میں پتلی پتلی آتشی پستولیں لگا کر شعلے پھینکا کرتا تھا، جو ٹیلے والی قیام گاہ سے برآمد کر لی گئی تھیں۔ بلٹ پروف بھوت لباس بھی وہاں سے ملا۔ وہاں سے ملنے والی لڑکیوں میں ایک غلیل والے لڑکے کی بہن بھی تھی۔ اسی وقت انسپکٹر صوفیہ آگے بڑھ کر شیراز کے مقابل کھڑی ہو گئی اور اسے گھورتے ہوئے پوچھا: “تم یہ مکروہ کام کیوں کرتے ہو؟” شیراز کے منہ سے ایک کراہ سی نکلی، وہ بولا: “میں ایک خوبصورت لڑکی سے محبت کرتا تھا، مگر اس نے میرا بدصورت چہرہ دیکھتے ہی میرے منہ پر تھوک دیا۔ میں اسی روز سے خوبصورت لڑکیوں کا دشمن بن گیا… انہیں اغوا کر کے قتل کرتا اور پھر لاشیں کنویں میں ڈال دیتا…” یہ سن کر انسپکٹر صوفیہ نے بھی زہرخند نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے منہ پر تھوک دیا۔
لڑکی اپنی فیملی کے ساتھ ایک سفید کار میں بیٹھ گئی تو اس کے اندر لاوا سا کھولنے لگا، اور وہ اپنی سیاہ کرولا میں بیٹھ کر اس کے تعاقب میں چل پڑا۔ دونوں گاڑیاں متحرک ہو کر ایک ہی سمت بڑھنے لگیں۔ سفید کار کے دائیں بائیں دو موٹر سائیکل سوار لڑکے کار میں تانک جھانک کر رہے تھے۔ ایک لڑکا دراز قد اور خوبصورت تھا۔ شیراز اس سے بھی بیزار ہوا اور نظریں پھیر لیں۔
وہ اس لڑکی کا گھر دیکھ کر اسے گھیرنا چاہتا تھا۔ اس کے سرخ لب، نیلی آنکھیں، لمبے سیاہ بال، خوش نما چہرہ اور لمبا قد مقناطیسی کشش رکھتے تھے۔ اسے اپنی بدصورتی پر رنج ہوا اور یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے منہ پر تھوک دیا ہو۔ تبھی اس کی گاڑی کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ لہرا کر بے قابو ہو گئی، مگر اس کے مضبوط اعصاب کام آئے اور اس نے کار کو سنبھال لیا۔ البتہ پیچھے آنے والوں نے دو چار تبصرے ضرور کیے۔
اس نے نفرت سے انہیں دیکھا اور سفید کار کی طرف رفتار بڑھاتے ہوئے فاصلہ کم کرنے لگا۔ یہ تعاقب جوہر ٹاؤن فیز تھری میں، مغل آئی ہسپتال کے پاس واقع پارک کے کنارے ختم ہوا۔ سفید کار پارک کے نکڑ پر بنی خوبصورت کوٹھی کے گیٹ کے سامنے جا رکی۔ شیراز نے کوٹھی سے کچھ دور جا کر کار کو موڑا اور فرنٹ لان کی روشنی میں کوٹھی کو دیکھنے لگا۔
اس خوبصورت لڑکی کی کوٹھی بھی خوبصورت تھی، جہاں جگہ جگہ سے روشنی پھوٹ رہی تھی۔ پھر ایک دم اس کی آنکھوں میں حیرت کی بجلی دوڑ گئی۔ ایک لڑکا اپنی بائیک پارک کے جنگلے کے قریب روک کر لڑکی کی طرف بڑھا۔ شیراز نے پہچان لیا کہ یہ وہی تھا جو راستے میں اپنے دوست کے ساتھ کار کے ایک طرف موجود تھا۔ شیراز کے جبڑے سختی سے تن گئے اور اس کی آنکھوں میں نفرت بھر آئی۔ وہ خاموشی سے ٹکٹکی باندھ کر ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
لڑکی لڑکے کو دیکھ کر مسکرائی اور دونوں ایک دوسرے سے متعارف ہوئے۔ لڑکا تھوڑا سا جھکا اور کہنے لگا کہ وہ تو اسے دیکھ کر دیوانہ ہی ہو گیا ہے۔ لڑکی نے بتایا کہ اس کا نام سوہا ہے اور پوچھا کہ کیا وہ اس کا تعاقب کرتے ہوئے یہاں تک چلا آیا ہے۔ اس کے انداز میں کہیں بھی ناگواری نہیں تھی۔
پھر دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے لگے۔ دلوں میں صورتیں اترنے لگیں۔ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے اردگرد بہت سے رنگ برنگے موتی بکھر گئے ہوں۔ سوہا کی کزنز ہنستے مسکراتے ہوئے اس دوستی کو دیکھنے لگیں، جبکہ گیٹ کیپر ساکت سا ہو گیا تھا۔
تبھی لڑکا ہوش میں آیا اور اس نے اپنا نام وہاج بتایا۔ اس نے سوہا کو اگلی رات نو بجے ڈیلکس ریسٹورنٹ آنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہیں سے ان کی کہانی شروع ہوگی۔ سوہا نے ناصحانہ لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر وقت ملا تو آ جائے گی، مگر اسے بڑے خواب نہیں دیکھنے چاہئیں۔
اسی وقت سیاہ بادل زور سے گرجا تو لڑکی کار سمیت اندر چلی گئی۔ وہاج چند لمحے گیٹ کو گھورتا رہا، پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑایا کہ شاید ان کا ملنا آسمان کو پسند نہیں آیا۔ بادل دوبارہ گرجے تو وہاج نے بائیک اسٹارٹ کی اور سڑک کی طرف بڑھ گیا۔ کالی کار بھی متحرک ہو کر اسی سمت دوڑنے لگی۔
☆☆☆
اگلے روز رات آٹھ بجے سوہا اپنی نیلی کرولا میں نکلی اور رفتار بڑھاتی ہوئی مقررہ ریسٹورنٹ کی طرف بڑھنے لگی۔ اسی وقت سیاہ بادل برس پڑے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ وہ موسم کو پرتشویش نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ دراز قامت وہاج اس کے دل کو بھا گیا تھا۔ اس کی کشش نے سوہا کو اپنی جانب کھینچ لیا تھا، اسی لیے وہ اور تیزی سے گاڑی چلانے لگی۔ بجلی کی چمک اور سڑکوں پر نصب بلند پول لائٹس میں ماحول پراسرار دکھائی دے رہا تھا۔
اسی دوران اس نے سڑک کے دائیں جانب سفید لباس میں ملبوس ایک بزرگ کو دیکھا جو گاڑیوں کو ہاتھ دے کر لفٹ حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ سوہا نرم دل اور ہمدرد تھی۔ اس نے گاڑی بزرگ کے قریب لا کر روک دی۔ بوڑھا خوش ہو کر قریب آیا تو سوہا نے ساتھ والی نشست کا دروازہ کھول دیا۔ بارش میں شرابور بوڑھا سمٹ کر سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس نے انکساری سے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ سوہا نے جواب دیا کہ بزرگوں کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ بارش میں بھیگ رہے ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہ وہ وہاں کیوں کھڑا تھا۔
بوڑھے نے رومال سے چہرہ صاف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فیز تھری میں ایک دوست سے ملنے آیا تھا۔ وہ بے یار و مددگار تھا، دوست نے اس کی مدد کی یقین دہانی کرائی تھی مگر اس کی بیوی نے دروازے سے ہی اسے لوٹا دیا۔ وہ واپس جانے کے لیے لفٹ کے انتظار میں کھڑا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ وہ دعا کر رہا تھا کہ کوئی اللہ کا بندہ اسے لفٹ دے دے، اور اتنے میں سوہا آ گئی۔ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہا کہ وہ اس کے لیے اللہ کی رحمت ہے۔
سوہا تیزی سے ڈرائیونگ کرنے لگی۔ بادل گرجتے رہے اور بارش یوں برستی رہی جیسے پورے علاقے کو تالاب بنا دے گی۔ بوڑھا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد جب گاڑی ایک ہسپتال کے کیمپس کے قریب پہنچی تو اچانک ایک ٹھنڈی لوہے کی چیز سوہا کی کمر میں چبھنے لگی۔ وہ چونک گئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ریوالور کی ٹھنڈی نال اس کی کمر سے لگی ہوئی تھی۔ پستول بوڑھے کے بائیں ہاتھ میں تھا۔
سوہا نے غصے سے بوڑھے کو گھورا اور اس حرکت پر برہمی کا اظہار کیا، مگر بوڑھا خباثت سے ہنسا اور کہا کہ معاملہ چوری ڈاکے سے کہیں آگے کا ہے۔ سوہا نے خوف زدہ ہو کر اس کی بات کا مطلب پوچھا۔ بوڑھے نے سرد لہجے میں حکم دیا کہ وہ خاموشی سے گاڑی شہر سے باہر کی طرف لے چلے، ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ اس کے لہجے میں ایسی دہشت تھی کہ سوہا کانپ کر رہ گئی، حالانکہ وہ ایک نڈر اور دلیر لڑکی تھی۔
بوڑھا بدستور خباثت سے اسے گھور رہا تھا۔ مجبوراً سوہا نے گاڑی بائیں کے بجائے دائیں جانب موڑ دی۔ بارش اب کچھ ہلکی ہو گئی تھی، مگر بجلی کی چمک سانپ کی طرح بار بار آسمان پر لہرا جاتی، جس سے دل میں انجانا خوف اترتا جا رہا تھا۔ وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے خاموشی سے گاڑی چلا رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اس شخص نے کہا کہ اب وہ اسے بوڑھا نہیں بلکہ نوجوان کہے گی۔ اس نے اپنی مصنوعی داڑھی اور مونچھیں اتار کر پھینک دیں اور سفید چادر پچھلی سیٹ پر ڈال دی۔ اس تبدیلی کے بعد وہ جوان دکھائی دینے لگا، مگر اس کا چہرہ اب بھی بھدے ماسک میں چھپا ہوا تھا۔ سوہا نے سنبھل کر سخت لہجے میں کہا کہ وہ ایک بہروپیا ہے جو روپ دھار کر اس کا انتظار کر رہا تھا، مگر اس کی وجہ کیا ہے؟
اس نے مکاری سے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ اسے اغوا کر کے قبرستان کے ساتھ واقع ویران، آسیب زدہ بنگلے میں لے جانا چاہتا ہے۔ سوہا نے اس کی آنکھوں میں خونی چمک دیکھی تو اس کا دل دہل گیا۔ اس نے نوجوان کو گھورتے ہوئے کہا کہ کہیں وہ وہی بدمعاش تو نہیں جو نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر رہا ہے اور جس کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا؟ اس شخص نے اسے خاموشی سے گاڑی چلانے کا حکم دیا، اور سوہا کو اپنے سوال کا جواب مل گیا۔
شہر سے کئی لڑکیاں پراسرار طور پر غائب ہو چکی تھیں۔ سوہا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ وہ کسی بڑے خطرے میں پھنس چکی تھی۔ کل دو مرتبہ کالی بلی نے اس کا راستہ کاٹا تھا، اور آج سیاہ بادلوں کے مرغولے بھی کسی انہونی کی نشاندہی کر رہے تھے۔
☆☆☆
رات کے نو بج چکے تھے۔ دراز قد وہاج، جو گریجویشن کر چکا تھا اور اب کسی اچھی ملازمت کی تلاش میں تھا، ریستوران کی آخری نشست پر پھولوں کا گلدستہ سجائے اور مینو سامنے رکھے، ہال کے داخلی دروازے کی جانب حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ ساڑھے نو بجے تک اس کی نظریں منتظر ہی رہیں، مگر سوہا نہ آئی۔ اس کا موبائل بھی آف تھا۔ وہاج کے چہرے پر سیاہ بادل کی مانند شکنیں پڑ گئیں۔ وہ گلدستے پر اداس نگاہیں ڈال کر تیزی سے خارجی دروازے کی طرف بڑھا اور پارکنگ سے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے مین روڈ پر نکل آیا۔
وہ سوہا کے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ تقریباً سات بجے دونوں کے درمیان موبائل پر گفتگو ہوئی تھی۔ وہ پُرامید تھا کہ وہ ضرور آئے گی۔ دل لگی انسان کے لیے کبھی کچا دھاگا ہوتی ہے اور کبھی مضبوط ڈور۔ عین اسی وقت ہوا کی بوچھاڑ میں ایک زخمی الو کار کی ونڈ اسکرین پر آ گرا اور ایک کراہ کے ساتھ پھسلتا ہوا بونٹ سے زمین پر جا پڑا۔ وہاج کا مضبوط دل دھک دھک کرنے لگا۔ زخمی الو کا گرنا اسے بدشگونی محسوس ہوا۔ اس نے کار کی رفتار اور تیز کر دی۔
وہ سوہا کے گھر کے سامنے پہنچ کر بیل پر انگلی رکھ کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر بعد ملازم نے دروازہ کھول دیا۔ وہاج کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ میم سوہا کہاں ہیں، وہ ریستوران نہیں پہنچیں۔ ملازم نے حیران و پریشان ہو کر اسے دیکھا، پھر پورچ کی طرف نگاہ ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی نیلے رنگ کی کرولا میں باہر جا چکی ہیں، اس نے خود گاڑی کی صفائی کی تھی۔ اس نے مشورہ دیا کہ وہ ان کی کزنز اور سہیلیوں کو فون کر کے پوچھیں۔ ملازم اس کی شخصیت سے متاثر ہو کر الٹے پاؤں اندر بھاگا۔ کچھ دیر بعد سوہا کی کزنز بھی وہاں آ گئیں اور متفکر نگاہوں سے موبائل فونز پر رابطہ کرنے کی کوشش کرنے لگیں، مگر نتیجہ وہی رہا “ڈھاک کے تین پات”۔ سوہا کا موبائل مسلسل بند جا رہا تھا۔
فوراً ہی پولیس کو اطلاع دے دی گئی۔ انسپکٹر غفران ان کے محلے میں ہی رہتا تھا اور ایک ذہین سراغ رساں تھا۔ وہاج نے اسے فون پر صورتحال سے آگاہ کیا تو انسپکٹر غفران نے لیڈی انسپکٹر صوفیہ کے ہمراہ آنے کا عندیہ دیا۔ وہاج مین روڈ پر دونوں جانب نظریں دوڑاتا ہوا پل کے دوسری جانب نکل گیا۔ یہ سڑک یونیورسٹی کیمپس کی طرف جا رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ گاڑی چلاتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔ اس نے راستے میں گزرنے والے پھیری والوں کو روک کر پوچھ گچھ کی، مگر وہ کسی بھی واقعے سے لاعلم تھے۔
اب اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے اور وہ متفکر سا آگے بڑھنے لگا۔ تقریباً نصف فرلانگ آگے جا کر وہ ایک بوڑھے فقیر کے پاس جا رکا، جو سبز لباس پہنے بیٹھا جھوم رہا تھا۔ اس نے جیب سے کچھ روپے نکال کر فقیر کے کاسے میں ڈال دیے۔ فقیر نے دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تمہارا بھلا کرے لڑکے، اللہ تمہاری مرادیں پوری کرے۔ وہاج نے فقیر سے پوچھا کہ کیا اس نے ادھر سے اس کی دوست کو گزرتے ہوئے دیکھا ہے؟ اس نے موبائل میں سوہا کی تصویر فقیر کو دکھائی۔ بوڑھا غور سے تصویر دیکھنے لگا، پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔
فقیر نے بتایا کہ اس نے اس لڑکی کو تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے اسی طرف سے نیلی کار میں بیٹھ کر آگے جاتے دیکھا تھا۔ پھر اس کی نظر کچھ فاصلے پر پڑی تو وہ حیران رہ گیا۔ وہاں سفید چادر اوڑھے ایک شخص بارش میں کھڑا تھا، جسے وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ وہ زور زور سے ہاتھ ہلا کر گاڑی کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ فقیر کے مطابق، سوہا نے اس شخص کو اگلی سیٹ پر بٹھایا اور کچھ ہی دیر میں وہ کار نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
سفید لباس والا بوڑھا آدمی؟ وہاج کے ہونٹ نصف دائرے کی صورت میں سکڑ گئے۔ وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا ہوا ہسپتال کے کیمپس کی طرف آیا، گاڑی روکی اور باہر نکل کر پل پر جا پہنچا۔ وہاں ایک لڑکا چھابڑی لگائے ابلے ہوئے چنے بیچ رہا تھا۔ چاند کسی سراغ رساں کے انداز میں پل پر آ کر نیچے سے گزرنے والی گاڑیوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہاج کی توجہ چنے والے کی طرف اس لیے مبذول ہوئی کہ اس نے سڑک کے کنارے سے زرد رنگ کا ایک ٹشو پیپر اٹھا لیا تھا۔ ایسا ہی ایک ٹشو اسے اس جگہ سے بھی ملا تھا جہاں سے بوڑھا نیلے رنگ کی کرولا میں سوار ہوا تھا۔
وہاج نے پچاس روپے کا ایک نیا نوٹ لڑکے کو تھماتے ہوئے پوچھا کہ کیا ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نیلے رنگ کی کوئی کار اس طرف سے گزری تھی، جس میں یہ میم صاحبہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تھیں؟ اس نے سوہا کی تصویر لڑکے کو دکھائی۔ نوٹ پا کر خوش ہونے والا لڑکا تصویر دیکھتے ہی چونک اٹھا۔ اس نے بتایا کہ اس نے ان میم صاحبہ کو آہستہ آہستہ گاڑی اس طرف موڑتے دیکھا تھا، وہ پریشان دکھائی دے رہی تھیں۔ ان کے برابر والی نشست پر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کا ایک ہاتھ میم صاحبہ کی کمر کی طرف تھا۔
وہاج کے ہونٹ مزید سکڑ گئے۔ اس کے ذہن میں ایک ہی لفظ گونج رہا تھا، “اغوا”۔ اسے یقین ہو گیا کہ سوہا اغوا ہو چکی ہے اور یہ کام اس بوڑھے آدمی نے کیا ہے۔ اس نے غصے میں مٹھیاں بھینچتے ہوئے سوچا کہ اس کی محبت کو اس تک پہنچنے سے پہلے ہی چھین لیا گیا ہے، وہ اسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔
اسی وقت انسپکٹر غفران کی کار اس کے قریب آ کر رکی۔ اس کے ساتھ والی نشست پر لیڈی انسپکٹر صوفیہ بیٹھی تھی۔ انسپکٹر غفران کار سے اتر کر اس کے قریب آیا۔ وہاج نے اسے پوری صورتِ حال سے آگاہ کیا اور وہ زردی مائل ٹشو پیپر کے ٹکڑے بھی اس کے حوالے کر دیے جو اسے یہاں تک لے آئے تھے۔ انسپکٹر غفران نے اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ اس نے بنیادی کام کر دکھایا ہے۔ اس نے بتایا کہ اب تک جتنی لڑکیاں غائب ہوئی ہیں، انہیں ایک کالی کار میں اغوا کیا گیا ہے اور اغوا کرنے والا ایک لمبے قد کا جوان آدمی ہوتا ہے جس نے ماسک لگا رکھا ہوتا ہے۔
وہاج نے حیرت سے پوچھا کہ کیا عورتیں بھی اس کا نشانہ بن رہی ہیں؟ انسپکٹر نے بتایا کہ یہ ایک خطرناک نفسیاتی مریض ہے جو خوبصورت لڑکیوں کو اغوا کر رہا ہے، مگر اب تک اس کا یا اس کی کار کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ تاہم اب وہ اس کیس کو خود سنبھال رہا ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ اسے ضرور کیفرِ کردار تک پہنچائے گا۔ لیڈی انسپکٹر صوفیہ سوہا کی تصویر کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ انسپکٹر غفران اپنے موبائل فون پر متعلقہ تھانے کو سیاہ کار اور بوڑھے اغوا کار کے بارے میں آگاہ کر رہا تھا تاکہ پولیس شہر سے باہر بارڈر ایریا کی طرف پھیل جائے۔ سوہا کی کار کا نمبر مل چکا تھا اور اب باقاعدہ تلاش شروع کر دی گئی تھی۔
☆☆☆
سوہا کو قدیم بنگلے کے ہال میں بند کرنے کے بعد شیراز نے پستول جیب میں رکھا اور اس کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ سوہا نے نظریں چاروں طرف گھماتے ہوئے کمرے کا جائزہ لیا۔ ہال کی دیواروں پر ڈراؤنی تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ اسے اپنے جسم میں سنسنی دوڑتی محسوس ہوئی۔ وہ ایک دلیر اور نڈر لڑکی تھی، لیکن اس وقت وہ کافی خوفزدہ سی تھی اور سینے پر ہاتھ رکھے، اُس جنونی دیوانے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک بدشکل اور ڈراؤنا سا آدمی تھا۔ اس کی مسکراہٹ وحشیانہ اور آنکھوں میں نفرت کے انگارے سلگ رہے تھے۔
تبھی سوہا کو کئی معصوم لڑکیوں کے چہرے یاد آئے، جو گم ہو چکی تھیں اور ان کے والدین روتے رہ گئے تھے۔ “مسٹر! کیا ارادہ ہے…؟” سوہا نے جرات کرتے ہوئے زہرخند لہجے میں پوچھا۔ بدشکل شیراز نے انگلی سے بستر کی طرف اشارہ کیا، جس کی چھت پر چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی لائٹیں جل رہی تھیں۔ تبھی سوہا نے اپنی سینڈل اتار کر زور سے اس کے منہ پر دے ماری۔
وہ غصے سے دھاڑتا ہوا آگے بڑھا، سوہا دلیری سے کھڑی رہی۔ جب وہ اس پر جھپٹا، تو سوہا چکمادے کر ایک طرف ہوگئی اور میز پر رکھا لیمپ اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ وہ اس حملے سے بچ نہ سکا۔ اس کا سر پھٹ گیا اور خون دھاروں کی صورت میں بہنے لگا، مگر وہ وحشی اور جنونی نہ رکا اور جھپٹ جھپٹ کر سوہا کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ سخت جان اور طاقتور تھا، اس لیے سر کے زخم کو برداشت کر گیا۔ بہتے ہوئے خون نے اس کے چہرے کو اور بھی خوفناک بنا دیا تھا۔
ہال میں ان دونوں کی جنگ جاری تھی، لیکن سوہا کب تک اس طاقتور شخص کا مقابلہ کرتی؟ بالآخر شیراز پستول کے دستے کے وار سے اسے بے ہوش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اپنی ہوس پوری کرنے کے بعد اس نے سوہا کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور لاش اٹھا کر بنگلے کے صحن میں بنے گہرے کنویں کی طرف بڑھنے لگا، جہاں اس نے تیزاب ڈال رکھا تھا۔ کچھ دیر بعد سوہا کا خوبصورت مجروح جسم، تیزاب میں جل کر ہیبت ناک ہو چکا تھا۔
☆☆☆
پولیس چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں بازاروں، ریلوے اسٹیشنوں، مزاروں اور عام آبادیوں میں پھیل گئی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں سیاہ لباس پہنے ایک دراز قد آدمی کے خاکے تھے، جس نے اپنا چہرہ ماسک میں چھپا رکھا تھا۔ سر کے لمبے سیاہ بال گردن کی طرف لٹک رہے تھے اور گلے میں سیاہ ڈوری سے بندھا ہوا سیاہ رنگ کا تعویذ لٹک رہا تھا۔ اس نے اسے چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی، تصاویر کے ساتھ سیاہ رنگ کی کار کا خاکہ بھی بنا دیا گیا تھا۔ تین چار گھنٹے کی تلاش کے بعد بھی اس اغوا کار کا کوئی سراغ نہ ملا، البتہ بارڈر ایریا کے دو پیٹرول پمپوں کے کارندوں نے خاکہ دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا کہ اس شخص نے کئی بار ان کے پمپ سے گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا ہے اور کئی بار پیٹرول کے گیلن بھی لے کر گیا ہے۔ وہ اس کی کار میں عورتوں کو بھی ساتھ والی یا پچھلی نشست پر بیٹھا دیکھ چکے تھے۔ وہ انہیں کچھ روپے زیادہ دے کر خوش کر دیا کرتا تھا۔
انسپکٹر غفران اپنے اسسٹنٹ فرحان، رؤف، ابراہیم اور اسرار کے ساتھ بارڈر ایریا کے ایک ٹیلے پر سڑک کو ختم ہوتا دیکھ کر ماحول کا طائرانہ جائزہ لیتے ہوئے پرانے قبرستان کی طرف بڑھ گئے تھے۔ تبھی اچانک ایک لڑکا پولیس کو دیکھ کر آم کے ایک درخت سے چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور پراعتماد انداز میں آموں کا گچھا ہاتھ میں لیے سامنے آ کھڑا ہوا۔ “آپ پولیس انسپکٹر معلوم ہوتے ہیں۔”
“تمہارا خیال ٹھیک ہے، کیا کچھ بتانا چاہتے ہو؟” انسپکٹر غفران نے اس کے چہرے کو پڑھتے ہوئے کہا۔
“صاحب، میں بتانا چاہتا ہوں،” اس نے دردناک لہجے میں کہا، پھر خوف زدہ انداز میں ادھر ادھر دیکھ کر دوبارہ بولا۔ “میں نے اخبار میں اغوا کار سیاہ پوش کے بارے میں پڑھا ہے۔ وہ لڑکیوں کو اغوا کرتا ہے۔ باغ میں بھی اس نے ایک لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی تھی، مگر پھر وہ گر پڑا اور بھاگ نکلا۔ مگر… مگر… میری بڑی باجی تین دن سے گھر سے غائب ہیں۔ میرا بوڑھا باپ انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا ہے۔ میں بھی انہیں تلاش کر رہا ہوں، مگر وہ نہیں ملتیں۔” لڑکے کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔ پھر وہ قبرستان کے آخری سرے کی طرف موجود خستہ حال بنگلے کی جانب انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا: “ادھر ایک بھوت رہتا ہے۔ میں نے ایک دن آم کے درخت سے اتر کر دبے پاؤں اس کا تعاقب کیا اور بنگلے کے قریب چلا گیا، لیکن تبھی اچانک مجھے چھینک آ گئی۔ وہ بھوت چونک کر مڑا تو میں بھاگ کر درخت کے تنے کے پیچھے چھپ گیا۔ اس بھوت کی انگلیوں سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں۔ اس نے مجھے ڈرانے کے لیے چند شعلے درخت کے گرد پھینکے تو خشک جھاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ تب میں جھاڑیوں میں چھپتا ہوا سڑک کی دوسری جانب ٹیلے پر واقع اپنے پرانے گھر میں جا پہنچا م”۔
وہ لڑکے کو ساتھ لے کر ہاتھ میں ریوالور لیے آگے بڑھنے لگا۔ اسی وقت باغ نما جگہ پر ایک کرخت اور ڈراؤنا سا قہقہہ گونج اٹھا۔ پولیس اہلکار ٹھٹھک کر رک گئے تو انسپکٹر کی تیز آواز ان کے کانوں میں پڑی: “بندوقیں تان کر آگے بڑھتے رہو… یہ محض ریکارڈنگ ہے، لوگوں کو ڈرانے کے لیے۔ اندر بھوت کے لبادے میں ایک بھیڑیا چھپا ہوا ہے۔”
وہ چلتے چلتے بھوت بنگلے کے دروازے کے سامنے جا پہنچے۔ بنگلے کے اردگرد اونچی گھاس اگی ہوئی تھی۔ جب ہوا کے تیز جھونکے شائیں شائیں کا شور مچاتے ہوئے اس میں سے گزرتے تو خاموشی کی روح تک لرز جاتی۔ بنگلے کے گیٹ پر ایک بڑی سی انسانی کھوپڑی نصب تھی، جس کی آنکھوں سے سرخ روشنی نکل کر ایک ڈراؤنا منظر پیش کر رہی تھی۔ انسپکٹر غفران نے دو فائر کر کے اس کھوپڑی کو اڑا کر رکھ دیا۔ یہ دیکھ کر لڑکا خوشی سے سرشار ہو کر بولا: “آپ ضرور اس کو پکڑ لیں گے۔”
انسپکٹر آگے بڑھا اور بنگلے کے سال خوردہ دروازے پر دباؤ ڈالا، جو اندر سے بند تھا۔ اس نے اپنے ماتحت اسرار کو دیوار پھلانگ کر اندر سے گیٹ کھولنے کا اشارہ کیا۔ اسرار فوراً متحرک ہوا، مگر اسی وقت بنگلے کے گیٹ کے دونوں جانب درختوں پر دو زور دار دھماکے ہوئے۔ بارود پھٹنے سے آگ کے شعلے اڑتے ہوئے نیچے گرنے لگے۔ انہیں الٹے قدموں ادھر ادھر بھاگنا پڑا۔ سب دوڑتے ہوئے آگ کے بکھرتے شعلوں سے دور آ کر ایک ٹیلے کے پاس رک گئے۔ انسپکٹر غفران نے ایک اہلکار سے رائفل لے کر فضا میں گھمائی، پھر بنگلے سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر ابھرے ہوئے ایک خشک ٹیلے پر نشانہ جما دیا، جہاں بنگلے کا بھوت موجود تھا۔ اسی وقت نشری نظام پر بھوت کی بھاری اور بارعب آواز سنائی دی: “پولیس والو! اس طرف نہ آنا، ورنہ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گے اور تمہاری جلی ہوئی لاشیں دوسرے پولیس والوں کو درختوں سے اتارنی پڑیں گی۔”
انسپکٹر غفران نے اس کی موجودگی محسوس کر کے اس سمت مسلسل فائرنگ کی، مگر وہ کھڑا قہقہے لگاتا رہا۔ گولیاں اس کے جسم سے ٹکرا کر اچھلنے لگیں۔ تبھی انسپکٹر نے غضب ناک ہو کر چلا کر کہا: “اے بہروپیے انسان! آج میں جا رہا ہوں، مگر اگلی بار تمہیں گھسیٹ کر اس بنگلے سے باہر نکالوں گا۔ موت تمہاری منتظر ہوگی۔” بھوت بھی چلا کر بولا۔
انسپکٹر غفران ساتھیوں سمیت مین روڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ دانت پیس رہا تھا، مگر ابھی وہ مکمل تیاری کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ اس وقت پسپا ہونا ہی بہتر تھا۔ انسپکٹر نے لڑکے کو گھر کی طرف روانہ کرتے ہوئے کہا: “بے فکر رہو، اب یہ بہروپیا مجرم میرے ہاتھوں سے بچ نہیں سکتا۔”
اگلے روز اس نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ بلٹ پروف جیکٹس پہن کر ہیلی کاپٹر کی مدد سے بنگلے کی چھت پر کود کر آپریشن کیا، مگر بنگلہ خالی تھا۔ انہیں کوئی سراغ بھی نہ مل سکا، البتہ ایک گہرے کنویں سے لڑکیوں کے ڈھانچے نکال کر انہیں پولیس تحویل میں لے لیا گیا۔ ایک پرانی بندوق کندھے سے لٹکائے سامنے والی بستی کا چوکیدار انسپکٹر غفران کے سامنے آ بیٹھا اور مستفسر نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔
“شیر خان! اس بنگلے کا بھوت کب سے دہشت پھیلا رہا ہے؟” انسپکٹر غفران نے استفسار کیا۔
“انسپکٹر صاحب! بس یہی کوئی دو ڈھائی سال قبل یہ بنگلہ آسیب زدہ ہوا ہے اور انگلیوں سے آگ کے شعلے پھینکنے والے بھوت کی دھاک بستی اور اطراف میں پھیل گئی ہے۔ کچھ بہادر شکاری برسات کے موسم میں موسلا دھار بارش سے بچنے کے لیے بنگلے میں داخل ہوئے، لیکن پھر انہیں دور سے گزریوں نے بدحواسی کے عالم میں گرتے پڑتے بھاگتے دیکھا۔ پولیس والوں نے دن کے وقت بنگلے کا مکمل جائزہ لیا، مگر نہ بھوت ملا اور نہ کوئی اور سراغ دریافت ہوا۔ تب وہ رات میں بھی وہاں پہرہ دینے لگے۔ پھر اچانک ایک سپاہی لاپتہ ہو گیا اور صبح سورج کی روشنی پھیلتے ہی اس کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی دکھائی دی۔ اس کا جسم جلا ہوا تھا۔ پولیس والے گھبرا کر وہاں سے کھسک گئے۔ بھوت کی دہشت اس وقت اور پختہ ہو گئی جب اس نے دو اور پولیس والوں کو قتل کر کے درختوں سے لٹکا دیا۔ تب سے پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی، مگر اب آپ جیسے شہرت یافتہ سراغ رساں کے آنے کے بعد پولیس والے اور بستی کے لوگ پرامید ہیں کہ آپ بھوت کی گردن ناپ لیں گے۔” چوکیدار نے ایک اخبار میں انسپکٹر غفران کی چھپی تصویر اور کارنامے دیکھتے ہوئے کہا۔
انسپکٹر نے مسکرا کر اخبار دیکھا اور اسے لوٹا دیا۔ “چوکیدار! میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہو نہ ہو، وہ بھوت کوئی باغی قسم کا نوجوان ہے، جس کا تعلق قریب کی کسی بستی سے جڑا ہوا ہے۔”
“ایسا ممکن ہے،” چوکیدار کچھ سوچتا ہوا بولا، پھر اس پر جوش کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ چونک کر بولا۔ “انسپکٹر صاحب! اس بستی کی بوڑھی بیوہ ذکیہ بی بی کا اکلوتا بیٹا دو تین سال پہلے غائب ہو گیا تھا۔ آپ ان سے کچھ معلومات لے سکتے ہیں۔ بڑھیا بیچاری آج بھی اپنے بیٹے کی راہ دیکھتی رہتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں بیٹے کی محبت بسی ہوئی ہے۔ وہ اس کا واحد سہارا تھا۔ بی بی ذکیہ کا کہنا ہے کہ وہ جیون جوگا کبھی کبھی کسی رات آ کر ملنے کے بعد صبح سویرے غائب ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے، بس وہ کسی وجہ سے خفا ہو کر گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ وجہ مجھے معلوم نہیں، وہ ذکیہ بی بی ہی بتا سکتی ہے۔” چوکیدار یہاں تک کہہ کر خاموش ہو گیا۔
☆☆☆
ذکیہ بی بی، جن کا گھر بستی کے اختتام پر واقع دس فٹ اونچے ٹیلے پر تھا، انسپکٹر غفران سے مل کر کچھ پُرامید ہوئیں۔ “انسپکٹر! چوکیدار نے مجھے بتایا تھا کہ آپ ذہین، دلیر اور کھوجی طبیعت کے مالک ہیں۔ آپ ضرور میرے بیٹے کو ڈھونڈ کر لے آئیں گے۔ میرا بیٹا کبھی کبھی اچانک مجھ سے ملنے چلا آتا ہے، لیکن ممتا کے پھول کھلتے ہی وہ مجھے چھوڑ کر اچانک چلا جاتا ہے اور میں پھر راستہ تکنے لگتی ہوں۔ میری ممتا کی پیاس اور بھڑکنے لگتی ہے۔”
“ذکیہ بی بی! میں آپ کا دکھ سمجھتا ہوں، مگر جب تک آپ مجھے یہ نہ بتائیں گی کہ وہ گھر چھوڑ کر کیوں گیا اور اس نے بستی کی زندگی کو خیرباد کیوں کہا، میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔” انسپکٹر غفران نے اپنی نگاہیں اس کے چہرے پر جما دیں، جس کی جھریوں میں زندگی کا کرب سمایا ہوا تھا۔
اس کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ وہ پلو سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے گومگو کی کیفیت میں بولی: “آپ بڑے سراغ رساں ہیں، آپ کو تو سب بتانا ہی پڑے گا۔ اس بستی کی خوبصورت لڑکی زمرد کی ایک گائے گم ہوگئی تھی۔ میرا بیٹا چراگاہوں اور ادھر ادھر گائے تلاش کر کے اسے واپس کرنے ان کی حویلی چلا گیا۔ وہ امیر لوگ ہیں اور میں ایک غریب بڑھیا ہوں۔ بدقسمتی سے میرا بیٹا بہت بدشکل ہے۔ محلے کے بچے اس سے ڈرے رہتے تھے۔ پھر ایک حادثے میں اس کا چہرہ اور بگڑ گیا۔ تب سے اس نے مستقل طور پر ماسک میں اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ اسی دوران زمرد اور میرے بیٹے شیراز میں میل جول بڑھا اور ان کی دوستی ہوگئی۔ ایک رات وہ دونوں ویران بنگلے میں جا پہنچے۔ زمرد نے میرے بیٹے سے کہا کہ وہ اسے اپنا چہرہ دکھا دے، ورنہ وہ اب اس سے نہیں ملے گی کیونکہ انسان کی شناخت تو چہرے سے ہی ہوتی ہے۔ میرے بیٹے نے کہا کہ ابھی اس کا علاج ہو رہا ہے، مگر وہ نہ مانی۔ تب میرے بیٹے نے اسے اپنا چہرہ دکھا دیا۔ وہ چیخ مار کر بھاگ نکلی۔ شیراز اس کے پیچھے بھاگا، اتنے میں ویران بنگلے کا دروازہ کھول کر چوکیدار اندر داخل ہوا۔ اس نے شیراز کا پیچھے بھاگنا مجرمانہ فعل سمجھا اور اپنی چھڑی سے اسے مارنے لگا۔ زمرد بھاگ کر گھر چلی گئی۔ شیراز دوبارہ اس سے ملا تو زمرد نے میرے بیٹے پر تھوک دیا۔ اس کے دل میں آگ سی لگ گئی۔”
“وہ اس ظالم لڑکی اور اس بستی سے بھاگ کر کہیں دور چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد زمرد بھی غائب ہوگئی تو اس کے باپ نے میرا جینا حرام کر دیا۔ پھر اخبار والوں نے میری جان چھڑائی۔ پولیس نے بھی یہ نظریہ قائم کیا کہ اس معاملے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ کہا گیا کہ کوئی آوارہ بدشکل لڑکا اس لڑکی کو اٹھا کر لے گیا تھا۔ پھر ایک دن بستی کے چوک میں اس لڑکی کی لاش پڑی ملی۔ میں اس دن اپنی بہن سے ملنے شہر گئی ہوئی تھی، اس لیے میری جان بخشی ہوگئی۔” یہاں تک کہہ کر بڑھیا خاموش ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے۔ تبھی لیڈی انسپکٹر صوفیہ نے ٹشو پیپر سے اس کے آنسو پونچھے۔ “ہم آپ کا خیال رکھا کریں گے۔” یہ کہتے ہوئے وہ اور انسپکٹر غفران اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
☆☆☆
رات کو ذکیہ بی بی اپنی چارپائی صحن میں بچھا کر پیڈسٹل فین کی ہوا میں اداس آنکھوں سے آسمان کو تکتی ہوئی سو گئی تھی۔ کوئی ستارہ اس کے آنگن میں نہیں اتر سکتا تھا۔ سوچتے سوچتے نیند نے اسے اپنے بازوؤں میں سمیٹ ہی لیا تھا کہ اچانک ایک دھماکا سا ہوا اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ زرد بلب کی روشنی میں اس نے چارپائی سے چند گز آگے ایک سیاہ پتھر پڑا دیکھا، جس کے ساتھ ایک کاغذ بھی لپٹا ہوا تھا۔ وہ تجسس کے عالم میں اٹھی اور قریب جا کر پتھر کو اٹھا کر دیکھنے لگی۔ گول سیاہ پتھر پر ٹیپ سے کاغذ چپکا ہوا تھا۔ ذکیہ بی بی نے ادھر ادھر دیکھا اور ٹیپ اتار کر کاغذ کو پھیلایا۔ اس پر لکھا تھا:
“اماں، میں آج رات تم سے ملنے آنا چاہتا تھا مگر پولیس کے کارندے گھر کے باہر گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ میں نے دوربین سے انہیں دیکھ لیا ہے۔ تم کل رات بارہ بجے کے قریب پرانے کنویں کے پاس پھیلے کھنڈر میں مجھ سے ملنے کے لیے آ جانا۔ مجھے تمہاری دعا کی ضرورت ہے۔ میرے دشمن بڑھتے جا رہے ہیں۔”
ذکیہ نے کاغذ اپنے لباس میں چھپایا اور چارپائی پر لیٹ کر اپنے بیٹے کی یادوں میں کھو گئی۔
اگلی رات وہ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر ویران راستہ اختیار کرتی ہوئی پرانے تالاب کے قریب واقع کھنڈر کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ جوش کے عالم میں تیز تیز چل رہی تھی۔ اسے اس وقت بڑھاپے کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ بیٹے کا سراپا اس کی نگاہوں میں سمایا ہوا تھا۔ خیالات میں کھوئی ہوئی وہ پرانے تالاب کے کھنڈر میں جا پہنچی اور اپنے بیٹے کو ادھر ادھر تلاش کرنے لگی۔ اچانک ایک موڑ پر شیراز اس کے سامنے آ کر اس کے سینے سے لگ گیا۔ ماں کے کلیجے میں ٹھنڈک سی پڑ گئی اور وہ اس کے لیے دعا گو ہو گئی۔
دوسری طرف، جن لڑکیوں کو اس نے برباد کر کے قتل کیا تھا، ان میں سے دو اب بھی اس کی قید میں تھیں۔ ان کے لواحقین، رشتہ دار اور ماں باپ جھولیاں اٹھا اٹھا کر اسے بددعائیں دے رہے تھے۔ ان کی نگاہیں آسمان کی طرف تھیں۔ انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کی آوازیں عرش کی طرف پرواز کر رہی ہوں۔ ایک ماں کی دعا کے مقابلے میں سینکڑوں مظلوموں کی بددعائیں تھیں۔
☆☆☆
رات کے وقت پھلوں سے بھرے دو ٹرک بارڈر ایریا کی خستہ حال سڑک پر قبرستان کے ساتھ ساتھ سفر کر رہے تھے۔ سڑک کے اختتام پر خاردار جھاڑیوں سے بھرا ہوا ایک میدان دور تک پھیلا ہوا تھا، جس کے دوسرے کنارے پر ایک پرانی پن چکی اور گودام واقع تھا۔ یہ عمارت گول دائرے کی صورت میں بنی ہوئی تھی۔
ٹرک کچے راستے پر اتر کر گودام کے گیٹ کی طرف بڑھنے لگے۔ قریب پہنچ کر ڈرائیوروں نے تین بار ہارن بجایا تو گیٹ کھل گیا۔ ڈرائیور ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے ٹرکوں کے ساتھ اندر داخل ہو گئے۔ وہ چوکنے اور محتاط تھے، کیونکہ انہیں پولیس کی موجودگی سے آگاہ کر دیا گیا تھا، مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ قبرستان کے پاس سے گزرتے وقت اونچے درختوں کی شاخوں پر بیٹھے دو سیاہ لباس والے پھرتیلے آدمی ٹرکوں پر کود کر اندر آ پہنچے تھے۔
گودام کے اندر روشنی ہوئی تو کچھ لوگ باہر نکل آئے۔ مال کی نگرانی پر مامور پولیس اہلکار بھی ریوالور ہاتھوں میں لیے ٹرکوں کی دیواروں میں پاؤں جما کر نیچے اترنے لگے۔ گودام کے مزدور ٹرک میں لدا ہوا پھل اتارنے لگے۔ اسی وقت گودام کے اندر سے چند مزید افراد برآمد ہوئے اور پھلوں کے نیچے دبی منشیات کی پیٹیاں اتارنے لگے۔ وہ پیٹیاں اٹھا کر گودام کے عقبی حصے میں ایک چبوترے پر ایستادہ بندر کے مجسمے کی دم کھینچتے تو فرشی زینہ کھل جاتا، جس سے وہ تہ خانے میں اتر جاتے۔ تہ خانے کے بڑے دروازے کے باہر سے منشیات فروخت کی جاتی تھی۔ پورا شہر بدقسمتی سے منشیات کی زد میں تھا۔ اسکول کے لڑکے لڑکیاں بھی اس لعنت میں مبتلا تھے؛ نوجوان نسل کی زندگیاں اور مستقبل تباہ و برباد ہو چکے تھے۔
دونوں پولیس اہلکار منشیات فروشوں کے تہ خانے میں اترنے کا منظر دیکھ کر محتاط انداز میں واپس مڑے اور گودام کا جائزہ لینے کے بعد موبائل میسج کے ذریعے انسپکٹر غفران کو صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔ اس نے انہیں تہ خانے میں اترنے اور ایکشن لینے کا حکم دے دیا۔ دونوں سپاہیوں نے مزدوروں کے جانے کا انتظار کیا۔ سناٹا چھاتے ہی انہوں نے بندر کی دم کو جھٹکا دیا اور ریوالور ہاتھوں میں لیے سیڑھیاں اترنے لگے۔ وہاں ہلکی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ زینے کے اختتام پر لکڑی کا ایک دروازہ تھا۔ وہ اسے دھکیل کر ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے، جس کی دیواروں کے ساتھ لکڑی کی بڑی بڑی پرانی الماریاں لگی ہوئی تھیں اور کچھ لوگ ان میں سے منشیات نکال کر پیٹیوں میں منتقل کر رہے تھے۔
ہال کے وسط میں لٹکتے روشن فانوس کے نیچے لکڑی کا ایک چوکور کمرہ تھا، جو میٹنگ روم معلوم ہوتا تھا۔ دونوں سپاہی زینے کے دائیں بائیں رکھے پیٹرول کے قد آدم ڈرموں کے پیچھے چھپ کر ہال کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان کی انگلیاں پستول کے ٹریگر پر تھیں۔ ہال میں جگہ جگہ مسلح افراد کھڑے مال کی منتقلی دیکھ رہے تھے۔ وہ اکتائے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ اسی وقت منشیات کے بکس اٹھائے کچھ افراد تہ خانے کی مغربی دیوار تک جانے والی سیڑھیوں سے اوپر جانے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں لوگوں کے ناموں والی چٹیں تھیں، جن پر مال کی مقدار درج تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دونوں سپاہیوں نے پیچھے ہٹ کر ڈرموں کو ترچھا کر کے ہال کے فرش پر آگے کی طرف لڑھکا دیا۔
آواز سن کر مسلح افراد چونک کر اس طرف متوجہ ہوئے تو سپاہی فوراً ایک ستون کی آڑ میں چلے گئے۔ مسلح افراد لڑھکتے ڈرموں کو روکنے کے لیے آگے بڑھے، اور یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ دونوں سپاہیوں نے فوراً ان ڈرموں پر فائرنگ کر دی۔ یکدم پیٹرول کے ذخیرے میں آگ لگ گئی اور دھماکوں کے ساتھ شعلے بھڑک اٹھے۔ ہال کراہوں اور چیخوں سے گونج اٹھا۔ زد میں آنے والوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ اسی وقت تہ خانے کی مغربی دیوار میں زینے کے اوپر لگا لکڑی کا دروازہ ایک دھماکے سے اڑ گیا، جس پر سارجنٹ فرحان نے بم دے مارا تھا۔ اس کے ساتھیوں نے دروازے کے خلا میں کھڑے ہو کر باقی افراد کو کور کر لیا۔ ایک نے پستول چلانے کی کوشش کی تو اسے بھون کر رکھ دیا گیا۔
“خبردار! اپنے ہاتھ سر سے بلند کر کے باہر نکلو!” فرحان گرجا۔ “ہمارا بھوت تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا،” ایک شخص غصے سے چلایا، “تم یہاں سے بچ کر نہیں جا سکو گے۔” “اب اس بھوت کا ہی نمبر ہے،” سارجنٹ فرحان نے پستول لہراتے ہوئے کہا۔
عین اسی لمحے ہال میں خوفناک قہقہے گونجنے لگے۔ فرحان چونک گیا۔ اس نے چھت کا جائزہ لیا۔ آواز چھت میں بنے روشن دان سے آ رہی تھی۔ اس نے وہاں دو فائر کیے، مگر پراسرار بھوت روشن دان کی سلاخوں سے غائب ہو چکا تھا۔
☆☆☆
آدھی رات کا وقت تھا، تبھی خوفناک چہرے والا بدشکل شیراز گودام کی گول عمارت کا ایک پتلا سا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ اس کی سرخ آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔ اس نے دائیں بائیں نگاہ ڈالی اور پرانے بنگلے کی طرف بڑھنے لگا۔ پن چکی کے عقب میں یہ عمارت بڑی پراسرار دکھائی دے رہی تھی۔ اسی وقت تیز ہوا کے جھونکوں سے پن چکی کے پر گھومنے لگے۔ تیز ہوا میدان میں پڑے تنکے اڑانے لگی، فضا میں گرد سی پھیل گئی اور ماحول سنسنی خیز ہونے لگا۔ وہ ادھر ادھر نگاہ ڈالتا، پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چل رہا تھا۔ اس کا لباس سیاہ اور سفید تھا، چہرہ سرخی مائل، ڈراؤنا اور لمبوترا، آنکھوں میں خوفناک سرخ چمک اور دو مڑے ہوئے سینگ بالوں میں ابھرے ہوئے تھے۔ اس کی انگلیوں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔
وہ اپنی آمد کی دہشت پھیلاتا ہوا وہاں سے گزر رہا تھا۔ درختوں اور چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے پیچھے چھپے پولیس والوں نے اسے للکارتے ہوئے رکنے کا اشارہ کیا، تو وہ ایک بھیانک قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔ پولیس اہلکاروں نے مشتعل ہو کر فائر کھول دیا، مگر اس پر گولیوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ انسپکٹر غفران دور ایک درخت پر بیٹھا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ وہ تیزی سے نیچے اترا اور دوڑتا ہوا اس طرف آنے لگا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں ریوالور تھے، لیکن شیراز بنگلے کی دیوار کے قریب جا کر زمین میں کہیں غائب ہو گیا۔ انسپکٹر غفران نے قریب آ کر زمین کا ناقدانہ جائزہ لیا، لیکن اسے کوئی راستہ نہ مل سکا۔
شیراز نے بنگلے کے سامنے والے میدان کے سرے پر واقع اپنی خفیہ پناہ گاہ میں آ کر سکون کا سانس لیا اور بوتل سے سرخ محلول نکال کر پینے لگا۔ اس نے اس ویران ٹیلے میں ایک بڑا کمرہ بنوا رکھا تھا، جس میں دونوں جانب دروازوں کے نیچے زمین تک سیڑھیاں بنوائی گئی تھیں۔ اپنی اس خفیہ قیام گاہ سے صرف وہی واقف تھا۔ اس کے کمرے کے ساتھ واش روم، کچن اور چھوٹا سا سرسبز و شاداب صحن بھی تھا۔ ٹیلے کا صرف یہی حصہ شاداب تھا، باقی ساری جگہ بنجر تھی۔ یہاں کھانے پینے کی اشیاء کافی تعداد میں موجود تھیں۔ اسلحہ اور گولہ بارود بھی تھا؛ وہ دو دن تک اس قیام گاہ میں چھپا رہا۔ پولیس اسے میدان کے اطراف اور بستیوں میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک کر واپس چلی گئی۔
تیسری رات وہ ٹیلے کے اوپری حصے سے میدان اور جنگل کا جائزہ لے رہا تھا، تبھی اس نے دوربین کے شیشوں میں ایک خوبصورت لڑکی کو کمر پر گھڑا رکھے آتے دیکھا۔ یہ دیکھ کر وہ جلدی سے نیچے اترا اور قیام گاہ سے نکل کر تالاب کی طرف بھاگنے لگا۔ ماحول سنسان اور خاموش تھا۔ پولیس والے مایوس ہو کر شہر جا چکے تھے۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ تالاب کے قریب درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر سانس درست کر رہا تھا۔ اس کی نگاہیں مسلسل لڑکی پر جمی ہوئی تھیں، جو گھڑا بھرنے کے بعد سہانے موسم میں گنگناتی ہوئی تالاب کے کنارے ٹہل رہی تھی۔ اس نے سرخ رنگ کا ایک خوبصورت جنگلی پھول بھی توڑ کر بالوں میں سجا لیا تھا۔
شیراز، جو اس وقت چہرہ ماسک میں چھپائے اپنے اصلی روپ میں تھا، ایک پھول ہاتھ میں لیے دبے پاؤں لڑکی کی طرف بڑھنے لگا، مگر لڑکی غافل نہیں تھی۔ اس نے ترچھی ہو کر اچانک ہی اسے نظروں میں لے لیا تھا۔ “تم کون ہو اور یہاں کیا لینے آئے ہو؟ ادھر مردوں کا داخلہ منع ہے۔” لڑکی نے سخت لہجے میں اسے گھورا، “اس طرف صرف لڑکیاں ہی پانی بھرنے آتی ہیں۔”
“بس کیا بتاؤں اچھی لڑکی! میری منگیتر ایسی ہی چاندنی رات میں گم ہوگئی تھی۔ میں راتوں کو اسے ڈھونڈتا پھرتا ہوں کہ شاید کہیں مل جائے۔” “تم نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی؟” لڑکی نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔ “ہاں مس، کروائی تھی اور بھی کئی جتن کیے مگر وہ ابھی تک نہیں ملی۔ میں راتوں کو سو نہیں سکتا، اس لیے کار لے کر گھومنے نکل آتا ہوں۔ میری گاڑی کا پانی اس بھوت بنگلے کے سامنے ختم ہوا، تو میں گھومتا ہوا ادھر نکل آیا۔ میں راتوں کو تالاب یا سوئمنگ پول میں نہانے کا شوق رکھتا ہوں۔” “تم چلتے پھرتے اچکے اور لوفر لگتے ہو۔” لڑکی نے اس کے بڑھتے قدموں کو دیکھ کر ڈانٹ سنائی۔
“اب تو میں تمہیں اچک کر ہی جاؤں گا۔ تم بے حد خوبصورت ہو۔ اپنا چہرہ تو دکھاؤ، تم خوبصورت ہو یا بدصورت…” لڑکی نے ایک مسکراہٹ اچھالی۔ شیراز نے ماسک نہ اتارا؛ وہ لڑکی کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا اور اچانک تیزی سے آگے بڑھ کر اس کو اٹھانے کی کوشش کی۔ لڑکی نے مزاحمت کی مگر وہ اسے دبوچ کر کندھے پر ڈالنے میں کامیاب ہوگیا اور بنگلے کے عقبی دروازے سے اندر داخل ہوتا ہوا بڑے ہال میں آ گیا، جہاں ایک شاندار گداز بستر کے اوپر چھت پر رنگین لائٹیں جل بجھ رہی تھیں۔
اس نے لڑکی کو بستر پر ڈال دیا، تبھی لڑکی کی لات اس کے منہ پر لگی۔ وہ غصے سے سرخ ہو کر غرایا، لیکن اگلے لمحے لڑکی نے اچھل کر جوڈو کا پوز بنایا اور بستر سے اتر آئی۔ شیراز بازو پھیلا کر اس کی طرف لپکا۔ لڑکی نے گھوم کر ٹانگ اس کی گردن پر ماری، وہ کئی قدم لڑکھڑا گیا، مگر پھر دیوانہ وار لڑکی پر حملہ آور ہوا۔ دونوں کے درمیان لاتیں اور گھونسے چل گئے۔ شیراز کے منہ سے خون کی لکیریں بہہ رہی تھیں، تو لڑکی کے جبڑے پر نیل پڑ گیا تھا۔ وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ “آگے آؤ درندے! تمہاری تو میں چمڑی اتار کر رکھ دوں گی۔”
یہ لڑکی دراصل انسپکٹر صوفیہ تھی۔ وہ دیوانہ وار اس پر جھپٹا، اسی وقت ہال کے روشن دان سے ایک پھندا اچھل کر پھیلتا ہوا اس کے سر سے گزر کر کندھوں پر آ پڑا۔ پھندے کو جھٹکا لگا اور اس کے کندھے جکڑ دیے گئے۔ اس نے غصے سے روشن دان کی طرف دیکھا، جس کا شیشہ اٹھا ہوا تھا اور انسپکٹر غفران اس کے چھجے پر پھندا پکڑے بیٹھا تھا۔ اسی وقت پولیس اہلکار اندر آ گئے۔ بنگلے پر اب پولیس کا قبضہ تھا۔
بعد ازاں معلوم ہوا کہ شیراز انگلیوں میں پتلی پتلی آتشی پستولیں لگا کر شعلے پھینکا کرتا تھا، جو ٹیلے والی قیام گاہ سے برآمد کر لی گئی تھیں۔ بلٹ پروف بھوت لباس بھی وہاں سے ملا۔ وہاں سے ملنے والی لڑکیوں میں ایک غلیل والے لڑکے کی بہن بھی تھی۔ اسی وقت انسپکٹر صوفیہ آگے بڑھ کر شیراز کے مقابل کھڑی ہو گئی اور اسے گھورتے ہوئے پوچھا: “تم یہ مکروہ کام کیوں کرتے ہو؟” شیراز کے منہ سے ایک کراہ سی نکلی، وہ بولا: “میں ایک خوبصورت لڑکی سے محبت کرتا تھا، مگر اس نے میرا بدصورت چہرہ دیکھتے ہی میرے منہ پر تھوک دیا۔ میں اسی روز سے خوبصورت لڑکیوں کا دشمن بن گیا… انہیں اغوا کر کے قتل کرتا اور پھر لاشیں کنویں میں ڈال دیتا…” یہ سن کر انسپکٹر صوفیہ نے بھی زہرخند نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے منہ پر تھوک دیا۔
(ختم شد)

