یہ واقعہ برصغیر کی تقسیم سے قبل کا ہے، جب میرا بھائی بریلی کالج میں زیرِ تعلیم تھا۔ گرمیوں کی تعطیلات میں گھر آنے سے پہلے وہ ہاسٹل سے بازار پہنچا تاکہ ہم بہنوں کے لیے کچھ چوڑیاں خرید سکے۔ وہ چوڑیوں کے انتخاب میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ برابر میں کھڑی ایک خاتون نے دریافت کیا: “چوڑیاں کس کے لیے خریدی جا رہی ہیں؟” اس نے کوئی جواب نہ دیا، یہ سوچ کر کہ شاید وہ کسی اور سے مخاطب ہوں گی؛ لیکن دوبارہ سوال کرنے پر اس نے بتایا کہ میں اپنی بہنوں کے لیے چوڑیاں خرید رہا ہوں۔ اس پر انہوں نے اسے بہتر چوڑیاں دکھائیں جو اس نے خرید لیں۔ پھر انہوں نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ ان کے ہمراہ ایک بڑی بی (خادمہ) بھی تھیں۔ اس وقت بھائی نے یہ محسوس کیا جیسے کوئی مقناطیسی قوت اسے اپنی طرف کھینچے جا رہی ہے، چنانچہ وہ ان کے ہمراہ چلتا رہا۔ راستے میں کوئی گفتگو نہ ہوئی، اس نے صرف ان کا نام دریافت کیا تو انہوں نے اپنا نام زبیدہ بتایا۔
sublimegate
وہ جس محلے میں پہنچے، وہ یاور کا دیکھا ہوا تھا۔ انہوں نے اوپر کی منزل پر جانے سے قبل اسے دس منٹ انتظار کرنے کو کہا۔ جب وہ دس منٹ بعد نیچے آئیں تو وہ سیاہ برقعے میں تھیں اور بڑی بی ان کے ساتھ نہ تھیں۔ یاور نے اپنی زندگی میں ایسی حسین عورت، وہ بھی اس قدر خوشنما زیورات میں ملبوس، پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اور سوچا کہ شاید آئندہ زندگی میں بھی نہ دیکھ سکے گا۔ وہ بس انہیں دیکھتا ہی رہ گیا۔ مغرب کا وقت تھا، زبیدہ نے یاور سے کہا کہ سیر کے لیے “بوڑھی گنگا” چلیں۔ وہاں سے ایک تانگہ کیا اور دریا تک پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہو گیا۔ قریب ہی ایک کشتی میں ایک بوڑھا آدمی لیٹا ہوا تھا۔ یاور نے اسے پانچ روپے دیے اور وہ لوگ کشتی میں سوار ہو گئے۔
ان کا پورا نام زبیدہ خاتون تھا اور وہ غیر شادی شدہ تھیں۔ انہوں نے اپنے والد کا نام قاسم بتایا اور یہ کہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ رہتی ہیں؛ ان کی ایک بہن اور دو بھائی ہیں۔ زبیدہ نے بھی ان کا نام دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ نام یاور ہے، کالج میں زیرِ تعلیم ہوں، والد ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر ہیں، ہم سات بھائی اور پانچ بہنیں ہیں اور ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔ بہرحال، وہ لوگ دریا کی سیر سے محظوظ ہو رہے تھے۔ کشتی آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور ہر طرف سناٹا تھا۔ اس دوران میرا بھائی بار بار زبیدہ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ گھر سے کیسے نکل آئیں؟ انہیں اجازت کیونکر ملی اور انہوں نے کیا بہانہ کیا؟ مگر ہر بار یہ سوالات لبوں پر آ کر رہ جاتے۔ نہ جانے کیوں وہ یہ پوچھنے کی جرات نہ کر سکا؛ شاید ان کے رعبِ حسن کی وجہ سے یا پھر اس وقت ان کے قرب سے ملنے والی مسرت کی وجہ سے وہ ماحول کو روکھی سوکھی باتوں سے مکدر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
یہ سیر بھی عجیب تھی اور ایک ایسا کیف و سرور حاصل ہو رہا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو چند اشعار بھی سنائے۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ جب کشتی بوڑھی گنگا کے عین وسط میں پہنچی تو ایک لمحے کے لیے یاور کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے زبیدہ کے ماتھے سے کوئی چمکتی ہوئی شے ٹوٹ کر پانی میں گر پڑی ہے، پھر ایک “چھپاک” کی آواز آئی جیسے کوئی کشتی سے دریا میں کود گیا ہو۔ وہ پریشان ہوا لیکن دوسرے ہی پل سکون ہو گیا کیونکہ زبیدہ اطمینان سے بیٹھی تھیں۔ اس وقت رات کے تقریباً چار بج رہے تھے۔ آئندہ ملاقات کا وعدہ ہوا اور پروگرام بنا کہ اگلے روز مغرب کے وقت یاور ان کے مکان پر پہنچے گا اور پھر ندی کی سیر کی جائے گی۔ اس کے بعد وہ دونوں واپس شہر کی طرف چل دیے۔ انہیں گھر چھوڑ کر وہ ہاسٹل چلا گیا۔ واپسی کے سفر میں اس نے زبیدہ سے دریافت کیا تھا کہ انہوں نے اس میں ایسی کیا خاص بات دیکھی کہ اتنے بڑے شہر میں ان کی نظرِ انتخاب اسی پر پڑی؟ وہ بس مسکرا دیں۔
یاور اگلے روز وقتِ مقررہ پر وہاں پہنچا اور کافی دیر نیچے سے آوازیں دیتا رہا، پھر وہ اوپر گیا۔ دروازے پر دستک دی تو ایک سن رسیدہ بزرگ ہاتھ میں تسبیح لیے باہر تشریف لائے۔ یاور نے بزرگ کو اپنا نام بتایا اور گزارش کی کہ زبیدہ صاحبہ کو مطلع کر دیں۔ بزرگ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے ہاں اس نام کی کوئی لڑکی نہیں رہتی، وہ اور ان کی اہلیہ اس گھر میں اکیلے رہتے ہیں۔ یاور نے ان سے بیان کیا کہ کل اسی وقت وہ یہاں آیا تھا اور وہ خاتون یہیں سے تیار ہو کر اس کے ہمراہ گئی تھیں، جب کہ واپسی صبح ہوئی تھی اور وہ انہی کی درخواست پر دوبارہ حاضر ہوا ہے۔ بزرگ آبدیدہ ہو گئے اور قسم کھا کر فرمانے لگے: “بیٹا! تمہیں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے، کوئی اور مکان ہوگا؛ یہاں ہم میاں بیوی کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہیں رہتا اور ہم دونوں تلاوتِ قرآن میں مصروف ہیں۔”
اگلے روز یاور نے سخت حیرت اور افسوس کے عالم میں والد صاحب کو خط لکھا کہ “میں کالج کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ لکھنؤ جا رہا ہوں اور آٹھ دس روز تک گھر پہنچوں گا۔” اس کے بعد اس کا روزانہ کا یہ معمول بن گیا کہ وہ ہر روز اس مکان کے نیچے زبیدہ کے انتظار میں کھڑا رہتا۔ کئی دن گزر گئے لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی۔ تب اسے خیال آیا کہ کہیں وہ کوئی طوائف تو نہیں؟ لہٰذا وہ ہر روز کوٹھوں پر جا کر اسے تلاش کرتا رہا مگر ناکامی ہوئی۔ پندرہ روز بعد اچانک والد صاحب خود تشریف لے آئے۔ یاور کی داڑھی بڑھ چکی تھی اور اس کی صورت وحشت ناک ہو رہی تھی۔ والد نے دریافت کیا کہ “کیا پریشانی ہے جو تم نے یہ حالت بنا رکھی ہے؟” بہرحال، والد صاحب زبردستی اسے اپنے ساتھ گھر لے گئے۔
جب سے زبیدہ ملی تھی، یاور یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کا سکون کیوں چھن گیا ہے؟ ایسا نہیں تھا کہ ایک رات کی ملاقات میں اسے محبت ہو گئی تھی، بلکہ یہ ایک تجسس تھا جو اسے چین نہیں لینے دیتا تھا۔ آخر وہ کون تھی؟ کہاں گئی؟ اس نے جھوٹ کیوں بولا اور دھوکا کیوں دیا؟ جس مکان سے وہ اتری تھی، وہاں کی بالکونی سے زبیدہ نے جھانک کر اسے دیکھا بھی تھا، پھر وہ بزرگ کیسے کہہ سکتے تھے کہ یہاں کوئی زبیدہ نہیں رہتی؟ ان سوالات کو وہ جوں جوں اپنے دل میں دباتا، اس کا ذہنی خلفشار بڑھتا جاتا، یہاں تک کہ اسے زبیدہ کی تلاش کا سودا ہو گیا۔ اس کی حالت دیوانوں جیسی ہو گئی، بال اور داڑھی بڑھ گئے۔ جب بھی موقع ملتا وہ گھر سے بھاگ نکلتا؛ کبھی اس محلے میں جہاں زبیدہ ملی تھی اور کبھی بوڑھی گنگا کے کنارے مارا مارا پھرتا۔
والد صاحب نے بہت سمجھایا بجھایا اور ہر طرف سے مایوس ہو کر تعویذ گنڈوں کا سہارا بھی لیا، مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ جب بھی والد یا کوئی اور اسے سمجھاتا، تو وہ صرف یہی پوچھتا: “وہ آخر کہاں گئی؟ مجھے اس سوال کا جواب دے دو، میں تلاش ترک کر دوں گا۔” والد صاحب اس کی حالت سے مایوس ہو گئے اور جس سے بھی ذکر کرتے، افسوس سے کہتے: “نہ جانے میرے جوان بیٹے کو کیا ہوا ہے، اس کے سر میں تو سودا سما گیا ہے۔”
ایک بار ایک بزرگ ابا جان سے ملنے آئے، انہوں نے حسبِ معمول ان سے بھی بیٹے کے جنون کا تذکرہ کیا۔ بزرگ نے یاور کو بلایا اور تمام داستان دلچسپی اور غور سے سنی، پھر اسے اپنے گھر آنے کو کہا۔ یاور دوسرے ہی دن وقتِ مقررہ پر ان کے ہاں پہنچ گیا۔ انہوں نے ایک بہت پرانے پلندے سے بے حد بوسیدہ تصویر نکالی اور دکھائی: “کیا اسے پہچانتے ہو؟” تصویر دیکھتے ہی یاور کا چہرہ کھل اٹھا؛ حالانکہ وہ اس قدر بوسیدہ تھی کہ نقوش مٹ رہے تھے، پھر بھی اس نے پہچاننے میں دیر نہ لگائی۔ یہ تصویر تو اس کے دل پر نقش ہو چکی تھی۔ یہ اسی حور شمائل زبیدہ کی تصویر تھی، لیکن اس پر درج تاریخ اور سن والد صاحب کی پیدائش سے بھی پہلے کا تھا۔ یاور حیرانی سے بزرگ کو تک رہا تھا اور وہ اس کی حیرت کو بھانپ چکے تھے۔ پھر انہوں نے اسے زبیدہ کی کہانی سنانی شروع کی۔کہنے لگے: “بیٹا! ہم مسلمان ہیں، توہمات پر یقین نہیں رکھتے، مگر ہم اللہ تعالیٰ کے عجائبات اور اس کی قدرت کی کرشمہ سازی پر تو یقین رکھتے ہیں۔ خدائی بھید وہی جانے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جس مکان کی طرف تمہیں زبیدہ لے گئی تھی، اس جگہ اس عمارت سے پہلے ایک اور عمارت موجود تھی۔ یوں سمجھ لو کہ آج سے سو سال پہلے وہاں جو حویلی تھی، وہ زبیدہ کے پردادا کی تھی۔ وہیں زبیدہ نے جنم لیا، وہیں پلی بڑھی اور وہیں اس کی شادی کی تیاریاں ہوئی تھیں۔ وہ دلہن بنی تھی اور دولہا اس کے تایا کا بیٹا تھا۔ دونوں میں بچپن ہی سے بڑی محبت تھی، مگر اس محبت کے درمیان رشتہ داری کی رقابتیں حائل تھیں۔ بڑی مشکل سے یہ شادی ہوئی تھی۔ زبیدہ اپنے دولہا کو پا کر بہت خوش تھی اور دولہا بھی مسرور تھا، لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔”
دلہن کا گھر ندی کے ایک طرف تھا اور دولہا کا دوسری جانب۔ شادی کے بعد دلہن نے سسرال میں صرف ایک ہی دن گزارا تھا۔ رواج کے مطابق، مغرب کے وقت دولہا دلہن تیار ہو کر سیر کو نکلے۔ دونوں ندی پر آئے اور کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی پانی کے سینے پر تیرتی جا رہی تھی اور چاندنی رات میں چودھویں کا چاند سطحِ آب پر کشتی کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ اپنے خوبصورت ہمسفر کے ساتھ خوشیوں کے نشے میں سرشار دلہن نے جب پانی میں جھانک کر چاند کا عکس دیکھنا چاہا، تو اس کے ماتھے سے سونے کا جھومر ندی میں جا گرا، جو زبیدہ کی مرحومہ ماں کی نشانی تھی۔ زبیدہ کے منہ سے سسکی نکل گئی اور وہ بس اتنا ہی کہہ سکی: “ہائے! میرا جھومر گر گیا۔” دولہا نے جھومر پکڑنے کے لیے پانی میں ہاتھ ڈالا، مگر جھومر گہرائی میں اترتا چلا گیا اور دولہا نے بے اختیار کشتی سے ندی میں چھلانگ لگا دی۔ اسے اس بات کا ہوش نہ رہا کہ جوشِ محبت میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جب دلہن نے دولہا کو ڈوبتے دیکھا تو وہ بھی چیخ مار کر پانی میں کودنے لگی، مگر ملاح نے اسے سختی سے پکڑ لیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہاں پانی کتنا گہرا ہے۔ زبیدہ صدمے سے نڈھال نہ جانے کس حال میں گھر پہنچی، وہ یہ دکھ برداشت نہ کر سکی اور آخر کار اپنے سہاگ کے دوپٹے کا پھندا لگا کر اپنی جان دے دی۔بزرگ نے یاور کی طرف دیکھا، جس کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔ وہ کہنے لگے: “ہاں بیٹا! یہ ہمارے خاندان کے بزرگوں کی کہانی ہے۔ یوں سمجھ لو کہ زبیدہ ہماری کسی پچھلی پشت کی ایک نوجوان لڑکی تھی اور اسے فوت ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے۔ اب تم اسے تلاش کرنے کا سودا ذہن سے نکال دو۔ اگر اب بھی یقین نہیں آتا تو میں تمہیں اپنے خاندان کا شجرہ دکھاتا ہوں، جس میں تمہیں زبیدہ کے والدین، بہن بھائیوں کے نام اور ان کی تعداد بھی مل جائے گی۔ زبیدہ نے تم سے سچ کہا تھا کہ اس کی ایک بہن اور دو بھائی تھے اور وہ میرے پردادا کے بھائی قاسم کی بیٹی تھی؛ البتہ اس نے یہ غلط کہا تھا کہ اس کی شادی نہیں ہوئی، وہ تو ایک دن کی دلہن تھی۔” یاور نے اس سے زیادہ کچھ جاننے یا سننے کی خواہش نہیں کی اور بزرگ سے کہا: “بس جناب! آپ نے میرے تجسس کا علاج کر دیا ہے۔”
اب اس کے ذہن میں زبیدہ کی تلاش کا جنون باقی نہیں رہا تھا کیونکہ اسے اپنے سوالات کے جواب مل گئے تھے۔ اس نے کہا: “آپ کی بیان کردہ کہانی سچی ہے یا جھوٹی، مجھے اس سے سروکار نہیں، البتہ آپ نے زبیدہ کی تصویر دکھا کر نفسیاتی طور پر میرا علاج کر دیا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو، یہ تصویر زبیدہ ہی کی ہے اور آپ اس کے بارے میں یقیناً کچھ نہ کچھ جانتے ہیں یا اس سے آپ کا کوئی تعلق ضرور ہے۔” اس واقعے کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا اور اس نے پھر کبھی زبیدہ کو تلاش نہیں کیا۔
آج بھی جب میرا بھائی اپنے اس جنون کو یاد کرتا ہے، جب اس کے سر میں زبیدہ کی جستجو کا سودا سمایا تھا، تو وہ کہیں کھو سا جاتا ہے۔ ہم اسے یوں کھویا ہوا دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر زبیدہ کا وہ بزرگ رشتہ دار نہ ملتا اور اسے یہ کہانی نہ سناتا، تو نہ جانے میرا لاڈلا بھائی کب تک یوں ہی پریشان رہتا۔
sublimegate
وہ جس محلے میں پہنچے، وہ یاور کا دیکھا ہوا تھا۔ انہوں نے اوپر کی منزل پر جانے سے قبل اسے دس منٹ انتظار کرنے کو کہا۔ جب وہ دس منٹ بعد نیچے آئیں تو وہ سیاہ برقعے میں تھیں اور بڑی بی ان کے ساتھ نہ تھیں۔ یاور نے اپنی زندگی میں ایسی حسین عورت، وہ بھی اس قدر خوشنما زیورات میں ملبوس، پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اور سوچا کہ شاید آئندہ زندگی میں بھی نہ دیکھ سکے گا۔ وہ بس انہیں دیکھتا ہی رہ گیا۔ مغرب کا وقت تھا، زبیدہ نے یاور سے کہا کہ سیر کے لیے “بوڑھی گنگا” چلیں۔ وہاں سے ایک تانگہ کیا اور دریا تک پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہو گیا۔ قریب ہی ایک کشتی میں ایک بوڑھا آدمی لیٹا ہوا تھا۔ یاور نے اسے پانچ روپے دیے اور وہ لوگ کشتی میں سوار ہو گئے۔
ان کا پورا نام زبیدہ خاتون تھا اور وہ غیر شادی شدہ تھیں۔ انہوں نے اپنے والد کا نام قاسم بتایا اور یہ کہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ رہتی ہیں؛ ان کی ایک بہن اور دو بھائی ہیں۔ زبیدہ نے بھی ان کا نام دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ نام یاور ہے، کالج میں زیرِ تعلیم ہوں، والد ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر ہیں، ہم سات بھائی اور پانچ بہنیں ہیں اور ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔ بہرحال، وہ لوگ دریا کی سیر سے محظوظ ہو رہے تھے۔ کشتی آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور ہر طرف سناٹا تھا۔ اس دوران میرا بھائی بار بار زبیدہ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ گھر سے کیسے نکل آئیں؟ انہیں اجازت کیونکر ملی اور انہوں نے کیا بہانہ کیا؟ مگر ہر بار یہ سوالات لبوں پر آ کر رہ جاتے۔ نہ جانے کیوں وہ یہ پوچھنے کی جرات نہ کر سکا؛ شاید ان کے رعبِ حسن کی وجہ سے یا پھر اس وقت ان کے قرب سے ملنے والی مسرت کی وجہ سے وہ ماحول کو روکھی سوکھی باتوں سے مکدر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
یہ سیر بھی عجیب تھی اور ایک ایسا کیف و سرور حاصل ہو رہا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ایک دوسرے کو چند اشعار بھی سنائے۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ جب کشتی بوڑھی گنگا کے عین وسط میں پہنچی تو ایک لمحے کے لیے یاور کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے زبیدہ کے ماتھے سے کوئی چمکتی ہوئی شے ٹوٹ کر پانی میں گر پڑی ہے، پھر ایک “چھپاک” کی آواز آئی جیسے کوئی کشتی سے دریا میں کود گیا ہو۔ وہ پریشان ہوا لیکن دوسرے ہی پل سکون ہو گیا کیونکہ زبیدہ اطمینان سے بیٹھی تھیں۔ اس وقت رات کے تقریباً چار بج رہے تھے۔ آئندہ ملاقات کا وعدہ ہوا اور پروگرام بنا کہ اگلے روز مغرب کے وقت یاور ان کے مکان پر پہنچے گا اور پھر ندی کی سیر کی جائے گی۔ اس کے بعد وہ دونوں واپس شہر کی طرف چل دیے۔ انہیں گھر چھوڑ کر وہ ہاسٹل چلا گیا۔ واپسی کے سفر میں اس نے زبیدہ سے دریافت کیا تھا کہ انہوں نے اس میں ایسی کیا خاص بات دیکھی کہ اتنے بڑے شہر میں ان کی نظرِ انتخاب اسی پر پڑی؟ وہ بس مسکرا دیں۔
یاور اگلے روز وقتِ مقررہ پر وہاں پہنچا اور کافی دیر نیچے سے آوازیں دیتا رہا، پھر وہ اوپر گیا۔ دروازے پر دستک دی تو ایک سن رسیدہ بزرگ ہاتھ میں تسبیح لیے باہر تشریف لائے۔ یاور نے بزرگ کو اپنا نام بتایا اور گزارش کی کہ زبیدہ صاحبہ کو مطلع کر دیں۔ بزرگ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے ہاں اس نام کی کوئی لڑکی نہیں رہتی، وہ اور ان کی اہلیہ اس گھر میں اکیلے رہتے ہیں۔ یاور نے ان سے بیان کیا کہ کل اسی وقت وہ یہاں آیا تھا اور وہ خاتون یہیں سے تیار ہو کر اس کے ہمراہ گئی تھیں، جب کہ واپسی صبح ہوئی تھی اور وہ انہی کی درخواست پر دوبارہ حاضر ہوا ہے۔ بزرگ آبدیدہ ہو گئے اور قسم کھا کر فرمانے لگے: “بیٹا! تمہیں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے، کوئی اور مکان ہوگا؛ یہاں ہم میاں بیوی کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہیں رہتا اور ہم دونوں تلاوتِ قرآن میں مصروف ہیں۔”
اگلے روز یاور نے سخت حیرت اور افسوس کے عالم میں والد صاحب کو خط لکھا کہ “میں کالج کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ لکھنؤ جا رہا ہوں اور آٹھ دس روز تک گھر پہنچوں گا۔” اس کے بعد اس کا روزانہ کا یہ معمول بن گیا کہ وہ ہر روز اس مکان کے نیچے زبیدہ کے انتظار میں کھڑا رہتا۔ کئی دن گزر گئے لیکن وہ کہیں نظر نہ آئی۔ تب اسے خیال آیا کہ کہیں وہ کوئی طوائف تو نہیں؟ لہٰذا وہ ہر روز کوٹھوں پر جا کر اسے تلاش کرتا رہا مگر ناکامی ہوئی۔ پندرہ روز بعد اچانک والد صاحب خود تشریف لے آئے۔ یاور کی داڑھی بڑھ چکی تھی اور اس کی صورت وحشت ناک ہو رہی تھی۔ والد نے دریافت کیا کہ “کیا پریشانی ہے جو تم نے یہ حالت بنا رکھی ہے؟” بہرحال، والد صاحب زبردستی اسے اپنے ساتھ گھر لے گئے۔
جب سے زبیدہ ملی تھی، یاور یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کا سکون کیوں چھن گیا ہے؟ ایسا نہیں تھا کہ ایک رات کی ملاقات میں اسے محبت ہو گئی تھی، بلکہ یہ ایک تجسس تھا جو اسے چین نہیں لینے دیتا تھا۔ آخر وہ کون تھی؟ کہاں گئی؟ اس نے جھوٹ کیوں بولا اور دھوکا کیوں دیا؟ جس مکان سے وہ اتری تھی، وہاں کی بالکونی سے زبیدہ نے جھانک کر اسے دیکھا بھی تھا، پھر وہ بزرگ کیسے کہہ سکتے تھے کہ یہاں کوئی زبیدہ نہیں رہتی؟ ان سوالات کو وہ جوں جوں اپنے دل میں دباتا، اس کا ذہنی خلفشار بڑھتا جاتا، یہاں تک کہ اسے زبیدہ کی تلاش کا سودا ہو گیا۔ اس کی حالت دیوانوں جیسی ہو گئی، بال اور داڑھی بڑھ گئے۔ جب بھی موقع ملتا وہ گھر سے بھاگ نکلتا؛ کبھی اس محلے میں جہاں زبیدہ ملی تھی اور کبھی بوڑھی گنگا کے کنارے مارا مارا پھرتا۔
والد صاحب نے بہت سمجھایا بجھایا اور ہر طرف سے مایوس ہو کر تعویذ گنڈوں کا سہارا بھی لیا، مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ جب بھی والد یا کوئی اور اسے سمجھاتا، تو وہ صرف یہی پوچھتا: “وہ آخر کہاں گئی؟ مجھے اس سوال کا جواب دے دو، میں تلاش ترک کر دوں گا۔” والد صاحب اس کی حالت سے مایوس ہو گئے اور جس سے بھی ذکر کرتے، افسوس سے کہتے: “نہ جانے میرے جوان بیٹے کو کیا ہوا ہے، اس کے سر میں تو سودا سما گیا ہے۔”
ایک بار ایک بزرگ ابا جان سے ملنے آئے، انہوں نے حسبِ معمول ان سے بھی بیٹے کے جنون کا تذکرہ کیا۔ بزرگ نے یاور کو بلایا اور تمام داستان دلچسپی اور غور سے سنی، پھر اسے اپنے گھر آنے کو کہا۔ یاور دوسرے ہی دن وقتِ مقررہ پر ان کے ہاں پہنچ گیا۔ انہوں نے ایک بہت پرانے پلندے سے بے حد بوسیدہ تصویر نکالی اور دکھائی: “کیا اسے پہچانتے ہو؟” تصویر دیکھتے ہی یاور کا چہرہ کھل اٹھا؛ حالانکہ وہ اس قدر بوسیدہ تھی کہ نقوش مٹ رہے تھے، پھر بھی اس نے پہچاننے میں دیر نہ لگائی۔ یہ تصویر تو اس کے دل پر نقش ہو چکی تھی۔ یہ اسی حور شمائل زبیدہ کی تصویر تھی، لیکن اس پر درج تاریخ اور سن والد صاحب کی پیدائش سے بھی پہلے کا تھا۔ یاور حیرانی سے بزرگ کو تک رہا تھا اور وہ اس کی حیرت کو بھانپ چکے تھے۔ پھر انہوں نے اسے زبیدہ کی کہانی سنانی شروع کی۔کہنے لگے: “بیٹا! ہم مسلمان ہیں، توہمات پر یقین نہیں رکھتے، مگر ہم اللہ تعالیٰ کے عجائبات اور اس کی قدرت کی کرشمہ سازی پر تو یقین رکھتے ہیں۔ خدائی بھید وہی جانے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جس مکان کی طرف تمہیں زبیدہ لے گئی تھی، اس جگہ اس عمارت سے پہلے ایک اور عمارت موجود تھی۔ یوں سمجھ لو کہ آج سے سو سال پہلے وہاں جو حویلی تھی، وہ زبیدہ کے پردادا کی تھی۔ وہیں زبیدہ نے جنم لیا، وہیں پلی بڑھی اور وہیں اس کی شادی کی تیاریاں ہوئی تھیں۔ وہ دلہن بنی تھی اور دولہا اس کے تایا کا بیٹا تھا۔ دونوں میں بچپن ہی سے بڑی محبت تھی، مگر اس محبت کے درمیان رشتہ داری کی رقابتیں حائل تھیں۔ بڑی مشکل سے یہ شادی ہوئی تھی۔ زبیدہ اپنے دولہا کو پا کر بہت خوش تھی اور دولہا بھی مسرور تھا، لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔”
دلہن کا گھر ندی کے ایک طرف تھا اور دولہا کا دوسری جانب۔ شادی کے بعد دلہن نے سسرال میں صرف ایک ہی دن گزارا تھا۔ رواج کے مطابق، مغرب کے وقت دولہا دلہن تیار ہو کر سیر کو نکلے۔ دونوں ندی پر آئے اور کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی پانی کے سینے پر تیرتی جا رہی تھی اور چاندنی رات میں چودھویں کا چاند سطحِ آب پر کشتی کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ اپنے خوبصورت ہمسفر کے ساتھ خوشیوں کے نشے میں سرشار دلہن نے جب پانی میں جھانک کر چاند کا عکس دیکھنا چاہا، تو اس کے ماتھے سے سونے کا جھومر ندی میں جا گرا، جو زبیدہ کی مرحومہ ماں کی نشانی تھی۔ زبیدہ کے منہ سے سسکی نکل گئی اور وہ بس اتنا ہی کہہ سکی: “ہائے! میرا جھومر گر گیا۔” دولہا نے جھومر پکڑنے کے لیے پانی میں ہاتھ ڈالا، مگر جھومر گہرائی میں اترتا چلا گیا اور دولہا نے بے اختیار کشتی سے ندی میں چھلانگ لگا دی۔ اسے اس بات کا ہوش نہ رہا کہ جوشِ محبت میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جب دلہن نے دولہا کو ڈوبتے دیکھا تو وہ بھی چیخ مار کر پانی میں کودنے لگی، مگر ملاح نے اسے سختی سے پکڑ لیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہاں پانی کتنا گہرا ہے۔ زبیدہ صدمے سے نڈھال نہ جانے کس حال میں گھر پہنچی، وہ یہ دکھ برداشت نہ کر سکی اور آخر کار اپنے سہاگ کے دوپٹے کا پھندا لگا کر اپنی جان دے دی۔بزرگ نے یاور کی طرف دیکھا، جس کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔ وہ کہنے لگے: “ہاں بیٹا! یہ ہمارے خاندان کے بزرگوں کی کہانی ہے۔ یوں سمجھ لو کہ زبیدہ ہماری کسی پچھلی پشت کی ایک نوجوان لڑکی تھی اور اسے فوت ہوئے ایک عرصہ بیت چکا ہے۔ اب تم اسے تلاش کرنے کا سودا ذہن سے نکال دو۔ اگر اب بھی یقین نہیں آتا تو میں تمہیں اپنے خاندان کا شجرہ دکھاتا ہوں، جس میں تمہیں زبیدہ کے والدین، بہن بھائیوں کے نام اور ان کی تعداد بھی مل جائے گی۔ زبیدہ نے تم سے سچ کہا تھا کہ اس کی ایک بہن اور دو بھائی تھے اور وہ میرے پردادا کے بھائی قاسم کی بیٹی تھی؛ البتہ اس نے یہ غلط کہا تھا کہ اس کی شادی نہیں ہوئی، وہ تو ایک دن کی دلہن تھی۔” یاور نے اس سے زیادہ کچھ جاننے یا سننے کی خواہش نہیں کی اور بزرگ سے کہا: “بس جناب! آپ نے میرے تجسس کا علاج کر دیا ہے۔”
اب اس کے ذہن میں زبیدہ کی تلاش کا جنون باقی نہیں رہا تھا کیونکہ اسے اپنے سوالات کے جواب مل گئے تھے۔ اس نے کہا: “آپ کی بیان کردہ کہانی سچی ہے یا جھوٹی، مجھے اس سے سروکار نہیں، البتہ آپ نے زبیدہ کی تصویر دکھا کر نفسیاتی طور پر میرا علاج کر دیا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو، یہ تصویر زبیدہ ہی کی ہے اور آپ اس کے بارے میں یقیناً کچھ نہ کچھ جانتے ہیں یا اس سے آپ کا کوئی تعلق ضرور ہے۔” اس واقعے کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا اور اس نے پھر کبھی زبیدہ کو تلاش نہیں کیا۔
آج بھی جب میرا بھائی اپنے اس جنون کو یاد کرتا ہے، جب اس کے سر میں زبیدہ کی جستجو کا سودا سمایا تھا، تو وہ کہیں کھو سا جاتا ہے۔ ہم اسے یوں کھویا ہوا دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر زبیدہ کا وہ بزرگ رشتہ دار نہ ملتا اور اسے یہ کہانی نہ سناتا، تو نہ جانے میرا لاڈلا بھائی کب تک یوں ہی پریشان رہتا۔
(ختم شد)

