میں نویں کلاس میں پڑھتی تھی۔ عادل صاحب ہمارے کلاس ٹیچر تھے، وہ ہمیں انگلش پڑھایا کرتے تھے۔ ان کے پڑھانے کا انداز اس قدر عمدہ تھا کہ ہر طالب علم کے ذہن میں سبق بیٹھ جاتا تھا اور پھر نہیں بھولتا تھا۔ میں سر عادل سے ٹیوشن پڑھنے ان کے گھر جایا کرتی تھی۔ وہ مجھے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے تھے، ان کی بیگم مجھے بیٹی کہتی تھیں۔ میں ان کے گھر میں ایک فرد کی طرح تھی۔ عادل صاحب کی دو بیٹیاں تھیں، ایک کا نام ماریہ تھا، جو اُن دِنوں سترہ برس کی تھی اور دوسری رابعہ، جس کی عمر تیرہ برس تھی۔ سب ماریہ کو زیادہ پیار کرتے تھے، وہ بڑی تھی اور سب کی لاڈلی تھی۔ یہ سچ ہے کہ زیادہ لاڈ پیار سے بچے بگڑ جاتے ہیں اور ضدی ہو جاتے ہیں۔ ماریہ کے بارے میں یہ بات درست ثابت ہوئی، وہ پیار کی وجہ سے ضدی ہو گئی۔ رابعہ ایسی نہ تھی، وہ اپنی بڑی بہن سے بالکل مختلف سیدھی سادی، بھولی بھالی بچی تھی۔ ماریہ اس کا مذاق اڑاتی اور اس کو بے وقوف کہتی تھی، جس کا رابعہ کو دکھ ہوتا تھا۔ وہ اپنی امی کے آگے رو کر چپ ہو جاتی، تب ماں اس کو سمجھاتی، پیار کرتی، تسلی دیتی کہ “بیٹی! تم اپنی باجی کی بات دل پر نہ لیا کرو۔ وہ بڑی ہے، اس لیے تم کو ایسا کہہ دیتی ہے۔ تم اس کی سہیلیوں کے بیچ بیٹھا ہی مت کرو۔”
ماریہ گھر کا کام بالکل نہ کرتی تھی۔ وہ مہمانوں کی تواضع سے کتراتی، یہ سب رابعہ کے ذمہ تھا۔ وہ تو ہمہ وقت اپنی سہیلیوں میں مگن رہتی تھی، خاص طور پر اس کی سہیلی ہما اکثر ماریہ کے پاس آتی۔ وہ کافی ماڈرن قسم کی تھی اور امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ لڑکی بڑوں کو بھی خاطر میں نہ لاتی تھی، تاہم ماریہ سے اس کی گاڑھی چھنتی تھی۔ دونوں میں بڑی گہری دوستی تھی، جو اب سب کو کھٹکنے لگی تھی۔ ہما کے چچا مستقل امریکہ میں شفٹ ہو گئے تھے، یوں وہ امریکہ ہو آئی تھی۔ وہ وہاں کی باتیں مزے لے کر ماریہ کو بتاتی، جس کی وجہ سے اس کے دل میں بھی امریکہ جانے کا شوق پیدا ہوا، لیکن یہ ممکن نہ تھا کیونکہ ماریہ کا کوئی رشتہ دار امریکہ میں نہیں تھا۔
ہما کے چچا اپنے بھائی سے بضد تھے کہ تم امریکہ آ کر میرے ساتھ بزنس کرو، مگر کچھ مجبوریوں کی وجہ سے وہ رکے ہوئے تھے۔ ہما جب یہ بات ماریہ کو بتاتی، تو اس کا دل ڈوب جاتا۔ وہ سوچتی کہ ہما چلی جائے گی تو میں کتنی اداس ہو جاؤں گی، پھر میرا دل نہیں لگے گا۔ اس کو ہما سے بہت محبت تھی، تب وہ دعا کرتی کہ خدا کرے یا تو ہما نہ جا سکے یا میں بھی امریکہ چلی جاؤں۔ پھر وہ دن بھی آ گیا، جب ہما اپنے والدین کے ساتھ امریکہ شفٹ ہو گئی۔ جب وہ آخری بار ملنے آئی، تو ماریہ اس کے گلے لگ کر خوب روئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ خود کو کافی تنہا محسوس کرتی تھی۔ دوسری سہیلیوں سے اس کا دل وقتی طور پر بہل جاتا تھا، لیکن اصل محبت اس کو ہما سے ہی تھی۔
ایک دن ماریہ کو ہما کا خط موصول ہوا، جس میں خیریت کے علاوہ اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ تم لوگ بھی امریکہ شفٹ ہو جاؤ۔ اپنے ابو سے بات کرنا، اگر آپ لوگ ادھر شفٹ ہونا چاہیں گے، تو میرے چچا آپ کی مدد کریں گے کیونکہ ان کا یہاں کافی بڑا بزنس ہے۔ ماریہ نے خط سر عادل کو پڑھوایا، تو وہ بولے: “بیٹی! فی الحال تو ہمارے لیے ایسا ممکن نہیں ہے، میں بعد میں اس بارے میں سوچوں گا۔” ماریہ کا دل بجھ گیا، اس نے اپنی سہیلی کو خط لکھا کہ مجھے لگتا ہے ابو اتنی آسانی سے نہیں مانیں گے۔ ہاں، اگر تمہارے ابو اور چچا میرے ابو کو خط لکھیں، تو شاید وہ مان جائیں۔ ہما بھی دل سے چاہتی تھی کہ ماریہ اور اس کے گھر والے امریکہ آ جائیں تاکہ وہ اپنی دوست کے ساتھ رہ سکے۔ اس نے اپنے والد سے کہا کہ میری سہیلی اور اس کے والدین امریکہ آنا چاہتے ہیں، آپ ان کی یہاں آنے میں مدد کریں۔ ہما کے والد سر عادل کو جانتے تھے، بلکہ ان کا بڑا بھائی ان سے پڑھ چکا تھا۔ وہ سر عادل کی دل سے عزت کرتے تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ماریہ اور ہما آپس میں سہیلیاں ہیں، اس لیے ہما کے اصرار پر اس کے والد نے اپنے بھائی سے بات کی اور انہوں نے ان لوگوں کو امریکہ بلوانے کی ہامی بھر لی۔
وحید صاحب نے تبھی عادل صاحب کو خط لکھ دیا کہ آپ لوگ اگر یہاں شفٹ ہونا چاہتے ہیں، تو ہم سے جو ممکن مدد ہو سکے گی، ہم کریں گے۔ ساتھ ہی تمام معلومات بھی لکھیں کہ آپ لوگوں کو کیا کرنا ہو گا۔ ماریہ نے خط اپنے والد کو دیا۔ وہ بہت خوش تھی کہ اب اس کے ابو بھی رختِ سفر باندھ لیں گے۔ خط پڑھ کر عادل صاحب نے بیٹی کو سمجھایا کہ “میں یہاں سرکاری کالج میں پڑھا رہا ہوں، میری عزت ہے، اچھا خاصا کما بھی لیتا ہوں، اپنا مکان ہے، کافی جائیداد ہے، مجھے اپنے ملک میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ پتہ نہیں وہاں کیا حالات درپیش ہوں۔ ہم یہاں ٹھیک ہیں۔” لیکن لاڈلی بیٹی کو باپ کا جواب پسند نہ آیا، وہ تو نئی دنیا دیکھنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔
ماریہ اسی غم میں گھلنے لگی۔ اس نے کھانا پینا ہی چھوڑ دیا، امریکہ اس کے خوابوں میں بس گیا تھا۔ امریکہ جانے کی دھن ایسی تھی کہ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی۔ ماں باپ، بہن بھائی، ہر کسی سے وہ امریکہ جانے کا ذکر بڑی حسرت سے کرتی تھی۔ نہ جانے اس کو کیا ہو گیا تھا، سر عادل کو تشویش لاحق ہو گئی کہ کہیں ان کی بیٹی پاگل نہ ہو جائے۔ ان دنوں ماریہ کی عجیب حالت تھی۔ جب دیکھو، ہما کو خط لکھ رہی ہوتی تھی۔ ہما کے بھی جواب آتے اور ساتھ ہی امریکہ کی تصویریں ہوتیں۔ خوبصورت گھر اور ہرے بھرے مقامات کی تصویریں اتنی حسین ہوتیں کہ دیکھ کر جی چاہتا اڑ کر وہاں پہنچ جائیں۔ ان تصویروں نے اس کو اور زیادہ پاگل کر دیا تھا۔ جب بیٹی کی ایسی حالت دیکھی، تو سر عادل سوچنے پر مجبور ہو گئے۔
انہی دنوں ان کے گھر ایک رشتے دار آئے۔ انہوں نے جب یہ صورتحال دیکھی، تو عادل صاحب سے کہا: “آپ کیوں نہیں ماریہ کو اکیلے امریکہ بھجوا دیتے؟ یہ وہاں جا کر پڑھ بھی لے گی اور اس کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔” عادل صاحب نے کہا: “مں بیٹی کو اکیلے پردیس بھیجنے کا قائل نہیں۔ اس سے تو بہتر ہے کہ میں اپنی کل جائیداد فروخت کر کے سرمایہ اکٹھا کروں اور وہیں شفٹ ہو جاؤں۔” رشتے دار بولے: “ہاں میاں! ایسا ہی کر لو، بھلا یہاں رکھا ہی کیا ہے۔ امریکہ میں زندگی خوشگوار اور پرکشش ہے۔” کافی دنوں تک سر عادل کے گھر میں یہی پریشانی براجمان رہی، آخر کار وہ ایک نتیجے پر پہنچ گئے اور انہوں نے امریکہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ بچوں کے امتحان ختم ہونے کے بعد انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی اور اپنی کل جائیداد فروخت کر کے پیسہ اکٹھا کر لیا۔ آٹھ ماہ اس ساری کارروائی میں لگ گئے، پھر ان کی درخواست منظور ہو گئی کیونکہ وہ کافی سرمایہ لے جا رہے تھے، یوں ان کو وہاں کی سکونت مل گئی اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ چلے گئے۔
ماریہ کی تو خوشی کی انتہا نہ تھی۔ وہ اتنی خوش تھی، لگتا تھا کہ اس نے دنیا میں ہی جنت پا لی ہے۔ امریکہ پہنچ کر یہ لوگ کچھ روز ہما کے گھر ٹھہرے، پھر ان کی وساطت سے اپنا فلیٹ خرید لیا۔ پروفیسر صاحب نے ایک ہوٹل میں جاب کر لی، یوں ان کا وقت وہاں کبھی نرم اور کبھی گرم رہنے لگا۔ امریکہ ایک بہت مہنگا ملک تھا اور ایک آدمی کی کمائی سے سارے کنبے کا بوجھ اٹھانا مشکل تھا، لہذا اب گھر کے دوسرے افراد نے بھی کام ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ ماریہ اور اس کی ماں نے چھوٹی موٹی نوکریاں تلاش کر لیں اور گھر کی آمدنی میں معقول اضافہ ہونے لگا۔ انسان جہاں رہتا ہے، وہاں کے لوگوں کی عادات اور رہن سہن کا اثر ضرور قبول کرتا ہے، خاص طور پر نئی نسل تو بہت جلد نئے رنگ میں رنگنے لگتی ہے۔ یہی حال ماریہ کا ہوا۔ وطن میں کچھ حدود تھیں، جن کی پابندی لازمی تھی۔ یہاں آزادی کا راج تھا، اس نے نئے دوست بنا لیے اور کچھ ہی دنوں میں مغرب کی ہواؤں نے اس کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ دیر سے گھر آنا اس کا معمول بن گیا۔ مغربی ممالک میں لڑکے لڑکی کی دوستی پر کوئی اعتراض نہیں کرتا، تاہم عادل صاحب اور ان کی بیوی مشرقی والدین تھے اور ان کو اپنی جوان بیٹی کی غیر لڑکوں سے دوستی پر اعتراض تھا۔ اس بات پر ماں باپ اور بیٹی میں تو تو میں میں ہونے لگی۔ ماریہ ضدی تو پہلے سے تھی، یہاں آ کر منہ زور بھی ہو گئی تھی۔ اس کو والدین کی روک ٹوک اس حد تک کھلنے لگی کہ وہ ان سے جھگڑ پڑتی، جس پر سر عادل ششدر رہ جاتے۔ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کی بیٹی اس قدر احسان فراموش نکلے گی۔ وہ تو اس کی خوشی کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر آ گئے تھے، ورنہ امریکہ آنے میں خود ان کے لیے کوئی کشش نہ تھی۔ وہ تو سمجھ رہے تھے کہ ماریہ اور زیادہ ان کا خیال کرے گی، یہ قربانی انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے دی تھی۔
والدین کی قربانیوں کا صلہ کم ہی ملتا ہے۔ اکثر اولاد اپنی خوشیوں کی خاطر والدین کو نظر انداز کر دیا کرتی ہے اور ان کی قربانیاں بھلا دیتی ہے۔ ماریہ بھی ان اولادوں میں سے ایک تھی۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ “اگر آپ لوگوں نے مجھ پر پابندیاں لگائیں اور روک ٹوک جاری رکھی، تو میں آپ کا گھر ہی چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور اپنے کسی دوست کے گھر جا کر رہوں گی۔” یہ دھمکی سن کر ماں باپ خاموش ہو جاتے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ ایسا ملک ہے، جہاں جوان اولاد بوڑھے والدین کو چھوڑ کر جا سکتی ہے اور وہ کچھ نہ کر سکیں گے۔
ایک دن ماریہ کا دوست اس کو اسی ہوٹل لے گیا، جہاں سر عادل ملازم تھے۔ ڈنر کے بعد انہوں نے ڈانس شروع کر دیا۔ عادل صاحب کی نظر ماریہ پر پڑی، تو وہ غصے سے پاگل ہو گئے۔ انہوں نے ہوٹل میں ہی بیٹی کو پکڑ لیا اور اس کو گھر لے جانے کی کوشش کی۔ وہ نہ مانی، تو باپ نے اس کے منہ پر تھپڑ مار دیا، تبھی وہ زور زور سے رونے لگی۔ یہ تماشہ دوسرے لوگ بھی دیکھ رہے تھے۔ ہوٹل کے ایک ملازم نے پولیس کو خبر کر دی۔ پولیس وہاں آئی، تو ماریہ رو رہی تھی۔ اس نے پولیس والے سے یہی کہا کہ “میرا باپ مجھے قتل کر دے گا، اب میں گھر نہیں جاؤں گی۔” پولیس، عادل صاحب کو پولیس اسٹیشن لے آئی۔ ماریہ نے اپنے والد کے خلاف رپورٹ لکھوا دی، جس کی وجہ سے پولیس نے عادل صاحب کو گرفتار کر لیا اور جیل میں بند کر دیا۔
اُس وقت ماریہ کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ ہو چکی تھی اور امریکہ میں کوئی ماں باپ اپنی اولاد پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے، ورنہ ایسے والدین کے خلاف پولیس ایکشن لیتی ہے۔ خیر، ہما اور اس کے والدین کے سمجھانے پر ماریہ نے اپنے باپ کے خلاف شکایت واپس لے لی اور وہ لوگ سر عادل کو واپس ان کے فلیٹ میں لے آئے۔ عادل صاحب ایک مشرقی معاشرے کے پروردہ اور ایک غیرت مند باپ تھے۔ ان کو بہت غصہ آیا، مگر وہ حالات سے مجبور تھے۔ اگر اپنی بیٹی کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرتے، تو وہ ان کے لیے قانونی طور پر قابلِ گرفت ہوتی، تبھی خاموش رہے، مگر اندر ہی اندر ان کا دل خون ہوتا رہا۔ انہوں نے اسی دن یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنی دوسری بیٹی رابعہ کو بچانے کے لیے واپس اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔
انہوں نے اسی دن سے واپسی کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا اور چھ ماہ بعد اس لائق ہو گئے کہ وطن لوٹ سکیں۔ انہوں نے اپنے ارادے سے ماریہ کو بھی آگاہ کر دیا اور حکم دیا کہ “تم بھی ساتھ چلو گی”، تو اس نے کہا: “آپ لوگ جاتے ہیں، تو بے شک چلے جائیں، میں ہرگز نہیں جاؤں گی۔” البتہ اس نے باپ سے اپنا قانونی حصہ بھی طلب کر لیا اور کہا کہ “آپ نے مجھے میرا حق نہ دیا، تو میں عدالت میں چلی جاؤں گی۔” باپ نے رو کر کہا: “اے بدبخت بیٹی! تو کیا بھول گئی ہے کہ ہمارے وطن میں باپ اپنی اوقات کے مطابق اپنی بیٹی کو جہیز دیتا ہے۔ اور میں یہ فلیٹ تو کیا، تجھ کو اپنی زندگی بھی دے سکتا تھا، مگر تو نے تو میرا دل چور چور کر دیا۔” وہ ماریہ کو چھوڑ کر پاکستان آ گئے اور جو کچھ رقم لائے تھے، اس سے ایک چھوٹا سا مکان خرید کر ٹیوشن سینٹر کھول لیا تاکہ یہاں عزت سے گزر بسر کر سکیں۔
ایک دن اچانک ابو کی ملاقات بازار میں سر عادل سے ہو گئی۔ ان سے مل کر میرے والد صاحب کو بہت خوشی ہوئی۔ دونوں میں پرانی جان پہچان بلکہ دوستی تھی۔ وہ ان کو لے کر گھر آ گئے۔ سر عادل سے واپسی کا سبب پوچھا، تو انہوں نے ابو کو تمام واقعات سنائے۔ اپنی آپ بیتی سنا کر وہ رو پڑے۔ والد صاحب نے ان کو تسلی دی اور کہا کہ “آپ ماریہ کے حق میں دعا کیا کریں، خدا اس کو سیدھے راستے پر لے آئے۔ آپ کے پاس علم ہے۔ اللہ نے آپ کو ایک ایسے ہتھیار سے آراستہ کیا ہے کہ آپ کبھی معاشی حالات کی جنگ نہیں ہار سکتے۔” ٹیوشن سینٹر دیکھتے ہی دیکھتے طالب علموں سے بھر گیا اور ایک بار پھر ہمیں اپنے قابلِ احترام استاد کے پاس پڑھنے کا موقع مل گیا۔ میں اور میرا بھائی تو بے حد خوش باش تھے، عادل صاحب بھی پہلے کی طرح پیار اور دلجمعی سے ہمیں پڑھا رہے تھے، لیکن اب ان کے چہرے پر وہ پہلے جیسی خوشی اور طمانیت نہیں ہوتی تھی۔ وہ اکثر بجھے بجھے رہتے تھے، شاید انہیں ماریہ کی فکر ستاتی رہتی تھی۔ پانچ سال ان لوگوں نے اپنی پیاری بچی کی جدائی میں ایسے گزارے کہ نہ تو اس کی طرف سے کوئی خبر آئی اور نہ ہی یہ اس کی آواز سن پائے۔
ماں ہر نماز کے بعد دعا کرتی کہ خدا کرے ماریہ خیریت سے ہو۔ جدائی سے گھبرا کر ایک دن نہ جانے کیسے ان کے منہ سے یہ کلمہ نکل گیا کہ “الٰہی! ماریہ کی کوئی تو خبر آ جائے، چاہے اچھی یا بری ہی کیوں نہ ہو، پتہ تو چلے وہ کس حال میں ہے؟” یہ قبولیت کی گھڑی تھی کہ ماریہ کی خبر آ گئی، مگر اچھی نہیں، بلکہ بہت بری خبر تھی۔ ایک دن اچانک امریکہ سے ٹیلی فون آیا، جو ہما نے کیا تھا۔ اس نے بتایا: “آنٹی! ماریہ کو کسی نے اس کے فلیٹ کے نیچے قتل کر دیا ہے۔ کل رات کی فلائٹ سے اس کی میت پاکستان آ رہی ہے، آپ لوگوں کو قانونی کارروائی کے لیے یہاں آنا ہو گا۔” سر عادل روتے ہوئے ابو کے پاس آئے۔ ابو نے ان کو تسلی دی اور کہا: “جو اللہ کو منظور تھا، وہ ہو گیا۔ اب آپ بیٹی کا آخری فرض ادا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔” پھر ابو نے دیگر انتظامات کروائے۔ اس واقعے کو تقریباً چار سال ہو چکے ہیں، مگر میں اب تک ان کا وہ خوشیوں بھرا گھر نہیں بھولی، جب وہ ابھی امریکہ نہیں گئے تھے۔ ان کا مکان بچوں کی چہکاروں سے گونجتا تھا، وہ خود بھی کتنے خوش رہا کرتے تھے۔ آج سر عادل وقت سے پہلے بوڑھے اور ناتواں ہو گئے ہیں، ان کی آنکھوں میں کبھی کبھی آنسو جھلملانے لگتے ہیں۔ شکر ہے کہ رابعہ اچھی لڑکی نکلی، بلکہ وہ تو پہلے ہی سے اچھی تھی کہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آ جاتے ہیں۔ وہ میڈیکل کے آخری سال میں ہے اور وہی ان کی امیدوں کا واحد مرکز بھی ہے۔ خدا رابعہ جیسی بیٹیاں سب کو دے۔
.jpg)
