ہنی مون کی رات

Urdu stories for life

دادی اماں نے تایا کے بیٹے خرم کے ساتھ میرا رشتہ اس وقت پکی کر دیا تھا جب میں ابھی پالنے میں تھی۔ خرم مجھ سے دو سال بڑے تھے اور ہم نے ایک ہی گھر میں پرورش پائی۔ دادا اور دادی کی وفات کے بعد بڑی حویلی کے بیچ دیوار اٹھا دی گئی۔ یوں ابو اور تایا کے گھر الگ الگ ہو گئے، لیکن ہم بچوں کے دل ایک تھے؛ لہٰذا اس دیوار سے ہمیں کوئی فرق نہ پڑا اور ہمارے دلوں کے بیچ کوئی رکاوٹ حائل نہ ہوئی۔ البتہ ہم نے بڑوں سے اصرار کر کے آنگن کے بیچ اٹھنے والی دیوار میں ایک ”دری“ یعنی بڑی کھڑکی نکلوا لی، تاکہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے میں آسانی رہے۔
cknwrite
مجھے اور خرم کو معلوم تھا کہ ہمیں ایک ہونا ہے، لہٰذا ہم نے ایک دوسرے کو اپنے سپنوں میں بسا لیا تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کا ہونے کے لیے ایک ایک لمحے کا انتظار کیا تھا۔ ہم پل پل گنتے تھے کہ کب وہ دن آئے گا جب خرم دولہا بن کر مجھے بیاہ کر لے جائے گا۔ والد اور تایا جان کا کاروبار مشترکہ تھا۔ وہ ساتھ کام پر جاتے اور ساتھ ہی لوٹتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ خرم اور میں تعلیم مکمل کر لیں تو ہمیں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جائے۔ پھر وہ وقت بھی آ گیا۔ خاندان میں مدتوں بعد یہ پہلی خوشی تھی، اسی لیے دونوں بھائی دھوم دھام سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ ہر طرف زور و شور سے تیاریاں جاری تھیں۔ جہیز کے معاملے میں امی ابو کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا چاہتے تھے، حالانکہ آپس کا معاملہ تھا اور ان تکلفات کی کوئی ضرورت نہ تھی، لیکن یہ اپنی چاہت اور خوشی کی بات تھی۔ ابو اور تایا سب سے کہتے تھے: ”بھئی! ہمارے پہلوٹھی کی اولاد ہیں، کیوں نہ ارمان نکالیں۔ ہم تو ایسی شادی کریں گے کہ خاندان والے تو کیا، دنیا یاد رکھے گی۔“

سب سے بڑی بات یہ تھی کہ مجھے خرم سے اور انہیں مجھ سے شدید پیار تھا۔ جہاں ایسی چاہت ہو، وہاں دوست اور دشمن سبھی کی نظریں لگی ہوتی ہیں۔ کہنے والے کہتے تھے کہ چاند اور سورج کی جوڑی بننے جا رہی ہے۔ سبھی خوش نظر آتے تھے مگر ایک ہماری ممانی تھیں جو خوش نہ تھیں۔ شاید وہ رنگ میں بھنگ ڈالنا چاہتی تھیں۔ جب انہوں نے سنا کہ تاریخ پکی کی جا رہی ہے، تو وہ ماموں جان کو لے کر آ گئیں اور امی سے کہنے لگیں: ”بچپن کے قصے رہنے دو۔ خرم میں ایسی کیا خاص بات ہے جو میرے بیٹے شان میں نہیں ہے؟ صوفیہ کا رشتہ ہم اپنے بیٹے شان کے لیے لیں گے۔ تمہیں اگر جیٹھ کو خوش کرنا ہی ہے، تو دوسری بیٹی سوہا کا رشتہ خرم کو دے دینا۔“ امی بولیں: ”بھابھی! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ یہ رشتہ تو بچپن سے طے ہے۔ ہماری ساس بات پکی کر گئی تھیں اور اب تو شادی کی تیاریاں بھی مکمل ہیں، آپ پہلے کہاں تھیں؟“

امی نے انہیں لاکھ سمجھایا پر ممانی کی ایک ہی رٹ تھی کہ میرے بیٹے کو صوفیہ پسند ہے اور مجھے اپنے بیٹے کی خوشی عزیز ہے، اس لیے آپ یہ رشتہ مجھے دیں۔ غرض انہوں نے اس قدر واویلا مچایا کہ سارے خاندان کو خبر ہو گئی اور ہر ایک انگشت بہ دنداں تھا۔ ماموں حمید، امی کے اکلوتے بھائی تھے اور وہ انہیں کھونا نہیں چاہتی تھیں۔ ناراضی تو دور کی بات، ماموں ذرا سا منہ بنا لیتے تو امی کی جان پر بن جاتی تھی، کجا یہ کہ وہ اب ہمیشہ کے لیے ناتا توڑنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ امی کو روتا دیکھ کر میں نے انہیں حوصلہ دیا کہ: ”امی! آپ پریشان نہ ہوں۔ اگر آپ ماموں جان سے جدا نہیں ہونا چاہتیں تو بے شک مجھے قربان کر دیں اور ان کی خوشی پوری کر دیں، لیکن میں آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی۔“ اب بات منہ سے نکلی تو کوٹھوں چڑھی؛ ہر طرف ہائے ہائے ہونے لگی کہ خود لڑکی نے منہ کھول کر کہہ دیا ہے کہ وہ تایا زاد سے نہیں بلکہ ماموں زاد سے شادی کرے گی۔ حالانکہ میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا تھا۔ مجھے تو خرم سے پیار تھا اور وہ میری جان تھے؛ میں نے تو صرف ماں کا دل رکھنے کے لیے ایسا کہا تھا کیونکہ وہ رو رو کر ہلکان ہو رہی تھیں۔

یہ بات خرم تک پہنچ گئی۔ وہ میرے پاس آئے اور بولے: ”صوفیہ! سچ سچ بتا دو، اگر تم مجھ سے نہیں بلکہ شان سے شادی کرنا چاہتی ہو تو میں خود تمہارے راستے سے ہٹ جاتا ہوں۔“ ان کی بات سن کر میں رونے لگی اور قسم کھا کر کہا: ”خرم! مجھے تمہارے سوا کسی سے پیار نہیں ہے۔ میں تمہارے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتی، خدا کے لیے ایسا خیال دل سے نکال دو۔ میرا شان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ خرم مطمئن ہو کر چلے گئے۔ شادی میں چار روز باقی تھے کہ ایک دن شان ہمارے گھر آ گیا۔ وہ سیدھا میرے پاس پہنچا اور کہنے لگا: ”صوفیہ! تم میرا خواب تھیں، میرے بچپن کا خیال اور میری محبت… میری آرزو تھی کہ تم میری بیوی بنو، شاید قسمت کو یہ منظور نہیں یا تمہاری امی کو ہمارا ملاپ پسند نہیں۔ بہرحال، پرسوں تمہاری شادی ہے اور اس اہم موقع پر میں تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں، پلیز اسے قبول کر لو۔“ اس نے ایک قیمتی پرفیوم اور ہیرے کی انگوٹھی آگے بڑھائی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو شان کے چہرے پر دکھ کا گہرا سایہ تھا اور وہ بہت مایوس نظر آ رہا تھا۔ مجھے اس پر ترس آ گیا اور اس کا دل رکھنے کے لیے میں نے وہ تحفہ رکھ لیا۔

مجھے معلوم نہیں تھا کہ میری کزن ندا یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہی ہے۔ اس نے اس بات کا فسانہ بنا کر خرم کو جا سنایا۔ یہی نہیں، بلکہ مرچ مصالحہ لگا کر بتایا کہ دونوں رو رہے تھے کہ آج ہم ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں اور شاید پھر کبھی نہ مل سکیں۔ اس وقت خرم نے نہ یہ بات کسی سے کہی اور نہ ہی اس کی تصدیق کی۔ اگلے دن سے شادی کی تقریبات شروع تھیں۔ شاید اس نے یہ بات اپنے دل کی گہرائیوں میں کہیں چھپا لی تھی۔ مرد ذات میں سو خوبیاں ہوتی ہیں، تاہم اگر کوئی بیوی کی طرف سے دل میں شک و شبہ ڈال دے تو شیشے میں بال آنا لازمی ہو جاتا ہے، جسے پھر عمر بھر کوئی مٹا سکتا ہے نہ نکال سکتا ہے۔

ہماری شادی بخیر و خوبی انجام پا گئی۔ سہاگ رات کو انہوں نے مجھ سے اتنا ضرور پوچھا: ”تمہارے ماموں اور ممانی آئے یا نہیں؟“ میں نے بتایا کہ وہ ناراض تھے اس لیے نہیں آئے۔ انہوں نے پھر پوچھا: ”ان لوگوں کی طرف سے کیا کسی نے تمہیں شادی کا تحفہ بھی نہیں بھیجا؟“ میں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ میں نے سوچا کہ وہ ماموں ممانی کی طرف سے شادی کے تحفے کا پوچھ رہے ہیں جو انہوں نے نہیں بھیجا تھا۔ چونکہ انہوں نے شان کا ذکر نہیں کیا تھا، اس لیے میں نے بھی جان بوجھ کر اس کے تحفے کا تذکرہ نہ کیا تاکہ ان کے دل میں کوئی ملال یا بدمزگی پیدا نہ ہو۔ یہ میری سہاگ رات تھی اور میں ایسی بات کر کے اپنی زندگی کی اس حسین رات کو بے کیف نہیں کرنا چاہتی تھی۔ شان کا دیا ہوا تحفہ تو میں نے اسی وقت امی کے حوالے کر دیا تھا کہ آپ اسے رکھ لیں، مجھے یہ نہیں چاہیے؛ میں نے آپ کے بھانجے کا دل رکھنے کے لیے لے تو لیا تھا مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے یہ علم نہیں تھا کہ امی نے وہ پرفیوم اور انگوٹھی میرے جہیز والے سوٹ کیس میں ڈال دی ہے۔ میں نے تو سوٹ کیس کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، سارا سامان امی اور میری بہنوں نے پیک کیا تھا۔

ہمارے ازدواجی سفر کا آغاز بہت اچھا رہا۔ شادی کے ایک ہفتے بعد میں اور خرم ہنی مون کے لیے سوات اور کالام گئے۔ وہاں سے لوٹے تو دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ خاندان بھر نے دولہا دلہن کو کھانے پر مدعو کیا۔ ہر روز کسی نہ کسی کے گھر کبھی لنچ تو کبھی ڈنر ہوتا تھا۔ جب یہ ہنگامہ ختم ہوا تو خرم کام پر جانے لگے اور میں گھر میں تائی اماں اور ان کی بیٹیوں کے ہمراہ ہنسی خوشی وقت گزارنے لگی۔ شادی کے چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے میری گود ہری کر دی اور میں نے ایک پیارے سے بیٹے کو جنم دیا۔ ہمارا گھر خوشیوں سے بھر گیا اور اس ننھے منے نے سبھی کے دلوں کو مسرت سے نہال کر دیا۔

کہتے ہیں کہ جب چاند مزید بڑھ نہیں سکتا تو گھٹنے لگتا ہے، بالکل اسی طرح جب خوشیاں حد سے بڑھ جائیں تو انہیں کسی کی نظر لگ جاتی ہے۔ میری خوشیوں کو بھی نظر لگ گئی۔ یہ سردیوں کے ابتدائی دن تھے۔ خیال آیا کہ کیوں نہ جہیز کے کپڑوں کو دھوپ لگوا لوں، ایسا نہ ہو کہ انہیں کیڑا لگ جائے۔ گرم کپڑے تو ویسے بھی سردیوں میں نکالنے ہی تھے۔ جب میں نے پیٹی کھولی، تو اس میں سے شان کا وہ تحفے والا ڈبہ نکل آیا، جس میں پرفیوم اور انگوٹھی کے ساتھ ایک تہہ کیا ہوا پرچہ بھی موجود تھا۔ میں نے یہ ڈبہ پہلے کبھی کھولا ہی نہیں تھا، اس لیے مجھے خبر نہ تھی کہ اس میں کوئی خط بھی رکھا ہوا ہے۔ میں نے حیرت سے وہ پرچہ کھولا اور پڑھنے لگی۔ شان نے لکھا تھا: ”جان سے پیاری صوفیہ! شاید تمہیں علم نہیں کہ میں تمہیں کس شدت سے چاہتا ہوں۔ تم جب چھوٹی سی تھیں، تبھی اماں کہا کرتی تھیں کہ میں تیرے لیے صوفیہ کو بیاہ کر لاؤں گی۔ یہ بات ان کے دل میں تھی مگر وہ وقت سے پہلے اسے زبان پر نہیں لانا چاہتی تھیں، اسی لیے ہم نے تمہیں کھو دیا۔ تم کیا جانو کہ تمہیں کھو دینے کا مجھے کتنا دکھ ہے؛ جب تک زندہ رہوں گا، یہ دکھ سانپ بن کر مجھے ڈستا رہے گا۔ آج بھی دعا کر رہا ہوں کہ اے کاش! کوئی معجزہ ہو جائے اور تم میری ہو جاؤ۔ تمہیں اس دنیا میں سب سے زیادہ چاہنے والا، تمہارا شان۔“

میں محویت سے وہ خط پڑھنے میں مصروف تھی اور مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب خرم آ کر میرے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ خرم نے وہ پرچہ بڑی آہستگی سے میرے ہاتھ سے لے لیا اور تحفے والا ڈبہ بھی اٹھا کر دیکھنے لگے۔ خط پڑھنے کے بعد وہ بولے: ”اچھا، تو یہ معاملہ ہے! پرانی یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ اتنا گہرا لگاؤ ہے کہ تحفے اور خط اتنے چھپا کر اور سنبھال کر رکھے گئے ہیں؟ کیا وقت فوقتاً انہیں دیکھتی رہتی ہو؟ اگر ایسی بات تھی تو پہلے کیوں نہ بتایا؟ میں اب بھی تمہیں آزاد کر کے تمہاری خوشیاں پوری کر سکتا ہوں، ایک بار کہہ کر تو دیکھو۔“ جو قسمت میں لکھا تھا وہ ہو کر رہا، کیونکہ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ میں نے لاکھ قسمیں کھائیں، اپنی بے گناہی کے ثبوت میں سو بار روئی اور بلا قصور معافیاں مانگیں، مگر خرم کا دل صاف نہ ہو سکا اور ان کے دل سے شک دور نہ ہوا۔

اس کے بعد وہ دو سال میرے ساتھ رہے، مگر اس طرح جیسے ایک دریا کے دو کنارے ساتھ ساتھ چلتے تو ہیں لیکن کبھی ملتے نہیں۔ شک و شبے نے ان کے اور میرے درمیان ایک کبھی نہ ختم ہونے والی خلیج پیدا کر دی تھی۔ وہ مجھ سے بات کرتے تو بھی ایسا لگتا جیسے ان کی آواز کہیں بہت دور سے آ رہی ہو۔ اگر کبھی پیار کا لفظی اظہار کرتے بھی، تو یوں محسوس ہوتا جیسے کنویں سے بول رہے ہوں۔ انہیں جیسے اپنے پیار پر اختیار نہ تھا، بالکل ویسے ہی جیسے نفرت کے جذبے پر بھی کوئی قابو نہ تھا۔

انہوں نے ننھے نہال کی خاطر میرے ساتھ اس نام نہاد دو سالہ ازدواجی زندگی کو برداشت کیا۔ وہ اکثر مجھے پرفیوم اور ہیرے کی انگوٹھی سنبھال کر رکھنے کا طعنہ دیا کرتے تھے، جسے وہ شان کی محبت کی نشانی سمجھتے تھے۔ ان کے شک کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ: ”تم نے شان کے دیے ہوئے تحفے مجھ سے چھپا کر کیوں رکھے؟ اگر تم اتنی ہی صاف دل تھیں تو مجھے پہلے ہی بتا دیتیں، یا پھر یہ تحفے اپنی ماں کے گھر ہی چھوڑ آتیں۔ انہیں ساتھ لانا اور خفیہ طور پر دیکھنا یہی ظاہر کرتا ہے کہ تمہارے دل میں اب بھی اس کی محبت موجود ہے اور تم چھپ چھپ کر اس کی یاد تازہ کرتی ہو۔“

لندن جانے سے صرف ایک ہفتہ پہلے انہوں نے مجھے بتایا کہ: ”میں انگلینڈ جا رہا ہوں؛ تم حوصلہ رکھنا، نہال کو میری کمی محسوس نہ ہونے دینا اور اپنا خیال رکھنا۔ میں جیسے ہی اپنا کورس مکمل کر لوں گا، واپس آ جاؤں گا۔ تم اپنے گھر میں ہو، اس لیے فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔“ ان کے جانے کے بعد میرا دل کتنا اداس تھا، اس تکلیف کو خدا کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ وہ صرف میرے شوہر یا سرتاج ہی نہیں، بلکہ میری محبت بھی تھے، جنہیں ایک معمولی سے شک و شبہے نے مجھ سے چھین لیا تھا۔

آج پانچ سال بیت چکے ہیں۔ اس دوران میں نے انہیں ہزاروں خطوط لکھے اور التجاؤں بھرے پیغامات بھیجے، مگر انہوں نے کسی ایک کا بھی جواب نہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ میں نے ان کی خاطر اپنے سب رشتے ختم کر دیے تھے، ہر ایک سے ناتا توڑ لیا تھا اور صرف انہیں ہی اپنے دل میں بسایا تھا۔ آج چار تاریخ ہے؛ یہی وہ تاریخ ہے جب میرے سرتاج مجھے اور نہال کو چھوڑ کر انگلینڈ گئے تھے۔ شاید انہوں نے تب یہ بھی نہ سوچا ہوگا کہ نوٹوں کی خوشبو سے کہیں زیادہ گہری خوشبو محبت کی ہوتی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جاتے ہوئے ان کا آخری جملہ یہی تھا: ”صوفیہ! اپنا خیال رکھنا۔“ شاید انہوں نے یہ الفاظ محض رسمِ دنیا نبھانے کے لیے کہے ہوں، مگر یہ الفاظ میرے دل میں ان کی محبت کی نشانی بن کر ہمیشہ کے لیے بس گئے ہیں۔ جانے کے تین سال بعد ایک مرتبہ انہوں نے فون پر نہال سے بات کی تھی، پھر مجھ سے کہا: ”صوفیہ! مجھے معاف کر دو۔ یہاں رہنے کے لیے میں نے مجبوری میں ایک برطانوی لڑکی سے شادی کر لی ہے اور اب میری ایک پیاری سی بیٹی بھی ہے، جو مجھے محبت سے ‘خان جی’ کہتی ہے۔ وہ بالکل گڑیا جیسی ہے اور اسے پا کر میں بہت خوش ہوں۔“

وہ تو اپنی زندگی میں مگن ہیں، مگر مجھے محبت کا ایسا روگ لگا گئے ہیں جو اب جان نہیں چھوڑتا۔ ان کے جانے کے بعد میں رو رو کر نڈھال ہو چکی ہوں اور کوئی ایسا بھی نہیں جو مجھے دلاسا دے سکے۔ ان کی یادیں آج بھی بری طرح تڑپاتی ہیں اور میرے دل میں ان کا خیال پہلے دن کی طرح روشن ہے۔ میرے دل میں ان کی طلب آج بھی ویسی ہی ہے جیسی اس دن تھی جب وہ مجھ سے جدا ہوئے تھے۔ وہ میری یادوں کی گزرگاہوں پر آج بھی خراماں خراماں چلتے ہیں؛ میری آرزوئیں اور میری چاہت انہی کی یاد سے زندہ و تابندہ ہیں۔ جب ان کی یاد مجھے رلاتی ہے تو میرا وجود سلگنے لگتا ہے۔ میں انہیں کیسے بھول جاؤں؟ یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ اب میرا اس دنیا میں دل نہیں لگتا۔ خرم! ایک بار آ کر اتنا تو بتا جاؤ کہ میں کیا کروں؟ لوگ کہتے ہیں کہ جن کے پاس دکھ ہوتے ہیں وہ بھی حوصلے سے زندگی گزار لیتے ہیں، مگر میں یہ نہیں مانتی۔ میں زندہ نہیں ہوں، بس ایک زندہ لاش ہوں؛ جس کے پاس اس کا جیون ساتھی نہ ہو، اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔ پلیز خرم! واپس آ جاؤ اور میرا سکون مجھے لوٹا دو، کیونکہ تمہارے بغیر میں جی نہیں سکتی۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ