میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ ہمارے لیے تعلیم کا حصول ایک خواب تھا، جو میرے لیے اتنا خوبصورت تھا کہ میں اس سے ناتا نہیں توڑ سکتی تھی۔ ابو بیمار تھے اور کمانے کے قابل نہ تھے، جبکہ بھائی چھوٹا تھا۔ گھر میں ہم تین بہنیں تھیں، جن میں سب سے بڑی میں تھی؛ گویا گھر کی کفالت کی ذمہ داری مجھ پر تھی۔ میں ایک حساس لڑکی تھی۔ قدم قدم پر سنگدل لوگوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہم جیسی نازک اور گھریلو لڑکیاں چکنا چور ہو جاتی ہیں۔
معاشرتی دقتیں ایک طرف، یہاں تو پہلا مسئلہ تعلیم کا تھا۔ میں صرف میٹرک پاس تھی، جبکہ بی اے اور ایم اے پاس لڑکیاں ملازمت کے لیے در در کی خاک چھان رہی تھیں۔ میں کالج میں پڑھنا چاہتی تھی اور پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتی تھی، لیکن غربت میرے عزائم کے سامنے سب کچھ نگل جانے والی ڈائن کی طرح بازو پھیلائے کھڑی تھی۔ کالج کے داخلوں کی تاریخ نکل گئی اور میں کڑھ کر رہ گئی۔ بس ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ میری سہیلیوں نے کالج میں داخلہ لے لیا اور میں رو دھو کر خاموش ہو گئی۔ میٹرک کی سند ہاتھ میں لیے حالات کی ماری نوکری ڈھونڈنے نکلی۔ جہاں بھی جاتی، وہ تجربہ مانگتے یا کوئی ہنر پوچھتے؛ میں مایوس ہو کر لوٹ آتی۔ کیا بتاؤں ان دنوں حالات کتنے سخت تھے اور پھر سال بھر سے مجھ پر بڑا دباؤ تھا۔ امی بھی بیمار ہو گئی تھیں اور بہنوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ ایک چھوٹا بھائی تھا، جو کسی نہ کسی طرح اسکول جا رہا تھا اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔
جب پانی سر سے گزرنے لگا تو میری ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ تم کوئی کورس کر لو، اس کے بغیر کہیں نوکری ملنا مشکل ہے۔ وہ خود لیڈی ہیلتھ ورکر تھی۔ ان دنوں داخلے جاری تھے، لہٰذا تہمینہ نے میرا داخلہ کرا دیا۔ امی اجازت نہیں دے رہی تھیں، مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ بھوکوں مرنے سے بہتر ہے کہ میں کورس کر لوں تاکہ نوکری مل سکے۔ یوں میں ایک سرکاری ہسپتال جانے لگی۔ ہسپتال کا ماحول اچھا تھا، مگر میرے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ میں بہت خوبصورت تھی اور یہ خوبصورتی میرے لیے عذاب بن گئی تھی؛ میں جدھر سے گزرتی لوگ مجھے گھورتے، جس کی وجہ سے مجھے شدید الجھن محسوس ہوتی تھی۔
لڑکی کا قابل ہونا بڑی بات ہے، لیکن خوبصورت ہونا “سونے پر سہاگہ” ہوتا ہے۔ تاہم میری رفقائے کار (colleagues) مجھ سے اس لیے جلتی تھیں کہ میں ان کے جھرمٹ میں اتنی نمایاں رہتی کہ وہ پس منظر میں چلی جاتیں۔ ایک دو لڑکیاں ایسی بھی تھیں جنہیں خود نمائی کا شوق تھا، جب میں ان کے پاس کھڑی ہوتی تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ میں ڈاکٹروں کی نگاہیں بھی سمجھتی تھی۔ چند نوجوان ڈاکٹر ایسے بھی تھے جو میری طرف دیکھتے تو ان کی نظروں میں میرے لیے کچھ اور ہی جذبات ہوتے۔ ایسے ڈاکٹروں سے میں اس قدر گھبراتی کہ پسینہ پسینہ ہو جاتی۔ ہمارا معاشرہ بہت اچھا ہے، لیکن ایک لڑکی جب کسی مجبوری میں باہر نکلتی ہے تو ہزار غلط نگاہیں اس پر پڑتی ہیں، جس سے وہ بوکھلا کر یا تو کام چھوڑ دیتی ہے یا ذہنی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ میرا بھی یہی حال تھا؛ چلتے چلتے ڈگمگانے لگتی تھی۔ جدھر سے کوئی مرد گھورتا ہوا آ رہا ہوتا، میں پلٹ جاتی یا راستہ بدل لیتی۔ خیر، جو بھی مسائل تھے، کورس تو مکمل کرنا ہی تھا۔
انہی دنوں وہاں ایک ڈاکٹر کا تبادلہ ہوا جن کا نام ناصر تھا۔ وہ ایک خوبرو اور قابل ڈاکٹر تھے۔ ان کی یہ خوبی میرے دل کو بھا گئی کہ وہ دوسروں کی طرح میلی نظروں سے مجھے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ جب بھی ان سے واسطہ پڑا، انہوں نے نہایت عزت و احترام سے بات کی اور میں نے دل میں سکون و راحت محسوس کی۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ ڈاکٹر ناصر کے دل میں میرے لیے پسندیدگی کے جذبات ہیں۔ اگر میں توجہ دوں تو مجھے ان کا عمر بھر کا ساتھ مل سکتا ہے، مگر میں ایسا سوچنا جرم سمجھتی تھی کیونکہ مجھے اپنی غربت کا پوری طرح احساس تھا۔ ایک غریب لڑکی بھلا ایک قابل ڈاکٹر کی شریکِ حیات کیونکر بن سکتی تھی؟
ایک دن وہ اپنے کام میں مصروف تھے اور میں ان کی طرف دیکھ رہی تھی کہ میری سہیلی زینت نے پوچھا: “ارے لیلیٰ! کہاں کھو گئی ہو؟ خیر تو ہے، ڈاکٹر ناصر کو ایسے دیکھ رہی ہو جیسے یہ کوئی قومی ہیرو ہوں۔” میں اسے ٹالنے کے لیے ہنس دی، مگر دل جانتا تھا کہ میں کیوں اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ بے اختیار ہو کر حسرت سے سوچا: “اے کاش! یہ میرا جیون ساتھی بن جائے۔” دن جوں جوں گزرتے گئے، میرے دل میں ناصر کی چاہت شدید ہوتی گئی، مگر اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے میں نے خود پر قابو رکھا کیونکہ اپنی ہستی سے بڑھ کر سوچنے سے مجھے نقصان اور رسوائی کے سوا کیا مل سکتا تھا۔ جو یکطرفہ محبت کی آگ میں جلتے ہیں، وہ بڑے بدنصیب ہوتے ہیں۔ میں ان سے براہِ راست بات نہیں کر سکتی تھی، لیکن خدا سے دعا کرتی تھی کہ “اے میرے رب! اس شخص کو میرے نصیب میں لکھ دے۔” کہتے ہیں جو دعا دل سے نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے۔ خدا کو میری حالت پر رحم آ گیا اور اچانک ایک چھوٹے سے واقعے نے مجھے ناصر کے قریب کر دیا۔
ہوا یوں کہ ایک دن میں ہسپتال کے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ کی طرف جا رہی تھی کہ میرا پاؤں پھسلا اور میں گر گئی۔ پاؤں پھسلنے کی وجہ شاید فرش کی چکناہٹ تھی، مگر اس دن میں نے جوتے بھی عام سے پہن رکھے تھے۔ شاید یہ قدرت کے پیدا کردہ حالات تھے، کیونکہ میری ڈیوٹی دوسرے وارڈ میں تھی اور یہ زچہ بچہ وارڈ تھا، جبکہ ڈاکٹر ناصر اس وقت ایمرجنسی وارڈ میں متعین تھے۔ بہرحال، میں اس بری طرح گری کہ بے ہوش ہو گئی۔ ناصر نے مجھے گرتے دیکھا تو دوڑ کر میری جانب آئے، مجھے فرش سے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور فوری طبی امداد بہم پہنچائی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آ گیا۔ فرش پر گرنے سے مجھے چوٹ لگی تھی اور میں چلنے کے قابل نہ تھی۔ دو تین دن میں بیڈ ریسٹ پر رہی اور اس دوران ڈاکٹر ناصر میری تیمار داری کرتے رہے۔
یہ واقعہ انہیں میرے قریب لے آیا۔ جب میں ٹھیک ہو کر اپنی ڈیوٹی پر واپس گئی تو وہ میرے لیے بے چین رہنے لگے۔ جب تک میں ان کے وارڈ کی طرف نہ جاتی، وہ شدت سے میرا انتظار کرتے اور جب کئی دن بعد ملاقات ہوتی تو خفا ہوتے اور شکوہ کرتے: “آتی کیوں نہیں ہو؟ کیا میری خدمت کا یہی صلہ ہے؟” میں جواب دیتی: “آپ کو سلام تو کرنا تھا، مگر کیا کرتی، ڈیوٹی دور کے وارڈ میں تھی اس لیے وقت ہی نہیں ملا، پھر کلاسز میں بھی تو جانا ہوتا ہے۔”
اب ڈاکٹر ناصر خود وہاں آ جاتے جہاں میری ڈیوٹی ہوتی۔ وہ مختلف بہانوں سے آتے اور مجھے ڈھونڈتے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ ان کے دل میں میرے لیے محبت جاگ اٹھی ہے۔ ایک دن جب میں ہسپتال سے نکل کر اپنی کلاس کی طرف جا رہی تھی، ناصر راستے میں مل گئے اور مجھے اپنے آفس آنے کو کہا۔ میں نے پوچھا: “کیا کوئی کام ہے؟” وہ بولے: “ہاں، ایک بہت ضروری کام ہے، آؤ گی تو بات کریں گے۔” میں دل ہی دل میں خوش تھی کہ آج ان کے آفس میں بیٹھ کر بات ہوگی، کیا خبر خوشی کی کوئی نوید مل جائے۔ میں ان کے آفس گئی، انہوں نے چائے اور بسکٹ سے میری تواضع کی اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ تبھی میں نے پوچھا: “آپ نے کوئی خاص بات کرنی تھی جس کے لیے مجھے یہاں بلایا ہے، تو بتائیے وہ خاص بات کیا ہے؟” انہوں نے کہا: “میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، تم اس مسئلے پر سوچو اور پھر مجھے جواب دو۔” یہ سن کر میں سر سے پاؤں تک گلابی ہو گئی۔ ایسا لگا جیسے میں کسی اور دنیا میں ہوں اور ہواؤں میں اڑ رہی ہوں۔
اس کے بعد کے دنوں کا کیا بتاؤں کہ میں کتنی خوش تھی۔ ایک معمولی سی غریب لڑکی، جس کے ماں باپ محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتے ہوں، اسے اگر ایسے پڑھے لکھے اور قابلِ احترام ڈاکٹر کا رشتہ مل جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوش بختی ہو سکتی ہے۔ امی نے مجھ سے خوشی کی وجہ پوچھی تو میں ٹال گئی؛ اب انہیں کیا بتاتی کہ مجھے کیا مل گیا ہے۔ پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ جب ہم فارغ ہوتے، میں ان کے آفس جا بیٹھتی، وہ چائے، مشروب اور کبھی کھانے سے تواضع کرتے اور پھر ہم ڈھیر ساری باتیں کرتے۔ میں نے انہیں آگاہ کر دیا تھا کہ میں زندگی بھر ان کے ساتھ بندھن میں بندھی رہوں گی اور اس رشتے کو اپنی خوش قسمتی سمجھوں گی۔
اس کے بعد ہم اسی طرح ملتے اور باتیں کرتے رہے، لیکن کافی عرصہ گزرنے کے باوجود انہوں نے دوبارہ شادی کی بات نہ کی۔ آخر کار ایک دن میں نے کہا: “ناصر! ایسے تو لوگ ہمیں بدنام کریں گے اور باتیں ہونے لگی ہیں۔ آپ کیوں نہیں اپنے والدین کو میرے گھر رشتے کے لیے بھیجتے؟” ناصر نے جواب دیا: “یہی تو مسئلہ ہوا ہے۔ جب میں نے اپنے والدین کو بتایا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، تو وہ ناراض ہونے لگے کہ ہم اپنے خاندان ہی میں تمہاری شادی کریں گے اور کسی غیر لڑکی کو بہو نہیں بنائیں گے۔ انہیں تمہارے ہیلتھ ورکر ہونے پر بھی اعتراض ہے، دراصل انہوں نے میرے لیے پہلے ہی کوئی لڑکی پسند کر رکھی ہے۔”
یہ بات سن کر میں اس قدر مایوس ہوئی کہ بیان نہیں کر سکتی۔ پہلی بار میرے ذہن میں خیال آیا کہ کہیں انہوں نے وقتی خوشگواری کے لیے تو مجھ سے ایسی بات نہیں کی تھی؟ کیونکہ اپنے گھر والوں کے ارادوں کا تو ہر کسی کو علم ہوتا ہے۔ اگر ان پر والدین کا اتنا ہی اثر تھا تو انہوں نے مجھے سبز باغ کیوں دکھائے؟ میں ان دنوں بہت ڈپریس اور مایوس ہو گئی تھی، کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ بات بات پر آنسو آ جاتے اور میں کھوئی کھوئی رہنے لگی۔ ناصر سے ملتی تو چپ چاپ بیٹھی رہتی؛ وہ ہنسانے کی کوشش کرتے تو میں صرف ‘ہاں’ یا ‘ہوں’ میں جواب دیتی۔ میرا دل بجھ سا گیا تھا اور مایوسی نے مجھے گھیر لیا تھا۔ میری حالت دیکھ کر ناصر کڑھنے لگے اور تسلیاں دیں، مگر ان خالی تسلیوں نے مجھے مزید ویران کر دیا کیونکہ میں دل جیسی متاع لٹا بیٹھی تھی۔ اے کاش ناصر مجھ سے ایسی بات نہ کرتے! اگر وہ سوچ سمجھ کر بات کرتے تو آج میری امیدوں کا شیش محل یوں چکنا چور نہ ہوتا۔
جب وہ مجھے ہر طرح سے خوش کرنے میں ناکام ہو گیا تو میں نے کہا: “تم مرد ہو، کوئی حل نکالو۔ ایسی باتوں سے اب کس کا جی بہلتا ہے؟” ناصر نے جواب دیا: “ایک حل ہے کہ ہم چھپ کر شادی کر لیتے ہیں۔” یہ سن کر میرا دل مزید بیٹھ گیا۔ ماں باپ کے شفیق چہرے میری نظروں کے سامنے پھرنے لگے۔ میں نے کہا: “یہ نہیں ہو سکتا! میں اپنے والدین کو کیا جواب دوں گی؟ جب وہ پوچھیں گے کہ جس نے تمہیں بیوی بنایا ہے، وہ تمہیں عزت سے بیاہنے کیوں نہیں آیا تو میں کیا کہوں گی؟”
ناصر نے صفائی دیتے ہوئے کہا: “دیکھو! میں تمہیں اپنانا چاہتا ہوں، میرے دل میں کوئی کھوٹ نہیں۔ اگر میرے دل میں کھوٹ ہوتا تو میں پہلے دن شادی کی پیشکش نہ کرتا، بلکہ دوستی نبھانے کے وہی طریقے اپناتا جو عموماً یہاں مرد اپناتے ہیں۔ لیکن میرے دل میں چونکہ کوئی چور نہیں تھا، اسی لیے میں نے ایسا نہیں کیا؛ اور اب جو مجبوری ہے وہ بھی معمولی نہیں۔ میرے والدین تمہارے گھر رشتے کے لیے راضی نہیں ہیں، میں انہیں کیسے لے کر آؤں؟ زبردستی تو لا نہیں سکتا، کیا انہیں خودکشی کی دھمکی دوں؟ ایسا ایک پڑھے لکھے انسان، خصوصاً ایک ڈاکٹر کو قطعی زیب نہیں دیتا۔”
میں اس کی مجبوری سمجھ گئی۔ کہتے ہیں کہ جو اچھا بیٹا ہوتا ہے، وہی اچھا شوہر بھی ثابت ہوتا ہے۔ وہ ایک اچھا بیٹا تھا جو اپنے والدین کی نافرمانی سے ڈر رہا تھا۔ اب ایک ہی راستہ بچا تھا کہ ہم چھپ کر شادی کر لیں اور جب والدین راضی ہو جائیں، تب یہ راز ان پر آشکار کریں کہ ہم میاں بیوی ہیں۔ اس طرح انہیں ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا۔ انسان محبت میں اندھا ہو جاتا ہے اور واقعی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے؛ لہٰذا ناصر نے جب منت سماجت کی تو میں مان گئی۔ اس نے کہا: “اگر آج ہم یہاں سے بھاگ گئے تو سب کو پتا چل جائے گا، اس لیے ایسا نہیں کرتے بلکہ ہم آج ہی نکاح کر لیتے ہیں، جس میں میری طرف سے میرے دو دوست شریک ہو جائیں گے۔ پھر میں تبادلے کی کوشش کروں گا اور اپنے شہر ٹرانسفر کرا لوں گا۔ وہاں والدہ کے آگے رات دن ہاتھ جوڑوں گا، آخر کار وہ مان جائیں گی اور ہم نئی زندگی شروع کر سکیں گے۔”
اسی دن ہم کورٹ چلے گئے۔ وکیل سے ملے اور ضروری کارروائی کے بعد ہم نے شادی کر لی۔ میں بہت ڈر رہی تھی، مگر جب کورٹ سے باہر آئے تو ہم میاں بیوی بن چکے تھے۔ ناصر کے دو دوست ساتھ آئے تھے، انہوں نے ہم دونوں کو مبارکباد دی۔ ناصر نے مجھے گھر کے قریب اتار دیا اور خود واپس ہسپتال چلا گیا۔ اس دن مجھے گھر پہنچنے میں ذرا دیر ہو گئی۔ امی نے بغور میرا چہرہ دیکھا اور پوچھا: “بیٹی! آج اتنی دیر کیوں لگا دی؟” میں نے بہانہ کیا کہ آج کام زیادہ تھا، اس لیے دیر ہو گئی۔ امی نے مجھے ایسی بے یقینی سے دیکھا جیسے انہوں نے میرا جھوٹ پکڑ لیا ہو، مگر وہ خاموش رہیں۔
میں اب بھی باقاعدگی سے ہسپتال جا رہی تھی اور ناصر نے بھی تبادلے کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ ایک دن اچانک اس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ اس کا تبادلہ ہو گیا ہے اور اس نے وہاں ایک مکان بھی کرائے پر لے لیا ہے۔ مجھے خوشی تو ہوئی، لیکن ساتھ ہی دل بیٹھنے لگا۔ اگر میں والدین سے کہتی کہ میں نے نکاح کر لیا ہے اور اب شوہر کے ساتھ جا رہی ہوں، تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی۔ ابا مجھے کبھی جانے نہ دیتے اور میں اس سوال کا کیا جواب دیتی جب وہ پوچھتے: “نکاح کی خبر اب دے رہی ہو، پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
ناصر نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ نکاح کی بات گھر والوں سے خفیہ رکھوں، اس لیے میں مجبور تھی۔ مجھے اس سے محبت تھی اور اس کی مجبوری کی خاطر میں نے والدین کو اس راز میں شریک نہیں کیا تھا۔ اب اس کا اصرار تھا کہ “میرے ساتھ چلو، میں نے گھر لے لیا ہے اور وہاں ڈیوٹی پر جوائن بھی کرنا ہے۔ میں تمہیں یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا کیونکہ تم میری بیوی ہو۔” میں نے کہا کہ ابا سے ملو اور انہیں نکاح کا بتا دو، مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا کہ ابھی اس معاملے کو “طشت از بام” (ظاہر) نہیں کر سکتے، ورنہ مشکلات بڑھ جائیں گی اور ہو سکتا ہے اس جلد بازی میں یہ بندھن ہی ٹوٹ جائے۔
وہ رات میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ ایک طرف میری محبت ناصر تھا اور دوسری جانب میرے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائی، جنہیں میں ہمیشہ کے لیے چھوڑنے جا رہی تھی۔ کیا پتا میرے اس اقدام سے اپنوں پر کیا گزرے؟ اور شاید مجھ پر گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔ صبح میں ہسپتال گئی اور ناصر سے ایک دن کی مہلت مانگی۔ اس دن ہسپتال میں میرا جی نہ لگا اور میں جلد گھر آ گئی۔ گھر آ کر سب سے چھپ کر خوب روئی، پھر امی سے ڈھیر ساری باتیں کیں، چھوٹی بہنوں اور بھائی کو پیار کیا اور جب رات کو سب سو گئے تو میں اپنی تیاری میں مصروف ہو گئی۔ دو چار جوڑے بیگ میں رکھے اور ایک بڑی سی چادر اوڑھ کر گھر سے نکل آئی۔ اس گھر کو، جس نے مجھے زندگی کی خوشیاں، دکھ سکھ اور اپنوں کی محبتیں بخشی تھیں، آج میں اپنی خوشی کی خاطر چھوڑ رہی تھی۔ میں کتنی خود غرض ہو گئی تھی کہ اتنے محبت کرنے والے ماں باپ کی ساکھ داؤ پر لگا دی تھی۔
گلی کے نکڑ پر وہ گاڑی لیے کھڑا تھا اور میں رات کے اندھیرے میں خود کو گھر سے بھاگنے والی لڑکی نہیں بلکہ ناصر کی قانونی بیوی سمجھ کر جا رہی تھی۔ مجھے احساسِ جرم نہیں ستا رہا تھا کہ میں کوئی گناہ کرنے جا رہی ہوں، ملال صرف یہ تھا کہ میں اپنے والدین کو گہرا صدمہ پہنچانے جا رہی تھی۔ میں ناصر کی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی، اس صبح کا تصور لیے کہ جب والدین مجھے گھر میں نہیں پائیں گے تو صدمے سے دم بخود رہ جائیں گے؛ پھر میری تلاش شروع ہوگی اور جب وہ ناکام ہو جائیں گے تو ایک کہرام مچ جائے گا۔ ایسا ہی ہوا، انہوں نے خاموشی سے مجھے ہر جگہ ڈھونڈا، مگر بدنامی کے ڈر سے پولیس رپورٹ درج نہیں کرائی۔ وہ روتے رہے اور آخر کار میری قریبی سہیلی کے پاس گئے، جس نے انہیں بتایا کہ میں ڈاکٹر ناصر کے ساتھ ہوتی تھی، یقیناً اسی کے ہمراہ چلی گئی ہوں۔
ناصر نے ایک اچھا سا گھر لے لیا تھا، جسے میں نے بڑے ارمانوں سے سجایا۔ وہ صبح ڈیوٹی پر جاتے اور شام کو ہسپتال سے واپس آ جاتے۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد وہ اپنے والدین کے پاس چلے جاتے اور رات گئے واپس لوٹتے۔ انہوں نے اپنے والدین کو یہی بتایا تھا کہ ہسپتال میں ان کی رات دن موجودگی لازمی ہے اور اسی شرط پر ان کا تبادلہ اپنے شہر میں ممکن ہوا ہے۔ میں ہسپتال نہیں جاتی تھی کیونکہ وہاں ان کے گھر والوں میں سے کسی کے آ جانے کا امکان رہتا تھا؛ کم از کم انہوں نے مجھے یہی بتایا تھا۔ زندگی بڑے سکون سے گزر رہی تھی اور مجھے اپنے والدین کے دکھ کے سوا اور کوئی غم نہ تھا۔ چھ ماہ ہنستے کھیلتے گزر گئے، پھر نجانے کس کی نظر لگ گئی۔
ہوا یوں کہ ایک دن ناصر گھر آیا تو بہت پریشان تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا: “میرے والدین کو ہمارے نکاح کا علم ہو گیا ہے اور اب انہوں نے میرے سامنے یہ شرط رکھی ہے کہ یا تو میں تمہیں چھوڑ دوں یا انہیں ہمیشہ کے لیے بھول جاؤں۔ اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ ایک طرف تم ہو، میرا پیار، اور دوسری طرف میرے بوڑھے ماں باپ جن کا میرے سوا کوئی سہارا نہیں۔ میں انہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟” یہ سن کر مجھے جیسے سانپ سونگھ گیا۔ کیا واقعی وہ مجھے چھوڑ دے گا؟ میں کہاں جاؤں گی؟ جس کی خاطر میں نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا، اپنا گھر بار اجاڑا اور اپنے کنبے کو رسوا کیا، وہی آج مجھے چھوڑنے کی بات کر رہا تھا۔ میں روتی رہی مگر وہ بہت اداس تھا۔
اگلے دن وہ صبح ہسپتال گیا اور شام ہو گئی مگر واپس نہ آیا۔ رات کے وقت ایک بزرگ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ آ گئے۔ انہوں نے آتے ہی درشت لہجے میں کہا: “تم گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہو اور اپنے گھر والوں کے لیے باعثِ شرم ہو۔ چلو، جلدی سے یہ گھر خالی کرو، ناصر اب یہاں نہیں آئے گا۔ ہم اس کی شادی اس کی بچپن کی منگیتر سے کر رہے ہیں بلکہ اس کا نکاح بھی کر دیا گیا ہے۔ ہمیں صرف ایک ہی بہو چاہیے، دو نہیں۔ تم نے جو بویا تھا اب وہی بھگتو، ہم تمہیں قبول نہیں کر سکتے۔”
غرض انہوں نے ایسی باتیں کہیں کہ میں لرز کر رہ گئی۔ انہوں نے میرا سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا اور کہا: “چادر اوڑھ لو تاکہ ہم تمہیں تمہارے والدین کے حوالے کر آئیں۔” ان کے تیور بہت کڑے تھے، میں نے عافیت اسی میں سمجھی اور چادر اوڑھ کر ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اپنے کپڑے تک نہ اٹھا سکی، پیروں میں صرف چپل تھی اور انہی کپڑوں میں ان کے ہمراہ روانہ ہو گئی۔ تین گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم اپنے شہر پہنچ گئے۔ میرے سسر نے دروازے پر دستک دی تو میری ماں نے دروازہ کھولا۔ وہ مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئیں، اندر ماموں بیٹھے تھے، انہوں نے باہر آ کر غصے سے کہا: “کیوں آئی ہو؟ دفع ہو جاؤ! اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے۔ باپ کے سامنے مت آنا ورنہ ان کا ہارٹ فیل ہو جائے گا۔ ہمارے پاس عزت کے سوا کیا تھا؟ وہ بھی تم نے چھین لی۔”
میرے سسر نے کہا: “بھائی صاحب! یہ آپ کے گھر کی لڑکی ہے اور آپ ہی کی عزت ہے۔ اب آپ اسے رکھیں یا دھتکار دیں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ہم نے اسے آپ کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے، آگے آپ جانیں۔” یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔ پھر ماں باہر آئی، میں نے گھر کے اندر قدم رکھنا چاہا تو انہوں نے ہاتھ جوڑ دیے: “خدا کے لیے یہاں سے چلی جا! اگر تمہارے باپ نے تمہیں دیکھ لیا تو وہ تمہیں جان سے مار دیں گے۔ اپنی چھوٹی بہنوں کی زندگی خراب مت کرو۔”
میرے قدم زمین نے پکڑ لیے تھے، میں کہاں جاتی؟ ماموں نے ماں کو اندر گھسیٹ کر دروازہ بند کر لیا۔ میں نے پڑوس کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر انہوں نے بھی جب مجھے دیکھا تو فوراً دروازہ بند کر لیا۔ اب میرے پاس کوئی راستہ نہ تھا، ناچار اپنی سہیلی تہمینہ کے پاس گئی جو ہاسٹل میں تھی۔ اس نے مجھے چند دن پناہ دی، پھر میں ایم ایس (MS) سے ملی اور انہیں اپنی تمام بپتا سنائی۔ انہوں نے رحم کھاتے ہوئے میرا داخلہ بحال کر دیا اور ہاسٹل میں جگہ دے دی۔ یہ وقت میں نے بڑی مشکل سے کاٹا۔ تہمینہ اور زینت نے میری بہت مدد کی اور پھر ایم ایس کی مہربانی سے مجھے ہسپتال ہی میں نوکری مل گئی۔ اب مجھے کوارٹر بھی مل گیا ہے اور باقی زندگی ملازمت کے سہارے گزارنی ہے۔
سنا ہے کہ ڈاکٹر ناصر کی شادی ان کی چچا زاد سے ہو گئی ہے اور وہ ایک خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے والدین نے ابھی تک مجھ سے قطع تعلق کیا ہوا ہے اور میں نے بھی دوسری شادی کے بارے میں نہیں سوچا، کیونکہ میں آج بھی خود کو ناصر کی بیوی ہی سمجھتی ہوں۔ میں خوف کی وجہ سے ان سے نہیں ملتی اور نہ ہی ملنے کی کوشش کی ہے کہ کہیں وہ مجھے طلاق ہی نہ دے دیں۔ کم از کم مجھے ایک آس تو ہے کہ کبھی نہ کبھی ان کے دل میں میرا خیال ضرور آئے گا اور وہ میرا حال جاننے آئیں گے۔ بس اسی موہوم سی آس پر زندہ ہوں۔
میں تمام لڑکیوں سے یہی کہوں گی کہ ہمیشہ اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال رکھیں، ورنہ مجھے کوئی شک نہیں کہ ان کا حال بھی میرے جیسا ہوگا۔ میں نے جو دھوکا اپنے والدین کے ساتھ کیا، اس کی سزا مجھے ناصر جیسے شخص کی صورت میں مل گئی۔ خدا نہ کرے کہ کسی اور لڑکی کو میری جیسی سزا ملے۔
معاشرتی دقتیں ایک طرف، یہاں تو پہلا مسئلہ تعلیم کا تھا۔ میں صرف میٹرک پاس تھی، جبکہ بی اے اور ایم اے پاس لڑکیاں ملازمت کے لیے در در کی خاک چھان رہی تھیں۔ میں کالج میں پڑھنا چاہتی تھی اور پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتی تھی، لیکن غربت میرے عزائم کے سامنے سب کچھ نگل جانے والی ڈائن کی طرح بازو پھیلائے کھڑی تھی۔ کالج کے داخلوں کی تاریخ نکل گئی اور میں کڑھ کر رہ گئی۔ بس ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ میری سہیلیوں نے کالج میں داخلہ لے لیا اور میں رو دھو کر خاموش ہو گئی۔ میٹرک کی سند ہاتھ میں لیے حالات کی ماری نوکری ڈھونڈنے نکلی۔ جہاں بھی جاتی، وہ تجربہ مانگتے یا کوئی ہنر پوچھتے؛ میں مایوس ہو کر لوٹ آتی۔ کیا بتاؤں ان دنوں حالات کتنے سخت تھے اور پھر سال بھر سے مجھ پر بڑا دباؤ تھا۔ امی بھی بیمار ہو گئی تھیں اور بہنوں نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا۔ ایک چھوٹا بھائی تھا، جو کسی نہ کسی طرح اسکول جا رہا تھا اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔
جب پانی سر سے گزرنے لگا تو میری ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ تم کوئی کورس کر لو، اس کے بغیر کہیں نوکری ملنا مشکل ہے۔ وہ خود لیڈی ہیلتھ ورکر تھی۔ ان دنوں داخلے جاری تھے، لہٰذا تہمینہ نے میرا داخلہ کرا دیا۔ امی اجازت نہیں دے رہی تھیں، مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ بھوکوں مرنے سے بہتر ہے کہ میں کورس کر لوں تاکہ نوکری مل سکے۔ یوں میں ایک سرکاری ہسپتال جانے لگی۔ ہسپتال کا ماحول اچھا تھا، مگر میرے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ میں بہت خوبصورت تھی اور یہ خوبصورتی میرے لیے عذاب بن گئی تھی؛ میں جدھر سے گزرتی لوگ مجھے گھورتے، جس کی وجہ سے مجھے شدید الجھن محسوس ہوتی تھی۔
لڑکی کا قابل ہونا بڑی بات ہے، لیکن خوبصورت ہونا “سونے پر سہاگہ” ہوتا ہے۔ تاہم میری رفقائے کار (colleagues) مجھ سے اس لیے جلتی تھیں کہ میں ان کے جھرمٹ میں اتنی نمایاں رہتی کہ وہ پس منظر میں چلی جاتیں۔ ایک دو لڑکیاں ایسی بھی تھیں جنہیں خود نمائی کا شوق تھا، جب میں ان کے پاس کھڑی ہوتی تو ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ میں ڈاکٹروں کی نگاہیں بھی سمجھتی تھی۔ چند نوجوان ڈاکٹر ایسے بھی تھے جو میری طرف دیکھتے تو ان کی نظروں میں میرے لیے کچھ اور ہی جذبات ہوتے۔ ایسے ڈاکٹروں سے میں اس قدر گھبراتی کہ پسینہ پسینہ ہو جاتی۔ ہمارا معاشرہ بہت اچھا ہے، لیکن ایک لڑکی جب کسی مجبوری میں باہر نکلتی ہے تو ہزار غلط نگاہیں اس پر پڑتی ہیں، جس سے وہ بوکھلا کر یا تو کام چھوڑ دیتی ہے یا ذہنی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔ میرا بھی یہی حال تھا؛ چلتے چلتے ڈگمگانے لگتی تھی۔ جدھر سے کوئی مرد گھورتا ہوا آ رہا ہوتا، میں پلٹ جاتی یا راستہ بدل لیتی۔ خیر، جو بھی مسائل تھے، کورس تو مکمل کرنا ہی تھا۔
انہی دنوں وہاں ایک ڈاکٹر کا تبادلہ ہوا جن کا نام ناصر تھا۔ وہ ایک خوبرو اور قابل ڈاکٹر تھے۔ ان کی یہ خوبی میرے دل کو بھا گئی کہ وہ دوسروں کی طرح میلی نظروں سے مجھے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ جب بھی ان سے واسطہ پڑا، انہوں نے نہایت عزت و احترام سے بات کی اور میں نے دل میں سکون و راحت محسوس کی۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ ڈاکٹر ناصر کے دل میں میرے لیے پسندیدگی کے جذبات ہیں۔ اگر میں توجہ دوں تو مجھے ان کا عمر بھر کا ساتھ مل سکتا ہے، مگر میں ایسا سوچنا جرم سمجھتی تھی کیونکہ مجھے اپنی غربت کا پوری طرح احساس تھا۔ ایک غریب لڑکی بھلا ایک قابل ڈاکٹر کی شریکِ حیات کیونکر بن سکتی تھی؟
ایک دن وہ اپنے کام میں مصروف تھے اور میں ان کی طرف دیکھ رہی تھی کہ میری سہیلی زینت نے پوچھا: “ارے لیلیٰ! کہاں کھو گئی ہو؟ خیر تو ہے، ڈاکٹر ناصر کو ایسے دیکھ رہی ہو جیسے یہ کوئی قومی ہیرو ہوں۔” میں اسے ٹالنے کے لیے ہنس دی، مگر دل جانتا تھا کہ میں کیوں اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ بے اختیار ہو کر حسرت سے سوچا: “اے کاش! یہ میرا جیون ساتھی بن جائے۔” دن جوں جوں گزرتے گئے، میرے دل میں ناصر کی چاہت شدید ہوتی گئی، مگر اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے میں نے خود پر قابو رکھا کیونکہ اپنی ہستی سے بڑھ کر سوچنے سے مجھے نقصان اور رسوائی کے سوا کیا مل سکتا تھا۔ جو یکطرفہ محبت کی آگ میں جلتے ہیں، وہ بڑے بدنصیب ہوتے ہیں۔ میں ان سے براہِ راست بات نہیں کر سکتی تھی، لیکن خدا سے دعا کرتی تھی کہ “اے میرے رب! اس شخص کو میرے نصیب میں لکھ دے۔” کہتے ہیں جو دعا دل سے نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے۔ خدا کو میری حالت پر رحم آ گیا اور اچانک ایک چھوٹے سے واقعے نے مجھے ناصر کے قریب کر دیا۔
ہوا یوں کہ ایک دن میں ہسپتال کے ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ کی طرف جا رہی تھی کہ میرا پاؤں پھسلا اور میں گر گئی۔ پاؤں پھسلنے کی وجہ شاید فرش کی چکناہٹ تھی، مگر اس دن میں نے جوتے بھی عام سے پہن رکھے تھے۔ شاید یہ قدرت کے پیدا کردہ حالات تھے، کیونکہ میری ڈیوٹی دوسرے وارڈ میں تھی اور یہ زچہ بچہ وارڈ تھا، جبکہ ڈاکٹر ناصر اس وقت ایمرجنسی وارڈ میں متعین تھے۔ بہرحال، میں اس بری طرح گری کہ بے ہوش ہو گئی۔ ناصر نے مجھے گرتے دیکھا تو دوڑ کر میری جانب آئے، مجھے فرش سے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور فوری طبی امداد بہم پہنچائی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آ گیا۔ فرش پر گرنے سے مجھے چوٹ لگی تھی اور میں چلنے کے قابل نہ تھی۔ دو تین دن میں بیڈ ریسٹ پر رہی اور اس دوران ڈاکٹر ناصر میری تیمار داری کرتے رہے۔
یہ واقعہ انہیں میرے قریب لے آیا۔ جب میں ٹھیک ہو کر اپنی ڈیوٹی پر واپس گئی تو وہ میرے لیے بے چین رہنے لگے۔ جب تک میں ان کے وارڈ کی طرف نہ جاتی، وہ شدت سے میرا انتظار کرتے اور جب کئی دن بعد ملاقات ہوتی تو خفا ہوتے اور شکوہ کرتے: “آتی کیوں نہیں ہو؟ کیا میری خدمت کا یہی صلہ ہے؟” میں جواب دیتی: “آپ کو سلام تو کرنا تھا، مگر کیا کرتی، ڈیوٹی دور کے وارڈ میں تھی اس لیے وقت ہی نہیں ملا، پھر کلاسز میں بھی تو جانا ہوتا ہے۔”
اب ڈاکٹر ناصر خود وہاں آ جاتے جہاں میری ڈیوٹی ہوتی۔ وہ مختلف بہانوں سے آتے اور مجھے ڈھونڈتے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ ان کے دل میں میرے لیے محبت جاگ اٹھی ہے۔ ایک دن جب میں ہسپتال سے نکل کر اپنی کلاس کی طرف جا رہی تھی، ناصر راستے میں مل گئے اور مجھے اپنے آفس آنے کو کہا۔ میں نے پوچھا: “کیا کوئی کام ہے؟” وہ بولے: “ہاں، ایک بہت ضروری کام ہے، آؤ گی تو بات کریں گے۔” میں دل ہی دل میں خوش تھی کہ آج ان کے آفس میں بیٹھ کر بات ہوگی، کیا خبر خوشی کی کوئی نوید مل جائے۔ میں ان کے آفس گئی، انہوں نے چائے اور بسکٹ سے میری تواضع کی اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ تبھی میں نے پوچھا: “آپ نے کوئی خاص بات کرنی تھی جس کے لیے مجھے یہاں بلایا ہے، تو بتائیے وہ خاص بات کیا ہے؟” انہوں نے کہا: “میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، تم اس مسئلے پر سوچو اور پھر مجھے جواب دو۔” یہ سن کر میں سر سے پاؤں تک گلابی ہو گئی۔ ایسا لگا جیسے میں کسی اور دنیا میں ہوں اور ہواؤں میں اڑ رہی ہوں۔
اس کے بعد کے دنوں کا کیا بتاؤں کہ میں کتنی خوش تھی۔ ایک معمولی سی غریب لڑکی، جس کے ماں باپ محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتے ہوں، اسے اگر ایسے پڑھے لکھے اور قابلِ احترام ڈاکٹر کا رشتہ مل جائے تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوش بختی ہو سکتی ہے۔ امی نے مجھ سے خوشی کی وجہ پوچھی تو میں ٹال گئی؛ اب انہیں کیا بتاتی کہ مجھے کیا مل گیا ہے۔ پھر یہ روز کا معمول بن گیا۔ جب ہم فارغ ہوتے، میں ان کے آفس جا بیٹھتی، وہ چائے، مشروب اور کبھی کھانے سے تواضع کرتے اور پھر ہم ڈھیر ساری باتیں کرتے۔ میں نے انہیں آگاہ کر دیا تھا کہ میں زندگی بھر ان کے ساتھ بندھن میں بندھی رہوں گی اور اس رشتے کو اپنی خوش قسمتی سمجھوں گی۔
اس کے بعد ہم اسی طرح ملتے اور باتیں کرتے رہے، لیکن کافی عرصہ گزرنے کے باوجود انہوں نے دوبارہ شادی کی بات نہ کی۔ آخر کار ایک دن میں نے کہا: “ناصر! ایسے تو لوگ ہمیں بدنام کریں گے اور باتیں ہونے لگی ہیں۔ آپ کیوں نہیں اپنے والدین کو میرے گھر رشتے کے لیے بھیجتے؟” ناصر نے جواب دیا: “یہی تو مسئلہ ہوا ہے۔ جب میں نے اپنے والدین کو بتایا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، تو وہ ناراض ہونے لگے کہ ہم اپنے خاندان ہی میں تمہاری شادی کریں گے اور کسی غیر لڑکی کو بہو نہیں بنائیں گے۔ انہیں تمہارے ہیلتھ ورکر ہونے پر بھی اعتراض ہے، دراصل انہوں نے میرے لیے پہلے ہی کوئی لڑکی پسند کر رکھی ہے۔”
یہ بات سن کر میں اس قدر مایوس ہوئی کہ بیان نہیں کر سکتی۔ پہلی بار میرے ذہن میں خیال آیا کہ کہیں انہوں نے وقتی خوشگواری کے لیے تو مجھ سے ایسی بات نہیں کی تھی؟ کیونکہ اپنے گھر والوں کے ارادوں کا تو ہر کسی کو علم ہوتا ہے۔ اگر ان پر والدین کا اتنا ہی اثر تھا تو انہوں نے مجھے سبز باغ کیوں دکھائے؟ میں ان دنوں بہت ڈپریس اور مایوس ہو گئی تھی، کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ بات بات پر آنسو آ جاتے اور میں کھوئی کھوئی رہنے لگی۔ ناصر سے ملتی تو چپ چاپ بیٹھی رہتی؛ وہ ہنسانے کی کوشش کرتے تو میں صرف ‘ہاں’ یا ‘ہوں’ میں جواب دیتی۔ میرا دل بجھ سا گیا تھا اور مایوسی نے مجھے گھیر لیا تھا۔ میری حالت دیکھ کر ناصر کڑھنے لگے اور تسلیاں دیں، مگر ان خالی تسلیوں نے مجھے مزید ویران کر دیا کیونکہ میں دل جیسی متاع لٹا بیٹھی تھی۔ اے کاش ناصر مجھ سے ایسی بات نہ کرتے! اگر وہ سوچ سمجھ کر بات کرتے تو آج میری امیدوں کا شیش محل یوں چکنا چور نہ ہوتا۔
جب وہ مجھے ہر طرح سے خوش کرنے میں ناکام ہو گیا تو میں نے کہا: “تم مرد ہو، کوئی حل نکالو۔ ایسی باتوں سے اب کس کا جی بہلتا ہے؟” ناصر نے جواب دیا: “ایک حل ہے کہ ہم چھپ کر شادی کر لیتے ہیں۔” یہ سن کر میرا دل مزید بیٹھ گیا۔ ماں باپ کے شفیق چہرے میری نظروں کے سامنے پھرنے لگے۔ میں نے کہا: “یہ نہیں ہو سکتا! میں اپنے والدین کو کیا جواب دوں گی؟ جب وہ پوچھیں گے کہ جس نے تمہیں بیوی بنایا ہے، وہ تمہیں عزت سے بیاہنے کیوں نہیں آیا تو میں کیا کہوں گی؟”
ناصر نے صفائی دیتے ہوئے کہا: “دیکھو! میں تمہیں اپنانا چاہتا ہوں، میرے دل میں کوئی کھوٹ نہیں۔ اگر میرے دل میں کھوٹ ہوتا تو میں پہلے دن شادی کی پیشکش نہ کرتا، بلکہ دوستی نبھانے کے وہی طریقے اپناتا جو عموماً یہاں مرد اپناتے ہیں۔ لیکن میرے دل میں چونکہ کوئی چور نہیں تھا، اسی لیے میں نے ایسا نہیں کیا؛ اور اب جو مجبوری ہے وہ بھی معمولی نہیں۔ میرے والدین تمہارے گھر رشتے کے لیے راضی نہیں ہیں، میں انہیں کیسے لے کر آؤں؟ زبردستی تو لا نہیں سکتا، کیا انہیں خودکشی کی دھمکی دوں؟ ایسا ایک پڑھے لکھے انسان، خصوصاً ایک ڈاکٹر کو قطعی زیب نہیں دیتا۔”
میں اس کی مجبوری سمجھ گئی۔ کہتے ہیں کہ جو اچھا بیٹا ہوتا ہے، وہی اچھا شوہر بھی ثابت ہوتا ہے۔ وہ ایک اچھا بیٹا تھا جو اپنے والدین کی نافرمانی سے ڈر رہا تھا۔ اب ایک ہی راستہ بچا تھا کہ ہم چھپ کر شادی کر لیں اور جب والدین راضی ہو جائیں، تب یہ راز ان پر آشکار کریں کہ ہم میاں بیوی ہیں۔ اس طرح انہیں ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا۔ انسان محبت میں اندھا ہو جاتا ہے اور واقعی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے؛ لہٰذا ناصر نے جب منت سماجت کی تو میں مان گئی۔ اس نے کہا: “اگر آج ہم یہاں سے بھاگ گئے تو سب کو پتا چل جائے گا، اس لیے ایسا نہیں کرتے بلکہ ہم آج ہی نکاح کر لیتے ہیں، جس میں میری طرف سے میرے دو دوست شریک ہو جائیں گے۔ پھر میں تبادلے کی کوشش کروں گا اور اپنے شہر ٹرانسفر کرا لوں گا۔ وہاں والدہ کے آگے رات دن ہاتھ جوڑوں گا، آخر کار وہ مان جائیں گی اور ہم نئی زندگی شروع کر سکیں گے۔”
اسی دن ہم کورٹ چلے گئے۔ وکیل سے ملے اور ضروری کارروائی کے بعد ہم نے شادی کر لی۔ میں بہت ڈر رہی تھی، مگر جب کورٹ سے باہر آئے تو ہم میاں بیوی بن چکے تھے۔ ناصر کے دو دوست ساتھ آئے تھے، انہوں نے ہم دونوں کو مبارکباد دی۔ ناصر نے مجھے گھر کے قریب اتار دیا اور خود واپس ہسپتال چلا گیا۔ اس دن مجھے گھر پہنچنے میں ذرا دیر ہو گئی۔ امی نے بغور میرا چہرہ دیکھا اور پوچھا: “بیٹی! آج اتنی دیر کیوں لگا دی؟” میں نے بہانہ کیا کہ آج کام زیادہ تھا، اس لیے دیر ہو گئی۔ امی نے مجھے ایسی بے یقینی سے دیکھا جیسے انہوں نے میرا جھوٹ پکڑ لیا ہو، مگر وہ خاموش رہیں۔
میں اب بھی باقاعدگی سے ہسپتال جا رہی تھی اور ناصر نے بھی تبادلے کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ ایک دن اچانک اس نے مجھے خوشخبری سنائی کہ اس کا تبادلہ ہو گیا ہے اور اس نے وہاں ایک مکان بھی کرائے پر لے لیا ہے۔ مجھے خوشی تو ہوئی، لیکن ساتھ ہی دل بیٹھنے لگا۔ اگر میں والدین سے کہتی کہ میں نے نکاح کر لیا ہے اور اب شوہر کے ساتھ جا رہی ہوں، تو ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی۔ ابا مجھے کبھی جانے نہ دیتے اور میں اس سوال کا کیا جواب دیتی جب وہ پوچھتے: “نکاح کی خبر اب دے رہی ہو، پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
ناصر نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ نکاح کی بات گھر والوں سے خفیہ رکھوں، اس لیے میں مجبور تھی۔ مجھے اس سے محبت تھی اور اس کی مجبوری کی خاطر میں نے والدین کو اس راز میں شریک نہیں کیا تھا۔ اب اس کا اصرار تھا کہ “میرے ساتھ چلو، میں نے گھر لے لیا ہے اور وہاں ڈیوٹی پر جوائن بھی کرنا ہے۔ میں تمہیں یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا کیونکہ تم میری بیوی ہو۔” میں نے کہا کہ ابا سے ملو اور انہیں نکاح کا بتا دو، مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا کہ ابھی اس معاملے کو “طشت از بام” (ظاہر) نہیں کر سکتے، ورنہ مشکلات بڑھ جائیں گی اور ہو سکتا ہے اس جلد بازی میں یہ بندھن ہی ٹوٹ جائے۔
وہ رات میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ ایک طرف میری محبت ناصر تھا اور دوسری جانب میرے بوڑھے ماں باپ اور بہن بھائی، جنہیں میں ہمیشہ کے لیے چھوڑنے جا رہی تھی۔ کیا پتا میرے اس اقدام سے اپنوں پر کیا گزرے؟ اور شاید مجھ پر گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں۔ صبح میں ہسپتال گئی اور ناصر سے ایک دن کی مہلت مانگی۔ اس دن ہسپتال میں میرا جی نہ لگا اور میں جلد گھر آ گئی۔ گھر آ کر سب سے چھپ کر خوب روئی، پھر امی سے ڈھیر ساری باتیں کیں، چھوٹی بہنوں اور بھائی کو پیار کیا اور جب رات کو سب سو گئے تو میں اپنی تیاری میں مصروف ہو گئی۔ دو چار جوڑے بیگ میں رکھے اور ایک بڑی سی چادر اوڑھ کر گھر سے نکل آئی۔ اس گھر کو، جس نے مجھے زندگی کی خوشیاں، دکھ سکھ اور اپنوں کی محبتیں بخشی تھیں، آج میں اپنی خوشی کی خاطر چھوڑ رہی تھی۔ میں کتنی خود غرض ہو گئی تھی کہ اتنے محبت کرنے والے ماں باپ کی ساکھ داؤ پر لگا دی تھی۔
گلی کے نکڑ پر وہ گاڑی لیے کھڑا تھا اور میں رات کے اندھیرے میں خود کو گھر سے بھاگنے والی لڑکی نہیں بلکہ ناصر کی قانونی بیوی سمجھ کر جا رہی تھی۔ مجھے احساسِ جرم نہیں ستا رہا تھا کہ میں کوئی گناہ کرنے جا رہی ہوں، ملال صرف یہ تھا کہ میں اپنے والدین کو گہرا صدمہ پہنچانے جا رہی تھی۔ میں ناصر کی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی، اس صبح کا تصور لیے کہ جب والدین مجھے گھر میں نہیں پائیں گے تو صدمے سے دم بخود رہ جائیں گے؛ پھر میری تلاش شروع ہوگی اور جب وہ ناکام ہو جائیں گے تو ایک کہرام مچ جائے گا۔ ایسا ہی ہوا، انہوں نے خاموشی سے مجھے ہر جگہ ڈھونڈا، مگر بدنامی کے ڈر سے پولیس رپورٹ درج نہیں کرائی۔ وہ روتے رہے اور آخر کار میری قریبی سہیلی کے پاس گئے، جس نے انہیں بتایا کہ میں ڈاکٹر ناصر کے ساتھ ہوتی تھی، یقیناً اسی کے ہمراہ چلی گئی ہوں۔
ناصر نے ایک اچھا سا گھر لے لیا تھا، جسے میں نے بڑے ارمانوں سے سجایا۔ وہ صبح ڈیوٹی پر جاتے اور شام کو ہسپتال سے واپس آ جاتے۔ تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد وہ اپنے والدین کے پاس چلے جاتے اور رات گئے واپس لوٹتے۔ انہوں نے اپنے والدین کو یہی بتایا تھا کہ ہسپتال میں ان کی رات دن موجودگی لازمی ہے اور اسی شرط پر ان کا تبادلہ اپنے شہر میں ممکن ہوا ہے۔ میں ہسپتال نہیں جاتی تھی کیونکہ وہاں ان کے گھر والوں میں سے کسی کے آ جانے کا امکان رہتا تھا؛ کم از کم انہوں نے مجھے یہی بتایا تھا۔ زندگی بڑے سکون سے گزر رہی تھی اور مجھے اپنے والدین کے دکھ کے سوا اور کوئی غم نہ تھا۔ چھ ماہ ہنستے کھیلتے گزر گئے، پھر نجانے کس کی نظر لگ گئی۔
ہوا یوں کہ ایک دن ناصر گھر آیا تو بہت پریشان تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا: “میرے والدین کو ہمارے نکاح کا علم ہو گیا ہے اور اب انہوں نے میرے سامنے یہ شرط رکھی ہے کہ یا تو میں تمہیں چھوڑ دوں یا انہیں ہمیشہ کے لیے بھول جاؤں۔ اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں؟ ایک طرف تم ہو، میرا پیار، اور دوسری طرف میرے بوڑھے ماں باپ جن کا میرے سوا کوئی سہارا نہیں۔ میں انہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟” یہ سن کر مجھے جیسے سانپ سونگھ گیا۔ کیا واقعی وہ مجھے چھوڑ دے گا؟ میں کہاں جاؤں گی؟ جس کی خاطر میں نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا، اپنا گھر بار اجاڑا اور اپنے کنبے کو رسوا کیا، وہی آج مجھے چھوڑنے کی بات کر رہا تھا۔ میں روتی رہی مگر وہ بہت اداس تھا۔
اگلے دن وہ صبح ہسپتال گیا اور شام ہو گئی مگر واپس نہ آیا۔ رات کے وقت ایک بزرگ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ آ گئے۔ انہوں نے آتے ہی درشت لہجے میں کہا: “تم گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہو اور اپنے گھر والوں کے لیے باعثِ شرم ہو۔ چلو، جلدی سے یہ گھر خالی کرو، ناصر اب یہاں نہیں آئے گا۔ ہم اس کی شادی اس کی بچپن کی منگیتر سے کر رہے ہیں بلکہ اس کا نکاح بھی کر دیا گیا ہے۔ ہمیں صرف ایک ہی بہو چاہیے، دو نہیں۔ تم نے جو بویا تھا اب وہی بھگتو، ہم تمہیں قبول نہیں کر سکتے۔”
غرض انہوں نے ایسی باتیں کہیں کہ میں لرز کر رہ گئی۔ انہوں نے میرا سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھا اور کہا: “چادر اوڑھ لو تاکہ ہم تمہیں تمہارے والدین کے حوالے کر آئیں۔” ان کے تیور بہت کڑے تھے، میں نے عافیت اسی میں سمجھی اور چادر اوڑھ کر ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اپنے کپڑے تک نہ اٹھا سکی، پیروں میں صرف چپل تھی اور انہی کپڑوں میں ان کے ہمراہ روانہ ہو گئی۔ تین گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم اپنے شہر پہنچ گئے۔ میرے سسر نے دروازے پر دستک دی تو میری ماں نے دروازہ کھولا۔ وہ مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئیں، اندر ماموں بیٹھے تھے، انہوں نے باہر آ کر غصے سے کہا: “کیوں آئی ہو؟ دفع ہو جاؤ! اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے۔ باپ کے سامنے مت آنا ورنہ ان کا ہارٹ فیل ہو جائے گا۔ ہمارے پاس عزت کے سوا کیا تھا؟ وہ بھی تم نے چھین لی۔”
میرے سسر نے کہا: “بھائی صاحب! یہ آپ کے گھر کی لڑکی ہے اور آپ ہی کی عزت ہے۔ اب آپ اسے رکھیں یا دھتکار دیں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ہم نے اسے آپ کی دہلیز تک پہنچا دیا ہے، آگے آپ جانیں۔” یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔ پھر ماں باہر آئی، میں نے گھر کے اندر قدم رکھنا چاہا تو انہوں نے ہاتھ جوڑ دیے: “خدا کے لیے یہاں سے چلی جا! اگر تمہارے باپ نے تمہیں دیکھ لیا تو وہ تمہیں جان سے مار دیں گے۔ اپنی چھوٹی بہنوں کی زندگی خراب مت کرو۔”
میرے قدم زمین نے پکڑ لیے تھے، میں کہاں جاتی؟ ماموں نے ماں کو اندر گھسیٹ کر دروازہ بند کر لیا۔ میں نے پڑوس کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر انہوں نے بھی جب مجھے دیکھا تو فوراً دروازہ بند کر لیا۔ اب میرے پاس کوئی راستہ نہ تھا، ناچار اپنی سہیلی تہمینہ کے پاس گئی جو ہاسٹل میں تھی۔ اس نے مجھے چند دن پناہ دی، پھر میں ایم ایس (MS) سے ملی اور انہیں اپنی تمام بپتا سنائی۔ انہوں نے رحم کھاتے ہوئے میرا داخلہ بحال کر دیا اور ہاسٹل میں جگہ دے دی۔ یہ وقت میں نے بڑی مشکل سے کاٹا۔ تہمینہ اور زینت نے میری بہت مدد کی اور پھر ایم ایس کی مہربانی سے مجھے ہسپتال ہی میں نوکری مل گئی۔ اب مجھے کوارٹر بھی مل گیا ہے اور باقی زندگی ملازمت کے سہارے گزارنی ہے۔
سنا ہے کہ ڈاکٹر ناصر کی شادی ان کی چچا زاد سے ہو گئی ہے اور وہ ایک خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے والدین نے ابھی تک مجھ سے قطع تعلق کیا ہوا ہے اور میں نے بھی دوسری شادی کے بارے میں نہیں سوچا، کیونکہ میں آج بھی خود کو ناصر کی بیوی ہی سمجھتی ہوں۔ میں خوف کی وجہ سے ان سے نہیں ملتی اور نہ ہی ملنے کی کوشش کی ہے کہ کہیں وہ مجھے طلاق ہی نہ دے دیں۔ کم از کم مجھے ایک آس تو ہے کہ کبھی نہ کبھی ان کے دل میں میرا خیال ضرور آئے گا اور وہ میرا حال جاننے آئیں گے۔ بس اسی موہوم سی آس پر زندہ ہوں۔
میں تمام لڑکیوں سے یہی کہوں گی کہ ہمیشہ اپنے ماں باپ کی عزت کا خیال رکھیں، ورنہ مجھے کوئی شک نہیں کہ ان کا حال بھی میرے جیسا ہوگا۔ میں نے جو دھوکا اپنے والدین کے ساتھ کیا، اس کی سزا مجھے ناصر جیسے شخص کی صورت میں مل گئی۔ خدا نہ کرے کہ کسی اور لڑکی کو میری جیسی سزا ملے۔
(ختم شد)

