رضیہ میری پڑوسن تھی؛ خوبصورت اور سلیقہ شعار۔ اس میں ہر وہ خوبی موجود تھی جو ایک گھریلو عورت میں ہونی چاہیے، بس ذرا کاہل ہو گئی تھی، وہ بھی اس لیے کہ اللہ نے بہت کچھ دے رکھا تھا۔ شوہر کی محبت اور ناز برداری نے اس کو بڑا نازک بنا دیا تھا۔ وہ نوکرانی کے بغیر ایک پل بھی گزارا نہیں کر سکتی تھی۔ خود تو ہل کر پانی بھی نہیں پیتی تھی۔ کہتی تھی: “اگر باورچی خانے چلی جاؤں تو کپڑے میلے اور سنگھار ماند پڑ جاتا ہے، مگر شوہر کو کیا چاہیے؟ ایسی بیوی جو روز نئی لگے۔ بیوی اپنے بناؤ سنگھار سے ہی تو مرد کو اپنا بنا سکتی ہے۔ تب گھر بھی خوب بنا رہتا ہے، ورنہ مرد کا کیا ہے! اپنی گھر والی کی اوڑھنی میلی دیکھ کر وہ باہر کسی اجلی چیز کے اسیر ہو جاتے ہیں۔”
میں رضیہ کی باتیں سنتی تو سوچتی کہ سب دولت کے کھیل ہیں۔ ایک میں ہوں کہ اسکول میں پڑھاتی بھی ہوں اور گھر کا کام بھی کرنا پڑتا ہے، کبھی ایسی باتوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں کہ بن سنور کر بھی رہا جاتا ہے۔ ایک دن رضیہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: “آج کل نوکرانی چلی گئی ہے۔ بڑی تکلیف ہے۔ مجھ سے تو بالکل کام نہیں ہوتا۔ تم ہی کوئی دوسری نوکرانی ڈھونڈ دو۔” میں نے کہا: “اچھا، میں اپنے اسکول کی مائی سے کہوں گی۔” اسکول آ کر میں نے مائی سے بات کی تو اس نے کہا: “بی بی، کراچی سے یہاں کچھ عورتیں آئی ہیں۔ خود کو بہاری اور بنگلہ دیشی غریب کہتی ہیں۔ ہمارے پڑوس میں آ بسی ہیں۔ ان سے بات کروں گی، ضرور کوئی نہ کوئی غریب عورت کام کے لیے مل جائے گی۔”
دوسرے روز مائی ایک نوجوان لڑکی کو لے کر میرے گھر آ گئی۔ رضیہ نے اس سے نہ تو کچھ پوچھا، نہ سوچا، بس فوراً کہہ دیا کہ آج سے ہی کام پر آ جاؤ۔ مگر لڑکی نے کہا کہ میں چار سو روپے تنخواہ لوں گی اور روز کھانے میں چاول اور مچھلی لوں گی۔ رضیہ نے یہ بھی مان لیا کیونکہ اس کو روپے پیسے کی کمی نہ تھی جو وہ تول مول کرتی۔ لڑکی کا نام لیلیٰ اور عمر سترہ برس تھی۔ سانولی رنگت، گٹھا ہوا بدن، بوٹا سا قد، نقوش بھی تیکھے اور پرکشش تھے۔ خاص طور پر بڑی بڑی بے قرار آنکھیں اس کے چہرے پر بہت جاندار لگتی تھیں۔ چہرے پر معصومیت بھی تھی۔ کافی بھلی صورت تھی لیلیٰ کی۔ وہ ساڑھی پہنتی تھی اور اپنے لمبے بالوں کو لپیٹ کر بڑا سا جوڑا بنائے رکھتی تھی۔ کام بہت صاف ستھرا اور پھرتی سے کرتی، اردو بھی بول سکتی تھی۔
رضیہ کے گھر وہ بڑی اچھی طرح کھپ گئی۔ صبح تڑکے ہی آ جاتی، ناشتا بناتی، پھر گھر کی صفائی کرتی، دوپہر کے کھانے میں رضیہ کا ہاتھ بٹاتی، شام کو برتن وغیرہ دھو کر وہ چار پانچ بجے کے قریب فارغ ہو جاتی تو اس کی چھٹی ہو جاتی۔ تبھی وہ کبھی کبھار میرے گھر بھی آ جا سکتی تھی۔ مجھ کو اس کی باتیں اچھی لگتی تھیں۔ اس کی باتوں میں مٹھاس تھی۔ وہ بتاتی تھی کہ ہمارے ملک میں یہ ہوتا تھا، وہ ہوتا تھا۔ یہاں اس کو سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ کھانے کو مچھلی اور چاول باآسانی نہیں ملتے تھے۔ مچھلی کی خاطر اس کے کنبے کی عورتیں مفت بھی گھروں میں کام کرنے پر تیار ہو جاتی تھیں۔ لیلیٰ کا کوئی نہ تھا۔ وہ اپنے محلے کے کچھ لوگوں کے ہمراہ یہاں بسی تھی۔ صرف ایک بوڑھی ماں تھی، البتہ اس کے محلے والے جو اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش سے یہاں آئے تھے، وہ آپس میں ایک برادری کی طرح تھے۔ چھ ماہ آرام سے گزر گئے۔ لیلیٰ نے رضیہ کو کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ رضیہ اس سے بہت خوش تھی۔ کبھی کبھی لیلیٰ کی بوڑھی ماں بھی آ نکلتی۔ رضیہ دونوں ماں بیٹی کی بہت مالی مدد کرتی رہتی تھی۔ وہ لیلیٰ پر مہربان تھی، اس کی غربت کی وجہ سے اور اس کی سلیقہ شعاری اور اچھی عادتوں کی بنا پر۔ لیلیٰ میں چوری کی عادت بھی نہیں تھی۔ کہیں جاتی تو لیلیٰ کو گھر پر چھوڑ جاتی اور گھر کی چابیاں تک اس کے حوالے کر کے جاتی تھی۔
رضیہ کے دو بچے تھے اور تیسرے کی آمد کے دن قریب تھے۔ وہ اپنے میکے ساہیوال جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ جانے سے پہلے مجھ سے ملنے آئی تو میں نے پوچھا: “تم چار ماہ تک ساہیوال رہو گی، تو تمہارے گھر کا کیا ہوگا؟” کہنے لگی: “میرے صاحب گھر پر ہیں، پھر لیلیٰ ہے۔ یہ روز آ کر انہیں کھانا بنا دے گی، گھر کی صفائی بھی کر جایا کرے گی۔” میں رضیہ کے اس اعتماد پر کچھ حیران سی ہوئی۔ نوجوان لڑکی پر اتنا اعتماد! یہ رضیہ ہی کا حوصلہ تھا۔ کہنے لگی: “میرے شوہر مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ میرے علاوہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔” وہ چلی گئی اپنے میکے اور لیلیٰ بدستور کام کرنے کو آتی رہی۔ وہ صبح آتی اور معمول کے مطابق شام کو چار بجے جاتی۔ کسی روز دوپہر کو صاحب کھانا کھانے نہ آتے، تو گھر کو تالا لگا کر وہ چابی مجھے دے جاتی کہ صاحب آئیں تو دے دینا، مگر ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، ورنہ رضیہ کا شوہر عارف پابندی سے گھر پر ہی کھانا کھانے آتا تھا، کیونکہ اسے دوپہر کا کھانا گھر پر ہی کھانے کی عادت تھی۔
تین ماہ بعد ہی محلے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ لیلیٰ اب نکھرتی جا رہی تھی۔ وہ ساڑھیاں بھی اچھی پہننے لگی تھی۔ پہلے سے زیادہ خوش اور بنی سنوری نظر آتی تھی۔ محلے والے کہتے تھے کہ وہ اب صاحب کی منظورِ نظر ہو گئی ہے۔ میرے ہاں لیلیٰ بہت دنوں سے نہیں آ رہی تھی۔ آخر ایک دن میں نے خود اسے اپنے بچے کے ہاتھ حلوہ بھیجا۔ اس دن وہ آئی تو سہی، مگر جھینپتی ہوئی، بار بار ساڑھی کا پلو اس انداز سے درست کرتی جیسے اپنا سراپا سنبھال رہی ہو۔ جب میں نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈال کر کہا کہ “لیلیٰ! تمہاری صحت پہلے سے ماشاء اللہ بہت اچھی ہو گئی ہے،” تو وہ اس طرح گھبرا کر رہ گئی جیسے میں نے اس کی کوئی چوری پکڑ لی ہو۔
پڑوسنوں کی باتوں پر میں نے کان نہیں دھرے تھے کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ عورتوں کو باتیں بنانے کی عادت ہوتی ہے، مگر جب میں نے اس کے نئے روپ کو دیکھا تو مجھے بھی شک سا ہوا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ چار ماہ گزر گئے، رضیہ نہ آئی۔ دو بار عارف صاحب دو چار روز کے لیے ساہیوال بیوی بچوں کے پاس ہو کر آ گئے۔ لیلیٰ سے ہی پتا چلا کہ تیسرا بھی بیٹا ہی پیدا ہوا ہے۔ رضیہ کا ابھی دو ماہ اور میکے میں رہنے کا ارادہ ہے کیونکہ بچہ ابھی چھوٹا ہے، اور رضیہ واپس آنا نہیں چاہتی، البتہ صاحب خود کبھی کبھی وہاں جاتے رہیں گے۔ اب مجھے رضیہ پر غصہ آیا کہ اس نے لاپرواہی کی حد کر دی تھی۔ بھلا کوئی عورت شوہر سے اتنے دنوں تک بھی غافل رہتی ہے؟ مجھے ڈر تھا کہ کہیں اس کو غفلت کی سزا نہ ملے، کیونکہ عورت کو غفلت کی سزا تھوڑی دیر سے ملتی ہے، مگر ملتی ضرور ہے۔
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ لیلیٰ کی خدمت گزاری سے عارف صاحب خوش ہونے لگے اور آخرکار اس کا خیال رکھنے لگے۔ جب لوگوں نے باتیں زیادہ بنانی شروع کر دیں تو عارف صاحب نے لیلیٰ اور اس کی ماں کو گھر میں مستقل ٹھکانا دے دیا اور محلے والوں کو صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ کسی کو کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے لیلیٰ سے نکاح کر لیا ہے۔ بھلا اور مرد کیا دوسری شادی نہیں کرتے؟ یہ کون سا ایسا گناہ کا کام کیا ہے کہ لوگوں کا چین و آرام حرام ہو گیا ہے۔ اس اعلان پر محلے والوں کی زبانیں بند ہو گئیں، انہوں نے چپ سادھ لی، کیونکہ عارف نے لیلیٰ کو تحفظ دے دیا تھا، پھر لیلیٰ اب ان کے بچے کو جنم دینے والی تھی۔ لوگ لیلیٰ کو رضیہ کا مقام تو نہیں دے سکتے تھے، مگر وہ اب اس کے بارے میں غلط قسم کی باتیں بھی نہیں کرتے تھے۔ عارف ایک معزز شخص تھا اور عورت جب کسی معزز آدمی کی پناہ میں چلی جاتی ہے، تو اسے بھی اس آدمی کی وجہ سے عزت کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ لوگوں نے چپ تو سادھ لی تھی، مگر سرگوشیوں سے باز نہیں آتے تھے۔ کوئی کہتا کہ نوکرانی نے مالکن کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا لیا، عورت نے عورت کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ کوئی کہتا کہ قصور خود بیگم کا ہے، کیوں میاں پر اتنا اعتبار کیا؟ اتنے دن تک میکے میں رہ جانے کی بھلا کیا تک تھی۔میں بھی بدستور کشمکش میں تھی کہ رضیہ جاتے ہوئے اپنے میکے کا پتا دے کر گئی تھی کہ کبھی کبھار خط لکھ دیا کرنا۔ میں نے ڈائری سے پتا تلاش کیا اور رضیہ کو خط لکھ دیا۔ وہ میری پڑوسن ہی نہیں، سہیلی جیسی تھی، آخر اس کا مجھ پر کچھ حق بنتا تھا۔ میرا یہ فرض تھا کہ اسے اس کے گھر کے حالات سے باخبر کروں۔ اس کی تو جنت لٹ چکی تھی اور وہ نہ جانے کیوں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔
میرا خط ملا تو اس کے میکے میں گویا بم پھٹ پڑا۔ خط ملتے ہی وہ اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ واپس روانہ ہو گئی۔ یہاں پہنچی تو گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ جس گھر کو وہ نوکرانی کے ہاتھوں میں سونپ کر گئی تھی، وہ اب سوکن بنی اس کی مالکن تھی۔ رضیہ نے تو ایک قیامت کھڑی کر دی۔ اس قدر جھگڑا کیا کہ الامان الحفیظ! شوہر سے صاف صاف کہہ دیا کہ یا اس چھوکری کو رکھو یا پھر مجھے، ورنہ اسے طلاق دو۔ عارف کی حالت بھی قابلِ دید تھی۔ وہ رضیہ کی منت کرتا رہا، پیار سے سمجھایا کہ تنہائی میں ایک غلطی ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس غلطی کو نبھانے کا فیصلہ کیا ہے کہ یہ بے چاری دنیا کو کیا جواب دے گی؟ بس اتنی مہلت دے دو کہ یہ میرے بچے کو میرے گھر میں جنم دے لے، تو میں اسے طلاق دے دوں گا۔ تم بچہ اپنے پاس رکھ لینا۔ یہ اپنا بچہ ہمیں دے کر ہمیشہ کے لیے چلے جانے پر راضی ہے، مگر اب میں ان دنوں میں اسے گھر سے نکال نہیں سکتا اور نہ ہی طلاق کا اعلان کر سکتا ہوں۔
رضیہ حسد کی آگ میں سر تا پا جل رہی تھی۔ اس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ پہلے لیلیٰ کی ساری برادری کو بلایا جائے جن کے سامنے اس نے نکاح کیا ہے، اور انہی کے سامنے طلاق کے الفاظ تین بار کہہ کر اسے گھر سے چلتا کیا جائے۔ عورت کو یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر پر بڑے حقوق رکھتی ہے اور بیوی بن کر جو چاہے منوا سکتی ہے، مگر یہ اس کی بھول ہے۔ اگر مرد کے دل میں فرق آ جائے تو پھر اس کے سارے مان ٹوٹ جاتے ہیں اور عورت خود حقیر ہو جاتی ہے۔ مرد سے اس کی وسعت سے بڑھ کر مانگنا بھی بعض اوقات عورت کو بھکارن سے کم درجے پر لے آتا ہے۔ یہی حال رضیہ کا ہوا؛ اس کی ضد نے آخر اس کا گھر برباد کر دیا۔ پہلے تو شوہر ہر بات ماننے پر تیار تھا، صرف اس ایک شرط پر کہ وہ کچھ دنوں کی مہلت دے اور ذرا حوصلے سے کام لے۔ وہ لیلیٰ اور اس کی ماں کو دوسرے مکان میں منتقل کرنے پر بھی تیار تھا، مگر رضیہ نے کوئی سمجھوتے والی بات نہ مانی۔ وہ بس یہی کہتی تھی کہ یا تو ابھی اسے طلاق دو یا پھر مجھے۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ عارف اسے کبھی طلاق نہ دے سکے گا کیونکہ وہ اس کی چہیتی بیوی اور اس کے تین بیٹوں کی ماں ہے، مگر اس نے عارف کو امتحان میں ڈال دیا تھا۔ بھلا محبت کرنے والوں سے بھی امتحان لیا جاتا ہے؟آخر عارف نے کہہ دیا کہ لیلیٰ ایک بے آسرا لڑکی ہے اور میں اسے فوری طور پر طلاق دینے سے مجبور ہوں کیونکہ وہ امید سے ہے، البتہ تم کو تمہاری ضد کے پیشِ نظر طلاق دیتا ہوں۔ اس ایک فقرے کے تین بار دہرائے جانے سے سارا جھگڑا ختم ہو گیا۔ رضیہ کا تخت الٹ گیا، اس کا مان ٹوٹ کر خاک میں مل گیا۔ مالکن اپنے گھر میں اجنبی بن گئی اور نوکرانی مالک بن گئی۔ رضیہ روتی ہوئی بچوں کے ساتھ اپنے میکے چلی گئی۔ جانے سے پہلے وہ لمحہ بھر کو میرے گھر آ کر بیٹھی تھی، مگر اس قدر رو رہی تھی کہ اس سے بات تک نہ ہو پا رہی تھی، اور آج بھی اس کا وہ رونا مجھے نہیں بھولتا۔
ہم سب ہی نہیں، خود رضیہ بھی پچھتا رہی ہے کہ اگر عارف نے نوکرانی سے نکاح کر بھی لیا تھا تو کیا ہوا، اس کے بچے تو باپ کے تحفظ میں تھے۔ اب تو وہ رشتہ داروں کی ٹھوکروں میں ہیں۔ بچوں کو خود سے جدا کر کے سوتیلی ماں کے حوالے کرنے کا حوصلہ بھی نہیں؛ کبھی ایک بھائی کے گھر تو کبھی دوسرے کے در پر جا رہتی ہے۔ بھابھیاں اس کو چند دن ہی برداشت کرتی ہیں۔ سسرال والے بھی اسے رکھنے کے روادار نہیں۔ ایک لیلیٰ ہے جو اس کے لیے روتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر یہ خطا نہ ہوئی ہوتی تو میں کبھی رضیہ کے لیے دکھ کا باعث نہ بنتی۔ کاش وہ واپس آ سکتی، میں اسے مالکن ہی مانتی اور خود اس کے قدموں میں بیٹھتی۔ یہ الفاظ وہ دل سے کہتی ہے، مجھے یقین ہے۔
میں رضیہ کی باتیں سنتی تو سوچتی کہ سب دولت کے کھیل ہیں۔ ایک میں ہوں کہ اسکول میں پڑھاتی بھی ہوں اور گھر کا کام بھی کرنا پڑتا ہے، کبھی ایسی باتوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں کہ بن سنور کر بھی رہا جاتا ہے۔ ایک دن رضیہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی: “آج کل نوکرانی چلی گئی ہے۔ بڑی تکلیف ہے۔ مجھ سے تو بالکل کام نہیں ہوتا۔ تم ہی کوئی دوسری نوکرانی ڈھونڈ دو۔” میں نے کہا: “اچھا، میں اپنے اسکول کی مائی سے کہوں گی۔” اسکول آ کر میں نے مائی سے بات کی تو اس نے کہا: “بی بی، کراچی سے یہاں کچھ عورتیں آئی ہیں۔ خود کو بہاری اور بنگلہ دیشی غریب کہتی ہیں۔ ہمارے پڑوس میں آ بسی ہیں۔ ان سے بات کروں گی، ضرور کوئی نہ کوئی غریب عورت کام کے لیے مل جائے گی۔”
دوسرے روز مائی ایک نوجوان لڑکی کو لے کر میرے گھر آ گئی۔ رضیہ نے اس سے نہ تو کچھ پوچھا، نہ سوچا، بس فوراً کہہ دیا کہ آج سے ہی کام پر آ جاؤ۔ مگر لڑکی نے کہا کہ میں چار سو روپے تنخواہ لوں گی اور روز کھانے میں چاول اور مچھلی لوں گی۔ رضیہ نے یہ بھی مان لیا کیونکہ اس کو روپے پیسے کی کمی نہ تھی جو وہ تول مول کرتی۔ لڑکی کا نام لیلیٰ اور عمر سترہ برس تھی۔ سانولی رنگت، گٹھا ہوا بدن، بوٹا سا قد، نقوش بھی تیکھے اور پرکشش تھے۔ خاص طور پر بڑی بڑی بے قرار آنکھیں اس کے چہرے پر بہت جاندار لگتی تھیں۔ چہرے پر معصومیت بھی تھی۔ کافی بھلی صورت تھی لیلیٰ کی۔ وہ ساڑھی پہنتی تھی اور اپنے لمبے بالوں کو لپیٹ کر بڑا سا جوڑا بنائے رکھتی تھی۔ کام بہت صاف ستھرا اور پھرتی سے کرتی، اردو بھی بول سکتی تھی۔
رضیہ کے گھر وہ بڑی اچھی طرح کھپ گئی۔ صبح تڑکے ہی آ جاتی، ناشتا بناتی، پھر گھر کی صفائی کرتی، دوپہر کے کھانے میں رضیہ کا ہاتھ بٹاتی، شام کو برتن وغیرہ دھو کر وہ چار پانچ بجے کے قریب فارغ ہو جاتی تو اس کی چھٹی ہو جاتی۔ تبھی وہ کبھی کبھار میرے گھر بھی آ جا سکتی تھی۔ مجھ کو اس کی باتیں اچھی لگتی تھیں۔ اس کی باتوں میں مٹھاس تھی۔ وہ بتاتی تھی کہ ہمارے ملک میں یہ ہوتا تھا، وہ ہوتا تھا۔ یہاں اس کو سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ کھانے کو مچھلی اور چاول باآسانی نہیں ملتے تھے۔ مچھلی کی خاطر اس کے کنبے کی عورتیں مفت بھی گھروں میں کام کرنے پر تیار ہو جاتی تھیں۔ لیلیٰ کا کوئی نہ تھا۔ وہ اپنے محلے کے کچھ لوگوں کے ہمراہ یہاں بسی تھی۔ صرف ایک بوڑھی ماں تھی، البتہ اس کے محلے والے جو اس کے ساتھ ہی بنگلہ دیش سے یہاں آئے تھے، وہ آپس میں ایک برادری کی طرح تھے۔ چھ ماہ آرام سے گزر گئے۔ لیلیٰ نے رضیہ کو کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ رضیہ اس سے بہت خوش تھی۔ کبھی کبھی لیلیٰ کی بوڑھی ماں بھی آ نکلتی۔ رضیہ دونوں ماں بیٹی کی بہت مالی مدد کرتی رہتی تھی۔ وہ لیلیٰ پر مہربان تھی، اس کی غربت کی وجہ سے اور اس کی سلیقہ شعاری اور اچھی عادتوں کی بنا پر۔ لیلیٰ میں چوری کی عادت بھی نہیں تھی۔ کہیں جاتی تو لیلیٰ کو گھر پر چھوڑ جاتی اور گھر کی چابیاں تک اس کے حوالے کر کے جاتی تھی۔
رضیہ کے دو بچے تھے اور تیسرے کی آمد کے دن قریب تھے۔ وہ اپنے میکے ساہیوال جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ جانے سے پہلے مجھ سے ملنے آئی تو میں نے پوچھا: “تم چار ماہ تک ساہیوال رہو گی، تو تمہارے گھر کا کیا ہوگا؟” کہنے لگی: “میرے صاحب گھر پر ہیں، پھر لیلیٰ ہے۔ یہ روز آ کر انہیں کھانا بنا دے گی، گھر کی صفائی بھی کر جایا کرے گی۔” میں رضیہ کے اس اعتماد پر کچھ حیران سی ہوئی۔ نوجوان لڑکی پر اتنا اعتماد! یہ رضیہ ہی کا حوصلہ تھا۔ کہنے لگی: “میرے شوہر مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ میرے علاوہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے۔” وہ چلی گئی اپنے میکے اور لیلیٰ بدستور کام کرنے کو آتی رہی۔ وہ صبح آتی اور معمول کے مطابق شام کو چار بجے جاتی۔ کسی روز دوپہر کو صاحب کھانا کھانے نہ آتے، تو گھر کو تالا لگا کر وہ چابی مجھے دے جاتی کہ صاحب آئیں تو دے دینا، مگر ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا تھا، ورنہ رضیہ کا شوہر عارف پابندی سے گھر پر ہی کھانا کھانے آتا تھا، کیونکہ اسے دوپہر کا کھانا گھر پر ہی کھانے کی عادت تھی۔
تین ماہ بعد ہی محلے میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ لیلیٰ اب نکھرتی جا رہی تھی۔ وہ ساڑھیاں بھی اچھی پہننے لگی تھی۔ پہلے سے زیادہ خوش اور بنی سنوری نظر آتی تھی۔ محلے والے کہتے تھے کہ وہ اب صاحب کی منظورِ نظر ہو گئی ہے۔ میرے ہاں لیلیٰ بہت دنوں سے نہیں آ رہی تھی۔ آخر ایک دن میں نے خود اسے اپنے بچے کے ہاتھ حلوہ بھیجا۔ اس دن وہ آئی تو سہی، مگر جھینپتی ہوئی، بار بار ساڑھی کا پلو اس انداز سے درست کرتی جیسے اپنا سراپا سنبھال رہی ہو۔ جب میں نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈال کر کہا کہ “لیلیٰ! تمہاری صحت پہلے سے ماشاء اللہ بہت اچھی ہو گئی ہے،” تو وہ اس طرح گھبرا کر رہ گئی جیسے میں نے اس کی کوئی چوری پکڑ لی ہو۔
پڑوسنوں کی باتوں پر میں نے کان نہیں دھرے تھے کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ عورتوں کو باتیں بنانے کی عادت ہوتی ہے، مگر جب میں نے اس کے نئے روپ کو دیکھا تو مجھے بھی شک سا ہوا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ چار ماہ گزر گئے، رضیہ نہ آئی۔ دو بار عارف صاحب دو چار روز کے لیے ساہیوال بیوی بچوں کے پاس ہو کر آ گئے۔ لیلیٰ سے ہی پتا چلا کہ تیسرا بھی بیٹا ہی پیدا ہوا ہے۔ رضیہ کا ابھی دو ماہ اور میکے میں رہنے کا ارادہ ہے کیونکہ بچہ ابھی چھوٹا ہے، اور رضیہ واپس آنا نہیں چاہتی، البتہ صاحب خود کبھی کبھی وہاں جاتے رہیں گے۔ اب مجھے رضیہ پر غصہ آیا کہ اس نے لاپرواہی کی حد کر دی تھی۔ بھلا کوئی عورت شوہر سے اتنے دنوں تک بھی غافل رہتی ہے؟ مجھے ڈر تھا کہ کہیں اس کو غفلت کی سزا نہ ملے، کیونکہ عورت کو غفلت کی سزا تھوڑی دیر سے ملتی ہے، مگر ملتی ضرور ہے۔
وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ لیلیٰ کی خدمت گزاری سے عارف صاحب خوش ہونے لگے اور آخرکار اس کا خیال رکھنے لگے۔ جب لوگوں نے باتیں زیادہ بنانی شروع کر دیں تو عارف صاحب نے لیلیٰ اور اس کی ماں کو گھر میں مستقل ٹھکانا دے دیا اور محلے والوں کو صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ کسی کو کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے لیلیٰ سے نکاح کر لیا ہے۔ بھلا اور مرد کیا دوسری شادی نہیں کرتے؟ یہ کون سا ایسا گناہ کا کام کیا ہے کہ لوگوں کا چین و آرام حرام ہو گیا ہے۔ اس اعلان پر محلے والوں کی زبانیں بند ہو گئیں، انہوں نے چپ سادھ لی، کیونکہ عارف نے لیلیٰ کو تحفظ دے دیا تھا، پھر لیلیٰ اب ان کے بچے کو جنم دینے والی تھی۔ لوگ لیلیٰ کو رضیہ کا مقام تو نہیں دے سکتے تھے، مگر وہ اب اس کے بارے میں غلط قسم کی باتیں بھی نہیں کرتے تھے۔ عارف ایک معزز شخص تھا اور عورت جب کسی معزز آدمی کی پناہ میں چلی جاتی ہے، تو اسے بھی اس آدمی کی وجہ سے عزت کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ لوگوں نے چپ تو سادھ لی تھی، مگر سرگوشیوں سے باز نہیں آتے تھے۔ کوئی کہتا کہ نوکرانی نے مالکن کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھا لیا، عورت نے عورت کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ کوئی کہتا کہ قصور خود بیگم کا ہے، کیوں میاں پر اتنا اعتبار کیا؟ اتنے دن تک میکے میں رہ جانے کی بھلا کیا تک تھی۔میں بھی بدستور کشمکش میں تھی کہ رضیہ جاتے ہوئے اپنے میکے کا پتا دے کر گئی تھی کہ کبھی کبھار خط لکھ دیا کرنا۔ میں نے ڈائری سے پتا تلاش کیا اور رضیہ کو خط لکھ دیا۔ وہ میری پڑوسن ہی نہیں، سہیلی جیسی تھی، آخر اس کا مجھ پر کچھ حق بنتا تھا۔ میرا یہ فرض تھا کہ اسے اس کے گھر کے حالات سے باخبر کروں۔ اس کی تو جنت لٹ چکی تھی اور وہ نہ جانے کیوں خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔
میرا خط ملا تو اس کے میکے میں گویا بم پھٹ پڑا۔ خط ملتے ہی وہ اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ واپس روانہ ہو گئی۔ یہاں پہنچی تو گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ جس گھر کو وہ نوکرانی کے ہاتھوں میں سونپ کر گئی تھی، وہ اب سوکن بنی اس کی مالکن تھی۔ رضیہ نے تو ایک قیامت کھڑی کر دی۔ اس قدر جھگڑا کیا کہ الامان الحفیظ! شوہر سے صاف صاف کہہ دیا کہ یا اس چھوکری کو رکھو یا پھر مجھے، ورنہ اسے طلاق دو۔ عارف کی حالت بھی قابلِ دید تھی۔ وہ رضیہ کی منت کرتا رہا، پیار سے سمجھایا کہ تنہائی میں ایک غلطی ہو گئی تھی، اس لیے میں نے اس غلطی کو نبھانے کا فیصلہ کیا ہے کہ یہ بے چاری دنیا کو کیا جواب دے گی؟ بس اتنی مہلت دے دو کہ یہ میرے بچے کو میرے گھر میں جنم دے لے، تو میں اسے طلاق دے دوں گا۔ تم بچہ اپنے پاس رکھ لینا۔ یہ اپنا بچہ ہمیں دے کر ہمیشہ کے لیے چلے جانے پر راضی ہے، مگر اب میں ان دنوں میں اسے گھر سے نکال نہیں سکتا اور نہ ہی طلاق کا اعلان کر سکتا ہوں۔
رضیہ حسد کی آگ میں سر تا پا جل رہی تھی۔ اس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ پہلے لیلیٰ کی ساری برادری کو بلایا جائے جن کے سامنے اس نے نکاح کیا ہے، اور انہی کے سامنے طلاق کے الفاظ تین بار کہہ کر اسے گھر سے چلتا کیا جائے۔ عورت کو یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر پر بڑے حقوق رکھتی ہے اور بیوی بن کر جو چاہے منوا سکتی ہے، مگر یہ اس کی بھول ہے۔ اگر مرد کے دل میں فرق آ جائے تو پھر اس کے سارے مان ٹوٹ جاتے ہیں اور عورت خود حقیر ہو جاتی ہے۔ مرد سے اس کی وسعت سے بڑھ کر مانگنا بھی بعض اوقات عورت کو بھکارن سے کم درجے پر لے آتا ہے۔ یہی حال رضیہ کا ہوا؛ اس کی ضد نے آخر اس کا گھر برباد کر دیا۔ پہلے تو شوہر ہر بات ماننے پر تیار تھا، صرف اس ایک شرط پر کہ وہ کچھ دنوں کی مہلت دے اور ذرا حوصلے سے کام لے۔ وہ لیلیٰ اور اس کی ماں کو دوسرے مکان میں منتقل کرنے پر بھی تیار تھا، مگر رضیہ نے کوئی سمجھوتے والی بات نہ مانی۔ وہ بس یہی کہتی تھی کہ یا تو ابھی اسے طلاق دو یا پھر مجھے۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ عارف اسے کبھی طلاق نہ دے سکے گا کیونکہ وہ اس کی چہیتی بیوی اور اس کے تین بیٹوں کی ماں ہے، مگر اس نے عارف کو امتحان میں ڈال دیا تھا۔ بھلا محبت کرنے والوں سے بھی امتحان لیا جاتا ہے؟آخر عارف نے کہہ دیا کہ لیلیٰ ایک بے آسرا لڑکی ہے اور میں اسے فوری طور پر طلاق دینے سے مجبور ہوں کیونکہ وہ امید سے ہے، البتہ تم کو تمہاری ضد کے پیشِ نظر طلاق دیتا ہوں۔ اس ایک فقرے کے تین بار دہرائے جانے سے سارا جھگڑا ختم ہو گیا۔ رضیہ کا تخت الٹ گیا، اس کا مان ٹوٹ کر خاک میں مل گیا۔ مالکن اپنے گھر میں اجنبی بن گئی اور نوکرانی مالک بن گئی۔ رضیہ روتی ہوئی بچوں کے ساتھ اپنے میکے چلی گئی۔ جانے سے پہلے وہ لمحہ بھر کو میرے گھر آ کر بیٹھی تھی، مگر اس قدر رو رہی تھی کہ اس سے بات تک نہ ہو پا رہی تھی، اور آج بھی اس کا وہ رونا مجھے نہیں بھولتا۔
ہم سب ہی نہیں، خود رضیہ بھی پچھتا رہی ہے کہ اگر عارف نے نوکرانی سے نکاح کر بھی لیا تھا تو کیا ہوا، اس کے بچے تو باپ کے تحفظ میں تھے۔ اب تو وہ رشتہ داروں کی ٹھوکروں میں ہیں۔ بچوں کو خود سے جدا کر کے سوتیلی ماں کے حوالے کرنے کا حوصلہ بھی نہیں؛ کبھی ایک بھائی کے گھر تو کبھی دوسرے کے در پر جا رہتی ہے۔ بھابھیاں اس کو چند دن ہی برداشت کرتی ہیں۔ سسرال والے بھی اسے رکھنے کے روادار نہیں۔ ایک لیلیٰ ہے جو اس کے لیے روتی ہے اور کہتی ہے کہ اگر یہ خطا نہ ہوئی ہوتی تو میں کبھی رضیہ کے لیے دکھ کا باعث نہ بنتی۔ کاش وہ واپس آ سکتی، میں اسے مالکن ہی مانتی اور خود اس کے قدموں میں بیٹھتی۔ یہ الفاظ وہ دل سے کہتی ہے، مجھے یقین ہے۔
(ختم شد)

