ہمارے خاندان میں سب گورے چٹے اور سرخ و سفید تھے، لیکن میری بڑی بہن ملیحہ کی رنگت سانولی تھی۔ جب سب ساتھ بیٹھتے تو وہ خاندان بھر میں الگ تھلگ دکھائی دیتیں۔ میں اجلی، نکھری اور خوبصورت تھی، اور اسی بات نے مجھ میں غرور پیدا کر دیا تھا۔ ناموں کا بھی انسانی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ میرا نام “نورِ سحر” رکھتے ہوئے غالباً والدین نے میری حسنِ صورت کو مدنظر رکھا ہوگا، جبکہ ملیحہ کا رنگ گہرا تھا اور نقوش بھی واجبی تھے؛ گویا وہ ایسی شام تھیں جس کی سحر ہی نہ ہو۔
cknwrites
جب ہم بہنیں کہیں ساتھ جاتیں تو لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے، جبکہ میں سراپا حسن کی ایک بولتی تصویر تھی۔ جب ہر شخص گہری نظر سے دیکھے اور تعریف کرے، تو انسان خود پسند اور خود بین ہو ہی جاتا ہے۔ جوں جوں اپنے حسن کا ادراک بڑھتا گیا، میرے غرور میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اب میں اپنے مقابلے میں کسی اور کو کچھ گردانتی ہی نہ تھی۔
دوسری طرف باجی تھیں، جو توجہ حاصل کرنے کے لیے سو جتن کرتی تھیں۔ فیشن ایبل عمدہ لباس اور بالوں کے نت نئے اسٹائل؛ وہ میک اپ کی دلدادہ تھیں، لیکن ہر دم نک سک سے درست ہونے کے باوجود کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا تھا۔ پھر ہماری زندگی میں وہ موڑ آگیا جب بیری پر پتھر آنے لگتے ہیں۔ والدین چاہتے تھے کہ پہلے ملیحہ کی شادی ہو، پھر نورِ سحر کے ہاتھ پیلے کریں گے۔ میں ان سے چار برس چھوٹی تھی، لیکن مشکل یہ تھی کہ جو بھی رشتہ دیکھنے آتے، وہ باجی کے بجائے مجھے پسند کر لیتے۔ اسی کشمکش میں کئی اچھے رشتے لٹا دیے گئے۔ والد کبھی کبھی سمجھاتے کہ “بیگم ایسا مت کرو، اتنا اچھا رشتہ نہ ٹھکراؤ۔ وہ نورِ سحر کو مانگ رہے ہیں تو ہاں کر دو، ایسا رشتہ پھر نہ ملے گا۔ جب نور اپنے گھر کی ہو جائے گی تو ملیحہ کے لیے بھی کوئی راہ نکل آئے گی۔”
امی اپنی ضد کی پکی تھیں، انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ ٹھکرا دیا۔ ملیحہ کا گھر بسانے کی خاطر وہ مجھے سب سے چھپانے لگیں، لیکن چودھویں کا چاند بھلا بدلیوں میں کب چھپتا ہے؟ روشنی چھن چھن کر باہر آتی ہے تو اور بھی بھلی لگتی ہے۔ ملیحہ اور مجھ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ مجھے لاکھ چھپایا گیا مگر میرے حسن کا چرچا نہ رک سکا۔
وقت گزرتا گیا، میں ستائیس اور باجی تیس سال کی ہو گئیں۔ رشتے آنا کم ہو گئے مگر ہماری والدہ کو پھر بھی عقل نہ آئی اور انہوں نے ہاں نہ کی۔ بالآخر ایک رشتہ کرانے والی عورت کا سہارا لینا پڑا۔ وہ جو رشتہ لائی، لڑکے کو دیکھتے ہی ملیحہ باجی اس پر لٹو ہو گئیں۔ بدقسمتی سے لڑکے نے میری بھی ایک جھلک دیکھ لی تھی۔ اس نے گھر جا کر اپنی ماں سے کہہ دیا کہ “بڑی لڑکی کا رنگ بہت گہرا ہے، مجھے چھوٹی کا رشتہ منظور ہے۔” وہ عورتیں دوبارہ آئیں، باجی کو نظر انداز کر دیا اور مجھے بلا کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ ان کی مجھ میں دلچسپی دیکھ کر باجی سب سمجھ گئیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ ان عورتوں نے بھی انہیں رد کر کے مجھے پسند کر لیا ہے۔
میرا دل بیٹھ گیا۔ میں اپنی بہن کے جذبات بخوبی سمجھتی تھی مگر کیا کرتی؟ لوگوں کے دل پھیر دینا میرے بس میں نہ تھا۔ ادھر امی نے بھی سوچ لیا کہ یہ بیل تبھی منڈھے چڑھے گی جب وہ پہلے مجھے رخصت کریں گی۔ جب میں چلی جاؤں گی تو مقابلے کی صورت باقی نہ رہے گی اور ظاہر ہے ملیحہ کی شادی کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
شادی کے انتظار میں میری بہن کی عمر نکلی جا رہی تھی اور میں ان کے لیے کچھ نہ کر سکتی تھی۔ اب میں خود کو مجرم سمجھنے لگی تھی کہ ملیحہ میری وجہ سے دلہن نہ بن سکیں۔ میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں کہ ناصر میری بجائے ملیحہ کو قبول کر لے۔ کاش مجھ میں اتنا حوصلہ ہوتا کہ اپنے چہرے پر تیزاب ڈال کر نقوش بگاڑ لیتی۔ جب حسن ہی نہ رہتا تو کون مجھے پسند کرتا؟ میں بزدل تھی، ورنہ شاید بہن کی خوشی کی خاطر یہ بھی کر گزرتی۔ رات بھر رو رو کر دعا کرتی رہی کہ اے اللہ! ناصر اور اس کے گھر والے ایک بار پھر آئیں اور مجھے ناپسند کر کے میری بہن کو قبول کر لیں، مگر یہ کیوں کر ممکن تھا؟
رشتہ بہت اچھا تھا۔ لوگ پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے اور ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی نظر میں انہوں نے ہمیں اور ہم نے ان کے گھرانے کو پسند کر لیا تھا، بس مسئلہ ‘چھوٹی بڑی بہن’ کا تھا، لیکن ناصر کو میں اتنی پسند آئی کہ اس نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑ دیے کہ شادی کرنی ہے تو اسی لڑکی سے، کسی طرح نورِ سحر کے والدین کو راضی کریں۔ وہ کہنے لگا، “ہم اپنا نیا بنگلہ اس کے نام کرنے کو تیار ہیں، انہیں اور کیا چاہیے؟”
ظاہر ہے کہ وہ ایک بڑے آدمی کا بیٹا تھا اور اسے بہت اچھے رشتے مل سکتے تھے، نہ جانے اس نے مجھ میں کیا دیکھا کہ بس اڑ گیا۔ اس کی والدہ اور گھر والے کئی بار آئے اور اس قدر منت سماجت کی کہ بالآخر والد صاحب نے میرے لیے ہاں کر دی۔ انہوں نے امی کو بھی راضی کر لیا کہ نورِ سحر کو اپنے گھر کا ہو جانے دیں، ملیحہ کا رشتہ ان شاء اللہ بعد میں ہو جائے گا۔
میری شادی ناصر سے ہو گئی۔ باجی کئی دنوں تک افسردہ اور دلبرداشتہ رہیں اور پھر میں رخصت ہو گئی۔ جب میں اور ناصر میکے آتے تو وہ اپنے کمرے میں چلی جاتیں۔ بالآخر مجھے اپنی باجی کا دکھ شوہر کو بتانا ہی پڑا۔ باجی کی رنگت سانولی تھی، اس کے سوا ان میں کوئی عیب نہ تھا بلکہ وہ مجھ سے زیادہ خوبیوں کی مالک تھیں۔ نرم خو، فرمانبردار، سگھڑ اور سلجھے ہوئے ذہن کی حامل۔ رفتہ رفتہ ناصر نے بھی جان لیا کہ اگر نورِ سحر حسن کی دولت سے مالا مال ہے تو ملیحہ اپنی شخصیت کی خوبیوں کے باعث ایک اعلیٰ درجے کی انسان ہے۔ اگر عقل کی آنکھ سے دیکھا جائے تو وہ لڑکی ان خوبیوں کی بنا پر اپنی چھوٹی بہن سے بڑھ کر تھی۔
ایک سال بعد اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا۔ ان دنوں امی کی طبیعت ٹھیک نہ تھی اور میری ساس اپنی بڑی بیٹی کے پاس جدہ گئی ہوئی تھیں۔ ایسے میں ملیحہ باجی کو میرے پاس آکر رہنا پڑا۔ انہوں نے جس طرح مجھے اور میرے نوزائیدہ بچے کو سنبھالا اور گھر کی دیکھ بھال کی، ناصر اس سے ازحد متاثر ہوئے۔ وہ کہتے تھے، “رنگت گہری سانولی ہے تو کیا ہوا، یہ لڑکی تو سونے میں تولنے کے قابل ہے۔ افسوس کہ لوگ ہمیشہ ظاہری صورت پر جاتے ہیں اور کوئی کسی کی اندرونی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا۔ میں کوشش کروں گا کہ کسی اچھے گھر میں تمہاری باجی کا رشتہ ہو جائے۔”
ناصر کے ایک کزن، جن کا نام صباحت تھا، ان کی شادی کو دو سال ہی گزرے تھے کہ میاں بیوی میں ناچاقی ہو گئی۔ ان کی اہلیہ ایک بہت امیر اور ماڈرن فیملی سے تعلق رکھتی تھیں اور دونوں کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ نباہ نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی۔ صباحت بھائی بہت دل گرفتہ تھے۔ وہ اکثر اتوار کو ناصر سے ملنے آ جاتے اور دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھاتے۔ دو چار بار ایسا ہوا کہ جب وہ آئے تو ملیحہ باجی بھی وہیں تھیں۔
کہتے ہیں نا کہ حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے؛ جسے اللہ دیدۂ بینا دے، وہ باطنی خوبصورتی کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ صباحت بھائی کو ملیحہ میں وہ حسن نظر آگیا جو کسی اور کو دکھائی نہ دیا تھا۔ وہ خود خاصے وجیہہ تھے اور ان کی پہلی بیوی بھی بہت حسین تھی، بہرحال ‘حسن کی ناگن’ سے ڈسے جانے کے بعد اب ان کے دل میں صرف ظاہری خوبصورتی کی تمنا نہ رہی تھی۔ انہوں نے میرے گھر پر ملیحہ کو دیکھا اور پسند کر لیا، پھر ناصر سے بات کی کہ “ملیحہ سے میری شادی کروا دو۔”
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں! ہم تو پہلے ہی تمنا کرتے تھے کہ باجی کی شادی کسی اچھے گھر میں ہو جائے کیونکہ ان کی عمر نکلی جا رہی تھی۔ وہ صباحت بھائی سے چار پانچ برس چھوٹی ہی ہوں گی۔ جب والدہ سے ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ والد صاحب تو پہلے ہی صباحت سے مل چکے تھے۔ یوں یہ رشتہ اللہ کے کرم سے طے پا گیا اور میری بہن کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ دلہن بنے ہوئے وہ بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ سانولی رنگت کے باوجود ان کے چہرے پر ایک خاص نکھار اور روپ تھا۔
ہم سب بہت خوش تھے کیونکہ دولہا اور دلہن دونوں مطمئن تھے۔ میں سوچتی ہوں کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ شادی کا بھی ایک دن مقرر ہوتا ہے۔ انسان کو کبھی مایوس نہیں ہونا
cknwrites
جب ہم بہنیں کہیں ساتھ جاتیں تو لوگ انہیں نظر انداز کر دیتے، جبکہ میں سراپا حسن کی ایک بولتی تصویر تھی۔ جب ہر شخص گہری نظر سے دیکھے اور تعریف کرے، تو انسان خود پسند اور خود بین ہو ہی جاتا ہے۔ جوں جوں اپنے حسن کا ادراک بڑھتا گیا، میرے غرور میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اب میں اپنے مقابلے میں کسی اور کو کچھ گردانتی ہی نہ تھی۔
دوسری طرف باجی تھیں، جو توجہ حاصل کرنے کے لیے سو جتن کرتی تھیں۔ فیشن ایبل عمدہ لباس اور بالوں کے نت نئے اسٹائل؛ وہ میک اپ کی دلدادہ تھیں، لیکن ہر دم نک سک سے درست ہونے کے باوجود کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا تھا۔ پھر ہماری زندگی میں وہ موڑ آگیا جب بیری پر پتھر آنے لگتے ہیں۔ والدین چاہتے تھے کہ پہلے ملیحہ کی شادی ہو، پھر نورِ سحر کے ہاتھ پیلے کریں گے۔ میں ان سے چار برس چھوٹی تھی، لیکن مشکل یہ تھی کہ جو بھی رشتہ دیکھنے آتے، وہ باجی کے بجائے مجھے پسند کر لیتے۔ اسی کشمکش میں کئی اچھے رشتے لٹا دیے گئے۔ والد کبھی کبھی سمجھاتے کہ “بیگم ایسا مت کرو، اتنا اچھا رشتہ نہ ٹھکراؤ۔ وہ نورِ سحر کو مانگ رہے ہیں تو ہاں کر دو، ایسا رشتہ پھر نہ ملے گا۔ جب نور اپنے گھر کی ہو جائے گی تو ملیحہ کے لیے بھی کوئی راہ نکل آئے گی۔”
امی اپنی ضد کی پکی تھیں، انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ ٹھکرا دیا۔ ملیحہ کا گھر بسانے کی خاطر وہ مجھے سب سے چھپانے لگیں، لیکن چودھویں کا چاند بھلا بدلیوں میں کب چھپتا ہے؟ روشنی چھن چھن کر باہر آتی ہے تو اور بھی بھلی لگتی ہے۔ ملیحہ اور مجھ میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ مجھے لاکھ چھپایا گیا مگر میرے حسن کا چرچا نہ رک سکا۔
وقت گزرتا گیا، میں ستائیس اور باجی تیس سال کی ہو گئیں۔ رشتے آنا کم ہو گئے مگر ہماری والدہ کو پھر بھی عقل نہ آئی اور انہوں نے ہاں نہ کی۔ بالآخر ایک رشتہ کرانے والی عورت کا سہارا لینا پڑا۔ وہ جو رشتہ لائی، لڑکے کو دیکھتے ہی ملیحہ باجی اس پر لٹو ہو گئیں۔ بدقسمتی سے لڑکے نے میری بھی ایک جھلک دیکھ لی تھی۔ اس نے گھر جا کر اپنی ماں سے کہہ دیا کہ “بڑی لڑکی کا رنگ بہت گہرا ہے، مجھے چھوٹی کا رشتہ منظور ہے۔” وہ عورتیں دوبارہ آئیں، باجی کو نظر انداز کر دیا اور مجھے بلا کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ ان کی مجھ میں دلچسپی دیکھ کر باجی سب سمجھ گئیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ ان عورتوں نے بھی انہیں رد کر کے مجھے پسند کر لیا ہے۔
میرا دل بیٹھ گیا۔ میں اپنی بہن کے جذبات بخوبی سمجھتی تھی مگر کیا کرتی؟ لوگوں کے دل پھیر دینا میرے بس میں نہ تھا۔ ادھر امی نے بھی سوچ لیا کہ یہ بیل تبھی منڈھے چڑھے گی جب وہ پہلے مجھے رخصت کریں گی۔ جب میں چلی جاؤں گی تو مقابلے کی صورت باقی نہ رہے گی اور ظاہر ہے ملیحہ کی شادی کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
شادی کے انتظار میں میری بہن کی عمر نکلی جا رہی تھی اور میں ان کے لیے کچھ نہ کر سکتی تھی۔ اب میں خود کو مجرم سمجھنے لگی تھی کہ ملیحہ میری وجہ سے دلہن نہ بن سکیں۔ میں نے بہت سوچا کہ کیا کروں کہ ناصر میری بجائے ملیحہ کو قبول کر لے۔ کاش مجھ میں اتنا حوصلہ ہوتا کہ اپنے چہرے پر تیزاب ڈال کر نقوش بگاڑ لیتی۔ جب حسن ہی نہ رہتا تو کون مجھے پسند کرتا؟ میں بزدل تھی، ورنہ شاید بہن کی خوشی کی خاطر یہ بھی کر گزرتی۔ رات بھر رو رو کر دعا کرتی رہی کہ اے اللہ! ناصر اور اس کے گھر والے ایک بار پھر آئیں اور مجھے ناپسند کر کے میری بہن کو قبول کر لیں، مگر یہ کیوں کر ممکن تھا؟
رشتہ بہت اچھا تھا۔ لوگ پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے اور ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی نظر میں انہوں نے ہمیں اور ہم نے ان کے گھرانے کو پسند کر لیا تھا، بس مسئلہ ‘چھوٹی بڑی بہن’ کا تھا، لیکن ناصر کو میں اتنی پسند آئی کہ اس نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑ دیے کہ شادی کرنی ہے تو اسی لڑکی سے، کسی طرح نورِ سحر کے والدین کو راضی کریں۔ وہ کہنے لگا، “ہم اپنا نیا بنگلہ اس کے نام کرنے کو تیار ہیں، انہیں اور کیا چاہیے؟”
ظاہر ہے کہ وہ ایک بڑے آدمی کا بیٹا تھا اور اسے بہت اچھے رشتے مل سکتے تھے، نہ جانے اس نے مجھ میں کیا دیکھا کہ بس اڑ گیا۔ اس کی والدہ اور گھر والے کئی بار آئے اور اس قدر منت سماجت کی کہ بالآخر والد صاحب نے میرے لیے ہاں کر دی۔ انہوں نے امی کو بھی راضی کر لیا کہ نورِ سحر کو اپنے گھر کا ہو جانے دیں، ملیحہ کا رشتہ ان شاء اللہ بعد میں ہو جائے گا۔
میری شادی ناصر سے ہو گئی۔ باجی کئی دنوں تک افسردہ اور دلبرداشتہ رہیں اور پھر میں رخصت ہو گئی۔ جب میں اور ناصر میکے آتے تو وہ اپنے کمرے میں چلی جاتیں۔ بالآخر مجھے اپنی باجی کا دکھ شوہر کو بتانا ہی پڑا۔ باجی کی رنگت سانولی تھی، اس کے سوا ان میں کوئی عیب نہ تھا بلکہ وہ مجھ سے زیادہ خوبیوں کی مالک تھیں۔ نرم خو، فرمانبردار، سگھڑ اور سلجھے ہوئے ذہن کی حامل۔ رفتہ رفتہ ناصر نے بھی جان لیا کہ اگر نورِ سحر حسن کی دولت سے مالا مال ہے تو ملیحہ اپنی شخصیت کی خوبیوں کے باعث ایک اعلیٰ درجے کی انسان ہے۔ اگر عقل کی آنکھ سے دیکھا جائے تو وہ لڑکی ان خوبیوں کی بنا پر اپنی چھوٹی بہن سے بڑھ کر تھی۔
ایک سال بعد اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا۔ ان دنوں امی کی طبیعت ٹھیک نہ تھی اور میری ساس اپنی بڑی بیٹی کے پاس جدہ گئی ہوئی تھیں۔ ایسے میں ملیحہ باجی کو میرے پاس آکر رہنا پڑا۔ انہوں نے جس طرح مجھے اور میرے نوزائیدہ بچے کو سنبھالا اور گھر کی دیکھ بھال کی، ناصر اس سے ازحد متاثر ہوئے۔ وہ کہتے تھے، “رنگت گہری سانولی ہے تو کیا ہوا، یہ لڑکی تو سونے میں تولنے کے قابل ہے۔ افسوس کہ لوگ ہمیشہ ظاہری صورت پر جاتے ہیں اور کوئی کسی کی اندرونی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا۔ میں کوشش کروں گا کہ کسی اچھے گھر میں تمہاری باجی کا رشتہ ہو جائے۔”
ناصر کے ایک کزن، جن کا نام صباحت تھا، ان کی شادی کو دو سال ہی گزرے تھے کہ میاں بیوی میں ناچاقی ہو گئی۔ ان کی اہلیہ ایک بہت امیر اور ماڈرن فیملی سے تعلق رکھتی تھیں اور دونوں کے مزاج میں بہت فرق تھا۔ نباہ نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی۔ صباحت بھائی بہت دل گرفتہ تھے۔ وہ اکثر اتوار کو ناصر سے ملنے آ جاتے اور دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھاتے۔ دو چار بار ایسا ہوا کہ جب وہ آئے تو ملیحہ باجی بھی وہیں تھیں۔
کہتے ہیں نا کہ حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے؛ جسے اللہ دیدۂ بینا دے، وہ باطنی خوبصورتی کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ صباحت بھائی کو ملیحہ میں وہ حسن نظر آگیا جو کسی اور کو دکھائی نہ دیا تھا۔ وہ خود خاصے وجیہہ تھے اور ان کی پہلی بیوی بھی بہت حسین تھی، بہرحال ‘حسن کی ناگن’ سے ڈسے جانے کے بعد اب ان کے دل میں صرف ظاہری خوبصورتی کی تمنا نہ رہی تھی۔ انہوں نے میرے گھر پر ملیحہ کو دیکھا اور پسند کر لیا، پھر ناصر سے بات کی کہ “ملیحہ سے میری شادی کروا دو۔”
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں! ہم تو پہلے ہی تمنا کرتے تھے کہ باجی کی شادی کسی اچھے گھر میں ہو جائے کیونکہ ان کی عمر نکلی جا رہی تھی۔ وہ صباحت بھائی سے چار پانچ برس چھوٹی ہی ہوں گی۔ جب والدہ سے ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ والد صاحب تو پہلے ہی صباحت سے مل چکے تھے۔ یوں یہ رشتہ اللہ کے کرم سے طے پا گیا اور میری بہن کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ دلہن بنے ہوئے وہ بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ سانولی رنگت کے باوجود ان کے چہرے پر ایک خاص نکھار اور روپ تھا۔
ہم سب بہت خوش تھے کیونکہ دولہا اور دلہن دونوں مطمئن تھے۔ میں سوچتی ہوں کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ شادی کا بھی ایک دن مقرر ہوتا ہے۔ انسان کو کبھی مایوس نہیں ہونا
چاہیے؛ اگر وہ صبر کے ساتھ دعا کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار ضرور سنتا ہے۔
(ختم شد)

