زندہ درگور

Urdu stories in PDF

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ایم اے کر چکی تھی۔ میری چھوٹی خالہ مجھے بہت چاہتی تھیں، وہ اپنے دیور کا رشتہ لے آئیں۔ خالہ کے دیور نے مجھے دیکھا اور پسند کر لیا، یوں ایک سال تک منگنی رہنے کے بعد میری شادی ہو گئی۔

نوید مجھے اچھے لگے۔ شادی کے شروع کے دن خوب حسین گزرے۔ دو سال بعد اللہ نے بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، مگر میری ساس، جو اپنی بھتیجی کو بہو بنانے کے خواب دیکھ رہی تھیں، وہ یہ کیسے برداشت کرتیں۔ وہ کوئی نہ کوئی ایسی بات کر دیتیں کہ نوید مجھ سے لڑنا شروع کر دیتے۔ ساس نے میرے شوہر کے دل میں یہ غلط فہمی ڈال دی تھی کہ میں نے لڑکوں کے ساتھ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے، لہٰذا میں کوئی اچھی لڑکی نہیں ہوں۔ یہ بات پھر اتنی بڑھی کہ وہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے لگے۔ یہ اب روز کا معمول بن گیا۔ جب بھی نوید کام سے آتے، ان کی ماں ان کے کان بھرتی اور وہ غصے میں آ کر مجھے اتنا مارتے کہ مجھے ہوش نہ رہتا۔
sublimegate
ایک دن ایسا آیا کہ قیامت ٹوٹ پڑی۔ ہوا یوں کہ میں نے نوید کو نئی ملازمہ کے ساتھ نازیبا حرکت کرتے دیکھ کر روکا، تو پہلے تو وہ مجھے مارنے لگے، اور جب اس سے بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو کہا کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”۔ ان کے منہ سے تین بار طلاق کے الفاظ سن کر میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔ میری دنیا لٹ گئی، کیونکہ نوید کی ہر زیادتی کے باوجود میں ان کو بہت چاہتی تھی، مگر انہوں نے کبھی میرے پیار کا جواب پیار سے نہ دیا۔ جب یہ خبر میرے والدین کو ملی، تو صبح ہوتے ہی سب آ گئے اور نوید کو لے کر بیٹھ گئے۔ نہ جانے کیا کیا باتیں ہوئیں کہ طلاق ہونے کے باوجود مجھے اس ظالم شخص کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا گیا۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ بچوں کا کیا ہوگا؟ ان کی زندگی خراب ہو جائے گی۔ ماں باپ اور رشتے داروں نے عزت کے واسطے دینے شروع کر دیے۔ پھر وہی ہوا، جو سب نے چاہا۔ میں بچوں کی خاطر مجبور تھی کہ ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزاروں، جس سے میرا اب کوئی شرعی رشتہ نہیں رہا تھا۔ میں بری طرح ظلم اور جہالت کے اندھیروں میں گھری ہوئی تھی۔ مجھے ایک پل چین نہ تھا۔ اگر کچھ تسکین ملتی تھی تو صرف اس احساس سے کہ میرے بچے میرے پاس ہیں۔ بہرحال، میں اس صورتحال کو زیادہ دنوں تک خاموشی سے برداشت نہ کر سکی اور آخر کار بیمار ہو گئی۔ میری بیماری کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ وہ مجھے ایک ایسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے، جو بعد میں مجھے اپنا مسیحا نظر آیا۔ انہوں نے بھانپ لیا کہ مجھے شدید قسم کی ذہنی الجھن ہے، جس نے میرا یہ حال کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر نے تنہائی میں مجھ سے چند سوالات کیے، تو میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور کہا: “میں ایک مسلمان عورت ہوں، اللہ کے احکامات جانتی اور دل کی گہرائیوں سے مانتی ہوں، لیکن میرے گھر والے اور رشتہ دار بچوں کی خاطر مجھے اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ گناہ آلود زندگی بسر کرنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں۔ خدا کے خوف اور احساسِ ندامت سے میں نڈھال ہوں، لیکن میرے دلی صدمے کا کسی کو احساس تک نہیں ہے۔”

ڈاکٹر صاحب پر میرے اس بیان کا بہت اثر ہوا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ میرے والدین سے بات کر کے ان کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ نبھایا اور میرے والدین کو بلا کر سمجھایا، مگر وہ بجائے سمجھنے کے، الٹا ان سے خفا ہو گئے اور بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ مجھے بھی ڈانٹا کہ “تم نے یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے؟ علاج نہیں کرانا تو تمہاری مرضی، یہ کیا الٹی سیدھی باتیں پھیلاتی رہتی ہو۔ جو ہوا سو ہوا، اسے ایک تلخ یاد سمجھ کر بھول جاؤ۔” زندگی میں پہلی بار مجھے کوئی ایسا شخص ملا تھا جو میری الجھن اور دل کی بات سننے اور سمجھنے والا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ اس معالج کو کھو دوں، کیونکہ وہ اب میرا روحانی معالج بھی بن چکا تھا۔ میں نے والدین سے کہا: “میں آئندہ ڈاکٹر صاحب سے اپنی ذاتی باتیں نہیں کروں گی اور وہ بھی آپ کو سمجھانے کی تکلیف نہیں کریں گے، آپ بس میرا علاج جاری رکھیں۔”

ڈاکٹر صاحب کے پاس میں ہفتے میں ایک بار جاتی تھی۔ ان سے بات کر کے میری روح ہلکی پھلکی ہو جاتی تھی۔ وہ میرا علاج کر رہے تھے اور میرے لیے فکر مند تھے، پھر ایک دن اچانک انہوں نے مجھے شادی کی پیش کش کی۔ پہلے تو مجھے غصہ آیا کیونکہ میں دنیا کی نظر میں بہرحال ایک شادی شدہ عورت تھی، اور پھر وہ خود بھی شادی شدہ اور بال بچوں والے آدمی تھے۔ اب جب بھی میں ان کے کلینک جاتی، وہ مجھ سے کوئی ایسی بات کہہ دیتے کہ میں سخت پریشان ہو کر سوچنے پر مجبور ہو جاتی، لیکن میں کیا کرتی؟ میں نے اپنے دل کو پتھر کر لیا، لیکن ان کے پیار کی بارش یوں ہی میرے دل پر گرتی رہی اور آخر کار میرا دل پگھل گیا، کیونکہ میں تو پہلے ہی پیار کو ترسی ہوئی تھی اور شرعی طور پر ایک طرح سے آزاد بھی تھی، اس لیے میں نے ان کی محبت کو قبول کر لیا۔ ڈاکٹر صاحب بھی اپنوں کی چوٹ کھائے ہوئے تھے؛ سب کے ہوتے ہوئے بھی وہ اکیلے تھے۔ بیوی تھی، بچے تھے، مگر کوئی بھی ان کا خیال رکھنے والا نہیں تھا۔ وہ دن رات کام کرتے تھے، مگر گھر والے ان کی قدر نہیں کرتے تھے، لیکن میرے لیے تو وہ ایک فرشتہ تھے جنہوں نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ وہ میری مجبوری سے واقف تھے اور میں بھی جانتی تھی کہ وہ ایک شادی شدہ انسان ہیں، پھر بھی میرے قدم ان کی جانب اٹھ رہے تھے۔ ہماری چاہت پاکیزہ تھی، مگر ہم کیسے ایک ہو سکتے تھے؟ ان کی عمر رسیدہ بیوی اور میرا نام نہاد شوہر، ہمارے راستے کی سب سے بڑی دیوار تھے۔

میں ڈاکٹر صاحب سے شادی کرنا چاہتی تھی، مگر حالات اور زمانے سے ڈرتی تھی۔ اب میرا ان کے بغیر جینا مشکل ہو چکا تھا کیونکہ وہ میری زندگی میں ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح آئے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کبھی باہر ملنے کی کوشش نہیں کی، بس ان کے کلینک پر ہی جاتی تھی اور وہیں تھوڑی دیر بیٹھ کر دکھ سکھ بانٹ لیتی تھی۔ ایک دن بہت سوچنے کے بعد میں نے ایک فیصلہ کیا اور ان کے پاس چلی گئی۔ میں نے کہا: “ڈاکٹر صاحب! میں بطور مریض آپ کے کلینک آئی تھی، لیکن میرے دل میں آپ کی چاہت نے جنم لے لیا ہے، لہٰذا میں سمجھتی ہوں کہ یا تو آپ کے پاس آنا بند کر دوں یا پھر جائز طریقے سے آپ کی ہو جاؤں۔ آپ بتائیے، کیا آپ مجھے اپنا نام دے سکتے ہیں؟” وہ یہ سنتے ہی کچھ پریشان ہو گئے۔ میں ان کی پریشانیوں سے بھی واقف تھی، اس لیے بددل نہیں ہوئی، تاہم میں یہ خطرناک کھیل نہیں کھیلنا چاہتی تھی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا: “بے شک آپ مجبور ہیں اور میں بھی، لیکن غلط رشتے غلط انجام کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسے کسی موڑ کے آنے سے پہلے میں آپ کو خطرے سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ میں آپ کے نام کے سوا کچھ نہیں چاہتی۔ مجھ سے شادی کر لیجیے یا پھر میں آج کے بعد کبھی آپ کے پاس نہیں آؤں گی۔” میری باتوں کا ان پر خاطر خواہ اثر ہوا اور ہم دونوں نے نکاح کر لیا، جس میں میری طرف سے میرے رشتے کے ایک ماموں بھی شریک ہوئے، جنہیں میں نے بڑی مشکل سے قائل کر کے اعتماد میں لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے ان کے بڑے اور چند دوست نکاح میں شریک ہوئے۔ اس نکاح میں بس ایک ہی قباحت تھی کہ ہم نے ابھی تک اسے خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اسلام شادی کے بندھن یا نکاح کو خفیہ رکھنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، لیکن مجھ میں طوفان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ تھی؛ مگر یہ بھی تو ایک عجیب داستان تھی کہ میں ایک ایسے شخص کے ساتھ اس کے گھر میں رہوں جس سے میرا کوئی تعلق نہ ہو، اور جس سے میرا شرعی رشتہ قائم ہو چکا ہو، ہم اس سے دور رہیں۔ معاشرے کی ناانصافی اور ظلم نے مجھے پاگل کر دیا تھا؛ ہماری کہانی کتنی عجیب ہو چکی تھی، جبکہ نکاح کے بعد ہماری محبت اتنی بڑھ چکی تھی کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ نکاح کے بعد چند دن میں اپنے سابقہ شوہر کے گھر ہی رہی۔ جب انہوں نے مجھے بیوی کی طرح گلے لگانا چاہا، تو میں ان سے جھگڑ کر گھر سے نکل آئی اور قریب ہی اپنی خالہ کے گھر جا کر سو گئی۔ نوید کو غصہ تو بہت آیا، لیکن میری اس جرأت پر وہ اس خیال سے خاموش ہو گئے کہ صبح جا کر مجھے بہلا پھسلا کر واپس لے آئیں گے، لیکن اب میں بہلنے پھسلنے کے دور سے نکل چکی تھی۔

جب وہ صبح مجھے لینے آئے تو میں نے انہیں صاف بتا دیا کہ میں نے نکاح کر لیا ہے، تم نے جو کرنا ہے کر لو، مگر اب میں تمہارے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتی کیونکہ تم مجھے طلاق دے چکے ہو۔ نوید کو میری باتوں کا یقین نہیں آیا۔ انہوں نے پہلے تو منت سماجت کی، پھر دھمکاتے ہوئے کہا: “اگر تم نے یہ بکواس بند نہ کی، تو میں ابھی جا کر تمہارے والدین کو بلا لاتا ہوں۔”

وہ میرے والد اور بھائیوں کو لے کر میری خالہ کے گھر آ گئے، جو ان کی بھابھی لگتی تھیں۔ والد صاحب نے جب مجھ سے پوچھا، تو میں نے انہیں تمام حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ پہلے تو وہ ششدر رہ گئے، پھر بولے: “ایسے نکاح کی کوئی شرعی حیثیت نہیں جس میں لڑکی کا ولی شریک نہ ہو اور نہ ہی تمہارے پاس کورٹ کے کاغذات ہیں۔” میں نے کہا کہ میرے ولی میرے ماموں اسحاق بنے تھے، آپ ان سے رابطہ کر کے پوچھ لیں، نکاح نامے پر ان کے دستخط موجود ہیں۔ ہم نے شرعی نکاح کیا ہے، اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو اس مولوی صاحب کے پاس چلیں جنہوں نے میرا نکاح ڈاکٹر صاحب سے پڑھوایا ہے۔ والد صاحب سوچ میں پڑ گئے، برہمی بھی یقیناً تھی، لیکن اس وقت انہوں نے مصلحت سے کام لیا اور میرے بھائیوں کے ہمراہ، نوید اور ان کے بھائی بھی ڈاکٹر صاحب کے پاس چلے گئے۔

میں نہیں جانتی کہ وہاں پھر کیا باتیں ہوئیں اور کس طرح انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو مجبور یا قائل کیا۔ بہرحال، وہ ڈاکٹر صاحب سے طلاق لکھوا کر ہی لوٹے؛ پھر وہ یہ طلاق نامہ لے کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہ تو اور بھی اچھا کام ہو گیا۔ تم طلاق کے بعد نوید کے ساتھ گناہ کے خوف سے نہیں رہنا چاہتی تھیں، تو لو اب تمہیں دوبارہ نوید کے نکاح میں دینے سے تمہارا گھر بھی آباد رہے گا اور تمہیں آئندہ احساسِ گناہ بھی نہیں ہوگا کیونکہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تمہارا حلالہ تو ہو چکا ہے۔ یہ سن کر میرے حواس اڑ گئے۔ یہ میرے اپنے لوگ تھے، جنہوں نے میرا ساتھ دینے کے بجائے میرے ظالم شوہر کا ساتھ دیا، اور جس مخلص انسان کو میں نے دل سے قبول کیا تھا، اسے میری زندگی سے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا، حالانکہ میں ایک دن بھی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ نہیں رہی تھی۔ ہم تو ابھی ٹھیک سے ملنے بھی نہ پائے تھے کہ جدا کر دیے گئے۔

میرے والد اور بھائیوں نے یہ کہہ کر کہ “یہ تمہارے بچوں کا باپ ہے، تمہیں اسے قبول کرنا ہوگا کیونکہ اسی میں تمہارے بچوں کی بہتری ہے”، ایک بار پھر میرا نکاح نوید سے کرا دیا۔ میں پھر سے قربانی کا بکرا بن گئی۔ جس شخص سے ایسی ذہنی اور جسمانی چوٹ کھائی تھی کہ اپنی ہی نظروں میں گر گئی اور اللہ کی نظروں میں گناہ گار ٹھہری، مجھے دوبارہ اسی کے حوالے کر دیا گیا۔ نوید نے قسم کھا کر میرے والدین کو یقین دلایا کہ وہ اب مجھ سے کسی قسم کی زیادتی نہیں کرے گا، مگر انسان اپنی فطرت نہیں بدل سکتا اور اس کی فطرت میں اذیت پسندی رچی بسی تھی۔ پہلے وہ مجھے اس بات کی سزا دیتا تھا کہ میں نے یونیورسٹی میں لڑکوں کے ساتھ پڑھا تھا، اور اب وہ مجھے ڈاکٹر صاحب کے طعنے دینے لگا۔

ٹھیک ہے، میں نے بچوں کی خاطر اپنی زندگی قربان کر دی، مگر ان بچوں نے بڑے ہو کر مجھے کیا دینا تھا؟ وہ بھی اپنے باپ کی طرح بے وفا نکلے؛ میری جھولی میں آخر بچا ہی کیا؟ جب بھی یہ بات سوچتی ہوں تو میرا دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ پتا نہیں مجھے کس جرم کی سزا ملی؟ میری تو پوری زندگی ہی کانٹوں سے بھر گئی۔ میرے والدین اللہ کو پیارے ہو گئے، بھائیوں نے منہ پھیر لیا، شوہر نے کبھی وفا نہ کی اور بچے؟ جب وہ بڑے ہوئے، تو انہوں نے بھی مجھ سے منہ موڑ لیا کیونکہ ان کے باپ نے ان کے کان میرے خلاف بھر دیے تھے۔ قصور وار تو نوید تھا، لیکن سزا کی حقدار میں ٹھہرائی گئی، جیسے میرا صرف جسم زندہ تھا مگر روح مر چکی تھی۔ میں نے اپنی بقیہ زندگی بھی ایک قیدی کی طرح طعنوں اور مجبوریوں کے سائے میں گزار دی۔ والدین کی عزت کی خاطر میں تاحیات گھٹتی رہی، مگر اس کے باوجود نہ تو نوید خوش رہ سکا اور نہ ہی بچے۔ جب وہ جوان ہو کر کسی قابل ہوئے، تو انہوں نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا۔

انہوں نے اپنے اپنے گھر بسا لیے اور مجھے بالکل بے سہارا چھوڑ کر چلے گئے۔ بڑھاپے کی وجہ سے میں سخت محنت مزدوری نہیں کر سکتی تھی، تب میری تعلیم ہی میرے کام آئی اور ایک خوش حال خاندان نے میرے ناگفتہ بہ حالات جان کر مجھے اپنے سرونٹ کوارٹر میں پناہ دی۔ میں نے وہاں پہلے ان کے بچوں کو اور پھر ان کے نواسے نواسیوں کو اسلامیات پڑھائی، جس کے صلے میں مجھے دو وقت کی روٹی اور سر چھپانے کا سہارا مل گیا۔

اب میں ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کی آخری سانسیں پوری کر رہی ہوں اور وہ خدا ترس صاحبِ خانہ میرے علاج معالجے کی تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں، جو حقیقت میں میرے اپنے بچوں کو کرنی چاہیے تھیں۔ یہ ہے مجھ جیسی ایک مجبور اور لاچار عورت کی زندگی کی کہانی۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ