میں صرف ایک سال کی تھی، جب میری امی کا ناگہانی انتقال ہو گیا۔ میری خالہ نے مجھے پالا اور جب میں چھ برس کی ہوئی تو دادی جان مجھے اپنے گھر لے آئیں۔ اس وقت تک میں خالہ کو ہی اپنی ماں سمجھتی تھی، لہذا جب دادی مجھے لے جانے لگیں تو میں بہت دکھی ہوئی اور خوب روئی۔ آپ اس چھ برس کی معصوم بچی کی کیفیت کا اندازہ کر سکتے ہیں جسے اچانک معلوم ہوا کہ اب اسے اپنے والد کے گھر رہنا ہے اور جس گھر کو وہ اب تک اپنا سمجھتی تھی، وہ اس کا نہیں ہے، نہ ہی وہ پرورش کرنے والی خاتون اس کی اصل ماں ہے۔
خیر، حقائق کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔ خالہ نے بھی بہت چاہا کہ ابو اور دادی مجھے ساتھ نہ لے جائیں، لیکن والد صاحب نہ مانے۔ ماموں نے بھی والد کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے خالہ کو خاموش ہونا پڑا اور میں اپنے گھر آگئی۔ انہی دنوں والد صاحب نے دوسری شادی کی تھی اور سوتیلی ماں گھر میں موجود تھی۔ شروع کے دنوں میں اس نے مجھے پیار دیا اور میرے ساتھ اچھا سلوک کیا، پھر رفتہ رفتہ وہ مجھ سے بدظن ہونے لگی اور والد کو میرے خلاف کرنے لگی۔ وہ ہر وقت ان کے کان بھرتی کہ یہ آگے سے جواب دیتی ہے اور میرے ساتھ بدتمیزی کرتی ہے، حالانکہ میں ایسا نہیں کرتی تھی۔ میں اس وقت بالکل نادان اور ناسمججھ تھی۔ جب والد صاحب مجھے ڈانٹتے یا گھورتے، تو میں دوسرے کمرے میں چلی جاتی اور چھپ کر روتی۔ میں اپنی خالہ کو بہت یاد کرتی تھی، جنہیں اب تک “امی” کہتی تھی۔ میرا دل نہیں مانتا تھا کہ وہ میری ماں نہیں ہیں۔
وقت گزرتا رہا اور میں اسکول جانے لگی۔ خالہ وہاں آ کر مجھ سے مل لیا کرتی تھیں، کیونکہ میری پھپھو سے ان کی نہیں بنتی تھی اور سوتیلی ماں کی وجہ سے بھی خالہ ہمارے گھر نہیں آتی تھیں۔ وہ ہر ہفتے اسکول آ کر مجھ سے ملتیں، جس سے میرے دل کو تسلی ہوتی تھی۔ میرا خالہ زاد بھائی دانیال مجھ سے تین برس بڑا تھا۔ ہم ساتھ کھیلے اور پلے بڑھے تھے۔ وہ مجھ سے پیار کرتا تھا اور میں بھی اسے پسند کرتی تھی۔ چھ برس کی عمر میں تو میں اسے صرف بھائی اور ساتھی سمجھتی تھی، لیکن جب کچھ سمجھدار ہوئی تو خالہ نے کہا: “بیٹی! میں تجھے بہو بنا کر ہمیشہ کے لیے اپنے گھر رکھنا چاہتی تھی، لیکن برا ہو تیرے ددھیال والوں کا جنہوں نے ہمیں جدا کر دیا۔” خالہ کی باتوں نے میرے دل میں دانیال کی محبت اجاگر کر دی۔ پہلے بھی لگاؤ تھا، لیکن اب اس میں نئے رنگ اور خواب شامل ہو گئے۔ میں ہر صورت واپس اسی گھر جانا چاہتی تھی جسے اپنا سمجھتی تھی۔ والد صاحب کا گھر تو مجھے اب تک پرایا لگتا تھا۔
میرے ذہن نے سوتیلی ماں کو کبھی ماں کے طور پر قبول نہیں کیا تھا۔ دراصل میں اپنی خالہ کو حد درجہ پسند کرتی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ دن رات ان کے پاس رہوں، لیکن سوتیلی ماں اور ماموں کی وجہ سے کچھ بول نہ سکتی تھی، کیونکہ وہ نگرانی کرتے تھے کہ میں کہیں خالہ سے بات نہ کر لوں۔ میرا اور تو کوئی بس نہیں چلتا تھا، بس نماز پڑھ کر دعا کرتی تھی کہ خدا کرے میرے گھر والوں کی خالہ سے صلح ہو جائے۔ جھگڑا کوئی خاص نہ تھا، لیکن سوتیلی ماں میری خالہ اور ان کے بچوں کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کا بس چلتا تو وہ انہیں گولی مار دیتی۔ میں ہر وقت پریشان رہتی کہ کسی طرح سوتیلی ماں، پھپھو اور خالہ میں صلح کروا دوں۔ سب سے بڑھ کر میرے چچا، دانیال اور ان کے بہن بھائیوں کو ناپسند کرتے تھے، تاہم میں کبھی کبھار چھپ کر دانیال سے بات کر لیتی تھی۔ میں اسے تسلیاں دیتی اور وہ مجھے حوصلہ دیتا۔ اس کشمکش کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ابو، دادی اور پھپھو سب یہی چاہتے تھے کہ میں اپنے چچا کی بہو بنوں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں ننھیال میں رہوں۔ وہ میرے ننھیال کو غریب سمجھتے تھے اور انہیں ڈر تھا کہ اگر انہوں نے مجھ پر پابندیاں نہ لگائیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میری خالہ اور ان کے بچے مجھے ورغلا لیں اور میں ان کی طرف چلی جاؤں۔ یوں میں اپنے ددھیال کا حصہ بننے سے رہ جاؤں گی۔ بچپن میں مجھے خالہ کی تحویل میں دینا محض ایک مجبوری تھی کیونکہ اس وقت کوئی اور راستہ نہ تھا۔
ان دنوں میں دسویں جماعت میں تھی کہ ایک روز خالہ اسکول نہ آئیں، جب کہ وہ ہر ہفتے جمعہ کو مجھ سے ملنے ضرور آتی تھیں۔ خیر، جیسے ہی میں اسکول سے باہر نکلی، مجھے دانیال مل گیا۔ اس نے بتایا کہ تمہاری خالہ بہت بیمار ہیں اور اسپتال میں داخل ہیں۔ میں یہ سن کر بہت بے چین ہو گئی۔ اسے کہا کہ تم گھر چلو، میں جا کر کوئی بہانہ کرتی ہوں اور پھر خالہ کو دیکھنے اسپتال آؤں گی۔ گھر آ کر اپنی سہیلی رخسانہ کو فون کیا کہ خالہ بیمار ہیں اور میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں، لیکن مجھے اجازت نہیں ملے گی۔ وہ تمام حالات سے واقف تھی۔ اس نے کہا: “فکر نہ کرو، میں کوئی حل نکالتی ہوں اور تمہیں لے چلتی ہوں۔”
رخسانہ نے اپنی امی کو بتایا۔ اتفاق سے ان کی بھی ایک رشتہ دار بیمار تھیں اور اسی اسپتال میں داخل تھیں۔ اس کی ماں نے کہا: “ہم جا کر سحر کے گھر والوں سے اجازت لیتے ہیں اور اسے ساتھ لے جاتے ہیں۔” رخسانہ کی ماں میری اصل امی کی سہیلی ہوا کرتی تھیں، لہذا انہیں میرے دکھ سکھ کا بہت احساس رہتا تھا۔
وہ اسی وقت رخسانہ کے ہمراہ آگئیں اور کہا: “میں اپنی بہن کی عیادت کے لیے اسپتال جا رہی ہوں، سحر کو بھی ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں۔” انہوں نے جب یہ بات دادی سے کہی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ واقعی خالہ بہت بیمار تھیں۔ ہم تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھے، دانیال بھی وہاں موجود تھا۔ آنٹی، خالہ سے باتیں کرتی رہیں اور میں دانیال سے۔ پھر ہم دونوں اس منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے جہاں ہر طرف کانٹے ہی کانٹے تھے اور امید کا کوئی غنچہ نظر نہیں آ رہا تھا، پھر بھی خدا سے امید تھی کہ وہ ضرور ہماری مدد کرے گا۔ ابھی میں نے دانیال سے دل کی بات بھی نہ کی تھی کہ خاندان والے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے، کیونکہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے بعد بھی میں اسکول سے چار پانچ مرتبہ اکیلی ہی خالہ کو دیکھنے اسپتال چلی گئی تھی۔ واپسی پر دانیال مجھے اپنی موٹر سائیکل پر گھر کے قریب چھوڑ جاتا تھا۔ اسپتال میں اگرچہ میں صرف پندرہ بیس منٹ ہی خالہ کے پاس رکتی تھی، لیکن ایک روز کسی رشتہ دار نے دیکھ لیا اور میرے گھر والوں کو بتا دیا کہ سحر (بغیر بتائے) اپنی خالہ سے ملنے اسپتال جاتی ہے۔ بس پھر کیا تھا؟ بغیر اجازت جانے کی سزا یہ ملی کہ گھر والوں نے میرا اسکول جانا ہی بند کر دیا۔ اب کوئی مجھ سے فون پر بات بھی نہیں کر سکتا تھا، حالانکہ ابھی تو میں نے دانیال سے اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی بات بھی نہ کی تھی۔
ان حالات نے مجھے گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ دو ماہ تک مجھے اسکول جانے نہیں دیا گیا، پھر میں نے اپنے والد سے معافی مانگی کہ مجھے اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ خیر، انہوں نے معاف تو کر دیا مگر سخت تاکید کی کہ آئندہ کبھی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جانا۔ میں خوش تھی کہ چلو اسکول جانے کی اجازت تو ملی۔ کچھ عرصہ خالہ کے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ رہا۔ ایک دن فون کی گھنٹی بجی؛ سوتیلی امی پھپھو کے ساتھ بازار گئی ہوئی تھیں۔ میں نے فون اٹھایا تو وہ دانیال تھا۔ اس نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ کسی رشتہ دار کی چال تھی جس کا شکار ہم دونوں ہوئے، پھر اس نے اپنے دل کی بات کہہ دی کہ “میں ملازمت تلاش کر رہا ہوں، جیسے ہی نوکری مل گئی میرے والدین تمہارا ہاتھ مانگ لیں گے اور تم پھر سے اپنے گھر لوٹ آؤ گی۔” اس سے مجھے کچھ ڈھارس تو ملی لیکن خوف زیادہ رہتا تھا، کیونکہ گھر کا ہر فرد ان کے خلاف تھا اور میرا گھر میں کوئی خاص مقام نہ تھا۔ دادی اور پھپھو سے بھی میں کچھ نہیں کہہ پائی تھی، وہ بھی خالہ والوں سے نفرت کرتی تھیں، حالانکہ ان کا یہ احسان کچھ کم نہیں تھا کہ انہوں نے مجھے پالا تھا۔ میں ہر حال میں میٹرک کرنا چاہتی تھی۔ ایک دو بار جی میں آیا کہ خالہ سے جا کر ملوں، لیکن پھر خود کو روک لیا کہ کہیں میری معمولی سی بھول کی وجہ سے میری تعلیم ادھوری نہ رہ جائے۔ میٹرک کے امتحانات ہو گئے اور میں گھر بیٹھے نتیجے کا انتظار کرنے لگی۔ میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی لیکن کالج جانے پر اصرار نہ کیا۔ اب زندگی میں ایک ہی غم تھا کہ کیا کبھی دانیال کو پا سکوں گی؟ کیا کبھی دوبارہ خالہ کے پاس رہ سکوں گی؟ ہم دونوں کو اپنے رب پر پورا بھروسہ تھا، وہی ایک ہستی تھی جس کے سہارے میں جی رہی تھی۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ جس لڑکی کی حقیقی ماں بچپن میں بچھڑ جائے، اسے کتنے مشکل جذباتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؛ وہ بالکل تنہا ہو کر رہ جاتی ہے۔ دانیال کبھی کبھی بہت پریشان ہو کر کہتا: “سحر! ہمارا انجام کیا ہوگا؟” اور میرے پاس تسلیوں کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا۔ میں نے سب کچھ اپنے رب پر چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔
میرے پاس خدا کے سوا کوئی سہارا نہ تھا۔ اسی دوران دانیال نے ایم بی اے کر لیا اور میں نے پرائیویٹ طور پر ایف اے کے امتحانات دے دیے۔ خالہ مجھے تسلی دیا کرتی تھیں کہ “بٹیا! جو اللہ کو منظور ہوگا وہی ہوگا، تم فکر مت کرو۔” میرے گھر والوں کو دولت پر غرور تھا جبکہ خالہ اور خالو اتنے امیر نہ تھے۔ بس یہی ایک فرق تھا ورنہ رشتہ دار اچھے ہوں تو انہیں قبول کرنا چاہیے اور کسی کو خود سے کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ خدا کے کرم سے دانیال کامیابیوں کی طرف رواں دواں تھا اور انہی دنوں اسے ایک بہت اچھی ملازمت مل گئی۔ معقول تنخواہ کے ساتھ ساتھ اسے رہائش اور گاڑی کی سہولت بھی مل گئی۔ مجھے کسی حد تک اپنے والد صاحب کی حمایت حاصل تھی کیونکہ وہ دولت کے بجائے انسان کی قدر کرنے کے قائل تھے، لیکن سارا مسئلہ پھپھو اور چچا کا پیدا کردہ تھا، اور رہی سہی کسر سوتیلی ماں پوری کر دیتی تھی جو ہمیشہ جلتی پر تیل کا کام کرتی تھی۔
اب گھر والوں کو میری شادی کی فکر ہونے لگی۔ جب بھی کوئی رشتہ آتا، میں پریشان ہو جاتی کہ اب کیا ہوگا؟ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اچانک مجھے بالجھڑ کی بیماری ہو گئی، جس کی وجہ سے رشتے والے آتے اور دیکھ کر چلے جاتے۔ تاہم چچا اب بھی اپنے بیٹے کے رشتے کی آس لگائے بیٹھے تھے، پھر ابو اور چچا میں جائیداد کا تنازع ہو گیا تو ابو نے انہیں رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ انہی دنوں ایک دولت مند گھرانے کا رشتہ آیا، یہ فیملی عرصہ دراز سے بیرون ملک مقیم رہی تھی۔ یوں ایک امیر گھرانے میں میری شادی کر دی گئی اور میں نے ابو کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ ابو سے زیادہ سوتیلی امی اس رشتے کے لیے پرجوش تھیں کیونکہ وہ ان لوگوں کی دولت سے بہت مرعوب تھیں۔ دادی اور پھپھو بھی خاموش تھیں، انہیں بس اس بات کا غم تھا کہ میں چچا کی بہو نہ بن سکی، لیکن یہ سب تو قسمت کے کھیل ہوتے ہیں۔ جب میں بیاہ کر اسد کے گھر گئی تو چند ہی دنوں میں قلعی کھل گئی۔ وہ لوگ بہت کنجوس، بداخلاق اور حد درجہ مغرور تھے۔ اسد بھی بری عادات کا شکار تھا؛ وہ شراب اور رقص و سرود کا دلدادہ تھا، رات دیر سے گھر آتا اور مجھے مار پیٹ کر مطالبہ کرتا کہ اپنے والدین سے جائیداد اپنے نام لکھواؤں۔
ایک روز ابو ملنے آئے تو میرے چہرے پر نیل پڑے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی۔ والد صاحب کے پوچھنے پر میں نے سب کچھ بتا دیا۔ انہوں نے جب اسد سے باز پرس کی تو وہ بدتمیزی پر اتر آیا۔ ابو کو بھی غصہ آگیا، وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے آئے اور ان لوگوں پر طلاق کا کیس کر دیا۔ بالآخر مجھے طلاق مل گئی۔ خالہ اور دانیال کو جب علم ہوا تو انہیں بے حد دکھ ہوا۔ خالہ نے ماموں سے منت سماجت کی: “سحر میری صرف بھانجی نہیں، بیٹی بھی ہے۔ میں نے ایک برس اسے ماں بن کر پالا تھا، اس کا غم مجھ سے سہا نہیں جاتا۔ تم جا کر اس کے والدین سے بات کرو، میں اسے دانیال کی دلہن بناؤں گی تو میرے جی کو قرار آئے گا اور میری مرحوم بہن کی روح کو بھی سکون ملے گا۔” ماموں نے میرے والد سے بات کی۔ والد صاحب تو پہلے ہی میری جدائی اور غم میں گھلے جا رہے تھے، اب اپنوں کو بھی قدر آئی کہ اگر دانیال سے رشتہ کیا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
طلاق کے بعد میں بجھ سی گئی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اب دانیال بھی نہیں پوچھے گا اور خالہ بھی مایوس ہو چکی ہوں گی۔ میرا ذہن اس طرف گیا ہی نہیں کہ وہ لوگ اب بھی مجھے قبول کرنے پر تیار ہوں گے، لیکن سچ ہے کہ اپنے تو اپنے ہی ہوتے ہیں۔ خالہ نے یہ بھی نہ سوچا کہ میں ایک مطلقہ ہوں۔ انہیں بس یہی غم تھا کہ ہائے میری بچی پر کتنا بڑا حادثہ گزر گیا اور وہ اجڑ کر رہ گئی۔ دانیال حقیقی معنوں میں میرے لیے پریشان تھا۔ جب والد صاحب نے مثبت جواب دیا تو ان کے دلوں میں بہار آگئی کیونکہ میں لوٹ کر ان کے گھر آنے والی تھی۔ یہ وہ دیرینہ امید تھی جو حسرت بنتی جا رہی تھی کہ اچانک پھر سے روشنی پھیل گئی۔ والد صاحب نے خدا کا شکر ادا کیا کہ مجھے قبول کرنے والا کوئی ہے، ورنہ مطلقہ لڑکی کی دوبارہ شادی کرنا محال ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں بات پکی کر دی گئی۔ وہ اپنے تھے اور حیثیت میں بھی ہم پلہ، لہذا کسی تکلف کی ضرورت نہ تھی۔ دادی بھی راضی ہو گئیں اور پھپھو نے بھی خالہ کو گلے لگا لیا، صرف چچا زاد اس بار بھی میری شادی میں شریک نہ ہوئے کیونکہ والد صاحب سے ان کی صلح نہ ہو پائی تھی۔ جب میں دانیال کی دلہن بن کر ان کے گھر جا رہی تھی تو مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں جنت میں جا رہی ہوں۔ آج مجھے اپنی کھوئی ہوئی خوشیاں، اپنی دولت اور اپنا سب کچھ مل گیا تھا۔ گھر بار اور ہر وہ شے جس کی ایک لڑکی آرزو کرتی ہے، اور سب سے بڑھ کر خالہ کی محبت؛ جب انہوں نے بازو پھیلا کر مجھے اپنی آغوش میں لیا تو ہم دونوں کے دل کو ٹھنڈک پہنچ گئی۔ میں نے اپنی اصل ماں تو دیکھی نہیں تھی، انہی کو اپنی حقیقی ماں سمجھتی تھی اور خالہ نے بھی پیار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
دانیال نے اپنا علیحدہ گھر تعمیر کر لیا تھا جس کی مالکن میں تھی۔ یہی خواب اس نے دیکھا تھا اور اللہ کے کرم سے وہ پورا ہو گیا۔ دانیال کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ انہوں نے میرا علاج بہترین ڈاکٹروں سے کرایا، مگر شفا تو اللہ ہی دیتا ہے۔ مجھے ایک حکیم کے علاج سے فائدہ ہوا۔ پہلے ہزاروں روپے خرچ کیے مگر سر پر بال نہ آئے، پھر حکیم صاحب نے ایک معمولی نسخہ بتایا: ایک چمچہ ادرک کا پانی اور ایک چمچہ سرکہ ملا کر سر میں وہاں لگایا جہاں بالجھڑ تھا، تو تین چار بار کے استعمال سے ہی بال آگئے اور بیماری ختم ہو گئی۔ پھر سے میرے بال چمکیلے، لمبے اور گھنے ہو گئے۔
یہ سب خدا کی قدرت کے کرشمے ہیں کہ وہ جب نصیب بناتا ہے تو بن جاتا ہے، اور جب وہ آزمائش ڈالتا ہے تو کوئی دوسرا اس بگڑے ہوئے نصیب کو نہیں سنوار سکتا۔
خیر، حقائق کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے۔ خالہ نے بھی بہت چاہا کہ ابو اور دادی مجھے ساتھ نہ لے جائیں، لیکن والد صاحب نہ مانے۔ ماموں نے بھی والد کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے خالہ کو خاموش ہونا پڑا اور میں اپنے گھر آگئی۔ انہی دنوں والد صاحب نے دوسری شادی کی تھی اور سوتیلی ماں گھر میں موجود تھی۔ شروع کے دنوں میں اس نے مجھے پیار دیا اور میرے ساتھ اچھا سلوک کیا، پھر رفتہ رفتہ وہ مجھ سے بدظن ہونے لگی اور والد کو میرے خلاف کرنے لگی۔ وہ ہر وقت ان کے کان بھرتی کہ یہ آگے سے جواب دیتی ہے اور میرے ساتھ بدتمیزی کرتی ہے، حالانکہ میں ایسا نہیں کرتی تھی۔ میں اس وقت بالکل نادان اور ناسمججھ تھی۔ جب والد صاحب مجھے ڈانٹتے یا گھورتے، تو میں دوسرے کمرے میں چلی جاتی اور چھپ کر روتی۔ میں اپنی خالہ کو بہت یاد کرتی تھی، جنہیں اب تک “امی” کہتی تھی۔ میرا دل نہیں مانتا تھا کہ وہ میری ماں نہیں ہیں۔
وقت گزرتا رہا اور میں اسکول جانے لگی۔ خالہ وہاں آ کر مجھ سے مل لیا کرتی تھیں، کیونکہ میری پھپھو سے ان کی نہیں بنتی تھی اور سوتیلی ماں کی وجہ سے بھی خالہ ہمارے گھر نہیں آتی تھیں۔ وہ ہر ہفتے اسکول آ کر مجھ سے ملتیں، جس سے میرے دل کو تسلی ہوتی تھی۔ میرا خالہ زاد بھائی دانیال مجھ سے تین برس بڑا تھا۔ ہم ساتھ کھیلے اور پلے بڑھے تھے۔ وہ مجھ سے پیار کرتا تھا اور میں بھی اسے پسند کرتی تھی۔ چھ برس کی عمر میں تو میں اسے صرف بھائی اور ساتھی سمجھتی تھی، لیکن جب کچھ سمجھدار ہوئی تو خالہ نے کہا: “بیٹی! میں تجھے بہو بنا کر ہمیشہ کے لیے اپنے گھر رکھنا چاہتی تھی، لیکن برا ہو تیرے ددھیال والوں کا جنہوں نے ہمیں جدا کر دیا۔” خالہ کی باتوں نے میرے دل میں دانیال کی محبت اجاگر کر دی۔ پہلے بھی لگاؤ تھا، لیکن اب اس میں نئے رنگ اور خواب شامل ہو گئے۔ میں ہر صورت واپس اسی گھر جانا چاہتی تھی جسے اپنا سمجھتی تھی۔ والد صاحب کا گھر تو مجھے اب تک پرایا لگتا تھا۔
میرے ذہن نے سوتیلی ماں کو کبھی ماں کے طور پر قبول نہیں کیا تھا۔ دراصل میں اپنی خالہ کو حد درجہ پسند کرتی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ دن رات ان کے پاس رہوں، لیکن سوتیلی ماں اور ماموں کی وجہ سے کچھ بول نہ سکتی تھی، کیونکہ وہ نگرانی کرتے تھے کہ میں کہیں خالہ سے بات نہ کر لوں۔ میرا اور تو کوئی بس نہیں چلتا تھا، بس نماز پڑھ کر دعا کرتی تھی کہ خدا کرے میرے گھر والوں کی خالہ سے صلح ہو جائے۔ جھگڑا کوئی خاص نہ تھا، لیکن سوتیلی ماں میری خالہ اور ان کے بچوں کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کا بس چلتا تو وہ انہیں گولی مار دیتی۔ میں ہر وقت پریشان رہتی کہ کسی طرح سوتیلی ماں، پھپھو اور خالہ میں صلح کروا دوں۔ سب سے بڑھ کر میرے چچا، دانیال اور ان کے بہن بھائیوں کو ناپسند کرتے تھے، تاہم میں کبھی کبھار چھپ کر دانیال سے بات کر لیتی تھی۔ میں اسے تسلیاں دیتی اور وہ مجھے حوصلہ دیتا۔ اس کشمکش کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ ابو، دادی اور پھپھو سب یہی چاہتے تھے کہ میں اپنے چچا کی بہو بنوں۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں ننھیال میں رہوں۔ وہ میرے ننھیال کو غریب سمجھتے تھے اور انہیں ڈر تھا کہ اگر انہوں نے مجھ پر پابندیاں نہ لگائیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میری خالہ اور ان کے بچے مجھے ورغلا لیں اور میں ان کی طرف چلی جاؤں۔ یوں میں اپنے ددھیال کا حصہ بننے سے رہ جاؤں گی۔ بچپن میں مجھے خالہ کی تحویل میں دینا محض ایک مجبوری تھی کیونکہ اس وقت کوئی اور راستہ نہ تھا۔
ان دنوں میں دسویں جماعت میں تھی کہ ایک روز خالہ اسکول نہ آئیں، جب کہ وہ ہر ہفتے جمعہ کو مجھ سے ملنے ضرور آتی تھیں۔ خیر، جیسے ہی میں اسکول سے باہر نکلی، مجھے دانیال مل گیا۔ اس نے بتایا کہ تمہاری خالہ بہت بیمار ہیں اور اسپتال میں داخل ہیں۔ میں یہ سن کر بہت بے چین ہو گئی۔ اسے کہا کہ تم گھر چلو، میں جا کر کوئی بہانہ کرتی ہوں اور پھر خالہ کو دیکھنے اسپتال آؤں گی۔ گھر آ کر اپنی سہیلی رخسانہ کو فون کیا کہ خالہ بیمار ہیں اور میں انہیں دیکھنا چاہتی ہوں، لیکن مجھے اجازت نہیں ملے گی۔ وہ تمام حالات سے واقف تھی۔ اس نے کہا: “فکر نہ کرو، میں کوئی حل نکالتی ہوں اور تمہیں لے چلتی ہوں۔”
رخسانہ نے اپنی امی کو بتایا۔ اتفاق سے ان کی بھی ایک رشتہ دار بیمار تھیں اور اسی اسپتال میں داخل تھیں۔ اس کی ماں نے کہا: “ہم جا کر سحر کے گھر والوں سے اجازت لیتے ہیں اور اسے ساتھ لے جاتے ہیں۔” رخسانہ کی ماں میری اصل امی کی سہیلی ہوا کرتی تھیں، لہذا انہیں میرے دکھ سکھ کا بہت احساس رہتا تھا۔
وہ اسی وقت رخسانہ کے ہمراہ آگئیں اور کہا: “میں اپنی بہن کی عیادت کے لیے اسپتال جا رہی ہوں، سحر کو بھی ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں۔” انہوں نے جب یہ بات دادی سے کہی تو انہوں نے اجازت دے دی۔ واقعی خالہ بہت بیمار تھیں۔ ہم تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھے، دانیال بھی وہاں موجود تھا۔ آنٹی، خالہ سے باتیں کرتی رہیں اور میں دانیال سے۔ پھر ہم دونوں اس منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے جہاں ہر طرف کانٹے ہی کانٹے تھے اور امید کا کوئی غنچہ نظر نہیں آ رہا تھا، پھر بھی خدا سے امید تھی کہ وہ ضرور ہماری مدد کرے گا۔ ابھی میں نے دانیال سے دل کی بات بھی نہ کی تھی کہ خاندان والے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے، کیونکہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے بعد بھی میں اسکول سے چار پانچ مرتبہ اکیلی ہی خالہ کو دیکھنے اسپتال چلی گئی تھی۔ واپسی پر دانیال مجھے اپنی موٹر سائیکل پر گھر کے قریب چھوڑ جاتا تھا۔ اسپتال میں اگرچہ میں صرف پندرہ بیس منٹ ہی خالہ کے پاس رکتی تھی، لیکن ایک روز کسی رشتہ دار نے دیکھ لیا اور میرے گھر والوں کو بتا دیا کہ سحر (بغیر بتائے) اپنی خالہ سے ملنے اسپتال جاتی ہے۔ بس پھر کیا تھا؟ بغیر اجازت جانے کی سزا یہ ملی کہ گھر والوں نے میرا اسکول جانا ہی بند کر دیا۔ اب کوئی مجھ سے فون پر بات بھی نہیں کر سکتا تھا، حالانکہ ابھی تو میں نے دانیال سے اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی بات بھی نہ کی تھی۔
ان حالات نے مجھے گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔ دو ماہ تک مجھے اسکول جانے نہیں دیا گیا، پھر میں نے اپنے والد سے معافی مانگی کہ مجھے اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ خیر، انہوں نے معاف تو کر دیا مگر سخت تاکید کی کہ آئندہ کبھی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جانا۔ میں خوش تھی کہ چلو اسکول جانے کی اجازت تو ملی۔ کچھ عرصہ خالہ کے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ رہا۔ ایک دن فون کی گھنٹی بجی؛ سوتیلی امی پھپھو کے ساتھ بازار گئی ہوئی تھیں۔ میں نے فون اٹھایا تو وہ دانیال تھا۔ اس نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ کسی رشتہ دار کی چال تھی جس کا شکار ہم دونوں ہوئے، پھر اس نے اپنے دل کی بات کہہ دی کہ “میں ملازمت تلاش کر رہا ہوں، جیسے ہی نوکری مل گئی میرے والدین تمہارا ہاتھ مانگ لیں گے اور تم پھر سے اپنے گھر لوٹ آؤ گی۔” اس سے مجھے کچھ ڈھارس تو ملی لیکن خوف زیادہ رہتا تھا، کیونکہ گھر کا ہر فرد ان کے خلاف تھا اور میرا گھر میں کوئی خاص مقام نہ تھا۔ دادی اور پھپھو سے بھی میں کچھ نہیں کہہ پائی تھی، وہ بھی خالہ والوں سے نفرت کرتی تھیں، حالانکہ ان کا یہ احسان کچھ کم نہیں تھا کہ انہوں نے مجھے پالا تھا۔ میں ہر حال میں میٹرک کرنا چاہتی تھی۔ ایک دو بار جی میں آیا کہ خالہ سے جا کر ملوں، لیکن پھر خود کو روک لیا کہ کہیں میری معمولی سی بھول کی وجہ سے میری تعلیم ادھوری نہ رہ جائے۔ میٹرک کے امتحانات ہو گئے اور میں گھر بیٹھے نتیجے کا انتظار کرنے لگی۔ میں اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی لیکن کالج جانے پر اصرار نہ کیا۔ اب زندگی میں ایک ہی غم تھا کہ کیا کبھی دانیال کو پا سکوں گی؟ کیا کبھی دوبارہ خالہ کے پاس رہ سکوں گی؟ ہم دونوں کو اپنے رب پر پورا بھروسہ تھا، وہی ایک ہستی تھی جس کے سہارے میں جی رہی تھی۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ جس لڑکی کی حقیقی ماں بچپن میں بچھڑ جائے، اسے کتنے مشکل جذباتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے؛ وہ بالکل تنہا ہو کر رہ جاتی ہے۔ دانیال کبھی کبھی بہت پریشان ہو کر کہتا: “سحر! ہمارا انجام کیا ہوگا؟” اور میرے پاس تسلیوں کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا۔ میں نے سب کچھ اپنے رب پر چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔
میرے پاس خدا کے سوا کوئی سہارا نہ تھا۔ اسی دوران دانیال نے ایم بی اے کر لیا اور میں نے پرائیویٹ طور پر ایف اے کے امتحانات دے دیے۔ خالہ مجھے تسلی دیا کرتی تھیں کہ “بٹیا! جو اللہ کو منظور ہوگا وہی ہوگا، تم فکر مت کرو۔” میرے گھر والوں کو دولت پر غرور تھا جبکہ خالہ اور خالو اتنے امیر نہ تھے۔ بس یہی ایک فرق تھا ورنہ رشتہ دار اچھے ہوں تو انہیں قبول کرنا چاہیے اور کسی کو خود سے کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ خدا کے کرم سے دانیال کامیابیوں کی طرف رواں دواں تھا اور انہی دنوں اسے ایک بہت اچھی ملازمت مل گئی۔ معقول تنخواہ کے ساتھ ساتھ اسے رہائش اور گاڑی کی سہولت بھی مل گئی۔ مجھے کسی حد تک اپنے والد صاحب کی حمایت حاصل تھی کیونکہ وہ دولت کے بجائے انسان کی قدر کرنے کے قائل تھے، لیکن سارا مسئلہ پھپھو اور چچا کا پیدا کردہ تھا، اور رہی سہی کسر سوتیلی ماں پوری کر دیتی تھی جو ہمیشہ جلتی پر تیل کا کام کرتی تھی۔
اب گھر والوں کو میری شادی کی فکر ہونے لگی۔ جب بھی کوئی رشتہ آتا، میں پریشان ہو جاتی کہ اب کیا ہوگا؟ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اچانک مجھے بالجھڑ کی بیماری ہو گئی، جس کی وجہ سے رشتے والے آتے اور دیکھ کر چلے جاتے۔ تاہم چچا اب بھی اپنے بیٹے کے رشتے کی آس لگائے بیٹھے تھے، پھر ابو اور چچا میں جائیداد کا تنازع ہو گیا تو ابو نے انہیں رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ انہی دنوں ایک دولت مند گھرانے کا رشتہ آیا، یہ فیملی عرصہ دراز سے بیرون ملک مقیم رہی تھی۔ یوں ایک امیر گھرانے میں میری شادی کر دی گئی اور میں نے ابو کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا۔ ابو سے زیادہ سوتیلی امی اس رشتے کے لیے پرجوش تھیں کیونکہ وہ ان لوگوں کی دولت سے بہت مرعوب تھیں۔ دادی اور پھپھو بھی خاموش تھیں، انہیں بس اس بات کا غم تھا کہ میں چچا کی بہو نہ بن سکی، لیکن یہ سب تو قسمت کے کھیل ہوتے ہیں۔ جب میں بیاہ کر اسد کے گھر گئی تو چند ہی دنوں میں قلعی کھل گئی۔ وہ لوگ بہت کنجوس، بداخلاق اور حد درجہ مغرور تھے۔ اسد بھی بری عادات کا شکار تھا؛ وہ شراب اور رقص و سرود کا دلدادہ تھا، رات دیر سے گھر آتا اور مجھے مار پیٹ کر مطالبہ کرتا کہ اپنے والدین سے جائیداد اپنے نام لکھواؤں۔
ایک روز ابو ملنے آئے تو میرے چہرے پر نیل پڑے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی۔ والد صاحب کے پوچھنے پر میں نے سب کچھ بتا دیا۔ انہوں نے جب اسد سے باز پرس کی تو وہ بدتمیزی پر اتر آیا۔ ابو کو بھی غصہ آگیا، وہ مجھے اپنے ساتھ گھر لے آئے اور ان لوگوں پر طلاق کا کیس کر دیا۔ بالآخر مجھے طلاق مل گئی۔ خالہ اور دانیال کو جب علم ہوا تو انہیں بے حد دکھ ہوا۔ خالہ نے ماموں سے منت سماجت کی: “سحر میری صرف بھانجی نہیں، بیٹی بھی ہے۔ میں نے ایک برس اسے ماں بن کر پالا تھا، اس کا غم مجھ سے سہا نہیں جاتا۔ تم جا کر اس کے والدین سے بات کرو، میں اسے دانیال کی دلہن بناؤں گی تو میرے جی کو قرار آئے گا اور میری مرحوم بہن کی روح کو بھی سکون ملے گا۔” ماموں نے میرے والد سے بات کی۔ والد صاحب تو پہلے ہی میری جدائی اور غم میں گھلے جا رہے تھے، اب اپنوں کو بھی قدر آئی کہ اگر دانیال سے رشتہ کیا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
طلاق کے بعد میں بجھ سی گئی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اب دانیال بھی نہیں پوچھے گا اور خالہ بھی مایوس ہو چکی ہوں گی۔ میرا ذہن اس طرف گیا ہی نہیں کہ وہ لوگ اب بھی مجھے قبول کرنے پر تیار ہوں گے، لیکن سچ ہے کہ اپنے تو اپنے ہی ہوتے ہیں۔ خالہ نے یہ بھی نہ سوچا کہ میں ایک مطلقہ ہوں۔ انہیں بس یہی غم تھا کہ ہائے میری بچی پر کتنا بڑا حادثہ گزر گیا اور وہ اجڑ کر رہ گئی۔ دانیال حقیقی معنوں میں میرے لیے پریشان تھا۔ جب والد صاحب نے مثبت جواب دیا تو ان کے دلوں میں بہار آگئی کیونکہ میں لوٹ کر ان کے گھر آنے والی تھی۔ یہ وہ دیرینہ امید تھی جو حسرت بنتی جا رہی تھی کہ اچانک پھر سے روشنی پھیل گئی۔ والد صاحب نے خدا کا شکر ادا کیا کہ مجھے قبول کرنے والا کوئی ہے، ورنہ مطلقہ لڑکی کی دوبارہ شادی کرنا محال ہوتا ہے۔ چند ہی دنوں میں بات پکی کر دی گئی۔ وہ اپنے تھے اور حیثیت میں بھی ہم پلہ، لہذا کسی تکلف کی ضرورت نہ تھی۔ دادی بھی راضی ہو گئیں اور پھپھو نے بھی خالہ کو گلے لگا لیا، صرف چچا زاد اس بار بھی میری شادی میں شریک نہ ہوئے کیونکہ والد صاحب سے ان کی صلح نہ ہو پائی تھی۔ جب میں دانیال کی دلہن بن کر ان کے گھر جا رہی تھی تو مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں جنت میں جا رہی ہوں۔ آج مجھے اپنی کھوئی ہوئی خوشیاں، اپنی دولت اور اپنا سب کچھ مل گیا تھا۔ گھر بار اور ہر وہ شے جس کی ایک لڑکی آرزو کرتی ہے، اور سب سے بڑھ کر خالہ کی محبت؛ جب انہوں نے بازو پھیلا کر مجھے اپنی آغوش میں لیا تو ہم دونوں کے دل کو ٹھنڈک پہنچ گئی۔ میں نے اپنی اصل ماں تو دیکھی نہیں تھی، انہی کو اپنی حقیقی ماں سمجھتی تھی اور خالہ نے بھی پیار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔
دانیال نے اپنا علیحدہ گھر تعمیر کر لیا تھا جس کی مالکن میں تھی۔ یہی خواب اس نے دیکھا تھا اور اللہ کے کرم سے وہ پورا ہو گیا۔ دانیال کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ انہوں نے میرا علاج بہترین ڈاکٹروں سے کرایا، مگر شفا تو اللہ ہی دیتا ہے۔ مجھے ایک حکیم کے علاج سے فائدہ ہوا۔ پہلے ہزاروں روپے خرچ کیے مگر سر پر بال نہ آئے، پھر حکیم صاحب نے ایک معمولی نسخہ بتایا: ایک چمچہ ادرک کا پانی اور ایک چمچہ سرکہ ملا کر سر میں وہاں لگایا جہاں بالجھڑ تھا، تو تین چار بار کے استعمال سے ہی بال آگئے اور بیماری ختم ہو گئی۔ پھر سے میرے بال چمکیلے، لمبے اور گھنے ہو گئے۔
یہ سب خدا کی قدرت کے کرشمے ہیں کہ وہ جب نصیب بناتا ہے تو بن جاتا ہے، اور جب وہ آزمائش ڈالتا ہے تو کوئی دوسرا اس بگڑے ہوئے نصیب کو نہیں سنوار سکتا۔
(ختم شد)

