موت کا غم

new story in urdu

تقسیمِ ہند کے بعد میرے والدین پاکستان آگئے۔ کافی عرصے بعد جب حالات کچھ سازگار ہوئے تو والد، خاور خان کو یہ احساس ستانے لگا کہ ان کے بھائی کلن خان، جو بھارت میں مالی بدحالی کا شکار اور صاحبِ اولاد تھے، کس طرح گزر بسر کر رہے ہوں گے؟ بہرحال، کافی تگ و دو کے بعد کلن خان مع اہل و عیال پاکستان آگئے اور چوڑیوں کے کام سے منسلک ہو گئے۔ ابا جان نے قریب ہی ایک جھونپڑی خرید کر انہیں دلوا دی، یوں یہ چھوٹا سا کنبہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا۔

چاچا کلن نہایت سادہ مزاج اور محنتی آدمی تھے، ان کی بیوی بھی نہایت صابر اور شوہر کی فرمانبردار تھیں۔ ان کے تقریباً آدھا درجن چھوٹے بچے تھے۔ والد صاحب سے جتنا ہو سکتا تھا، ان کی مدد کر دیا کرتے تھے۔ ویسے بھی ہمارے چاچا اپنی خوددار طبیعت کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتے تھے۔ اس کنبے کی زندگی خدا کے فضل سے اچھی کٹ رہی تھی کہ اچانک خزاں کے بادل چھا گئے؛ میری چچی بچے کی ولادت کے دوران انتقال کر گئیں اور ہمیشہ کے لیے چاچا کلن کو داغِ مفارقت دے گئیں۔ یوں بچوں کی ذمہ داری کا بوجھ چاچا اور میری والدہ کے کندھوں پر آپڑا۔

کچھ عرصے بعد چاچا کا بڑا لڑکا شفیق، جو ابھی کم عمر ہی تھا، رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا گیا، لیکن اس کی دلہن ایسی آئی کہ اس نے اپنے دیوروں اور نندوں کو منہ لگانا بھی گوارا نہ کیا۔ آخر کار چاچا کو گھر داری اور مزدوری سب خود ہی کرنا پڑا کیونکہ شفیق شادی ہوتے ہی الگ ہو گیا تھا۔ کچھ وقت بعد ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ پہلے پہل تو میاں بیوی میں خوب بنی، پھر اختلافات شروع ہو گئے۔ ابھی بچی نے چلنا بھی نہ سیکھا تھا کہ ایک رات شفیق کی دلہن نے گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکر خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔ وہ اس قدر جلی کہ ایک ماہ ہسپتال میں زیرِ علاج رہی۔ ادھر پولیس نے چکر لگانا شروع کر دیے، جن کا منہ پیسے دے کر بند کیا گیا۔ دلہن نے مرنے سے قبل یہ بیان دے کر شفیق کی جان بچا لی کہ اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ سسر اور شوہر نے دن رات اس کی تیمارداری کی، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی اور خالقِ حقیقی سے جا ملی۔

بچی کی خاطر کئی سال بعد شفیق کی شادی اس کی سالی شگفتہ سے کر دی گئی۔ شگفتہ خالہ تو تھی، مگر وہ بچی سے پیار کے بجائے نفرت کرنے لگی۔ ہمارے معاشرے کا یہی المیہ ہے کہ شادی کے وقت لڑکی کی رضامندی کا خیال نہیں رکھا جاتا، تبھی لڑکیاں کبھی کبھی انتقامی طور پر گھر برباد کر دیتی ہیں۔ شگفتہ جس بچی کے لیے ‘قربانی کا بکرا’ بنائی گئی تھی، وہ اسے محبت نہ دے سکی، حالانکہ وہ اس کی مرحوم بہن کی نشانی تھی۔ دراصل وہ اپنے بہنوئی کو بہن کا قاتل سمجھتی تھی اور اس سے شادی اس کے ضمیر پر بوجھ تھی۔ چاچا بھی اس شادی کے بعد عذاب میں پڑ گئے۔ وہ خود کھانا پکا کر اپنے بچوں کے علاوہ بیٹے، بہو اور پوتی کو بھی کھلاتے، جبکہ بہو کسی کا خیال نہ رکھتی۔ شفیق خود اس کشمکش میں تھا کہ باپ کی سنے یا بیوی کی؟

میری والدہ اپنے دیور کے بچوں کو پالنے پر مجبور تھیں۔ ہم نے بہت چاہا کہ چاچا کلن کی دوسری شادی ہو جائے تاکہ ان کا گھر بس سکے، اس کے لیے امی نے بہت کوششیں کیں مگر ناکامی ہوئی۔ بچے تعلیم سے محروم، قالینوں کے کارخانوں میں مزدوری کر رہے تھے۔ وہ ابھی چھوٹے اور ناسمجھ تھے کہ ان کے دل و دماغ پر محرومی کے بادل چھانے لگے۔ مسلسل کام کی وجہ سے ان کے چہرے زرد پڑ گئے اور دو بچے اون کے ریشوں کے باعث ٹی بی اور سانس کی بیماری کا شکار ہو گئے۔ علاج کا صحیح انتظام نہ ہونے کے باعث وہ کچھ عرصہ بیماری جھیل کر انتقال کر گئے۔ اس صدمے نے چاچا کے ساتھ ساتھ میری امی کو بھی توڑ دیا کیونکہ انہوں نے ان بچوں کو ماں بن کر پالا تھا۔

چاچا تو زندگی کی تلخیوں اور غمِ دوراں میں ایسے الجھے کہ بچوں سے بیگانہ سے ہو گئے۔ وہ دن بھر کام کرتے اور رات کو آکر بچوں کے لیے کھانا تیار کرتے۔ بیٹا اور بہو اپنی الگ دنیا میں مست تھے۔ امی ان کے معاملات میں دخل نہیں دیتی تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ شگفتہ پہلے ہی اس شادی سے ناخوش ہے، مداخلت سے بات مزید بگڑ جائے گی۔ اس تمام صورتحال میں ننھی فاطمہ مجھ سے بہت مانوس ہو گئی تھی۔ ان دنوں میری شادی کی باتیں چل رہی تھیں۔ امی کہتی تھیں کہ اگر فاطمہ کی خالہ اسے توجہ دے تو بچی کے لیے بہتر ہے، تاکہ تمہاری شادی کے بعد وہ زیادہ دکھی نہ ہو۔ امی کے کہنے پر میں نے فاطمہ سے دوری اختیار کرنا شروع کی اور اسے شگفتہ کے کمرے میں چھوڑ آئی۔

شگفتہ اس چھوٹی سی بچی سے اس قدر بے اعتنائی برتنے لگی کہ وہ معصوم جب بھی کچھ دیر اپنی سوتیلی ماں (خالہ) کے پاس رہتی تو پریشان ہو جاتی؛ روتی، چلاتی اور میرے کندھے سے لگ کر ہی اسے سکون ملتا۔ وہاں وہ چپ ہو جاتی، سو جاتی یا کھیلنے لگتی۔ یہ صورتحال ہمارے لیے بڑی تکلیف دہ تھی، مگر آخر ہمیں اس بچی کو اس کے ماں باپ کے پاس ہی چھوڑنا تھا، وہ کب تک ہمارے سہارے جی سکتی تھی؟ میں اور امی بار بار شگفتہ کی منتیں کرتے کہ “تم اس بچی کو ماں کا پیار دو، آخر یہ تمہاری سگی بہن کی نشانی ہے، اسے اس قدر نظر انداز کیوں کرتی ہو کہ وہ تمہارے سائے سے بھی وحشت کھاتی ہے؟” مگر شگفتہ ہماری بات کو درخورِ اعتنا نہ سمجھتی، ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتی اور کبھی کبھار تو ہم سے الجھ پڑتی۔

عید کا دن تھا۔ امی جان باورچی خانے میں شیر خورما تیار کر رہی تھیں۔ میں نے فاطمہ کو شگفتہ کے حوالے کیا اور کہا کہ “ذرا اسے نہلا دھلا کر عید کے کپڑے پہنا دو۔” وہ صرف سوا سال کی تھی۔ میں نے خود رات بھر جاگ کر ہاتھ کی مشین پر اس کا خوبصورت لباس اور شگفتہ کا جوڑا سیا تھا۔ باقی بچوں کے کپڑے بھی تیار کر کے استری کر دیے تھے۔ گھر میں مہمانوں کی آمد متوقع تھی کیونکہ میری بڑی بہن کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی اور ان کے سسرال والے آنے والے تھے، لہٰذا ہم چاہتی تھیں کہ تمام کام جلدی نمٹ جائیں۔ میں شدید تھکن کے باوجود مہمان داری کی تیاریوں میں مصروف تھی، چنانچہ فاطمہ کو اس کی خالہ کے سپرد کر کے کچن میں چلی گئی۔ ابھی پندرہ منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے یاد آیا میں نے فاطمہ کے نئے جوتے تو دیے ہی نہیں۔ میں فوراً کمرے سے جوتوں کا ڈبہ اٹھا کر شگفتہ کے کمرے کی طرف بڑھی، تبھی مجھے غسل خانے سے ایک عجیب سی آواز سنائی دی— یہ ننھی فاطمہ کی آواز تھی۔

غسل خانے کا دروازہ کھولتے ہی میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ فاطمہ پانی کے ٹب میں ڈوبی زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی، جبکہ شگفتہ وہاں موجود ہی نہ تھی۔ ہوا یہ کہ وہ فاطمہ کو پانی سے بھرے ٹب کے پاس چھوڑ کر خود صحن میں تولیہ اتارنے چلی گئی تھی، وہاں کوئی عورت آگئی تو اس سے باتوں میں ایسی مشغول ہوئی کہ بھول ہی گئی کہ بچی موت کے دہانے پر کھڑی ہے۔ فاطمہ ناسمجھ تھی، وہ کھیلتے کھیلتے ٹب میں جا گری۔ آناً فاناً موت نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ عید کا دن ہمارے لیے کہرام کا دن بن گیا اور ہماری تمام خوشیاں اس حادثے کی بھینٹ چڑھ گئیں۔

فاطمہ کی موت کا غم کسے نہ تھا؟ وہ ایک ہنستا مسکراتا پھول اور ہمارے گھر کی رونق تھی، اس کے جانے سے گھر میں ویرانی چھا گئی۔ سب سے زیادہ دکھ شفیق بھائی کو ہوا، جو پہلے ہی شگفتہ کی بے رخی سے نالاں تھے۔ انہوں نے بیٹی کی موت کا ذمہ دار شگفتہ کو ٹھہرایا اور اسے طلاق دے دی۔ شگفتہ روتی دھوتی اپنے میکے سدھار گئی اور یوں شفیق کا گھر ایک بار پھر اجڑ گیا۔ جہاں میری شادی کی بات چیت چل رہی تھی، امی نے وہاں پیغام بھیج دیا کہ فی الحال رک جائیں کیونکہ ہم ابھی اپنی پھول سی بچی کے سوگ میں ہیں۔

سچ کہتے ہیں کہ نصیب میں جو لکھا ہو، وہی ملتا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ شفیق میرے جیون ساتھی بنیں گے، میں ان سے بارہ تیرہ برس چھوٹی تھی، مگر قدرت کو یہی منظور تھا۔ چاچا جان نے ابا سے التجا کی کہ “شفیق کا گھر تیسری بار آباد ہونا مشکل ہے، میں اب کسی اور کے در پر دستک نہیں دوں گا، ہماری قدسیہ ہی اس بکھرے ہوئے گھر کو سنبھال سکتی ہے، ورنہ میرے باقی بچے بھی رُل جائیں گے۔” ابا جان اپنے بھائی کے حالات دیکھ کر اکثر غمزدہ رہتے تھے، چنانچہ انہوں نے کچھ سوچ کر ہامی بھر لی اور میں شفیق کی دلہن بن کر اس گھر میں آگئی۔ ان دنوں میں ایف اے کے بعد سی ٹی (CT) کر چکی تھی اور ایک مقامی اسکول میں بطور معلمہ فرائض انجام دے رہی تھی۔

میں نے ان حالات کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا کیونکہ والدین اور چاچا کے مسائل میرے سامنے تھے۔ تاہم، علاج معالجے کے باوجود ہم اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ میرے شوہر کو اولاد کی بہت تمنا تھی اور مجھے بھی فاطمہ پل بھر کو نہ بھولتی تھی۔ ہم ہر وقت اللہ کے حضور دعا کرتے، مگر شاید میری قسمت میں یہ خوشی نہ تھی۔ اسی طرح بارہ برس بیت گئے اور جب میں مکمل مایوس ہو گئی تو میں نے خود اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دے دی۔ شہر میں رہتے ہوئے میں اسکول کے ساتھ ساتھ ٹیوشن بھی پڑھاتی تھی، جس کی بدولت ہماری مالی حالت بہت بہتر رہی۔ شفیق اب ایک دفتر میں آٹھویں گریڈ کے ملازم تھے اور اپنی تنخواہ سے کمیٹیاں بھی ڈال رہے تھے۔ ہم نے خوب محنت کی؛ چاچا کی چوڑیوں کی دکان تھی اور ہم سب نے مل جل کر اپنا گھر بنایا اور گاڑی بھی خرید لی۔ یہ سب میری جدوجہد اور تعاون کے بغیر ناممکن تھا۔

دیہاتی لوگ شفیق کو بہت بڑا افسر خیال کرتے تھے، چنانچہ ان کے دیہاتی رشتہ داروں نے انہیں دوسری شادی کے لیے خوب اکسایا۔ چونکہ میں پہلے ہی زبانی اجازت دے چکی تھی، اس لیے انہوں نے اب مجھ سے تحریری اجازت طلب کی۔ میں نے اس تحریر کے بدلے کچھ شرائط لکھوائیں تاکہ میرے ساتھ انصاف ہو سکے۔ اس پر انہوں نے مجھے یہاں تک لکھ کر دیا کہ “میری دوسری بیوی تمہاری تابع دار ہو گی، تمہارے کپڑے دھوئے گی اور تمہارے پاؤں دبائے گی” وغیرہ وغیرہ۔ شفیق کے پاس اچھا مکان، سرکاری ملازمت اور گاڑی تھی، بھلا ایسے میں رشتوں کی کیا کمی ہوتی؟ لوگ ایک “بانجھ” سوکن کی موجودگی میں بھی اپنی بیٹیاں بیاہنے کو تیار تھے کیونکہ میں بے اولاد تھی۔ یوں شفیق کا رشتہ ایک گریڈ سولہ کے افسر کی کنواری لڑکی سے طے پا گیا۔ منگنی کے تین ماہ بعد شادی تھی؛ اس دوران شفیق کا رویہ میرے ساتھ بہت مثالی رہا۔ شادی سے ایک ہفتہ قبل وہ مجھے گاؤں چھوڑ آئے تاکہ وہاں جا کر تیاریاں کر سکیں۔ مجھے اپنے شوہر سے بے حد محبت تھی، اس لیے میں ان کی ہر بات مان لیتی تھی۔

شفیق کی تیسری شادی کے ان دکھ بھرے لمحات کو بھلانے کے لیے میں ان کی اجازت سے اپنے ماموں کے گھر چلی گئی۔ واپسی پر طے شدہ پروگرام کے مطابق وہ مجھے ریلوے اسٹیشن لینے نہ آئے۔ میں گھنٹوں ان کی راہ تکتی رہی مگر وہ نہ آئے۔ دو دن اسی انتظار میں گزر گئے۔ آخر تیسرے دن صبح سویرے میں خود ان کے سسرال پہنچی اور انہیں یاد دلایا کہ “میں بھی آپ کی بیوی ہوں، ہم نے ساتھ جینے مرنے کے وعدے کیے تھے، کیا آپ بارہ سالہ رفاقت اتنی جلدی بھول گئے؟” میں نے شکوہ کیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے مجھے لینے اسٹیشن کیوں نہیں آئے، مگر وہاں کسی نے میری فریاد نہ سنی۔ کسی نے مجھے توجہ کے قابل نہ سمجھا، بلکہ وہاں جا کر میری مزید سبکی ہوئی اور میں اپنا سا منہ لے کر رنجیدہ دل کے ساتھ گھر لوٹ آئی۔

شادی کو تین ماہ بیت گئے مگر شفیق میرے پاس نہ آئے۔ میں ہر ایک سے کہتی پھرتی کہ “دیکھو تو سہی، شفیق کو ہو کیا گیا ہے؟ مجھے یقین ہی نہیں آتا کہ وہ اس قدر بدل سکتے ہیں۔” اب ہر خوشی اور غمی کے موقع پر میں اکیلی رہ جاتی، کوئی میرے ساتھ چلنے والا نہ تھا۔ بہن بھائی تسلی دیتے کہ “غم نہ کرو، تم نے خود ہی تو اسے شادی کی اجازت دی تھی، وہ مرد ہے اور نئی بیوی کے سحر میں ہے، بہرحال ہم تمہارے ساتھ ہیں۔” رفتہ رفتہ مجھے یہ تلخ احساس ستانے لگا کہ میرا جیون ساتھی میرا ساتھ چھوڑ چکا ہے اور میں اس دنیا میں تنہا رہ گئی ہوں۔ میں دل کو بہت سمجھاتی کہ اسے یاد نہ کروں، مگر دل کہاں مانتا تھا؟ وقت گزرتا رہا اور میں تنہائی سے تنگ آکر اپنے میکے آ گئی۔

اب وہ میاں بیوی اس گھر میں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں جسے میں نے اپنے ارمانوں سے سجایا تھا اور جس کی تعمیر میں میری محبت کا سرمایہ اور محنت لگی تھی۔ آج اس گھر پر دوسری عورت کا راج تھا اور وہ ہر چیز کی مالک بن بیٹھی تھی۔ اب تو وہ اس گھر کی زیادہ حقدار بن گئی تھی کیونکہ وہ صاحبِ اولاد ہو چکی تھی۔ آج میں اپنے بھائی کے گھر، ان کے در پر پڑی ہوں۔ یہ ہے میری قربانی اور رحم دلی کا انجام! میں اپنی بھولی بھالی بہنوں کو یہی مشورہ دوں گی کہ شوہر کی دوسری شادی کے بعد اس سے کوئی امید نہ رکھیں، کیونکہ مرد کا اعتبار نہیں۔

میں اب بھی ہر نماز کے بعد دعا کرتی ہوں کہ اللہ کرے شفیق کو میری یاد آ جائے، اس کے دل میں میرے لیے رحم پیدا ہو اور وہ میرے ساتھ انصاف کرے۔ کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کہ میں کتنے اذیت ناک دن گزار رہی ہوں۔ کیا وفا کا یہی صلہ ہے؟ کیا یہی انصاف ہے؟ لیکن افسوس! یہ سوال میں کس سے پوچھوں؟
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ