میرے شوہراسلام آباد میں گورنمنٹ سروس میں اچھے عہدے پر فائز تھے۔ شادی کے بعد میں اسلام آباد آگئی۔ راولپنڈی میں میرا بھائی کی فیملی رہتی تھی۔ میرے تعلقات بھا بھی سے بہنوں جیسے ہی تھے۔ یہاں بھائی کا گھر ہی میر امیکہ تھا۔ دونوں گھرانے عید بقر عید پر اکٹھے لاہور آتے تھے۔ بھائی کے بچے میرے ہی ہاتھوں میں بڑے ہوئے۔ اگر بھائی کی پوسٹنگ کسی اور جگہ ہو بھی جاتی، تو بچے ویک اینڈ پر چھٹیوں میں کچھ دنوں کے لئے میرے پاس اسلام آباد آجاتے۔ میری شادی کو بیس سال گزر چکے تھے، لیکن آج تک اولاد جیسی نعمت محروم تھی۔ سے
بھابھی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ چھوٹے بیٹے کے دس سال بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا، تو انہوں نے وہ بیٹی مجھے دے دی، میں نہال ہو گئی اور بچی کا نام کا ئنات رکھا۔ ایک بات بتاتی چلوں کہ میرے میاں شروع سے ہی کسی کا بچہ لینے کے حق میں نہیں تھے ، مگر نہ جانے کیسے راضی ہو گئے۔ میں نے اپنی اتنی بڑی خوشی منانے کے لئے لاہور سے اپنے بہن بھائیوں اور اپنے میاں کے گھر والوں کو مدعو کیا اور اسی روز کائنات کا عقیقہ بھی رکھ دیا۔ ہم نے گھر کو ہر طرح سے آراستہ کیا۔ دو پہر سے شام ، شام سے رات اُتر آئی تب کہیں جاکے صرف میر ابھائی، بھا بھی اور ان کے بھائی آئے۔ ہم نے جب ان پر پھول پتیاں نچھاور کیں، تو میری بھا بھی ان سے بیچ کر پیچھے ہو گئی۔ ہم سب کا دل جہاں خوش تھا، وہاں افسردہ بھی تھا۔ ایک ماں کی گود خالی کر کے دوسری کی بھری جارہی تھی۔ میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے۔ ماحول میں ملی جلی کیفیت تھی۔ بھا بھی۔ ۔ بھابھی نے جب کائنات کو میری گود میں دیا، تو میں نے روتے ہوئے ان سے کہا۔ خدا کے بعد تم ہو ، جو میری خالی جھولی بھر رہی ہو۔ فنکشن کے بعد واپس جاتے ہوئے وہ کائنات کو یہ کہہ کر ساتھ لے گئے کہ بڑی بیٹی کے انٹری ٹیسٹ کے بعد بچی دے جائیں گے ، ورنہ وہ اچھی طرح پرچے نہ دے سکے گی۔ ہم سب کو بڑا قلق ہوا، لیکن مصلحت کے تحت خاموش رہے۔ خدا جانے ان کے دلوں میں کیا تھا۔ جب میں نے ان کے ڈرائیور سے کہا کہ کائنات اب میری بیٹی ہے ، تو بھا بھی نے بہت بڑے لہجے میں کہا کہ باجی بڑی بیوقوف ہے۔
صبح جب محلے میں مٹھائی اور گوشت تقسیم کیا جارہا تھا، تو میرے بھائی نے فون پر اطلاع دی کہ ہم نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اب ہم کائنات کو نہیں دے رہے۔ یہ الفاظ نہیں نشتر تھے ، جو میرے دل پر لگے۔ میں کیا سب مہمان ہکا بکا رہ گئے۔ میرے اندر ممتا کا وہ جذبہ جو ہیں سال سے کہیں چھپا ہو ا تھا، جوالا مکھی بن کے آنکھوں کے راستے بہنے لگا۔ جو محلے دار مبارک دینے آرہے، یہ خبر سن کر شدید حیران تھے، وہاں بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے تھے۔ خدا کسی پر ایسا وقت نہ لائے۔
میری بڑی باجی اور دو بھائی اسی وقت بھائی بھائی سے یہ پوچھنے کے لئے کہ تم لوگوں نے اپنا ارادہ کیوں بدلا ؟ روانہ ہو گئے۔ چھوٹے بھائی کا ایک ہی جواب تھا کہ میں مجبور ہوں۔ میر ابھائی جس کی بیٹی ہم گود لے رہے تھے ، اس کا رویہ بہت عجیب تھا۔ باجی اور بڑے بھائی سے بجائے اس کے کہ شرمندہ ہو تا، ایسا ناروا سلوک کیا کہ وہ لوگ رات کے بارہ بجے ہی واپسی کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ بھائی نے بھائی کو کونہ نہ روکا اور نہ ہی خیال کیا کہ بہن کا ساتھ ہے۔ اتنی رات گئے کہاں جائیں گے ؟ وہ تو بھلا ہو ، پیٹرول پمپ والے کا، اس نے سختی سے نعمان کو سفر کرنے سے منع کر دیا۔ سو ، بھائی کے اتنے بڑے گھر کے ہوتے ہوئے بھی وہ ہوٹل میں ٹھہرے۔ افسوس اور شرمندگی کے علاوہ اس گندے سے ہوٹل کی وجہ سے ساری رات کرسیوں پر جاگتے گزاردی۔
اب میرا کام شب و روز دعامانگنا اور آنسو بہانا تھا۔ اللہ پاک خیر ، خیریت سے ہم دونوں بہن بھائیوں کو ملادے۔ آخر خدانے میری سن لی اور پورے چار ماہ بعد بھائی بھائی میری زندگی مجھے لوٹانے آگئے۔ میں نے بھائی سے کہا کہ نہ تو تمہاری بیٹی اور نہ ہی میں مذاق ہوں۔ اب جو بھی فیصلہ کرو، سوچ سمجھ کر کرنا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچ لیا، پھر وہ بہت پژمردہ اور افسردہ سے واپس گئے۔
ڈھائی لونے تین سال ہمارے تعلقات میں کافی اتار چڑھاؤ رہا۔ بجائے
اس کے کہ دونوں گھرانے مزید قریب آتے اور محبت اور اخوت کا جذبہ پروان چڑھتا، تعلقات اکثر کشیدہ ہی رہے اور بھابھی نے میری زندگی اجیرن کر دی۔ ہر وقت ٹھنڈی آہیں بھرنا، جلی کٹی سنانا اس کا شیوہ بن گیا۔ اس نے مجھے یہ احساس ہی نہ ہونے دیا کہ کائنات میری بیٹی ہے۔ اس کے لئے میرے ہر عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ بچی کے بال کیوں کٹوائے ؟ یہ کپڑے کیوں پہنائے ہیں ؟ لاہور کیوں جارہی ہو ؟ عید ہمارے پاس آکر کرنی ہے۔ میری زندگی کاریموٹ بھا بھی کے ہاتھ میں تھا جب کہ ہماری زندگی کا محور صرف اور صرف ہماری بیٹی تھی، لیکن اس کے متعلق ہر فیصلے کا اختیار ان لوگوں نے اپنے پاس رکھا۔ اس کے علاوہ عید ، بقر عید اور کسی بھی اہم موقع پر کائنات کو ہمیشہ اپنے پاس رکھا۔ میں تمام وقت منتظر رہتی کہ کب کا ئنات آکر ہماری خوشیوں میں شامل ہو۔
اگر ہم بچی کو لینے چلے جاتے ، تو ان کے بچوں کا رویہ سخت ناگواری لیے ہوتا۔ ان کا بس نہ چلتا کہ ہمارے منہ پر تھپڑ مار دیں۔ اتنی تحقیر و ذلت صرف اور صرف اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر سہتی۔ ایک بات بتاتی چلوں کہ کائنات بڑی حساس اور پیاری بچی تھی۔ وہ جب بھی واپس آتی، اس کی آنکھیں روئی ہوئی ہو تیں۔ وہ کہتی۔ میں نے ماما کے پاس جانا ہے۔ میں نے اپنے گھر جانا ہے ، ان لمحات کی اذیت میں بیان نہیں کر سکتی۔ بھا بھی کو شکایت تھی کہ میں کائنات کو بخوشی نہیں بھیجتی، میر ارویہ ٹھیک نہیں ہو تا ، جب کہ وہ ہر ماہ تین چار دن بچی کو اپنے پاس تے اور وعدے کے مطابق بھی واپس نہ بھیجتے۔ ان کے رویئے نے رکھتے کبھی مجھے اس وہم میں مبتلا رکھا تھا کہ وہ کسی وقت ہمیں بچی سے جدانہ کر دیں۔
اس بات کا میں نے اپنے بڑوں پر اظہار بھی کیا، تو جواب میں بھائی بھابھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ باجی کو یقین دلا دیں، ہم کبھی کائنات کو واپس نہیں لیں گے ، مگر میں مطمئن نہ تھی۔ کائنات سے ایک پل کی جدائی برداشت نہ کر سکتی تھی۔ وہ جتنے دن ان لوگوں کے پاس رہتی، میر ارورو کر برا حال ہو جاتا۔ بھائی بھا بھی اور بچے جو پہلے خوشی خوشی میرے ہاں آکر رہتے تھے ، اب میرے گھر میں ٹھہرنا انہیں گراں گزرتا۔ ان کی یہی کوشش ہوتی کہ جلد از جلد بچی کو ہم سے دور لے جائیں۔ اگر مجبور آرکنا پڑتا تو اُسے دوسرے کمرے میں لے جاتے۔ ایک دو دفعہ ایسا ہوا کہ پڑوس میں کوئی فنگشن تھا، تو بھا بھی کائنات کو لینے آگئی۔ میں نے کہا بھی کہ آج نہیں پھر لے جائے گا، تو انہوں نے بڑے روکھے لہجے اور تکبر سے کہا کہ تمہاری دوستوں کے ہاں کا ئنات کی شمولیت کوئی ضروری تو نہیں۔ میں نے کائنات کا بیگ تیار کر دیا اور خود گھر سے چلی گئی کہ کہیں غصے سے میرے منہ سے کوئی بات غلط سلط نہ نکل جائے۔
شومئی قسمت ہمار ا ٹرانسفر لاہور ہو گیا۔ پسند کا گھر ملنے میں ایک ماہ لگا۔ اس عرصے میں بھابھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کائنات کو واپس لینا چاہتی ہے۔ میں اس کے پاؤں پڑ گئی کہ خدارا! مجھ پر ظلم نہ کرو۔ اس نے حقارت اور تکبر سے کہا کہ وہ میری شکل بھی دیکھنے کی روداد نہیں۔ بھائی پاس کھڑ ا تھا اُس سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ قدموں میں پڑی بہن کو ہی اُٹھا لیتا۔ روتے ہوئے بھائی سے التجا کی کہ خدا کے لیے بھائی تم ہی کچھ کرو۔ میر امیاں اب اپنے بہن بھائیوں میں آگیا ہے۔ وہ سب کہیں گے کہ ایک بچی کے لیے کیوں پریشان ہوتے ہو ؟ دوسری شادی کر لو۔ بھائی پھر میں کہاں جاؤں گی ؟ میرے تو ماں باپ بھی دنیا میں نہیں ہیں، مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس دن وہ لوگ چلے گئے۔ دس پندرہ دن بعد بھا بھی آئی اور بولی۔ میں کائنات کو کچھ دنوں کے لئے پشاور لے کر جارہی ہوں۔ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے پر بچے واپس چلے جائیں گے تو کائنات کو واپس چھوڑ جاؤں گی۔ میں نے اعتبار کر لیا اور وہ میری زندگی، میری کائنات کو لے کر چلی گئی۔ کافی دن بعد ہم نے خط لکھا کہ ہم کائنات کو لینے آرہے ہیں، تو بھا بھی نے فون کر کے کہا کہ خبر دار میری بچی کو کوئی لینے نہ آئے۔ میرے گھر کے بہت دروازے ہیں۔ جب بھی کوئی آئے گا، میں دوسرے دروازے سے کائنات کو لے کر نکل جاؤں گی۔ میرے بڑے بھائی نے، چھوٹے بھائی کو دو تین خطوط کائنات کے سلسلے میں لکھے ، جن کا کوئی خواست دیا گیا، جس کا سب کو دیکھ ہوا بعد میں بھائی کسی سے
کوئی جواب نہ دیا گیا، جس کا سب کو دکھ ہوا۔ بعد میں بھائی نے کسی سے کہا کہ در حقیقت میری بیوی بچوں نے کائنات کو باجی کو گود دینے کے فیصلے کو دل سے قبول ہی نہیں کیا تھا۔ اس تمام قصے میں صرف میں قصور وار ہوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ماں کی ممتا اور بچوں کی محبت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس لیے اب ہمارے لئے ممکن ہی نہیں رہا کہ کائنات کے بغیر رہ سکیں۔
میرے بھائی، کیا ہی اچھا ہو تا، جو تم اپنے فیصلے پر قائم رہتے۔ دوبارہ کائنات کو میری گود میں ڈال کر تم لوگوں نے کون سا انتظام مجھ سے لیا ہے ؟ دونوں میاں بیوی نے ہمیں کیوں یقین دلایا کہ کسی صورت میں کائنات کو واپس نہ لیں گے ۔ قاتل کے لئے تو قانون ہے ، کاش اس طرح کا سہ کا کر مارنے والی کو بھی کوئی سزا ہوتی۔ میں کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ بھائی اپنی زبان پر قائم نہ رہے گا۔ میں آج تک آنسو بہار ہی ہوں، جو مرتے دم تک میرے ساتھ رہیں گے۔ کائنات کے کمرے میں اس کے کھلونے آج بھی ویسے کے ویسے پڑے ہیں۔ میں مہر روز انہیں صاف کرتی ہوں۔ خدا کے حضور دعا کرتی ہوں کہ اللہ پاک! آئندہ میری آنکھ میں آنسو صرف تیری یاد میں آئیں۔ مجھے اس تمنا سے آزاد کر دے کہ پرائی اولاد کو گود لینا مشکل ہے
بھابھی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ چھوٹے بیٹے کے دس سال بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا، تو انہوں نے وہ بیٹی مجھے دے دی، میں نہال ہو گئی اور بچی کا نام کا ئنات رکھا۔ ایک بات بتاتی چلوں کہ میرے میاں شروع سے ہی کسی کا بچہ لینے کے حق میں نہیں تھے ، مگر نہ جانے کیسے راضی ہو گئے۔ میں نے اپنی اتنی بڑی خوشی منانے کے لئے لاہور سے اپنے بہن بھائیوں اور اپنے میاں کے گھر والوں کو مدعو کیا اور اسی روز کائنات کا عقیقہ بھی رکھ دیا۔ ہم نے گھر کو ہر طرح سے آراستہ کیا۔ دو پہر سے شام ، شام سے رات اُتر آئی تب کہیں جاکے صرف میر ابھائی، بھا بھی اور ان کے بھائی آئے۔ ہم نے جب ان پر پھول پتیاں نچھاور کیں، تو میری بھا بھی ان سے بیچ کر پیچھے ہو گئی۔ ہم سب کا دل جہاں خوش تھا، وہاں افسردہ بھی تھا۔ ایک ماں کی گود خالی کر کے دوسری کی بھری جارہی تھی۔ میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے۔ ماحول میں ملی جلی کیفیت تھی۔ بھا بھی۔ ۔ بھابھی نے جب کائنات کو میری گود میں دیا، تو میں نے روتے ہوئے ان سے کہا۔ خدا کے بعد تم ہو ، جو میری خالی جھولی بھر رہی ہو۔ فنکشن کے بعد واپس جاتے ہوئے وہ کائنات کو یہ کہہ کر ساتھ لے گئے کہ بڑی بیٹی کے انٹری ٹیسٹ کے بعد بچی دے جائیں گے ، ورنہ وہ اچھی طرح پرچے نہ دے سکے گی۔ ہم سب کو بڑا قلق ہوا، لیکن مصلحت کے تحت خاموش رہے۔ خدا جانے ان کے دلوں میں کیا تھا۔ جب میں نے ان کے ڈرائیور سے کہا کہ کائنات اب میری بیٹی ہے ، تو بھا بھی نے بہت بڑے لہجے میں کہا کہ باجی بڑی بیوقوف ہے۔
صبح جب محلے میں مٹھائی اور گوشت تقسیم کیا جارہا تھا، تو میرے بھائی نے فون پر اطلاع دی کہ ہم نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ اب ہم کائنات کو نہیں دے رہے۔ یہ الفاظ نہیں نشتر تھے ، جو میرے دل پر لگے۔ میں کیا سب مہمان ہکا بکا رہ گئے۔ میرے اندر ممتا کا وہ جذبہ جو ہیں سال سے کہیں چھپا ہو ا تھا، جوالا مکھی بن کے آنکھوں کے راستے بہنے لگا۔ جو محلے دار مبارک دینے آرہے، یہ خبر سن کر شدید حیران تھے، وہاں بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے تھے۔ خدا کسی پر ایسا وقت نہ لائے۔
میری بڑی باجی اور دو بھائی اسی وقت بھائی بھائی سے یہ پوچھنے کے لئے کہ تم لوگوں نے اپنا ارادہ کیوں بدلا ؟ روانہ ہو گئے۔ چھوٹے بھائی کا ایک ہی جواب تھا کہ میں مجبور ہوں۔ میر ابھائی جس کی بیٹی ہم گود لے رہے تھے ، اس کا رویہ بہت عجیب تھا۔ باجی اور بڑے بھائی سے بجائے اس کے کہ شرمندہ ہو تا، ایسا ناروا سلوک کیا کہ وہ لوگ رات کے بارہ بجے ہی واپسی کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ بھائی نے بھائی کو کونہ نہ روکا اور نہ ہی خیال کیا کہ بہن کا ساتھ ہے۔ اتنی رات گئے کہاں جائیں گے ؟ وہ تو بھلا ہو ، پیٹرول پمپ والے کا، اس نے سختی سے نعمان کو سفر کرنے سے منع کر دیا۔ سو ، بھائی کے اتنے بڑے گھر کے ہوتے ہوئے بھی وہ ہوٹل میں ٹھہرے۔ افسوس اور شرمندگی کے علاوہ اس گندے سے ہوٹل کی وجہ سے ساری رات کرسیوں پر جاگتے گزاردی۔
اب میرا کام شب و روز دعامانگنا اور آنسو بہانا تھا۔ اللہ پاک خیر ، خیریت سے ہم دونوں بہن بھائیوں کو ملادے۔ آخر خدانے میری سن لی اور پورے چار ماہ بعد بھائی بھائی میری زندگی مجھے لوٹانے آگئے۔ میں نے بھائی سے کہا کہ نہ تو تمہاری بیٹی اور نہ ہی میں مذاق ہوں۔ اب جو بھی فیصلہ کرو، سوچ سمجھ کر کرنا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچ لیا، پھر وہ بہت پژمردہ اور افسردہ سے واپس گئے۔
ڈھائی لونے تین سال ہمارے تعلقات میں کافی اتار چڑھاؤ رہا۔ بجائے
اس کے کہ دونوں گھرانے مزید قریب آتے اور محبت اور اخوت کا جذبہ پروان چڑھتا، تعلقات اکثر کشیدہ ہی رہے اور بھابھی نے میری زندگی اجیرن کر دی۔ ہر وقت ٹھنڈی آہیں بھرنا، جلی کٹی سنانا اس کا شیوہ بن گیا۔ اس نے مجھے یہ احساس ہی نہ ہونے دیا کہ کائنات میری بیٹی ہے۔ اس کے لئے میرے ہر عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ بچی کے بال کیوں کٹوائے ؟ یہ کپڑے کیوں پہنائے ہیں ؟ لاہور کیوں جارہی ہو ؟ عید ہمارے پاس آکر کرنی ہے۔ میری زندگی کاریموٹ بھا بھی کے ہاتھ میں تھا جب کہ ہماری زندگی کا محور صرف اور صرف ہماری بیٹی تھی، لیکن اس کے متعلق ہر فیصلے کا اختیار ان لوگوں نے اپنے پاس رکھا۔ اس کے علاوہ عید ، بقر عید اور کسی بھی اہم موقع پر کائنات کو ہمیشہ اپنے پاس رکھا۔ میں تمام وقت منتظر رہتی کہ کب کا ئنات آکر ہماری خوشیوں میں شامل ہو۔
اگر ہم بچی کو لینے چلے جاتے ، تو ان کے بچوں کا رویہ سخت ناگواری لیے ہوتا۔ ان کا بس نہ چلتا کہ ہمارے منہ پر تھپڑ مار دیں۔ اتنی تحقیر و ذلت صرف اور صرف اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر سہتی۔ ایک بات بتاتی چلوں کہ کائنات بڑی حساس اور پیاری بچی تھی۔ وہ جب بھی واپس آتی، اس کی آنکھیں روئی ہوئی ہو تیں۔ وہ کہتی۔ میں نے ماما کے پاس جانا ہے۔ میں نے اپنے گھر جانا ہے ، ان لمحات کی اذیت میں بیان نہیں کر سکتی۔ بھا بھی کو شکایت تھی کہ میں کائنات کو بخوشی نہیں بھیجتی، میر ارویہ ٹھیک نہیں ہو تا ، جب کہ وہ ہر ماہ تین چار دن بچی کو اپنے پاس تے اور وعدے کے مطابق بھی واپس نہ بھیجتے۔ ان کے رویئے نے رکھتے کبھی مجھے اس وہم میں مبتلا رکھا تھا کہ وہ کسی وقت ہمیں بچی سے جدانہ کر دیں۔
اس بات کا میں نے اپنے بڑوں پر اظہار بھی کیا، تو جواب میں بھائی بھابھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ باجی کو یقین دلا دیں، ہم کبھی کائنات کو واپس نہیں لیں گے ، مگر میں مطمئن نہ تھی۔ کائنات سے ایک پل کی جدائی برداشت نہ کر سکتی تھی۔ وہ جتنے دن ان لوگوں کے پاس رہتی، میر ارورو کر برا حال ہو جاتا۔ بھائی بھا بھی اور بچے جو پہلے خوشی خوشی میرے ہاں آکر رہتے تھے ، اب میرے گھر میں ٹھہرنا انہیں گراں گزرتا۔ ان کی یہی کوشش ہوتی کہ جلد از جلد بچی کو ہم سے دور لے جائیں۔ اگر مجبور آرکنا پڑتا تو اُسے دوسرے کمرے میں لے جاتے۔ ایک دو دفعہ ایسا ہوا کہ پڑوس میں کوئی فنگشن تھا، تو بھا بھی کائنات کو لینے آگئی۔ میں نے کہا بھی کہ آج نہیں پھر لے جائے گا، تو انہوں نے بڑے روکھے لہجے اور تکبر سے کہا کہ تمہاری دوستوں کے ہاں کا ئنات کی شمولیت کوئی ضروری تو نہیں۔ میں نے کائنات کا بیگ تیار کر دیا اور خود گھر سے چلی گئی کہ کہیں غصے سے میرے منہ سے کوئی بات غلط سلط نہ نکل جائے۔
شومئی قسمت ہمار ا ٹرانسفر لاہور ہو گیا۔ پسند کا گھر ملنے میں ایک ماہ لگا۔ اس عرصے میں بھابھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ کائنات کو واپس لینا چاہتی ہے۔ میں اس کے پاؤں پڑ گئی کہ خدارا! مجھ پر ظلم نہ کرو۔ اس نے حقارت اور تکبر سے کہا کہ وہ میری شکل بھی دیکھنے کی روداد نہیں۔ بھائی پاس کھڑ ا تھا اُس سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ قدموں میں پڑی بہن کو ہی اُٹھا لیتا۔ روتے ہوئے بھائی سے التجا کی کہ خدا کے لیے بھائی تم ہی کچھ کرو۔ میر امیاں اب اپنے بہن بھائیوں میں آگیا ہے۔ وہ سب کہیں گے کہ ایک بچی کے لیے کیوں پریشان ہوتے ہو ؟ دوسری شادی کر لو۔ بھائی پھر میں کہاں جاؤں گی ؟ میرے تو ماں باپ بھی دنیا میں نہیں ہیں، مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس دن وہ لوگ چلے گئے۔ دس پندرہ دن بعد بھا بھی آئی اور بولی۔ میں کائنات کو کچھ دنوں کے لئے پشاور لے کر جارہی ہوں۔ گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہونے پر بچے واپس چلے جائیں گے تو کائنات کو واپس چھوڑ جاؤں گی۔ میں نے اعتبار کر لیا اور وہ میری زندگی، میری کائنات کو لے کر چلی گئی۔ کافی دن بعد ہم نے خط لکھا کہ ہم کائنات کو لینے آرہے ہیں، تو بھا بھی نے فون کر کے کہا کہ خبر دار میری بچی کو کوئی لینے نہ آئے۔ میرے گھر کے بہت دروازے ہیں۔ جب بھی کوئی آئے گا، میں دوسرے دروازے سے کائنات کو لے کر نکل جاؤں گی۔ میرے بڑے بھائی نے، چھوٹے بھائی کو دو تین خطوط کائنات کے سلسلے میں لکھے ، جن کا کوئی خواست دیا گیا، جس کا سب کو دیکھ ہوا بعد میں بھائی کسی سے
کوئی جواب نہ دیا گیا، جس کا سب کو دکھ ہوا۔ بعد میں بھائی نے کسی سے کہا کہ در حقیقت میری بیوی بچوں نے کائنات کو باجی کو گود دینے کے فیصلے کو دل سے قبول ہی نہیں کیا تھا۔ اس تمام قصے میں صرف میں قصور وار ہوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ماں کی ممتا اور بچوں کی محبت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس لیے اب ہمارے لئے ممکن ہی نہیں رہا کہ کائنات کے بغیر رہ سکیں۔
میرے بھائی، کیا ہی اچھا ہو تا، جو تم اپنے فیصلے پر قائم رہتے۔ دوبارہ کائنات کو میری گود میں ڈال کر تم لوگوں نے کون سا انتظام مجھ سے لیا ہے ؟ دونوں میاں بیوی نے ہمیں کیوں یقین دلایا کہ کسی صورت میں کائنات کو واپس نہ لیں گے ۔ قاتل کے لئے تو قانون ہے ، کاش اس طرح کا سہ کا کر مارنے والی کو بھی کوئی سزا ہوتی۔ میں کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ بھائی اپنی زبان پر قائم نہ رہے گا۔ میں آج تک آنسو بہار ہی ہوں، جو مرتے دم تک میرے ساتھ رہیں گے۔ کائنات کے کمرے میں اس کے کھلونے آج بھی ویسے کے ویسے پڑے ہیں۔ میں مہر روز انہیں صاف کرتی ہوں۔ خدا کے حضور دعا کرتی ہوں کہ اللہ پاک! آئندہ میری آنکھ میں آنسو صرف تیری یاد میں آئیں۔ مجھے اس تمنا سے آزاد کر دے کہ پرائی اولاد کو گود لینا مشکل ہے
(ختم شد)

