جان کی قربانی

Jaan Ki Qurbani

ہمارا گاؤں بہت چھاؤں بھرا تھا۔ ٹھنڈے پانی کی ندی گھر کے پاس سے بہتی تھی۔ گھنے درختوں کا سایہ پگڈنڈی کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور ہر سو محبت کی برکھا برستی تھی۔

یہ اگست کا پہلا ہفتہ تھا اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے کہ اچانک گاؤں میں فسادات پھوٹ پڑے۔ جس دن ہم نے گھر چھوڑا، دوپہر کا وقت تھا۔ میں نے آٹے کا پیڑا بنا کر تھالی میں رکھا ہی تھا اور مٹی کی ہانڈی میں گرم گرم دال اتار کر لہسن کا بگھار لگایا تھا، جس کی خوشبو سارے گھر میں مہک رہی تھی۔ آج تک اس بات کا ملال ہے کہ ہمیں وہ دوپہر کا کھانا نصیب نہ ہو سکا۔ بھرے پورے گھر سے ہم بھوکے پیٹ نکلے۔ مجھے زندگی میں اس کے بعد ہزار بار کھانا نصیب ہوا، مگر جو لذت اس ادھورے کھانے میں رہ گئی تھی، اس کے لیے آج بھی روح تشنہ ہے۔ اماں جب بھی یہ تذکرہ چھیڑتی ہیں، تو رو پڑتی ہیں۔ میں ان دنوں صرف چار برس کی تھی جب ہم آگ اور خون کا سمندر پار کر کے ٹرین تک پہنچے تھے۔ قریب ہی کچھ گورے سپاہی تعینات تھے اور کچھ کرپانوں والے بھی گھوم رہے تھے۔ آدھی ٹرین راستے میں ہی کٹ گئی تھی، تب جا کر ہم لاہور پہنچے۔ پاکستان میں ابا کے دوست حامد صاحب رہتے تھے، جو کراچی میں اسٹیشن ماسٹر تھے۔ وہ ہمیں کراچی لے جانے کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے، لیکن ابو جانے کو تیار نہ تھے کیونکہ بڑی آپا قافلے کے دوران ہم سے بچھڑ گئی تھیں۔ ان دنوں ان کی عمر چودہ برس تھی۔ ابو چاہتے تھے کہ پہلے انہیں کیمپوں میں تلاش کر لیا جائے، پھر روانہ ہوں۔ حامد صاحب کہنے لگے: “میاں! میں نے تمہارے لیے ایک فلیٹ روک رکھا ہے، اگر تم ابھی نہیں چلو گے تو بعد میں رہائش کا مسئلہ ہو گا۔” ان کے اصرار پر ابا نے حامد صاحب کے ساتھ امی، مجھے اور دو چھوٹے بہن بھائیوں کو کراچی روانہ کر دیا اور خود آپا کی تلاش میں لاہور ہی ٹھہر گئے۔

مجھے فریئر روڈ والا گھر بہت اچھا لگتا تھا، جس کی بالکونی سے میں سڑک کا نظارہ کیا کرتی تھی۔ جب پاکستان قائم ہوا تو چاروں طرف خوشیوں کے ترانے گونجنے لگے۔ ہر چھوٹے بڑے کے ہاتھ میں کاغذ کی چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں ہوتی تھیں جن پر چاند تارا بنا ہوتا تھا۔ ایسی ہی ایک جھنڈی میرے ہاتھ میں بھی ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ مہاجرین کی آباد کاری اور فسادات کے مسائل نے گھمبیر صورت اختیار کر رکھی تھی، پھر بھی مسلمانوں کے حوصلے بلند تھے۔ گھر کے قریب ہی ایک اسکول تھا، یہ اسکول ‘جنگ’ اخبار کی پرانی عمارت سے دو چار قدم آگے کونے پر واقع تھا۔ جس بلڈنگ میں یہ اسکول تھا، اس کی ہر بالکونی کے نیچے رنگین مورتیاں بنی ہوئی تھیں اور سامنے بندر روڈ پر ٹرامیں چلا کرتی تھیں۔ مجھے اسی مدرسے میں ابا نے داخل کروا دیا تھا اور ہم بہنیں پیدل ہی فریئر روڈ سے اسکول جایا کرتی تھیں۔ ان دنوں سڑکوں پر ٹریفک کا ازدحام نہیں ہوتا تھا اور کراچی شہر بہت صاف ستھرا تھا۔ فٹ پاتھوں اور سڑکوں کو دھونے کے لیے باقاعدہ بلدیہ کی گاڑیاں آتی تھیں۔

ان دنوں میں پانچ برس کی ہو چکی تھی۔ ایک صبح جب میں اسکول پہنچی تو وہاں غیر معمولی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ لڑکیوں نے بتایا کہ قائد اعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح تشریف لا رہی ہیں اور ان کے ساتھ دیگر بیگمات بھی ہوں گی۔ یہ وہ معزز خواتین تھیں جنہوں نے تحریکِ پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، جن کے نام اب مجھے یاد نہیں۔ بعد ازاں، قیامِ پاکستان کی خوشی میں اسکول کی طرف سے پہلی تقریب آرام باغ گراؤنڈ میں منعقد ہوئی۔ اتنی زیادہ طالبات میں سے صرف دو لڑکیوں کو ہی قومی ترانے کے لیے چنا گیا۔ ہم بچیوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی خدمت میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ میرے ہاتھ میں پاکستان کا پرچم تھا، جسے میں نے اپنے قد سے بھی اونچا اٹھا رکھا تھا۔ تبھی میرے ننھے سے دل میں یہ احساس جاگا کہ چاند تارے والا ہمارا یہ پرچم انتہائی عظمت اور احترام کا حامل ہے۔ اس دن مہمانِ خصوصی مادرِ ملت نے اسکول کی بچیوں اور معزز مہمانوں سے خطاب کیا تھا۔ ان کا ایک جملہ مجھے آج بھی یاد ہے، انہوں نے فرمایا تھا: “دیانتداری سے کام کرو گے تو عزت اور مرتبہ پاؤ گے۔ اس ملک کی باگ ڈور مستقبل میں تم بچوں نے ہی سنبھالنی ہے۔” ان کے یہ الفاظ میرے ذہن پر نقش ہو گئے تھے۔

والد صاحب نے آپا کو بہت تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکیں۔ شاید وہ سکھوں کا لقمہ اجل بن چکی تھیں یا پھر کسی خاندان نے انہیں اپنا لیا تھا۔ والد صاحب انتہائی افسردہ حالت میں لوٹ آئے اور ہم سب کے لیے یہ صدمہ جانکاہ تھا۔ اماں مصلے پر بیٹھ کر جہاں آپا کی سلامتی کی دعائیں مانگتی تھیں، وہیں ابا آپا کی موت کی خبر آنے کی دعا کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ آپا کا پتہ چل جائے یا ان کی موت کی تصدیق ہو جائے، تب ہی انہیں دلی سکون مل پائے گا۔ کراچی آمد پر ہمیں مکان تو الاٹ ہو گیا لیکن روزگار کا کوئی سلسلہ ابھی قائم نہ ہو سکا تھا۔ ابو نے حامد انکل سے کہا: “مجھے اپنے کنبے کی پرورش کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔” حامد انکل نے تگ و دو کر کے ابو کو پنجاب میں، اپنے رقبے کے قریب ہی کچھ زرعی زمین الاٹ کروا دی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے ہمیں گاؤں میں رہنا پڑنا تھا، حالانکہ وہ زمین کافی زرخیز اور اچھی تھی۔ حامد انکل نے ابا کو مشورہ دیا کہ شہر میں فی الحال روزگار کا حصول ذرا مشکل ہو گا، اس لیے بہتر ہے کہ آپ گاؤں آ کر زمین سنبھال لیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ ہر ممکن مدد کریں گے اور انشاء اللہ ایک دو سال میں ہی خوشحالی آ جائے گی کیونکہ زمین بہت عمدہ ہے۔ ابو نے سوچا کہ شہر میں اکیلے جدوجہد کرنے سے بہتر ہے کہ مخلص دوست کے سائے میں رہا جائے جو ہر قدم پر ساتھ دینے کو تیار تھا۔

جب میں نے پانچویں جماعت پاس کر لی تو والد صاحب نے دوبارہ شہر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ کراچی والا مکان پہلے ہی فروخت کر چکے تھے۔ چونکہ گاؤں میں لڑکیوں کا اسکول صرف پرائمری تک تھا، اس لیے ابا نے اپنی زرعی زمین بیچ دی اور شہر جا کر دوبارہ ایک مکان خرید لیا۔ باقی بچ جانے والی رقم سے انہوں نے کاروبار شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے شہر کے ایک گرلز ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔ ابو کو سلیم بھائی کے مستقبل کی سب سے زیادہ فکر تھی؛ وہ بیٹوں میں سب سے بڑے تھے اور بڑی منتوں مرادوں کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ میرا یہ بھائی والدین کے بڑھاپے کا سہارا اور ان کی جوانی کے خوابوں کی تعبیر تھا۔ والد صاحب اسے اعلیٰ تعلیم دلوا کر ایک بڑا افسر بنانا چاہتے تھے۔ لیکن اللہ کی مرضی کچھ اور ہی تھی؛ جن دنوں میں ساتویں جماعت میں تھی، والد صاحب رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے اور گھر کا سارا بوجھ والدہ کے ناتواں کندھوں پر آن پڑا۔ وہ پڑھی لکھی نہیں تھیں، والد صاحب کی چھوڑی ہوئی جمع پونجی اور بینک ڈپازٹ سے چار پانچ سال تو گزر گئے، لیکن اس کے بعد گھر کی گاڑی کھینچنے کی ذمہ داری مجھ پر آ گئی۔ ان دنوں میں میٹرک پاس کر چکی تھی۔ میں والد مرحوم کی حسرت کے مطابق اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی، مگر گھر کی کشتی پار لگانے والا میرے سوا کوئی نہ تھا، چنانچہ میں نے کالج کے ساتھ ساتھ ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ان دنوں شدید مالی تنگی کی وجہ سے ہمارے گھر کا بجلی کا کنکشن بھی کاٹ دیا گیا تھا اور سرِشام ہی گھر گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتا تھا۔ میں صبح کالج جاتی اور وہاں سے فارغ ہو کر آس پاس کے گھروں میں بچوں کو پڑھانے چلی جاتی۔ صبح سات بجے چائے کا ایک کپ پی کر گھر سے نکلتی تھی اور رات آٹھ بجے بھوکی پیاسی واپس لوٹتی۔ ان دنوں ایک بچے کو گھر جا کر پڑھانے کا معاوضہ بیس یا تیس روپے سے زیادہ نہیں ہوتا تھا، جس کے لیے مہینے کے تیس دن پابندی سے جانا پڑتا تھا۔ تاہم، ان دنوں لوگ اساتذہ کی قدر کرتے تھے اور گھر آ کر پڑھانے والی استانی کو بے حد عزت دی جاتی تھی۔ ان ٹیوشنز سے مجھے ڈیڑھ دو سو روپے کی آمدنی ہو جاتی تھی، جسے میں ہر ماہ باقاعدگی سے اماں کی ہتھیلی پر رکھ دیتی تھی۔

وقت کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، آخر گزر ہی جاتا ہے۔ روکھی سوکھی کھا کر اور کبھی کبھار فاقے کاٹ کر ہم نے وہ مشکل وقت بھی گزار دیا۔ ماں ایک انتہائی خوددار اور غیرت مند خاتون تھیں۔ بیوگی کے کڑے ایام میں انہوں نے سخت محنت مشقت کی لیکن کبھی کسی رشتہ دار کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ یہاں تک کہ میں نے بی اے اور بی ایڈ مکمل کر لیا، جس کے بعد مجھے ایک اسکول میں بحیثیتِ معلمہ ملازمت مل گئی۔ سلیم شروع ہی سے بہت حساس طبعیت کا مالک تھا اور اسے گھر کی غربت کا شدت سے احساس رہتا تھا۔ ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ترستے تھے اور اسی کسمپرسی کی وجہ سے ہم نے بڑا شہر چھوڑ کر ایک چھوٹے شہر کا رخ کیا تھا۔ بہر حال، میری نوکری لگنے سے گھر کا دال دلیا ذرا آسانی سے چلنے لگا۔

ہماری تمام تر امیدیں سلیم پر لگی ہوئی تھیں۔ ان دنوں وہ میٹرک میں تھا؛ ہمارا چھوٹا بھائی خالد ذرا لاابالی قسم کا تھا، لیکن میرا بھائی سلیم بے حد ہونہار اور لائق طالب علم تھا۔ اس کے نظریات اور آدرش بہت اونچے تھے، وہ معاشرے میں ایک معزز مقام حاصل کرنا چاہتا تھا اور یہ اس کا حق بھی تھا کیونکہ وہ دیانتداری اور سخت محنت پر کامل یقین رکھتا تھا۔ ماں ہمیشہ کہتی تھیں کہ خدا کبھی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ سلیم شروع ہی سے ذہین تھا اور ہمیشہ جماعت میں اول آتا تھا۔ میٹرک کے بعد اب وہ ایف ایس سی (F.Sc) میں جی توڑ محنت کر رہا تھا۔ اسے اپنی پڑھائی کے سوا کسی دوسری چیز سے کوئی غرض نہ تھی۔ جب امتحانات سر پر آئے تو میں دن رات دعائیں مانگتی تھی کہ یا اللہ، میرے بھائی کی محنت کا پھل ضرور دینا۔ اسے اپنی محنت پر پورا بھروسہ اور پختہ یقین تھا کہ وہ بورڈ میں کوئی پوزیشن ضرور حاصل کرے گا۔ مگر افسوس کہ امتحانات کے دوران ہی اس کے اعصاب جواب دے گئے۔ وہ جب بھی پرچہ دے کر گھر لوٹتا تو شدید پریشان ہوتا اور کہتا: “امی! جو لڑکے نالائق ہیں اور بالکل پڑھ کر نہیں آتے، امتحانی مرکز میں اساتذہ خود ان کی مدد کرتے ہیں، اور اگر میں اپنی کرسی پر ذرا سا ہل بھی جاؤں تو مجھے فوراً ٹوک دیا جاتا ہے۔ جن لڑکوں نے سفارش اور رشوت کا سہارا لیا ہے، انہیں باقاعدہ نقل کروائی جا رہی ہے۔ یہ سب ناانصافی ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے اور ہم بے بس تماشائی بنے ہوئے ہیں۔”

ماں سلیم کو تسلی دیتیں: “بیٹا! تم دل چھوٹا نہ کرو، اپنا کام ایمانداری سے کرتے رہو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔” لیکن سلیم کا اضطراب کم نہ ہوتا تھا۔ وہ روزانہ گھر آ کر مایوسی سے کہتا: “دیکھ لینا ماں! ہمیں کبھی انصاف نہیں ملے گا کیونکہ محکمہ تعلیم میں بھی رشوت کا بازار گرم ہے۔ جو لڑکے پروفیسروں سے اکیڈمیوں میں پڑھتے ہیں، انہیں پہلے ہی پرچے مل جاتے ہیں۔ امیر والدین اثر و رسوخ استعمال کر کے نمبر لگوا لیتے ہیں اور ہماری دن رات کی محنت یوں ہی اکارت چلی جائے گی۔” میں اسے سمجھاتی: “بھائی! تم خواہ مخواہ اتنے فکر مند ہو رہے ہو، پہلے نتیجہ تو آنے دو، ابھی سے ایسی دل شکن باتیں کیوں کرتے ہو؟”

سلیم کے پرچے بہت اچھے ہوئے تھے اور وہ مطمئن تھا، لیکن ایک انجانا خوف مجھے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا کہ کہیں اس کے ساتھ ناانصافی نہ ہو جائے۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائے گا۔ جس دن نتیجہ آنا تھا، امی اور میں سجدے میں گرے مسلسل دعائیں مانگتی رہیں کہ یا اللہ! سلیم کو اس کی محنت کا پھل مل جائے۔ جب رزلٹ آیا، تو وہ بڑے ارمانوں اور امیدوں کے ساتھ اپنے نمبر معلوم کرنے گیا۔ لیکن جب اسے نمبروں کا پتہ چلا تو اس کی حالت غیر ہو گئی۔ اس کے آٹھ سو نمبر آئے تھے جبکہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کم از کم ساڑھے آٹھ سو نمبر درکار تھے۔ کامیابی کے حصول کے لیے ایک انسان جتنی محنت کر سکتا تھا، میرے بھائی نے اس سے بڑھ کر کی تھی۔ سلیم کو اس ناانصافی کا ایسا گہرا صدمہ پہنچا کہ وہ بسترِ علالت پر پڑ گیا۔ وہ بار بار یہی دہراتا کہ میرے پرچوں میں گڑبڑ کی گئی ہے۔ جن لڑکوں کی پوزیشن آئی ہے وہ پڑھائی میں مجھ سے کہیں پیچھے تھے، پھر یہ سب کیسے ہو گیا؟ اس نے کھانا پینا اور بولنا بالکل بند کر دیا اور خاموشی کا روزہ رکھ لیا۔ میں اس کے اندرونی کرب کو بخوبی سمجھتی تھی؛ میں جانتی تھی کہ جب کسی حقدار کا حق چھن جائے تو روح پر کیا گزرتی ہے۔ وہ اس حد تک مایوس اور دل شکستہ ہو چکا تھا کہ مجھے خوف ستانے لگا کہ کہیں وہ اپنا دماغی توازن نہ کھو بیٹھے۔

خالد ان دنوں میٹرک میں تھا۔ سلیم کی یہ حالت دیکھ کر اس کا دل بھی پڑھائی سے بالکل اچاٹ ہو گیا۔ اس نے پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا اور آوارہ لڑکوں کی صحبت میں وقت برباد کرنے لگا۔ جب کبھی ماں اسے سمجھاتیں: “بیٹا! پڑھو لکھو، محنت کرو،” تو وہ آگے سے تلخ جواب دیتا: “امی! محنت کرنے کا کیا فائدہ؟ مل گیا سلیم بھائی کو ان کی محنت کا صلہ؟ یہ سب پڑھائی لکھائی فضول ہے، میں اب اس چکر میں نہیں پڑنے والا۔ میں تو بس اندھا دھند دولت کماؤں گا اور اسی پیسے کے بل بوتے پر بڑا آدمی بن کر دکھاؤں گا۔” ماں حیرت سے کہتیں: “لیکن تم تو کہتے تھے کہ میں ڈاکٹر بن کر غریبوں کا مفت علاج کروں گا؟” وہ طنزیہ ہنس کر کہتا: “مجھے کوئی ڈاکٹر واکٹر نہیں بننا۔ اب جو ملک میں چند قابل اور ایماندار ڈاکٹر نظر آ رہے ہیں، یہ آخری کھیپ ہے۔ اس کے بعد جانتے ہیں کیا ہو گا؟ اس کے بعد صرف ‘قاتل ڈاکٹر’ پیدا ہوں گے۔ جو لوگ پیسے دے کر اور غلط ذرائع سے نمبر بڑھوا کر میرٹ پر آئیں گے، وہ آگے چل کر کیا کریں گے؟ جنہیں محنت کی عادت ہی نہیں ہو گی، وہ مریضوں کی جانیں ہی لیں گے نا! اور میں ایسا گناہ نہیں کرنا چاہتا۔”

خالد ایسی دل جلا دینے والی باتیں کرتا تھا جیسے شرافت اور دیانتداری پر سے اس کا بھروسہ ہی اٹھ گیا ہو۔ اگرچہ یہ سچ تھا کہ ہر کوئی غلط طریقے سے میرٹ پر نہیں آتا تھا، کچھ لوگ سخت محنت سے بھی مقام حاصل کرتے تھے، مگر وہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ وہ کہتا: “دنیا میں کوئی دیانت داری نہیں بچی، ہر جگہ گڑبڑ اور گھپلے ہیں، اب میں بھی یہی کھیل کھیلوں گا۔” اس کی سوچیں بالکل بدل چکی تھیں؛ جب نئی نسل کا نظام پر سے اعتماد اٹھ جائے اور ان کے یقین کو ٹھیس پہنچے، تو انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ خدا جانے وہ کن برے لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ وہ ہفتوں گھر سے غائب رہنے لگا اور جب کبھی رات گئے لوٹتا تو چوروں کی طرح دبے قدموں داخل ہوتا۔ اس کی پرسرار سرگرمیاں روز بروز بڑھتی جا رہی تھیں۔ امی راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے ہوئے اس کے راہِ راست پر آنے کی دعائیں مانگتیں، لیکن وہ کسی خطرناک اور شرپسند گروہ کا آلہ کار بن چکا تھا۔ دولت کی ہوس نے اس کی انسانیت کو مسخ کر دیا تھا؛ وہ محض پیسے کی خاطر معصوم جانوں سے کھیلنے اور ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے لگا تھا۔ آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ایک دن خبر آئی کہ خالد مارا گیا ہے؛ وہ اپنے ہی ہم وطنوں کے پرخچے اڑانے گیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوتا، بم دھماکے کی زد میں آ کر خود اس کے پرخچے اڑ گئے۔ 
 
میرا پیارا بھائی، جس کا ایمان ناپختہ تھا، کتنی آسانی سے تخریب کاروں کا ایندھن بن گیا۔ کاش! اس کی جان معصوموں کا خون بہانے کے بجائے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہوتی، تو ہمیں اس کی موت پر پچھتاوا نہ ہوتا۔ لیکن سونے کو مٹی میں بھی پھینک دیا جائے تو وہ سونا ہی رہتا ہے۔ کچھ عرصے تک سلیم پر شدید اداسی طاری رہی، مگر خالد کی دردناک موت نے اس کے سوئے ہوئے اعصاب کو جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔ ایمان کی پختگی نے بالآخر اسے مایوسی کے گہرے اندھیروں سے نکال باہر کیا۔ وہ ہمیشہ سے اونچی اڑان کا شوقین تھا اور اب اسے پرواز کے لیے ایک وسیع آسمان مل گیا تھا۔ ایک دن اخبار میں اشتہار دیکھ کر اس نے پاک فضائیہ (ایئر فورس) میں انجینئرنگ کے لیے ٹیسٹ اور انٹرویو دیا، جہاں وہ منتخب ہو گیا۔ یہاں سفارش اور رشوت کے بجائے صرف اور صرف قابلیت کو پرکھا گیا اور میرا بھائی اپنی اہلیت کے بل بوتے پر کامیاب ہو کر تربیت کے لیے رسالپور چلا گیا۔ وہ بے حد خوش تھا کہ آخر کار اس کی محنت کا پھل مل گیا تھا اور اس کی دیانتداری کو صحیح جگہ مل گئی تھی۔ اس طرح اس کا انجینئر بننے کا خواب بھی پورا ہو گیا۔ میرا بھائی، جو ہماری تمام امیدوں کا مرکز تھا، فوج کا ایک معزز اعلیٰ افسر بن گیا۔ وہ وطن کا پاسبان اور قوم کا فخر ہے۔ آج کتنے ہی لوگ اسے سلیوٹ کرتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔ اس نے ہمارے والدین کی قربانیوں کی لاج رکھ لی، جبکہ خالد کی تربیت یا شخصیت میں نہ جانے کیا کمی رہ گئی تھی کہ وہ گمراہی کے راستے پر چل نکلا اور اندھی راہوں کا مسافر بن کر بے موت مارا گیا۔

یہ مجھ خوش نصیب، دخترِ پاکستان کی داستان ہے جو پچھتر سالہ طویل سفر پر محیط ہے۔ یہ سفر جو اگست 1947ء سے شروع ہوا تھا، ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ آج بھی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہماری سانسوں میں رمق باقی ہے اور جب تک وطنِ عزیز کی مٹی پر علم، انصاف، سچائی اور دیانتداری کا پرچم بلند نہیں ہو جاتا۔ زندہ قوموں کو ہمیشہ قائم و دائم رہنے کے لیے کڑے امتحانوں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں اور ہمارے بچے اس پاک مٹی پر نیکی، سچائی، دیانتداری اور حب الوطنی کا بیج بوئیں گے اور اقوامِ عالم میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کریں گے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ