میری زندگی ایک لڑکی نے تباہ کر دی۔ حالانکہ وہ کوئی غیر نہ تھی؛ میری خالہ زاد، میری سب سے بہترین دوست اور میری نند، جو میرے لیے بہنوں سے بڑھ کر تھی۔ وہ مجھے اس طرح تباہ کر دے گی کہ میں جیتے جی مر جاؤں گی، مجھے نہ اس بات کا اندازہ تھا اور نہ یقین۔ میں کبھی نہ مانتی اگر وہ خود اپنی زبان سے میرے سامنے اقرارِ جرم نہ کرتی، مگر اس اقرارِ جرم کا کیا فائدہ؟ سب کچھ اجڑ جانے کے بعد اس کے یہ چند جھوٹے الفاظ میری خوشیاں مجھے واپس نہیں لوٹا سکتے۔ میں تو آج بھی اس دن کو کوستی ہوں جب میں خالہ کے گھر گئی تھی۔ وہ دوسرے شہر میں رہتی تھیں۔ امی اور خالہ ایک دوسرے سے بہت پیار اور سلوک سے پیش آتی تھیں، شاید اسی لیے ہمیں بھی ایک دوسرے سے بہت انسیت تھی۔ مگر کہنے والوں نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ جہاں دلوں کے ربط گہرے ہو جائیں، وہاں جدائی شب خون ضرور مارتی ہے۔ وہ شاید اسی گھات میں رہتی ہے کہ کب دلوں کے تعلق مضبوط ہوں اور کب انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا جائے۔ شاید جدائی میں بہائے گئے خون کے آنسو اس کی غذا ہوتے ہیں، اس لیے یہ ہمیشہ پیار کرنے والوں کو الگ کرتی رہتی ہے۔
میں سمجھتی ہوں تقدیر بھی اس میں برابر کی شریک ہے، اور جدائی تو تقدیر کے حکم کی منتظر رہتی ہے۔ جب تقدیر اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے، تو یہ خون آشام بھیڑیے کی طرح دلوں میں تباہی مچانے کے لیے اتر آتی ہے۔ میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ اپنی بربادی کا دوش کسے دوں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد میں خالہ جان کے پاس کراچی چلی آئی۔
ہمارا خاندان اتنا لمبا چوڑا نہ تھا۔ ننھیال کے قریبی رشتہ داروں میں صرف خالہ ہی تھیں، ماموں وغیرہ کوئی نہ تھا۔ خالہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں اور میرے کزنز بھی بہت اچھے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ سے خوب لطف اٹھاتے؛ کھیلتے، ہنستے، گاتے اور اچھل کود کر ہر وقت گھر میں ایک ہنگامہ برپا کیے رکھتے۔ گھر میں ہر طرف رونق ہی رونق ہوتی تھی۔ سارا دن کھیل کود اور باتیں مجھے اچھی لگتی تھیں، اس لیے یہاں آ کر میں اپنے گھر کو جیسے بھول ہی گئی تھی۔ خالو اور خالہ بھی بہت اچھے تھے اور والدین کی کمی پوری کر دیتے تھے۔
میں یہاں آ کر بھول گئی کہ مجھے واپس گھر بھی جانا ہے۔ ایک دن ابو کا خط آیا، انہوں نے بتایا کہ میں میٹرک میں فرسٹ ڈویژن سے پاس ہو گئی ہوں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی میں کچھ دن اور یہاں رہ سکتی تھی، کیونکہ اگلے سال کے داخلے ذرا دیر سے شروع ہونے تھے۔ یہ سن کر سب کزنز خوش ہو گئے۔ سب نے یہ پروگرام بنایا کہ اس خوشی میں کہیں پکنک منانے کا انتظام کیا جائے۔ خالہ اور خالو نے بھی اجازت دے دی، مگر اب ایک مسئلہ درپیش تھا کہ کہاں اور کس طرح جایا جائے۔
گاڑی خالو کو خود کہیں لے جانی تھی کیونکہ وہ دفتر کے ایک ضروری کام سے دوسرے شہر جا رہے تھے، لہٰذا سارا پروگرام ملتوی ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ واجد میری خالہ کا سب سے بڑا بیٹا تھا اور وہ مجھ سے دو تین سال بڑا تھا۔ میں اسے واجد بھائی کہا کرتی تھی۔ وہ کہنے لگا کہ میں اپنے کسی دوست سے گاڑی مانگ کر لاتا ہوں، تبھی اس کا چھوٹا بھائی بولا: “آپ اصغر سے گاڑی مانگ کر کیوں نہیں لاتے؟” “ارے ہاں یار! آج کل اس کے والد بھی گھر پر نہیں ہیں، گاڑی یقیناً اصغر کے پاس ہو گی۔ میں ابھی پتہ کرتا ہوں۔” انہوں نے فون اٹھایا اور اصغر سے بات کی، جس پر اس نے گاڑی دینے کا وعدہ کر لیا۔
رات کافی دیر تک پروگرام بنتا رہا کہ ہم کہاں جائیں گے اور کیا کیا لے کر جائیں گے۔ ایک تو اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی خوشی تھی، دوسرے ان لوگوں نے اس لمحے کو یادگار بنا دیا تھا، اس لیے میں بھی بہت خوش تھی۔ اگر میں گھر پر ہوتی تو شاید یہ دن میرے لیے اتنا یادگار نہ ہوتا۔ ہم گھر میں افراد ہی کتنے تھے؛ امی، ابو، میں اور ایک چھوٹا بھائی۔ یہاں ہم لوگ رات گئے تک کیرم کھیلتے رہے اور ساتھ ساتھ پکنک کی تیاری بھی ہوتی رہی۔ آخر واجد کہنے لگا: “ہمیں سونا چاہیے، کل سفر بھی کرنا ہے ورنہ ہم انجوائے نہیں کر سکیں گے۔” پھر ہم لوگ سو گئے۔ مجھے مارے خوشی کے کافی دیر تک نیند نہیں آئی۔ امی ابو کا خیال بھی آتا رہا کہ اگر وہ بھی یہاں ہوتے تو اور زیادہ مزہ آتا۔ سوچتے سوچتے نہ جانے کون سے پہر نیند کی پری اپنے دیس لے گئی۔
صبح آسیہ نے اٹھا کر جگایا کہ “اٹھو نازیہ، بہت دیر ہو گئی ہے۔ سب لوگ تیار ہو چکے ہیں اور گاڑی بھی آ چکی ہے۔ اصغر کافی دیر پہلے گاڑی چھوڑ کر چلا گیا ہے۔” میں جلدی جلدی اٹھی اور تیار ہونے لگی۔ ڈرائنگ روم میں پہنچی تو آسیہ واجد سے پوچھ رہی تھی: “کیا اصغر ہمارے ساتھ نہیں جائے گا؟” واجد بولا: “نہیں۔ اس نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا ذاتی قسم کا پروگرام ہے، آپ جائیں، مجھے ساتھ جانا اچھا نہیں لگتا۔” آسیہ بولی: “مگر بھائی! یہ بھی تو غلط بات ہے کہ ایک تو ہم نے ان کی گاڑی لے لی اور دوسرے ساتھ جانے کا بھی نہیں کہا۔ بھائی! آپ ان سے کہیں۔” واجد بولا: “نازیہ سے پوچھو، یہ پکنک نازیہ کے اعزاز میں سجائی جا رہی ہے۔ اگر وہ کہتی ہے تو میں ابھی اسے فون کر کے بلا لیتا ہوں۔” یہ کہہ کر وہ سوالیہ انداز میں میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے کہا: “بھئی! آپ لوگوں کی مرضی ہے۔ مجھے کیا معلوم کہ آپ کے اس کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں؟ میں تو اسے نہیں جانتی، میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔” آسیہ نے کہا: “آپ فون کر دیں، نہ بلانا غلط بات ہے۔” واجد نے فون کیا تو اصغر بولا کہ ابھی تو مجھے کچھ کام ہے، ہاں تم مجھے جگہ بتا دو کہ کہاں جا رہے ہو، میں تم لوگوں سے بعد میں مل لوں گا۔ واجد اسے اس مقام کے بارے میں بتا کر راستہ سمجھانے لگا۔ اس نے کہا: “ٹھیک ہے، میں پچھلے پہر آ جاؤں گا۔” لیکن مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا، کیونکہ میں جس ماحول سے تعلق رکھتی تھی وہاں ایسی باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ مجھے الجھن ہو رہی تھی کہ اب کیا ہو گا؟ کسی اجنبی شخص کے ساتھ پکنک کا مزہ نہیں آئے گا۔ خیر، اب میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ میرے لیے یہی غنیمت تھا کہ ابھی وہ ساتھ نہیں جا رہا تھا اور میں انہیں منع بھی نہیں کر سکتی تھی۔
ہم لوگ جلد ہی روانہ ہو گئے۔ آسیہ آتے ہوئے گھر پر اپنی گھڑی بھول آئی تھی اور بار بار مجھ سے وقت پوچھ رہی تھی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ بار بار وقت کیوں پوچھ رہی ہے؟ شاید اس کے لیے ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس کے بار بار پوچھنے سے تنگ آ کر میں نے اپنی گھڑی اتار کر اسے دے دی کہ “مجھے پریشان نہ کرو، تم ہی رکھ لو۔” تب وہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی، لیکن اس نے گھڑی رکھ لی۔ شاید وہ خود بھی بار بار پوچھنے پر شرمندہ ہو رہی تھی۔
ہم نے وہاں خوب انجوائے کیا، لیکن میرے ذہن میں ایک چیز بار بار کھٹک رہی تھی کہ اصغر آنے والا ہے۔ حالانکہ اس گھر سے اس کے بہت پرانے تعلقات تھے، پھر بھی وہ میرے ذہن پر یوں چھا جاتا جیسے وہ ان سب سے ملنے نہیں بلکہ میرا کچھ چرانے آ رہا ہو۔ میں نے واجد سے پوچھ ہی لیا: “کیسا ہے تمہارا یہ دوست؟” وہ بولا: “بہت اچھا ہے، میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر ہے۔ تم ملوں گی تو یقیناً خوش ہو گی۔ اصغر بہترین انسان ہے، وہ آتے ہی اس محفل کی رونق کو دوبالا کر دے گا۔” میں کندھے اچکا کر رہ گئی۔ مجھے سوچ سوچ کر اپنے اس انداز پر خود بھی بڑی حیرت ہو رہی تھی۔
دوپہر کا کھانا کھا کر ہم لوگ کیرم کھیلنے بیٹھ گئے، جو ہم اپنے ساتھ لائے تھے۔ ابھی کیرم کھیل ہی رہے تھے کہ شور مچ گیا: “اصغر بھائی آ گئے!” میں نے دل ہی دل میں اس بیچارے کو برا بھلا کہا۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ میں نے اس طرف جانا تو کیا، دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ مجھے کچھ کچھ ہونے لگا تھا، کیونکہ اس کے آنے کے بعد میں اکیلی رہ گئی تھی اور سب اس کے گرد جمع ہو کر خوب باتیں کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ آسیہ کی آواز سب سے زیادہ آ رہی تھی اور اس کی چہکار سے پوری فضا گونج رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد واجد نے مجھے آواز دی: “ارے نازیہ! ادھر آؤ نا۔” میں نے کہا: “آپ تو بھول ہی گئے تھے کہ میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوں؟” واجد بولا: “ارے نہیں بھئی! ہم تمہیں کیسے بھول سکتے ہیں؟ تمہاری وجہ سے تو یہ سارا اہتمام کیا گیا ہے۔” اصغر نے کہا: “اچھا! تو یہ ہیں آج کی پکنک کی مہمانِ خصوصی، مس نازیہ! ہیلو! بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔” میں نے بھی اخلاقاً کہہ دیا کہ مجھے بھی خوشی ہوئی۔ وہ میری طرف بغور دیکھ رہا تھا۔ بولا: “آپ جھوٹ بھی بولتی ہیں؟” میں نے کہا: “نہیں۔” تبھی اس نے کہا: “آپ کے چہرے سے لگ رہا ہے کہ مجھ سے مل کر آپ کو کوئی خوشی نہیں ہوئی، مگر ہمت کی بات ہے کہ آپ نے میرے منہ پر جھوٹ بول دیا کہ آپ کو مجھ سے مل کر خوشی ہوئی۔”
میں نے ایک دم گھبرا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ شرارت سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ اچھا خاصا خوبصورت لڑکا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں کی چمک بجلی کی کوند کی طرح میرے دل پر گری۔ اپنے اس احساس سے میں خود گھبرا گئی اور جلدی سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میرے ذہن پر جو خوف مسلط تھا وہ بے بنیاد نہ تھا؛ وہ یقیناً چور تھا! اس نے اپنی مسکراہٹ سے مجھے دھوکا دیا اور میرا دل چرا لیا تھا۔ اس بات کا علم مجھے اس وقت ہوا جب میری نظر بار بار غیر ارادی طور پر اس کی طرف اٹھ جاتی تھی، بلکہ خیالات کے دھارے پر نظر جب بھی بھٹکتی، اس کے چہرے میں ہی جا کر پناہ تلاش کرتی۔ میں خود کو باز رکھ رہی تھی کہ یا الٰہی! یہ کیسی تبدیلی تھی؟ میں ابھی جسے برا سمجھ رہی تھی وہی دل کی دنیا کا مکین بن گیا۔
ہم لوگ واپسی کی تیاری کرنے لگے۔ آتے ہوئے پہلی گاڑی میں ہم لوگ پھنس پھنسا کر آئے تھے۔ اصغر گاڑی ساتھ لایا تھا، اس لیے واپسی میں آسیہ اور واجد کا چھوٹا بھائی اس کے ساتھ بیٹھ گئے تاکہ آسانی سے سفر کیا جا سکے۔ اصغر ایک اچھا اور مزاحیہ لڑکا تھا۔ اس کی باتوں سے ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے، مگر میں نے اس سے براہِ راست بات نہ کی اور اس نے بھی میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی، وہ آسیہ سے ہی باتیں کرتا رہا۔ مجھ پر تو جیسے اس نے جادو کر دیا تھا، مگر میں اس سے اپنا دامن بچانا چاہتی تھی۔ محبت کی پرخار وادی میں اترنا میرے بس میں نہ تھا، اس لیے میں نے اس راہ پر چلنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا، مگر وہ خواہ مخواہ میرے دل میں اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اب وہ ہفتے میں ایک دو بار ضرور آنے لگا۔ واجد سے اس کی بہت اچھی دوستی تھی۔ اپنی بہترین عادات کی وجہ سے وہ دوسروں کے ساتھ بھی شرطِ بے تکلف تھا۔ وہ گھر آتا تو میں سلام کرنے کے بعد اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ وہ جتنی دیر رہتا میں باہر نہ نکلتی، حالانکہ یہ دورانیہ مجھ پر بہت کٹھن اور طویل گزرتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ایک ایک پل ایک ایک سال کے برابر ہو گیا ہو، لیکن ابھی شروعات تھی۔ میں خود کو ابتدا میں ہی روکنا چاہتی تھی کیونکہ میں نے سنا تھا کہ اگر ابتدا میں ہی خود کو اس راستے پر چلنے سے روک لیا جائے تو زندگی میں اتنی مشکلات پیدا نہیں ہوتیں، مگر یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ محبت کی کوئی ابتدا اور کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ محبت کا جذبہ جس جوش سے دل میں اترتا ہے، آخر تک وہی ولولہ برقرار رہتا ہے۔ اگر محبت میں کمی یا زیادتی ہوتی رہے تو وہ محبت نہیں بلکہ ایک معیار ہوتا ہے، کیونکہ دو انسان ایک دوسرے کی مجبوری بن جاتے ہیں۔ تنہا زندگی کی گاڑی کھینچنا بہت مشکل ہے۔ محبت کوئی پیمانہ نہیں جس کو گھٹایا یا بڑھایا جا سکے، ہاں اگر اس جذبے پر پابندی لگائی جائے تو آتشِ شوق مزید بھڑک اٹھتی ہے۔ میں بھی اس سے دامن نہ چھڑا سکی۔ پہلے دن کی طرح وہ میرے دل میں مقیم تھا، بلکہ دل اس کے قیام سے مانوس ہونے لگا تھا۔ مجھے کبھی کبھی اس بات سے خوف ضرور آتا تھا کہ میرا کیا ہوگا؟ میں کن راہوں میں جا نکلی ہوں؟ اس کی محبت میں میرا یہ حال ہے اور وہ بے خبر ہے۔ اصغر نہیں جانتا کہ میں دل میں اس کے لیے کیا جذبات رکھتی ہوں، لیکن یہ صرف میری سوچ تھی۔ دلوں کے رابطے دونوں طرف ہوں تو محبت کے پودے کی آبیاری ہو سکتی ہے، وہ بھی میرے لیے یہی جذبات رکھتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے اپنے دلی حالات کبھی منکشف نہ کر سکے یا کبھی اس کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اصغر کے دل میں بھی میرے لیے اچھے جذبات ہیں تو پھر اس سے دور رہنا مشکل نظر آنے لگا، مگر کیا کریں! جدائی تو شاید محبت کرنے والوں کے لیے لازم و ملزوم ہو گئی ہے۔
ایک دن خالہ اور سب گھر والے کہیں شادی میں گئے ہوئے تھے کہ اچانک ڈور بیل بجی۔ خالہ نے مجھ سے بہت کہا تھا کہ گھر میں اکیلی رہو گی تو ڈر لگے گا، مگر میں نے منع کر دیا تھا۔ اب گھنٹی کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ میں ڈرتے ڈرتے دروازے تک گئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اصغر ہے۔ میں نے دروازہ کھول دیا اور بتایا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے، تب تک وہ اندر آ کر بیٹھ چکا تھا۔ کہنے لگا: “تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ گھر میں کوئی نہیں ہے؟ تم تو موجود ہو۔ میں کئی دنوں سے اسی موقع کی تلاش میں تھا، مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔” میں گھبرا گئی: “جی، کہیے۔” “بات یہ ہے کہ پہلے دن میں آپ کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا کہ میرے خیالوں کو ایک دم سے مجسم صورت کیسے مل گئی؟ آپ بالکل میرے خیالوں کے مطابق ہیں۔ میں نے جیسی لڑکی سوچی تھی، آپ وہی ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میری بات کا یقین نہ کریں، میں مجبور نہیں کروں گا، لیکن میں نے یہ بات اس لیے کہی ہے کیونکہ ان جذبوں کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے آگاہ کرنا میرا فرض تھا۔ یقین کریں یا نہ کریں، یہ آپ کی مرضی ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ میرے سچے جذبوں کی توہین نہیں کریں گی۔” میں بھی اس کے سامنے دل ہار چکی تھی، اب اقرار کر لینے میں مجھے بھی کوئی عار نہ تھی، جبکہ وہ سب کچھ مان چکا تھا۔ میں نے بھی اس کے خلوص کا جواب خلوص سے دیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے سوال کا جواب اقرار میں ملے گا۔ اصغر کے ساتھ محبت کا اظہار اور عہد و پیمان کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات بالکل نہیں تھی کہ اس کے چاہنے والے اور بھی ہو سکتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آسیہ بھی اسے اپنے من مندر میں دیوتا کا درجہ دے بیٹھی ہے اور اس کے تصور کو پوجتی ہے۔
انہی دنوں ابو مجھے لینے آ گئے تو میں پریشان ہو گئی، کیونکہ ابو اسی دن واپس جانا چاہتے تھے اور میں اصغر کو خبر کیے بغیر جانا نہیں چاہتی تھی۔ خالہ نے ابو کو دو دن کے لیے روک لیا تو میری جان میں جان آئی۔ دوسرے دن میں نے اصغر کو بتایا کہ ہم لوگ واپس جا رہے ہیں تو وہ اداس ہو گیا۔ اس نے گھر سے باہر ملنے کا پروگرام بنایا۔ وہ جب مجھے جگہ اور مقام بتا رہا تھا، اسی وقت آسیہ نے کسی طرح ہماری باتیں سن لیں۔ وہ بھی اسی پارک میں چلی آئی۔ پارک گھر کے نزدیک تھا۔ اصغر کہنے لگا: “کیا تم چند روز اور نہیں رک سکتیں؟” “جتنے دن بھی رکوں، آخر تو مجھے اپنے گھر ہی جانا ہے۔” میں نے اپنا پتہ اس کو دیا اور اس کا پتہ لے لیا۔ ہم نے خط و کتابت کے لیے دن بھی مقرر کر لیے۔ اتنے میں آسیہ بھی وہاں پہنچ گئی، اس کو دیکھ کر ہم دونوں جھینپ گئے، مگر اس نے کسی بھی قسم کے تاثرات کا اظہار نہ کیا، بس اصغر سے اتنا پوچھا: “کیا تم واقعی نازیہ سے محبت کرتے ہو؟” اس نے زبان سے کچھ کہے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہمارا چند روزہ ساتھ اور محبت ہماری ساری زندگی کا روگ بن گئی۔ میں نے گھر آ کر آسیہ کو سب کچھ بتا دیا، یہ بھی کہ ہم آئندہ خط لکھا کریں گے۔ گھر آ کر میں اس وقت تک خود کو ادھورا محسوس کرتی جب تک اصغر کا خط نہ آ جاتا۔ اس کا خط ملتے ہی میری ساری اداسی دور ہو جاتی، لیکن پھر رفتہ رفتہ اس کے خط آنا بند ہو گئے۔ میں نے اسے بہت خط لکھے مگر مجھے کسی بھی خط کا جواب نہ ملا۔ انہی دنوں آسیہ مجھ سے ملنے آئی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ چلو کسی کو اپنے دل کی بات بتا سکوں گی۔
میری حالت دیکھ کر وہ بولی: “تم نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے ایک بے وفا کے لیے؟ اس نے تو وہاں کسی اور سے شادی بھی کر لی ہے۔” مجھے یقین نہ آتا تھا کہ اصغر بے وفا بھی ہو سکتا ہے، مگر میں آسیہ کی بات کو بھی جھٹلا نہیں سکتی تھی۔ ساری شہادتیں اس کے خلاف جا رہی تھیں۔ اس کے جواب نہ ملنے کے باوجود میں اسے مسلسل خط لکھتی رہی تھی، لیکن اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ واقعی بے وفا تھا۔ ان حالات میں آسیہ کی بات پر اعتبار نہ کرتی تو اور کیا کرتی؟ میں آسیہ کو اپنی سب سے بہترین دوست سمجھتی تھی، اس لیے اس کی ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیا۔ اس نے اصغر کے خلاف ایسی ایسی باتیں کہیں کہ میں واقعی اس سے بدگمان ہو گئی۔ ادھر اس نے اصغر سے یہ کہہ دیا کہ: “نازیہ تو بہت غلط قسم کی لڑکی ہے، وہ تو میرے بھائی واجد سے محبت کرتی ہے اور ان دونوں کی بہت جلد شادی ہونے والی ہے۔” یہ سن کر اصغر میری طرف سے بددل ہو گیا۔ اس کے بعد خالہ واجد کا رشتہ لے کر ہمارے گھر آئیں۔ میں تو ایسا سوچتی بھی نہ تھی اور نہ ہی مجھے علم تھا۔ اب کی بار مجھے آسیہ نے تیار کیا کہ ایک بے وفا کے لیے مجھے اپنی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہیے اور واجد سے شادی کر لینی چاہیے۔ اصغر کی بے وفائی نے میرے حواس مختل کر دیے تھے، اس لیے میں نے خود کو حالات کے دھارے کے سپرد کر دیا۔ ماں باپ نے رشتہ اچھا جان کر ہاں کر دی اور میں نے بھی کسی مزاحمت کے بغیر یہ رشتہ قبول کر لیا۔
شادی کے کچھ دنوں بعد تک تو واجد بالکل ٹھیک رہا، مگر پتہ نہیں پھر اسے کیا ہوا کہ وہ اکھڑا اکھڑا رہنے لگا اور مجھ سے بات چیت ختم کر دی۔ میں کوئی بات کرتی تو ڈانٹ دیتا۔ ایک دن باتوں باتوں میں دوستوں کا ذکر چلا تو میں نے پوچھا: “آپ لوگوں نے اصغر کو شادی پر کیوں نہیں بلایا تھا؟” یہ سننا تھا کہ واجد ایک دم بھڑک اٹھا اور بولا: “تاکہ تو اپنے محبوب کو دیکھ سکے؟” میں نے بھی چلا کر کہا: “واجد! تمیز سے بات کرو، میں تمہاری زرخرید غلام نہیں ہوں۔” میرا یہ کہنا قیامت بن گیا۔ اس نے مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو گئی۔ سب گھر والے پریشان ہو گئے۔ خالہ نے بڑی مشکل سے مجھے واجد سے چھڑایا اور اسے گھر سے نکل جانے کو کہا۔ جب مجھے ہوش آیا تو آسیہ میرے پاس بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی۔ بولی: “نازیہ! مجھے معاف کر دو، میں تمہاری قصوروار ہوں، یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔” میں نے نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا اور وضاحت چاہی۔
وہ بولی: “تمہارے خط جو تم نے اصغر کو لکھے تھے، وہ میں نے بھائی جان کو دے دیے ہیں۔ تم یہ سوال کرو گی کہ تمہارے خطوط میرے پاس کیسے آئے؟ تم نے اصغر کے سامنے ہی سب کچھ بتا دیا تھا اور اصغر بھی مجھے ہمدرد جان کر تمہارے متعلق ہر بات بتاتا تھا۔ وہ اپنے خط لا کر مجھے دیتا تھا تاکہ میں تم تک پہنچا دوں، لیکن میں نے وہ خط جمع کرنے شروع کر دیے تھے۔ میں خود اصغر کو بہت پسند کرتی تھی اور اس کی بے وفائی کا بھی میں نے جھوٹا قصہ سنایا تھا۔ اسے میں نے یہ کہہ کر تم سے رابطہ کرنے سے باز رکھا تھا کہ تم واجد کو پسند کرتی ہو، اس لیے وہ خاموش ہو گیا۔ وہ تمہارے خطوط کو فریب اور امانت سمجھ کر مجھے دیتا تھا تاکہ میں تمہیں واپس پہنچا دوں۔ واجد سے تمہاری شادی بھی میری ہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تمہاری شادی کروا کے میں نے اصغر پر واضح کر دیا کہ میں سچ کہتی تھی کہ تم واجد سے محبت کرتی ہو۔ پھر میں نے اصغر سے کہا کہ تم مجھ سے شادی کر لو، لیکن وہ واقعی تمہارا تھا؛ اس نے انکار کر دیا اور ملک چھوڑ کر چلا گیا۔ مجھ سے اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ ‘آسیہ! میں سمجھوتوں اور سودے بازی کا قائل نہیں ہوں۔ نازیہ سے وابستہ ہر چیز اس کی یاد دلاتی ہے، تم تو پھر اس کی دوست اور نند ہو، میں اس گھر سے رشتہ نہیں جوڑ سکتا جہاں وہ کسی اور کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی ہے۔’ تب میں نے غصے میں آ کر تمہارے سارے خط واجد بھائی کو دے دیےے۔” یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر معافی مانگنے لگی۔ زندگی کی تباہی کے بعد میں اسے معاف کرتی بھی تو اس کا کیا حاصل تھا؟
واجد کے ذہن میں وہ محبت بھرے خطوط ایسا پھن پھیلا کر بیٹھ گئے کہ اس نے میری طرف پلٹ کر ہی نہ دیکھا، بلکہ گھر واپس ہی نہیں آیا۔ میں نے آسیہ سے کہا: “اگر تم مجھے ایک مرتبہ بھی کہتیں تو میں خود تمہاری شادی اس سے کروا دیتی۔ اب جب میں تقدیر کے اس فیصلے کو تسلیم کر چکی تھی اور واجد کو اپنا سب کچھ مان چکی تھی، تو تم مجھ پر اعتبار کر کے تو دیکھتیں۔ میں تمہاری خوشیوں کے لیے اصغر سے بھیک مانگتی، تمہاری خوشیوں کے حصول کے لیے اس کے آگے دامن پھیلاتی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے کبھی ناامید نہ کرتا، مگر یہ تم نے کیا کیا؟ اپنے ساتھ ساتھ تین زندگیاں تباہ کر دیں۔ وہ بھی ساری زندگی میری بے وفائی کی آگ میں جلے گا۔”
واجد مجھے غلط سمجھتا ہے، اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو میں بھی یہی کرتی۔ اپنی بیوی کے لکھے ہوئے محبت نامے واجد تو کیا کوئی بھی پڑھتا، تو اس کا ردِعمل اس سے بھی زیادہ بھیانک ہوتا۔ میری شخصیت کو تم نے اس کی نظر میں ایسی پستیوں کے حوالے کیا ہے کہ میں خود بھی اس پر شرمندہ ہو جاتی ہوں۔ آسیہ کہنے لگی: “نہیں۔ نازیہ! کچھ نہیں ہوگا۔ میں واجد کی غلط فہمی دور کروں گی۔” مگر مجھے اس کی بات کا یقین نہ آیا۔ یقین کرتی بھی کیسے؟ میرے اندیشے سچ ثابت ہوئے۔ میں کچھ دنوں بعد اپنے والدین سے ملنے گھر آئی۔ واجد کا کچھ پتہ نہیں تھا، مگر میرے یہاں آنے کے بعد وہ گھر آیا اور اس نے مجھے طلاق بھجوا دی۔ آسیہ جو قسم کھا کر کہہ رہی تھی کہ “بھابھی! تم بے شک میکے جا کر والدین سے مل آؤ، واجد بھیا آئے تو میں ان کو سمجھا لوں گی”، اس نے میرے پیروں پر کلہاڑی مار دی۔ حیران ہوں، کیا معافی مانگنے والی دوست اور نند ایسی ہوتی ہے؟
میں سمجھتی ہوں تقدیر بھی اس میں برابر کی شریک ہے، اور جدائی تو تقدیر کے حکم کی منتظر رہتی ہے۔ جب تقدیر اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے، تو یہ خون آشام بھیڑیے کی طرح دلوں میں تباہی مچانے کے لیے اتر آتی ہے۔ میں آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ اپنی بربادی کا دوش کسے دوں۔ میٹرک کے امتحان کے بعد میں خالہ جان کے پاس کراچی چلی آئی۔
ہمارا خاندان اتنا لمبا چوڑا نہ تھا۔ ننھیال کے قریبی رشتہ داروں میں صرف خالہ ہی تھیں، ماموں وغیرہ کوئی نہ تھا۔ خالہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھیں اور میرے کزنز بھی بہت اچھے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ سے خوب لطف اٹھاتے؛ کھیلتے، ہنستے، گاتے اور اچھل کود کر ہر وقت گھر میں ایک ہنگامہ برپا کیے رکھتے۔ گھر میں ہر طرف رونق ہی رونق ہوتی تھی۔ سارا دن کھیل کود اور باتیں مجھے اچھی لگتی تھیں، اس لیے یہاں آ کر میں اپنے گھر کو جیسے بھول ہی گئی تھی۔ خالو اور خالہ بھی بہت اچھے تھے اور والدین کی کمی پوری کر دیتے تھے۔
میں یہاں آ کر بھول گئی کہ مجھے واپس گھر بھی جانا ہے۔ ایک دن ابو کا خط آیا، انہوں نے بتایا کہ میں میٹرک میں فرسٹ ڈویژن سے پاس ہو گئی ہوں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابھی میں کچھ دن اور یہاں رہ سکتی تھی، کیونکہ اگلے سال کے داخلے ذرا دیر سے شروع ہونے تھے۔ یہ سن کر سب کزنز خوش ہو گئے۔ سب نے یہ پروگرام بنایا کہ اس خوشی میں کہیں پکنک منانے کا انتظام کیا جائے۔ خالہ اور خالو نے بھی اجازت دے دی، مگر اب ایک مسئلہ درپیش تھا کہ کہاں اور کس طرح جایا جائے۔
گاڑی خالو کو خود کہیں لے جانی تھی کیونکہ وہ دفتر کے ایک ضروری کام سے دوسرے شہر جا رہے تھے، لہٰذا سارا پروگرام ملتوی ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ واجد میری خالہ کا سب سے بڑا بیٹا تھا اور وہ مجھ سے دو تین سال بڑا تھا۔ میں اسے واجد بھائی کہا کرتی تھی۔ وہ کہنے لگا کہ میں اپنے کسی دوست سے گاڑی مانگ کر لاتا ہوں، تبھی اس کا چھوٹا بھائی بولا: “آپ اصغر سے گاڑی مانگ کر کیوں نہیں لاتے؟” “ارے ہاں یار! آج کل اس کے والد بھی گھر پر نہیں ہیں، گاڑی یقیناً اصغر کے پاس ہو گی۔ میں ابھی پتہ کرتا ہوں۔” انہوں نے فون اٹھایا اور اصغر سے بات کی، جس پر اس نے گاڑی دینے کا وعدہ کر لیا۔
رات کافی دیر تک پروگرام بنتا رہا کہ ہم کہاں جائیں گے اور کیا کیا لے کر جائیں گے۔ ایک تو اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی خوشی تھی، دوسرے ان لوگوں نے اس لمحے کو یادگار بنا دیا تھا، اس لیے میں بھی بہت خوش تھی۔ اگر میں گھر پر ہوتی تو شاید یہ دن میرے لیے اتنا یادگار نہ ہوتا۔ ہم گھر میں افراد ہی کتنے تھے؛ امی، ابو، میں اور ایک چھوٹا بھائی۔ یہاں ہم لوگ رات گئے تک کیرم کھیلتے رہے اور ساتھ ساتھ پکنک کی تیاری بھی ہوتی رہی۔ آخر واجد کہنے لگا: “ہمیں سونا چاہیے، کل سفر بھی کرنا ہے ورنہ ہم انجوائے نہیں کر سکیں گے۔” پھر ہم لوگ سو گئے۔ مجھے مارے خوشی کے کافی دیر تک نیند نہیں آئی۔ امی ابو کا خیال بھی آتا رہا کہ اگر وہ بھی یہاں ہوتے تو اور زیادہ مزہ آتا۔ سوچتے سوچتے نہ جانے کون سے پہر نیند کی پری اپنے دیس لے گئی۔
صبح آسیہ نے اٹھا کر جگایا کہ “اٹھو نازیہ، بہت دیر ہو گئی ہے۔ سب لوگ تیار ہو چکے ہیں اور گاڑی بھی آ چکی ہے۔ اصغر کافی دیر پہلے گاڑی چھوڑ کر چلا گیا ہے۔” میں جلدی جلدی اٹھی اور تیار ہونے لگی۔ ڈرائنگ روم میں پہنچی تو آسیہ واجد سے پوچھ رہی تھی: “کیا اصغر ہمارے ساتھ نہیں جائے گا؟” واجد بولا: “نہیں۔ اس نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا ذاتی قسم کا پروگرام ہے، آپ جائیں، مجھے ساتھ جانا اچھا نہیں لگتا۔” آسیہ بولی: “مگر بھائی! یہ بھی تو غلط بات ہے کہ ایک تو ہم نے ان کی گاڑی لے لی اور دوسرے ساتھ جانے کا بھی نہیں کہا۔ بھائی! آپ ان سے کہیں۔” واجد بولا: “نازیہ سے پوچھو، یہ پکنک نازیہ کے اعزاز میں سجائی جا رہی ہے۔ اگر وہ کہتی ہے تو میں ابھی اسے فون کر کے بلا لیتا ہوں۔” یہ کہہ کر وہ سوالیہ انداز میں میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے کہا: “بھئی! آپ لوگوں کی مرضی ہے۔ مجھے کیا معلوم کہ آپ کے اس کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں؟ میں تو اسے نہیں جانتی، میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔” آسیہ نے کہا: “آپ فون کر دیں، نہ بلانا غلط بات ہے۔” واجد نے فون کیا تو اصغر بولا کہ ابھی تو مجھے کچھ کام ہے، ہاں تم مجھے جگہ بتا دو کہ کہاں جا رہے ہو، میں تم لوگوں سے بعد میں مل لوں گا۔ واجد اسے اس مقام کے بارے میں بتا کر راستہ سمجھانے لگا۔ اس نے کہا: “ٹھیک ہے، میں پچھلے پہر آ جاؤں گا۔” لیکن مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا، کیونکہ میں جس ماحول سے تعلق رکھتی تھی وہاں ایسی باتیں نہیں ہوتی تھیں۔ مجھے الجھن ہو رہی تھی کہ اب کیا ہو گا؟ کسی اجنبی شخص کے ساتھ پکنک کا مزہ نہیں آئے گا۔ خیر، اب میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ میرے لیے یہی غنیمت تھا کہ ابھی وہ ساتھ نہیں جا رہا تھا اور میں انہیں منع بھی نہیں کر سکتی تھی۔
ہم لوگ جلد ہی روانہ ہو گئے۔ آسیہ آتے ہوئے گھر پر اپنی گھڑی بھول آئی تھی اور بار بار مجھ سے وقت پوچھ رہی تھی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ بار بار وقت کیوں پوچھ رہی ہے؟ شاید اس کے لیے ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس کے بار بار پوچھنے سے تنگ آ کر میں نے اپنی گھڑی اتار کر اسے دے دی کہ “مجھے پریشان نہ کرو، تم ہی رکھ لو۔” تب وہ کچھ شرمندہ سی ہو گئی، لیکن اس نے گھڑی رکھ لی۔ شاید وہ خود بھی بار بار پوچھنے پر شرمندہ ہو رہی تھی۔
ہم نے وہاں خوب انجوائے کیا، لیکن میرے ذہن میں ایک چیز بار بار کھٹک رہی تھی کہ اصغر آنے والا ہے۔ حالانکہ اس گھر سے اس کے بہت پرانے تعلقات تھے، پھر بھی وہ میرے ذہن پر یوں چھا جاتا جیسے وہ ان سب سے ملنے نہیں بلکہ میرا کچھ چرانے آ رہا ہو۔ میں نے واجد سے پوچھ ہی لیا: “کیسا ہے تمہارا یہ دوست؟” وہ بولا: “بہت اچھا ہے، میرے لیے بھائیوں سے بڑھ کر ہے۔ تم ملوں گی تو یقیناً خوش ہو گی۔ اصغر بہترین انسان ہے، وہ آتے ہی اس محفل کی رونق کو دوبالا کر دے گا۔” میں کندھے اچکا کر رہ گئی۔ مجھے سوچ سوچ کر اپنے اس انداز پر خود بھی بڑی حیرت ہو رہی تھی۔
دوپہر کا کھانا کھا کر ہم لوگ کیرم کھیلنے بیٹھ گئے، جو ہم اپنے ساتھ لائے تھے۔ ابھی کیرم کھیل ہی رہے تھے کہ شور مچ گیا: “اصغر بھائی آ گئے!” میں نے دل ہی دل میں اس بیچارے کو برا بھلا کہا۔ سب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔ میں نے اس طرف جانا تو کیا، دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ مجھے کچھ کچھ ہونے لگا تھا، کیونکہ اس کے آنے کے بعد میں اکیلی رہ گئی تھی اور سب اس کے گرد جمع ہو کر خوب باتیں کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ آسیہ کی آواز سب سے زیادہ آ رہی تھی اور اس کی چہکار سے پوری فضا گونج رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد واجد نے مجھے آواز دی: “ارے نازیہ! ادھر آؤ نا۔” میں نے کہا: “آپ تو بھول ہی گئے تھے کہ میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوں؟” واجد بولا: “ارے نہیں بھئی! ہم تمہیں کیسے بھول سکتے ہیں؟ تمہاری وجہ سے تو یہ سارا اہتمام کیا گیا ہے۔” اصغر نے کہا: “اچھا! تو یہ ہیں آج کی پکنک کی مہمانِ خصوصی، مس نازیہ! ہیلو! بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔” میں نے بھی اخلاقاً کہہ دیا کہ مجھے بھی خوشی ہوئی۔ وہ میری طرف بغور دیکھ رہا تھا۔ بولا: “آپ جھوٹ بھی بولتی ہیں؟” میں نے کہا: “نہیں۔” تبھی اس نے کہا: “آپ کے چہرے سے لگ رہا ہے کہ مجھ سے مل کر آپ کو کوئی خوشی نہیں ہوئی، مگر ہمت کی بات ہے کہ آپ نے میرے منہ پر جھوٹ بول دیا کہ آپ کو مجھ سے مل کر خوشی ہوئی۔”
میں نے ایک دم گھبرا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔ شرارت سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ وہ اچھا خاصا خوبصورت لڑکا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں کی چمک بجلی کی کوند کی طرح میرے دل پر گری۔ اپنے اس احساس سے میں خود گھبرا گئی اور جلدی سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میرے ذہن پر جو خوف مسلط تھا وہ بے بنیاد نہ تھا؛ وہ یقیناً چور تھا! اس نے اپنی مسکراہٹ سے مجھے دھوکا دیا اور میرا دل چرا لیا تھا۔ اس بات کا علم مجھے اس وقت ہوا جب میری نظر بار بار غیر ارادی طور پر اس کی طرف اٹھ جاتی تھی، بلکہ خیالات کے دھارے پر نظر جب بھی بھٹکتی، اس کے چہرے میں ہی جا کر پناہ تلاش کرتی۔ میں خود کو باز رکھ رہی تھی کہ یا الٰہی! یہ کیسی تبدیلی تھی؟ میں ابھی جسے برا سمجھ رہی تھی وہی دل کی دنیا کا مکین بن گیا۔
ہم لوگ واپسی کی تیاری کرنے لگے۔ آتے ہوئے پہلی گاڑی میں ہم لوگ پھنس پھنسا کر آئے تھے۔ اصغر گاڑی ساتھ لایا تھا، اس لیے واپسی میں آسیہ اور واجد کا چھوٹا بھائی اس کے ساتھ بیٹھ گئے تاکہ آسانی سے سفر کیا جا سکے۔ اصغر ایک اچھا اور مزاحیہ لڑکا تھا۔ اس کی باتوں سے ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے، مگر میں نے اس سے براہِ راست بات نہ کی اور اس نے بھی میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی، وہ آسیہ سے ہی باتیں کرتا رہا۔ مجھ پر تو جیسے اس نے جادو کر دیا تھا، مگر میں اس سے اپنا دامن بچانا چاہتی تھی۔ محبت کی پرخار وادی میں اترنا میرے بس میں نہ تھا، اس لیے میں نے اس راہ پر چلنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا تھا، مگر وہ خواہ مخواہ میرے دل میں اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اب وہ ہفتے میں ایک دو بار ضرور آنے لگا۔ واجد سے اس کی بہت اچھی دوستی تھی۔ اپنی بہترین عادات کی وجہ سے وہ دوسروں کے ساتھ بھی شرطِ بے تکلف تھا۔ وہ گھر آتا تو میں سلام کرنے کے بعد اپنے کمرے میں چلی جاتی۔ وہ جتنی دیر رہتا میں باہر نہ نکلتی، حالانکہ یہ دورانیہ مجھ پر بہت کٹھن اور طویل گزرتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ایک ایک پل ایک ایک سال کے برابر ہو گیا ہو، لیکن ابھی شروعات تھی۔ میں خود کو ابتدا میں ہی روکنا چاہتی تھی کیونکہ میں نے سنا تھا کہ اگر ابتدا میں ہی خود کو اس راستے پر چلنے سے روک لیا جائے تو زندگی میں اتنی مشکلات پیدا نہیں ہوتیں، مگر یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ محبت کی کوئی ابتدا اور کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ محبت کا جذبہ جس جوش سے دل میں اترتا ہے، آخر تک وہی ولولہ برقرار رہتا ہے۔ اگر محبت میں کمی یا زیادتی ہوتی رہے تو وہ محبت نہیں بلکہ ایک معیار ہوتا ہے، کیونکہ دو انسان ایک دوسرے کی مجبوری بن جاتے ہیں۔ تنہا زندگی کی گاڑی کھینچنا بہت مشکل ہے۔ محبت کوئی پیمانہ نہیں جس کو گھٹایا یا بڑھایا جا سکے، ہاں اگر اس جذبے پر پابندی لگائی جائے تو آتشِ شوق مزید بھڑک اٹھتی ہے۔ میں بھی اس سے دامن نہ چھڑا سکی۔ پہلے دن کی طرح وہ میرے دل میں مقیم تھا، بلکہ دل اس کے قیام سے مانوس ہونے لگا تھا۔ مجھے کبھی کبھی اس بات سے خوف ضرور آتا تھا کہ میرا کیا ہوگا؟ میں کن راہوں میں جا نکلی ہوں؟ اس کی محبت میں میرا یہ حال ہے اور وہ بے خبر ہے۔ اصغر نہیں جانتا کہ میں دل میں اس کے لیے کیا جذبات رکھتی ہوں، لیکن یہ صرف میری سوچ تھی۔ دلوں کے رابطے دونوں طرف ہوں تو محبت کے پودے کی آبیاری ہو سکتی ہے، وہ بھی میرے لیے یہی جذبات رکھتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے اپنے دلی حالات کبھی منکشف نہ کر سکے یا کبھی اس کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اصغر کے دل میں بھی میرے لیے اچھے جذبات ہیں تو پھر اس سے دور رہنا مشکل نظر آنے لگا، مگر کیا کریں! جدائی تو شاید محبت کرنے والوں کے لیے لازم و ملزوم ہو گئی ہے۔
ایک دن خالہ اور سب گھر والے کہیں شادی میں گئے ہوئے تھے کہ اچانک ڈور بیل بجی۔ خالہ نے مجھ سے بہت کہا تھا کہ گھر میں اکیلی رہو گی تو ڈر لگے گا، مگر میں نے منع کر دیا تھا۔ اب گھنٹی کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ میں ڈرتے ڈرتے دروازے تک گئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اصغر ہے۔ میں نے دروازہ کھول دیا اور بتایا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے، تب تک وہ اندر آ کر بیٹھ چکا تھا۔ کہنے لگا: “تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ گھر میں کوئی نہیں ہے؟ تم تو موجود ہو۔ میں کئی دنوں سے اسی موقع کی تلاش میں تھا، مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔” میں گھبرا گئی: “جی، کہیے۔” “بات یہ ہے کہ پہلے دن میں آپ کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا کہ میرے خیالوں کو ایک دم سے مجسم صورت کیسے مل گئی؟ آپ بالکل میرے خیالوں کے مطابق ہیں۔ میں نے جیسی لڑکی سوچی تھی، آپ وہی ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میری بات کا یقین نہ کریں، میں مجبور نہیں کروں گا، لیکن میں نے یہ بات اس لیے کہی ہے کیونکہ ان جذبوں کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے آگاہ کرنا میرا فرض تھا۔ یقین کریں یا نہ کریں، یہ آپ کی مرضی ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ میرے سچے جذبوں کی توہین نہیں کریں گی۔” میں بھی اس کے سامنے دل ہار چکی تھی، اب اقرار کر لینے میں مجھے بھی کوئی عار نہ تھی، جبکہ وہ سب کچھ مان چکا تھا۔ میں نے بھی اس کے خلوص کا جواب خلوص سے دیا تو وہ بہت خوش ہوا۔ شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے سوال کا جواب اقرار میں ملے گا۔ اصغر کے ساتھ محبت کا اظہار اور عہد و پیمان کرتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات بالکل نہیں تھی کہ اس کے چاہنے والے اور بھی ہو سکتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آسیہ بھی اسے اپنے من مندر میں دیوتا کا درجہ دے بیٹھی ہے اور اس کے تصور کو پوجتی ہے۔
انہی دنوں ابو مجھے لینے آ گئے تو میں پریشان ہو گئی، کیونکہ ابو اسی دن واپس جانا چاہتے تھے اور میں اصغر کو خبر کیے بغیر جانا نہیں چاہتی تھی۔ خالہ نے ابو کو دو دن کے لیے روک لیا تو میری جان میں جان آئی۔ دوسرے دن میں نے اصغر کو بتایا کہ ہم لوگ واپس جا رہے ہیں تو وہ اداس ہو گیا۔ اس نے گھر سے باہر ملنے کا پروگرام بنایا۔ وہ جب مجھے جگہ اور مقام بتا رہا تھا، اسی وقت آسیہ نے کسی طرح ہماری باتیں سن لیں۔ وہ بھی اسی پارک میں چلی آئی۔ پارک گھر کے نزدیک تھا۔ اصغر کہنے لگا: “کیا تم چند روز اور نہیں رک سکتیں؟” “جتنے دن بھی رکوں، آخر تو مجھے اپنے گھر ہی جانا ہے۔” میں نے اپنا پتہ اس کو دیا اور اس کا پتہ لے لیا۔ ہم نے خط و کتابت کے لیے دن بھی مقرر کر لیے۔ اتنے میں آسیہ بھی وہاں پہنچ گئی، اس کو دیکھ کر ہم دونوں جھینپ گئے، مگر اس نے کسی بھی قسم کے تاثرات کا اظہار نہ کیا، بس اصغر سے اتنا پوچھا: “کیا تم واقعی نازیہ سے محبت کرتے ہو؟” اس نے زبان سے کچھ کہے بغیر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہمارا چند روزہ ساتھ اور محبت ہماری ساری زندگی کا روگ بن گئی۔ میں نے گھر آ کر آسیہ کو سب کچھ بتا دیا، یہ بھی کہ ہم آئندہ خط لکھا کریں گے۔ گھر آ کر میں اس وقت تک خود کو ادھورا محسوس کرتی جب تک اصغر کا خط نہ آ جاتا۔ اس کا خط ملتے ہی میری ساری اداسی دور ہو جاتی، لیکن پھر رفتہ رفتہ اس کے خط آنا بند ہو گئے۔ میں نے اسے بہت خط لکھے مگر مجھے کسی بھی خط کا جواب نہ ملا۔ انہی دنوں آسیہ مجھ سے ملنے آئی۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ چلو کسی کو اپنے دل کی بات بتا سکوں گی۔
میری حالت دیکھ کر وہ بولی: “تم نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے ایک بے وفا کے لیے؟ اس نے تو وہاں کسی اور سے شادی بھی کر لی ہے۔” مجھے یقین نہ آتا تھا کہ اصغر بے وفا بھی ہو سکتا ہے، مگر میں آسیہ کی بات کو بھی جھٹلا نہیں سکتی تھی۔ ساری شہادتیں اس کے خلاف جا رہی تھیں۔ اس کے جواب نہ ملنے کے باوجود میں اسے مسلسل خط لکھتی رہی تھی، لیکن اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ واقعی بے وفا تھا۔ ان حالات میں آسیہ کی بات پر اعتبار نہ کرتی تو اور کیا کرتی؟ میں آسیہ کو اپنی سب سے بہترین دوست سمجھتی تھی، اس لیے اس کی ہر بات پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیا۔ اس نے اصغر کے خلاف ایسی ایسی باتیں کہیں کہ میں واقعی اس سے بدگمان ہو گئی۔ ادھر اس نے اصغر سے یہ کہہ دیا کہ: “نازیہ تو بہت غلط قسم کی لڑکی ہے، وہ تو میرے بھائی واجد سے محبت کرتی ہے اور ان دونوں کی بہت جلد شادی ہونے والی ہے۔” یہ سن کر اصغر میری طرف سے بددل ہو گیا۔ اس کے بعد خالہ واجد کا رشتہ لے کر ہمارے گھر آئیں۔ میں تو ایسا سوچتی بھی نہ تھی اور نہ ہی مجھے علم تھا۔ اب کی بار مجھے آسیہ نے تیار کیا کہ ایک بے وفا کے لیے مجھے اپنی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہیے اور واجد سے شادی کر لینی چاہیے۔ اصغر کی بے وفائی نے میرے حواس مختل کر دیے تھے، اس لیے میں نے خود کو حالات کے دھارے کے سپرد کر دیا۔ ماں باپ نے رشتہ اچھا جان کر ہاں کر دی اور میں نے بھی کسی مزاحمت کے بغیر یہ رشتہ قبول کر لیا۔
شادی کے کچھ دنوں بعد تک تو واجد بالکل ٹھیک رہا، مگر پتہ نہیں پھر اسے کیا ہوا کہ وہ اکھڑا اکھڑا رہنے لگا اور مجھ سے بات چیت ختم کر دی۔ میں کوئی بات کرتی تو ڈانٹ دیتا۔ ایک دن باتوں باتوں میں دوستوں کا ذکر چلا تو میں نے پوچھا: “آپ لوگوں نے اصغر کو شادی پر کیوں نہیں بلایا تھا؟” یہ سننا تھا کہ واجد ایک دم بھڑک اٹھا اور بولا: “تاکہ تو اپنے محبوب کو دیکھ سکے؟” میں نے بھی چلا کر کہا: “واجد! تمیز سے بات کرو، میں تمہاری زرخرید غلام نہیں ہوں۔” میرا یہ کہنا قیامت بن گیا۔ اس نے مجھے اتنا مارا کہ میں بے ہوش ہو گئی۔ سب گھر والے پریشان ہو گئے۔ خالہ نے بڑی مشکل سے مجھے واجد سے چھڑایا اور اسے گھر سے نکل جانے کو کہا۔ جب مجھے ہوش آیا تو آسیہ میرے پاس بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی۔ بولی: “نازیہ! مجھے معاف کر دو، میں تمہاری قصوروار ہوں، یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔” میں نے نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھا اور وضاحت چاہی۔
وہ بولی: “تمہارے خط جو تم نے اصغر کو لکھے تھے، وہ میں نے بھائی جان کو دے دیے ہیں۔ تم یہ سوال کرو گی کہ تمہارے خطوط میرے پاس کیسے آئے؟ تم نے اصغر کے سامنے ہی سب کچھ بتا دیا تھا اور اصغر بھی مجھے ہمدرد جان کر تمہارے متعلق ہر بات بتاتا تھا۔ وہ اپنے خط لا کر مجھے دیتا تھا تاکہ میں تم تک پہنچا دوں، لیکن میں نے وہ خط جمع کرنے شروع کر دیے تھے۔ میں خود اصغر کو بہت پسند کرتی تھی اور اس کی بے وفائی کا بھی میں نے جھوٹا قصہ سنایا تھا۔ اسے میں نے یہ کہہ کر تم سے رابطہ کرنے سے باز رکھا تھا کہ تم واجد کو پسند کرتی ہو، اس لیے وہ خاموش ہو گیا۔ وہ تمہارے خطوط کو فریب اور امانت سمجھ کر مجھے دیتا تھا تاکہ میں تمہیں واپس پہنچا دوں۔ واجد سے تمہاری شادی بھی میری ہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تمہاری شادی کروا کے میں نے اصغر پر واضح کر دیا کہ میں سچ کہتی تھی کہ تم واجد سے محبت کرتی ہو۔ پھر میں نے اصغر سے کہا کہ تم مجھ سے شادی کر لو، لیکن وہ واقعی تمہارا تھا؛ اس نے انکار کر دیا اور ملک چھوڑ کر چلا گیا۔ مجھ سے اس نے صرف اتنا کہا تھا کہ ‘آسیہ! میں سمجھوتوں اور سودے بازی کا قائل نہیں ہوں۔ نازیہ سے وابستہ ہر چیز اس کی یاد دلاتی ہے، تم تو پھر اس کی دوست اور نند ہو، میں اس گھر سے رشتہ نہیں جوڑ سکتا جہاں وہ کسی اور کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہی ہے۔’ تب میں نے غصے میں آ کر تمہارے سارے خط واجد بھائی کو دے دیےے۔” یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر معافی مانگنے لگی۔ زندگی کی تباہی کے بعد میں اسے معاف کرتی بھی تو اس کا کیا حاصل تھا؟
واجد کے ذہن میں وہ محبت بھرے خطوط ایسا پھن پھیلا کر بیٹھ گئے کہ اس نے میری طرف پلٹ کر ہی نہ دیکھا، بلکہ گھر واپس ہی نہیں آیا۔ میں نے آسیہ سے کہا: “اگر تم مجھے ایک مرتبہ بھی کہتیں تو میں خود تمہاری شادی اس سے کروا دیتی۔ اب جب میں تقدیر کے اس فیصلے کو تسلیم کر چکی تھی اور واجد کو اپنا سب کچھ مان چکی تھی، تو تم مجھ پر اعتبار کر کے تو دیکھتیں۔ میں تمہاری خوشیوں کے لیے اصغر سے بھیک مانگتی، تمہاری خوشیوں کے حصول کے لیے اس کے آگے دامن پھیلاتی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے کبھی ناامید نہ کرتا، مگر یہ تم نے کیا کیا؟ اپنے ساتھ ساتھ تین زندگیاں تباہ کر دیں۔ وہ بھی ساری زندگی میری بے وفائی کی آگ میں جلے گا۔”
واجد مجھے غلط سمجھتا ہے، اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو میں بھی یہی کرتی۔ اپنی بیوی کے لکھے ہوئے محبت نامے واجد تو کیا کوئی بھی پڑھتا، تو اس کا ردِعمل اس سے بھی زیادہ بھیانک ہوتا۔ میری شخصیت کو تم نے اس کی نظر میں ایسی پستیوں کے حوالے کیا ہے کہ میں خود بھی اس پر شرمندہ ہو جاتی ہوں۔ آسیہ کہنے لگی: “نہیں۔ نازیہ! کچھ نہیں ہوگا۔ میں واجد کی غلط فہمی دور کروں گی۔” مگر مجھے اس کی بات کا یقین نہ آیا۔ یقین کرتی بھی کیسے؟ میرے اندیشے سچ ثابت ہوئے۔ میں کچھ دنوں بعد اپنے والدین سے ملنے گھر آئی۔ واجد کا کچھ پتہ نہیں تھا، مگر میرے یہاں آنے کے بعد وہ گھر آیا اور اس نے مجھے طلاق بھجوا دی۔ آسیہ جو قسم کھا کر کہہ رہی تھی کہ “بھابھی! تم بے شک میکے جا کر والدین سے مل آؤ، واجد بھیا آئے تو میں ان کو سمجھا لوں گی”، اس نے میرے پیروں پر کلہاڑی مار دی۔ حیران ہوں، کیا معافی مانگنے والی دوست اور نند ایسی ہوتی ہے؟

