زبردستی کا انجام

Urdu moral stories

خالد میری خالہ کا بیٹا تھا۔ وہ بہت اچھا اور ایماندار لڑکا سمجھا جاتا تھا، لیکن میں ہی جانتی ہوں کہ وہ کتنا ایماندار تھا۔ دراصل جب تک آپ کا کسی سے پالا نہ پڑے، آپ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اچھا ہے یا برا ہے۔ خالہ جان کا گھر ہمارے مکان سے چند قدم دور تھا، لہذا اکثر ہم ان کے گھر آتے جاتے رہتے تھے۔ میری اپنے خالہ زاد سے بہت دوستی تھی۔ ہمارے مزاج ملتے تھے، ورنہ کزن اور بھی کئی تھے۔ والدین نے جب ہماری دوستی دیکھا، تو منگنی کر دی۔ اب میرا خالد سے ایک رشتہ ہو گیا تھا، لیکن یہ میری خام خیالی تھی۔ یہ رشتہ جتنا مضبوط تھا، اسی قدر کچا بھی تھا۔ رضائے الہی سے ہماری منگنی کے تھوڑے دنوں بعد ہی اس کے والد وفات پا گئے۔
 
 ان دنوں خالد نے میٹرک کا امتحان دیا تھا۔ اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا، لیکن وہ مجبور تھا؛ چھوٹے تین بہن بھائی تھے۔ اگر وہ پڑھائی میں لگ جاتا، تو ان کی پرورش کون کرتا؟ رشتے داروں نے تو منہ پھیر لیا تھا، تب ہی اس نے عہد کر لیا کہ اپنے رشتے داروں سے مدد طلب نہیں کرے گا۔ اس نے نوکری کی تلاش شروع کر دی، بہت بھاگ دوڑ کے بعد آخر اس کو ایک معمولی سی نوکری مل گئی، جس سے اس کے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ اس نے اپنے بہن بھائیوں کو اسکول میں داخل کرا دیا اور خود نوکری پر جانے لگا۔ اس طرح دن گزرنے لگے۔

خالد کی ایک پھپھو تھیں، وہ بھی کوئی زیادہ امیر نہیں تھی۔ اس کی ایک ہی بیٹی تھی، جس کا نام پروین تھا۔ وہ ایک مغرور سی لڑکی تھی اور ہمیشہ اونچے خواب دیکھتی تھی۔ چونکہ وہ بہت خوبصورت تھی، لہذا اس کے بہت سے رشتے آئے، لیکن وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کا رشتہ کسی امیر گھرانے میں ہو جائے، مگر دادی اور پھوپھی چاہتی تھیں کہ خالد گھر داماد بن جائے۔ ادھر میں خالد سے منسوب تھی اور میرا مستقبل اس کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔ اس دوران خالد کو ایک اچھی ملازمت مل گئی۔ اب اس کی پھوپھی نے میری خالہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ میری بیٹی کو جلد از جلد بہو بنا لو۔ بے چاری خالہ عجب شش و پنج میں تھیں کہ کیا کریں؟ ساس اور نند اچھی تھیں، برے وقت میں ساتھ دے رہی تھیں— خالہ کی جرات نہ ہوتی تھی کہ ان کو ٹکا سا جواب دیں۔ ادھر میرا معاملہ بھی تھا، اپنی سگی بہن کو جواب دینا بھی مشکل تھا۔ خالد اپنی دادی اور پھوپھی سے محبت کرتا تھا اور ان کی بے حد قدر کرتا تھا۔ اس کو میں پسند تھی، لیکن پروین بھی بری نہیں لگتی تھی۔ اس نے سوچا کہ اس کی شادی پروین کے ساتھ ہو تو زیادہ اچھا ہے۔ مجھ سے اسے محبت نہیں تھی، بس پسندیدگی ہی تھی، تب ہی مجھ کو چھوڑتے ہوئے اسے کوئی تکلیف نہ ہوئی اور اس نے خود فیصلہ کر کے اپنی والدہ اور بڑوں کو ایک بہت بڑی کشمکش سے بچا لیا۔ اس نے اپنی والدہ سے کہہ دیا کہ میں پروین سے شادی پر تیار ہوں۔ آپ نصرت سے میری منگنی توڑ دیں۔ ہمارا واسطہ دادی اور پھپھو سے ہی گہرا ہے اور میں ان کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔

خالہ نے آکر امی کو اس کے فیصلے سے آگاہ کیا، تو وہ دنگ رہ گئیں۔ وہ کل تک ہم لوگوں کا دیوانہ تھا اور آج ہم سے منہ پھیرنے میں ایک منٹ نہ لگایا۔ میرے والدین افسردہ ہو گئے۔ میرے دل پر تو ایسی چوٹ لگی کہ میں زندگی سے بیزار ہو گئی۔ ادھر ہم منگنی ٹوٹنے کا سوگ منا رہے تھے، ادھر انہوں نے شادی کی تیاریاں شروع کر دیں اور تاریخ بھی طے کر دی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ خود پروین بھی خالد سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی، کیونکہ اس کے خیالوں میں امیر سسرال بسا ہوا تھا، لیکن والدین اور دادی کے دباؤ کی وجہ سے وہ کچھ نہ کر سکی اور اس کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔ وہ بی اے کر چکی تھی، جبکہ خالد نے صرف میٹرک کیا تھا۔ خیر، ان دونوں کی شادی ہو گئی، مگر اس لڑکی کو اپنے والدین کی امارت کا گھمنڈ تھا، لہذا اس نے اپنے خاوند کی غریبی کو قبول نہ کیا اور شادی کی پہلی رات ہی اس کو مفلسی کے طعنے دینے شروع کر دیے۔ اس نے اپنے دولہا کی اتنی بے عزتی کی کہ وہ شرمندہ ہو کر رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ پروین نہ صرف صورت شکل میں اس سے اچھی ہے، بلکہ تعلیم میں بھی آگے ہے، اس وجہ سے خاموشی سے اس کی باتوں کو برداشت کیا، تاہم وہ پروین کا بہت خیال رکھتا تھا۔ اپنی والدہ سے بھی کہہ دیا کہ وہ جو چاہے کرے، مگر آپ نے درگزر سے کام لینا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کا ذہن ہمارے حالات سے سمجھوتہ کر لے گا۔

پروین کو ماں، باپ اور دادی سب نے سمجھایا کہ اپنے خاوند کو خاوند سمجھو، اس کی عزت کرو اور بڑی یعنی ساس کی قدر کرو، مگر وہ اور ذہن کی لڑکی تھی، کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتی تھی۔ بات بات پر جھگڑا کرتی، نندوں اور دیور کی تضحیک کرتی، غرض سب گھر والوں کو ہی بے سکون کر کے رکھ دیا۔ اب سب پچھتانے لگے کہ کیوں ان کو شادی کے بندھن میں جوڑا، جب لڑکی راضی نہ تھی۔ زبردستی کی شادی پر ہر لڑکی سمجھوتہ نہیں کرتی، تب بعد کے مسائل سارے کنبے کو بھگتے پڑتے ہیں۔ پروین دن بہ دن زور آور ہوتی چلی گئی۔ ماں، باپ کے سمجھانے پر بھی نہ سمجھی۔ ادھر خالد نے ہمت نہیں ہاری۔ جگ ہنسائی کے ڈر سے وہ بیوی کے ساتھ اور بھی اچھا سلوک کرتا تھا۔ پروین کے لیے طرح طرح کی چیزیں لاتا، مگر وہ یہ کہہ کر چیزیں اٹھا کر پھینک دیتی کہ اتنی گھٹیا چیزیں میں استعمال نہیں کرتی، یہ تمہاری بہنیں ہی استعمال کر سکتی ہیں۔

خالد بہت محنت کر رہا تھا تاکہ جلد اس کی ترقی ہو اور زیادہ رقم کما کر لائے، تو پروین کو غربت کے احساس سے نجات ملے۔ اگرچہ اس کی پھوپھی اور پھوپھا اب بھی اپنی بیٹی کی ہر خواہش پوری کرتے تھے، مگر شوہر کی کمائی سے بیوی کو جو سہولتیں ملیں، اس کی اور ہی بات ہوتی ہے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا اور اسی لیے محنت کر رہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ پرائیویٹ بی اے بھی کر رہا تھا۔ وہ صبح سویرے کام پر نکلتا اور رات کو واپس آتا۔ ادھر پروین اس کے جانے کے بعد پھر لیٹ جاتی اور جب جاگتی تو تیار ہو کر چھت پر چلی جاتی۔ وہ گھنٹوں چھت پر رہتی اور گلی میں جھانکتی رہتی تھی، شاید اسی طرح اس کا دل بہلتا تھا۔ پہلے تو وہ میکے چلی جاتی تھی، پھر اس کے والد نے سختی کی کہ ہم تیری ہر ضرورت کا خیال رکھیں گے، لیکن تم سسرال میں ہی رہو گی۔ ایک دن اس کی ساس نے کہا، “بیٹی! تم اتنی دیر تک چھت پر کیا کرتی رہتی ہو؟ سارا دن گلی میں جھانکنا ٹھیک نہیں۔ محلے والے باتیں بنائیں گے۔ شریفوں کی لڑکیاں یوں چھتوں سے گلی میں نہیں جھانکتیں۔” ساس کی بات پر پروین کو غصہ آ گیا۔ وہ آپے سے باہر ہو گئی اور خوب روئی دھوئی۔ جب خالد گھر آیا، تو وہ بستر میں منہ دیے پڑی تھی۔ خالد نے پوچھا کہ تم کو کیا ہوا ہے؟ کیا کسی سے جھگڑا ہوا ہے؟ آنکھیں بھی رو رو کر سرخ ہیں۔ تب وہ مزید رونے لگی اور بولی، “تمہاری ماں کہتے ہیں، میں چھت پر جا کر کسی لڑکے کو دیکھتی ہوں۔ وہ مجھ پر الزام لگاتی ہیں۔” یہ سن کر خالد کو غصہ آیا اور ماں سے پوچھا، “امی جان! کیا آپ پروین کو ایسی باتیں کہتی ہیں؟” “بیٹا، میں نے ایسی بات نہیں کی۔ بس اسی قدر سمجھایا ہے کہ زیادہ دیر چھت پر نہ رہا کرو، ورنہ محلے والے باتیں کریں گے۔” “ہمیں پروین کو خوش رکھنا ہے۔ ہمیں محلے والوں سے کیا، کرتے رہیں باتیں، لیکن آپ نے آج کے بعد میری بیوی کو ایک لفظ نہیں کہنا، ورنہ میں اس کو لے کر الگ ہو جاؤں گا۔” بیٹے کی بات پر خالہ کے دل کو بڑی ٹھیس لگی اور وہ رونے لگیں، مگر خالد کے تیور سخت ہی رہے۔

اگلے دن خالہ اپنے بچوں کو لے کر آگئیں کہ دیکھو خالد بیوی کی خاطر میری بے عزتی کرتا ہے، اب میں کہاں جاؤں۔ وہ بری طرح رو رہی تھیں۔ مجھے گلے لگا کر کہا، “اے کاش، تو میری بہو بنتی تو آج مجھے پروین کی نخوت کے آگے ذلیل نہ ہونا پڑتا۔” شام کو جب خالد گھر آیا، تو اس نے بیوی سے پوچھا، “ماں کہاں ہیں؟” وہ بولی، “مجھے کیا خبر، مجھے بغیر بتائے تمہاری بہنوں اور بھائی کو لے کر چلی گئی ہیں۔” اب خالد بہت پچھتایا، کیونکہ وہ صرف اچھا خاوند ہی نہیں، اچھا بیٹا بھی تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ ناحق میں جذباتی ہو گیا۔ نہ جھگڑا کرتا، نہ ماں بہنوں کو لے کر گھر سے جاتی۔ اس نے پہلی بار بیوی کو برا بھلا کہا اور دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ اب خالد، پروین سے بیزار ہوا۔ وہ جب آتا، یہ سوئی ہوئی ہوتی یا پڑوس میں ہوتی۔ ادھر ابو نے خالہ کو کرایے کا مکان دلا دیا اور چھوٹے بیٹے ناصر کی نوکری لگوا دی۔ یہ لوگ کسی نہ کسی طور اپنا گزارہ کرنے لگے۔

ایک دن خالد آفس سے جلد گھر آ گیا۔ دروازے پر دستک دی، تو کسی نے نہ کھولا۔ جب اس نے کان لگا کر سنا، تو اندر سے کسی مرد کی آواز سنائی دی۔ اس نے آواز دی، “پروین! اندر کون ہے، دروازہ کھولو۔” پروین نے تھوڑے سے توقف کے بعد دروازہ کھولا۔ خالد نے ادھر ادھر دیکھا، کہیں کوئی نہ تھا، البتہ ایک کمرے کی کھڑکی کھلی تھی، جو باہر کی گلی میں کھلتی تھی، تاہم یہ کوئی ایسا ثبوت نہ تھا۔ پروین کہنے لگی، “تمہاری ماں تمہارے دل میں جو شک کا بیج بو گئی ہے، وہ غلط ہے، یہاں کوئی نہیں آیا۔ وہ آواز ٹی وی کی تھی، میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔” خالد کچھ شرمندہ سا ہو گیا۔ پروین روتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ تم نے اپنی ماں کی طرح مجھ پر شک کیا، میں تم کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ اس طرح بہانہ بنا کر وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور ان کو سارا واقعہ سنا کر بولی، “اب میں کبھی اس شکی مزاج انسان کے پاس نہیں جاؤں گی۔” اگلے دن خالد اس کو لینے پھوپھی کے گھر گیا، تو پروین نے ساتھ آنے سے انکار کر دیا اور اپنے والدین سے بولی، “میں اس سے طلاق لوں گی۔ میں اس غریب ذہنیت کے بدشکل انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔” جب والدین نے سمجھایا کہ طلاق نہیں لینی، تو اس نے اپنے ایک بھائی کو ہم نوا بنا کر خود ہی طلاق کا کیس دائر کر دیا۔ یوں عدالت میں کیس چلنے لگا۔ پھوپھی اور پھوپھا، بیٹی اور بیٹے کا کارنامہ خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔

پیشی پر وکیل نے پوچھا کہ تم دونوں میں کیا جھگڑا ہے، جو یہ خاتون طلاق لینا چاہتی ہیں؟ اس نے وکیل سے کہا، “جناب، آپ یہ میری بیوی سے پوچھیے، کیونکہ میں اپنے وسائل کے مطابق ہر ممکن اس کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ہرگز طلاق دینا نہیں چاہتا۔” تب وکیل نے پروین سے سوال کیا، “تم اپنے شوہر سے مفاہمت چاہتی ہو؟” اس نے جواب دیا، “ہرگز نہیں، کیونکہ یہ مجھ پر گندے الزامات لگاتے ہیں۔ میں طلاق ہی لوں گی۔” یوں خالد کو مجبوراً اپنی بیوی کو طلاق دینی پڑی اور اس کی زندگی ویران ہو گئی۔ ماں ساتھ رہی، نہ بہن بھائی اور نہ بیوی، وہ تن تنہا رہ گیا۔ اب وہ اپنے فیصلے پر پچھتایا کہ ناحق نصرت سے منگنی توڑی، جو مجھ سے محبت کرتی تھی، اور دادی، پھوپھی کو راضی کرنے میں اپنی زندگی ہی خراب کر لی۔ اس نے اپنی والدہ کو پیغام بھجوایا کہ واپس آ جائیں، لیکن چھوٹے بیٹے نے ماں اور بہنوں کو بڑے بھائی کے پاس جانے سے روک دیا۔ اور کچھ عرصے بعد پروین کے والد نے اس کی شادی ایک اظہر نامی لڑکے سے کر دی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ اس لڑکے کو چاہتی تھی اور اسی سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ یہ لڑکا اس کے ساتھ کالج میں پڑھتا تھا۔ والدین تو اولاد کی خوشی چاہتے ہیں، انہوں نے بیٹی کی غلطیوں کو معاف کر دیا، کیونکہ اس زبر دستی کی شادی سے سب ہی کافی اذیت سے گزر چکے تھے، تاہم اظہر اچھا شوہر ثابت نہ ہوا، اس سے پروین کو بڑی تکلیفیں ملیں- اب وہ پچھتاتی تھی کہ خالد کی قدر نہیں کی اور دولت کی خاطر، مخلص شخص کو ٹھکرا دیا۔ دولت سے سکون نہ ملا، کیونکہ اظہر نشہ کرتا تھا اور پروین کو مارتا تھا۔ وہ اپنے والدین کے گھر واپس آ گئی۔

خالہ جان نے اپنی دونوں بیٹیوں کو میرے دونوں بھائیوں سے بیاہ دیا اور اپنے چھوٹے بیٹے کا رشتہ میری دوسری خالہ کی بیٹی کے ساتھ کر دیا۔ وہ مستقل چھوٹے یعنی ناصر کے پاس رہتی تھیں، کیونکہ ان کی یہ بہو بہت اچھی تھی؛ ان کا بے حد خیال کرتی تھی، کھانا چائے سب ہاتھ میں دیتی تھی۔ خالد ماں کے گھر نہیں جاتا تھا، کیونکہ وہ اپنے چھوٹے بھائی سے ناراض تھا، حالانکہ ماں چاہتی تھی کہ وہ دونوں کے ساتھ رہے۔ کئی بار خالد کو بلایا، مگر وہ ناصر کے گھر نہ گیا، بلکہ اپنے والد کے گھر اکیلا ہی رہتا تھا۔ اکیلے رہنے میں اس کو بڑی پریشانی تھی۔ دادی بھی ضعیفی کے باعث پھوپھی کے گھر چلی گئی تھیں، اس کو کھانے پینے کی بھی تکلیف تھی۔ آخر کب تک بازار کی روٹی اور ہوٹل کا کھانا کھاتا۔

خالد کا پرانا دوست شفقت اس سے ملنے آتا تھا اور اکثر اس کو اپنے گھر لے جاتا تھا کہ اس کو کچھ گھریلو ماحول ملے اور گھر کا کھانا بھی، تاکہ اس کا ڈپریشن دور ہو۔ ایک روز وہ شفقت کے گھر گیا، تو کسی لڑکی نے دروازہ کھولا اور کہا، “شفقت گھر پر نہیں ہے۔” لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ اس نے لگاوٹ کی نظروں سے خالد کو دیکھا، تو اس نے نظریں جھکا لیں۔ وہ سمجھا کہ یہ دوست کی بہن ہے، تو حد ادب لازم ہے، تاہم یہ لڑکی شفقت کی بہن نہیں، بلکہ اس کی بہن کی سہیلی تھی۔ وہ قریب ہی رہتی تھی، لہذا اکثر شفقت کے ہاں آ جاتی تھی۔ جب بھی خالد وہاں جاتا، وہ سامنے آ جاتی اور باتیں کرنے لگتی اور یہی تاثر دیتی، جیسے اس کو پسند کرتی ہے۔ خالد اپنے دوست کا لحاظ کرتا تھا اور اس کے ساتھ زیادہ فری نہیں ہوتا تھا۔

کچھ عرصے بعد شفقت بیرون ملک چلا گیا، تو وہ لڑکی جس کا نام نیلوفر تھا، خالد سے ملنے لگی۔ اس نے ایک دن بہت پریشانی کے عالم میں بتایا کہ شفقت نے اس سے شادی کا وعدہ کر کے دھوکا دیا ہے اور جب میں نے شادی پر اصرار کیا تو وہ مجھے اس حال میں چھوڑ کر بیرون ملک چلا گیا۔ خالد نے کہا کہ تم تھوڑا صبر کرو، شادی تم کو شفقت سے ہی کرنی چاہیے۔ بہرحال میں اس سے بات کروں گا، پھر دوست سے دبئی بات کی۔ شفقت نے جواب دیا کہ میرے حالات ایسے نہیں کہ نیلو سے شادی کر سکوں، کیونکہ میری منگنی اپنے چچا کی بیٹی سے ہو چکی ہے۔ والدین کسی صورت نہیں مانیں گے اور میں والدین کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا، کیونکہ میری منگیتر کے بھائی سے میری چھوٹی بہن کی شادی طے ہے۔ میری بڑی مجبوری ہے۔

یہ جواب کافی دل شکن تھا۔ جب خالد نے نیلوفر کو اس کے محبوب کے جواب سے آگاہ کیا، تو وہ رونے لگی اور خالد کے پاؤں پڑ گئی کہ اب تم ہی مجھ سے شادی کر لو۔ یوں خالد نے اس کی زندگی اور عزت بچانے کی خاطر اس سے شادی کر لی اور اپنے گھر لے آیا۔ اس نے والدہ اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی اس امر میں شامل نہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لوگ اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی اس بات میں شامل ہوں گے۔ بہرحال اس نے یہ کام انسانیت کے ناتے اور نیکی کی غرض سے کیا تھا۔ نیلوفر نے ایک بچے کو جنم دیا، خالد نے اس کے بچے کو قبول کیا اور اپنا نام دیا۔ زندگی پھر سے رواں دواں ہو گئی۔ دو سال خیریت سے گزرے تھے کہ ایک روز اچانک شفقت وطن آ گیا۔ اس نے آتے ہی خالد سے رابطہ کیا اور نیلوفر کا پوچھا۔ خالد نے کہا کہ تم اب کیوں پوچھ رہے ہو، کڑے وقت میں تو تم نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ وہ بولا، “دراصل میں نیلوفر سے محبت کرتا تھا، مگر خاندانی حالات کے باعث مجبور تھا۔ جس لڑکی سے میری منگنی ہوئی، وہ فوت ہو گئی ہے۔ اب میں نیلوفر سے شادی کر سکتا ہوں، اسی لیے واپس آیا ہوں کہ اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں، اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا مجھ کو اختیار ہے۔” تب خالد نے اس کو بتایا کہ میں نے اس کے ساتھ شادی کر لی ہے، چونکہ تم نے اس کو اپنانے سے انکار کر دیا تھا، وہ بے حد پریشان تھی۔

اس جواب کی شفقت کو توقع نہ تھی۔ اس کو شدید دھچکا لگا، کہنے لگا، “دوست ہو کر تم نے میری محبت ہتھیا لی۔ میں تم کو معاف نہ کروں گا، بہتر ہے کہ تم اس کو طلاق دے دو، تاکہ میں اس کو اپنا سکوں۔” “ایسا اب ممکن نہیں،” خالد نے جواب دیا، “کیونکہ وہ میری بیوی بن چکی ہے اور میں نے سارے معاشرے کو بتا دیا ہے کہ وہ میری بیوی ہے، اب تو ہم ایک بچے کے والدین بھی بن گئے ہیں۔” یہ سن کر شفقت کو اور طیش آیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے نمٹ لوں گا، پھر چند دن بعد ہی سنا کہ خالد پر کچھ غنڈوں نے حملہ کر دیا ہے۔ وہ اس کے گھر میں گھس گئے، اس کی بیوی کو بھی مضروب کر گئے۔ نیلوفر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی۔ خالد اور بچہ زندہ بچ گئے۔ کچھ عرصہ بعد خالد کو ہوش آ گیا۔
(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ