بے لگام جوانی


ہماری نئی پڑوسن رخشندہ بہت خوبصورت تھی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ پانچ بچوں کی ماں ہے۔ وہ سارا دن بننے سنورنے میں لگی رہتی اور گھر کا کوئی کام نہ کرتی تھی۔ اپنے بچوں سے بھی اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کا شوہر فتح یاب شام کو دیر سے گھر لوٹ کر آتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس کی مجھ سے پکی دوستی ہو گئی۔ وہ اکثر ہمارے گھر آ جاتی اور گھنٹہ دو گھنٹے بیٹھ کر چلی جاتی۔

انہی دنوں میرے منگیتر نے بتایا کہ “تمہاری یہ دوست ٹھیک نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ اس سے ایک نوجوان ملنے آیا تھا”۔ میں نے خالد کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہو سکتا ہے وہ لڑکا رخشندہ کا کوئی رشتہ دار ہو۔ کچھ دن بعد خالد نے مجھے پھر کہا، “نیلم! یقین کرو، تمہاری ہمسائی رخشندہ گڑ بڑ عورت ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک دو مردوں کو اس کے گھر جاتے دیکھا تھا اور اب میں نے تمہارے چھوٹے بھائی کی آواز اس کے گھر سے سنی ہے”۔ خالد کی بات سن کر میں نے تو کانوں کو ہاتھ لگا لیے اور کہا، “ہمسایہ عورتوں کے بارے میں تمہاری ایسی بدگمانیاں ہیں تو مجھے ڈر ہے کہ تم میرے ساتھ خدا جانے کیا سلوک کرو گے۔ اب اگر تم نے یہ بدگمانیاں بند نہ کیں تو یاد رکھو کہ میں تم سے شادی نہیں کروں گی”۔ اس نے ایک بار تو مجھ سے ٹھیک ٹھاک جھگڑا کیا اور بات کرنا بھی بند کر دی، لیکن پھر اس معاملے میں کچھ نہ کہنے کی قسم کھا لی، کیونکہ وہ مجھ سے بات کیے بغیر رہ بھی تو نہیں سکتا تھا۔ خالد کا گھر ہمارے گھر کے سامنے تھا اور اس کی نظر ہمہ وقت رخشی کے ہاں آنے جانے والوں پر رہتی تھی۔

ایک دن رخشی کا شوہر ہمارے گھر آیا اور ابو سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، تب ہی اتفاق سے ابو بھی آگئے۔ ابو نے اسے بیٹھک میں بٹھایا اور جب فتح یاب واپس چلا گیا تو ابو گھر میں آئے۔ ان کے ہاتھ میں لفافہ تھا اور وہ غصے سے سرخ ہو رہے تھے۔ انہوں نے لفافہ امی کو دیا اور بولے، “فتح یاب یہ تصویریں اور خطوط دے گیا ہے۔ یہ ناصر کی تصویریں اور خط ہیں جو اس نے اس کی بیوی کو لکھے ہیں۔ یہ شریفوں کی اولاد ہے؟ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اس نے ہمسایے کی شادی شدہ عورت کو بھی نہیں چھوڑا! تو تمہارا صاحبزادہ اب اور کیا کرے گا؟” یہ تصویریں اور خط اتفاقاً فتح یاب نے رخشی سے برآمد کیے تھے۔ سب نے ناصر کو بہت ڈانٹا اور اس کا رخشی کے گھر آنا جانا بند کر دیا، لیکن اس بات کا چرچہ سارے محلے میں ہو گیا۔ ہمارا پڑوسی فتح یاب ایک سمجھدار آدمی تھا اور اپنی بیوی سے عمر میں آٹھ برس بڑا تھا۔ اپنے بچوں کی خاطر اس نے کوئی جذباتی قدم نہ اٹھایا بلکہ رخشی کو معاف کر دیا اور اس کو لے کر اپنے شہر چلا گیا۔

ان کو محلے سے گئے صرف چار ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ایک دن فتح یاب، رخشی کا پوچھنے ہمارے گھر آگیا۔ اس کی بیوی چار روز سے گھر سے غائب تھی۔ ابو نے صاف کہہ دیا کہ ہمیں تمہاری بیوی کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ ہمارا اس سے کیا رابطہ؟ تم اس کو کہیں اور جا کر ڈھونڈو۔ میرا بیٹا گھر پر ہی ہوتا ہے اور ابھی وہ دکان پر گیا ہوا ہے، چاہو تو جا کر تصدیق کر لو۔ اس وقت تو فتح یاب چلا گیا، لیکن پھر شہر سے بار بار فون پر اس کے متعلق پوچھتا رہا۔ ادھر ابو امی ناصر سے پوچھتے کہ “تمہارا کوئی واسطہ ہے تو بتاؤ”، وہ انکار کرتا تھا لیکن اس کے انداز سے یوں لگتا تھا جیسے وہ رخشی کے متعلق کچھ نہ کچھ ضرور جانتا ہے؛ اسی لیے ابو نے بڑے بھائیوں سے اس کی نگرانی کے لیے کہا۔ اسی طرح وقت گزرتا رہا۔ ناصر نے ان دنوں ایم ایس سی میں داخلہ لے لیا تھا۔ باقی تمام حالات معمول کے مطابق تھے، مگر ایک مسئلہ ابھی تک تھا کہ ناصر کافی دنوں تک گھر نہیں آتا تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ وہ چھٹیوں میں ہاسٹل میں رہ جاتا ہے اور پڑھائی میں خاص دلچسپی لے رہا ہے، لہٰذا کسی نے بھی اس کو کچھ نہ کہا کیونکہ وہ بتاتا تھا کہ وہ چھٹیوں میں ہاسٹل میں پڑھتا رہتا ہے۔ ابو اور بڑے بھائی ناصر کی طرف سے بے فکر ہو چکے تھے۔ دو سال پلک جھپکتے گزر گئے۔ ناصر نے ملازمت کے لیے ابو سے کہا تو انہوں نے دوڑ دھوپ کر کے بھائی کو اچھی سی نوکری دلوا دی، جو کراچی میں تھی۔ وہ ماہ دو ماہ بعد ایک دو روز کے لیے آتا، پھر ڈیوٹی پر چلا جاتا۔

رخشی کو گھر سے غائب ہوئے چار ماہ گزر چکے تھے۔ اس کے بچے دادی کے پاس تھے۔ فتح یاب کو اب تک معلوم نہ ہو سکا تھا کہ وہ کہاں گئی۔ وہ بیوی کی تلاش سے مایوس ہو چکا تھا۔ آخر ایک دن میرے دل میں جو وہم تھا، وہ سچ ثابت ہو گیا جب ناصر نے گھر والوں کو بتایا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کر رکھی ہے، اس کی بیوی کراچی میں رہتی ہے اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ امی ابو یہ سن کر دھک سے رہ گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ “تم نے کس سے شادی کی ہے؟” تو ناصر نے بڑی مشکل سے بتایا کہ رخشی سے کی ہے۔ تب سب نے اسے ڈانٹا کہ تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور نہ ملی؟ وہ ہمسایے کی بیوی تھی، تم نے ہمسائیگی کا بھی خیال نہیں کیا۔ اب والد صاحب اس فکر میں پڑ گئے کہ جب فتح یاب کو معلوم ہو گا تو اس کی کیا حالت ہو گی، خدا جانے وہ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے۔ اب تو رخشی سے ناصر کی اولاد بھی ہو چکی تھی۔ ابو نے سوچا، چپ رہنے میں عافیت نہیں ہے ورنہ فتح یاب یہی سمجھے گا کہ ناصر کے گھر والوں نے اس کا پردہ رکھا، جبکہ وہ بار بار ہم سے پوچھتا تھا اور ہم یہی جواب دیتے تھے کہ ہمیں رخشی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ابو نے فتح یاب کو فون کر کے بتا دیا کہ رخشی واقعی ناصر کے پاس تھی، لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا۔ اب معلوم ہوا ہے تو تم کو بتا رہے ہیں۔ بہتر ہے کہ تم اس کو طلاق دے دو کیونکہ اس نے یہاں ایک بیٹے کو جنم دیا ہے، اب وہ تمہارے لائق نہیں رہی۔ یہ سن کر فتح یاب غصے میں آگیا اور اس نے کسی قسم کا صلح نامہ کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس نے بیوی کو طلاق نہیں دی تھی؛ لہٰذا اس نے ناصر اور رخشی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ مقدمہ تب ہوا جب ابھی حدود آرڈیننس کا نفاذ نہیں ہوا تھا، لہٰذا قانونی طور پر کیس چلا اور رخشی اور ناصر کو سات سال کی سزا ہو گئی۔

یہ دونوں تو برباد ہوئے۔ والد صاحب نے سوچا کہ ان کا پوتا برباد نہ ہو، وہ اس کو لے آئے۔ ابو اس کو ماں سے ملوانے جیل بھی لے جاتے تھے۔ والد صاحب نے اس دوران مقدمے میں بہت پیسہ لگایا، وکیلوں کی بھاری فیسیں ادا کیں اور فتح یاب کو بھی ہرجانے کی پیشکش کی جو اس نے ٹھکرا دی، کیونکہ اس کو گمان تھا کہ ناصر کے گھر والے ملے ہوئے تھے، تب ہی تو انہوں نے چار برس تک رخشی کو اپنے پاس چھپائے رکھا۔ جب وہ فون کرتا تھا تو والد صاحب غصے میں آ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ “اب دوبارہ رخشی کے لیے فون مت کرنا، ہمیں کیا پتہ تیری بیوی کہاں ہے؟ ہم شریف لوگ ہیں، ہمیں تنگ مت کرو۔ میرے بیٹے سے ایک بار غلطی ہو گئی ہے لیکن اب وہ اس معاملے سے الگ ہو چکا، تم کسی اور شخص کا پتہ کرو جو واقعی تمہاری بیوی کو لے گیا ہے”۔ اب والد صاحب اپنے ان الفاظ سے شرمندہ ہوتے تھے۔ سچ ہے کہ اولاد بھی والدین کے لیے آزمائش ہوتی ہے۔

ناصر کا کیا دھرا ہم سب بھگت رہے تھے۔ امی کے زیور اور ابو کی عمر بھر کی جمع پونجی کے بدلے بھی ہم اپنے بھائی کو سزا سے نہ بچا سکے۔ امی جان پر وہ قیامت کے دن بیت رہے تھے جب میرا بھائی جیل میں تھا۔ وہ دن رات مصلے پر بیٹھی دعائیں مانگتی تھیں۔ ماں کی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ آخر کار اللہ پاک نے امی کی دعا سنی اور بھائی اور رخشی کی کچھ سزا معاف ہو گئی۔ ادھر فتح یاب نے بھی رخشی کو طلاق دے دی اور امی ابو باقاعدہ نکاح کرا کے رخشی کو گھر لے آئے، صرف بھائی کے بیٹے سمیع کی خاطر، کیونکہ ہمیں اب بچے کی خوشی اور فلاح مطلوب تھی۔

اگر دیکھا جائے تو رخشی کے لیے یہ سزا بہت تھی، لیکن خدا جانے وہ کس مٹی کی بنی تھی۔ پہلے اس کو فتح یاب سے نفرت تھی اور اب جب بھائی مل گیا اور باقاعدہ نکاح ہو گیا تو اس کو ہمارے بھائی سے نفرت ہو گئی۔ اب وہ پھر فتح یاب اور اس کے بچوں کو یاد کرتی، جن کو وہ اس وقت چھوڑ کر چلی گئی تھی جب وہ بہت چھوٹے تھے اور ان کو ماں کی ضرورت تھی۔ اب وہ ہر وقت لڑتی جھگڑتی اور کہتی، “مجھے اپنے پہلے والے بچوں سے ملنا ہے، ان کے پاس جانا ہے۔ وہ مجھے خواب میں آتے ہیں اور ان کی یاد ہر وقت ستاتی ہے”۔ امی ابو سمجھاتے کہ فتح یاب، جس نے ہم پر کیس کیا اور ہمیں اتنا خوار کیا، بھلا کیسے اب بچوں کو ادھر آنے دے گا؟ پہلے بھی تو تم ان کی ماں تھیں۔ اس وقت تمہاری ممتا کہاں چلی گئی تھی؟ بچے چھوٹے چھوٹے تھے، تمہارے بغیر سوتے نہ تھے اور تمہارے لیے روتے رہتے تھے۔ تم نے ان کی پروا نہیں کی، اب وہ بھلا تم کو کیا پوچھیں گے؟ وہ تو اب تم سے نفرت کریں گے۔ خدا جانے اس عورت کے جی میں کیا سمائی کہ اب اس کو وہ بچہ نظر نہیں آتا تھا جو ناصر بھائی کا بھی بیٹا تھا اور جس نے پانچ سال تک جدائی کاٹی تھی۔ وہ اب اس کو چھوڑ کر اپنے دوسرے بچوں کے پاس جانے کی ضد کرتی تھی۔

رخشی کے اس رویے نے ہمارا سکون تباہ کر کے رکھ دیا۔ اب ناصر بھائی بھی پچھتاتے تھے کہ کیسی عورت سے شادی کی؟ اپنے لیے مصیبت ہی مول لی۔ عزت گئی، دولت گئی، جیل کاٹی، بدنامی و رسوائی مول لی اور نوکری سے ہاتھ دھوئے۔ اب ان کو نوکری دوبارہ بھی نہیں مل سکتی تھی کیونکہ جیل کاٹ کر مجرم ہو چکے تھے۔ اتنی قربانیاں دینے کے باوجود رخشی ان کی نہ ہو سکی۔ اس کی روح کہیں تھی، دل کہیں اور جسم کہیں تھا۔ سچ ہے کہ شادی سوچ سمجھ کر ایسی عورت سے کرنی چاہیے جو باحیا اور وفادار ہو؛ ایسی لڑکی جس نے کبھی کسی کو آنکھ بھر کر نہ دیکھا ہو اور نہ کسی کے بارے میں سوچا ہو، ورنہ ماضی اس کا دامن پکڑتا ہے اور وہ ڈانواڈول ہوتی رہتی ہے۔ یہ باتیں بھائی ناصر اب دوسروں کو سمجھاتے تھے کیونکہ عشق کا بھوت اب ان کے سر سے اتر چکا تھا۔

رخشی نے دیکھا کہ ایک گھر میں سب کے ساتھ رہنے سے تو اس کی آزادی سلب ہوتی ہے، وہ اپنی مرضی سے کہیں آ جا نہیں سکتی، اکیلے کسی کے گھر جانے کا سوچ نہیں سکتی، کیونکہ ہمارے گھر میں ایسا رواج نہیں تھا۔ ہمارے گھر میں لڑکیاں اور عورتیں اکیلی نہیں جاتی تھیں۔ ان کو کہیں جانا ہوتا تو وہ اپنے بھائی، والدہ، والد یا شوہر کے ہمراہ جاتیں۔ یہ رواج رخشی کو سخت ناپسند تھا۔ اس کی دال کسی طرح نہ گلی تو اس نے علیحدہ گھر کا شور شروع کر دیا اور ہم سب کو اتنا زچ کیا کہ آخر والد صاحب نے ناصر بھائی کو الگ مکان لے دیا اور ان کا سامان بیٹے سمیت اس مکان میں پہنچا دیا۔

اب رخشی بھابھی بڑی خوش تھی۔ چند دن تک مکان کو سیٹ کرتی رہی، سجاتی سنوارتی رہی۔ بھائی بھی سکون میں آگیا کہ چلو کسی طرح تو راضی ہوئی۔ “اب مجھے بھی آرام سے کوئی کام کرنے دے گی”، کیونکہ اب تک تو ان کا سارا خرچہ میرے والد صاحب ہی اٹھا رہے تھے۔ میرے دونوں بڑے بھائی والد صاحب کے ہمراہ کاروبار کرتے تھے، جن کی وجہ سے ہمیں روپے پیسے کی تنگی نہ ہوئی، ورنہ مقدمے کے بعد ہم دو وقت کی روٹی کے قابل بھی نہ رہتے۔ والد صاحب نے کچھ رقم دے کر ناصر بھائی کو علیحدہ جنرل اسٹور کھول دیا کیونکہ ان کی بیوی نے کسی کے ساتھ مل کر رہنا نہ تھا۔ اس وجہ سے کاروبار بھی ان کا علیحدہ ہی بہتر تھا، ورنہ کل کو رخشی نے یہ جھگڑا کر دینا تھا کہ اب سرمایہ الگ کرو، اپنے کاروبار سے حصہ لو۔ ان سارے مسائل سے بچنے کے لیے والد صاحب نے ناصر بھائی کا کھاتہ الگ کر دیا کہ اپنا کماؤ اور اپنا کھاؤ؛ جس قدر محنت کرو گے، اس قدر زیادہ آمدنی ہوگی، محنت نہیں کرو گے تو غریب ہی رہو گے۔ مجھ سے جتنا ہو سکا کر دیا اور مکان بھی الگ لے دیا۔ والد صاحب اپنی جگہ ٹھیک تھے۔ ناصر بھائی بیچارے عاجز ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ ایم ایس سی تھے، جنرل اسٹور پر بیٹھنا ان کے مزاج میں نہ تھا، مگر کیا کرتے؟ مجبوری کے تحت دکانداری کرنا تھی۔

چند ماہ ہی سکون سے گزرے ہوں گے کہ ایک دن ناصر بھائی پریشان اور گھبرائے ہوئے آئے اور کہا کہ “رخشی گھر میں نہیں ہے، خدا جانے کہاں چلی گئی ہے؟” وہ ان کا بیٹا بھی ساتھ لے گئی تھی۔ والد صاحب نے کہا، “یہ تو ہونا ہی تھا۔ جس گھر کی چوکھٹ مضبوط نہ ہو، اس گھر کے مکینوں کی عزت کا اللہ ہی حافظ ہے”۔ خیر والد صاحب نے پتہ کروایا تو رخشی دوبارہ فتح یاب کے پاس جا پہنچی تھی۔ بہت روئی دھوئی تو اس نے کہا، “ٹھیک ہے، میں تمہیں بچوں کی خاطر دوبارہ رکھ لوں گا۔ اگرچہ بچے بھی اب تم سے بدظن ہیں، پھر بھی تم ان کی ماں ہو اس وجہ سے میں برداشت کروں گا، لیکن تم پہلے ناصر سے طلاق لے کر آؤ”۔ اب رخشی کی طرف سے فون آیا کہ “میں تمہارے پاس رہنا نہیں چاہتی، مجھے طلاق دو”۔ بھائی ناصر نے کہا، “ٹھیک ہے، میں بھی تم جیسی عورت کو رکھنا نہیں چاہتا، لیکن ایک شرط پر طلاق دوں گا؛ تم میرا بیٹا واپس کر دو”۔ رخشی اس امر پر راضی نہ تھی، لہٰذا وہ معاملہ پھر اٹک گیا، لیکن والد صاحب نے ناصر کو سمجھا بجھا کر مسئلے کو ختم کرا دیا اور بھائی نے رخشی کے پاس اپنا بیٹا چھوڑ کر اس کو طلاق بھجوا دی۔

یوں سمیع کی قربانی دے کر ہمارے خاندان نے ایک بہت بڑی الجھن اور پریشانی سے نجات حاصل کر لی۔ اب ہمیں نہیں پتہ کہ وہ وہاں خوش ہے یا عذابوں میں؟ ناصر بھائی کی دوسری شادی خاندان میں ہی ایک غریب گھرانے میں کرا دی۔ ہماری یہ بھابھی بہت اچھی بلکہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس نے ہمیں اور بھائی کو بہت سکون دیا۔ اسی سکون کے نتیجے میں بھائی نے دلجمعی سے کاروبار کیا۔ اب ان کے مالی حالات بہت اچھے ہیں اور ان کی زندگی کے سارے غم دھل گئے ہیں۔ اگر کوئی خلش ہے تو اپنے بیٹے سمیع کی طرف سے، جو ان شاء اللہ کبھی نہ کبھی ضرور ان سے آ ملے گا۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ