برکت کے علاوہ رشتوں کی چاشنی اور مٹھاس سے زندگی گل و گلزار ہو جاتی ہے۔ لیکن آج کل ہر طرف نفسا نفسی کا دور ہے اور سبھی کو اپنی خواہشات کا دوزخ بھرنے کی پڑ گئی ہے۔ ایسے میں ساتھ رہنا تو بڑی بات، قریبی رشتوں کا نباہ بھی محال لگتا ہے۔ یہ بات تو ان دنوں کی ہے جب میں نو سال کی تھی اور پرائمری اسکول میں پڑھنے جایا کرتی تھی۔ اگرچہ اس وقت گاؤں کے پرائمری اسکول تعلیم کی چاہ رکھنے والوں کے ساتھ ایک مذاق سے کم نہ تھے، لیکن یہ کام خود اپنے علاقے کے لوگوں کا ہی تھا کہ وہ اسکول کو محض تنخواہ کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اکثر سرکاری اسکولوں کی استانیاں گھر بیٹھ کر تنخواہیں لیتی تھیں کیونکہ وہ سیاسی اثر و رسوخ والے گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں یا پھر زمینداروں کی رشتے دار تھیں۔ جو علاقے کے غریب بچوں کے لیے اپنی زمینوں میں سے چند مرلے تو اس نیک کام کے لیے عطیہ کر دیتے، لیکن پھر جب اس پر حکومت کے تعاون سے اسکول بن جاتا تو اس اسکول کو رواں دواں ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی بااثر لوگ ہی ہوتے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے مزارعوں کے بچے تعلیم حاصل کر کے ان کی چاکری چھوڑ کر ان کے منہ کو آنے لگیں۔
ہمارے دادا کی وراثتی ملکیت میں چند بیگھے زمین ابا اور تایا کے حصے میں آگئی۔ یہ کل بائیس بیگھے تھے جن پر والد اور تایا جان کے افراد خانہ کی بقا اور خوشحالی کا دار و مدار تھا۔ اماں اور تائی صبح تڑکے اٹھ جاتیں۔ ہمارے گھر میں دو گائے تھیں، وہ ان کا دودھ دوہتیں، دودھ سے مکھن نکالتیں اور تائی آٹا گوندھ کر روٹیاں ڈال لیتیں۔ تنور کی گرم گرم روٹیوں پر مکھن رکھ کر دیسی گھی سے بھرے گلاس سے سب بچے ناشتہ کرنے کے بعد اسکول روانہ ہو جاتے۔ صد شکر، تایا اور ابا کو اتنا شعور تھا کہ بچوں کو تعلیم دلوا رہے تھے اور ہزار شکر کہ ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول میں دوسرے سرکاری اسکولوں جیسی حالت نہ تھی۔ یہاں ایسے اساتذہ تھے جو سو فیصد حاضری دیتے تھے اور بچوں کو دلچسپی سے پڑھاتے تھے۔ وہ گھر بیٹھ کر تنخواہ نہیں بٹورتے تھے۔ مجھے اور میرے بھائی کو پڑھنے کا شوق تھا۔ ہم نے دل لگا کر پڑھا اور میٹرک میں اچھے نمبر لیے۔ پھر قریبی شہر سے پی ٹی سی کر کے گھر کے نزدیک سرکاری اسکولوں میں ہی بطور ٹیچر تعینات ہو گئے۔
میری منگنی بچپن میں تایا زاد احسن اور بھائی کی سگائی اسی تایا کی بیٹی سلیمہ سے ہو گئی تھی اور اب ہماری شادیوں کے تذکرے ہو رہے تھے کہ انہی دنوں کچھ بدخواہ رشتہ داروں نے ابا اور تایا کے بیچ غلط فہمیاں پیدا کر کے پھوٹ ڈلوا دی۔ اس پھوٹ کی ذمہ دار تائی تھیں جن کے ذریعے تایا کے کان بھرے جاتے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مکان اور زمین کے بٹوارے کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ابا اور تایا کے بیچ بدگمانی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں بھائیوں کا اتفاق، نفاق میں تبدیل ہو گیا۔ جو زمین مشترکہ تھی وہ اب گیارہ گیارہ بیگھے کے دو ٹکڑوں میں بٹی اور مکان پر یہ سمجھوتہ ہوا کہ تایا مکان لے لیں گے، بدلے میں وہ چار بیگھے زمین ہمیں دے دیں گے جس پر ایک کشادہ اور پکا مکان بھی بنا ہوا تھا، لیکن یہ زمین شہر سے کچھ دور تھی اور ہماری تائی کو ترکے میں ملی تھی۔ تائی نے ہی مکان کے بدلے اس سودے کی پیشکش کی تھی۔ والد چھوٹے بھائی ہونے کے ناتے بڑے بھائی کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ تائی کے خیال میں دور کی زمین اور مکان ان کے کسی کام کے نہ تھے، تبھی یہ پیشکش کی تھی، لیکن والد کو کچھ رشتہ داروں نے باور کرایا کہ تم وہ گھر اور زمین لے لو کیونکہ تم کو آدھے بیگھے پر تعمیر شدہ آدھے مکان کے بدلنے میں چار بیگھے مل رہے ہیں اور یہ زمین بھی آباد ہے۔ گھاٹے کا سودا نہیں ہے بلکہ تم فائدے میں رہو گے۔ والد صاحب جھگڑے اور تنازع سے بچنا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے آبائی گھر سے دستبرداری قبول کر لی اور مکان تایا کے سپرد کر کے خود اپنی فیملی کے ساتھ کوٹ والے گھر میں منتقل ہو گئے۔
یہ جگہ بری نہ تھی لیکن شہر اور ہماری بستی سے کافی دور محسوس ہوتی تھی۔ ہمارے ارد گرد جو چار بیگھے تھے اس پر ہمارے گھر کے علاوہ کسی اور کا گھر نہ تھا اور نہ ہی کسی دوسرے کا مکان تعمیر ہو سکتا تھا۔ اسی وجہ سے ہمیں یہاں بہت تنہائی محسوس ہوتی تھی۔ دوسرا مسئلہ ہماری نوکریوں کا تھا۔ جن اسکولوں میں میں اور بھائی تعینات تھے وہ ہمارے پرانے گھر کے پاس تھے اور ہمیں وہاں کا سفر اختیار کرنے کے لیے مشقت درکار تھی۔ والد صاحب کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ میرا بھائی منصور اور ابا صبح تڑکے ناشتے کے بعد اسی پر چلے جاتے۔ ابا اپنی زمینوں پر جانے سے قبل منصور کو بوائز پرائمری اسکول اتار دیتے، لیکن میں گھر سے پیدل ہی ویگن اڈے جاتی۔ وہاں سے وہ ویگن ملتی تھی جو استانیوں کو اسکول تک لے جاتی تھی۔ یہ ویگن ہم خواتین ٹیچرز کے لیے ہی مخصوص تھی اور ڈرائیور کے سوا کوئی اور مرد اس پر سوار نہ ہوتا تھا۔ واپسی میں بھی یہی ویگن ہمیں اسکول سے اڈے پر اتار دیتی تھی۔
وہاں سے بھی یکے اور پھر پیدل گھر آنا پڑتا تھا۔ یکہ سڑک تک پہنچاتا، آگے گھر کا راستہ پگڈنڈی نما تھا اور یہ راستہ دشوار ترین تھا کیونکہ گرمیوں میں جب سورج کی تپش اور دھوپ کی حدت سے چیل بھی گھونسلے میں انڈا چھوڑ دیتی تھی، ناہموار زمین پر چل کر گھر تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ بہر حال ایسا سفر اکیلے مجھی کو درپیش نہ تھا، یہاں سیکڑوں لوگ اسی طرح سردی و گرمی میں سفر کرتے تھے۔ دیہاتی لوگ ویسے بھی سخت جان ہوتے ہیں۔ میں نے بھی حوصلہ نہیں ہارا کیونکہ گھر بیٹھ کر بور ہونے سے بہتر تھا کہ اسکول جا کر بچیوں کو تعلیم دوں اور اپنی ہم عمر خواتین ٹیچرز کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار وقت گزاروں۔ ایک روز اسکول سے ویگن اڈے لوٹ رہی تھی کہ راستے میں ایک پوٹلی پڑی ہوئی ملی۔ میں نے اسے اٹھا لیا، یہ کافی بھاری تھی۔ کھول کر دیکھا تو سونے کے زیورات جو دیہاتی طرز کے تھے اور نقدی اس میں موجود تھی۔ دل دھک دھک کرنے لگا، یا اللہ! یہ پوٹلی کس کی ہوگی؟ شاید انجانے میں گرمی میں اس بندے کو پتہ نہیں چلا۔ خیر، جو بھی تھا، اب یہ زیورات اور رقم میرے پاس تھی۔ سوچا اس کا کیا کرنا چاہیے۔ گھر لے جانے کا مطلب تھا کہ جس بیچارے کی تھی جو ادھر سے گزرا تھا، اس کی کھوئی ہوئی متاع یہاں سے ہمارے علاقے پہنچ جاتی تو ڈھونڈنے والے کی پہنچ سے بہت دور ہو جاتی۔ سوچا کہ اسی علاقے کی کسی مسجد سے اعلان کرا دینا چاہیے۔ جس کی ہوگی، نشانی بتا کر لے جائے گا۔
ہمارے علاقے کی مسجد سے اعلان کرایا تو پوٹلی کا مالک اس اعلان کو نہیں سن سکے گا۔ یہ خیال آتے ہی میں نے ویگن اڈے جانے کی بجائے تایا کے گھر کا رخ کر لیا تاکہ اسے تایا کے حوالے کر کے کہوں کہ آپ مسجد میں اعلان کرا کر اس متاع کے مالک کو تلاش کیجیے تاکہ مال اصل مالک کے پاس پہنچ جائے۔ میں نے پوٹلی تائی کو دکھائی اور کہا کہ مسجد میں اعلان کروا دیں۔ کہنے لگیں: “تمہارے تایا اور احسن تو گھر پر نہیں، رات کو آئیں گے۔” یہ کہہ کر انہوں نے پوٹلی میرے ہاتھ سے لے لی اور اس کو کھول کر دیکھا تو زیورات دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ “یہ تو خاصے وزنی ہیں۔” تائی کا زیورات اور نقدی دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ انہوں نے کہا: “چھوڑو اعلان کو! یہ مال تمہیں اللہ نے دیا ہے، پڑا ہوا ملا ہے نا، تم نے چرایا تو نہیں ہے۔ ایسا کرتے ہیں کہ ہم مال آدھا آدھا کر لیتے ہیں۔ تمہارے والدین کو تمہاری شادی کے لیے زیورات کی ضرورت پڑے گی۔ جو آدھا مال میں رکھوں گی وہ بھی تم کو بہو بنا کر گھر لانے میں صرف ہو گا۔ زیور میں خود تو نہیں پہنوں گی۔ تمہاری ماں دیکھ لینا، زیور دیکھ کر خوش ہو جائے گی اور تمہارا باپ رقم دیکھ کر کھل اٹھے گا۔ ابھی کل ہی وہ تمہارے تایا سے کہہ رہا تھا کہ میں بکریاں بیچ کر سدرہ کی شادی کروں گا۔”
میں تائی کی بات سن کر پریشان ہو گئی کیونکہ آج ہی دینیات کی کتاب سے میں نے پانچویں کلاس کی بچیوں کو یہ سبق پڑھایا تھا کہ ایمانداری ایک اعلیٰ صفت ہے۔ ایماندار انسان کی ساری دنیا میں عزت ہوتی ہے۔ اس کو نہ صرف اس دنیا میں فلاح نصیب ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی بڑا اجر ملتا ہے۔ میں نے کہا: “تائی جی! یہ زیورات اور رقم ہماری نہیں ہے اور نہ ہی ان چیزوں پر ہمارا حق بنتا ہے۔ یہ کسی کی ہمارے پاس امانت ہیں۔ ہمیں اس مال کے اصل مالک کو ضرور تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ آس پاس کی بستی کا رہائشی ہے کیونکہ پوٹلی مجھے اسکول سے نکلتے ہوئے تھوڑے سے فاصلے پر ملی ہے۔” “تم پاگل ہو! اتنی قیمتی چیزیں اللہ نے تم کو دی ہیں، انہیں واپس نہ کرو ورنہ بعد میں افسوس کرو گی۔” “تائی جی! میں بالکل افسوس نہیں کروں گی بلکہ مجھے خوشی ہوگی۔ کیا خبر وہ شخص ضرورت کے تحت ان زیورات کو فروخت کرنے جا رہا ہو۔ مجھے اس نیکی کا صلہ اگلے جہان میں ضرور ملے گا۔” “اگلے جہان کی باتیں ابھی سے! اے کم عمر لڑکی! پہلے اس جہان کو تو برت لے۔ مجھے بے ایمانی نہ سکھائیں تائی! ادھر لائیں، میں ابا کو دوں گی وہ خود امام مسجد کے پاس جا کر اعلان کرا دیں گے۔”
یہ کہہ کر میں نے کپڑے کی پوٹلی تائی سے جھپٹ لی۔ سامنے ہی تائی کا بھائی یہ منظر دیکھ رہا تھا، تائی نے اس کو اشارہ کیا تو وہ تیر کی سی تیزی سے چار پائی سے اٹھ کر میری جانب لپکا اور مجھے دہلیز پر دبوچ لیا، اپنے قابو میں کر کے پوٹلی جھپٹ لی اور مجھے گلی میں دھکا دے کر دروازہ بند کر لیا۔ سامنے سے تایا گھر کی سمت آ رہے تھے تو انہوں نے سرور کو مجھے دھکا دے کر گھر سے باہر نکالتے اور دروازہ بند ہوتے دیکھ لیا۔ وہ میرے قریب آگئے، پوچھا: “بیٹی! کیا ہوا ہے؟” میں نے من و عن ساری بات بتا دی۔ تایا کو بہت غصہ آیا۔ اسی وقت دروازہ دھڑا دھڑ بجایا۔ تائی نے کافی دیر تک نہ کھولا تو وہ چلا چلا کر پکارنے لگے کہ دروازہ کھولو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ مجھ سے کہا: “بیٹی! تم ابھی گھر چلی جاؤ، میں خود اس لالچی عورت سے نمٹ لوں گا اور مسجد میں اعلان بھی کرا دوں گا۔” تایا کا حکم تھا، مزید وہاں رکنا کٹھن تھا اور میں آنسو پی کر ویگن اڈے پہنچی۔ ویگن ابھی تک میرے انتظار میں چلی نہ تھی۔
میرے پہنچنے پر ڈرائیور نے خفگی کا اظہار کیا: “بی بی! اتنی دیر مت لگایا کرو۔ دوسری استانیاں شور مچاتی ہیں اگر میں ان کو لے کر چلا جاتا پھر تم کیسے گھر پہنچتیں؟” واقعی ویگن میں موجود استانیاں میرے انتظار میں گرمی سے بے حال تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ کیوں اتنی دیر کر دی؟ پورا آدھا گھنٹہ لگا دیا ہے۔ دس پندرہ منٹ بھی گرمی میں قیامت کے گزرتے ہیں۔ میں نے سر جھکا لیا اور خاموشی سے ان کی لعن طعن برداشت کر لی کیونکہ دل میں ایک اور ہی درد سما چکا تھا۔ گھر پہنچ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔ والدہ کو کچھ نہ بتایا کیونکہ تایا کے بیٹے سے منگنی ہو چکی تھی، سوچا ابا آ جائیں تبھی زبان کھولوں گی۔ تائی احسن کی والدہ تھیں اور میں اپنے منگیتر سے پیار کرتی تھی۔ آدھی رات تک ابا گھر نہ آئے، ہم سب پریشان تھے کہ کیا ہوا؟ ایسی کیا افتاد پڑ گئی، اللہ خیر کرے! ابا منصور کو لے کر شام ڈھلنے سے قبل آ جاتے تھے۔
دوسری صبح دوپہر کے بعد آئے تو بہت غمزدہ تھے۔ کہنے لگے کہ تمہارے تایا نے بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے بہت روکا، سمجھایا مگر بڑے بھائی نہیں مانے کیونکہ ان کی بیوی نے قبول کر کے ہی نہ دیا کہ زیورات اور نقدی والی کوئی پوٹلی ان کے پاس موجود ہے۔ وہ مسلسل یہ کرتی رہیں کہ سدرہ جھوٹی ہے، یہ احسن سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے یہی بتانے آئی تھی کہ اس کے کسی اور سے ناجائز مراسم ہو گئے ہیں ورنہ اس کی یہ جرات کہ خود آ کر مجھ سے استدعا کرے کہ میرے بیٹے سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ جب میں نے کافی سمجھایا تو برا مان گئی اور جاتے ہوئے کہا کہ “تائی! تم سے ایسا بدلہ لوں گی یاد کرو گی۔” اسی لیے ایسی بیہودہ کہانی گھڑ کر اپنے تایا کو سنا دی ہے۔ تایا کو بیوی اور برادرِ نسبتی کی بات پر یقین نہیں آیا۔ وہ یہ جان چکے تھے کہ بیوی جھوٹ بول رہی ہے۔ انہوں نے خود سرور کو مجھے گلی میں دھکا دے کر دروازہ بند کرتے دیکھا تھا۔ میرے آنسو اس وقت میری صداقت کی گواہی دے رہے تھے۔ تبھی انہوں نے بیوی سے کہا تھا کہ پرایا مال واپس کرو تاکہ مسجد میں اعلان کرا دوں… ورنہ میں تمہیں گھر میں نہیں رکھوں گا۔ تائی انکار کر چکی تھی لہٰذا کسی صورت اپنا قصور نہ مانا، خود کو سچا اور مجھے جھوٹا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ تایا نے بالآخر طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا اور ابا کو کھیتوں سے بلوا لیا۔
ابا نے بھی تائی کو سمجھایا کہ مالِ حرام دوزخ کی آگ ہے۔ مالک نہ ملا تو بھی یہ مال ہم گھر میں نہ رکھیں گے، کچھ عرصہ انتظار کریں گے، بعد میں یتیم خانے میں دے دیں گے تاکہ یتیم بچیوں کی شادی میں صرف ہو جائے۔ تائی بھلا خود کو جھوٹا کیونکر ثابت کرتی؟ مسلسل انکاری رہیں، یہاں تک کہ تایا نے غصے میں طلاق دے دی اور سرور سے کہا کہ اپنی بے ایمان بہن کو لے کر ابھی یہاں سے نکل جاؤ۔ مجھے ایسے بے ایمان اور لالچی رشتہ داروں کی ضرورت نہیں ہے۔ ابا تایا کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہیں مانے۔ یہ المیہ سہ کر وہ نڈھال سے گھر آگئے اور بولے: “بیٹی! تم کو تایا بہو ضرور بنائیں گے، لیکن مجھے بہت افسوس ہے کہ میرے بھائی کا گھر اجڑ گیا ہے۔ اے کاش! تم وہ پرایا مال زمین سے نہ اٹھاتیں! اٹھا لیا تھا تو تائی کے گھر جانے کے بجائے گھر لا کر میرے حوالے کیا ہوتا تو آج یہ المیہ وقوع پذیر نہ ہوتا۔”
ہمارے دادا کی وراثتی ملکیت میں چند بیگھے زمین ابا اور تایا کے حصے میں آگئی۔ یہ کل بائیس بیگھے تھے جن پر والد اور تایا جان کے افراد خانہ کی بقا اور خوشحالی کا دار و مدار تھا۔ اماں اور تائی صبح تڑکے اٹھ جاتیں۔ ہمارے گھر میں دو گائے تھیں، وہ ان کا دودھ دوہتیں، دودھ سے مکھن نکالتیں اور تائی آٹا گوندھ کر روٹیاں ڈال لیتیں۔ تنور کی گرم گرم روٹیوں پر مکھن رکھ کر دیسی گھی سے بھرے گلاس سے سب بچے ناشتہ کرنے کے بعد اسکول روانہ ہو جاتے۔ صد شکر، تایا اور ابا کو اتنا شعور تھا کہ بچوں کو تعلیم دلوا رہے تھے اور ہزار شکر کہ ہمارے گاؤں کے پرائمری اسکول میں دوسرے سرکاری اسکولوں جیسی حالت نہ تھی۔ یہاں ایسے اساتذہ تھے جو سو فیصد حاضری دیتے تھے اور بچوں کو دلچسپی سے پڑھاتے تھے۔ وہ گھر بیٹھ کر تنخواہ نہیں بٹورتے تھے۔ مجھے اور میرے بھائی کو پڑھنے کا شوق تھا۔ ہم نے دل لگا کر پڑھا اور میٹرک میں اچھے نمبر لیے۔ پھر قریبی شہر سے پی ٹی سی کر کے گھر کے نزدیک سرکاری اسکولوں میں ہی بطور ٹیچر تعینات ہو گئے۔
میری منگنی بچپن میں تایا زاد احسن اور بھائی کی سگائی اسی تایا کی بیٹی سلیمہ سے ہو گئی تھی اور اب ہماری شادیوں کے تذکرے ہو رہے تھے کہ انہی دنوں کچھ بدخواہ رشتہ داروں نے ابا اور تایا کے بیچ غلط فہمیاں پیدا کر کے پھوٹ ڈلوا دی۔ اس پھوٹ کی ذمہ دار تائی تھیں جن کے ذریعے تایا کے کان بھرے جاتے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مکان اور زمین کے بٹوارے کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ابا اور تایا کے بیچ بدگمانی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں بھائیوں کا اتفاق، نفاق میں تبدیل ہو گیا۔ جو زمین مشترکہ تھی وہ اب گیارہ گیارہ بیگھے کے دو ٹکڑوں میں بٹی اور مکان پر یہ سمجھوتہ ہوا کہ تایا مکان لے لیں گے، بدلے میں وہ چار بیگھے زمین ہمیں دے دیں گے جس پر ایک کشادہ اور پکا مکان بھی بنا ہوا تھا، لیکن یہ زمین شہر سے کچھ دور تھی اور ہماری تائی کو ترکے میں ملی تھی۔ تائی نے ہی مکان کے بدلے اس سودے کی پیشکش کی تھی۔ والد چھوٹے بھائی ہونے کے ناتے بڑے بھائی کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ تائی کے خیال میں دور کی زمین اور مکان ان کے کسی کام کے نہ تھے، تبھی یہ پیشکش کی تھی، لیکن والد کو کچھ رشتہ داروں نے باور کرایا کہ تم وہ گھر اور زمین لے لو کیونکہ تم کو آدھے بیگھے پر تعمیر شدہ آدھے مکان کے بدلنے میں چار بیگھے مل رہے ہیں اور یہ زمین بھی آباد ہے۔ گھاٹے کا سودا نہیں ہے بلکہ تم فائدے میں رہو گے۔ والد صاحب جھگڑے اور تنازع سے بچنا چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے آبائی گھر سے دستبرداری قبول کر لی اور مکان تایا کے سپرد کر کے خود اپنی فیملی کے ساتھ کوٹ والے گھر میں منتقل ہو گئے۔
یہ جگہ بری نہ تھی لیکن شہر اور ہماری بستی سے کافی دور محسوس ہوتی تھی۔ ہمارے ارد گرد جو چار بیگھے تھے اس پر ہمارے گھر کے علاوہ کسی اور کا گھر نہ تھا اور نہ ہی کسی دوسرے کا مکان تعمیر ہو سکتا تھا۔ اسی وجہ سے ہمیں یہاں بہت تنہائی محسوس ہوتی تھی۔ دوسرا مسئلہ ہماری نوکریوں کا تھا۔ جن اسکولوں میں میں اور بھائی تعینات تھے وہ ہمارے پرانے گھر کے پاس تھے اور ہمیں وہاں کا سفر اختیار کرنے کے لیے مشقت درکار تھی۔ والد صاحب کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ میرا بھائی منصور اور ابا صبح تڑکے ناشتے کے بعد اسی پر چلے جاتے۔ ابا اپنی زمینوں پر جانے سے قبل منصور کو بوائز پرائمری اسکول اتار دیتے، لیکن میں گھر سے پیدل ہی ویگن اڈے جاتی۔ وہاں سے وہ ویگن ملتی تھی جو استانیوں کو اسکول تک لے جاتی تھی۔ یہ ویگن ہم خواتین ٹیچرز کے لیے ہی مخصوص تھی اور ڈرائیور کے سوا کوئی اور مرد اس پر سوار نہ ہوتا تھا۔ واپسی میں بھی یہی ویگن ہمیں اسکول سے اڈے پر اتار دیتی تھی۔
وہاں سے بھی یکے اور پھر پیدل گھر آنا پڑتا تھا۔ یکہ سڑک تک پہنچاتا، آگے گھر کا راستہ پگڈنڈی نما تھا اور یہ راستہ دشوار ترین تھا کیونکہ گرمیوں میں جب سورج کی تپش اور دھوپ کی حدت سے چیل بھی گھونسلے میں انڈا چھوڑ دیتی تھی، ناہموار زمین پر چل کر گھر تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ بہر حال ایسا سفر اکیلے مجھی کو درپیش نہ تھا، یہاں سیکڑوں لوگ اسی طرح سردی و گرمی میں سفر کرتے تھے۔ دیہاتی لوگ ویسے بھی سخت جان ہوتے ہیں۔ میں نے بھی حوصلہ نہیں ہارا کیونکہ گھر بیٹھ کر بور ہونے سے بہتر تھا کہ اسکول جا کر بچیوں کو تعلیم دوں اور اپنی ہم عمر خواتین ٹیچرز کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار وقت گزاروں۔ ایک روز اسکول سے ویگن اڈے لوٹ رہی تھی کہ راستے میں ایک پوٹلی پڑی ہوئی ملی۔ میں نے اسے اٹھا لیا، یہ کافی بھاری تھی۔ کھول کر دیکھا تو سونے کے زیورات جو دیہاتی طرز کے تھے اور نقدی اس میں موجود تھی۔ دل دھک دھک کرنے لگا، یا اللہ! یہ پوٹلی کس کی ہوگی؟ شاید انجانے میں گرمی میں اس بندے کو پتہ نہیں چلا۔ خیر، جو بھی تھا، اب یہ زیورات اور رقم میرے پاس تھی۔ سوچا اس کا کیا کرنا چاہیے۔ گھر لے جانے کا مطلب تھا کہ جس بیچارے کی تھی جو ادھر سے گزرا تھا، اس کی کھوئی ہوئی متاع یہاں سے ہمارے علاقے پہنچ جاتی تو ڈھونڈنے والے کی پہنچ سے بہت دور ہو جاتی۔ سوچا کہ اسی علاقے کی کسی مسجد سے اعلان کرا دینا چاہیے۔ جس کی ہوگی، نشانی بتا کر لے جائے گا۔
ہمارے علاقے کی مسجد سے اعلان کرایا تو پوٹلی کا مالک اس اعلان کو نہیں سن سکے گا۔ یہ خیال آتے ہی میں نے ویگن اڈے جانے کی بجائے تایا کے گھر کا رخ کر لیا تاکہ اسے تایا کے حوالے کر کے کہوں کہ آپ مسجد میں اعلان کرا کر اس متاع کے مالک کو تلاش کیجیے تاکہ مال اصل مالک کے پاس پہنچ جائے۔ میں نے پوٹلی تائی کو دکھائی اور کہا کہ مسجد میں اعلان کروا دیں۔ کہنے لگیں: “تمہارے تایا اور احسن تو گھر پر نہیں، رات کو آئیں گے۔” یہ کہہ کر انہوں نے پوٹلی میرے ہاتھ سے لے لی اور اس کو کھول کر دیکھا تو زیورات دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ “یہ تو خاصے وزنی ہیں۔” تائی کا زیورات اور نقدی دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔ انہوں نے کہا: “چھوڑو اعلان کو! یہ مال تمہیں اللہ نے دیا ہے، پڑا ہوا ملا ہے نا، تم نے چرایا تو نہیں ہے۔ ایسا کرتے ہیں کہ ہم مال آدھا آدھا کر لیتے ہیں۔ تمہارے والدین کو تمہاری شادی کے لیے زیورات کی ضرورت پڑے گی۔ جو آدھا مال میں رکھوں گی وہ بھی تم کو بہو بنا کر گھر لانے میں صرف ہو گا۔ زیور میں خود تو نہیں پہنوں گی۔ تمہاری ماں دیکھ لینا، زیور دیکھ کر خوش ہو جائے گی اور تمہارا باپ رقم دیکھ کر کھل اٹھے گا۔ ابھی کل ہی وہ تمہارے تایا سے کہہ رہا تھا کہ میں بکریاں بیچ کر سدرہ کی شادی کروں گا۔”
میں تائی کی بات سن کر پریشان ہو گئی کیونکہ آج ہی دینیات کی کتاب سے میں نے پانچویں کلاس کی بچیوں کو یہ سبق پڑھایا تھا کہ ایمانداری ایک اعلیٰ صفت ہے۔ ایماندار انسان کی ساری دنیا میں عزت ہوتی ہے۔ اس کو نہ صرف اس دنیا میں فلاح نصیب ہوتی ہے بلکہ آخرت میں بھی بڑا اجر ملتا ہے۔ میں نے کہا: “تائی جی! یہ زیورات اور رقم ہماری نہیں ہے اور نہ ہی ان چیزوں پر ہمارا حق بنتا ہے۔ یہ کسی کی ہمارے پاس امانت ہیں۔ ہمیں اس مال کے اصل مالک کو ضرور تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ آس پاس کی بستی کا رہائشی ہے کیونکہ پوٹلی مجھے اسکول سے نکلتے ہوئے تھوڑے سے فاصلے پر ملی ہے۔” “تم پاگل ہو! اتنی قیمتی چیزیں اللہ نے تم کو دی ہیں، انہیں واپس نہ کرو ورنہ بعد میں افسوس کرو گی۔” “تائی جی! میں بالکل افسوس نہیں کروں گی بلکہ مجھے خوشی ہوگی۔ کیا خبر وہ شخص ضرورت کے تحت ان زیورات کو فروخت کرنے جا رہا ہو۔ مجھے اس نیکی کا صلہ اگلے جہان میں ضرور ملے گا۔” “اگلے جہان کی باتیں ابھی سے! اے کم عمر لڑکی! پہلے اس جہان کو تو برت لے۔ مجھے بے ایمانی نہ سکھائیں تائی! ادھر لائیں، میں ابا کو دوں گی وہ خود امام مسجد کے پاس جا کر اعلان کرا دیں گے۔”
یہ کہہ کر میں نے کپڑے کی پوٹلی تائی سے جھپٹ لی۔ سامنے ہی تائی کا بھائی یہ منظر دیکھ رہا تھا، تائی نے اس کو اشارہ کیا تو وہ تیر کی سی تیزی سے چار پائی سے اٹھ کر میری جانب لپکا اور مجھے دہلیز پر دبوچ لیا، اپنے قابو میں کر کے پوٹلی جھپٹ لی اور مجھے گلی میں دھکا دے کر دروازہ بند کر لیا۔ سامنے سے تایا گھر کی سمت آ رہے تھے تو انہوں نے سرور کو مجھے دھکا دے کر گھر سے باہر نکالتے اور دروازہ بند ہوتے دیکھ لیا۔ وہ میرے قریب آگئے، پوچھا: “بیٹی! کیا ہوا ہے؟” میں نے من و عن ساری بات بتا دی۔ تایا کو بہت غصہ آیا۔ اسی وقت دروازہ دھڑا دھڑ بجایا۔ تائی نے کافی دیر تک نہ کھولا تو وہ چلا چلا کر پکارنے لگے کہ دروازہ کھولو ورنہ اچھا نہ ہوگا۔ مجھ سے کہا: “بیٹی! تم ابھی گھر چلی جاؤ، میں خود اس لالچی عورت سے نمٹ لوں گا اور مسجد میں اعلان بھی کرا دوں گا۔” تایا کا حکم تھا، مزید وہاں رکنا کٹھن تھا اور میں آنسو پی کر ویگن اڈے پہنچی۔ ویگن ابھی تک میرے انتظار میں چلی نہ تھی۔
میرے پہنچنے پر ڈرائیور نے خفگی کا اظہار کیا: “بی بی! اتنی دیر مت لگایا کرو۔ دوسری استانیاں شور مچاتی ہیں اگر میں ان کو لے کر چلا جاتا پھر تم کیسے گھر پہنچتیں؟” واقعی ویگن میں موجود استانیاں میرے انتظار میں گرمی سے بے حال تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی سوالات کی بوچھاڑ کر دی کہ کیوں اتنی دیر کر دی؟ پورا آدھا گھنٹہ لگا دیا ہے۔ دس پندرہ منٹ بھی گرمی میں قیامت کے گزرتے ہیں۔ میں نے سر جھکا لیا اور خاموشی سے ان کی لعن طعن برداشت کر لی کیونکہ دل میں ایک اور ہی درد سما چکا تھا۔ گھر پہنچ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔ والدہ کو کچھ نہ بتایا کیونکہ تایا کے بیٹے سے منگنی ہو چکی تھی، سوچا ابا آ جائیں تبھی زبان کھولوں گی۔ تائی احسن کی والدہ تھیں اور میں اپنے منگیتر سے پیار کرتی تھی۔ آدھی رات تک ابا گھر نہ آئے، ہم سب پریشان تھے کہ کیا ہوا؟ ایسی کیا افتاد پڑ گئی، اللہ خیر کرے! ابا منصور کو لے کر شام ڈھلنے سے قبل آ جاتے تھے۔
دوسری صبح دوپہر کے بعد آئے تو بہت غمزدہ تھے۔ کہنے لگے کہ تمہارے تایا نے بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے بہت روکا، سمجھایا مگر بڑے بھائی نہیں مانے کیونکہ ان کی بیوی نے قبول کر کے ہی نہ دیا کہ زیورات اور نقدی والی کوئی پوٹلی ان کے پاس موجود ہے۔ وہ مسلسل یہ کرتی رہیں کہ سدرہ جھوٹی ہے، یہ احسن سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے یہی بتانے آئی تھی کہ اس کے کسی اور سے ناجائز مراسم ہو گئے ہیں ورنہ اس کی یہ جرات کہ خود آ کر مجھ سے استدعا کرے کہ میرے بیٹے سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ جب میں نے کافی سمجھایا تو برا مان گئی اور جاتے ہوئے کہا کہ “تائی! تم سے ایسا بدلہ لوں گی یاد کرو گی۔” اسی لیے ایسی بیہودہ کہانی گھڑ کر اپنے تایا کو سنا دی ہے۔ تایا کو بیوی اور برادرِ نسبتی کی بات پر یقین نہیں آیا۔ وہ یہ جان چکے تھے کہ بیوی جھوٹ بول رہی ہے۔ انہوں نے خود سرور کو مجھے گلی میں دھکا دے کر دروازہ بند کرتے دیکھا تھا۔ میرے آنسو اس وقت میری صداقت کی گواہی دے رہے تھے۔ تبھی انہوں نے بیوی سے کہا تھا کہ پرایا مال واپس کرو تاکہ مسجد میں اعلان کرا دوں… ورنہ میں تمہیں گھر میں نہیں رکھوں گا۔ تائی انکار کر چکی تھی لہٰذا کسی صورت اپنا قصور نہ مانا، خود کو سچا اور مجھے جھوٹا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ تایا نے بالآخر طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا اور ابا کو کھیتوں سے بلوا لیا۔
ابا نے بھی تائی کو سمجھایا کہ مالِ حرام دوزخ کی آگ ہے۔ مالک نہ ملا تو بھی یہ مال ہم گھر میں نہ رکھیں گے، کچھ عرصہ انتظار کریں گے، بعد میں یتیم خانے میں دے دیں گے تاکہ یتیم بچیوں کی شادی میں صرف ہو جائے۔ تائی بھلا خود کو جھوٹا کیونکر ثابت کرتی؟ مسلسل انکاری رہیں، یہاں تک کہ تایا نے غصے میں طلاق دے دی اور سرور سے کہا کہ اپنی بے ایمان بہن کو لے کر ابھی یہاں سے نکل جاؤ۔ مجھے ایسے بے ایمان اور لالچی رشتہ داروں کی ضرورت نہیں ہے۔ ابا تایا کو سمجھاتے رہے مگر وہ نہیں مانے۔ یہ المیہ سہ کر وہ نڈھال سے گھر آگئے اور بولے: “بیٹی! تم کو تایا بہو ضرور بنائیں گے، لیکن مجھے بہت افسوس ہے کہ میرے بھائی کا گھر اجڑ گیا ہے۔ اے کاش! تم وہ پرایا مال زمین سے نہ اٹھاتیں! اٹھا لیا تھا تو تائی کے گھر جانے کے بجائے گھر لا کر میرے حوالے کیا ہوتا تو آج یہ المیہ وقوع پذیر نہ ہوتا۔”
.jpg)
