امیر مبارک گاؤں کا رہنے والا اور ہمارا دور کا رشتہ دار تھا۔ اس کے والد کی زمینیں اور باغات تھے، جن کی پیداوار پر ان کی گزر بسر ہوتی تھی۔ گاؤں میں ان دنوں کوئی اسکول نہیں تھا اور امیر مبارک کو پڑھنے کا شوق تھا، لہٰذا اس کے والد نے اپنے بیٹے کو گلگت کے ایک اسکول میں داخل کروا دیا۔ یوں وہ اپنے ماموں کے گھر رہنے لگا۔ جب وہ پہلی جماعت پاس کر کے اپنے گاؤں آیا، تو اس کی والدہ ایک اور بچے کو جنم دے کر فوت ہو گئیں۔ مبارک کے والد کو اپنی بیوی کی ناگہانی موت کا بے حد صدمہ ہوا، چنانچہ انہوں نے بیوی کی اس آخری نشانی کو اس طرح سینے سے لگا کر پرورش کی، جیسے مائیں کرتی ہیں۔
اس کشمکش میں پانچ سال گزر گئے اور مبارک کا چھوٹا بھائی، نیک نام بھی اسکول جانے کے قابل ہو گیا۔ باپ کے لاڈ پیار نے نیک نام کو ضدی اور خودسر بنا دیا تھا۔ وہ اسکول جانے سے جی چرانے لگا۔ اسے پڑھنے سے کوئی لگاؤ نہیں تھا، لیکن مبارک کی وجہ سے اس نے جیسے تیسے تین جماعتیں پاس کر لیں۔ دوسری طرف امیر مبارک نے اپنی پڑھائی جاری رکھی اور جب وہ میٹرک کا امتحان دے کر گاؤں واپس آیا، تو نیک نام بھی اس کے ساتھ ہی لوٹ آیا۔
جب چھٹیاں ختم ہو گئیں، تو باپ نے چھوٹے بیٹے سے کہا، “تم واپس جاؤ اور میٹرک کی تعلیم مکمل کر لو،” مگر اس نے واپس جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس نے ایسی ضد کی کہ باپ کو اس کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ آخر انہوں نے کوئی چارہ نہ دیکھ کر اسے زمینوں کے کام پر لگا دیا۔ کچھ دن بعد امیر مبارک کا رزلٹ آ گیا اور اس نے اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کر لیا۔ جب اس نے والد صاحب سے کالج میں داخلے کی بات کی، تو انہوں نے کہا، “شادی کے بعد کراچی جا کر پڑھنا۔” یوں اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور اس کی شادی زربخت سے ہو گئی۔ زربخت بہت حسین تھی اور وہ اس کے ماموں کی بیٹی تھی۔ شادی کے بعد وہ کراچی آیا اور داخلے کے لیے درخواست دی، مگر تاریخ نکل جانے کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا، تو وہ دوبارہ گاؤں آ گیا اور زربخت کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی میں کھو گیا۔
اس کشمکش میں پانچ سال گزر گئے اور مبارک کا چھوٹا بھائی، نیک نام بھی اسکول جانے کے قابل ہو گیا۔ باپ کے لاڈ پیار نے نیک نام کو ضدی اور خودسر بنا دیا تھا۔ وہ اسکول جانے سے جی چرانے لگا۔ اسے پڑھنے سے کوئی لگاؤ نہیں تھا، لیکن مبارک کی وجہ سے اس نے جیسے تیسے تین جماعتیں پاس کر لیں۔ دوسری طرف امیر مبارک نے اپنی پڑھائی جاری رکھی اور جب وہ میٹرک کا امتحان دے کر گاؤں واپس آیا، تو نیک نام بھی اس کے ساتھ ہی لوٹ آیا۔
جب چھٹیاں ختم ہو گئیں، تو باپ نے چھوٹے بیٹے سے کہا، “تم واپس جاؤ اور میٹرک کی تعلیم مکمل کر لو،” مگر اس نے واپس جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس نے ایسی ضد کی کہ باپ کو اس کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ آخر انہوں نے کوئی چارہ نہ دیکھ کر اسے زمینوں کے کام پر لگا دیا۔ کچھ دن بعد امیر مبارک کا رزلٹ آ گیا اور اس نے اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کر لیا۔ جب اس نے والد صاحب سے کالج میں داخلے کی بات کی، تو انہوں نے کہا، “شادی کے بعد کراچی جا کر پڑھنا۔” یوں اس کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور اس کی شادی زربخت سے ہو گئی۔ زربخت بہت حسین تھی اور وہ اس کے ماموں کی بیٹی تھی۔ شادی کے بعد وہ کراچی آیا اور داخلے کے لیے درخواست دی، مگر تاریخ نکل جانے کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا، تو وہ دوبارہ گاؤں آ گیا اور زربخت کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی میں کھو گیا۔
ادھر نیک نام صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کرتا اور جب تھک ہار کر شام کو گھر آتا، تو مبارک اور زربخت کو خوش گپیاں کرتے دیکھ کر غصے سے لال پیلا ہو جاتا، مگر مبارک اس کی اس ناگواری کو نظر انداز کر دیتا۔ اور وہ ایسا کیوں نہ کرتا؟ صبح سے شام تک کھیتوں میں محنت کر کے گھر کا خرچہ وہی تو چلاتا تھا اور اسی کی محنت کے بل بوتے پر مبارک ملک کے سب سے بڑے شہر میں پڑھ رہا تھا۔ جب سال ختم ہونے کو آیا تو مبارک دوبارہ شہر گیا اور اس بار اس کا داخلہ ہو گیا۔ اس نے سالِ اول اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ ابھی سالِ دوم کی کلاسیں شروع ہی ہوئی تھیں کہ اسے خوش خبری ملی کہ وہ ایک بچے کا باپ بن گیا ہے۔ خط پڑھ کر اسے بے حد خوشی ہوئی اور وہ بے صبری سے انتظار کرنے لگا کہ کب چھٹیاں ہوں اور وہ اپنے بچے کا منہ دیکھے۔
خدا خدا کر کے اس کے امتحانات آ گئے اور امتحان دینے کے بعد وہ گاؤں آ گیا۔ اس کے آنے کی خوشی سبھی کو تھی، مگر نیک نام اس کی واپسی پر خوش نہ تھا۔ کبھی کبھی تو وہ ایسے طنزیہ جملے بولتا کہ مبارک کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ بار بار کہتا، “میری کمائی پر عیش کر رہے ہو۔ میں یہاں خون پسینہ ایک کر کے پیسے کماتا ہوں اور ابا جان میری محنت کو تمہاری پڑھائی کے نام پر لٹا دیتے ہیں۔ تمہاری بیوی اور بچے کا بوجھ بھی میرے ہی کندھوں پر ہے۔ اگر تم ان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے، تو شادی کیوں کی تھی؟” مبارک ان باتوں پر دل ہی دل میں کڑھتا، مگر اس نے کبھی والد سے شکایت نہیں کی۔ البتہ جب وہ زربخت کو نیک نام کی باتیں بتاتا، تو وہ امیر مبارک کی حمایت کرنے کے بجائے نیک نام کی تعریف شروع کر دیتی کہ “وہ تو بہت اچھا ہے، تمہاری پڑھائی اور تمہارے بچے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ اس کے اپنے کون سے بچے رو رہے ہیں؟” زربخت کی یہ باتیں سن کر مبارک دم بخود رہ جاتا اور خود کو اس گھر میں اجنبی محسوس کرنے لگتا۔ اسے ایسا لگتا جیسے زربخت کو اس سے زیادہ اپنے دیور کا خیال ہو۔
اسی رسہ کشی میں اس کا رزلٹ آ گیا۔ وہ والد سے مشورہ کر کے واپس شہر آ گیا۔ کلاسیں شروع ہو گئیں اور ابھی امتحانات میں ایک ماہ باقی تھا کہ اسے ماموں جان کا خط ملا، جس میں والد کے انتقال کی خبر درج تھی۔ وہ دوسرے ہی دن گاؤں کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچا تو تدفین کی تمام رسومات ادا کی جا چکی تھیں اور وہ والد کے آخری دیدار سے بھی محروم رہ گیا۔ اب تاثر صرف والد کا سہارا تھا جن کے بل بوتے پر وہ پڑھ رہا تھا، مگر اب پڑھائی چھوڑ کر زمینوں پر محنت کرنا اس کا مقدر بن چکا تھا۔ نیک نام تو پہلے ہی اس سے خار کھاتا تھا۔ ایک روز جب مبارک نے نیک نام سے زمینوں کے کاغذات کے بارے میں پوچھا، تو اس نے کاغذات لہراتے ہوئے کہا، “زمین اسی کی ہوتی ہے جو اس پر اپنا پسینہ بہاتا ہے۔
خدا خدا کر کے اس کے امتحانات آ گئے اور امتحان دینے کے بعد وہ گاؤں آ گیا۔ اس کے آنے کی خوشی سبھی کو تھی، مگر نیک نام اس کی واپسی پر خوش نہ تھا۔ کبھی کبھی تو وہ ایسے طنزیہ جملے بولتا کہ مبارک کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ بار بار کہتا، “میری کمائی پر عیش کر رہے ہو۔ میں یہاں خون پسینہ ایک کر کے پیسے کماتا ہوں اور ابا جان میری محنت کو تمہاری پڑھائی کے نام پر لٹا دیتے ہیں۔ تمہاری بیوی اور بچے کا بوجھ بھی میرے ہی کندھوں پر ہے۔ اگر تم ان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے، تو شادی کیوں کی تھی؟” مبارک ان باتوں پر دل ہی دل میں کڑھتا، مگر اس نے کبھی والد سے شکایت نہیں کی۔ البتہ جب وہ زربخت کو نیک نام کی باتیں بتاتا، تو وہ امیر مبارک کی حمایت کرنے کے بجائے نیک نام کی تعریف شروع کر دیتی کہ “وہ تو بہت اچھا ہے، تمہاری پڑھائی اور تمہارے بچے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ اس کے اپنے کون سے بچے رو رہے ہیں؟” زربخت کی یہ باتیں سن کر مبارک دم بخود رہ جاتا اور خود کو اس گھر میں اجنبی محسوس کرنے لگتا۔ اسے ایسا لگتا جیسے زربخت کو اس سے زیادہ اپنے دیور کا خیال ہو۔
اسی رسہ کشی میں اس کا رزلٹ آ گیا۔ وہ والد سے مشورہ کر کے واپس شہر آ گیا۔ کلاسیں شروع ہو گئیں اور ابھی امتحانات میں ایک ماہ باقی تھا کہ اسے ماموں جان کا خط ملا، جس میں والد کے انتقال کی خبر درج تھی۔ وہ دوسرے ہی دن گاؤں کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچا تو تدفین کی تمام رسومات ادا کی جا چکی تھیں اور وہ والد کے آخری دیدار سے بھی محروم رہ گیا۔ اب تاثر صرف والد کا سہارا تھا جن کے بل بوتے پر وہ پڑھ رہا تھا، مگر اب پڑھائی چھوڑ کر زمینوں پر محنت کرنا اس کا مقدر بن چکا تھا۔ نیک نام تو پہلے ہی اس سے خار کھاتا تھا۔ ایک روز جب مبارک نے نیک نام سے زمینوں کے کاغذات کے بارے میں پوچھا، تو اس نے کاغذات لہراتے ہوئے کہا، “زمین اسی کی ہوتی ہے جو اس پر اپنا پسینہ بہاتا ہے۔
یہ دیکھو کاغذات، ابا جان نے مرنے سے پہلے ہی ساری جائیداد میرے نام لکھ دی تھی۔” یہ سن کر مبارک بھونچکا رہ گیا۔ اس نے جلدی جلدی کاغذات دیکھے تو نیک نام کا کہنا درست تھا؛ والد صاحب نے اس کی محنت کے صلے میں پوری جائیداد اسی کے نام کر دی تھی۔ امیر مبارک کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ اسے تعلیم کی دولت سے بہرہ مند کر چکے ہیں۔ جب اس نے والد صاحب کی اس وصیت کے بارے میں زربخت کو بتایا، تو وہ خوش ہو کر بولی، “یہ تو بہت اچھا کیا ابا جان نے! تم پڑھے لکھے ہو، تمہیں جائیداد کی کیا ضرورت ہے؟ تمہیں تو کئی اچھی نوکریاں مل سکتی ہیں، تم بھوکے نہیں مرو گے اور پھر تم کہاں کسانوں کی طرح مغز ماری کرو گے؟ یہ تو نیک نام ہی کا کام ہے۔” وہ زربخت کی یہ باتیں سن کر گہرے شک و شبہ میں پڑ گیا۔
اس کے بعد بھی کئی بار اس کی اور نیک نام کی ہلکی پھلکی جھڑپ ہوئی، مگر ہر بار زربخت نے اپنے دیور کی حمایت کر کے معاملے کو ٹھنڈا کر دیا۔ زربخت کی اس بے جا حمایت نے مبارک کو کچھ اور ہی سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب وہ ہر وقت یہی ایک بات سوچتا رہتا۔ سوچتے سوچتے اس کے دل میں شیطان نے جگہ بنا لی اور وہ ایک قاتل کے روپ میں اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ شیطانی وسوسوں نے اس کے ارادوں کو پختہ کر دیا تھا، جنہیں ایک عورت کی حمایت نے شک و شبہ کا روپ دیا تھا۔ اب وہ اپنی روح کی اس بے چینی سے چھٹکارا پانے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔ اس نے منصوبہ بنا لیا تھا کہ نیک نام کو قتل کر کے اس کی جیب میں ایک ایسا خط ڈال دیا جائے، جس سے یہ ثابت ہو کہ نیک نام کو کسی غیرت مند شوہر نے قتل کیا ہے، جس کی بیوی کے ساتھ نیک نام کے ناجائز مراسم تھے۔ وہ ہفتہ بھر انتظار کرتا رہا اور اپنی ہی لگائی ہوئی حسد کی آگ میں جلتا رہا، یہاں تک کہ وہ موقع آ ہی گیا۔
ہفتے کے آخر میں نیک نام برابر کے گاؤں سے واجبات وصول کرنے جاتا تھا۔ وہ دوسرا گاؤں ندی کے پار تھا، اس لیے مبارک نے اپنی مکمل تیاری کر لی۔ ہفتے کا آخری دن تھا؛ وہ صبح سویرے اٹھ کر پرانے سامان کے اسٹور سے ایک بھاری لوہے کی سلاخ نکال لایا، پھر ندی کے کنارے درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر نیک نام کا انتظار کرنے لگا۔ جب اسے نیک نام دور سے آتا دکھائی دیا، تو امیر مبارک سنبھل کر بیٹھ گیا۔ آج شیطان مکمل تیاری کے ساتھ اس کے کندھوں پر سوار تھا اور اس پر قتل کا جنون اس طرح چھا چکا تھا کہ وہ اتنا بھی نہ سوچ سکا کہ جسے وہ قتل کرنے جا رہا ہے، وہ اس کا اپنا سگا بھائی ہے۔ جیسے ہی نیک نام قریب آیا، مبارک ذرا پیچھے ہٹا اور دبے قدموں آگے بڑھ کر فولادی سلاخ پوری طاقت سے اس کے سر پر دے ماری۔ اس اچانک حملے سے نیک نام کی چیخ نکل گئی اور وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے دھڑام سے نیچے گر گیا۔ مبارک نے مزید چند وار اس کے پیٹ پر کیے اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ پھر اس نے وہ خط نکال کر اس کی جیب میں ڈالا اور انتہائی اطمینان کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔
امیر مبارک کو پورا یقین تھا کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ شام کو لاش دیکھ کر چند راہگیر وہاں جمع ہوئے اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ جب لاش گھر لائی گئی، تو بھائی کی موت پر اس نے جھوٹ موٹ کے آنسو بہائے، جبکہ زربخت تو ایسے رو رہی تھی جیسے اس کا اپنا شوہر مر گیا ہو۔ پولیس نے مبارک سے کچھ سوال جواب کیے، جن میں سے کچھ جائیداد کے متعلق تھے۔ اس نے بڑے اطمینان سے جوابات دیے، جس سے جائیداد کے تنازع کے بارے میں پولیس کے دل میں جو شک تھا، وہ ختم ہو گیا۔ اب پولیس کو ایسے شخص کی تلاش تھی جس کی بیوی کے ساتھ نیک نام کے غلط مراسم تھے۔
اس کے بعد بھی کئی بار اس کی اور نیک نام کی ہلکی پھلکی جھڑپ ہوئی، مگر ہر بار زربخت نے اپنے دیور کی حمایت کر کے معاملے کو ٹھنڈا کر دیا۔ زربخت کی اس بے جا حمایت نے مبارک کو کچھ اور ہی سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اب وہ ہر وقت یہی ایک بات سوچتا رہتا۔ سوچتے سوچتے اس کے دل میں شیطان نے جگہ بنا لی اور وہ ایک قاتل کے روپ میں اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ شیطانی وسوسوں نے اس کے ارادوں کو پختہ کر دیا تھا، جنہیں ایک عورت کی حمایت نے شک و شبہ کا روپ دیا تھا۔ اب وہ اپنی روح کی اس بے چینی سے چھٹکارا پانے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔ اس نے منصوبہ بنا لیا تھا کہ نیک نام کو قتل کر کے اس کی جیب میں ایک ایسا خط ڈال دیا جائے، جس سے یہ ثابت ہو کہ نیک نام کو کسی غیرت مند شوہر نے قتل کیا ہے، جس کی بیوی کے ساتھ نیک نام کے ناجائز مراسم تھے۔ وہ ہفتہ بھر انتظار کرتا رہا اور اپنی ہی لگائی ہوئی حسد کی آگ میں جلتا رہا، یہاں تک کہ وہ موقع آ ہی گیا۔
ہفتے کے آخر میں نیک نام برابر کے گاؤں سے واجبات وصول کرنے جاتا تھا۔ وہ دوسرا گاؤں ندی کے پار تھا، اس لیے مبارک نے اپنی مکمل تیاری کر لی۔ ہفتے کا آخری دن تھا؛ وہ صبح سویرے اٹھ کر پرانے سامان کے اسٹور سے ایک بھاری لوہے کی سلاخ نکال لایا، پھر ندی کے کنارے درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر نیک نام کا انتظار کرنے لگا۔ جب اسے نیک نام دور سے آتا دکھائی دیا، تو امیر مبارک سنبھل کر بیٹھ گیا۔ آج شیطان مکمل تیاری کے ساتھ اس کے کندھوں پر سوار تھا اور اس پر قتل کا جنون اس طرح چھا چکا تھا کہ وہ اتنا بھی نہ سوچ سکا کہ جسے وہ قتل کرنے جا رہا ہے، وہ اس کا اپنا سگا بھائی ہے۔ جیسے ہی نیک نام قریب آیا، مبارک ذرا پیچھے ہٹا اور دبے قدموں آگے بڑھ کر فولادی سلاخ پوری طاقت سے اس کے سر پر دے ماری۔ اس اچانک حملے سے نیک نام کی چیخ نکل گئی اور وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے دھڑام سے نیچے گر گیا۔ مبارک نے مزید چند وار اس کے پیٹ پر کیے اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ پھر اس نے وہ خط نکال کر اس کی جیب میں ڈالا اور انتہائی اطمینان کے ساتھ گھر واپس آ گیا۔
امیر مبارک کو پورا یقین تھا کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ شام کو لاش دیکھ کر چند راہگیر وہاں جمع ہوئے اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ جب لاش گھر لائی گئی، تو بھائی کی موت پر اس نے جھوٹ موٹ کے آنسو بہائے، جبکہ زربخت تو ایسے رو رہی تھی جیسے اس کا اپنا شوہر مر گیا ہو۔ پولیس نے مبارک سے کچھ سوال جواب کیے، جن میں سے کچھ جائیداد کے متعلق تھے۔ اس نے بڑے اطمینان سے جوابات دیے، جس سے جائیداد کے تنازع کے بارے میں پولیس کے دل میں جو شک تھا، وہ ختم ہو گیا۔ اب پولیس کو ایسے شخص کی تلاش تھی جس کی بیوی کے ساتھ نیک نام کے غلط مراسم تھے۔
مبارک کو یہ خوف بھی نہ تھا کہ اسے تحریر سے پکڑ لیا جائے گا، کیونکہ یہ تمام کام اس نے دستانے پہن کر کیا تھا۔ ایک ماہ بعد جب زربخت نے میکے جانے پر اصرار کیا، تو امیر مبارک نے جواب دیا کہ وہ پریشانیوں کی وجہ سے فی الحال اس کے ساتھ نہیں جا سکتا، لہٰذا وہ اکیلی ہی چلی جائے۔ اس کے تین دن بعد پولیس دوبارہ آئی، جسے دیکھ کر وہ ذرا بھی نہ گھبرایا کیونکہ اس کی نظر میں معاملہ صاف تھا، مگر پولیس دراصل اسے گرفتار کرنے آئی تھی۔ جب اس نے گرفتاری کی وجہ پوچھی، تو انہوں نے جواب دیا، “پولیس اسٹیشن چلو، وہیں بتائیں گے۔” وہاں پہنچ کر انسپکٹر نے جو کچھ بتایا، اس پر یقین کرنے کو اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ انسپکٹر نے کہا، “کل تمہاری بیوی نے اپنے اور نیک نام کے ناجائز مراسم کا اعتراف کر لیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ غیرت مند شوہر تم ہی ہو، جس نے اپنی غیرت کی خاطر اپنے بھائی کا خون کر ڈالا۔”
یہ سن کر امیر مبارک کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور اسے چکر آنے لگے۔ اس نے جیسے تیسے خود کو سنبھالا اور اس کے دل میں جو شک تھا، وہ اب یقین میں بدل چکا تھا۔ اس کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اس نے زمینوں کے کاغذات اپنے چھوٹے ماموں کے حوالے کر دیے اور کہا، “ساری جائیداد بیچ کر کوئی اچھا سا وکیل کر لیں، کیونکہ مجھے اس کیس سے ہر صورت میں رہائی حاصل کرنی ہے۔” اس کا مقدمہ تین سال تک چلا اور عدالت نے اسے غیرت کا رکھوالا سمجھ کر بری کر دیا گیا۔ جیل سے رہا ہو کر وہ گلگت اپنے ماموں کے پاس رہنے لگا۔ ایک ماہ بعد وہ ماموں سے کچھ رقم ادھار لے کر شہر آ گیا اور اپنے ماضی کو وہیں دفن کر دیا۔ بڑی کوشش کے بعد اسے ایک مل (Mill) میں نوکری مل گئی، اور اس کے بعد اس نے اپنی بیوی اور بچے کی صورت کبھی نہ دیکھی۔ اس نے خود سے کہا، “اب اس پھول کو سونگھنے سے کیا حاصل، جس میں کوئی خوشبو ہی نہ ہو۔”
اس نے اپنی یہ دردناک کہانی کبھی کسی کو نہیں بتائی، لیکن اس کے گاؤں والوں کو اس کی کہانی کا انجام ضرور معلوم تھا کہ جرم کبھی چھپتا نہیں۔
یہ سن کر امیر مبارک کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور اسے چکر آنے لگے۔ اس نے جیسے تیسے خود کو سنبھالا اور اس کے دل میں جو شک تھا، وہ اب یقین میں بدل چکا تھا۔ اس کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اس نے زمینوں کے کاغذات اپنے چھوٹے ماموں کے حوالے کر دیے اور کہا، “ساری جائیداد بیچ کر کوئی اچھا سا وکیل کر لیں، کیونکہ مجھے اس کیس سے ہر صورت میں رہائی حاصل کرنی ہے۔” اس کا مقدمہ تین سال تک چلا اور عدالت نے اسے غیرت کا رکھوالا سمجھ کر بری کر دیا گیا۔ جیل سے رہا ہو کر وہ گلگت اپنے ماموں کے پاس رہنے لگا۔ ایک ماہ بعد وہ ماموں سے کچھ رقم ادھار لے کر شہر آ گیا اور اپنے ماضی کو وہیں دفن کر دیا۔ بڑی کوشش کے بعد اسے ایک مل (Mill) میں نوکری مل گئی، اور اس کے بعد اس نے اپنی بیوی اور بچے کی صورت کبھی نہ دیکھی۔ اس نے خود سے کہا، “اب اس پھول کو سونگھنے سے کیا حاصل، جس میں کوئی خوشبو ہی نہ ہو۔”
اس نے اپنی یہ دردناک کہانی کبھی کسی کو نہیں بتائی، لیکن اس کے گاؤں والوں کو اس کی کہانی کا انجام ضرور معلوم تھا کہ جرم کبھی چھپتا نہیں۔

