قیدی عورت


ہماری بستی میں تاج سب سے سگھڑ عورت تھی۔ اس کا گارے مٹی سے بنا ہوا کچا گھر اتنا صاف ستھرا تھا کہ تنکا بھی پڑا ہوا نظر آ جاتا۔ وہ تمام دن اپنے گھر کو بنانے سنوارنے میں لگی رہتی تھی۔ دیہاتی عورتوں کو صفائی ستھرائی کا زیادہ شعور نہیں ہوتا، لیکن تاج کے خاوند اور بچوں کے کپڑے اجلے اور بے داغ ہوتے تھے۔ کھانا پکانے میں بھی اس عورت کا جواب نہیں تھا۔ مٹی کی ہانڈی میں تھوڑا سا مکھن ڈال کر جب وہ دھیمی دھیمی آنچ پر ترکاری بناتی، تو اس کی مہک دور دور تک جاتی تھی۔
sublimegate
ہمارا قصبہ شہر سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ تعلیم کی روشنی بڑھی، تو جہالت کا گھور اندھیرا بھی چھٹنے لگا۔ اب لڑکے کچھ نہ کچھ پڑھ لکھ لیتے تھے، لیکن لڑکیوں کے لیے ابھی تعلیم کے در وا نہیں ہوئے تھے۔ تاج بھی ایک ان پڑھ، مگر باشعور اور معاملہ فہم عورت تھی۔ سچ ہے، قدرت کسی کسی کو ایسی عقل عطا کر دیتی ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود ان میں تعلیم یافتہ لوگوں جیسی خوبی ہوتی ہے اور بعض کوڑھ مغز ایسے ہوتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم بھی ان پر کوئی اثر نہیں کرتی۔ بستی میں جب کسی گھر میں ساس بہو کا جھگڑا ہوتا یا خاندانوں میں ان بن ہو جاتی، تو وہ تاج کو ثالث بنا لیتے۔ وہ اپنی بستی کے اکثر گھروں کے مسائل معاملہ فہمی کی بنا پر حل کر دیا کرتی تھی۔ اس کی ذہانت کے جتنے مداح تھے، اتنے ہی بد خواہ بھی تھے، لیکن وہ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتی تھی کیونکہ اس کی نیت صاف تھی۔

جن دنوں تاج کی منگنی ہوئی، مسلمان بھرپور طریقے سے پاک وطن حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے، پھر اس کی سردارے سے شادی ہو گئی۔ ابھی وہ نئی دلہن ہی تھی کہ تحریکِ پاکستان زور پکڑ گئی۔ دفعتاً فساد کی آگ بھڑک اٹھی اور اس ہنستے بستے خانوادے کو پاک وطن کی طرف کوچ کرنا پڑا۔ وہ سب بہت خوش تھے کہ اپنے خوابوں کی سرزمین کو جا رہے ہیں، جہاں انہیں ہندوؤں اور سکھوں کا خوف نہ ستائے گا۔ ہزاروں لوگوں کو ہجرت کے دوران آگ اور خون کے دریا سے گزرنا پڑا، سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں، لیکن کچھ لوگوں پر اللہ کا خاص کرم تھا کہ وہ بحفاظت اپنے وطن کی سرحد پار کر آئے۔ ان ہی میں تاج کے شوہر سردارے کا خانوادہ بھی تھا۔

پاکستان آ کر انہیں پنجاب کے ایک گاؤں میں سر چھپانے کی جگہ ملی۔ مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلے میں کلیم وصول کیے جا رہے تھے، سردارے نے بھی اپنی اور اپنے بھائیوں کی زمینوں کا کلیم داخل کر دیا، جو فوراً منظور ہو گیا۔ یہ جتنی زمین فیروز پور کے قریبی گاؤں میں چھوڑ کر آئے تھے، ان کو اس سے کچھ زیادہ زمین مل گئی۔ محنتی لوگ تھے، بہت جلد انہوں نے اس زمین کو ایک زرخیز قطعہ اراضی میں بدل لیا۔ پہلے پہل تو تینوں بھائیوں نے مل کر محنت کی، مگر چند سالوں بعد انہیں زمین کے بٹوارے کا خیال آیا۔ سردارا بڑا تھا، اس نے زمین کو خود ہی تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اب یہ تینوں علیحدہ علیحدہ اپنے حصے کی زمین کا انتظام سنبھالنے لگے۔

اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے۔ زمین ایک جیسی اور رقبہ برابر تھا، مگر سردارے کی زمین سے زیادہ پیداوار ہو رہی تھی۔ وہ باقی دونوں بھائیوں کی نسبت تیزی سے خوشحال ہونے لگا۔ اب اس کا شمار بستی کے اہم ترین لوگوں میں ہونے لگا۔ لوگ اس کی عزت اس کے بھائیوں سے زیادہ کرتے تھے۔ خوشحالی کی ایک وجہ تاج کی فراست بھی تھی، جو ہمہ وقت چاق و چوبند رہتی تھی اور شوہر کے کاموں میں نہ صرف ہاتھ بٹاتی، بلکہ اس کو مفید مشوروں سے بھی نوازتی تھی۔ ان کے پانچ بچے ہو گئے تھے، جن کی پرورش پر اس نے تمام توانائی صرف کر دی تھی۔ سردارے اور اس کے خانوادے کو اب اپنا پرانا گھر اور گاؤں یاد نہ رہا تھا کیونکہ وہ یہاں آ کر زیادہ خوش اور آسودہ حال ہو گئے تھے۔ سردارا، تاج سے خوش تھا۔ زندگی کے سرد و گرم میں اس صابر عورت نے اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ اس کو اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا بہت شوق تھا۔ وہ مستقبل میں اپنے بیٹے کو تھانیدار کی وردی میں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ غریبوں کے نجات دہندہ اور انصاف دلانے والے ہوتے ہیں، نیز گاؤں میں بھی عزت اور دبدبہ ہوتا تھا۔

ان دنوں ہماری بستی میں علم کے حصول کو عیب گردانا جاتا تھا، پھر بھی وہ اپنے بچوں کو خود اسکول چھوڑنے اور لینے جاتی تھی اور اس معاملے میں کسی کی پروا نہیں کرتی تھی، لیکن ایک دن ایسا بھی آیا کہ پھر انہی قانون کے محافظوں نے، جن کا وہ دل سے احترام کرتی تھی، اس کے اس بھرم کو خاک میں ملا دیا۔ انہی دنوں، جب تاج اپنے گھر میں چین کی بنسی بجا رہی تھی، اس کے اکلوتے بھائی کا انتقال ہو گیا، جو اس کے دکھ سکھ کا تنہا وارث تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا، جس کا نام ظفر تھا۔ تاج نے یتیم بھتیجے کو اپنے پاس رکھ لیا۔ یہ بات اس کے دیوروں کو ناگوار گزری، کیونکہ ظفر بھی تھوڑی بہت زرعی زمین کا مالک تھا اور اس زمین پر خاندان کے کچھ لوگوں کی نظر تھی۔

تاج کے دیور منظور کو یہ خدشہ ہوا کہ کہیں تاج ظفر سے اپنی بیٹی کا بیاہ نہ کر دے۔ دیہات میں چھوٹی سی عمر میں ہی لڑکیوں کی شادیاں کر دی جاتی ہیں۔ تاج کی بیٹی ان دنوں آٹھ نو برس کی تھی کہ منظور نے زیب کو بہو بنانے کا تقاضا شروع کر دیا۔ تاج نے اس کو سمجھایا کہ لڑکی ابھی چھوٹی ہے۔ ہمیں کچھ مہلت دو، میں ابھی اس کو تعلیم دلانا چاہتی ہوں۔ منظور نے جواب دیا کہ بھاوج! بھلا لڑکی کو پڑھا کر کیا کرنا ہے؟ کیا اس نے شہر جا کر فلموں میں کام کرنا ہے؟ انہوں نے بمشکل تمام اس کو پانچ جماعتیں پاس کرنے دیں اور شادی کی تاریخ لینے آ گئے۔ بالآخر تاج کو کم سنی میں ہی اسے بیاہنا پڑا کیونکہ وہ سسرال والوں کی ضد اور ان کے مزاج کو جانتی تھی۔ شادی کے وقت زیب کی عمر صرف دس برس تھی، جبکہ اس کا دولہا ریاض بیس برس کا کڑیل جوان تھا۔ تاج کا خیال تھا کہ وہ رخصتی کے چند دن بعد داماد کی منت سماجت کر کے اس کو منا لے گی اور زیب کی تعلیم کا سلسلہ جاری کرا دے گی، مگر ریاض کو زیب کی تعلیم سے کوئی غرض نہ تھی۔ اس نے خود کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ اس کی بیوی پانچ جماعتیں پاس تھی، یہی بات اس کے لیے کسی طعنے سے کم نہ تھی۔ بات بے بات وہ زیب پر طنز کیا کرتا تھا کہ تم تو پانچ جماعت پاس ہو، تبھی دماغ آسمان پر رہتا ہے۔ ذرا کام میں دیر ہو جاتی تو کہتا، اس لڑکی کو تعلیم کا نخرہ ہے، اس کا دل گھر کے کاموں میں کیسے لگے گا۔ اس نے تو پڑھ لکھ کر فلموں میں کام کرنا ہے، گویا پڑھنے لکھنے سے لڑکیاں فلموں میں کام کرنے لگتی ہیں۔ یہ ان کی سوچ تھی۔ تبھی زیب اس وقت کو کوس کر رہ جاتی تھی، جب اس نے اسکول میں داخلہ لیا تھا۔

ظفر میٹرک میں تھا، جب تاج نے اس کا گھر بسا دیا کیونکہ اب وہ کھیتوں کو خود سنبھالنے کے لائق ہو گیا تھا۔ طاہر کو البتہ انہوں نے شہر کے کالج روانہ کر دیا۔ باقی بچے ابھی چھوٹے تھے اور بستی کے اسکول جاتے تھے۔ ظفر بھی اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس کی بیوی بھی تاج کی عزت کرتی تھی، کیونکہ تاج اس کے ساتھ پیار بھرا سلوک کرتی تھی۔ طاہر صرف چھٹی کے دنوں بستی آتا تھا۔ وہ کافی ذہین اور ہوشیار طالب علم تھا۔ ماں اس کی کامیابی کے لیے دن رات دعائیں کرتی تھی۔ یہ دن بہت اچھے اور خوشحال گزر رہے تھے کہ اچانک ان کی ہنستی بستی گرہستی میں بھونچال آ گیا اور بدخواہوں کی بددعائیں قبول ہو گئیں۔ عقل مند تاج اپنے بکھرے ہوئے گھرانے کو نہ سنبھال سکی۔ یوں بے رحم اور سفاک معاشرے میں رائج جنگل کے قانون نے اس کے خوبصورت آشیانے کو تنکا تنکا کر دیا۔ جیسا کہ میں بتا چکی ہوں کہ سردارا اپنی زمین پر ان تھک محنت کرتا تھا اور اس کے گھر خوشحالی بڑھ رہی تھی۔ یہ خوشحالی اس کے بھائیوں کے دل میں چبھتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سردارے نے اچھی والی زمین خود رکھ لی ہے اور خراب ٹکڑا ہمیں دے دیا۔ ان کے لیے سردارے کی بڑھتی ہوئی خوشحالی عذاب بن گئی۔ وہ اس کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ اس سازش میں انہوں نے تاج کے داماد کو بھی شامل کر لیا۔ بھائیوں نے سوچا کہ اب سردارے کو ہٹا ہی دینا چاہیے۔ اگر یہ نہ رہا تو پھر سونا اگلتی زمین پر قابض ہونا آسان ہو جائے گا۔ اگلے دن انہوں نے اپنی سفاک سوچ پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ وہ رات کو سردارے کے گھر گئے کیونکہ دودھ پینے کا یہی وقت تھا۔ جب وہ سردارے کے ساتھ روٹی کھا چکے، تو کافی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ سردارے کی عادت تھی کہ سونے سے چند منٹ پہلے دودھ کا گلاس پیتا، پھر چارپائی پر لیٹ جاتا تھا۔ جب اس کو جمائیاں آنے لگیں، تو اس نے تاج سے کہا: “دودھ ٹھنڈا ہو گیا ہو تو مجھ کو لا دو۔” بدقسمتی سے اسی وقت ظفر کی بیوی نے اس کو آواز دی۔ وہ کمرے میں چلی گئی اور منظورے کو دودھ میں زہر ملانے کا موقع مل گیا۔ سب کی آنکھ بچا کر اس نے گڑوی میں سفوف ملا دیا، جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔

اس وقت سردارا چارپائی پر لیٹا ہوا دوسرے بھائی سے باتوں میں مگن تھا۔ اس کی پشت منظورے کی جانب تھی۔ تاج کمرے سے آئی تو اس نے گڑوی سے دودھ کا گلاس بھر کر شوہر کو دیا۔ دونوں بھائیوں کے سامنے ہی سردارے نے دودھ پی لیا، پھر وہ چارپائی پر لیٹ گیا، تبھی بھائیوں نے رخصت طلب کی اور اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ رات کے دوسرے پہر سردارے کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ گاؤں میں کوئی ڈاکٹر نہ تھا۔ شہر سے کمپاؤنڈر آ کر دکان کھولتا تھا، وہ بھی شام ڈھلے واپس چلا جاتا تھا۔ تاج تڑپتے ہوئے شوہر کے ساتھ تڑپتی بلکتی رہ گئی۔ اس کے دشمن خیر خواہ بن کر اس کے ساتھ موجود تھے۔ وہ سواری کے بندوبست میں لگے تھے تاکہ سردارے کو شہر لے جایا جا سکے، لیکن بقول تاج وہ جان بوجھ کر دیر کر رہے تھے، یہاں تک کہ سردارے کو فرشتہ اجل نے آ لیا اور سگے بھائیوں کے لالچ کے باعث اس بے گناہ نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔

صبح ہوتے ہی بھائیوں نے شور مچا دیا کہ ہمارے بھائی کو قتل کیا گیا ہے۔ تاج یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ اس کے بیٹے کو فوراً شہر سے بلوایا گیا۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ سردارا زہر خورانی سے ہلاک ہوا ہے۔ ظفر کو بھی پولیس والے پکڑ کر لے گئے اور تاج کے ساتھ تھانے میں بند کر دیا۔ طاہر کو انہوں نے اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ اپنی ماں کو قصوروار سمجھنے لگا۔

طاہر نے چچاؤں کو اپنی زمین کا مختارِ عام بنا دیا اور خود شہر واپس چلا گیا۔ تاج کے چھوٹے بچے در بدر ہو گئے اور دیور لہلہاتی فصلوں کے مالک بن گئے۔ زیب ماں کی حمایت نہیں کر سکتی تھی، کیونکہ اس کو مار پڑتی تھی۔ وہ تو ڈر کے مارے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں سے بھی بات نہیں کر سکتی تھی۔ تاج فریاد کرتی رہ گئی، مگر اس کی معاملہ فہمی، فراست اور سگھڑاپا کسی کام نہ آیا۔ اس کے دیوروں نے تھانے کے انچارج سے مل کر اور لے دے کر معاملہ دبا دیا۔ کیس عدالت میں نہ لے جایا گیا۔ ظفر پر خوب تشدد ہوا اور اس پر اور بھی کچھ جھوٹے کیس ڈال دیے گئے۔ تاج کے سر سے زبردستی عصمت و عفت کی چادر کھینچ لی گئی۔ اس کہانی کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ خود قانون کے محافظوں نے تھانے میں اس بے کس اور عمر رسیدہ عورت کی عزت پامال کی، جو اس کے بیٹے کی عمر کے تھے۔

تاج کا آدرش چکنا چور ہو گیا۔ اس کا رہا سہا حوصلہ اس گھناؤنی کارروائی سے پست ہو گیا۔ اب وہ کہیں کی نہ رہی تھی۔ وہ تھانے میں ہاتھ جوڑ کر ان کو دہائی دیتی رہ گئی، مگر جب سگے دیوروں نے زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر اپنے بھائی پر رحم نہ کیا، تو غیر کیا کرتے۔ جب طاہر کو پولیس والوں کے ہاتھوں اپنی بوڑھی ماں کی بے حرمتی کا علم ہوا، تو وہ غم سے نڈھال ہو گیا۔ وہ گاؤں والوں کے طعنوں کو برداشت نہ کر سکا۔ ماں کو ظالم کے پنجے سے چھڑانے کی سکت اس میں نہ تھی۔ وہ بستی چھوڑ کر چلا گیا اور غم غلط کرنے کو نشے کا سہارا لے لیا۔

میں خواتین کی مقامی تنظیم کے ہمراہ جیل کے دورے پر گئی، تو وہاں قیدی عورتوں کی بیرک میں اچانک میری نظر تاج پر پڑ گئی۔ تب مجھ کو پتہ چلا کہ وہ اتنے برسوں سے جیل میں قید ہے۔ نہ اس کا کیس عدالت میں لایا گیا اور نہ ہی کوئی اس کا پرسانِ حال تھا۔ ظالم دیور آج بھی اس کی زمینوں پر قابض ہیں۔

سچ یہ ہے کہ آج ہم سب کا اعتبار اپنے علاقے کے تھانے سے اٹھ گیا ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ شرافت کا لبادہ اوڑھنے والے پولیس کی وردیاں پہن کر ہماری حفاظت نہیں کرتے، بلکہ دولت کے غلام بن کر ہمیں لوٹتے ہیں۔ دعا ہے کہ وطنِ عزیز کے محکمے اگر دیانتداری سے کام کریں اور رشوت سے پاک ہو جائیں، تو پاکستان کو کوئی دشمن، کوئی غیر ملکی طاقت نہ تو توڑ سکتی ہے اور نہ جھکا سکتی ہے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ