فاضل خان کراچی میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی تاجور کے ساتھ یہ دوسری شادی تھی۔ پہلی بیوی شادی کے صرف چھ ماہ بعد ہی رضائے الٰہی سے فوت ہو گئی تھی۔ اتفاق سے تاجور کو بھی شادی راس نہ آئی تھی اور وہ ایک سال کی بیاہتا بیوہ ہو گئی تھی۔ یہ دونوں ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے اور چونکہ دونوں کی پہلی شادیاں انہیں راس نہ آئیں اور دونوں کے گھر اجڑے ہوئے تھے، تبھی گاؤں والوں نے کہہ سن کر دو اجڑے دلوں کو ازدواجی بندھن میں باندھ کر ایک گھر آباد کرا دیا۔ فاضل خان کا گھر تو بس گیا، مگر تاجور کا دل آباد نہ ہو سکا۔ اس کا مزاج کسی طور فاضل سے نہیں ملتا تھا۔ صرف معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اس نے اس سے عقدِ ثانی قبول کیا تھا اور اب گزارہ کرنے پر مجبور تھی۔
cknwrites
تاجور کی پہلے شوہر سے ایک بچی تھی، جسے باپ کے سماجی تحفظ کی بھی ضرورت تھی۔ شادی کے پانچ برس بعد جب فاضل خان کراچی کی ایک مل میں ملازم ہو گیا، تو اس نے تاجور اور اس کی بچی کو بھی بلوا لیا؛ بچی کا نام بخت آور تھا اور فاضل اسے پیار سے مینا کہہ کر پکارتا تھا۔ اس کی تاجور سے کوئی اولاد نہ ہوئی، تو اس نے مینا ہی کو اپنی حقیقی بیٹی تصور کر لیا اور اسے باپ کا پیار دیا۔ نہ ہی مینا کو کبھی کسی نے بتایا کہ فاضل اس کا سگا باپ نہیں ہے۔ تاجور بھی خوش تھی کہ اگر اسے فاضل خان سے اولاد نہ ہوئی تو کیا ہوا، مینا کو باپ کا پیار تو مل گیا تھا۔ بلا شبہ تاجور بہت ہی خوبصورت عورت تھی۔ اس کی رنگت کشمیری سیب جیسی سرخ اور سنہری تھی۔ اسے اپنی خوبصورتی کا خوب احساس بھی تھا۔ اکثر پڑوسنیں کہتی تھیں کہ “تمہاری صورت ایسی ہے کہ تمہیں کسی امیر کبیر شخص کی بیگم ہونا چاہیے تھا؛ تم تو مثلِ حور ہو، اس دیہاتی کی کسی طور بیوی نہیں لگتیں۔” تاجور کو اس بات کا بڑا قلق تھا کہ وہ ایک غریب شخص کی بیوی کیوں بنی؟ حالانکہ فاضل خان اسے خوش رکھنے کے لیے بہت جتن کرتا تھا، لیکن وہ خوش نہیں رہتی تھی۔
انہی دنوں اس کی ملاقات ایک سرکاری ملازم سے ہو گئی، ان دنوں مینا چودہ برس کی ہو چکی تھی۔ الیاس ایک سرکاری محکمے میں چھوٹے عہدے پر ملازم تھا اور اس علاقے میں تبادلہ ہو کر آیا تھا۔ اس کا سرکاری کوارٹر دو منزلہ تھا اور دوسری منزل سے تاجور کا گھر صاف نظر آتا تھا۔ جب اس نے تاجور کو اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تو عجیب سی الجھن میں پڑ گیا۔ ایسی خوبصورت عورت اس نے زندگی میں نہیں دیکھی تھی۔ وہ ہر صورت اسے حاصل کرنا چاہتا تھا، مگر معاشرتی پابندیوں کی دیواریں حائل تھیں۔ اس نے آخر ایک ترکیب سوچی اور اس وقت فاضل خان کا در کھٹکھٹایا جب وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔ اس نے تاجور سے کہا کہ وہ فاضل کے پاس انکوائری کے سلسلے میں آیا ہے۔ اس کی شکل و صورت اور قد کاٹھ بھی ایسا تھا کہ وہ اسے نظر انداز نہ کر سکی اور بڑی عزت سے پیش آئی۔ اس کی خاطر تواضع کی، جس نے الیاس کے بھٹکے خیالات کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ تاجور کے نقوش قریب سے دیکھنے پر اور بھی زیادہ پرکشش لگ رہے تھے۔
پہلے وہ محض رسمی بات چیت میں بندھے اور پھر ملاقاتیں بڑھیں۔ اب یہ روز کا معمول ہو گیا کہ جونہی فاضل اپنے کام پر چلا جاتا اور الیاس ڈیوٹی سے آف ہوتا، وہ تاجور کے گھر چلا جاتا۔ مینا کی گھر میں موجودگی ایک بڑا مسئلہ تھی۔ اسے تاجور نے اس طرح حل کیا کہ صبح کے وقت بیٹی کو سپارہ پڑھنے کے لیے پڑوس میں بھیج دیتی تھی۔ کافی عرصے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن فاضل خان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے بیوی سے کہا کہ “آج میں ڈیوٹی پر نہیں جا سکتا، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” لیکن تاجور نے اسے تسلی دی کہ “ناغہ مت کرو، کام میں لگ جاؤ گے تو طبیعت خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔” وہ بیوی کے کہنے پر چلا گیا۔ فیکٹری پہنچتے ہی اس کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ وہ وہاں نہ ٹھہر سکا اور چھٹی لے کر گھر واپس لوٹ آیا۔ اس کا خیال تھا کہ گھر جا کر آرام کرے گا؛ اسے کیا خبر تھی کہ گھر جاتے ہی اس پر کیا انکشاف ہونے والا ہے۔ اس پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی!
جونہی وہ گھر میں داخل ہوا، اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بارہ میل کا سفر بس میں طے کر کے آیا تھا اور پہلے ہی سر چکرا رہا تھا؛ یہاں جو نظارہ اس نے دیکھا، اس کا دماغ ہی پھٹنے لگا۔ صحن میں تاجور اور اس کا پڑوسی قریب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ الیاس اسے سامنے دیکھ کر گھبرا گیا۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا، تو اس نے کمر میں بندھا ہوا ہتھیار نکالا اور بھرپور وار سے فاضل کے سر پر مار دیا۔ وہ چکرا کر زمین پر گر گیا۔ الیاس کو گھر سے نکلنے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ تاجور کو بھی دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ ابھی وہ سوچوں میں گم صم کھڑی تھی کہ فاضل نے کراہتے ہوئے پانی مانگا؛ وہ صدمے سے نڈھال تھا۔ تاجور نے جلدی سے پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا، تو اسے ہوش آ گیا۔ تاجور کا چہرہ زرد تھا اور رنگ اڑ چکا تھا۔ وہ پلنگ پر لیٹ گیا اور پوچھا: “یہ غیر شخص میری غیر موجودگی میں یہاں کیوں بیٹھا ہوا تھا؟” تاجور کچھ کہے بنا زور زور سے رونے لگی۔ “یہ رونا دھونا بند کرو! چوٹ مجھے لگی ہے، میں نے تم کو مارا تو نہیں ہے۔ سوال کر رہا ہوں کہ میرے گھر میں میری اجازت کے بغیر مرد کیوں آیا اور مجھے دیکھ کر بھاگ بھی نکلا؟” تاجور ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولی: “وہ دراصل خوفزدہ ہو گیا تھا۔” “آگے بولو جو میں پوچھ رہا ہوں!” “سرتاج! بات ہی ایسی تھی کہ اس کے ساتھ بات کرنا پڑ گئی۔” “ایسی کیا بات تھی؟” فاضل کا لہجہ کرخت اور تیور بگڑے ہوئے تھے، اس کے سر میں چوٹ لگنے سے شدید درد ہو رہا تھا۔ “خدا کے لیے معاف کر دو! وہ میری بچی ہے اور اس سے غلطی ہو چکی ہے، اسی لیے تم سے چھپایا کہ تم نہ جانے کیا کر گزرو۔ اس کم بخت کو بلایا تھا جو اس مصیبت کا ذمہ دار ہے کہ شاید یہی کوئی حل نکالے۔ پتہ نہیں مینا پیدا ہوتے وقت مر کیوں نہ گئی، جس نے غیرت مند باپ کی عزت کو داغ لگایا ہے! اسی بارے میں یہ آدمی بات کر رہا تھا، ابھی بات ختم نہ ہونے پائی تھی کہ آپ آ گئے۔”
تاجور سمجھ رہی تھی کہ مینا کو فاضل خان نے باپ بن کر پالا ہے، وہ اگر الزام بیٹی کے سر لگا دے گی تو اس کی اپنی جان بچ جائے گی اور مینا کو بھی پرائی اولاد جان کر فاضل معاف کر دے گا، یوں معاملہ دفع ہو جائے گا؛ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ فاضل نے مینا کو پالا ضرور تھا، مگر وہ واقعی اسے اپنی بیٹی سمجھتا تھا اور ایک غیرت مند باپ یہ ساری باتیں کس طرح برداشت کر سکتا تھا! ابھی یہی تذکرہ ہو رہا تھا کہ مینا گھر میں داخل ہوئی۔ وہ معصوم ہر معاملے سے بے خبر تھی۔ فاضل اسے دیکھتے ہی اس قدر طیش میں آ گیا کہ اس نے سامنے پڑی ہتھوڑی سے اس کے سر پر ضربات لگانی شروع کر دیں۔ وہ معصوم اسی وقت گر گئی اور ان کاری ضربات نے اس کی جان لے لی۔ یوں ایک بے رحم ماں کے کیے کا بھگتان بیٹی نے بھگتا۔ نادان عورت نے اپنی جان بچانے کے لیے بیٹی کو اپنے غلط جذبوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس غیر مرد کے تعاقب میں جاتا، پولیس فاضل کو سوتیلی بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر کے لے گئی۔ تاجور نے یہیں پر بس نہیں کیا، بلکہ جس نے بھی پوچھا، اس نے مینا کے قتل کی وجہ ہر ایک کو یہ بتائی کہ مینا، فاضل کی اپنی بیٹی نہ تھی اور وہ سوتیلی بیٹی پر اچھی نظر نہیں رکھتا تھا، مگر بیٹی غیرت مند تھی، اس لیے اس نے سوتیلے باپ کے سامنے جھکنے کی بجائے جان دے دی۔ فاضل کو وکیل تک میسر نہ آیا اور اسے عمر قید کی سزا ہو گئی۔ جیل سے اس نے بد بخت تاجور کو طلاق دے دی۔ اس عورت نے کچھ عرصے بعد الیاس سے نکاح کر لیا اور اپنا گاؤں چھوڑ دیا۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے فاضل بیمار ہو کر وفات پا گیا۔ یوں ایک عورت کی چالبازی نے ایک شریف آدمی کی جان لے لی۔
cknwrites
تاجور کی پہلے شوہر سے ایک بچی تھی، جسے باپ کے سماجی تحفظ کی بھی ضرورت تھی۔ شادی کے پانچ برس بعد جب فاضل خان کراچی کی ایک مل میں ملازم ہو گیا، تو اس نے تاجور اور اس کی بچی کو بھی بلوا لیا؛ بچی کا نام بخت آور تھا اور فاضل اسے پیار سے مینا کہہ کر پکارتا تھا۔ اس کی تاجور سے کوئی اولاد نہ ہوئی، تو اس نے مینا ہی کو اپنی حقیقی بیٹی تصور کر لیا اور اسے باپ کا پیار دیا۔ نہ ہی مینا کو کبھی کسی نے بتایا کہ فاضل اس کا سگا باپ نہیں ہے۔ تاجور بھی خوش تھی کہ اگر اسے فاضل خان سے اولاد نہ ہوئی تو کیا ہوا، مینا کو باپ کا پیار تو مل گیا تھا۔ بلا شبہ تاجور بہت ہی خوبصورت عورت تھی۔ اس کی رنگت کشمیری سیب جیسی سرخ اور سنہری تھی۔ اسے اپنی خوبصورتی کا خوب احساس بھی تھا۔ اکثر پڑوسنیں کہتی تھیں کہ “تمہاری صورت ایسی ہے کہ تمہیں کسی امیر کبیر شخص کی بیگم ہونا چاہیے تھا؛ تم تو مثلِ حور ہو، اس دیہاتی کی کسی طور بیوی نہیں لگتیں۔” تاجور کو اس بات کا بڑا قلق تھا کہ وہ ایک غریب شخص کی بیوی کیوں بنی؟ حالانکہ فاضل خان اسے خوش رکھنے کے لیے بہت جتن کرتا تھا، لیکن وہ خوش نہیں رہتی تھی۔
انہی دنوں اس کی ملاقات ایک سرکاری ملازم سے ہو گئی، ان دنوں مینا چودہ برس کی ہو چکی تھی۔ الیاس ایک سرکاری محکمے میں چھوٹے عہدے پر ملازم تھا اور اس علاقے میں تبادلہ ہو کر آیا تھا۔ اس کا سرکاری کوارٹر دو منزلہ تھا اور دوسری منزل سے تاجور کا گھر صاف نظر آتا تھا۔ جب اس نے تاجور کو اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تو عجیب سی الجھن میں پڑ گیا۔ ایسی خوبصورت عورت اس نے زندگی میں نہیں دیکھی تھی۔ وہ ہر صورت اسے حاصل کرنا چاہتا تھا، مگر معاشرتی پابندیوں کی دیواریں حائل تھیں۔ اس نے آخر ایک ترکیب سوچی اور اس وقت فاضل خان کا در کھٹکھٹایا جب وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔ اس نے تاجور سے کہا کہ وہ فاضل کے پاس انکوائری کے سلسلے میں آیا ہے۔ اس کی شکل و صورت اور قد کاٹھ بھی ایسا تھا کہ وہ اسے نظر انداز نہ کر سکی اور بڑی عزت سے پیش آئی۔ اس کی خاطر تواضع کی، جس نے الیاس کے بھٹکے خیالات کے لیے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ تاجور کے نقوش قریب سے دیکھنے پر اور بھی زیادہ پرکشش لگ رہے تھے۔
پہلے وہ محض رسمی بات چیت میں بندھے اور پھر ملاقاتیں بڑھیں۔ اب یہ روز کا معمول ہو گیا کہ جونہی فاضل اپنے کام پر چلا جاتا اور الیاس ڈیوٹی سے آف ہوتا، وہ تاجور کے گھر چلا جاتا۔ مینا کی گھر میں موجودگی ایک بڑا مسئلہ تھی۔ اسے تاجور نے اس طرح حل کیا کہ صبح کے وقت بیٹی کو سپارہ پڑھنے کے لیے پڑوس میں بھیج دیتی تھی۔ کافی عرصے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن فاضل خان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے بیوی سے کہا کہ “آج میں ڈیوٹی پر نہیں جا سکتا، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” لیکن تاجور نے اسے تسلی دی کہ “ناغہ مت کرو، کام میں لگ جاؤ گے تو طبیعت خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔” وہ بیوی کے کہنے پر چلا گیا۔ فیکٹری پہنچتے ہی اس کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ وہ وہاں نہ ٹھہر سکا اور چھٹی لے کر گھر واپس لوٹ آیا۔ اس کا خیال تھا کہ گھر جا کر آرام کرے گا؛ اسے کیا خبر تھی کہ گھر جاتے ہی اس پر کیا انکشاف ہونے والا ہے۔ اس پر تو جیسے قیامت ہی ٹوٹ پڑی!
جونہی وہ گھر میں داخل ہوا، اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بارہ میل کا سفر بس میں طے کر کے آیا تھا اور پہلے ہی سر چکرا رہا تھا؛ یہاں جو نظارہ اس نے دیکھا، اس کا دماغ ہی پھٹنے لگا۔ صحن میں تاجور اور اس کا پڑوسی قریب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ الیاس اسے سامنے دیکھ کر گھبرا گیا۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا، تو اس نے کمر میں بندھا ہوا ہتھیار نکالا اور بھرپور وار سے فاضل کے سر پر مار دیا۔ وہ چکرا کر زمین پر گر گیا۔ الیاس کو گھر سے نکلنے کا موقع ہاتھ آ گیا۔ تاجور کو بھی دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ ابھی وہ سوچوں میں گم صم کھڑی تھی کہ فاضل نے کراہتے ہوئے پانی مانگا؛ وہ صدمے سے نڈھال تھا۔ تاجور نے جلدی سے پانی کا گلاس اس کے منہ سے لگایا، تو اسے ہوش آ گیا۔ تاجور کا چہرہ زرد تھا اور رنگ اڑ چکا تھا۔ وہ پلنگ پر لیٹ گیا اور پوچھا: “یہ غیر شخص میری غیر موجودگی میں یہاں کیوں بیٹھا ہوا تھا؟” تاجور کچھ کہے بنا زور زور سے رونے لگی۔ “یہ رونا دھونا بند کرو! چوٹ مجھے لگی ہے، میں نے تم کو مارا تو نہیں ہے۔ سوال کر رہا ہوں کہ میرے گھر میں میری اجازت کے بغیر مرد کیوں آیا اور مجھے دیکھ کر بھاگ بھی نکلا؟” تاجور ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے بولی: “وہ دراصل خوفزدہ ہو گیا تھا۔” “آگے بولو جو میں پوچھ رہا ہوں!” “سرتاج! بات ہی ایسی تھی کہ اس کے ساتھ بات کرنا پڑ گئی۔” “ایسی کیا بات تھی؟” فاضل کا لہجہ کرخت اور تیور بگڑے ہوئے تھے، اس کے سر میں چوٹ لگنے سے شدید درد ہو رہا تھا۔ “خدا کے لیے معاف کر دو! وہ میری بچی ہے اور اس سے غلطی ہو چکی ہے، اسی لیے تم سے چھپایا کہ تم نہ جانے کیا کر گزرو۔ اس کم بخت کو بلایا تھا جو اس مصیبت کا ذمہ دار ہے کہ شاید یہی کوئی حل نکالے۔ پتہ نہیں مینا پیدا ہوتے وقت مر کیوں نہ گئی، جس نے غیرت مند باپ کی عزت کو داغ لگایا ہے! اسی بارے میں یہ آدمی بات کر رہا تھا، ابھی بات ختم نہ ہونے پائی تھی کہ آپ آ گئے۔”
تاجور سمجھ رہی تھی کہ مینا کو فاضل خان نے باپ بن کر پالا ہے، وہ اگر الزام بیٹی کے سر لگا دے گی تو اس کی اپنی جان بچ جائے گی اور مینا کو بھی پرائی اولاد جان کر فاضل معاف کر دے گا، یوں معاملہ دفع ہو جائے گا؛ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ فاضل نے مینا کو پالا ضرور تھا، مگر وہ واقعی اسے اپنی بیٹی سمجھتا تھا اور ایک غیرت مند باپ یہ ساری باتیں کس طرح برداشت کر سکتا تھا! ابھی یہی تذکرہ ہو رہا تھا کہ مینا گھر میں داخل ہوئی۔ وہ معصوم ہر معاملے سے بے خبر تھی۔ فاضل اسے دیکھتے ہی اس قدر طیش میں آ گیا کہ اس نے سامنے پڑی ہتھوڑی سے اس کے سر پر ضربات لگانی شروع کر دیں۔ وہ معصوم اسی وقت گر گئی اور ان کاری ضربات نے اس کی جان لے لی۔ یوں ایک بے رحم ماں کے کیے کا بھگتان بیٹی نے بھگتا۔ نادان عورت نے اپنی جان بچانے کے لیے بیٹی کو اپنے غلط جذبوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اس غیر مرد کے تعاقب میں جاتا، پولیس فاضل کو سوتیلی بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر کے لے گئی۔ تاجور نے یہیں پر بس نہیں کیا، بلکہ جس نے بھی پوچھا، اس نے مینا کے قتل کی وجہ ہر ایک کو یہ بتائی کہ مینا، فاضل کی اپنی بیٹی نہ تھی اور وہ سوتیلی بیٹی پر اچھی نظر نہیں رکھتا تھا، مگر بیٹی غیرت مند تھی، اس لیے اس نے سوتیلے باپ کے سامنے جھکنے کی بجائے جان دے دی۔ فاضل کو وکیل تک میسر نہ آیا اور اسے عمر قید کی سزا ہو گئی۔ جیل سے اس نے بد بخت تاجور کو طلاق دے دی۔ اس عورت نے کچھ عرصے بعد الیاس سے نکاح کر لیا اور اپنا گاؤں چھوڑ دیا۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے فاضل بیمار ہو کر وفات پا گیا۔ یوں ایک عورت کی چالبازی نے ایک شریف آدمی کی جان لے لی۔

