میں نے ان دنوں میٹرک کر لیا تھا، جب امی مسلسل محنت کی وجہ سے بیمار رہنے لگیں۔ ہمارے پڑوس میں ایک لڑکی فیکٹری میں کام کرنے جاتی تھا، میں نے اس سے ذکر کیا کہ میں بھی کام کرنا چاہتی ہوں۔ روبینہ نے منیجر سے بات کی اور مجھے کام دلوا دیا، یوں میں بھی کام پر جانے لگی اور ہمارے گھر کے معاشی حالات کو کافی سہارا مل گیا۔ جس فیکٹری میں، میں جاتی تھی وہاں ایک لڑکا عاطف بھی کام کرتا تھا۔ یہ بہت خوبصورت تھا۔ شاید میں اسے اچھی لگی، وہ ہر وقت میری طرف دیکھتا رہتا۔ جب بھی اپنے دوستوں کے ساتھ ہمارے پاس سے گزرتا، کوئی نہ کوئی بات کر جاتا تھا۔ اور جب میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ گزرتی، وہ بھی اس سے کوئی نہ کوئی بات کہہ دیتی تھیں۔ ایک دن عاطف نے وہ بات کہہ دی جو اس کے دل میں تھی۔ اس نے میری دوست منیرہ کو کہا کہ میں گل رخ کو پسند کرتا ہوں اور اسی کو جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں۔
مجھے اندازہ تھا کہ عاطف کے دل میں ایسی کوئی بات ہے، مگر اظہار نہ کرنے کی وجہ سے میں بھی بے خوف و خطر فیکٹری میں آتی تھی۔ میں نے منیرہ سے کہا، “اس سے پوچھو، اس کی کہیں منگنی تو نہیں ہو چکی یا پہلے اس نے کبھی کسی سے دوستی کی ہو؟” منیرہ کو اس نے بتایا کہ نہ تو پہلے کوئی دوست رہی ہے اور نہ ہی منگنی ہوئی ہے۔ اس کا جواب پا کر نہ صرف میں مطمئن ہو گئی بلکہ مجھے سکون بھی مل گیا۔ میں اس کے ساتھ جا کر باتیں نہیں کرتی تھی، نہ ہی وہ گپ شپ لگانے کی سعی کرتا تھا، ہم دور دور سے ایک دوسرے کو دیکھ لیتے تھے۔ ایک دن وہ ہمارے پاس کھڑے لڑکوں سے باتیں کر رہا تھا۔ ہم لوگ اپنا کام کر رہے تھے، لیکن میرا دھیان اس کی باتوں میں تھا، پھر اس نے کہا کہ فیکٹری میں تو وہ لوگ کام کرتے ہیں جن کے پاس پیسوں کی کمی ہوتی ہے۔
یہ بات سن کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں نے اس کی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس نے یہ بات محسوس کی اور موقع دیکھ کر پوچھا کہ، “آپ ناراض کیوں ہیں؟” میں نے اس سے کہا کہ، “تم نے ایسا کیوں کہا؟ ہم لوگ تو مجبوری کے تحت کام کرتے ہیں،” تب اس کو احساس ہوا کہ اس نے کیا کہہ دیا ہے۔ وہ دراصل مجھے ہی جتلانا چاہتا تھا کہ اب وہ خوش حال ہے، اس لیے فیکٹری میں کام نہیں کرے گا۔ اس نے مجھ سے معذرت کی، “مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ ناراض ہو جائیں گی اور میں نے آپ کے لیے نہیں کہا تھا،” تب میرا دل صاف ہو گیا اور میری اس کے ساتھ صلح ہو گئی۔
پھر ہماری دوستی کا آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا، اب سب کی نظریں ہم دونوں پر لگی ہوئی تھیں۔ کچھ لوگ ہمارے بارے میں کھسر پھسر بھی کرنے لگے۔ ایسے معاملات میں لوگ کب چپ رہتے ہیں۔ جو دوسروں کے ساتھ ہوتا آیا، وہ ہمارے ساتھ بھی ہوا، کسی نے ہمارے باس سے شکایت کر دی۔ اس سے پہلے کہ باس یقین کر کے ہمارے اوپر پابندیاں لگاتے، میں نے عاطف کی خاطر فیکٹری میں کام کرنا چھوڑ دیا۔ چار پانچ ماہ فارغ رہی۔ ان پانچ چھ ماہ میں ہم نے گھر کا گزارہ کیسے کیا، یہ میں ہی جانتی ہوں۔
عاطف اب مجھ سے روز ملنے آتا تھا۔ میں جس جگہ، جس وقت اسے کہتی، وہ آ جاتا۔ کبھی اس نے مجھے پریشان دیکھ کر پیچھا نہ چھوڑا۔ میں اسے کہتی کہ، “عاطف تم اپنی امی کو ہمارے گھر بھیجو، کیونکہ امی اب میری شادی کرنا چاہتی ہیں اور میں تمہارے سوا کسی اور سے شادی نہیں کروں گی۔” میں نے تب عاطف کو کہا تھا کہ، “اب تم فیصلہ کر لو اور مجھے بتا دو۔ میرے گھر والوں سے جا کر بات کرو یا پھر یہ دوستی کا رشتہ چھوڑ دو کیونکہ میں محض دوستی رکھ کر بدنام نہیں ہونا چاہتی۔” تب اس نے کہا، “میں آج گھر جا کر ضرور بات کروں گا۔” مجھے یقین تھا کہ وہ گھر جا کر بات نہیں کرے گا، کیونکہ وہ ڈرپوک اور بزدل تھا۔ دو تین دن کے بعد جب میں نے پوچھا کہ گھر بات کی؟ تو اس نے مجھے ایک خط دیا اور چلا گیا۔ میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ اس نے خط میں ضرور مجھے اپنانے کا لکھا ہو گا۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور اطمینان سے بیٹھ کر خط پڑھنے لگی۔
لکھا تھا: “میں تم سے شادی نہیں کر سکتا، کیونکہ میرے گھر والے نہیں مان رہے اور مجھے محلے کے لوگوں نے بتایا کہ تمہارے والد تمہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، کیونکہ تم لوگ اچھے نہیں ہو۔ اگر تم لوگ اچھے ہوتے تو تمہارے ابو تمہیں چھوڑ کر نہ جاتے۔”
جب میں نے اس کا خط پڑھا تو میں یہ سب کچھ دیکھ کر حیران رہ گئی اور بہت روئی۔ مجھے عاطف سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ ایسی بات کرے گا، پھر جب اس کو اصل بات کا پتہ چلا، تو اس نے مجھ سے اور امی سے آ کر معذرت کی۔ ایک دن وہ رات گیارہ بجے، اسلام آباد سے سیدھا مجھ سے ملنے آیا۔ وہ بہت اچھا لگ رہا تھا، پھر بھی میں نے دل پر پتھر رکھ کر کہا کہ، “اب تم مجھ سے نہ ملا کرو اور نہ ہی فون کیا کرو، کیونکہ ایسی دوستی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” وہ ناراض ہو کر چلا گیا اور گھر جا کر فون کیا، تو بھی میں نے کہا، “تم نے مجھے کیوں فون کیا ہے؟” کہنے لگا کہ، “تم کو ایک خوشخبری سنانی ہے۔” میں خوش ہو گئی کہ شاید وہ مجھ سے شادی کرنے والا ہے، لیکن اس نے کہا، “میری بہن سے بات کرو، یہ تم سے بات کرنا چاہتی ہے۔” میرا دل دھڑکنے لگا اور یقین ہو گیا کہ اس کے گھر والوں نے مجھے اپنانے کی ٹھان لی ہے، تب ہی اس کی بہن مجھ سے بات کر رہی ہے۔
نرگس باجی نے میرا اور امی کا حال احوال اور نام پوچھا، تو میں نے کہا، “کیا عاطف نے میرا نام نہیں بتایا؟” انہوں نے کہا، “اس نے گل بتایا ہے،” تو میں نے اپنا پورا نام بتایا۔ انہوں نے کہا، “یہ تو بہت خوبصورت نام ہے،” پھر بولیں، “گل، میں تم سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں، ناراض نہ ہونا۔ بات یہ ہے کہ عاطف کی منگنی ہو چکی ہے۔ بچپن میں ہی ہم نے اس کی منگنی کر دی تھی اور اس بات کا عاطف کو پتہ نہیں تھا، اس لیے تم اب اس کو بھول جاؤ۔” جب میں نے یہ سنا تو رونے لگی۔ انہوں نے فون عاطف کو دیا۔ میں نے ڈوبی ہوئی آواز میں فریاد کی اور پوچھا کہ، “کیا یہی وہ خوش خبری تھی؟ اور یہ سراسر جھوٹ ہے کہ تمہاری منگنی بچپن میں ہو گئی تھی اور تمہیں اب تک پتہ نہیں تھا، اس لیے تم اب بہانہ بنا رہے ہو،” پھر میں نے غصے میں فون بند کر دیا۔
کچھ دن تو افسردہ رہی، پھر میں نے فیصلہ کیا کہ امی جان کو زیادہ انتظار نہ کراؤں۔ ابا جان کی وجہ سے پہلے ہی ہمارے حالات ایسے تھے کہ امی کو کبھی سکون نہیں ملا تھا۔ میں نے امی سے کہہ دیا، “جو آپ فیصلہ کریں، مجھے منظور ہے، کیونکہ میرا انتظار اور میری الجھن اب ختم ہو گئی ہے،” تبھی امی نے ان تین رشتوں میں سے ایک کو منظور کر لیا اور باقی دو کو انکار کر دیا۔ میں کہتی ہوں کہ یہ اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے۔ جس گھر میں امی نے میرا رشتہ کیا تھا، وہ خوش حال ضرور تھے، لیکن بہت زیادہ امیر کبیر نہیں تھے، لیکن خدا کی مرضی کہ میری شادی کے بعد وہ لوگ امیر کبیر ہو گئے۔ سسر صاحب کی ایک چھوٹی سی فیکٹری تھی۔ انہوں نے لون لے کر اس کو بڑھا دیا اور بڑھتے بڑھتے پھر وہ ایک بڑی فیکٹری میں تبدیل ہو گئی۔ میرے شوہر اختر اپنے والد کے اکلوتے بیٹے اور فیکٹری کے تنہا وارث تھے، نیز اپنی فیکٹری میں منیجر بھی تھے۔ کاروبار میں اپنے والد کا ہاتھ بٹا رہے تھے، میں نے ان کو سکون دیا، انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں ان کا خیال نہیں رکھتی یا ان سے پیار نہیں کرتی۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ گھر سے پرسکون ہو کر جاتے اور ساری توجہ اپنے کام پر دیتے تھے۔ اللہ نے برکت دی اور ہم لوگ امیر ہو گئے۔
خدا کی شان، میں جو کبھی خود ایک فیکٹری میں ادنیٰ سی ورکر تھی، آج ایک فیکٹری کے مالک کی بیوی تھی اور کتنے ہی غریب لوگ میرے پاس نوکری کی سفارش کے لیے آتے تھے۔ ان میں لڑکیاں بھی ہوتی تھیں اور لڑکے بھی۔ اب میں عاطف کو مکمل طور پر بھلا چکی تھی، کیونکہ بھلانے کے سوا چارہ نہ تھا۔ اس نے مجھے دیا ہی کیا تھا، سوائے جھوٹی تسلیوں کے، لیکن ایک دن پھر عجیب واقعہ ہوا۔ میں اپنی کوٹھی کے لان میں بیٹھی تھی کہ ایک لڑکی میرے پاس آئی۔ وہ شکل سے تو غریب نہیں لگتی تھی، لیکن ضرورت مند تھی۔ اس کا لب و لہجہ بتا رہا تھا کہ اس کو نوکری کی اشد ضرورت ہے۔ میری عادت تھی، ہر سوالی سے اس کے حالات ضرور دریافت کرتی تھی، پھر جو بے حد ضرورت مند ہوتا، اپنے سسر اور میاں سے اس کی نوکری کے لیے سفارش کر دیتی تھی۔ مجھے اپنے بدحالی کے دن یاد تھے جب میرے گھر میں فاقے تک نوبت آ جاتی تھی اور جب میں ملازمت کی تلاش میں سرگرداں رہتی تھی۔ آج میں نے خدا سے اپنی مراد پا لی تھی، میں ایک امیر گھر کی بہو بن چکی تھی، مگر انسان کو اپنا وقت اور ماضی نہیں بھولنا چاہیے۔
صبح نو بجے کا وقت تھا، اختر فیکٹری جا چکے تھے، میں لان میں کرسی ڈالے بیٹھی تھی۔ سردیوں کے دن تھے اور ہلکی ہلکی دھوپ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ وہ لڑکی گیٹ پر کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں ایک بڑا خاکی لفافہ تھا، جس میں یقیناً اسناد تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی میری طرف آئی۔ اس کے کپڑے صاف ستھرے اور بال سلیقے سے بنے ہوئے تھے۔ چہرے کے نقوش دلکش تھے۔ اس نے بتایا کہ، “میرا نام نرگس ہے اور ملازمت کے لیے آئی ہوں۔” “تم سیدھی فیکٹری کیوں نہیں گئیں؟” “کسی نے بتایا تھا کہ آپ بہت رحم دل ہیں اور مدد کرتی ہیں، خاص طور پر لڑکیوں کی، اسی لیے کوٹھی پر آ گئی۔” “کس نے بتایا ہے؟” میں نے پوچھا۔ “ایک لڑکی رافعہ آپ کی فیکٹری میں کام کرتی ہے، وہ ہماری پڑوسن ہے۔” “اچھا مطلب کی بات کرو، تمہیں کیوں ملازمت کی ضرورت ہے؟ والد کیا کرتے ہیں اور تمہارے کیا حالات ہیں؟” تب وہ یوں گویا ہوئی: “ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ ہمارا تعلق اچھے گھرانے سے ہے، لیکن ہم نہ زیادہ امیر تھے، نہ زیادہ غریب۔
پھر ہماری دوستی کا آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا، اب سب کی نظریں ہم دونوں پر لگی ہوئی تھیں۔ کچھ لوگ ہمارے بارے میں کھسر پھسر بھی کرنے لگے۔ ایسے معاملات میں لوگ کب چپ رہتے ہیں۔ جو دوسروں کے ساتھ ہوتا آیا، وہ ہمارے ساتھ بھی ہوا، کسی نے ہمارے باس سے شکایت کر دی۔ اس سے پہلے کہ باس یقین کر کے ہمارے اوپر پابندیاں لگاتے، میں نے عاطف کی خاطر فیکٹری میں کام کرنا چھوڑ دیا۔ چار پانچ ماہ فارغ رہی۔ ان پانچ چھ ماہ میں ہم نے گھر کا گزارہ کیسے کیا، یہ میں ہی جانتی ہوں۔
عاطف اب مجھ سے روز ملنے آتا تھا۔ میں جس جگہ، جس وقت اسے کہتی، وہ آ جاتا۔ کبھی اس نے مجھے پریشان دیکھ کر پیچھا نہ چھوڑا۔ میں اسے کہتی کہ، “عاطف تم اپنی امی کو ہمارے گھر بھیجو، کیونکہ امی اب میری شادی کرنا چاہتی ہیں اور میں تمہارے سوا کسی اور سے شادی نہیں کروں گی۔” میں نے تب عاطف کو کہا تھا کہ، “اب تم فیصلہ کر لو اور مجھے بتا دو۔ میرے گھر والوں سے جا کر بات کرو یا پھر یہ دوستی کا رشتہ چھوڑ دو کیونکہ میں محض دوستی رکھ کر بدنام نہیں ہونا چاہتی۔” تب اس نے کہا، “میں آج گھر جا کر ضرور بات کروں گا۔” مجھے یقین تھا کہ وہ گھر جا کر بات نہیں کرے گا، کیونکہ وہ ڈرپوک اور بزدل تھا۔ دو تین دن کے بعد جب میں نے پوچھا کہ گھر بات کی؟ تو اس نے مجھے ایک خط دیا اور چلا گیا۔ میرا دل باغ باغ ہو گیا کہ اس نے خط میں ضرور مجھے اپنانے کا لکھا ہو گا۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور اطمینان سے بیٹھ کر خط پڑھنے لگی۔
لکھا تھا: “میں تم سے شادی نہیں کر سکتا، کیونکہ میرے گھر والے نہیں مان رہے اور مجھے محلے کے لوگوں نے بتایا کہ تمہارے والد تمہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، کیونکہ تم لوگ اچھے نہیں ہو۔ اگر تم لوگ اچھے ہوتے تو تمہارے ابو تمہیں چھوڑ کر نہ جاتے۔”
جب میں نے اس کا خط پڑھا تو میں یہ سب کچھ دیکھ کر حیران رہ گئی اور بہت روئی۔ مجھے عاطف سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ ایسی بات کرے گا، پھر جب اس کو اصل بات کا پتہ چلا، تو اس نے مجھ سے اور امی سے آ کر معذرت کی۔ ایک دن وہ رات گیارہ بجے، اسلام آباد سے سیدھا مجھ سے ملنے آیا۔ وہ بہت اچھا لگ رہا تھا، پھر بھی میں نے دل پر پتھر رکھ کر کہا کہ، “اب تم مجھ سے نہ ملا کرو اور نہ ہی فون کیا کرو، کیونکہ ایسی دوستی رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” وہ ناراض ہو کر چلا گیا اور گھر جا کر فون کیا، تو بھی میں نے کہا، “تم نے مجھے کیوں فون کیا ہے؟” کہنے لگا کہ، “تم کو ایک خوشخبری سنانی ہے۔” میں خوش ہو گئی کہ شاید وہ مجھ سے شادی کرنے والا ہے، لیکن اس نے کہا، “میری بہن سے بات کرو، یہ تم سے بات کرنا چاہتی ہے۔” میرا دل دھڑکنے لگا اور یقین ہو گیا کہ اس کے گھر والوں نے مجھے اپنانے کی ٹھان لی ہے، تب ہی اس کی بہن مجھ سے بات کر رہی ہے۔
نرگس باجی نے میرا اور امی کا حال احوال اور نام پوچھا، تو میں نے کہا، “کیا عاطف نے میرا نام نہیں بتایا؟” انہوں نے کہا، “اس نے گل بتایا ہے،” تو میں نے اپنا پورا نام بتایا۔ انہوں نے کہا، “یہ تو بہت خوبصورت نام ہے،” پھر بولیں، “گل، میں تم سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں، ناراض نہ ہونا۔ بات یہ ہے کہ عاطف کی منگنی ہو چکی ہے۔ بچپن میں ہی ہم نے اس کی منگنی کر دی تھی اور اس بات کا عاطف کو پتہ نہیں تھا، اس لیے تم اب اس کو بھول جاؤ۔” جب میں نے یہ سنا تو رونے لگی۔ انہوں نے فون عاطف کو دیا۔ میں نے ڈوبی ہوئی آواز میں فریاد کی اور پوچھا کہ، “کیا یہی وہ خوش خبری تھی؟ اور یہ سراسر جھوٹ ہے کہ تمہاری منگنی بچپن میں ہو گئی تھی اور تمہیں اب تک پتہ نہیں تھا، اس لیے تم اب بہانہ بنا رہے ہو،” پھر میں نے غصے میں فون بند کر دیا۔
کچھ دن تو افسردہ رہی، پھر میں نے فیصلہ کیا کہ امی جان کو زیادہ انتظار نہ کراؤں۔ ابا جان کی وجہ سے پہلے ہی ہمارے حالات ایسے تھے کہ امی کو کبھی سکون نہیں ملا تھا۔ میں نے امی سے کہہ دیا، “جو آپ فیصلہ کریں، مجھے منظور ہے، کیونکہ میرا انتظار اور میری الجھن اب ختم ہو گئی ہے،” تبھی امی نے ان تین رشتوں میں سے ایک کو منظور کر لیا اور باقی دو کو انکار کر دیا۔ میں کہتی ہوں کہ یہ اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے۔ جس گھر میں امی نے میرا رشتہ کیا تھا، وہ خوش حال ضرور تھے، لیکن بہت زیادہ امیر کبیر نہیں تھے، لیکن خدا کی مرضی کہ میری شادی کے بعد وہ لوگ امیر کبیر ہو گئے۔ سسر صاحب کی ایک چھوٹی سی فیکٹری تھی۔ انہوں نے لون لے کر اس کو بڑھا دیا اور بڑھتے بڑھتے پھر وہ ایک بڑی فیکٹری میں تبدیل ہو گئی۔ میرے شوہر اختر اپنے والد کے اکلوتے بیٹے اور فیکٹری کے تنہا وارث تھے، نیز اپنی فیکٹری میں منیجر بھی تھے۔ کاروبار میں اپنے والد کا ہاتھ بٹا رہے تھے، میں نے ان کو سکون دیا، انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں ان کا خیال نہیں رکھتی یا ان سے پیار نہیں کرتی۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ گھر سے پرسکون ہو کر جاتے اور ساری توجہ اپنے کام پر دیتے تھے۔ اللہ نے برکت دی اور ہم لوگ امیر ہو گئے۔
خدا کی شان، میں جو کبھی خود ایک فیکٹری میں ادنیٰ سی ورکر تھی، آج ایک فیکٹری کے مالک کی بیوی تھی اور کتنے ہی غریب لوگ میرے پاس نوکری کی سفارش کے لیے آتے تھے۔ ان میں لڑکیاں بھی ہوتی تھیں اور لڑکے بھی۔ اب میں عاطف کو مکمل طور پر بھلا چکی تھی، کیونکہ بھلانے کے سوا چارہ نہ تھا۔ اس نے مجھے دیا ہی کیا تھا، سوائے جھوٹی تسلیوں کے، لیکن ایک دن پھر عجیب واقعہ ہوا۔ میں اپنی کوٹھی کے لان میں بیٹھی تھی کہ ایک لڑکی میرے پاس آئی۔ وہ شکل سے تو غریب نہیں لگتی تھی، لیکن ضرورت مند تھی۔ اس کا لب و لہجہ بتا رہا تھا کہ اس کو نوکری کی اشد ضرورت ہے۔ میری عادت تھی، ہر سوالی سے اس کے حالات ضرور دریافت کرتی تھی، پھر جو بے حد ضرورت مند ہوتا، اپنے سسر اور میاں سے اس کی نوکری کے لیے سفارش کر دیتی تھی۔ مجھے اپنے بدحالی کے دن یاد تھے جب میرے گھر میں فاقے تک نوبت آ جاتی تھی اور جب میں ملازمت کی تلاش میں سرگرداں رہتی تھی۔ آج میں نے خدا سے اپنی مراد پا لی تھی، میں ایک امیر گھر کی بہو بن چکی تھی، مگر انسان کو اپنا وقت اور ماضی نہیں بھولنا چاہیے۔
صبح نو بجے کا وقت تھا، اختر فیکٹری جا چکے تھے، میں لان میں کرسی ڈالے بیٹھی تھی۔ سردیوں کے دن تھے اور ہلکی ہلکی دھوپ بہت اچھی لگ رہی تھی۔ وہ لڑکی گیٹ پر کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں ایک بڑا خاکی لفافہ تھا، جس میں یقیناً اسناد تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی میری طرف آئی۔ اس کے کپڑے صاف ستھرے اور بال سلیقے سے بنے ہوئے تھے۔ چہرے کے نقوش دلکش تھے۔ اس نے بتایا کہ، “میرا نام نرگس ہے اور ملازمت کے لیے آئی ہوں۔” “تم سیدھی فیکٹری کیوں نہیں گئیں؟” “کسی نے بتایا تھا کہ آپ بہت رحم دل ہیں اور مدد کرتی ہیں، خاص طور پر لڑکیوں کی، اسی لیے کوٹھی پر آ گئی۔” “کس نے بتایا ہے؟” میں نے پوچھا۔ “ایک لڑکی رافعہ آپ کی فیکٹری میں کام کرتی ہے، وہ ہماری پڑوسن ہے۔” “اچھا مطلب کی بات کرو، تمہیں کیوں ملازمت کی ضرورت ہے؟ والد کیا کرتے ہیں اور تمہارے کیا حالات ہیں؟” تب وہ یوں گویا ہوئی: “ہم دو بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ ہمارا تعلق اچھے گھرانے سے ہے، لیکن ہم نہ زیادہ امیر تھے، نہ زیادہ غریب۔
والد صاحب ایک بینک میں ملازم تھے، ہمارا گھر کچھ سال پہلے خوشیوں کا گہوارہ تھا۔ کسی چیز کی کمی نہیں تھی، کہ اچانک ہمارے ہنستے بستے گھر کو کسی کی نظر لگ گئی اور گھر میں خوشیوں کی جگہ غموں نے ڈیرہ ڈال دیا۔ ہوا یوں کہ میرا چھوٹا بھائی عدیل جب دسویں کا طالب علم تھا، اس کے اسکول میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے۔ اس کی دوستی اپنی کلاس کی ایک لڑکی صائمہ سے ہو گئی۔ ان کی ملاقاتیں اسکول میں ہوتی تھیں یا فون پر، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شادی سے پہلے کوئی غلط قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھے۔ میرے بھائی نے امی کو صائمہ کے بارے میں بتا دیا تھا، لیکن امی نے عدیل کو کافی سمجھایا کہ ابھی تم چھوٹے ہو، یہ روش چھوڑ دو، کیونکہ ابھی تمہارے بڑے بھائی کی شادی نہیں ہوئی اور بڑی بہنیں موجود ہیں۔ ابھی سے تمہاری شادی کیونکر ہو سکتی ہے؟ ویسے ہم شادی تمہاری مرضی سے دیکھ بھال کر ہی کریں گے۔ تب عدیل نے میٹرک کے پرچے دینے سے انکار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ بے شک آپ شادی جب چاہے کرنا، مگر رشتہ تو دیکھ آئیں۔ ایسا نہ ہو کہ صائمہ کی کہیں اور منگنی ہو جائے، پھر مشکل ہو جائے گی۔ عدیل کے مجبور کرنے پر امی ابو، صائمہ کے گھر چلے گئے۔ اس لڑکی کے والدین سیدھے سادے اور بہت شریف لوگ تھے۔
انہوں نے بہت خاطر مدارت کی۔ امی نے ساتھ ہی رشتے کی بات بھی کر دی، جس پر انہوں نے ہاں کر دی۔ عدیل تو اس بات پر اتنا خوش تھا کہ ہم نے اسے پہلے کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا۔ بڑے بھائی ابھی شادی پر رضامند نہ تھے، عدیل نے جب بی اے کر لیا، تو امی ابو نے سوچا کہ چلو چھوٹے کا گھر آباد کرتے ہیں۔ وہ بیٹے کی خوشی دیکھنے کے لیے صائمہ کے گھر تاریخ لینے چلے گئے۔ قسمت کے فیصلے بھی انوکھے ہوتے ہیں۔ وہ کبھی تو پیار کرنے والوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور کبھی جدا ہونے والوں کو ملا دیتی ہے، ایسا ہی کچھ میرے بھائی کے ساتھ ہوا۔ اس کے پیار کو لوگوں کی نظر کھا گئی، کسی نے صائمہ کے والدین کو میرے بھائی کے خلاف بھڑکا دیا کہ عدیل ٹھیک لڑکا نہیں ہے، وہ رات بھر گھر سے باہر رہتا ہے، مگر یہ سب غلط تھا، میرا بھائی بڑا شریف لڑکا تھا۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ صائمہ کے والدین نے رشتے سے انکار کر دیا۔ وہ بہت دلبرداشتہ ہوا، اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ سالوں کی محبت ایسے پل بھر میں ٹوٹ جائے گی۔ بھائی نے صائمہ سے بات کرنے کی بہت کوشش کی، مگر اس نے بھائی سے رابطہ نہ کیا۔ تب بھائی نے اپنے ماں باپ کی بھی پروا نہیں کی اور ایسے لڑکوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا جو نشہ کرتے تھے۔”
“ایک دن عدیل بھائی نشے کی حالت میں بازار میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک صائمہ وہاں سے گزری۔ ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر اس کا دوپٹہ پکڑ لیا۔ بھائی جو یہ سب دیکھ رہا تھا، برداشت نہ کر سکا۔ ساتھ ہی قصائی کی دکان تھی، وہاں سے چھرا اٹھا لیا اور اس لڑکے کو مار دیا۔ وہ لڑکا وہیں دم توڑ گیا اور بھائی کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ ابو جان نے تھانے جا کر پولیس والوں کی منت سماجت کی، تو انہوں نے رشوت کے طور پر اس قدر بھاری رقم کا مطالبہ کیا کہ ابو حیران رہ گئے۔ اتنی رقم تو ہم اپنا سارا اثاثہ بیچ کر بھی نہیں دے سکتے تھے۔ میرا بڑا بھائی عاطف ان دنوں فیکٹری کی ملازمت چھوڑ کر اپنا ذاتی کاروبار شروع کر چکا تھا۔ انہوں نے اپنا کاروبار بیچ دیا اور جہاں سے بھی رقم ملی، ہم نے خرچ کر دی اور بھائی کے لیے وکیل بھی کر لیا، لیکن ابھی تک اس پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ہماری ساری جمع پونجی خرچ ہو چکی ہے۔
“ایک دن عدیل بھائی نشے کی حالت میں بازار میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک صائمہ وہاں سے گزری۔ ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر اس کا دوپٹہ پکڑ لیا۔ بھائی جو یہ سب دیکھ رہا تھا، برداشت نہ کر سکا۔ ساتھ ہی قصائی کی دکان تھی، وہاں سے چھرا اٹھا لیا اور اس لڑکے کو مار دیا۔ وہ لڑکا وہیں دم توڑ گیا اور بھائی کو پولیس پکڑ کر لے گئی۔ ابو جان نے تھانے جا کر پولیس والوں کی منت سماجت کی، تو انہوں نے رشوت کے طور پر اس قدر بھاری رقم کا مطالبہ کیا کہ ابو حیران رہ گئے۔ اتنی رقم تو ہم اپنا سارا اثاثہ بیچ کر بھی نہیں دے سکتے تھے۔ میرا بڑا بھائی عاطف ان دنوں فیکٹری کی ملازمت چھوڑ کر اپنا ذاتی کاروبار شروع کر چکا تھا۔ انہوں نے اپنا کاروبار بیچ دیا اور جہاں سے بھی رقم ملی، ہم نے خرچ کر دی اور بھائی کے لیے وکیل بھی کر لیا، لیکن ابھی تک اس پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ہماری ساری جمع پونجی خرچ ہو چکی ہے۔
میں اسی وجہ سے مجبور ہو کر ملازمت کی تلاش میں پھر رہی ہوں، تاکہ ہم لوگ گھر کا خرچہ اٹھا سکیں اور ہمارا بھائی پھانسی ہونے سے بچ جائے۔” نرگس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، وہ اپنے بھائی کی پھانسی کے تصور سے رونے لگی۔ میں نے اس کی کہانی سنی، مجھے بڑا دکھ ہوا، لیکن عاطف کا نام سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے۔ مجھے یاد آیا کہ عاطف کی ایک بہن نرگس تھی، جس کا وہ کبھی کبھی مجھ سے تذکرہ کرتا تھا اور بھائی کا نام بھی عدیل تھا۔ “کیا عاطف نے کوئی ملازمت تلاش کر لی ہے؟” “جی ہاں، وہ پھر سے اسی فیکٹری میں کام کر رہا ہے جہاں پہلے کرتا تھا، کیونکہ وہ باس ان کو جانتے ہیں، لہذا انہوں نے بھائی کو دوبارہ کام پر رکھ لیا ہے۔” اس نے فیکٹری کا نام لیا، تب میں جان گئی کہ یہ عاطف کی ہی بہن ہے۔ “تم نے اس فیکٹری میں درخواست نہیں دی؟” میں نے پوچھا۔ “وہاں کے لیے بھائی نے منع کر دیا ہے۔” “کیا تمہارے بڑے بھائی کی منگنی بچپن میں ہو گئی تھی؟” “نہیں، لیکن بھائی نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے، کیونکہ وہ پہلے گھر کے حالات سدھارنا چاہتے تھے اور کاروبار کر کے روپیہ کمانا چاہتے تھے،
اس لیے جب بھی امی ابو شادی کا کہتے وہ منع کر دیتے تھے۔” اب مجھے ساری بات سمجھ میں آ گئی تھی، مجھے نرگس پر بڑا ترس آیا۔ میں نے اس کو یہ تو نہیں بتایا کہ فیکٹری کی مالکہ کون ہے، جو پہلے عاطف کے ساتھ ایک معمولی ورکر کے طور پر وہاں کام کرتی رہی ہے، میں نے اس کے کاغذات اور درخواست وغیرہ لے کر رکھ لیے۔ “کل تم فیکٹری آ جانا، میں اپنے خاوند کو کہہ دوں گی، تم کو ضرور نوکری مل جائے گی۔” رات کو جب اختر گھر آئے، تو میں نے ان کو کہا کہ، “میری بہت ہی عزیز سہیلی کی چھوٹی بہن کو ملازمت چاہیے۔ ان کے حالات بہت خراب ہیں، میں کچھ مدد کرنا چاہتی ہوں۔” انہوں نے کہا کہ، “اس لڑکی کو میرے پاس بھیج دینا، وہاں ہمیں کچھ ورکر لڑکیوں کی ضرورت ہے۔” یوں نرگس کو میرے خاوند نے اپنی فیکٹری میں لگوا دیا۔ میں درپردہ اس پریشان حال خاندان کی مدد کر کے بہت خوش تھی، مگر مجھے افسوس بھی ہوا کہ عاطف نے مجھے سچ نہیں بتایا۔ مجھ سے اپنے گھریلو حالات چھپاتا رہا اور منگنی کا بھی جھوٹ کہا، اگر سچ بتا دیتا تو میں صبر کر لیتی۔
خدا جو کرتا ہے ٹھیک ہی کرتا ہے۔ شاید میرے حق میں یہی بہتر تھا کہ آج میں ایک پرتعیش اور آرام دہ زندگی بسر کر رہی ہوں۔ میری زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ اختر پیار کرنے والے شوہر ہیں اور میرے بچے اس وقت شہر کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں پڑھ رہے ہیں۔ عاطف کو شاید خبر نہیں کہ اس کی بہن جس فیکٹری میں ملازم ہے، وہ ہماری ہے۔
انسان کبھی کبھی کیا سوچتا ہے اور کیا ہو جاتا ہے۔ مجھے اس کی وہ بات رہ رہ کر یاد آتی ہے، جب اس نے مجھے سنانے کو کہا تھا کہ فیکٹری میں وہ لوگ کام کرتے ہیں جن کے پاس پیسے کی کمی ہوتی ہے۔ عاطف نے اپنی بہن کو اپنے ساتھ کام نہیں کرنے دیا، کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اس کی بہن کے ساتھ وہی کچھ ہو جو میرے ساتھ ہوا تھا۔ یقیناً کوئی بھی بھائی نہیں چاہے گا کہ اس کی بہن کو کوئی پسند کرے اور پھر دھوکا دے دے۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے عاطف کو فون کر کے کہوں کہ، “جو تم کہتے تھے کہ فیکٹری میں وہ لوگ کام کرتے ہیں جن کے پاس پیسوں کی کمی ہوتی ہے، تو اب تم کہو، تمہارا کیا حال ہے؟ تم خود بلکہ تمہاری بہن بھی فیکٹری ورکر ہے اور وہ بھی میری فیکٹری میں، جس کو تم نے ٹھکرایا تھا۔ دیکھو خدا نے اسے کس لائق کر دیا ہے،” لیکن پھر میں خود کو روک دیتی ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو وہ اپنی بہن کو ملازمت سے روک دے، پھر خدا کو بھی ایسی باتیں پسند نہیں جس میں غرور کی جھلک ہو۔
یہ تو اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں جو انسان کو کہیں نہ کہیں کام کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں، پھر آدمی کو جہاں جیسا کام مل جائے، کر لیتا ہے۔ کام کرنے سے عزت نہیں گھٹتی بلکہ نکمے پن سے عزت ضرور گھٹ جاتی ہے اور معاشرے میں نکمے لوگوں کو کوئی پسند نہیں کرتا، کیونکہ وہ صرف خیالی پلاؤ پکاتے ہیں اور خوابوں کی دنیا میں رہنے بسنے لگتے ہیں۔
خدا جو کرتا ہے ٹھیک ہی کرتا ہے۔ شاید میرے حق میں یہی بہتر تھا کہ آج میں ایک پرتعیش اور آرام دہ زندگی بسر کر رہی ہوں۔ میری زندگی میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ اختر پیار کرنے والے شوہر ہیں اور میرے بچے اس وقت شہر کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں پڑھ رہے ہیں۔ عاطف کو شاید خبر نہیں کہ اس کی بہن جس فیکٹری میں ملازم ہے، وہ ہماری ہے۔
انسان کبھی کبھی کیا سوچتا ہے اور کیا ہو جاتا ہے۔ مجھے اس کی وہ بات رہ رہ کر یاد آتی ہے، جب اس نے مجھے سنانے کو کہا تھا کہ فیکٹری میں وہ لوگ کام کرتے ہیں جن کے پاس پیسے کی کمی ہوتی ہے۔ عاطف نے اپنی بہن کو اپنے ساتھ کام نہیں کرنے دیا، کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اس کی بہن کے ساتھ وہی کچھ ہو جو میرے ساتھ ہوا تھا۔ یقیناً کوئی بھی بھائی نہیں چاہے گا کہ اس کی بہن کو کوئی پسند کرے اور پھر دھوکا دے دے۔ کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے عاطف کو فون کر کے کہوں کہ، “جو تم کہتے تھے کہ فیکٹری میں وہ لوگ کام کرتے ہیں جن کے پاس پیسوں کی کمی ہوتی ہے، تو اب تم کہو، تمہارا کیا حال ہے؟ تم خود بلکہ تمہاری بہن بھی فیکٹری ورکر ہے اور وہ بھی میری فیکٹری میں، جس کو تم نے ٹھکرایا تھا۔ دیکھو خدا نے اسے کس لائق کر دیا ہے،” لیکن پھر میں خود کو روک دیتی ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو وہ اپنی بہن کو ملازمت سے روک دے، پھر خدا کو بھی ایسی باتیں پسند نہیں جس میں غرور کی جھلک ہو۔
یہ تو اپنے اپنے حالات ہوتے ہیں جو انسان کو کہیں نہ کہیں کام کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں، پھر آدمی کو جہاں جیسا کام مل جائے، کر لیتا ہے۔ کام کرنے سے عزت نہیں گھٹتی بلکہ نکمے پن سے عزت ضرور گھٹ جاتی ہے اور معاشرے میں نکمے لوگوں کو کوئی پسند نہیں کرتا، کیونکہ وہ صرف خیالی پلاؤ پکاتے ہیں اور خوابوں کی دنیا میں رہنے بسنے لگتے ہیں۔
(ختم شد)

