جب ابا جان نے میری ماں سے دوسری شادی کی، تو ان کی عمر پچاس سال تھی۔ امی ایک یتیم لڑکی تھیں جو اپنی دادی کے پاس رہتی تھیں۔ دادی کو اپنی پوتی کو بیاہنے کی جلدی تھی، جو اب سولہ سترہ برس کی ہو چکی تھی۔ وہ اسے کسی محفوظ اور کھاتے پیتے گھرانے میں عزت سے رخصت کرنے کی عجلت میں تھیں۔ ہمارے والد ان بوڑھی خاتون کے دور کے عزیز تھے۔ ایک روز اتفاق سے ابا جان نے دادی اور پوتی کو کسی رشتے دار کے گھر دیکھ لیا اور ان کے ذہن میں بجلی کا ایک کوندہ سا لپکا کہ اب انہیں دوسری شادی کر لینی چاہیے۔ یوں وہ ان کی دادی سے ملے اور شادی کا پیغام دیا۔
cknwrites
اگرچہ عمروں کا فرق زیادہ تھا، مگر ابا جان کی صحت پچاس سال کی عمر میں بھی قابلِ رشک تھی اور وہ جوان نظر آتے تھے۔ جما جمایا کاروبار اور ذاتی خوبصورت مکان بھی تھا۔ غرض ہر طرح سے دادی کو یہ رشتہ موزوں لگا، انہوں نے عمر کے فرق کو اہمیت نہ دی اور سوچا کہ دوسرے رشتوں کے انتظار میں کہیں پوتی بن بیاہی نہ رہ جائے۔ بس انہوں نے جھٹ پٹ میرے والد کے رشتے کو قبول کر کے شادی کی تاریخ رکھ دی۔ ان کی شادی کے بعد وہ صرف چھ ماہ ہی زندہ رہیں۔ جب میں پیدا ہوئی، تو ابا ترپن برس کے ہو چکے تھے۔ جب ان کی وفات ہوئی، میں پندرہ سال کی تھی، جبکہ میرے سوتیلے بہن بھائی اب جوان تھے۔ باپ کے مرتے ہی گھر پر ان کا راج ہو گیا اور وہ سوتیلی ماں کو اپنے گھر میں ایک فاضل وجود گرداننے لگے۔ بڑی آپا کی شادی ہو چکی تھی، باقی چاروں غیر شادی شدہ تھے۔
ان چاروں میں سے کوئی بھی نہ چاہتا تھا کہ میری ماں اب اس گھر میں رہیں اور والد کے اثاثوں میں حصہ دار بنیں۔ ان کو یہ راہ دکھانے والے ہمارے چچا چچی تھے، جو انہیں بھڑکاتے تھے۔ میرے دو سوتیلے بھائی اور تین سوتیلی بہنیں تھیں۔ آپا تو شادی شدہ ہو کر اپنے گھر کی ہو چکی تھیں، باقی ابا جان کی جملہ اولاد ایک جیسی تھی۔ ان چاروں کے دل میں امی اور میرے لیے کوئی جگہ نہ تھی، خاص طور پر منجھلی آپا تو ہمیں نفرت اور حقارت سے دیکھتی تھیں، جس کی وجہ سے میں اور امی مسلسل اذیت میں رہنے لگی تھیں۔
والد صاحب کیا اس دنیا سے گئے، ان کی اولاد نے ہمارا جینا دو بھر کر دیا۔ ماں اپنے ہی گھر میں مسلسل اذیت سہنے کی وجہ سے بیمار پڑ گئیں۔ وہ بیٹھے بیٹھے خود سے باتیں کرنے لگتیں، بلا سبب سر پر برقع ڈال کر گھر سے نکل جاتیں اور گلیوں کے چکر لگا کر کچھ دیر بعد واپس آ جاتیں۔ وہ وعدہ کر لیتیں کہ اب کہیں باہر نہ جائیں گی، لیکن جب بھی سوتیلی اولاد میں سے کوئی ان سے بدسلوکی کرتا، تو وہ پھر باہر نکل جاتیں؛ مجھے پتا تھا کہ وہ جی بھر کر رونے کے لیے باہر چلی جاتی ہیں۔ ایک روز والدہ چپکے سے باہر نکل گئیں۔ روبینہ نے ان سے اپنا غسل خانہ دھلوایا تھا اور یہ کہہ کر ان کی اہانت بھی کی تھی کہ دن میں تین بار دھو کر صاف کرو گی، تب کھانا ملے گا۔ ماں کا دل بھر آیا، آنسو بہنے لگے مگر منہ سے کچھ نہ بولیں۔ میں کچن میں سبزی کاٹ رہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں گئیں، اندر سے کنڈی لگائی اور کھڑکی سے باہر نکل گئیں۔ انہیں گھر سے جاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ جب میں سبزی کاٹ چکی، تب مجھے امی کا خیال آیا۔ میں کمرے کی طرف گئی، لیکن بہنوں کے ڈر سے زور سے دستک نہ دی۔ پھر برآمدے میں گئی، ان کے کمرے کی کھڑکی ادھر ہی کھلتی تھی اور سامنے گیٹ تھا۔ کھڑکی کے پٹ کھلے تھے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں نے کھڑکی سے کمرے میں جھانکا، تو امی وہاں موجود نہ تھیں۔ میں سمجھ گئی کہ وہ اسی راستے سے نکل گئی ہیں۔
میں باہر جا کر ان کو نہ ڈھونڈ سکتی تھی کیونکہ بھائیوں نے سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ ہماری اجازت کے بغیر کبھی گھر سے باہر قدم نہ رکھنا، ورنہ یہ اس گھر میں تمہارا آخری دن ہو گا۔ میں بہنوں سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتی تھی؛ وہ تو پہلے ہی کہتی تھیں کہ یہ پاگل عورت جب جی چاہتا ہے، منہ اٹھا کر گھر سے نکل جاتی ہے۔ دن گزر گیا، میں دل ہی دل میں دعا کرتے ہوئے چپکے چپکے آنسو پونچھتی رہی اور گھر کا کام کرتی رہی۔ میں دعا کرنے لگی کہ یا الہی! ماں جہاں بھی ہے، اس کو گھر کا راستہ سمجھا دے۔ اگر وہ راستہ بھول گئی ہے تو اپنی رحمت سے اسے یاد دلا دے۔ ان کی یادداشت بھی اب بہت کمزور ہو گئی تھی۔ میری دعا قبول ہو گئی اور کسی نے دروازے کی بیل بجائی۔ بڑا بھائی گھر پر نہ تھا اور چھوٹا بھائی کالج سے آنے کے بعد سو کر اٹھا ہی تھا کہ بیل بجی۔ وہی گیٹ پر گیا۔ پتا چلا کہ ماں ریلوے پٹڑی کراس کرتے ہوئے ریل گاڑی کے نیچے آ گئی تھی۔ اسپتال سے یہ اطلاع دینے ایک شخص آیا تھا، جس کے ساتھ دو پولیس والے بھی تھے۔
والد صاحب کیا اس دنیا سے گئے، ان کی اولاد نے ہمارا جینا دو بھر کر دیا۔ ماں اپنے ہی گھر میں مسلسل اذیت سہنے کی وجہ سے بیمار پڑ گئیں۔ وہ بیٹھے بیٹھے خود سے باتیں کرنے لگتیں، بلا سبب سر پر برقع ڈال کر گھر سے نکل جاتیں اور گلیوں کے چکر لگا کر کچھ دیر بعد واپس آ جاتیں۔ وہ وعدہ کر لیتیں کہ اب کہیں باہر نہ جائیں گی، لیکن جب بھی سوتیلی اولاد میں سے کوئی ان سے بدسلوکی کرتا، تو وہ پھر باہر نکل جاتیں؛ مجھے پتا تھا کہ وہ جی بھر کر رونے کے لیے باہر چلی جاتی ہیں۔ ایک روز والدہ چپکے سے باہر نکل گئیں۔ روبینہ نے ان سے اپنا غسل خانہ دھلوایا تھا اور یہ کہہ کر ان کی اہانت بھی کی تھی کہ دن میں تین بار دھو کر صاف کرو گی، تب کھانا ملے گا۔ ماں کا دل بھر آیا، آنسو بہنے لگے مگر منہ سے کچھ نہ بولیں۔ میں کچن میں سبزی کاٹ رہی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں گئیں، اندر سے کنڈی لگائی اور کھڑکی سے باہر نکل گئیں۔ انہیں گھر سے جاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ جب میں سبزی کاٹ چکی، تب مجھے امی کا خیال آیا۔ میں کمرے کی طرف گئی، لیکن بہنوں کے ڈر سے زور سے دستک نہ دی۔ پھر برآمدے میں گئی، ان کے کمرے کی کھڑکی ادھر ہی کھلتی تھی اور سامنے گیٹ تھا۔ کھڑکی کے پٹ کھلے تھے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں نے کھڑکی سے کمرے میں جھانکا، تو امی وہاں موجود نہ تھیں۔ میں سمجھ گئی کہ وہ اسی راستے سے نکل گئی ہیں۔
میں باہر جا کر ان کو نہ ڈھونڈ سکتی تھی کیونکہ بھائیوں نے سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ ہماری اجازت کے بغیر کبھی گھر سے باہر قدم نہ رکھنا، ورنہ یہ اس گھر میں تمہارا آخری دن ہو گا۔ میں بہنوں سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتی تھی؛ وہ تو پہلے ہی کہتی تھیں کہ یہ پاگل عورت جب جی چاہتا ہے، منہ اٹھا کر گھر سے نکل جاتی ہے۔ دن گزر گیا، میں دل ہی دل میں دعا کرتے ہوئے چپکے چپکے آنسو پونچھتی رہی اور گھر کا کام کرتی رہی۔ میں دعا کرنے لگی کہ یا الہی! ماں جہاں بھی ہے، اس کو گھر کا راستہ سمجھا دے۔ اگر وہ راستہ بھول گئی ہے تو اپنی رحمت سے اسے یاد دلا دے۔ ان کی یادداشت بھی اب بہت کمزور ہو گئی تھی۔ میری دعا قبول ہو گئی اور کسی نے دروازے کی بیل بجائی۔ بڑا بھائی گھر پر نہ تھا اور چھوٹا بھائی کالج سے آنے کے بعد سو کر اٹھا ہی تھا کہ بیل بجی۔ وہی گیٹ پر گیا۔ پتا چلا کہ ماں ریلوے پٹڑی کراس کرتے ہوئے ریل گاڑی کے نیچے آ گئی تھی۔ اسپتال سے یہ اطلاع دینے ایک شخص آیا تھا، جس کے ساتھ دو پولیس والے بھی تھے۔
امی کی یادداشت چونکہ کمزور ہو گئی تھی، اسی لیے میں ان کی ہر قمیص کی جیب میں والد صاحب کا بزنس کارڈ ڈال دیا کرتی تھی۔ شکر ہے کہ اس روز بھی ان کی جیب میں ابا کا وزٹنگ کارڈ موجود تھا۔ کارڈ پر آفس کا نمبر درج تھا۔ جب اس نمبر پر فون کیا گیا تو بھائی نے فون اٹھایا اور وہ فوراً چچا کے ہمراہ گھر آ گئے۔ ادھر پولیس بھی آ گئی، جنہوں نے امی کی میت ہمارے حوالے کی، جو حد درجہ مضروب ہو چکی تھی۔ آپا کو بھی فون کر کے اطلاع دے دی گئی، وہ اپنے خاوند اور بچوں کے ہمراہ پہنچ گئیں۔ ماں کی لاش دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ میں بلک بلک کر رو رہی تھی کیونکہ اب میرا اس دنیا میں کوئی نہ رہا تھا۔ آپا نے جب مجھے یوں تڑپتے اور بلکتے دیکھا، تو ان کا دل جانے کیسے پسیج گیا۔ شاید انہیں اپنی ماں کی موت کا منظر یاد آ گیا تھا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا، گلے سے لگایا اور تسلی دینے لگیں۔ وہ تین روز ہمارے ہاں رہیں اور پھر مجھے اپنے ساتھ لے آئیں۔ یہاں مجھے سکون ملا۔ ان کے پیار نے مجھے ماں جیسی محبت کا احساس دلایا۔ تھیں تو وہ بھی سوتیلی، لیکن اپنے باقی بہن بھائیوں سے بالکل مختلف تھیں۔
آپا بہت اچھی تھیں، مگر ان کی ساس، نند اور شوہر سبھی اکھڑ مزاج تھے۔ ان کو میرا اپنے گھر میں رہنا بالکل برداشت نہ تھا۔ ان کی ساس کہتیں کہ ہم اس پرائی لڑکی کو کیوں رکھیں؟ اسے اپنے باپ کے گھر رہنا چاہیے۔ آپا کہتیں کہ یہ پرائی نہیں، میری بہن ہے؛ یہ گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹائے گی، تبھی تو اسے لے کر آئی ہوں۔ فی الحال اسے ماں کا غم ہے، کچھ دن میں چلی جائے گی۔ غرض کہ انہوں نے گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود مجھے اپنے ساتھ رکھا کیونکہ وہ اپنے بہن بھائیوں کے مجھ سے برتاؤ سے اچھی طرح باخبر تھیں اور انہیں میری بہت فکر تھی۔ شوہر اور ساس کی مخالفت کے باوجود انہوں نے میرا کالج میں داخلہ کروا دیا۔ انہوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ صرف دو سال اسے یہاں برداشت کر لو، میں وعدہ کرتی ہوں کہ ابا کی جائیداد سے جو حصہ مجھے ملے گا، وہ سب تم کو دے دوں گی۔ بیوی پھر بیوی ہوتی ہے، شوہر کو اس کی بات ماننا ہی پڑی اور بہنوئی صاحب نے یہ سب برداشت کر لیا۔ انہوں نے ایک اور بھلا یہ کیا کہ میرا نرسنگ ٹریننگ میں داخلہ کروا دیا، کیونکہ وہاں رہائش کی سہولت تھی۔ یوں میں ٹریننگ سینٹر کے ہاسٹل میں رہ سکتی تھی۔ میں ہاسٹل منتقل ہو گئی۔ دو سال پلک جھپکتے ہی گزر گئے اور مجھے اسپتال میں نوکری بھی مل گئی۔ اب چار پیسے تنخواہ کے آنے لگے، جو میں لا کر آپا کے ہاتھ پر رکھ دیتی تھی۔ اس کی وجہ سے اب میں بہنوئی کی نظروں میں بھی اہم ہو گئی۔ آپا میرے پیسے بچا کر رکھتیں کہ اس کی شادی بھی تو کرنی ہے، مگر بہنوئی ان کے پیچھے پڑ جاتے اور میری تنخواہ خرچ کر دیتے۔ میں پیسوں کے جانے کا قلق نہ کرتی؛ میں سوچتی کہ بے شک یہ پیسے لے لیں، لیکن بس میری آپا کی محبت مجھے حاصل رہے۔
آپا بہت اچھی تھیں، مگر ان کی ساس، نند اور شوہر سبھی اکھڑ مزاج تھے۔ ان کو میرا اپنے گھر میں رہنا بالکل برداشت نہ تھا۔ ان کی ساس کہتیں کہ ہم اس پرائی لڑکی کو کیوں رکھیں؟ اسے اپنے باپ کے گھر رہنا چاہیے۔ آپا کہتیں کہ یہ پرائی نہیں، میری بہن ہے؛ یہ گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹائے گی، تبھی تو اسے لے کر آئی ہوں۔ فی الحال اسے ماں کا غم ہے، کچھ دن میں چلی جائے گی۔ غرض کہ انہوں نے گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود مجھے اپنے ساتھ رکھا کیونکہ وہ اپنے بہن بھائیوں کے مجھ سے برتاؤ سے اچھی طرح باخبر تھیں اور انہیں میری بہت فکر تھی۔ شوہر اور ساس کی مخالفت کے باوجود انہوں نے میرا کالج میں داخلہ کروا دیا۔ انہوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ صرف دو سال اسے یہاں برداشت کر لو، میں وعدہ کرتی ہوں کہ ابا کی جائیداد سے جو حصہ مجھے ملے گا، وہ سب تم کو دے دوں گی۔ بیوی پھر بیوی ہوتی ہے، شوہر کو اس کی بات ماننا ہی پڑی اور بہنوئی صاحب نے یہ سب برداشت کر لیا۔ انہوں نے ایک اور بھلا یہ کیا کہ میرا نرسنگ ٹریننگ میں داخلہ کروا دیا، کیونکہ وہاں رہائش کی سہولت تھی۔ یوں میں ٹریننگ سینٹر کے ہاسٹل میں رہ سکتی تھی۔ میں ہاسٹل منتقل ہو گئی۔ دو سال پلک جھپکتے ہی گزر گئے اور مجھے اسپتال میں نوکری بھی مل گئی۔ اب چار پیسے تنخواہ کے آنے لگے، جو میں لا کر آپا کے ہاتھ پر رکھ دیتی تھی۔ اس کی وجہ سے اب میں بہنوئی کی نظروں میں بھی اہم ہو گئی۔ آپا میرے پیسے بچا کر رکھتیں کہ اس کی شادی بھی تو کرنی ہے، مگر بہنوئی ان کے پیچھے پڑ جاتے اور میری تنخواہ خرچ کر دیتے۔ میں پیسوں کے جانے کا قلق نہ کرتی؛ میں سوچتی کہ بے شک یہ پیسے لے لیں، لیکن بس میری آپا کی محبت مجھے حاصل رہے۔
میں اب صرف ویک اینڈ پر ہی آپا کے گھر آتی اور ایک دو روز رہ کر واپس ہاسٹل چلی جاتی۔ آپا کہتیں کہ خبردار! اب تنخواہ مجھے مت دینا، اپنے پاس رکھا کرو، یہ پیسے تمہارے مستقبل میں کام آئیں گے۔ اگر مجھے دو گی، تو مشتاق لے لے گا۔ میری بہن تو بہت اچھی تھی، مگر بہنوئی ٹھیک انسان نہیں تھا۔ یہ اتوار کا دن تھا، میں گھر پر ہی تھی کہ صبح صبح ایک فون آ گیا۔ اس وقت میں مشتاق بھائی کو چائے دے رہی تھی۔ فون سن کر وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے: “نویدہ، میرے دوست کی بیوی کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے، کیا تم ذرا دیر کے لیے اسے دیکھنے میرے ساتھ چل سکتی ہو؟” انہوں نے کچھ اس انداز سے منت کی کہ میں انکار نہ کر سکی اور ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔ آپا نے بھی نہیں روکا کیونکہ ان کے شوہر بہت پریشان نظر آ رہے تھے۔ تمام راستہ وہ خاموشی سے گاڑی چلاتے رہے اور میں بھی چپ چاپ بیٹھی رہی۔ گاڑی کسی انجانے راستے پر جا رہی تھی۔ ذرا آگے جا کر انہوں نے کار کو ایک کچے راستے پر ڈال دیا۔ آگے کا راستہ دشوار گزار ہوتا گیا؛ گاڑی کبھی ٹھیک چلتی تو کبھی ڈگمگانے لگتی۔ میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کیونکہ اب ہم ایک گھنے جنگل میں آ چکے تھے۔
انہوں نے گاڑی روک لی اور بولے: “آگے راستہ نہیں ہے، کار نہیں جا سکتی، نہر تک پیدل چلنا ہو گا، اس کے بعد بستی شروع ہو جائے گی۔” میں نے دیکھا کہ وہاں جگہ جگہ گہرے گڑھے تھے جن میں پانی بھرا ہوا تھا۔ ان کے کہنے پر میں گاڑی سے اتر گئی۔ وہ بولے: “ذرا دیر یہاں ٹھہرو، انجن گرم ہو گیا ہے، ذرا ٹھنڈا ہو جائے تو میں اس پر پانی ڈال لوں۔” تبھی ان کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے آواز صاف نہیں آ رہی تھی۔ وہ کہتے رہے: “ابھی تک تم نہیں پہنچے؟ میں مقررہ جگہ پر آ گیا ہوں، تم جلدی پہنچو۔” پھر انہوں نے فون بند کر دیا۔ کہنے لگے: “یہاں سگنل نہیں آ رہے، اس نے اسی جگہ آنے کا بتایا تھا۔ آگے سے اس نے پیدل ہمیں اپنے گھر لے جانا ہے؛ اس کی بیوی کی حالت دیکھ کر اگر ممکن ہوا، تو ہم اسے اپنی گاڑی میں اسپتال لے جائیں گے، ورنہ ڈرپ اور ضروری انجکشن وغیرہ تو ساتھ لائی ہو نا؟” “جی۔” میں نے لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا، لیکن میں بری طرح دہشت زدہ ہو چکی تھی۔ مجھے اپنے بہنوئی سے بھی خوف آنے لگا تھا اور میرا بس نہ چل رہا تھا کہ کسی طرح یہاں سے بھاگ جاؤں۔
انتظار کرتے کرتے کافی وقت گزر گیا۔ مجھے شک گزرا کہ کہیں یہ ان کی کوئی چال نہ ہو۔ میں نے کہا: “مشتاق بھائی! واپس چلتے ہیں، اتنی دیر میں تو ایمرجنسی ہی ختم ہو گئی ہو گی، یہاں کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا۔” میں نے بے بس ہو کر ان کی طرف دیکھا، تو مجھے ان کی آنکھوں میں وہ بدنیتی اور ارادہ بجلی کے کوندے کی طرح لپکتا نظر آیا، جسے دیکھ کر میں کانپ اٹھی۔ میں نے اپنے خدا کو پکارا: “یا اللہ! تو ہی میرا والی اور نگہبان ہے، تو ہی میرا مددگار ہے، میری مدد کر۔” صدقِ دل سے نکلی ہوئی وہ دعا عرش پر گئی کہ اسی لمحے آہٹ سنائی دی اور گھنی جھاڑیوں سے چار آدمی نمودار ہو گئے۔ ان کی شکلیں خوفناک تھیں، بڑی بڑی مونچھیں اور گھیر دار شلواریں تھیں۔ ان کے پاس بندوقیں تھیں اور وہ حلیے سے ڈاکو لگ رہے تھے، لیکن اس وقت مجھے اپنا بہنوئی ڈاکو اور وہ چاروں رحمت کے فرشتے لگے۔
میں دوڑ کر ان کی طرف گئی اور کہا: “میرے بھائیو! مجھے گھر پہنچا دو، یہ شخص مجھے نہ جانے کیوں ایسی سنسان جگہ لے آیا ہے۔” جیسے ہی انہوں نے مجھے ہاتھ جوڑ کر منت کرتے دیکھا، انہوں نے ہوا میں فائر کر دیا۔ مشتاق بھائی جہاں کھڑے تھے، سہم کر رہ گئے۔ میں بھی ڈر کر واپس انہی کی طرف پلٹی۔ وہ بندوقیں تانے ہماری طرف آ گئے۔ ان چاروں نے مشتاق بھائی کو گھیر لیا اور ان پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ ان میں سے ایک بولا: “تو جانتا ہے یہ کچے کا علاقہ ہے؟ یہاں آگے ہماری بستی ہے۔ ادھر سے جب مسافر بسیں بھی گزرتی ہیں تو ان کے آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں ہوتی ہیں، تب بھی ہم انہیں لوٹ لیتے ہیں۔ تیرا اس لڑکی کو یہاں لانے کا کیا مقصد تھا اور یہ تیری کیا لگتی ہے؟” انہوں نے جواب دیا: “یہ میری سالی ہے۔” وہ غصے سے بولے: “سالی کون ہوتی ہے؟ بہن ہوتی ہے نا! تو کس لیے اس خطرناک علاقے میں اپنی بہن کو لایا تھا؟ بے غیرت! ہم بسوں کو لوٹتے ہیں، مردوں کی تلاشی لیتے ہیں، مگر مسافر عورتوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ ہم عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی چوڑیاں اور زیور خود اتار کر نیچے رکھ دو۔ ہم زیور لیتے ہیں، مگر عورتیں نہیں اٹھاتے؛ اور تو اس ویرانے میں اس معصوم کو ہماری بستی تک لے آیا؟ تو بے غیرت پیسے کی خاطر یہاں اپنی غیرت بیچنے آ گیا تھا!” انہوں نے بہنوئی سے گاڑی کی چابی چھین لی اور انہیں مار مار کر شدید زخمی کر دیا، پھر کہا: “اب یہاں سے پیدل بھاگ! اگر تیری قسمت اچھی ہوئی تو گشت کرتی ہوئی پولیس کی کوئی گاڑی شاید مل جائے، ورنہ ہم واپس آ کر اس بندوق کی ایک گولی سے تیری مشکل آسان کر دیں گے۔”
اب مجھے کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا کہ میں کس بھیانک جگہ آ گئی تھی، لیکن وہ ڈاکو میرے لیے فرشتے اور رحمت ثابت ہوئے۔ انہوں نے میرے بھائی کا نمبر لے کر اس سے رابطہ کیا۔ میں ان کی بستی میں ایک ڈاکو کے گھر، ایک دن اس کی بیوی اور بہن کی تحویل میں رہی اور پھر ان لوگوں نے مجھے میرے بھائی اور چچا کے حوالے کر کے باوقار اور باحفاظت طریقے سے رخصت کر دیا۔ ان کے اس طرزِ عمل پر آج تک عقل حیران ہے کہ وہ جرائم پیشہ لوگ تھے، جو مسافروں کو لوٹتے تھے، لیکن عورتوں کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔ حیرت ہے کہ ڈاکوؤں کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں!
اس واقعے کے بعد میرے دونوں بھائیوں نے آپا کے شوہر سے ہمیشہ کے لیے قطع تعلق کر لیا اور مجھ کو ایک باعزت گھرانے میں بیاہ دیا۔ میرے بھائیوں نے میری شادی اتنی دھوم دھام سے کی، جیسے بھائی اپنی سگی بہنوں کی کیا کرتے ہیں۔
انہوں نے گاڑی روک لی اور بولے: “آگے راستہ نہیں ہے، کار نہیں جا سکتی، نہر تک پیدل چلنا ہو گا، اس کے بعد بستی شروع ہو جائے گی۔” میں نے دیکھا کہ وہاں جگہ جگہ گہرے گڑھے تھے جن میں پانی بھرا ہوا تھا۔ ان کے کہنے پر میں گاڑی سے اتر گئی۔ وہ بولے: “ذرا دیر یہاں ٹھہرو، انجن گرم ہو گیا ہے، ذرا ٹھنڈا ہو جائے تو میں اس پر پانی ڈال لوں۔” تبھی ان کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے آواز صاف نہیں آ رہی تھی۔ وہ کہتے رہے: “ابھی تک تم نہیں پہنچے؟ میں مقررہ جگہ پر آ گیا ہوں، تم جلدی پہنچو۔” پھر انہوں نے فون بند کر دیا۔ کہنے لگے: “یہاں سگنل نہیں آ رہے، اس نے اسی جگہ آنے کا بتایا تھا۔ آگے سے اس نے پیدل ہمیں اپنے گھر لے جانا ہے؛ اس کی بیوی کی حالت دیکھ کر اگر ممکن ہوا، تو ہم اسے اپنی گاڑی میں اسپتال لے جائیں گے، ورنہ ڈرپ اور ضروری انجکشن وغیرہ تو ساتھ لائی ہو نا؟” “جی۔” میں نے لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا، لیکن میں بری طرح دہشت زدہ ہو چکی تھی۔ مجھے اپنے بہنوئی سے بھی خوف آنے لگا تھا اور میرا بس نہ چل رہا تھا کہ کسی طرح یہاں سے بھاگ جاؤں۔
انتظار کرتے کرتے کافی وقت گزر گیا۔ مجھے شک گزرا کہ کہیں یہ ان کی کوئی چال نہ ہو۔ میں نے کہا: “مشتاق بھائی! واپس چلتے ہیں، اتنی دیر میں تو ایمرجنسی ہی ختم ہو گئی ہو گی، یہاں کوئی آتا دکھائی نہیں دے رہا۔” میں نے بے بس ہو کر ان کی طرف دیکھا، تو مجھے ان کی آنکھوں میں وہ بدنیتی اور ارادہ بجلی کے کوندے کی طرح لپکتا نظر آیا، جسے دیکھ کر میں کانپ اٹھی۔ میں نے اپنے خدا کو پکارا: “یا اللہ! تو ہی میرا والی اور نگہبان ہے، تو ہی میرا مددگار ہے، میری مدد کر۔” صدقِ دل سے نکلی ہوئی وہ دعا عرش پر گئی کہ اسی لمحے آہٹ سنائی دی اور گھنی جھاڑیوں سے چار آدمی نمودار ہو گئے۔ ان کی شکلیں خوفناک تھیں، بڑی بڑی مونچھیں اور گھیر دار شلواریں تھیں۔ ان کے پاس بندوقیں تھیں اور وہ حلیے سے ڈاکو لگ رہے تھے، لیکن اس وقت مجھے اپنا بہنوئی ڈاکو اور وہ چاروں رحمت کے فرشتے لگے۔
میں دوڑ کر ان کی طرف گئی اور کہا: “میرے بھائیو! مجھے گھر پہنچا دو، یہ شخص مجھے نہ جانے کیوں ایسی سنسان جگہ لے آیا ہے۔” جیسے ہی انہوں نے مجھے ہاتھ جوڑ کر منت کرتے دیکھا، انہوں نے ہوا میں فائر کر دیا۔ مشتاق بھائی جہاں کھڑے تھے، سہم کر رہ گئے۔ میں بھی ڈر کر واپس انہی کی طرف پلٹی۔ وہ بندوقیں تانے ہماری طرف آ گئے۔ ان چاروں نے مشتاق بھائی کو گھیر لیا اور ان پر تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ ان میں سے ایک بولا: “تو جانتا ہے یہ کچے کا علاقہ ہے؟ یہاں آگے ہماری بستی ہے۔ ادھر سے جب مسافر بسیں بھی گزرتی ہیں تو ان کے آگے پیچھے پولیس کی گاڑیاں ہوتی ہیں، تب بھی ہم انہیں لوٹ لیتے ہیں۔ تیرا اس لڑکی کو یہاں لانے کا کیا مقصد تھا اور یہ تیری کیا لگتی ہے؟” انہوں نے جواب دیا: “یہ میری سالی ہے۔” وہ غصے سے بولے: “سالی کون ہوتی ہے؟ بہن ہوتی ہے نا! تو کس لیے اس خطرناک علاقے میں اپنی بہن کو لایا تھا؟ بے غیرت! ہم بسوں کو لوٹتے ہیں، مردوں کی تلاشی لیتے ہیں، مگر مسافر عورتوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ ہم عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی چوڑیاں اور زیور خود اتار کر نیچے رکھ دو۔ ہم زیور لیتے ہیں، مگر عورتیں نہیں اٹھاتے؛ اور تو اس ویرانے میں اس معصوم کو ہماری بستی تک لے آیا؟ تو بے غیرت پیسے کی خاطر یہاں اپنی غیرت بیچنے آ گیا تھا!” انہوں نے بہنوئی سے گاڑی کی چابی چھین لی اور انہیں مار مار کر شدید زخمی کر دیا، پھر کہا: “اب یہاں سے پیدل بھاگ! اگر تیری قسمت اچھی ہوئی تو گشت کرتی ہوئی پولیس کی کوئی گاڑی شاید مل جائے، ورنہ ہم واپس آ کر اس بندوق کی ایک گولی سے تیری مشکل آسان کر دیں گے۔”
اب مجھے کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا تھا کہ میں کس بھیانک جگہ آ گئی تھی، لیکن وہ ڈاکو میرے لیے فرشتے اور رحمت ثابت ہوئے۔ انہوں نے میرے بھائی کا نمبر لے کر اس سے رابطہ کیا۔ میں ان کی بستی میں ایک ڈاکو کے گھر، ایک دن اس کی بیوی اور بہن کی تحویل میں رہی اور پھر ان لوگوں نے مجھے میرے بھائی اور چچا کے حوالے کر کے باوقار اور باحفاظت طریقے سے رخصت کر دیا۔ ان کے اس طرزِ عمل پر آج تک عقل حیران ہے کہ وہ جرائم پیشہ لوگ تھے، جو مسافروں کو لوٹتے تھے، لیکن عورتوں کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔ حیرت ہے کہ ڈاکوؤں کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں!
اس واقعے کے بعد میرے دونوں بھائیوں نے آپا کے شوہر سے ہمیشہ کے لیے قطع تعلق کر لیا اور مجھ کو ایک باعزت گھرانے میں بیاہ دیا۔ میرے بھائیوں نے میری شادی اتنی دھوم دھام سے کی، جیسے بھائی اپنی سگی بہنوں کی کیا کرتے ہیں۔

