بے رحم زمانہ


بابا کی بے حسی کی وجہ سے میری ماں گھل گھل کر رہ گئیں اور جوانی میں ہی چل بسیں۔ جب تک دادا زندہ رہے، وراثتی زمینوں کے امین رہے اور وہ زمینیں سونا اگلتی تھیں۔ دادا نے والد کی پرورش بھی شہزادوں کی طرح کی، مگر ان کی تعلیم کی طرف دھیان نہ دیا۔ والد صاحب کو تعلیم سے کوئی شغف نہ تھا، اس لیے بڑی مشکل سے میٹرک پاس کیا۔ جب وہ شہر پڑھنے گئے تو لوگوں نے امیر زادہ سمجھ کر انہیں بہت اہمیت دینی شروع کر دی، اور بس یہیں سے ان کا مزاج خراب ہو گیا۔

کچھ عیاش لڑکوں نے انہیں گھیر لیا، اور وہ تعلیم حاصل کرنے کی بجائے بالاخانوں پر جا کر نو عمر حسیناؤں کا ناچ گانا سننے میں لگ گئے۔ یوں باپ کا پیسہ حصولِ علم کی بجائے طوائف زادیوں پر لٹانے لگے۔ جب بیٹے کی ان سرگرمیوں کا علم دادا کو ہوا تو وہ سکتے میں آ گئے۔ زمانہ قدیم سے کروڑ پتی ہونے کے باوجود دادا نے ایک دمڑی بھی اپنے عیش پر خرچ نہ کی تھی۔ بیٹے کے یہ رنگ دیکھ کر انہوں نے صدمے سے اپنا دل پکڑ لیا، کیونکہ بیٹا بھی اکلوتا تھا۔ وہ انہیں گاؤں واپس بلا کر سمجھایا کرتے اور زمینوں کے انتظام میں لگا دیتے، مگر یہاں بھی ان کا یہی طور رہا کہ دن چڑھے تک سونا اور راتوں کو جاگنا، دوستوں کے ساتھ تاش کھیلنا یا پھر اعلیٰ نسل کے گھوڑے اور کتے پالنا اور ہمہ وقت ان کی سیوا میں لگے رہنا ان کا معمول بن چکا تھا۔

دادا نے بیٹے کی جلد شادی کر دی کیونکہ وہ انہیں بے راہ روی سے بچانا چاہتے تھے۔ والد کی شریکِ حیات بہت نیک، شریف، صابر، ہر تکلیف کو ہنس کر برداشت کرنے والی اور کبھی اف نہ کرنے والی خاتون تھیں۔ ادھر بابا جان اتنے لاپروا مزاج کے انسان تھے کہ مہینوں میری والدہ کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے اور گھر میں رہتے ہوئے بھی اپنی شریکِ حیات سے بات کرنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ دادا جان کو ان کی بیرونی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنی پڑ گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے میرے والد صاحب کا دوستوں کے پاس رہنا اور شہر جانا بالکل بند کرا دیا۔ یہاں تک کہ ان کی گاڑی اور ڈرائیور بھی واپس لے لیے گئے۔

دادا کا بہت رعب تھا اس لیے والد ان کے سامنے دم بھی نہ مار سکتے تھے۔ وہ دادا کے دستِ نگر بھی تھے، اس لیے جب وہ غصہ کرتے تو یہ چپ چاپ سن لیتے، مگر اس کا غصہ وہ اپنی بے قصور شریکِ حیات پر نکالتے اور مہینوں ان سے بات نہ کرتے۔ ان دنوں میں نا سمجھ بچی تھی، مگر آہستہ آہستہ حالات کو سمجھنے لگی تھی۔ میں نے اکثر والد صاحب کو اپنے باپ کو بددعا دیتے سنا تھا کہ کب یہ مریں تو ہم سکھ کا سانس لیں۔ بالآخر میرے باپ کی یہ دعا قبول ہو گئی۔

ایک روز جب دادا اپنی زمینوں پر گئے تو اگلے دن وہیں سے اطلاع آ گئی کہ رات کو ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہیں واقعی اپنی اراضی سے اتنی محبت تھی کہ انہوں نے جان بھی وہیں دی۔ مزارعے نے بتایا کہ رات انہوں نے کھانا کھایا اور ایک گھنٹے بعد دودھ پیا، بس تھوڑی دیر میں ان کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ چل بسے۔ میرے والد باپ کی موت پر افسردہ ہونے کی بجائے اس بات پر بغلیں بجا رہے تھے کہ ان کے راستے کا کانٹا نکل گیا ہے اور اب وہ تمام اراضی کے بلاشرکتِ غیرے مالک ہیں۔

اب وہ جیسے چاہتے، عیش و آرام کے سامان مہیا ہو سکتے تھے اور ہوا بھی یہی۔ دادا کا ابھی چالیسواں بھی نہ ہوا تھا کہ انہوں نے اراضی کے سودے کرنے شروع کر دیے۔ پہلے ایک مربع فروخت کیا اور ساری رقم لے کر شہر چلے گئے۔ جب وہ واپس لوٹے تو ان کی جیبیں خالی تھیں۔

چچا جان انہیں سمجھانے آئے اور کہا، “بیٹا! تم نے یہ کیا کر دیا؟ زمین کو یوں اونے پونے اور اس قدر جلد بیچنے کی کیا ضرورت تھی؟ مجھ سے تو ذکر کر لیتے، میں بھی بڑے بھائی کا کھاتے دار ہوں۔ اب اگر میں شفعہ کر دوں جو میرا حق بنتا ہے، تو تمہارا یہ سودا خراب ہو جائے گا، اس لیے آئندہ سوچ سمجھ کر ایسا قدم اٹھانا۔”
اس پر والد نے بے پرواہی سے کہا، “چچا جان! شفعہ کرنا ہے تو جا کر شوق سے کیجیے، مگر خریدنے والے سے کچھ رقم بڑھا کر لیجیے گا، اور جب رقم مل جائے تو آدھی مجھے دے دیجیے گا۔”
داماد کی یہ بات سن کر چچا نے دانتوں تلے انگلی دبا لی کہ میں تو انہیں سمجھانے آیا تھا اور داماد صاحب یہ کیا فرما رہے ہیں۔ بہرحال، انہوں نے صبر کر لیا کیونکہ خریدنے والا بھی انہی کا قریبی رشتے دار تھا اور وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتے تھے، لہٰذا انہوں نے شفعہ کا حق استعمال نہ کیا اور بیٹی کا معاملہ ہونے کی وجہ سے داماد کا بھی پاس رکھا۔

ادھر والد کو زمین کی نہیں بلکہ نوٹوں کی گڈیوں کی چاہ تھی۔ ان دنوں ان کی عمر بائیس برس تھی، لاڈلے پلے تھے اور ہواؤں میں اڑنا چاہتے تھے۔ وہ اسی طرح زمین فروخت کرتے گئے اور دنیا کی سیاحت میں لگ گئے۔ جب صرف تین چار مربع باقی رہ گئے تو انہیں خیال آیا کہ اس طرح تو وہ کنگال ہو جائیں گے۔ اگر اراضی اور جائیداد کا روپیہ یوں ہی اڑایا جائے اور بدلے میں نئی جائیداد نہ خریدی جائے تو انسان بے چھت ہو کر کوڑی کوڑی کا محتاج ہو جاتا ہے۔ ان کی تعلیم بھی کم تھی اور وہ کوئی ہنر بھی نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے دوستوں سے مشورہ کیا کہ اب گاؤں میں ان کا جی نہیں لگتا، وہ دنیا دیکھ آئے ہیں اور اب کنویں کا مینڈک بن کر نہیں رہ سکتے، اس لیے بتائیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ کھیتی باڑی سنبھالنا ان کے بس کا روگ نہیں تھا، یہ تو بابا کا ہنر اور ان کے ذریعہِ عزت تھا، وہی زمینداری کر سکتے تھے۔

دوستوں نے انہیں صلاح دی کہ شہری سکونت اختیار کر لو اور جو تین مربع بچ گئے ہیں، انہیں بھی بیچ کر شہر میں کوئی بزنس شروع کر لو، کیونکہ بزنس میں بڑا پیسہ ہے اور تم تو ویسے بھی مالدار ہو۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے؟

والد صاحب نے بغیر سوچے سمجھے بقیہ اراضی میں سے آدھی اور فروخت کر دی اور ساری رقم لے کر شہر چلے گئے۔ وہاں ایک دوست نے انہیں اپنے ایک تاجر دوست سے متعارف کرایا جس نے کہا کہ تم سرمایہ لگاؤ تو میں تمہیں بزنس کرا دیتا ہوں۔ زمیندار صرف زمینداری ہی کر سکتا ہے، اگر بزنس کا تجربہ نہ ہو تو تجارت ہرگز نہیں کرنی چاہیے ورنہ انسان زمین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اور اگر تجارت میں بخت یاوری نہ کرے تو انسان کو ادھر سے بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑता ہے، کیونکہ زمیندار کا بیٹا زمیندار اور تاجر کا بیٹا ہی تاجر کامیاب رہتا ہے۔ بہرحال، والد نے بزنس کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور سارا سرمایہ ضائع ہو گیا۔

اب شہر میں رہنا محال ہو گیا تو وہ مجبوراََ دوبارہ گاؤں آ گئے۔ یہاں ابھی ان کے پاس کچھ زرعی اراضی بچی تھی جو آبائی تھی، چنانچہ انہوں نے اسی زمین کی دیکھ بھال شروع کر دی، مگر شومئی قسمت کہ یہ اراضی دریا کے قریب تھی جسے بیٹ کی زمین کہتے ہیں۔ یہ زمین بہت زرخیز ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی دریا کے رخ بدلنے سے دریا برد بھی ہو جاتی ہے۔ جب وہ زرخیز علاقہ بھی دریا برد ہو گیا تو وہ بہت دل برداشتہ ہوئے۔ اب ان کا بینک بیلنس بھی کافی کم ہو چکا تھا، اس لیے انہوں نے ایک دوست کو فون کر کے اپنی صورتحال بتائی اور کہا کہ مجھے کچھ زرعی قرضہ مل جائے تاکہ میں حالات کو سنبھال سکوں۔ وہ دوست انہی دنوں اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوا تھا، اس نے مشورہ دیا کہ کچھ رقم میرے توسط سے اسٹاک مارکیٹ میں لگا کر دیکھو، آج کل مارکیٹ بہت اوپر جا رہی ہے اور اللہ نے چاہا تو تمہارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔

والد صاحب نے ہمیں گاؤں میں ہی رہنے دیا اور اللہ کا نام لے کر دوبارہ شہر چلے گئے اور ساری رقم دوست کے حوالے کر دی۔ اس نے شیئرز خریدے اور کچھ ہی دنوں میں اتنا منافع ہوا کہ رقم چوگنی ہو گئی۔ والد صاحب کو بزنس کا یہ طریقہ بہت سود مند اور آسان لگا، چنانچہ اب وہ وقتاً فوقتاً رقم لگاتے اور منافع آ جاتا۔ انہوں نے شہر میں ایک گھر بھی خرید لیا اور تمام روپے اسی دوست کے حوالے کر دیے جس نے وہ سارے پیسے سٹے میں لگا دیے۔

قسمت کی دیوی جو کچھ دنوں سے ان پر مہربان چلی آ رہی تھی، اچانک نامہربان ہو گئی اور ساری رقم ڈوب گئی۔ وہ ایک بار پھر کروڑ پتی سے کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے۔ اس غم سے نڈھال ہو کر جب جینے کا کوئی آسرا نہ رہا تو انہوں نے شراب میں پناہ لی۔ اب فاقہ مستی، غلط ساتھیوں کی صحبت اور پینا پلانا ان کا روز کا معمول بن چکا تھا۔ جینے کا ڈھنگ جاتا رہا اور “یک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے” کے مصداق وہ اسی فریب میں غرق رہنے لگے کہ آخر کسی دن خود بخود ان کے دن پھر جائیں گے۔

حالات کے رحم و کرم پر گرتے پڑتے بالآخر میں میٹرک تک پہنچ گئی، وہ بھی میری صابر ماں کی ہمت سے۔ بچپن کی یادیں میرے ذہن سے محو ہو چکی تھیں اور مجھے یاد ہی نہ رہا تھا کہ کبھی ہم نے زندگی میں اچھے دن بھی گزارے تھے۔ البتہ سنا کرتی تھی کہ ہم محلوں میں رہا کرتے تھے، کمخواب پہنتے تھے، میرے دادا بہت بڑے زمیندار تھے اور ان کی زندگی رئیسوں جیسی تھی، مگر میں خود نہیں جانتی تھی کہ کب ہم نے ایسی زندگی گزاری تھی۔ اس شاندار بچپن کی سنہری یاد البتہ ہلکی سی پرچھائیں کی طرح میرے ذہن کے پردے پر یوں باقی تھی جیسے کوئی خوبصورت خواب ہو۔

حالات کی ایسی آندھیاں چلیں کہ وقت کی ریت نے ان خوابوں کی حسین دنیا کو ڈھانپ کر شعور کی آنکھوں سے اوجھل کر دیا۔ امی تو تھیں ہی صبر کا پیکر، انہوں نے کبھی ماضی کو دہر کر ان زخموں کو کریدنے کی کوشش نہیں کی۔ ہمارے گاؤں کا کوئی شناسا یا رشتہ دار اگر کبھی مل جاتا تو میں اپنے باپ دادا کے شاندار ماضی کا ذکر سننے سے اجتناب کرتی، کیونکہ ان دنوں کا ذکر کرنے کا کیا فائدہ تھا جن سے دل کے زخموں میں مزید ٹیس اٹھنے لگتی تھی۔

اب تو ہم ایک چھوٹے سے تنگ و تاریک گھر میں رہنے لگے تھے، اور پھر ایک دن امی بھی حالات کے ستم سہتے سہتے فوت ہو گئیں۔ والد صاحب کے غلط فیصلوں اور کرتوتوں سے دل برداشتہ ہو کر میرا بھائی ایک دوست کے ساتھ دلی نکل گیا اور وہاں سے کسی اور ملک چلا گیا، اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ وہ زندہ ہے یا مر گیا، کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ میری بہن کی شادی ماموں کے بیٹے سے ہو گئی اور وہ اپنے گھر میں آسودہ حال ہو گئی، مگر اس نے ہم سے کوئی ناتا نہ رکھا۔

والد اور میں… بس دو ہی اس بدحال مکان کے مکین رہ گئے تھے۔ والدہ کی وفات کے بعد والد نے دل کھول کر شراب نوشی شروع کر دی اور تمام زمین، گاؤں کا مکان اور والدہ کے زیورات، غرض ہر شے سٹے میں گنووا دی۔ اب یہ عالم تھا کہ ہم دونوں کو دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ ملتی تھی۔ میں ایف اے میں تھی اور چاہتی تھی کہ کسی طرح گریجویشن مکمل کر لوں تاکہ کوئی ملازمت کر کے حالات کو سنبھال سکوں۔ میری عمر اس وقت ایسی تھی کہ پیاز کی چٹنی بھی “گھی پر اٹھے” جیسی لگتی تھی۔

ہمارے پڑوس میں خالہ ملکہ رہتی تھیں جو تعلیم کے معاملے میں میری مدد کرتی تھیں۔ ان کی میری امی سے دوستی تھی، اس لیے وہ اس دوستی کا حق نبھا رہی تھیں۔ وہ اکثر کہتی تھیں، “اے شہزادی! تو کہاں پڑی ہے؟ تیری مسند تو کسی اونچے دو محلے میں بچھی ہے۔”
میں ان کی یہ بات سن کر صرف مسکرا دیتی تھی حالانکہ میں ان لفظوں کا مطلب بھی نہیں سمجھتی تھی، مگر وہ کہتی تھیں، “دیکھ لینا، تو ایک دن ضرور لاکھوں میں کھیلے گی کیونکہ ایسی حسین صورتیں زیادہ دن گڈریوں میں چھپی نہیں رہتیں۔”
کبھی کبھی ان کی یہ باتیں سن کر میں خفا ہو جاتی، مگر پھر یہ سوچ کر مان جاتی کہ ان کے سوا میرا تھا ہی کون؟

ایک روز خوب بادل گھرے ہوئے تھے کہ اچانک والد ایک شخص کے ساتھ گھر آئے۔ میں کچن میں چائے بنا رہی تھی۔ آنے والا مہمان والد کا ہم عمر تو تھا لیکن ان سے کچھ کم عمر لگ رہا تھا، اور خاصا امیر آدمی معلوم ہوتا تھا۔ میں نے سوچا، کاش! ابا جان بھی عقل سے کام لیتے اور اپنی زمینیں اور جائیدادیں اس طرح بغیر سوچے سمجھے نہ گنواتے تو آج ہم اس برے حال کو نہ پہنچتے۔

ابا جان نے مجھے چائے لانے کو کہا۔ جب میں نے ٹرے ان کے سامنے لا کر رکھی تو مہمان نے مجھے نظر بھر کر دیکھا اور شفقت سے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا، “کون سی کلاس میں ہو؟”
میں نے بے دلی سے کہا، “جی! ایف اے کا امتحان دیا ہے۔”
انہوں نے کہا، “بہت اچھا ہے۔ آگے کیا بننے کا ارادہ ہے؟”
میں نے کہا، “کچھ بھی نہیں۔”
وہ سمجھ گئے کہ میں اپنے باپ کی ناکامیوں سے بہت دل برداشتہ ہوں، اور پھر وہ اور ابا آپس میں باتوں میں مشغول ہو گئے۔

میں وہاں سے کچن میں تو آ گئی تھی، مگر میرے کان ان کی گفتگو پر ہی لگے ہوئے تھے۔
“کتنی مالیت ہے زمین کی؟ سارے کاغذات تو ہیں نا تمہارے پاس؟” مہمان نے پوچھا۔
ابا نے کہا، “بہت قیمتی ہے، سب کھاتے میں درج ہے۔ وہ میری ملکیت ہے جو برسوں پہلے دریا نے نگل لی تھی، اب نکال دی ہے۔ یہ میری قسمت کی آخری پونجی ہے، جسے میں خود آباد نہیں کر سکتا اور اب بیچنا چاہتا ہوں۔”

یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا۔ میں نے دل میں سوچا، آہ… میرے آرام طلب بابا! تم اپنی عادت سے باز نہیں آؤ گے؟ اس آخری پونجی کو بھی جام میں گھول کر پی جاؤ گے؟ کم از کم اسے تو میرے لیے رہنے دو!

دوسری طرف دوست نے زمین کی مناسب قیمت لگا دی اور ابا نے وہ منظور بھی کر لی۔ اس وقت میرا جی چاہا کہ میں دوڑ کر والد کے منہ پر ہاتھ رکھ دوں اور کہوں، “نہیں ابا! اس زمین کو مت بیچو، یہ میرا حق ہے، اسے میرے لیے رہنے دو۔ وہاں اب پل بن گیا ہے اور بند باندھ دیے گئے ہیں، اب وہ زمین دریا برد نہیں ہوگی، مطمئن رہو! وہ بہت زرخیز ہے، ذرا سی محنت سے ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔”

مگر ابا نے کہا، “میرے پاس پیسے نہیں ہیں کہ اس پر کچھ خرچ کر سکوں اور لہلہاتے کھیتوں کی بہار دیکھ سکوں۔ مجھے اس وقت فوری پیسوں کی سخت حاجت ہے کیونکہ قرض دار اب بہت شرمندہ کرتے ہیں، اور آگے بیٹی کی شادی بھی کرنی ہے۔”
یہ سن کر پہلی بار مجھے پتا چلا کہ انہیں میری بھی کچھ فکر ہے۔
اس پر دوست نے کہا، “ٹھیک ہے یار! تم زمین کی قیمت سے کچھ زیادہ رقم لے لو، میں اس زمین کو خود آباد کر لوں گا، لیکن تم سے ایک بات کہنی ہے، برا مت ماننا۔ تمہاری بیٹی میری بیٹی جیسی ہے، اس کا رشتہ میرے بیٹے سے کر دو تو بہت اچھا رہے گا، اس طرح ہماری یہ پرانی دوستی اور بھی مضبوط ہو جائے گی۔”
ابا نے کہا، “مجھے یہ منظور ہے۔”

یہ سن کر والد نے ایک اطمینان کا سانس لیا۔ دوست نے کہا، “تم شادی کی تیاریاں کرو، چاہو تو آج ہی اپنی اس بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاؤ، بھابی خود اپنے ہاتھوں سے اسے دلہن بنائیں گی کیونکہ اس کی ماں تو اب ہے نہیں۔”
ابا نے کہا، “میں اب اس حال میں گاؤں کس منہ سے جاؤں؟ غریب ہو چکا ہوں، اسی وجہ سے اب رشتہ داروں سے ملنا بھی ترک کر رکھا ہے۔ تمہاری بھابی آئے گی بچی سے ملنے، فی الحال میں چلتا ہوں اور یہ رقم تمہارے کھاتے میں جمع کرا دوں گا، تم اتنے میں زمین کے کاغذات تیار کرا لینا۔” انکل عارف نے کہا۔

والد نے جلدی سے کاغذات مکمل کرائے اور اپنی زندگی کی آخری زمین بھی بیچ دی۔ میری شادی انکل عارف کے بیٹے سے ہونے کے بعد وہ بالکل آزاد ہو چکے تھے۔ انہوں نے اس رقم میں سے کچھ پرانے قرض اتارے اور باقی رقم کو محفوظ کرنے کی بجائے ایک بار پھر سٹے میں لگا دی، مگر اس بار بھی قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ یہ آخری پونجی بھی لٹا بیٹھے۔

آخرکار وہی ہوا جس کا ڈر تھا؛ والد کے رہنے کے لیے اب کوئی ٹھکانہ بھی باقی نہ رہا۔ آج وہ بڑھاپے کی آخری سرحد پر ہیں، جہاں دوست نے تو پوری طرح وفا نبھائی مگر دولت نے ان سے بالکل وفا نہ کی۔ سچ ہے کہ جو لوگ خود اپنی وراثت کے مخلص نہ ہوں اور اسے سنبھالنے کی بجائے بیچنے کے درپے رہتے ہیں، دولت بھی ان سے کبھی وفا نہیں کرتی، اور کنگال روز و شب ہی پھر ان کا مقدر بن جاتے ہیں۔

انکل عارف بابا کے وہ واحد دوست ہیں جو ان سے سچے مخلص رہے اور جنہوں نے بربادی کے اس آخری وقت میں میرا رشتہ اپنے بیٹے سے کر کے میرا اور ان کا دونوں کا ہاتھ تھام لیا۔ آج وہ ہمارے پاس زندگی کے یہ آخری دن سکون سے پورے کر رہے ہیں، ورنہ نہ جانے ان کا کیا حشر ہوتا۔ میں شکر کرتی ہوں کہ میرے سسر اور شوہر دونوں ہی بہت اچھے انسان ہیں۔ انکل عارف اپنوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ ان کے دادا میرے دادا کے دوست تھے اور ان کے والد میرے والد کے ساتھی تھے۔ جب وہ ایک دوسرے کے آب و اجداد کو اتنی اچھی طرح جانتے ہیں تو انہوں نے ہمارے درمیان دولت کا کوئی فرق نہیں رکھا، ورنہ اگر شہنشاہ بھی حالات کی ستم ظریفی سے گدا ہو جائیں تو زمانہ انہیں ٹھوکروں پر ہی رکھتا ہے۔

وقت کا یہی چلن ہے اور زمانہ واقعی بہت بے رحم ہے، تبھی تو کہا جاتا ہے کہ برے وقتوں میں اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے، مگر میں کہتی ہوں کہ یہ برا وقت آخر کون لاتا ہے؟ یہ ہم خود لاتے ہیں جب ہم بروقت صحیح فیصلے نہیں کرتے اور عقل سے کام نہیں لیتے۔

(ختم شد)  
 
romantic stories
 
اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ