ابو کی وفات کے بعد ہمارے معاشی حالات اچھے نہ رہے۔ امی نے بڑی مشقتوں سے مجھے میٹرک تک پڑھایا، پھر ضد کرنے پر مجھے کالج میں بھی داخلہ دلوا دیا۔ کالج میں میری دوستی جس لڑکی سے ہوئی، اس کا نام سارہ تھا۔ وہ بہت اچھی تھی اور چند دنوں میں ہی ہماری دوستی گہری ہو گئی۔ وہ کبھی کبھار ہمارے گھر بھی آ جاتی تھی اور میری امی کو اس میں کوئی خاص خامی نظر نہیں آئی تھی۔
ان دنوں میرا منگیتر خالد کالج میں پڑھتا تھا۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھا اور ہر طرح سے میرا خیال رکھتا تھا۔ روزانہ فون کرتا اور ہفتے میں دو تین بار ضرور میرے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آتا، اسی لیے وہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ جب کوئی کسی سے پیار کرتا ہے یا اس کا خیال رکھتا ہے، تبھی وہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آتا ہے۔ مجھے اس دن کا شدت سے انتظار تھا جب میں خالد کی دلہن بنوں گی اور اسی انتظار میں گویا میں جی رہی تھی۔ ایک دن پھپھو ہمارے گھر آئیں تو انہوں نے کہا کہ نادیہ ایف اے کر لے، تو میں اسے اپنی بیٹی بنا کر لے جاؤں گی۔ امی راضی تھیں، انہوں نے مجھ سے بات کی تو میں خوشی سے کھل اٹھی اور بے قراری سے اس وقت کا انتظار کرنے لگی جو میرے اور میرے بچپن کے منگیتر کے بیچ حائل تھا۔ گو سارہ میری گہری سہیلی تھی، لیکن میں نے اسے اپنی اور خالد کی منگنی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا کیونکہ میں چاہتی تھی کہ جب میری شادی ہو، تبھی اسے سرپرائز دوں۔
یہ انہی دنوں کا ذکر ہے کہ جب سارہ کو اس کا بھائی ساجد کالج لینے آیا تو میں بھی اس کے ساتھ کالج سے نکلی۔ سارہ نے کہا، “آؤ نادیہ، تم بھی ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھو، ہم تم کو ڈراپ کر دیں گے۔” اس کے بھائی کو دیکھ کر میں جھجھک گئی اور بولی، “نہیں سارہ، میں پیدل چلی جاؤں گی۔” تب وہ کہنے لگی، “اری بیوقوف! جب گاڑی ہے تو پیدل کیوں جاؤ گی؟ اور گاڑی کسی نے تو چلانی ہے، ڈرائیور نہیں تو ساجد ہی سہی، اس میں اتنا گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ ساجد میرا بھائی ہے، وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا تو نہیں، پھر میں بھی ساتھ ہوں۔ نہ جانے تم کیسی الٹی منطق کی لڑکی ہو!” اس کا لیکچر سن کر میں مجبور ہو کر ان لوگوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی، کیونکہ اتنی گہری سہیلی کو کون منع کر سکتا تھا، حالانکہ میرا دل گھبرا رہا تھا کیونکہ اس طرح میں کبھی کسی کے ساتھ گئی نہیں تھی۔ بہرحال منٹوں میں راستہ طے ہو گیا اور ان لوگوں نے مجھے گھر ڈراپ کر دیا۔ اگلے دن پھر چھٹی کے وقت ساجد گاڑی لے کر آ گیا اور حسب معمول جب ہم دونوں کالج سے نکلیں تو وہ سامنے موجود تھا۔ سارہ نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف چل دی کہ “آؤ، تم کو ڈراپ کرتے ہیں۔” کل میں نے کافی جھجھک کا مظاہرہ کیا تھا تو سارہ کے آگے میری ایک نہ چلی تھی، آج کیسے چلتی؟ میں خاموشی سے پچھلی نشست پر بیٹھ گئی جبکہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گئی۔ اچانک سارہ نے کہا، “ساجد بھائی! آئس کریم تو کھلائو، دیکھو کتنی گرمی ہے۔” اس سے پہلے کہ میں منہ سے کوئی لفظ نکالتی، انہوں نے گاڑی کا رخ پھیر لیا اور ایک آئس کریم پارلر کے پاس گاڑی رک گئی۔ ہم اندر گئے اور سارہ آئس کریم لینے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد مجھے بہت خوف محسوس ہوا کیونکہ ایک اجنبی میرے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے میرا نام پوچھا تو میں نے جواب دیا، “سارہ نے اتنی بار آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے، پھر بھی آپ پوچھ رہے ہیں؟” “اوہ ہاں! میں بھول گیا، لیکن نادیہ صاحبہ! آپ میرا نام نہیں پوچھیں گی؟” میں نے جواب دیا، “مجھے معلوم ہے، آپ کا نام ساجد ہے۔” اتنے میں سارہ آ گئی۔ میں نے جلدی جلدی آئس کریم ختم کی اور کہا کہ مجھے فوراً گھر ڈراپ کر دیں کیونکہ دیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مجھے گھر ڈراپ کیا اور اپنے گھر چلے گئے۔
ایک دن باتوں باتوں میں سارہ نے مجھ سے پوچھا، “نادیہ! میرا بھائی تم کو کیسا لگا؟” میں نے جواب دیا، “کیوں، تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” بولی، “اس لیے کہ وہ تم کو پسند کرنے لگا ہے اور تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔” یہ سن کر میں سکتے میں آ گئی، پھر میں نے بتایا، “سارہ! میری تو بچپن میں ہی میرے پھوپھی زاد کے ساتھ منگنی ہو چکی ہے اور ایف اے کے بعد میری شادی ہے۔ میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں اور اس کے علاوہ کسی اور کو اپنا جیون ساتھی بنانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ تم اپنے بھائی کو بتا دو کہ وہ میرا خیال اپنے دل سے نکال دے، ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔” سارہ کو یہ سن کر تھوڑا افسوس تو ہوا، مگر اس نے پھر اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ اگلے دن وہ کہنے لگی، “کل میں تمہارے گھر آؤں گی، تم اپنے منگیتر کو بلا لینا۔” میں نے پوچھا، “کیوں؟” بولی، “میں تیرے منگیتر سے ملوں گی تو پتہ چلے گا کہ وہ تم کو خوش رکھ سکے گا یا نہیں۔”
اگلے دن وہ ہمارے گھر آئی تو میں نے خالد کو کسی بہانے بلووا لیا۔ جب یہ دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے تو میں کچن میں چلی گئی تاکہ میری سہیلی میرے منگیتر سے باتیں کر سکے۔ جب میں چائے لے کر آئی تو وہ باتوں میں اس طرح محو تھے جیسے صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ میرے آنے پر وہ خاموش ہو گئے۔ خالد چائے پی کر جانے لگا تو تبھی سارہ کہنے لگی، “اچھا نادیہ! میں بھی چلتی ہوں۔” خالد بولا، “میں سارہ کو ان کے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔” وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔ میرا دل صاف تھا اور میں شکی مزاج بھی نہیں ہوں، اس لیے میں نے اس بات کو زیادہ محسوس نہیں کیا۔
کچھ دنوں بعد ایک روز جب پھپھو ہمارے گھر آئیں تو ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خالد کا رشتہ کسی اور جگہ کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اسے کوئی اور لڑکی پسند آ گئی ہے اور ہم کو بیٹے کی خوشی عزیز ہے۔ کیا کریں، جہاں بیٹا کہے گا وہیں جائیں گے۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔ یہ سن کر میری امی تو بے ہوش ہو گئیں اور ہوش میں آ کر بہت روئیں۔ میں نے کہا، “امی! جو ہونا تھا، ہو گیا، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔” میں ماں کو تو تسلی دیتی تھی، لیکن خود منگیتر کی بے وفائی پر بہت روتی تھی۔ اس کے بعد ہم نے ان سے تعلق توڑ لیا، ظاہر ہے یہ نہ کرتے تو کیا کرتے؟ مجھے اس کی باتیں اور اس کا پیار بہت یاد آتا تھا اور میں سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ میں نے سارہ کو کچھ نہیں بتایا، لیکن وہ بھی نادان نہ تھی اور میری پریشانی بھانپ گئی۔ اس نے کہا، “نادیہ! آخر ایسی کون سی بات ہے جس کو تم نے اپنے ذہن پر سوار کر رکھا ہے؟ ہر وقت گم صم رہتی ہو اور اب پہلی جیسی باتیں بھی نہیں کرتی ہو۔” آخر کار اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے میں نے سارہ کو ساری بات بتا دی۔ اس نے مجھے تسلی دی اور کہا، “وہ تھا ہی ایسا، شکر کرو تم کو اس کی اصلیت کا پتہ چل گیا۔ نادیہ! اگر تم برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟” میں نے کہا، “ہاں، کہو۔” وہ کہنے لگی، “میرا بھائی بھی تم کو چاہتا ہے، اگر تم چاہو تو وہ اب بھی تم سے شادی کرنے کو تیار ہے۔” تب میں نے جواب دیا، “سارہ! اگر میری قسمت میں خالد نہیں ہے تو میں نے کسی نہ کسی سے تو شادی کرنی ہی ہے، اب وہ تمہارا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔” میرے جواب سے وہ بہت خوش ہوئی اور اس نے کہا، “تو پھر کب اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیجوں؟” “جب چاہے بھیج دو۔”
اس نے انتظار نہ کیا اور اگلے روز ہی اپنے والدین کو ہمارے گھر لے کر آ گئی۔ میری ماں نے بھی گھر آئے رشتے کو نہیں ٹھکرایا، انہوں نے دیکھا کہ فیملی اچھی ہے تو ہاں کر کے اگلے ہی ہفتے شادی رکھ دی۔ آخر وہ دن بھی آ ہی گیا جب میں ساجد کی دلہن بن کر اس کے گھر آ گئی۔ ان کو جہیز وغیرہ کچھ نہیں چاہیے تھا، بس میری چاہ تھی اور انہوں نے بہت دھوم دھام سے شادی کی اور مجھے قیمتی زیور چڑھایا۔ ساجد کی امی مجھ سے بے حد پیار کرتیں اور سارہ تو پہلے ہی مجھ کو چاہتی تھی۔ ساجد بھی مجھ پر جان نچھاور کرتے ہیں اور ان کے گھر پر مجھے اتنا پیار ملا کہ میں سارے غم بھول گئی۔ اب میں سوچتی تھی کہ خدا جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے؛ خالد، جس کو بچپن سے خوابوں میں بسایا، وہ کس قدر بے وفا نکلا اور ساجد نے صرف ایک نظر دیکھا، پسند کیا اور چاہت سے اپنا لیا۔ شاید میرے لیے ساجد ہی بنایا گیا تھا۔
شادی کے بعد ان لوگوں نے مجھ پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی بلکہ ساجد نے خود پوچھا کہ اگر تم آگے پڑھنا چاہتی ہو تو بے شک سارہ کے ساتھ کالج جایا کرو اور اپنی تعلیم مکمل کر لو، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
میں نے خود ہی کالج جانے سے انکار کر دیا اور سوچا کہ گھر میں بیٹھ کر پرائیویٹ بی اے کر لوں تو بہتر ہوگا کیونکہ گھر میں رہنا مجھے اچھا لگتا تھا اور واقعی یہ گھر میرے لیے جنت تھا۔ شادی کے کچھ دنوں بعد سارہ نے مجھے بتایا کہ خالد نے میری خاطر تم سے منگنی توڑی تھی۔ “وہ کیسے؟” میں نے سوال کیا۔ “وہ یوں کہ جس روز تمہارے گھر ہم ملے اور پھر وہ مجھے گھر ڈراپ کرنے آیا تھا، تو گھر کی بجائے وہ مجھے سیر کرانے لے گیا۔ میں بھی چلی گئی کہ دیکھوں یہ حضرت کتنے پانی میں ہیں، جو منگیتر کی سہیلی کو پہلی ہی ملاقات میں سیر کی پیشکش کر رہے ہیں۔ وہ مجھے ایک ریسٹورنٹ میں لے گیا اور آئندہ ملاقات کا ٹائم بھی لیا۔ اس کے بعد ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا اور خالد سختی سے کہتا تھا کہ نادیہ کو اس بات کی بھنک نہ ہو کہ ہم دونوں پیار کرتے ہیں۔ یوں خالد کی بے وفائی ڈھکی چھپی رہی۔ میں اسے آزمانਾ چاہتی تھی، وہ بہت کچا اور بودا انسان نکلا۔ میں کب اس سے محبت کر رہی تھی، میں تو اسے بچپن کی منگیتر سے بے وفائی کا مزہ چکھانا چاہتی تھی، سو اس لیے میں نے تمہاری شادی ساجد سے کرا دی۔ ساجد سے اچھا رشتہ تم کو نہیں ملتا، جبکہ خالد کسی بھی موڑ پر تم سے بے وفائی ضرور کرتا کیونکہ وہ ایک دل پھینک مرد تھا۔” یہ سن کر مجھے صدمہ ہوا، مگر میں اس صدمے کو پی گئی اس لیے کہ سارہ اب میری نند تھی اور میرا گھر اس کے بھائی کے ساتھ ہنسی خوشی آباد تھا۔ اگر میں خالد کے بارے میں کچھ کہتی یا افسوس کا اظہار کرتی تو یقیناً یہ بات ساجد کو پتہ چل جاتی اور پھر میرا گھر اجڑ جاتے۔
سارہ نے مزید کہا، “میں نے اس کے ساتھ محبت کا ڈھونگ رچایا اور جب میرا مشن پورا ہو گیا تو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ یہ سمجھ لو کہ یہ سب کچھ میں نے تمہارے اور اپنے بھائی کے لیے کیا۔” سارہ کی باتوں سے مجھے گہرا صدمہ ہوا، مگر میں نے اسے کچھ نہ کہا ورنہ ہم دونوں کے درمیان اختلافات جنم لے لیتے اور پھر میری زندگی اجیرن ہو جاتی۔
میں اپنے گھر میں آج بہت خوش ہوں، ساجد کے پیار میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا رہا ہے، لیکن یہ خیال رہ رہ کر میرے دل میں آتا ہے کہ سارہ نے ٹھیک نہیں کیا، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ میری سہیلی تھی اور میں نے اس پر اعتبار کیا تھا، لیکن اس نے میرے اعتبار کو دھوکا دیا۔ بہرحال، یہ حقیقت ہے کہ اب وہ میری سہیلی نہیں رہی بلکہ میری نند بن چکی ہے اور نند بھاوج کا رشتہ نازک ہوتا ہے جسے میں نے خوش اسلوبی سے نبھانا ہے۔ سارہ نے اپنے بھائی کو اداس دیکھا تو یہ کھیل کھیلا، پھر اس نے دو محبت کرنے والوں کو جدا کر دیا صرف اپنے بھائی کی خوشی پوری کرنے کے لیے۔ بہرحال اب مجھے یہیں رہنا تھا، شکر ہے کہ ساجد نے مجھے سچا پیار دیا ورنہ میں کہیں کی نہ رہتی۔ اس وجہ سے مجھے خالد کے جانے کا اب کوئی غم نہیں ہے اور مجھے اس کی یاد بھی نہیں آتی۔ آخر اس نے بھی تو میرے ساتھ بے وفائی کی تھی اور اسے اپنی بے وفائی کی سزا بھی مل گئی۔ خالد نے کسی اور جگہ شادی کی، لیکن سنا ہے کہ نبھ نہ سکی اور لڑکی طلاق لے کر چلی گئی۔ اب خالد صاحب اکیلے ہی رہتے ہیں۔
ان دنوں میرا منگیتر خالد کالج میں پڑھتا تھا۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھا اور ہر طرح سے میرا خیال رکھتا تھا۔ روزانہ فون کرتا اور ہفتے میں دو تین بار ضرور میرے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آتا، اسی لیے وہ مجھے بہت اچھا لگتا تھا کیونکہ جب کوئی کسی سے پیار کرتا ہے یا اس کا خیال رکھتا ہے، تبھی وہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ لے کر آتا ہے۔ مجھے اس دن کا شدت سے انتظار تھا جب میں خالد کی دلہن بنوں گی اور اسی انتظار میں گویا میں جی رہی تھی۔ ایک دن پھپھو ہمارے گھر آئیں تو انہوں نے کہا کہ نادیہ ایف اے کر لے، تو میں اسے اپنی بیٹی بنا کر لے جاؤں گی۔ امی راضی تھیں، انہوں نے مجھ سے بات کی تو میں خوشی سے کھل اٹھی اور بے قراری سے اس وقت کا انتظار کرنے لگی جو میرے اور میرے بچپن کے منگیتر کے بیچ حائل تھا۔ گو سارہ میری گہری سہیلی تھی، لیکن میں نے اسے اپنی اور خالد کی منگنی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا کیونکہ میں چاہتی تھی کہ جب میری شادی ہو، تبھی اسے سرپرائز دوں۔
یہ انہی دنوں کا ذکر ہے کہ جب سارہ کو اس کا بھائی ساجد کالج لینے آیا تو میں بھی اس کے ساتھ کالج سے نکلی۔ سارہ نے کہا، “آؤ نادیہ، تم بھی ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھو، ہم تم کو ڈراپ کر دیں گے۔” اس کے بھائی کو دیکھ کر میں جھجھک گئی اور بولی، “نہیں سارہ، میں پیدل چلی جاؤں گی۔” تب وہ کہنے لگی، “اری بیوقوف! جب گاڑی ہے تو پیدل کیوں جاؤ گی؟ اور گاڑی کسی نے تو چلانی ہے، ڈرائیور نہیں تو ساجد ہی سہی، اس میں اتنا گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ ساجد میرا بھائی ہے، وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا تو نہیں، پھر میں بھی ساتھ ہوں۔ نہ جانے تم کیسی الٹی منطق کی لڑکی ہو!” اس کا لیکچر سن کر میں مجبور ہو کر ان لوگوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی، کیونکہ اتنی گہری سہیلی کو کون منع کر سکتا تھا، حالانکہ میرا دل گھبرا رہا تھا کیونکہ اس طرح میں کبھی کسی کے ساتھ گئی نہیں تھی۔ بہرحال منٹوں میں راستہ طے ہو گیا اور ان لوگوں نے مجھے گھر ڈراپ کر دیا۔ اگلے دن پھر چھٹی کے وقت ساجد گاڑی لے کر آ گیا اور حسب معمول جب ہم دونوں کالج سے نکلیں تو وہ سامنے موجود تھا۔ سارہ نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا اور گاڑی کی طرف چل دی کہ “آؤ، تم کو ڈراپ کرتے ہیں۔” کل میں نے کافی جھجھک کا مظاہرہ کیا تھا تو سارہ کے آگے میری ایک نہ چلی تھی، آج کیسے چلتی؟ میں خاموشی سے پچھلی نشست پر بیٹھ گئی جبکہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گئی۔ اچانک سارہ نے کہا، “ساجد بھائی! آئس کریم تو کھلائو، دیکھو کتنی گرمی ہے۔” اس سے پہلے کہ میں منہ سے کوئی لفظ نکالتی، انہوں نے گاڑی کا رخ پھیر لیا اور ایک آئس کریم پارلر کے پاس گاڑی رک گئی۔ ہم اندر گئے اور سارہ آئس کریم لینے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد مجھے بہت خوف محسوس ہوا کیونکہ ایک اجنبی میرے سامنے بیٹھا تھا۔ اس نے میرا نام پوچھا تو میں نے جواب دیا، “سارہ نے اتنی بار آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے، پھر بھی آپ پوچھ رہے ہیں؟” “اوہ ہاں! میں بھول گیا، لیکن نادیہ صاحبہ! آپ میرا نام نہیں پوچھیں گی؟” میں نے جواب دیا، “مجھے معلوم ہے، آپ کا نام ساجد ہے۔” اتنے میں سارہ آ گئی۔ میں نے جلدی جلدی آئس کریم ختم کی اور کہا کہ مجھے فوراً گھر ڈراپ کر دیں کیونکہ دیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مجھے گھر ڈراپ کیا اور اپنے گھر چلے گئے۔
ایک دن باتوں باتوں میں سارہ نے مجھ سے پوچھا، “نادیہ! میرا بھائی تم کو کیسا لگا؟” میں نے جواب دیا، “کیوں، تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” بولی، “اس لیے کہ وہ تم کو پسند کرنے لگا ہے اور تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔” یہ سن کر میں سکتے میں آ گئی، پھر میں نے بتایا، “سارہ! میری تو بچپن میں ہی میرے پھوپھی زاد کے ساتھ منگنی ہو چکی ہے اور ایف اے کے بعد میری شادی ہے۔ میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں اور اس کے علاوہ کسی اور کو اپنا جیون ساتھی بنانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ تم اپنے بھائی کو بتا دو کہ وہ میرا خیال اپنے دل سے نکال دے، ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔” سارہ کو یہ سن کر تھوڑا افسوس تو ہوا، مگر اس نے پھر اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ اگلے دن وہ کہنے لگی، “کل میں تمہارے گھر آؤں گی، تم اپنے منگیتر کو بلا لینا۔” میں نے پوچھا، “کیوں؟” بولی، “میں تیرے منگیتر سے ملوں گی تو پتہ چلے گا کہ وہ تم کو خوش رکھ سکے گا یا نہیں۔”
اگلے دن وہ ہمارے گھر آئی تو میں نے خالد کو کسی بہانے بلووا لیا۔ جب یہ دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے تو میں کچن میں چلی گئی تاکہ میری سہیلی میرے منگیتر سے باتیں کر سکے۔ جب میں چائے لے کر آئی تو وہ باتوں میں اس طرح محو تھے جیسے صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ میرے آنے پر وہ خاموش ہو گئے۔ خالد چائے پی کر جانے لگا تو تبھی سارہ کہنے لگی، “اچھا نادیہ! میں بھی چلتی ہوں۔” خالد بولا، “میں سارہ کو ان کے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔” وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔ میرا دل صاف تھا اور میں شکی مزاج بھی نہیں ہوں، اس لیے میں نے اس بات کو زیادہ محسوس نہیں کیا۔
کچھ دنوں بعد ایک روز جب پھپھو ہمارے گھر آئیں تو ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خالد کا رشتہ کسی اور جگہ کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اسے کوئی اور لڑکی پسند آ گئی ہے اور ہم کو بیٹے کی خوشی عزیز ہے۔ کیا کریں، جہاں بیٹا کہے گا وہیں جائیں گے۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئیں۔ یہ سن کر میری امی تو بے ہوش ہو گئیں اور ہوش میں آ کر بہت روئیں۔ میں نے کہا، “امی! جو ہونا تھا، ہو گیا، اب کچھ نہیں ہو سکتا۔” میں ماں کو تو تسلی دیتی تھی، لیکن خود منگیتر کی بے وفائی پر بہت روتی تھی۔ اس کے بعد ہم نے ان سے تعلق توڑ لیا، ظاہر ہے یہ نہ کرتے تو کیا کرتے؟ مجھے اس کی باتیں اور اس کا پیار بہت یاد آتا تھا اور میں سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ میں نے سارہ کو کچھ نہیں بتایا، لیکن وہ بھی نادان نہ تھی اور میری پریشانی بھانپ گئی۔ اس نے کہا، “نادیہ! آخر ایسی کون سی بات ہے جس کو تم نے اپنے ذہن پر سوار کر رکھا ہے؟ ہر وقت گم صم رہتی ہو اور اب پہلی جیسی باتیں بھی نہیں کرتی ہو۔” آخر کار اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے میں نے سارہ کو ساری بات بتا دی۔ اس نے مجھے تسلی دی اور کہا، “وہ تھا ہی ایسا، شکر کرو تم کو اس کی اصلیت کا پتہ چل گیا۔ نادیہ! اگر تم برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟” میں نے کہا، “ہاں، کہو۔” وہ کہنے لگی، “میرا بھائی بھی تم کو چاہتا ہے، اگر تم چاہو تو وہ اب بھی تم سے شادی کرنے کو تیار ہے۔” تب میں نے جواب دیا، “سارہ! اگر میری قسمت میں خالد نہیں ہے تو میں نے کسی نہ کسی سے تو شادی کرنی ہی ہے، اب وہ تمہارا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔” میرے جواب سے وہ بہت خوش ہوئی اور اس نے کہا، “تو پھر کب اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیجوں؟” “جب چاہے بھیج دو۔”
اس نے انتظار نہ کیا اور اگلے روز ہی اپنے والدین کو ہمارے گھر لے کر آ گئی۔ میری ماں نے بھی گھر آئے رشتے کو نہیں ٹھکرایا، انہوں نے دیکھا کہ فیملی اچھی ہے تو ہاں کر کے اگلے ہی ہفتے شادی رکھ دی۔ آخر وہ دن بھی آ ہی گیا جب میں ساجد کی دلہن بن کر اس کے گھر آ گئی۔ ان کو جہیز وغیرہ کچھ نہیں چاہیے تھا، بس میری چاہ تھی اور انہوں نے بہت دھوم دھام سے شادی کی اور مجھے قیمتی زیور چڑھایا۔ ساجد کی امی مجھ سے بے حد پیار کرتیں اور سارہ تو پہلے ہی مجھ کو چاہتی تھی۔ ساجد بھی مجھ پر جان نچھاور کرتے ہیں اور ان کے گھر پر مجھے اتنا پیار ملا کہ میں سارے غم بھول گئی۔ اب میں سوچتی تھی کہ خدا جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے؛ خالد، جس کو بچپن سے خوابوں میں بسایا، وہ کس قدر بے وفا نکلا اور ساجد نے صرف ایک نظر دیکھا، پسند کیا اور چاہت سے اپنا لیا۔ شاید میرے لیے ساجد ہی بنایا گیا تھا۔
شادی کے بعد ان لوگوں نے مجھ پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی بلکہ ساجد نے خود پوچھا کہ اگر تم آگے پڑھنا چاہتی ہو تو بے شک سارہ کے ساتھ کالج جایا کرو اور اپنی تعلیم مکمل کر لو، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
میں نے خود ہی کالج جانے سے انکار کر دیا اور سوچا کہ گھر میں بیٹھ کر پرائیویٹ بی اے کر لوں تو بہتر ہوگا کیونکہ گھر میں رہنا مجھے اچھا لگتا تھا اور واقعی یہ گھر میرے لیے جنت تھا۔ شادی کے کچھ دنوں بعد سارہ نے مجھے بتایا کہ خالد نے میری خاطر تم سے منگنی توڑی تھی۔ “وہ کیسے؟” میں نے سوال کیا۔ “وہ یوں کہ جس روز تمہارے گھر ہم ملے اور پھر وہ مجھے گھر ڈراپ کرنے آیا تھا، تو گھر کی بجائے وہ مجھے سیر کرانے لے گیا۔ میں بھی چلی گئی کہ دیکھوں یہ حضرت کتنے پانی میں ہیں، جو منگیتر کی سہیلی کو پہلی ہی ملاقات میں سیر کی پیشکش کر رہے ہیں۔ وہ مجھے ایک ریسٹورنٹ میں لے گیا اور آئندہ ملاقات کا ٹائم بھی لیا۔ اس کے بعد ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا اور خالد سختی سے کہتا تھا کہ نادیہ کو اس بات کی بھنک نہ ہو کہ ہم دونوں پیار کرتے ہیں۔ یوں خالد کی بے وفائی ڈھکی چھپی رہی۔ میں اسے آزمانਾ چاہتی تھی، وہ بہت کچا اور بودا انسان نکلا۔ میں کب اس سے محبت کر رہی تھی، میں تو اسے بچپن کی منگیتر سے بے وفائی کا مزہ چکھانا چاہتی تھی، سو اس لیے میں نے تمہاری شادی ساجد سے کرا دی۔ ساجد سے اچھا رشتہ تم کو نہیں ملتا، جبکہ خالد کسی بھی موڑ پر تم سے بے وفائی ضرور کرتا کیونکہ وہ ایک دل پھینک مرد تھا۔” یہ سن کر مجھے صدمہ ہوا، مگر میں اس صدمے کو پی گئی اس لیے کہ سارہ اب میری نند تھی اور میرا گھر اس کے بھائی کے ساتھ ہنسی خوشی آباد تھا۔ اگر میں خالد کے بارے میں کچھ کہتی یا افسوس کا اظہار کرتی تو یقیناً یہ بات ساجد کو پتہ چل جاتی اور پھر میرا گھر اجڑ جاتے۔
سارہ نے مزید کہا، “میں نے اس کے ساتھ محبت کا ڈھونگ رچایا اور جب میرا مشن پورا ہو گیا تو اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ یہ سمجھ لو کہ یہ سب کچھ میں نے تمہارے اور اپنے بھائی کے لیے کیا۔” سارہ کی باتوں سے مجھے گہرا صدمہ ہوا، مگر میں نے اسے کچھ نہ کہا ورنہ ہم دونوں کے درمیان اختلافات جنم لے لیتے اور پھر میری زندگی اجیرن ہو جاتی۔
میں اپنے گھر میں آج بہت خوش ہوں، ساجد کے پیار میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا رہا ہے، لیکن یہ خیال رہ رہ کر میرے دل میں آتا ہے کہ سارہ نے ٹھیک نہیں کیا، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ میری سہیلی تھی اور میں نے اس پر اعتبار کیا تھا، لیکن اس نے میرے اعتبار کو دھوکا دیا۔ بہرحال، یہ حقیقت ہے کہ اب وہ میری سہیلی نہیں رہی بلکہ میری نند بن چکی ہے اور نند بھاوج کا رشتہ نازک ہوتا ہے جسے میں نے خوش اسلوبی سے نبھانا ہے۔ سارہ نے اپنے بھائی کو اداس دیکھا تو یہ کھیل کھیلا، پھر اس نے دو محبت کرنے والوں کو جدا کر دیا صرف اپنے بھائی کی خوشی پوری کرنے کے لیے۔ بہرحال اب مجھے یہیں رہنا تھا، شکر ہے کہ ساجد نے مجھے سچا پیار دیا ورنہ میں کہیں کی نہ رہتی۔ اس وجہ سے مجھے خالد کے جانے کا اب کوئی غم نہیں ہے اور مجھے اس کی یاد بھی نہیں آتی۔ آخر اس نے بھی تو میرے ساتھ بے وفائی کی تھی اور اسے اپنی بے وفائی کی سزا بھی مل گئی۔ خالد نے کسی اور جگہ شادی کی، لیکن سنا ہے کہ نبھ نہ سکی اور لڑکی طلاق لے کر چلی گئی۔ اب خالد صاحب اکیلے ہی رہتے ہیں۔
.jpg)
