ہم چھ بہنیں اور تین بھائی ہیں۔ بھائی ہم سب بہنوں سے چھوٹے ہیں۔ ہمارا بمشکل گزارہ ہو رہا تھا۔ اتنی بڑی فیملی اور ایک کمانے والا، بھلا کس طرح گزارہ ہو سکتا تھا؟ ہم دونوں بڑی بہنوں نے فیصلہ کیا کہ ملازمت کر کے ابو کا ہاتھ بٹائیں گی۔ ہمیں ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی، جو ہمارے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔ ہم پیدل جایا کرتے تھے۔ ہمارے پڑوس کی فیملی کے ساتھ تعلقات بہت خوشگوار تھے۔ ان کا ایک لڑکا سلمان بھی ہمارے ساتھ ملازمت کرتا تھا۔ میں سلمان کے تمام دوستوں کو جانتی تھی۔ کچھ عرصے بعد میری بڑی بہن کی شادی ہو گئی، تو گھر کی تمام ذمہ داری مجھ پر آگئی۔ تنہا ملازمت پر جانے کا خوف بھی تھا۔ ابو مجھ سے بہت توقعات رکھتے تھے، وہ مجھے اپنا بیٹا سمجھتے تھے۔
میں ایک دن ڈیوٹی پر جا رہی تھی کہ ایک لڑکا جو ہمارے محلے میں رہتا تھا، موٹر سائیکل پر میرا پیچھا کرنے لگا۔ چونکہ مجھے پیدل جانا ہوتا تھا، اس لیے اسے موقع مل گیا، لیکن میں نے توجہ نہیں دی۔ دوسرے دن وہ پھر آگیا اور پھر روزانہ آنے لگا۔ وہ قریب سے گزر جاتا تھا، پھر واپس سامنے کی طرف سے میری جانب آتا اور کچھ کہے بغیر واپس چلا جاتا تھا۔ چند دنوں بعد وہ کمپنی والی گلی میں کھڑا ہونے لگا، تبھی میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر وہ کس کا پیچھا کرتا ہے اور کس کے لیے آتا ہے؟ جب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میری خاطر وہاں گلی میں کھڑا ہوتا ہے، تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اسے خوب کھری کھری باتیں سناؤں گی، لیکن جب اس کے پاس سے گزری، تو اس کی شکل دیکھ کر کچھ کہہ نہ سکی، کیونکہ وہ دیکھنے میں سیدھا سادھا سا لگتا تھا۔ کوئی آوارہ لڑکا نہیں لگتا تھا۔ میں صرف اتنا کہہ سکی کہ شریف گھروں کے لڑکے ایسا نہیں کرتے۔ یہ کہہ کر میں کمپنی چلی گئی۔ اس نے کچھ نہیں کہا تھا، بس سر جھکا دیا تھا۔
چند روز بعد سلمان مجھے ملا، تو اس نے مجھے اس لڑکے کے بارے میں کچھ بتایا۔ تب مجھے پتا چلا کہ وہ سلمان کا دوست ہے اور اس کا نام ارشد ہے۔ سلمان نے بتایا کہ ارشد تمہیں بہت پسند کرتا ہے اور تم سے ملنے کا خواہاں ہے، مگر میں نے یونہی کہہ دیا کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔ اس نے جب یہ سنا تو بہت شرمندہ ہوا اور پچھتایا بھی۔ ارشد نے سلمان سے کہا کہ میں اس لڑکی سے صرف ایک بار چند لمحوں کے لیے ملنا چاہتا ہوں تاکہ معافی مانگ سکوں۔ سلمان نے اگلے روز مجھے بتایا تو مجھے اس پر بڑا ترس آیا اور میں نے کہا: میں ارشد سے مل کر اس کو سمجھاؤں گی کہ اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ تم ہفتے کو اس کو میری کمپنی لے آنا۔
مقررہ وقت پر وہ پہنچ گیا، مگر ارشد اس کے ساتھ نہیں تھا۔ میں نے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ابھی آجائے گا۔ دراصل وہ ان دنوں کمپیوٹر سیکھ رہا تھا اور سیکنڈ ایئر میں پڑھتا تھا۔ وہ کلاس ختم کرنے کے بعد ہمارے پاس آگیا۔ اس کی کتابیں موٹر سائیکل پر رکھی ہوئی تھیں اور اس کا چہرہ خوشی سے تمتمایا ہوا تھا، جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔ اس نے موٹر سائیکل کھڑی کی اور ہمارے ساتھ چلنے لگا۔ سلمان ہمارے پیچھے چل رہا تھا بچ فاصلہ خاموشی سے طے ہو گیا۔ آخر کار میں نے پوچھا: تم کیوں مجھ سے ملنا چاہتے تھے؟ اس نے کہا: میں تم سے پیار کرتا ہوں اور تم سے ملتے رہنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: اگر تم مجھ سے ملتے رہنا چاہتے ہو، تو اپنے گھر والوں کو میرے گھر بھیجو تاکہ وہ میرا رشتہ مانگ لیں۔ میں نے اس کو سمجھایا، یوں اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہمارا محلہ نزدیک آگیا۔ میں نے ارشد سے کہا کہ کل آکر باقی باتیں کر لینا۔ وہ خوش ہو گیا کہ میں نے اسے دوبارہ ملنے کی دعوت دی ہے۔ وہ اگلے روز پھر ٹپک پڑا اور کہنے لگا کہ میں نے تم سے محبت اس لیے کی ہے کہ خواب میں مجھے ایک کاغذ ملا تھا، جس پر ایک نقشہ بنا ہوا تھا۔ میں نقشے کے شروع میں کھڑا ہوں اور آخر میں تمہارا گھر ہے۔ اب میں اس نقشے کی مدد سے تمہارے دل تک آنا چاہتا ہوں۔ میں نے یونہی کہہ دیا کہ اگر میرے دل میں جگہ نہ ہو تو؟ وہ بولا: دل کے دربار میں جگہ نہیں، تو دربار کے باہر تو جگہ ہوگی، وہیں پناہ مل جائے تو کافی ہے، مگر میں نے اسے دل میں اترنے کی اجازت دے دی۔ وہ مجھ سے ملنے آتا رہا اور میرے دل میں گھر کرتا چلا گیا۔ میں اسے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ وہ مجھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر روزانہ سیر کراتا تھا۔ یوں میرے دل میں اس کی محبت شدت پکڑتی گئی۔ ہم دونوں مل کر مستقبل کے منصوبے بناتے تھے۔
مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ ہم دونوں کو کبھی جدا بھی ہونا ہے۔ جب میں نے اس بارے میں کہا کہ ہم ملنا جلنا کم کر دیں کیونکہ آخر کار علیحدہ ہونا ہے، تو اس پر وہ ناراض ہونے لگا۔ اس نے کہا کہ میں نے تم سے محبت اس لیے نہیں کی کہ تمہیں کھو دوں، میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بات سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ میرا جیون ساتھی بنے گا۔ میں اسے دل ہی دل میں اپنا شوہر تصور کرنے لگی تھی۔ صرف اس کے دل کی بات جاننے کے لیے میں نے اس سے ایسا کہا تھا۔ آخر کار اسے محبت کے جنون نے شادی پر مجبور کر دیا، یہی میں چاہتی تھی۔ اب ہماری محبت اس حد تک جا پہنچی تھی کہ ارشد سے علیحدگی کا تصور ہی میرے رونگٹے کھڑے کر دیتا تھا۔
میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ صرف اور صرف ارشد کی دلہن بنوں گی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ زندگی مجھ سے کچھ اور ہی چاہتی تھی۔ وقت نے ایسا دھچکا دیا کہ میں بکھر کر رہ گئی اور اپنا وجود ہی کھو بیٹھی۔ جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ تین سال پہلے ارشد کی منگنی اس کے ماموں کی بیٹی سے طے ہوئی تھی، تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ معلومات کرنے پر پتا چلا کہ یہ منگنی اس کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی۔ چونکہ اب وہ مجھ سے محبت کرتا تھا اور ہم دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، تو اس نے اپنی ماں کو بہت کوششوں کے بعد راضی کر لیا، مگر ایک رکاوٹ اور تھی، یعنی اس کی نانی۔ وہ مسلسل ان کے پاس جاتا رہا اور ان کی منت سماجت کرتا رہا۔ آخر کار وہ بھی ارشد کی بات سے اتفاق کرنے لگیں۔ اس طرح سب لوگ راضی ہو گئے اور اس کی شادی اس کی مرضی کے مطابق طے ہو گئی، یعنی مجھ سے، لیکن وہ پھر بھی میرا نہ ہو سکا۔
اس کی منگیتر اچانک اتنی شدید بیمار ہو گئی کہ سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے، کیونکہ ارشد کی طرح وہ بھی اپنے گھر کی لاڈلی تھی اور سب کو بہت عزیز تھی۔ صحت یابی کے بعد اس نے سب سے پہلے ارشد کے گھر آنا چاہا اور ضد کی کہ وہ چند دنوں تک وہیں رہے گی۔ اس کی بیماری اتنی حساس تھی کہ سب لوگ، یعنی اس کے گھر والے، اس کی ضد کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہو گئے۔ جب وہ واپس گھر گئی تو اس نے فیصلہ سنایا کہ وہ صرف اور صرف ارشد سے شادی کرے گی، ورنہ خودکشی کر لے گی۔ سب لوگ ڈر گئے اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہو گئے۔ آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہوتی گئی۔ آخر کار اس کے گھر والوں نے بھی یہ فیصلہ مان لیا۔ حالانکہ ارشد نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، مگر اس کی ایک نہ چلی اور تقدیر نے مجھ سے اسے چھین لیا۔ہماری گلی میں ایک لڑکا منیر رہتا تھا۔ وہ ہمارا پڑوسی اور ارشد کا دوست بھی تھا۔ ارشد نے اس کے ذریعے مجھ سے بات کرنا چاہی، بہت منت سماجت کی، مگر میں نہیں مانی کیونکہ مجھے پتا تھا کہ اب وہ کسی اور کا ہو چکا ہے اور میں اس کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ ان دنوں بس میں دل ہی دل میں اس کو یاد کر کے رویا کرتی تھی۔ میری زندگی میں صرف وہی واحد شخص تھا، جسے میں نے ٹوٹ کر چاہا تھا۔ منیر مجھ سے اکثر اس کا ذکر کیا کرتا تھا اور میں سنی ان سنی کر دیتی تھی۔ آخر کار منیر نے تین ماہ کی کوشش کے بعد ہم دونوں کو ملا ہی دیا۔ اس کا یہ بہت بڑا احسان تھا کہ اس نے مجھے حوصلہ دیا اور جینے کی راہ دکھائی۔ ارشد بھی اب خوش رہنے لگا تھا، کیونکہ ہم دونوں کی جدائی زیادہ دن تک قائم نہیں رہی تھی اور منیر کے ذریعے ہم دونوں پھر سے ایک ہو گئے تھے، پھر بھی میں ڈرتی تھی کہ وہ کسی اور کا ہے۔ آج نہیں تو کل ہمیں جدا ہونا ہی ہے۔ جب اس کے ماموں کی بیٹی رخصت ہو کر اس کے گھر آجائے گی، تو پھر میں کیا کروں گی؟
دنیا میں ہر مصیبت آتی ہے اور ٹل جاتی ہے۔ ہر دکھ کا ایک انجام ہوتا ہے۔ ارشد بالآخر اسی کا ہو گیا، جس کے ساتھ اس کا نکاح ہوا تھا اور میں بیچ منجدھار میں ڈولتی رہ گئی۔ بتا نہیں سکتی کہ ان دنوں میری کیا حالت ہوئی۔ نہ جیتی تھی اور نہ مرتی تھی۔ بس یہی سوچتی تھی کہ اے کاش لڑکیاں کبھی گھر سے قدم باہر نہ رکھیں۔ ملازمت کے لیے بھی نہ نکلیں، باپ اور بھائیوں کا سایہ ہی ان کے لیے عافیت کی ضمانت ہوتا ہے۔ گھر کی چار دیواری کا حصار ان کو ہزار قسم کے دکھوں اور بدنامیوں سے بچا لیتا ہے۔ ارشد اپنی ماموں زاد کو دلہن بنا کر ہنی مون منانے ایک پر فضا مقام پر چلا گیا اور میں سسکتی رہ گئی۔ میں شدید بیمار ہو گئی تھی۔ ان دنوں منیر نے مجھے سہارا دیا اور اس نے میری اس قدر توجہ سے دیکھ بھال کی کہ مجھے موت کے منہ سے نکال لیا۔ کافی عرصہ تک میں محبت کے سوگ میں مبتلا رہی۔ ماضی کی لکیر کو پیٹتے پیٹتے شل ہو گئی، تو آخر تھک ہار کر کسی سہارے کی متلاشی ہوئی۔ شاید منیر بھی اسی لمحے کے منتظر تھے۔ انہوں نے فوراً اپنا کندھا آگے کر دیا، جس پر میں نے اپنے تھکے ہوئے سر کو رکھ دیا۔ مجھے سکون ملا تو میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا کہ یہ سہارا بھی برا نہیں۔ آخر مجھے سہارا چاہیے تھا۔ پہاڑ جیسی زندگی ایسے تو نہیں کٹ سکتی تھی۔بہت سوچ بچار کے بعد میری شادی منیر سے ہو گئی۔ میرے والدین جو میری حالت سے سخت پریشان تھے، انہوں نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ منیر ایک اچھے انسان تھے۔ وہ محنتی، مخلص اور محبت کرنے والے تھے۔ میرے والدین بھی ان کو اپنے بیٹے کی طرح چاہتے تھے۔ وہ میری خوشیوں کے امین اور میرے مستقبل کے ضامن بن گئے۔ میں نے اپنے سارے دکھ ان کی جھولی میں ڈال دیے۔ میری خوش قسمتی کہ دو سال کے اندر اندر منیر کو انگلینڈ میں ایک اچھی جاب مل گئی۔ ان کو اپنی فیملی کے ساتھ ویزا ملا اور ہم انگلینڈ آگئے۔ یہاں کی تو دنیا ہی اور تھی۔ میں اپنے سارے دکھ بھلا کر یہاں کی زندگی میں گم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خوبصورت بچوں سے نواز دیا، پھر ہم یہیں کے ہو رہے۔ ان واقعات سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ واقعی زندگی کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں، جنہیں آپ بھولنا بھی چاہیں تو بھول نہیں پاتے کیونکہ وہ آپ کے ذہن سے چپک کر رہ جاتے ہیں۔ آج میں منیر کے ساتھ بہت خوش ہوں اور سوچتی ہوں کہ قدرت جو کچھ کرتی ہے، وہ ہم انسانوں کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔ ہم آنے والے وقت کے اندر نہیں جھانک سکتے اور نہ ہی جان پاتے ہیں کہ ہمارے لیے مستقبل میں کیا چھپا ہے، لیکن جو فیصلے قدرت کر گزرتی ہے، وہی بہتر ہوتے ہیں۔ آج مجھے منیر پر فخر ہے اور ارشد کے کھو جانے کا کوئی غم نہیں ہے۔ زندگی کو سہارا مل گیا، مجھے پھر سے زندگی مل گئی اور زندگی اسی کا نام ہے۔
میں ایک دن ڈیوٹی پر جا رہی تھی کہ ایک لڑکا جو ہمارے محلے میں رہتا تھا، موٹر سائیکل پر میرا پیچھا کرنے لگا۔ چونکہ مجھے پیدل جانا ہوتا تھا، اس لیے اسے موقع مل گیا، لیکن میں نے توجہ نہیں دی۔ دوسرے دن وہ پھر آگیا اور پھر روزانہ آنے لگا۔ وہ قریب سے گزر جاتا تھا، پھر واپس سامنے کی طرف سے میری جانب آتا اور کچھ کہے بغیر واپس چلا جاتا تھا۔ چند دنوں بعد وہ کمپنی والی گلی میں کھڑا ہونے لگا، تبھی میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر وہ کس کا پیچھا کرتا ہے اور کس کے لیے آتا ہے؟ جب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ میری خاطر وہاں گلی میں کھڑا ہوتا ہے، تو میں نے فیصلہ کر لیا کہ اسے خوب کھری کھری باتیں سناؤں گی، لیکن جب اس کے پاس سے گزری، تو اس کی شکل دیکھ کر کچھ کہہ نہ سکی، کیونکہ وہ دیکھنے میں سیدھا سادھا سا لگتا تھا۔ کوئی آوارہ لڑکا نہیں لگتا تھا۔ میں صرف اتنا کہہ سکی کہ شریف گھروں کے لڑکے ایسا نہیں کرتے۔ یہ کہہ کر میں کمپنی چلی گئی۔ اس نے کچھ نہیں کہا تھا، بس سر جھکا دیا تھا۔
چند روز بعد سلمان مجھے ملا، تو اس نے مجھے اس لڑکے کے بارے میں کچھ بتایا۔ تب مجھے پتا چلا کہ وہ سلمان کا دوست ہے اور اس کا نام ارشد ہے۔ سلمان نے بتایا کہ ارشد تمہیں بہت پسند کرتا ہے اور تم سے ملنے کا خواہاں ہے، مگر میں نے یونہی کہہ دیا کہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔ اس نے جب یہ سنا تو بہت شرمندہ ہوا اور پچھتایا بھی۔ ارشد نے سلمان سے کہا کہ میں اس لڑکی سے صرف ایک بار چند لمحوں کے لیے ملنا چاہتا ہوں تاکہ معافی مانگ سکوں۔ سلمان نے اگلے روز مجھے بتایا تو مجھے اس پر بڑا ترس آیا اور میں نے کہا: میں ارشد سے مل کر اس کو سمجھاؤں گی کہ اپنا وقت ضائع نہ کرے۔ تم ہفتے کو اس کو میری کمپنی لے آنا۔
مقررہ وقت پر وہ پہنچ گیا، مگر ارشد اس کے ساتھ نہیں تھا۔ میں نے پوچھا تو اس نے کہا کہ وہ ابھی آجائے گا۔ دراصل وہ ان دنوں کمپیوٹر سیکھ رہا تھا اور سیکنڈ ایئر میں پڑھتا تھا۔ وہ کلاس ختم کرنے کے بعد ہمارے پاس آگیا۔ اس کی کتابیں موٹر سائیکل پر رکھی ہوئی تھیں اور اس کا چہرہ خوشی سے تمتمایا ہوا تھا، جیسے اسے کوئی خزانہ مل گیا ہو۔ اس نے موٹر سائیکل کھڑی کی اور ہمارے ساتھ چلنے لگا۔ سلمان ہمارے پیچھے چل رہا تھا بچ فاصلہ خاموشی سے طے ہو گیا۔ آخر کار میں نے پوچھا: تم کیوں مجھ سے ملنا چاہتے تھے؟ اس نے کہا: میں تم سے پیار کرتا ہوں اور تم سے ملتے رہنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: اگر تم مجھ سے ملتے رہنا چاہتے ہو، تو اپنے گھر والوں کو میرے گھر بھیجو تاکہ وہ میرا رشتہ مانگ لیں۔ میں نے اس کو سمجھایا، یوں اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہمارا محلہ نزدیک آگیا۔ میں نے ارشد سے کہا کہ کل آکر باقی باتیں کر لینا۔ وہ خوش ہو گیا کہ میں نے اسے دوبارہ ملنے کی دعوت دی ہے۔ وہ اگلے روز پھر ٹپک پڑا اور کہنے لگا کہ میں نے تم سے محبت اس لیے کی ہے کہ خواب میں مجھے ایک کاغذ ملا تھا، جس پر ایک نقشہ بنا ہوا تھا۔ میں نقشے کے شروع میں کھڑا ہوں اور آخر میں تمہارا گھر ہے۔ اب میں اس نقشے کی مدد سے تمہارے دل تک آنا چاہتا ہوں۔ میں نے یونہی کہہ دیا کہ اگر میرے دل میں جگہ نہ ہو تو؟ وہ بولا: دل کے دربار میں جگہ نہیں، تو دربار کے باہر تو جگہ ہوگی، وہیں پناہ مل جائے تو کافی ہے، مگر میں نے اسے دل میں اترنے کی اجازت دے دی۔ وہ مجھ سے ملنے آتا رہا اور میرے دل میں گھر کرتا چلا گیا۔ میں اسے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ وہ مجھے موٹر سائیکل پر بٹھا کر روزانہ سیر کراتا تھا۔ یوں میرے دل میں اس کی محبت شدت پکڑتی گئی۔ ہم دونوں مل کر مستقبل کے منصوبے بناتے تھے۔
مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ ہم دونوں کو کبھی جدا بھی ہونا ہے۔ جب میں نے اس بارے میں کہا کہ ہم ملنا جلنا کم کر دیں کیونکہ آخر کار علیحدہ ہونا ہے، تو اس پر وہ ناراض ہونے لگا۔ اس نے کہا کہ میں نے تم سے محبت اس لیے نہیں کی کہ تمہیں کھو دوں، میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بات سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ وہ میرا جیون ساتھی بنے گا۔ میں اسے دل ہی دل میں اپنا شوہر تصور کرنے لگی تھی۔ صرف اس کے دل کی بات جاننے کے لیے میں نے اس سے ایسا کہا تھا۔ آخر کار اسے محبت کے جنون نے شادی پر مجبور کر دیا، یہی میں چاہتی تھی۔ اب ہماری محبت اس حد تک جا پہنچی تھی کہ ارشد سے علیحدگی کا تصور ہی میرے رونگٹے کھڑے کر دیتا تھا۔
میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ صرف اور صرف ارشد کی دلہن بنوں گی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ زندگی مجھ سے کچھ اور ہی چاہتی تھی۔ وقت نے ایسا دھچکا دیا کہ میں بکھر کر رہ گئی اور اپنا وجود ہی کھو بیٹھی۔ جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ تین سال پہلے ارشد کی منگنی اس کے ماموں کی بیٹی سے طے ہوئی تھی، تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ معلومات کرنے پر پتا چلا کہ یہ منگنی اس کی مرضی کے خلاف ہوئی تھی۔ چونکہ اب وہ مجھ سے محبت کرتا تھا اور ہم دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، تو اس نے اپنی ماں کو بہت کوششوں کے بعد راضی کر لیا، مگر ایک رکاوٹ اور تھی، یعنی اس کی نانی۔ وہ مسلسل ان کے پاس جاتا رہا اور ان کی منت سماجت کرتا رہا۔ آخر کار وہ بھی ارشد کی بات سے اتفاق کرنے لگیں۔ اس طرح سب لوگ راضی ہو گئے اور اس کی شادی اس کی مرضی کے مطابق طے ہو گئی، یعنی مجھ سے، لیکن وہ پھر بھی میرا نہ ہو سکا۔
اس کی منگیتر اچانک اتنی شدید بیمار ہو گئی کہ سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے، کیونکہ ارشد کی طرح وہ بھی اپنے گھر کی لاڈلی تھی اور سب کو بہت عزیز تھی۔ صحت یابی کے بعد اس نے سب سے پہلے ارشد کے گھر آنا چاہا اور ضد کی کہ وہ چند دنوں تک وہیں رہے گی۔ اس کی بیماری اتنی حساس تھی کہ سب لوگ، یعنی اس کے گھر والے، اس کی ضد کے آگے سر جھکانے پر مجبور ہو گئے۔ جب وہ واپس گھر گئی تو اس نے فیصلہ سنایا کہ وہ صرف اور صرف ارشد سے شادی کرے گی، ورنہ خودکشی کر لے گی۔ سب لوگ ڈر گئے اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہو گئے۔ آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہوتی گئی۔ آخر کار اس کے گھر والوں نے بھی یہ فیصلہ مان لیا۔ حالانکہ ارشد نے بہت ہاتھ پاؤں مارے، مگر اس کی ایک نہ چلی اور تقدیر نے مجھ سے اسے چھین لیا۔ہماری گلی میں ایک لڑکا منیر رہتا تھا۔ وہ ہمارا پڑوسی اور ارشد کا دوست بھی تھا۔ ارشد نے اس کے ذریعے مجھ سے بات کرنا چاہی، بہت منت سماجت کی، مگر میں نہیں مانی کیونکہ مجھے پتا تھا کہ اب وہ کسی اور کا ہو چکا ہے اور میں اس کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ ان دنوں بس میں دل ہی دل میں اس کو یاد کر کے رویا کرتی تھی۔ میری زندگی میں صرف وہی واحد شخص تھا، جسے میں نے ٹوٹ کر چاہا تھا۔ منیر مجھ سے اکثر اس کا ذکر کیا کرتا تھا اور میں سنی ان سنی کر دیتی تھی۔ آخر کار منیر نے تین ماہ کی کوشش کے بعد ہم دونوں کو ملا ہی دیا۔ اس کا یہ بہت بڑا احسان تھا کہ اس نے مجھے حوصلہ دیا اور جینے کی راہ دکھائی۔ ارشد بھی اب خوش رہنے لگا تھا، کیونکہ ہم دونوں کی جدائی زیادہ دن تک قائم نہیں رہی تھی اور منیر کے ذریعے ہم دونوں پھر سے ایک ہو گئے تھے، پھر بھی میں ڈرتی تھی کہ وہ کسی اور کا ہے۔ آج نہیں تو کل ہمیں جدا ہونا ہی ہے۔ جب اس کے ماموں کی بیٹی رخصت ہو کر اس کے گھر آجائے گی، تو پھر میں کیا کروں گی؟
دنیا میں ہر مصیبت آتی ہے اور ٹل جاتی ہے۔ ہر دکھ کا ایک انجام ہوتا ہے۔ ارشد بالآخر اسی کا ہو گیا، جس کے ساتھ اس کا نکاح ہوا تھا اور میں بیچ منجدھار میں ڈولتی رہ گئی۔ بتا نہیں سکتی کہ ان دنوں میری کیا حالت ہوئی۔ نہ جیتی تھی اور نہ مرتی تھی۔ بس یہی سوچتی تھی کہ اے کاش لڑکیاں کبھی گھر سے قدم باہر نہ رکھیں۔ ملازمت کے لیے بھی نہ نکلیں، باپ اور بھائیوں کا سایہ ہی ان کے لیے عافیت کی ضمانت ہوتا ہے۔ گھر کی چار دیواری کا حصار ان کو ہزار قسم کے دکھوں اور بدنامیوں سے بچا لیتا ہے۔ ارشد اپنی ماموں زاد کو دلہن بنا کر ہنی مون منانے ایک پر فضا مقام پر چلا گیا اور میں سسکتی رہ گئی۔ میں شدید بیمار ہو گئی تھی۔ ان دنوں منیر نے مجھے سہارا دیا اور اس نے میری اس قدر توجہ سے دیکھ بھال کی کہ مجھے موت کے منہ سے نکال لیا۔ کافی عرصہ تک میں محبت کے سوگ میں مبتلا رہی۔ ماضی کی لکیر کو پیٹتے پیٹتے شل ہو گئی، تو آخر تھک ہار کر کسی سہارے کی متلاشی ہوئی۔ شاید منیر بھی اسی لمحے کے منتظر تھے۔ انہوں نے فوراً اپنا کندھا آگے کر دیا، جس پر میں نے اپنے تھکے ہوئے سر کو رکھ دیا۔ مجھے سکون ملا تو میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا کہ یہ سہارا بھی برا نہیں۔ آخر مجھے سہارا چاہیے تھا۔ پہاڑ جیسی زندگی ایسے تو نہیں کٹ سکتی تھی۔بہت سوچ بچار کے بعد میری شادی منیر سے ہو گئی۔ میرے والدین جو میری حالت سے سخت پریشان تھے، انہوں نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ منیر ایک اچھے انسان تھے۔ وہ محنتی، مخلص اور محبت کرنے والے تھے۔ میرے والدین بھی ان کو اپنے بیٹے کی طرح چاہتے تھے۔ وہ میری خوشیوں کے امین اور میرے مستقبل کے ضامن بن گئے۔ میں نے اپنے سارے دکھ ان کی جھولی میں ڈال دیے۔ میری خوش قسمتی کہ دو سال کے اندر اندر منیر کو انگلینڈ میں ایک اچھی جاب مل گئی۔ ان کو اپنی فیملی کے ساتھ ویزا ملا اور ہم انگلینڈ آگئے۔ یہاں کی تو دنیا ہی اور تھی۔ میں اپنے سارے دکھ بھلا کر یہاں کی زندگی میں گم ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو خوبصورت بچوں سے نواز دیا، پھر ہم یہیں کے ہو رہے۔ ان واقعات سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ واقعی زندگی کے بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں، جنہیں آپ بھولنا بھی چاہیں تو بھول نہیں پاتے کیونکہ وہ آپ کے ذہن سے چپک کر رہ جاتے ہیں۔ آج میں منیر کے ساتھ بہت خوش ہوں اور سوچتی ہوں کہ قدرت جو کچھ کرتی ہے، وہ ہم انسانوں کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔ ہم آنے والے وقت کے اندر نہیں جھانک سکتے اور نہ ہی جان پاتے ہیں کہ ہمارے لیے مستقبل میں کیا چھپا ہے، لیکن جو فیصلے قدرت کر گزرتی ہے، وہی بہتر ہوتے ہیں۔ آج مجھے منیر پر فخر ہے اور ارشد کے کھو جانے کا کوئی غم نہیں ہے۔ زندگی کو سہارا مل گیا، مجھے پھر سے زندگی مل گئی اور زندگی اسی کا نام ہے۔
(ختم شد)

