آن لائن عشق

Sublimegate Urdu Stories

فریحہ کی آنکھیں اسکرین پر جمی تھیں۔ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔ اس کا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا، سوائے اس کے فون کی نیلی روشنی کے جو اس کے چہرے پر رقص کر رہی تھی۔ وہ انسٹاگرام پر ایک پروفائل کو بار بار دیکھ رہی تھی۔ نام تھا "ریحان احمد"۔ تصویر میں ایک خوبرو لڑکا، گہری آنکھوں والا، ہلکی سی مسکراہٹ لیے، سفید شرٹ میں ملبوس، کسی ساحل پر کھڑا تھا۔ پس منظر میں سمندر کی لہریں غروب آفتاب کے سنہری رنگوں میں نہائی ہوئی تھیں۔ ہر تصویر کے نیچے چند جملے، گہرے اور معنی خیز، جیسے وہ کوئی شاعر ہو۔ ایک پوسٹ کے نیچے لکھا تھا: “تنہائی میری دوست ہے، مگر دل اب اس سے بغاوت کر رہا ہے۔”
👇sublimegate👇
فریحہ ایک متوسط گھرانے کی لڑکی تھی۔ لاہور کے ایک گنجان محلے میں اس کا گھر تھا، جہاں زندگی سادہ مگر رنگین تھی۔ وہ یونیورسٹی میں فائنل ایئر کی طالبہ تھی، اور اس کی زندگی کتابوں، دوستوں، اور خاندان کے گرد گھومتی تھی۔ لیکن رات کے اس وقت، جب سب سو رہے ہوتے، وہ اپنی ایک الگ دنیا بساتی تھی۔ سوشل میڈیا اس کی پناہ گاہ تھا، جہاں وہ اپنے خوابوں کو پرواز دیتی۔ وہ خود کو ایک ایسی لڑکی تصور کرتی جو آزاد ہے، جو دنیا گھومتی ہے، جو بے پروا ہے۔ ریحان کی پروفائل نے اس خواب کو جیسے ایک چنگاری دی تھی۔

سب کچھ دو ہفتے پہلے شروع ہوا تھا۔ فریحہ نے ریحان کی ایک پوسٹ پر کمینٹ کیا تھا، بس یوں ہی، بغیر زیادہ توقع کے۔ “ویو بہت خوبصورت ہے، آپ فوٹوگرافی بہت اچھا کرتے ہیں۔” اس نے لکھا۔ چند گھنٹوں بعد ریحان کا جواب آیا: “شکریہ! یہ منظر جتنا خوبصورت لگتا ہے، اس سے زیادہ اداسی چھپائے ہے۔” فریحہ نے اسے پڑھا اور مسکرانی۔ اس نے سوچا، یہ لڑکا کتنا مختلف ہے۔ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ پہلے کمینٹس، پھر ڈی ایم، اور پھر واٹس ایپ پر نمبر ایکسچینج ہو گیا۔ ریحان نے بتایا کہ وہ کراچی میں رہتا ہے، ایک بزنس فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اور اس کے والدین زیادہ تر وقت دبئی میں ہوتے ہیں۔ “میں اکیلا ہوں، فریحہ۔ گھر بہت بڑا ہے، مگر دل خالی ہے۔” اس نے ایک رات لکھا۔ فریحہ کا دل پگھل گیا۔ اس نے سوچا، شاید وہ اس خالی پن کو بھر سکتی ہے۔

دونوں کی باتیں رات بھر چلتیں۔ ریحان کی آواز میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ وہ فون پر گھنٹوں باتیں کرتے، کبھی فلموں پر، کبھی موسیقی پر، کبھی زندگی کے خوابوں پر۔ ریحان نے بتایا کہ وہ ایک ایپ بنانا چاہتا ہے جو لوگوں کی زندگی آسان بنائے۔ “مگر جانتی ہو، فریحہ، اس سب کے لیے ایک ساتھی چاہیے۔ کوئی جو سمجھے، جو ساتھ دے۔” اس نے ایک رات کہا۔ فریحہ نے یہ بات دل سے لگا لی۔ اسے لگا کہ شاید وہ اس کی زندگی کا وہ ساتھی بن سکتی ہے۔

فریحہ کی زندگی بدل رہی تھی۔ وہ یونیورسٹی میں بھی اب ریحان کے خیالوں میں کھوئی رہتی۔ اس کی دوست سونیا، جو اس کی بچپن کی سہیلی تھی، نے ایک دن پوچھا، “فریحہ، کیا بات ہے؟ تم آج کل کہاں کھوئی رہتی ہو؟” فریحہ نے مسکرا کر ٹال دیا، “کچھ نہیں، بس پڑھائی کا پریشر ہے۔” مگر سونیا کو شک ہوا۔ “دیکھ، اگر کوئی بات ہے تو بتا۔ آج کل آن لائن لوگ بڑے چالاک ہوتے ہیں۔” سونیا نے ہنستے ہوئے کہا۔ فریحہ کو یہ بات اچھی نہ لگی۔ اس نے سوچا، سونیا کو کیا پتا، ریحان کتنا سچا ہے؟

ایک دن ریحان نے فریحہ کو اپنی ایک تصویر بھیجی۔ سیاہ سوٹ میں ملبوس، ایک لگژری کار کے ساتھ کھڑا۔ “یہ میری نئی گاڑی ہے۔ آج ایک میٹنگ تھی، سوچا تمھیں دکھاؤں۔” اس نے لکھا۔ فریحہ نے وہ تصویر بار بار دیکھی۔ اسے لگا کہ ریحان واقعی ایک کامیاب انسان ہے۔ اس نے سوچا، شاید وہ اس کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کر سکتی ہے۔ ریحان نے بتایا کہ وہ جلد لاہور آرہا ہے۔ “تم سے ملنا چاہتا ہوں، فریحہ۔ حقیقت میں۔” اس نے کہا۔ فریحہ کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ خوشی سے پاگل ہو رہی تھی، مگر ساتھ ہی ایک عجیب سا خوف بھی تھا۔ کیا واقعی سب کچھ اتنا خوبصورت ہے جتنا لگ رہا ہے؟

ایک رات ریحان نے فریحہ سے کہا، “فریحہ، ایک بات بتاؤں؟ میں نے تم سے پہلے کبھی کسی سے اتنی محبت نہیں کی۔ تم میری زندگی کا رنگ بن گئی ہو۔” فریحہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے لکھا، “ریحان، تم بھی تو میری دنیا ہو۔” اس رات دونوں نے گھنٹوں اپنی محبت کا اقرار کیا۔ ریحان نے کہا کہ وہ جلد ایک سرپرائز دینے والا ہے۔ “بس تم تیار رہنا۔ ہماری زندگی بدلنے والی ہے۔” اس نے کہا۔ فریحہ نے سوچا، شاید وہ شادی کی بات کر رہا ہے۔ وہ رات بھر خوابوں میں کھوئی رہی۔
لیکن کہیں دل کے ایک کونے میں ایک بے چینی تھی۔ 

سونیا کی بات بار بار ذہن میں آتی۔ فریحہ نے اپنے بھائی، عرفان، سے بھی بات کی، جو سائبر سیکیورٹی میں کام کرتا تھا۔ عرفان نے کہا، “فریحہ، سوشل میڈیا پر سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا دکھتا ہے۔ اس لڑکے کا بیک گراؤنڈ چیک کرو۔” فریحہ نے کہا، “بھائی، وہ سچا ہے۔ تم سب کیوں اسے غلط سمجھ رہے ہو؟” عرفان نے ہنستے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، بس خیال رکھنا۔” فریحہ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا۔ وہ ریحان پر بھروسہ کرنا چاہتی تھی۔

ایک دن ریحان نے فریحہ کو کال کی۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی جوش تھا۔ “فریحہ، تیار ہو؟ میں لاہور پہنچ گیا ہوں۔ آج شام مل سکتے ہیں؟” فریحہ کے لیے یہ لمحہ خواب جیسا تھا۔ اس نے جلدی سے ہاں کہا اور تیاری شروع کر دی۔ شام کو وہ ایک کیفے کے باہر کھڑی تھی، سفید سوٹ میں ملبوس، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ایک چمکتی ہوئی سیاہ گاڑی رکی، اور ریحان باہر نکلا۔ وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا تصاویر میں۔ لمبا، خوبصورت، گہری آنکھوں والا۔ “فریحہ؟” اس نے مسکرا کر کہا۔ فریحہ نے شرماتے ہوئے سر جھکایا۔ “ہاں، ریحان۔”
دونوں اندر چلے گئے۔ ریحان نے بات شروع کی، اور چند ہی منٹوں میں فریحہ کی جھجھک ختم ہو گئی۔ وہ گھنٹوں باتیں کرتے رہے۔ ریحان نے اپنے بزنس کے خوابوں، اپنی تنہائی، اور اپنی زندگی کے بارے میں بتایا۔ “تم جانتی ہو، فریحہ، میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ کوئی میری باتوں کو اس طرح سمجھے گا۔ تم خاص ہو۔” اس نے کہا۔ فریحہ کا دل پگھل گیا۔ اسے لگا کہ وہ اس کی دنیا کا حصہ بن چکی ہے۔
لیکن اس ملاقات کے بعد، ریحان کا رویہ کچھ بدلا۔ وہ پہلے جیسا پیار سے بات نہیں کرتا تھا۔ اس کے پیغامات کم ہونے لگے۔ فریحہ پریشان تھی۔ ایک دن اس نے ریحان سے پوچھا، “ریحان، کیا بات ہے؟ تم اتنا بدل کیوں گئے ہو؟” ریحان نے کہا، “فریحہ، بس بزنس میں کچھ مسائل ہیں۔ مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔ اگر تم مدد کر سکو۔۔۔” فریحہ کے دل میں ایک عجیب سا خوف سمایا۔ اس نے سوچا، کیا یہ وہی ریحان ہے جو اس سے محبت کی باتیں کرتا تھا؟

فریحہ کے دل میں ایک طوفان اٹھ رہا تھا۔ ریحان کی بات اس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔ “مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔” اس نے اپنی ماں سے بات کی، جو ایک سکول ٹیچر تھیں۔ “امی، اگر ہم تھوڑے پیسے ادھار لیں تو؟” اس کی ماں نے حیرت سے پوچھا، “بیٹا، کیا بات ہے؟ اتنی جلدی کیوں؟” فریحہ نے جھجکتے ہوئے کہا، “بس، ایک دوست کی مدد کرنی ہے۔” اس کی ماں نے پیسوں کا بندوبست کیا، لیکن ان کی آنکھوں میں فکر تھی۔ فریحہ نے وہ پیسے ریحان کو دے دیے۔ ریحان نے وعدہ کیا کہ وہ جلد واپس کرے گا۔

لیکن اس کے بعد ریحان کا رویہ اور سرد ہو گیا۔ وہ اب کالز اٹھانا بند کر چکا تھا۔ فریحہ روتی رہتی۔ وہ سونیا کے پاس گئی اور سب بتایا۔ سونیا نے غصے سے کہا، “میں نے تم سے کہا تھا نہ، فریحہ! یہ لڑکا ٹھیک نہیں ہے۔” سونیا نے فریحہ کو مشورہ دیا کہ وہ ریحان کی پروفائل چیک کرے۔ جب فریحہ نے دوبارہ اس کی انسٹاگرام دیکھی، تو وہ حیران رہ گئی۔ ریحان نے اسے بلاک کر دیا تھا، اور اس کا نام اب “احمد خان” تھا۔ فریحہ کے دل میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے عرفان سے بات کی۔ عرفان نے کہا، “فریحہ، میں نے تم سے کہا تھا۔ ابھی اس کے نمبر اور ای میل چیک کرتا ہوں۔”

عرفان نے اپنے سائبر سیکیورٹی کے کنیکشنز سے مدد لی۔ چند دنوں بعد اسے پتا چلا کہ ریحان کا اصلی نام بلال تھا، اور وہ کراچی میں رہنے والا ایک شادی شدہ شخص تھا۔ اس کی بیوی اور دو بچے تھے، اور وہ ایک چھوٹا موٹا جاب کرتا تھا۔ اس کا سوشل میڈیا پروفائل ایک جال تھا، جسے وہ لڑکیوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ فریحہ کو یہ سن کر دھچکا لگا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ریحان، جو اسے اپنی زندگی کا رنگ کہتا تھا، ایک دھوکے باز نکلے گا۔
فریحہ نے فیصلہ کیا کہ وہ بلال کو سبق سکھائے گی۔ اس نے سونیا اور عرفان کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا۔ انہوں نے ایک جعلی انسٹاگرام پروفائل بنایا، جس میں سونیا ایک امیر گھرانے کی لڑکی بنی۔ بلال فوراً اس جال میں پھنس گیا۔ اس نے وہی باتیں شروع کیں جو اس نے فریحہ کے ساتھ کی تھیں۔ تنہائی کی باتیں، محبت کے وعدے، اور پھر بزنس کے لیے پیسوں کی مانگ۔ فریحہ اور عرفان نے بلال کو لاہور آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے ایک کیفے میں ملاقات طے کی، جہاں سونیا اس جعلی پروفائل کی لڑکی بن کر موجود تھی۔ فریحہ ایک کونے میں چھپ کر بیٹھی تھی، اور عرفان نے پولیس کو پہلے سے اطلاع کر دی تھی۔

جب بلال کیفے میں آیا، فریحہ کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ وہ وہی تھا، وہی مسکراہٹ، وہی انداز۔ لیکن اس بار فریحہ اس کے جھانسے میں نہیں آنے والی تھی۔ جیسے ہی بلال نے سونیا سے پیسوں کی بات کی، پولیس نے اسے دبوچ لیا۔ بلال گھبرا گیا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد پولیس نے بلال کے گھر کی تلاشی لی۔ وہاں سے کئی جعلی شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹس، اور دیگر لڑکیوں کے ساتھ اس کی چیٹس کے ثبوت ملے۔ پتا چلا کہ فریحہ اس کے دھوکے کی واحد شکار نہیں تھی۔ اس نے کم از کم سات دیگر لڑکیوں سے لاکھوں روپے بٹورے تھے۔

فریحہ نے بلال کی بیوی سے ملاقات کی۔ وہ صدمے میں تھی۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ اس کا شوہر ایسی حرکتیں کرتا ہے۔ فریحہ نے اس سے ہمدردی کی اور کہا، “آپ کا قصور نہیں ہے۔ وہ ہم سب کو دھوکہ دے رہا تھا۔” فریحہ کے پیسے تو واپس نہ مل سکے، لیکن اسے ایک عجیب سا سکون تھا۔ اس نے نہ صرف اپنا بدلہ لیا بلکہ دوسری لڑکیوں کو بھی اس دھوکے باز سے بچا لیا۔
فریحہ نے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کی۔ اس نے سوشل میڈیا سے دوری اختیار کر لی اور اپنی زندگی کو نئے سرے سے سنوارنا شروع کیا۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی میں ابھی بہت سے رنگ بکھریں گے، لیکن اس بار وہ اپنے دل کی حفاظت خود کرے گی۔ اس کہانی کا اختتام ایک نئی شروعات تھی، جہاں فریحہ اپنی ہمت اور عقل سے ایک نئی زندگی کی طرف بڑھ رہی تھی۔
(ختم شد)
👇👇
اگر کہانی پسند آئی ہو تو کمنٹ میں ضرور بتایئں شکریہ