ہانیہ کو کافی دیر ہو گئی تھی۔ وہ کالج کے فنکشن سے فری ہو کر بس ٹاپ پہ کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔ تاکہ گھر پہنچ سکے۔ گھر میں اس کے بوڑھے والدین اور ایک بہن تھی۔ جس کا نام سونو تھا۔ سونوکچھ ایب نارمل تھی۔ اس لیے ہانیہ اس کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی کیونکہ سونو ہانیہ کے ساتھ کھانا کھاتی تھی اور اسی کے ساتھ سوتی تھی۔ کافی دیر گزر گئی لیکن بس ابھی نہیں پہنچی تھی۔ اچانک ایک کار ہانیہ کے سامنے آ کر رکی۔
وہ جاذب تھا۔ جوہانیہ کو پسند کرتا تھا۔ اس نے ہانیہ کی جانب دیکھا اور اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ہانیہ نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا اور فرنٹ سیٹ پر اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔ جاذب نے پوچھا تم نے تو کہا تھا کہ آج کے فنکشن میں نہیں آ سکو گی؟ لیکن دیکھو مجھے پتہ تھا کہ تم ضرور آؤ گی۔ ہانیہ نے جواب دیا میں تو نہیں آنا چاہتی تھی۔ لیکن میرے ماں نے مجھے مجبور کیا کہ مجھے کالج کے فنکشنز اٹینڈ کرنے چاہیے۔ اسے دماغ اور تازہ ہو جائے گا اور کچھ اؤٹنگ بھی ہو جاتی ہے۔ دونوں تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوئے لیکن جاذب نے ہانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ ہانیہ سمجھ گئی کہ جاذب کیا بات کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جاذب اسے بہت زیادہ پسند کرتا ہے۔
جاذب نےزیادہ لمبی بات نہیں کی اور اسے اپنے دل کی بات کہہ دی۔ جاذب ہانیہ کو پسند کرتا تھا اور اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور آج دل کی بات کھول کر اس کے سامنے رکھ دی تھی۔ ہانیہ پہلے سے جانتی تھی اسی لیے اس کے چہرے پر تاثرات میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ ہانیہ نے کہا مجھے پتہ تھا تم کیا کہو گے اور میرا جواب بھی یہی ہے کہ میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔ جاذب اک دم حیران ہوا اور پوچھا آخر مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی؟ مجھ سے محبت بھی کرتی ہو لیکن شادی سے انکاری بھی ہو۔ ہانیہ نے کہا میں ایک غریب گھر کی لڑکی ہوں جیسا کہ تم جانتے ہو اور یہ بھی سمجھتے ہو کہ تمہارے ماں باپ کبھی بھی ایک غریب لڑکی کو بہو بنا کر اپنے گھر لے کر نہیں آئیں گے اور ویسے بھی میرے اوپر گھر کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ میرے ماں باپ بوڑھے ہیں۔ باپ دو دفعہ ہار اٹیک کے حادثے سے گزر چکا ہے اور تیسرا ہارٹ اٹیک میرے بابا کی جان لے سکتا ہے۔ اس لیے مجھے ان کے پاس رہنا ہے ۔دوسرا میری بہن سونو ابنارمل ہے وہ میرے بغیر ایک پل بھی نہیں رہتی۔ میرے بغیر تو کھانا بھی نہیں کھاتی اور رات کو بھی مجھے اسے اپنے پاس سلانتا پڑتا ہے۔ جیسے ہی میرا بی اے مکمل ہوگا میں کوئی جاب تلاش کروں گی تاکہ اپنی گھر والوں کا سہارا بن سکوں۔ جاذب خاموش ہو گیا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری وہ جانتا تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ہانیہ کو اس بات پر قائل کر لے گا۔ ہانیہ کا گھر قریبی ہی تھا۔ ہانیہ گاڑی سے اتر گئی۔
گھر پہنچ کر ہانیہ نے اپنے باپ اور ماں کو سلام کیا اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ کر ان کی صحت کے بارے میں پوچھنے لگی۔ والد نے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ہانیہ بیٹا مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنا ہے۔ اتنے میں ہانیہ کی امی بیچ میں بول پڑی کہ بچی ابھی تو تھک ہار کر گھر آئی ہے۔ تھوڑی دیر آرام کرنے دیں اور سونو نے بھی ابھی تک کھانا نہیں کھایا۔ ہانیہ کو پہلے سونو کے پاس جانے دیں تاکہ اسے کھانا کھلا سکے۔ ہانیہ نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو باپ نے اسے کہا ٹھیک ہے بیٹا پہلے فریش ہو جاؤ کپڑے بدل لو پھر بات کریں گے۔ ہانیہ اٹھی اور سونو کے کمرے میں چلی گئی. سونو بیٹھی اکیلی لڈو کھیل رہی تھی۔ سونو ابنارمل تھی اور اس کی بہت بڑی وجہ کہ اس سے چھوٹے دو بھائی تھے۔ جو جڑواں تھے ماں باپ کی توجہ سونو سے ہٹ کر ان جڑواں بیٹوں کی طرف ہو گئی تو سونو سب سے کٹ کر رہ گئی اور یہ بات اس کے دماغ میں بیٹھ گئی کہ گھر والے اس سے ذرا بھی پیار نہیں کرتے یوںو تنہائی کا شکار ہو گئی اور ذہنی طور پر ابنارمل ہو گئی۔ لیکن سوکول جاتے ہوئےایک حادثے میں دونوں فوت ہو گئے تھے۔ ہانیہ اس کے پاس گئی اور اسے پوچھا کہ سونو نے ابھی کھانا کیوں نہیں کھایا؟ لیکن سونو نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ لڈو کھیلنے میں مصروف رہی۔ ہانیہ نے اسے کھانا کھلایا اور لباس تبدیل کرنے کے بعد وہ والد صاحب کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
ہانیہ کے باپ نے کہا کہ تمام والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی جیتے جی وہ اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھ لیں۔ میری بھی یہ خواہش ہے کہ میں جب تک زندہ ہوں تمہاری شادی کر دوں۔ میری زندگی کا کیا بھروسہ کہ کب اس دنیا سے چلا جاؤں۔ ہانیہ اپنے باپ کی بات سن کر پریشان ہو گئی اور بولی بابا جان ابھی تو میرے امتحان ہونا باقی ہیں۔ پھر میں نے جاب بھی کرنی ہے تو ابھی شادی کی مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ تب ہانیہ کی ماں نے کہا دیکھو ہانیہ جیسا کہ تم جانتی ہو کہ تمہارے باپ کو پہلے بھی دو ہار اٹیک آ چکے ہیں اس لیے ان کی بات مان لو جیسا کہتے ہیں ویسا ہی کر لو۔ ہانیہ کے باپ نے کہا میرے ایک بہت قریبی جاننے والے دوست شاداب صاحب ہیں۔ انہوں نے ایک اچھا رشتہ ڈھونڈا ہے۔ کل وہ آئیں گے تو اس حوالے سے بات فائنل کریں گے ۔اس لیے میری خواہش ہے کہ تم اب شادی کر لو۔
وہ رات ہانیہ کے لیے ایک عذاب سے کم نہ تھی کیونکہ کل اسے دیکھنے کے لیے لوگ آنے والے تھے اور وہ شادی کرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے بہت سوچا کہ جاذب کو فون کر کے سب بتائے لیکن اس میں ہمت نہیں ہو پا رہی تھی۔ کیونکہ وہ بتا چکی تھی کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ جس کی وجہ سےجاذب بھی خاموش تھا لیکن اب ہانیہ شادی کرنے جا رہی تھی۔ جس کا جاذب کو پتہ چلتا تو پتہ نہیں اس کا ری ایکشن کیا ہوتا۔ یہ تمام باتیں ہانیہ کے دماغ میں ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ لیکن کل کیا ہونے والا ہے اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہ تھا؟ ہانیہ انہی خیالوں میں گم تھی اور پریشانی تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔ ہانیہ کے دماغ میں اپنی ماں کے وہ الفاظ بھی تھے کہ اگر اس کے باپ کو مزید کچھ دھچکا لگا۔تو ہو سکتا ہے یہ یہ صدمہ ان کی جان ہی لے لے۔ ہانیہ کے لیے اس کی فیملی سب سے پہلے تھی اس لیے اس نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یوں ہانیہ کی شادی ہو گئی اور وہ اپنے پیا گھر سدھار گئی وہ بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی تھی اور اپنے دولہا کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے تو ابھی تک اپنے دلہا کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ لیکن یہ شادی ہانیہ نے اپنے ماں باپ کی مرضی سے کی تھی۔ اس لیے اسے دولہا کو دیکھنے کا کوئی شوق بھی نہیں تھا۔ وہ تو بس مجبور تھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ دروازہ کھلا اور اس کا شوہر اندر داخل ہوا۔ لیکن جیسے ہی شوہر نے اس کا گھونگھٹ اٹھایا تو ہانیہ نے ایک نظر اپنے شوہر کو دیکھا تو اس کے پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی۔ کیونکہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی شادی اس کی عمر سے دگنا انسان سے کر دی جائے گی۔ اس کے شوہر کا نام انور تھا اور وہ 40 سال سے زیادہ کی عمر کا تھا ہانیہ کے لیے وہ رات قیامت بن کر گزری۔ کیونکہ اس کا دلہا اس کے قابل ہی نہیں تھا اور وہ ذہنی طور پر اس کو قبول نہیں کر پا رہی تھی زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے اس کا شوہر ازواجی حقوق ادا کرنے سے بھی قاصر رہا۔ لیکن ہانیہ مکمل طور پر برباد ہو چکی تھی اور آگے کتنی بربادی دیکھنا پڑے گی اس کا سوچ کر اس کی روح کانپ گئی۔
انور ایک کھڑوس انسان تھا اس نے پہلی ہی رات ہانیہ کو سمجھا دیا کہ وہ صبح بیڈ ٹی کا عادی ہے اس لیے اسے وقت پر چائے اور کھانا مل جانا چاہیے۔ وہ شوگر کی دوائی بھی استعمال کرتا ہے۔ اس لیے دوائی کھانے کے ٹھیک آدھا گھنٹہ بعد فوری طور پر اسے کھانا بنا کے دینا ہوگا ۔ نہیں تو اس کی طبیعت بگڑ سکتی ہے۔ ہانیہ نے تمام تر گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ شادی کی پہلے ہی دن انور آفس چلا گیا اور وہ گھر میں اکیلی بیٹھی رہ گئی۔ جاتے ہوئے انور نے بتایا کہ اب اس گھر میں کام کاج کے لیے جو ملازمہ تھی۔ اس کی چھٹی کر دی ہے۔ اب یہ سارا گھر تم ہی کو سنبھالنا ہے۔ اسی لیے دوپہر کے وقت کھانا لینے کے لیے ایک ادمی دفتر سے آ جائے گا تم اسے کھانا بنا دینا۔ ہانیہ گھر میں اکیلی تھی تو اس نے کچن کا دروازہ کھلا اور وہاں جا کر تمام اشیاء کی جانچ پڑتال کرنے لگی تو بہت ساری چیزیں کچن میں ایسی تھیں جو ختم ہو چکی تھی تو اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے شوہر کو فون کیا کہ آج کیا بنا کے بھیجوں؟ کچن میں بہت ساری چیزیں ختم ہو چکی ہیں۔ تو انور نے کہا کہ بیڈ کی دراز میں پیسے موجود ہیں وہاں سے پیسے اٹھا لو اور جو چیزیں ختم ہو چکی ہیں وہ جا کے بازار سے لے آنا۔ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
ہانیہ نے تمام چیزیں جو ختم ہو چکی تھیں ان کی ایک لسٹ بنائی۔ دراز سے پیسے اٹھائے اور شاپنگ کے لیے بازار چلی گئی۔ مکمل خریداری کرنے کے بعد وہ فورا واپس آگئی کیونکہ دوپہر کے وقت کھانا بنا کے بھی بھیجنا تھا۔ دن اسی طرح گزر گیا ہانیہ کی زندگی میں بدقسمتی نے ڈیرے ڈال دیے تھے۔ اس کا شوہر اس سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتا تھا۔ ہانیہ صرف اپنے ماں باپ کی خوشی کے لیے اس کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اس کا دل اداس ہونے لگتا۔ اس کا دل چاہتا کہ وہ جاذب سے فون پر بات کرے لیکن وہ ایسا بھی نہیں کر پا رہی تھی۔ ایک دن جب کچن میں کھانا بنا رہی تھی تو موبائل کی سکرین پرجاذب کا نمبر دیکھ کر اس کا دل دھڑکنے لگا۔ اس نے فورا فون اٹھایا۔ جاذب نے پوچھا کیسی ہو ہانیہ شادی شدہ زندگی کیسی گزر رہی ہے ہانیہ کے پاس ان کی باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔ جاذب نےکہا: میں نے دیکھ لیا ہے کہ تمہارا شوہر تم سے عمر میں بہت زیادہ ہے اور مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم نے اپنے ساتھ ایسا ظلم کیوں کیا ہے؟ ہانیہ نے بتایا کہ تم جانتے ہو جاذب میں نے یہ سب کچھ اپنے ماں باپ کے لیے کیا ہے اور اب میں اس رشتے کو نبھاؤں گی۔ اسی طرح کچھ اور باتیں ہوتی رہیں اور ہانیہ نے فون بند کر دیا۔ وہ بھی جاذب کو پسند کرتی تھی لیکن زندگی کے اس دوراہے پر آ کر کھڑی تھی کہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کریں اور کیا نہ کرے۔
ایک دن اس نے انور سے کہا کہ میں گھر میں بور ہو جاتی ہوں کیوں نہ اس اتوار کو ہم کہیں گھومنے چلیں؟ انور کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ لیکن اسے بھی محسوس ہوا کہ اس کی کم عمر بیوی گھر میں اکیلی پریشان ہو جاتی ہے۔ تو اگر کہیں گھومنے کے لیے جانا چاہتی ہے تو اسے لے جانا چاہیے۔ وہ یہی سوچ رہا تھا کہ ہانیہ نے کہا کافی دن ہو گئے ہیں۔ میں اپنے ماں باپ کے لیے اداس ہو رہی ہوں اور اپنی بہن کے لیے بھی۔ کیوں نہ ہم ادھر چلے جائیں؟ انور نے کہا ٹھیک ہے اتوار والے دن چلیں گے۔اتوار کے دن 10 بجے ہانیہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنے ماں باپ کے گھر پہنچ گئی وہاں جاتے ہی انور نے کہا کہ ہم یہاں زیادہ دیر نہیں رکیں گے۔ اس لیے کھانا بنانے کی زحمت نہ کریں۔ ہم بس ایک ڈیڑھ گھنٹہ رکیں گے۔ اس کے بعد واپس چلے جائیں گے۔ یہ بات سن کر ہانیہ کا دل بیٹھ گیا۔ ہانیہ کے ماں باپ نے بھی دیکھ لیا کہ ان کی بیٹی کا چہرہ مرجھا چکا ہے چہرہ پیلا پڑ رہا ہے اور وہ بہت کمزور لگ رہی ہے۔ ان کو سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ان کی بیٹی خوش نہیں ہے اور ایک عذاب میں زندگی گزار رہی ہے۔ انور نے سونو کی جانب دیکھ کر کہا کہ یہ پاگل لڑکی کیا ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی؟ سونو دروازے میں کھڑی انور کی باتیں سن رہی تھی لیکن اس کے سپاٹ چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے۔
ہانیہ نے بتایا میری بہن پاگل نہیں ہے بس تھوڑی ابنارمل ہے۔ میرے ساتھ خوش رہتی ہے اس لیے اداس ہو گئی ہے۔ سونو آگے بڑھی اور اس نے ہانیہ سے کہا اچھا تو یہ وہ انسان ہے جس نے اپ کو مجھ سے چھین لیا ہے۔ انور سونو کی بات سن کر سٹپٹا گیا اور بولا آج کل کے بچوں میں ذرا بھی تمیز نہیں ہے کہ بڑوں سے کیسے بات کرتے ہیں؟ ہانیہ نے کہا معاف کیجئے گا میری وجہ سے یہ اداس ہے اس لیے ایسی باتیں کر رہی ہے ۔ تھوڑی دیر ایسے ہی باتیں ہوتی رہیں اس کے بعد انور اور ہانیہ واپس اپنے گھر آگئے۔ اس دن ہانیہ بہت دیر تک اپنے کمرے میں بیڈ پر پڑی روتی رہی لیکن اس کا دکھ سمجھے والا کوئی بھی نہ تھا۔ دو دن کے بعد اچانک اسے خبر ملی کہ اس کے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا۔ ہانیہ سمجھ گئی کہ اس کا والد اس کی ظاہری حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا کہ اپنی بیٹی کو ایک جہنم میں دھکیل کر وہ جس صدمے سے دوچار ہوا تھا۔ یقینا اس صدمے نے اس کی جان لے لی۔ ہانیہ کی ماں اپنے شوہر سے بہت پیار کرتی تھی وہ بھی یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی اور وہ بھی اس کے ساتھ ہی چل بسی۔
اب سونو کا ہانیہ کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ہانیہ نے اپنے شوہر سے منت سماجت کی اور سونوں کو اپنے پاس رکھ لیا انور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک پاگل لڑکی کو اپنے گھر پر رکھنے پر مجبور ہو گیا لیکن اس کا رویہ ہانیہ اور اصولوں کے ساتھ اچھا نہ رہا وہ بات بات پر ہانیہ کو باتیں سنانے لگا اور اس کی بہن کو بھی ڈانٹ دیتا سونو یہ سارا ماجرہ اپنی آنکھوں سے دیکھتی لیکن ایک لفظ بھی نہیں بولتی تھی۔ وقت ایسے ہی گزرتا رہا۔ سونو بہت سے ایسے کام کر جاتی جس کا اس کو اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ اس کے لیے نقصان دہ ہیں یا نہیں۔ کبھی کبھی آگ میں ہاتھ ڈال کر یہ دیکھتی کہ یہ کتنی گرم ہے اور کبھی کبھی کوئی دوائی اٹھا کر پی لیتی تھی کہ شاید یہ کوئی کھانے کی چیز ہے۔ ہانیہ اس بات سے بہت پریشان تھی۔ ایک دن تو اس نے ایک زہر کی شیشی اٹھا لی اور ہانیہ نے دیکھ لیا اور فورا اس سے وہ شیشی لے کر اوپر الماری میں چھپا کر رکھ دیا اور اسے کہا کہ یہ چیز اگر تم کھا لیتی تو فورا مر جاتی یہ زہر ہے۔ اسی لیے دوبارہ ایسی چیزوں کو ہاتھ مت لگانا۔ لیکن سونو کے چہرے پر ویسے ہی تاثرات تھے اور وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہانیہ کو دیکھ رہی تھی
انور کی ظلم و ستم بڑھتی جا رہے تھے۔ ایک دن اس نے شوگر کی دوائی کھائی اور اس کے بعد ہانیہ سے کھانا بنانے کے لیے کہا ہانیہ جو پہلے ہی کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے جلد از جلد اپنے شوہر کے لیے کھانا بنانے لگی۔ سونو جو اس کے ساتھ موجود تھی وہ ہانیہ کی تمام حرکات کو دیکھ رہی تھی۔ ہانیہ کسی کام سے ساتھ والے کمرے میں گئی لیکن سنو کچن میں موجود رہی۔ کھانے کو تھوڑی لیٹ ہو گئی تو انور چیخنے چلانے لگا کہ تم جانتی ہو کہ اگر وقت مجھے کھانا نہیں ملے گا تو جو دوائی میں استعمال کرتا ہوں یہ میری جان بھی لے سکتی ہے۔ ہانیہ گھبراتی ہوئی جلدی جلدی ٹرے میں کھانا رکھ کے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی اور اسے کھانا دے دیا اور پانی کا جگ لے کر اس کے پاس رکھ دیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ انور چلانے لگا کہ آج کیسا بے ہودہ کھانا بنایا ہے۔ عجیب سا ذائقہ محسوس ہو رہا ہے۔ ابھی الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے کہ وہ قہ کرنے لگا اور پھر نیچے فرش پہ جا گرا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ہانیہ کو دیکھ رہا تھا اور غصے سے چلا رہا تھا کہ تم نے مجھے کھانے میں زہر ملا کے دیا ہے اچانک انور کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی اور وہیں پہ ساکت ہو گیا۔ ہانیہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے انور کو دیکھ رہی تھی۔ جس کا ساکت جسم فرش پر موجود تھا۔ ہانیہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟ اس کا جسم خوف سے لرز رہا تھا۔