میری عمر کوئی پندرہ برس ہو گی سات بھائیوں کی میں اکلوتی اور بہت ہی لاڈلی تھی ہماری کافی زمین تھی دو بھائی شہر میں پڑھتے تھے اور باقی پانچ زمینداری و کاشتکاری کا ہی کام کرتے تھے ہمارے ڈیرے کے نزدیک کوئی آبادی نہ تھی چند گز کے فاصلے پر ایک ٹیوب ویل تھا باقی ارد گرد کوئی آبادی نہ تھی اِکا دُکا کوئی جو ڈیرہ تھا وہ دور کافی دور تھا۔ ٹیوب ویل کا آپریٹر بہت ہی شریف اور ایمانداری آدمی تھا وہ زیادہ تر ہمارے گھر ( ڈیرے) پر رہتا تھا اور کھانا بھی ہمارے ساتھ کھاتا اگر وہ ٹیوب ویل پر ہوتا تو ہم اُسے کھانا وہاں پہنچا دیتے وہ کافی حد تک ہمارے ہی گھر کا فرد تھا۔ ہمارے گھر کا کوئی راز یا کام اس سے پوشیدہ نہ تھا اور ہر کام میں اس کا مشورہ شامل ہوتا- میرے والدین اور بھائی اس سے اور وہ ہمارے گھر والوں سے بڑا ہی پیار کرتا تھا۔ دنیاوی تعلیم کے لیے تو مجھے ٹانگہ شہر لے جاتا تھا اور دینی تعلیم میں نے مختار بھائی کے پاس ہی حاصل کی ۔
ان دنوں دو ماہ کی چھٹیاں تھیں اور میں اسکول کا کام کرنے بھی مختار بھائی کے پاس ٹیوب ویل پر چلی جاتی وہ مجھے پڑھائی کے علاوہ دینی تعلیم دیتے۔ وہ مجھ سے بڑا ہی پیار کرتے تھے اس سال میں نویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ ایک دن میں ٹیوب ویل پرکھانا دینے گئی تو وہاں میری عمر کا ایک اور لڑکا تھا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ بھائی مختار کا چھوٹا بھائی وقار ہے اور دو ماہ چھٹیوں میں یہاں ہی رہے گا۔ ہم چند دنوں میں گھل مل گئے۔ ہم اکٹھے پڑھتے اور پھر اکٹھے کھیلتے میں بہت خوش تھی کہ میری عمر کا ایک ساتھی مجھے مل گیا تھا دو ماہ پلک جھپکتے میں گزر گئے وہ اگلے سال بھی آیا جب وہ جانے لگا تو مجھے کافی دکھ ہوا میرا دل چاہ رہا تھا وہ یہاں ہی رک جائے یہاں ہی پڑھے لیکن یہ سب کچھ میرے دل ہی میں رہ گیا اور وہ چلا گیا۔ اور میں آئندہ سال اس کے آنے کے لیے دن گننے لگ گئی وہ مجھے بہت اچھا لگنے لگا تھا اور اب بہت یاد آنے لگا۔ سال گزر ہی نہیں رہا تھا ہماری یہ زندگی کتنی چھوٹی ہوتی ہے اور وہ بھی ہم تجربوں اور ٹھوکریں کھانے اور سنبھلنے میں گزار دیتے ہیں وقار جب چوتھی مرتبہ اپنے بھائی کے پاس دو ماہ کی چھٹیاں گزار نے آیا تو کافی خوبصورت اور کافی ہوشیار اور چالاک ہو چکا تھا یا پھر یہ کچھ دیکھنے سمجھنے کی عمر کو میں بھی پہنچ گئی تھی۔ وقار کافی بدل چکا تھا اس کا بات چیت کرنے اٹھنے بیٹھنے کا انداز بہت زیادہ بدل چکا تھا اور میں ویسی ہی تھی جیسی چند سال پہلے تھی امی میری اس آزاری اور بے باکی پر نکتہ چینی کرنے لگیں تھیں اور میں حیران تھی کہ ایسی کون سی نئی بات ہو رہی ہے جو امی اعتراض کرنے لگی ہیں کاش میں اس وقت کچھ سمجھ جاتی یا پھر ٹھوکر لگانے والے اشارے دینے والے ٹھیک طرح سے ٹھوکر لگاتے میرے کان کھل جاتے یا پھر میرے اپنوں کو بہت زیادہ بھروسہ تھا ورنہ وہ ضرور میری حفاظت کرتے مجھ پر کوئی پابندی نہ لگائی ایسا کر دیتے تو میری آنکھیں ضرور کھل جاتیں۔
ان کی لاپرواہی تھی مجھے اس حال میں پہنچانے والے ہیں وقار اب مجھے گھور گھور کر اور للچائی نظروں سے دیکھتا اور میں نادان سب کچھ دیکھتی اور کچھ نہ سمجھ سکتی مان لیتی ہوں میری عمر سترہ برس تھی مجھے یہ سب کچھ سمجھ لینا چاہیے تھا لیکن یہ حقیقت ہے میں کچھ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ مجھے جیسے ہی موقع ملتا تنہائی ملتی میں اس کے پاس چلی جاتی ۔ اب زیادہ ادھر اُدھر مت گھومو پھرو اور گھر پر رہا کرو تم اب چھوٹی نہیں ہو ۔ ایک دن مختار بھائی نے بڑے پیار سے مجھے سمجھایا بھی تھا لیکن میں کچھ نہ سمجھ پارہی تھی۔ ثریا جانتی ہو میں آئندہ سال یہاں نہیں آؤں گا۔ وقار بڑے افسردہ لہجے میں ایک دن کہنے لگا۔ وہ کیوں؟ میں پریشان ہو گئی۔ وہ اس لیے کہ میں فرسٹ ایئر میں چلا جاؤں گا اور مجھے کسی دور شہر کے کالج میں داخلہ لینا ہوگا۔ وہ بڑی معصومیت سے کہہ رہا تھا لیکن اس کی آواز میں دنیا بھر کا در دسمٹ آیا تھا جیسے وہ واقعی بہت پریشان ہے۔ تو وقار تم یہاں ہی بھائی جان کے پاس رہنے لگ جاؤ نا کالج دونوں اکٹھے جایا کریں گے اور ملتے بھی رہیں گے۔
بھیا نہیں مانیں گے اور پھر ان کی نوکری کا کیا بھروسہ کل تبادلہ ہو جائے لگتا ہے ہم دوبارہ نہ مل سکیں گے اور اگر ایسا ہی ہوا تو شاید میں تمہارے بغیر زندہ نہ رہ سکوں تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو؟“ وہ روہانسا ہو گیا تھا۔ نہیں وقار ایسا مت کہو میں بھی تو تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میری آواز گھگھیا گئی۔ لیکن یہ سب ہمارے اختیار میں نہیں یہ تو ہوگا ہمیں ایک دوسرے کے بغیر رہنا پڑے گا ۔ وہ دور خلاؤں میں گھورتا ہوا بولا ۔ تم کچھ کر سکتی ہو ثریا ؟ کہتے ہوئے اس نے سوالیہ نگاہیں میرے چہرے پر گاڑھ دیں۔ میں تمہاری خاطر نہر میں چھلانگ لگا سکتی ہوں وقار بابو اگر ابھی کہے تو میں ابھی لگا دیتی ہوں۔ نہیں پگلی چھلانگ نہیں لگانی تمہیں شادی کے لیے گھر والوں کو راضی کرنا ہوگا اور میرا انتظار کرنا ہوگا ۔ وہ کہہ رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی ۔ یہ کوئی بڑا کام نہیں میں آج ہی گھر والوں سے بات کروں گی ۔ میں نے فورا کہا۔ نہیں ابھی نہیں جب میں کہوں گا فی الحال تم یہ کرو رات کو مجھ سے ملنے آیا کرو دن کو کوئی کام کی بات نہیں ہو سکتی کیا خیال ہے آؤ گی نا ؟ رات کو تو بہت مشکل ہے۔
بھیا نہیں مانیں گے اور پھر ان کی نوکری کا کیا بھروسہ کل تبادلہ ہو جائے لگتا ہے ہم دوبارہ نہ مل سکیں گے اور اگر ایسا ہی ہوا تو شاید میں تمہارے بغیر زندہ نہ رہ سکوں تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو؟“ وہ روہانسا ہو گیا تھا۔ نہیں وقار ایسا مت کہو میں بھی تو تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میری آواز گھگھیا گئی۔ لیکن یہ سب ہمارے اختیار میں نہیں یہ تو ہوگا ہمیں ایک دوسرے کے بغیر رہنا پڑے گا ۔ وہ دور خلاؤں میں گھورتا ہوا بولا ۔ تم کچھ کر سکتی ہو ثریا ؟ کہتے ہوئے اس نے سوالیہ نگاہیں میرے چہرے پر گاڑھ دیں۔ میں تمہاری خاطر نہر میں چھلانگ لگا سکتی ہوں وقار بابو اگر ابھی کہے تو میں ابھی لگا دیتی ہوں۔ نہیں پگلی چھلانگ نہیں لگانی تمہیں شادی کے لیے گھر والوں کو راضی کرنا ہوگا اور میرا انتظار کرنا ہوگا ۔ وہ کہہ رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی ۔ یہ کوئی بڑا کام نہیں میں آج ہی گھر والوں سے بات کروں گی ۔ میں نے فورا کہا۔ نہیں ابھی نہیں جب میں کہوں گا فی الحال تم یہ کرو رات کو مجھ سے ملنے آیا کرو دن کو کوئی کام کی بات نہیں ہو سکتی کیا خیال ہے آؤ گی نا ؟ رات کو تو بہت مشکل ہے۔
سب لوگ گھر پر ہوتے ہیں اور انہیں پتا لگ گیا تو میں ڈر گئی تھی۔ چھلانگ لگانے کو تیار ہو اور رات کو آتے ہوئے ڈرتی ہو بڑے دعوے کرتی ہو بڑا پیار ہے مجھ سے۔ میں آؤں گی وقار بابو بولو کہاں آنا ہے اور ہم کیا باتیں کرینگے ۔ پوچھتے ہوئے میں حیران تھی وہ کیا باتیں ہیں جو ہم دن کو نہیں کر سکتے اور رات کو کرینگے۔ وہ سامنے کماد کے کھیت کے پاس رات بارہ بجے کے بعد جب تمام گھر والے سو جائیں گھبرانا نہیں وہ مجھے دلاسہ اور حوصلہ دے رہا تھا ۔ ٹھیک ہے میں آؤں گی ۔ کہہ کر میں چلی گئی اندھیرا پھیلتے ہی مجھے احساس ہو گیا یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا میں سمجھ رہی تھی۔ مجھے ڈر لگ رہا تھا لیکن میں مجبور تھی اور ایسا بہر حال مجھے کرنا تھا میں وقار بابو کو افسردہ دیکھ سکتی تھی نہ اس کی کوئی بات ٹال سکتی تھی۔ جب گھڑی کی سوئیوں نے بارہ بجا دیے تو میں اٹھ بیٹھی سردی کے باعث خون رگوں میں منجمد ہو رہا تھا خود کو بڑا حوصلہ دیا گو یہ کام انتہائی مشکل تھا لیکن نہر میں چھلانگ لگانے والے کے لیے تو آسان تھا میں نے وعدہ جو کر لیا تھا اور میں پہنچ گئی اور وقار پہلے ہی میرا منتظر تھا۔ ہولتی لڑکھڑائی گھر پہنچ گئی۔ رات میں اس خاموشی سے واپس گھر پہنچ گئی جیسے نکلی تھی ۔ سب لوگ سورہے تھے لیکن مجھے ان کا اتنا احساس نہ تھا میں تو آج نئی دنیا کی سیر کر کے آئی تھی اتنے کڑیل اور جوان سات بھائیوں کی اکلوتی بہن رات کی تاریکی میں ان کی عزت و غیرت کے پرخچے اڑا کر آگئی تھی شاید اس لیے کہ لاڈلی تھی اکلوتی اور بہت ہی پیاری بھی یہی وجہ تھی کہ وہ بڑے سکون سے سوئے ہوئے تھے۔ پھروہ جب تک گاؤں میں رہا ہم چوری چھپے ملتے رہے۔
لیکن بہت جلد ہمارے گھر والوں کو شک پڑ گیا اور مجھ پر پابندی لگ گئی لیکن انہیں کیا خبر کہ ہم تاریک راتوں کا سینہ چیرتے رہتے ہیں۔ بظاہر دن کو ہم پر پابندی لگ گئی خصوصاً مجھ پر وقار پر کوئی خاص نہیں صرف ڈانٹ ڈپٹ تک ہی محدود رہا لیکن اس کے فیل ہونے کی وجہ سے بھائی مختار کافی مشکوک ہو گئے تھے۔ وقار اب میں نہ انتظار کر سکتی ہوں نہ تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں تم نہ جاؤ ۔ جس دن صبح اُسے جانا تھا رات کو میں نے کہا۔ یا پھر میرے والدین سے شادی کی بات کرو اس طرح میں تمہیں نہیں جانے دوں گی دوسرے لفظوں میں گویا میں نے دھمکی دے دی اس نے بڑی تاویلیں پیش کیں مجبوریاں بتائیں لیکن میں کچھ سننے کو تیار نہ تھی میں بہت دور نکل چکی تھی مجھے کچھ دکھائی کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا یہی وجہ تھی میں اس کی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی ۔
لیکن بہت جلد ہمارے گھر والوں کو شک پڑ گیا اور مجھ پر پابندی لگ گئی لیکن انہیں کیا خبر کہ ہم تاریک راتوں کا سینہ چیرتے رہتے ہیں۔ بظاہر دن کو ہم پر پابندی لگ گئی خصوصاً مجھ پر وقار پر کوئی خاص نہیں صرف ڈانٹ ڈپٹ تک ہی محدود رہا لیکن اس کے فیل ہونے کی وجہ سے بھائی مختار کافی مشکوک ہو گئے تھے۔ وقار اب میں نہ انتظار کر سکتی ہوں نہ تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں تم نہ جاؤ ۔ جس دن صبح اُسے جانا تھا رات کو میں نے کہا۔ یا پھر میرے والدین سے شادی کی بات کرو اس طرح میں تمہیں نہیں جانے دوں گی دوسرے لفظوں میں گویا میں نے دھمکی دے دی اس نے بڑی تاویلیں پیش کیں مجبوریاں بتائیں لیکن میں کچھ سننے کو تیار نہ تھی میں بہت دور نکل چکی تھی مجھے کچھ دکھائی کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا یہی وجہ تھی میں اس کی کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی ۔
آخر فیصلہ ہوا صبح بھائی مختار سے بات کرینگے جب ان سے ہم دونوں نے بات کی تو وہ اچھل پڑے انہوں نے ڈنڈا اٹھایا اور میرے سامنے وقار کی اچھی خاصی پٹائی کر دی اور مجھے بھی برا بھلا کہا۔ پھر انہوں نے میرے گھر والوں کو بتا دیا اور ہمارے گھر میں قیامت کھڑی ہو گئی اس سے پہلے کہ میرے بھائی مجھے زندہ دفن کر دیتے میں ان کے پاؤں پڑ گئی اور گڑ گڑا کر معافی مانگ لی اگر انہیں یہ پتہ چل جاتا ہم کیا کچھ کر چکے ہیں۔ تو میرا انجام دیکھ کر نجانے کتنی صدیاں وہ دھرتی کا نپتی رہتی ان کے خیال میں صرف یہ تھا شاید ہم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں اور پھر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگلی رات ہم وہ منصوبہ ترتیب دے چکے تھے جو ازل سے ہوتا آیا ہے راہِ فرار کا. جو کچھ گھر سے مل سکا میں نے لے لیا اور پھر اگلی رات ہم چھ میل کا پیدل سفر کر کے قریبی شہر پہنچ گئے اور وہاں سے راتوں رات لاہور پہنچ گئے۔ صبح سات بجے شالیمار ٹرین سے لاہور سے ہم اللہ کے سہارے پر کراچی کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ گاڑی چل پڑی تو ہم نے سکھ کا سانس لیا یقین سا ہو گیا تھا کہ ہر طرح کا خطرہ ٹل چکا ہے۔
لیکن میں زندگی میں پہلی مرتبہ جی بھر کر روئی بڑا ہی دکھ ہو رہا تھا اپنی اس حماقت پر اور حماقت کوئی معمولی بات بھی تو نہ تھی۔ میں ذرا سا دکھی ہوتی تو میرے بھائی زمین ہاتھوں میں اٹھا لیتے تھے۔ مجھے کیا ہو گیا تھا میں کتنی معصوم اور سیدھی سادھی تھی اور اتنا بڑا قدم اٹھاتے وقت مجھے کچھ بھی تو نظر نہ آیا۔ واپسی کی کوئی صورت نہ تھی بھائی زندہ دفن کر دیتے میں ان سب کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ آئی تھی ایک پل میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی میں نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ذرا دیر لگائی بہرحال اب مجھے صرف آگے بڑھنا تھا صرف آگے پیچھے تو صرف موت تھی اور وہ بھی دردناک اذیت ناک بار بار خیال آتا رہا اگر میں واپس ہو جاؤں تو صرف مجھے زندگی سے ہاتھ دھونا پڑیں گے باقی گھر کو تو بچالوں گی لیکن مجھ پر عشق کا بھوت سوار تھا یا اپنی زندگی بہت پیاری تھی اگر میں چاہتی تو گھر بچ سکتا تھا۔ لیکن میں اتنی خود غرض تھی خدا جانے میرے بعد میرے گھر کا حال کیا ہوا بس یہ سوچ سوچ کر دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں مجھے جتنی گھر کی فکر تھی اتنی اپنی نہیں تھی میرا کیا انجام ہوگا مجھے پرواہ نہ تھی۔
لیکن میں زندگی میں پہلی مرتبہ جی بھر کر روئی بڑا ہی دکھ ہو رہا تھا اپنی اس حماقت پر اور حماقت کوئی معمولی بات بھی تو نہ تھی۔ میں ذرا سا دکھی ہوتی تو میرے بھائی زمین ہاتھوں میں اٹھا لیتے تھے۔ مجھے کیا ہو گیا تھا میں کتنی معصوم اور سیدھی سادھی تھی اور اتنا بڑا قدم اٹھاتے وقت مجھے کچھ بھی تو نظر نہ آیا۔ واپسی کی کوئی صورت نہ تھی بھائی زندہ دفن کر دیتے میں ان سب کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ آئی تھی ایک پل میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی میں نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ذرا دیر لگائی بہرحال اب مجھے صرف آگے بڑھنا تھا صرف آگے پیچھے تو صرف موت تھی اور وہ بھی دردناک اذیت ناک بار بار خیال آتا رہا اگر میں واپس ہو جاؤں تو صرف مجھے زندگی سے ہاتھ دھونا پڑیں گے باقی گھر کو تو بچالوں گی لیکن مجھ پر عشق کا بھوت سوار تھا یا اپنی زندگی بہت پیاری تھی اگر میں چاہتی تو گھر بچ سکتا تھا۔ لیکن میں اتنی خود غرض تھی خدا جانے میرے بعد میرے گھر کا حال کیا ہوا بس یہ سوچ سوچ کر دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں مجھے جتنی گھر کی فکر تھی اتنی اپنی نہیں تھی میرا کیا انجام ہوگا مجھے پرواہ نہ تھی۔
وقار تو گم صم تھا جیسے وہ بولا تو گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے گا میں اپنے خیالوں سے چونکی تو ادھر اُدھر دیکھا لوگ طرح طرح کی خوش گپیوں میں مشغول تھے کوئی سو رہا تھا اور کوئی کھڑے کھڑے سفر کرتے ہوئے لمحے لمحے کا حساب دے رہا تھا ایسا ہی ہوتا ہے میں سوچنے لگی کوئی نیند کے مزے لے رہا ہے اور کسی کو بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی۔
ایک لمبے اور تھکا دینے والے سفر کے بعد ہم کراچی کینٹ اسٹیشن پر پہنچے تو خوف سے میرا رواں رواں کانپ رہا تھا ہر آدمی مجھے بھائی لگ رہا تھا ۔ میرے بھائی ضرور کراچی پہنچ گئے ہوں گے یہ میں نے کیا کر دیا ہر آدمی کو میں گھور گھور کر دیکھ رہی تھی قدم قدم پر لرز جاتی اگر میرا کوئی بھائی یہاں پہنچ گیا تو مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ تو چھوڑے بھی کیوں میں نے صرف اپنی زندگی ہی نہیں پورے گھر کو زندہ درگور کر دیا تھا آخران کا کیا جرم تھا۔
وقار کے گاؤں کا ایک آدمی تھا وقار کا دوست تھا یا جاننے والا بہرحال ہم اس کے سہارے پر کراچی آئے تھے وہاں پہنچتے ہی وہ گھر پر ہی تھا پہلے تو وہ ہمیں دیکھ کر کانپ گیا۔ لیکن مجھے دیکھ کر اس کی باچھیں کھل گئیں ۔ اس نے ہمیں خوش آمدید کہا بڑی خاطر مدارت کی مجھے ذرا تسلی ہوئی چلو ٹھکانہ تو مل گیا کمرہ ایک ہی تھا لیکن ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ۔ سہولت تھی وہ اکیلا ہی رہتا تھا یہ اچھا ہوا ورنہ ہمارے راز پر زیادہ دیر پردہ نہ رہتا اور ہمارا کیا انجام ہو تا چند دن تو خوب مہمان نوازی ہوئی اس نے میرے بارے میں کچھ بھی نہ پوچھا۔ تو مجھے شک ہوا کہیں وقار نے پہلے ہی تو اسے سب کچھ نہیں بتا رکھا اور یہ ہی حقیقت تھی وقار اس کے مشوروں پر عمل کرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا میری وجہ سے وہ اتنا بوکھلا گیا تھا کہ بات کرتے ہوئے کوئی کام کرتے ہوئے دھیان مجھ پر ہی رکھتا اور مجھے یہ بڑا ناگوار گزرتا لیکن کیا کرتے مجبور تھے چاہیے تو یہ تھا وہ وقار سے بات کرے جب کہ وقار اس کے خیال میں گھر کے کونے کھدرے میں پڑا ہوا کوئی بیکار سامان تھا۔ نجانے وقار بھی اس سے کیوں دب کر رہ رہا تھا ۔ شروع شروع میں تو صرف یہ سمجھتی رہی کہ شاید وقار اسے محسن سمجھتے ہوئے درگزر کر رہا ہے۔
ہفتے بھر بعد ہمارا نکاح ہو گیا اور میں وقار کی بیوی بن گئی ایک ماہ کا عرصہ تو گزر گیا کوئی خاص بات نہ رونما ہوئی اور پھر ایک دن وہ وقار کا دوست جس کا نام مشتاق تھا۔ اپنی اصلیت پر آگیا ایک دن رات کا کھانا جب کھا چکے تو وہ بولا ۔ دیکھو وقار جیسا کہ تم جانتے ہو میرا ایک شریف گھرانے سے تعلق ہے تمہاری مجبوری دیکھتے ہوئے میں نے تمہیں سہارا دیا اب تمہیں چاہیے کوئی بندوبست کر لو۔ اس سے پہلے وقار کچھ بولتا میں نے کہا۔ بھیا آپ نے ہمیں سہارا دیا آپ کی بڑی مہربانی لیکن جب تک ہم یہاں ہیں ہم آپ کو پورا پورا خرچہ دیں گے ہمارے پاس پیسے ہیں ۔ بات یہ نہیں خرچہ تو میں بھی آپ کو کھلا سکتا ہوں اصل بات ٹھکانے کی ہے آپ لوگ کوئی الگ مکان لے لیں اور وقار کو بھی چاہیے کہ کوئی نوکری وغیرہ کرے اگر کوئی میرا ملنے والا آگیا تو میں اُسے کیا جواب دوں گا ۔۔ وقار نوکری کیسے کرے بھیا میں اکیلی گھر پر کیسے رہ سکتی ہوں، ایسا فی الحال تو ناممکن ہے ۔ میں گھبرا گئی تھی بہرحال فوری نہ سہی آپ کو بندو بست تو آخر کرنا ہوگا وہ مکروہ سی ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔ میرے ذہن میں خدشات ہتھوڑے مارنے لگ گئے۔ یہ آدمی صیح نہیں جبکہ میں اسے کتنا عظیم سمجھ رہی تھی ۔
رات کو میں نے وقار سے کہا۔ اس سے پہلے کہ کوئی خلاف توقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑے ہمیں کوئی بندوبست کرنا پڑے گا تمہارے دوست کے ارادے مجھے ٹھیک نہیں لگتے وہ کسی وقت بھی ہماری تباہی کا باعث بن سکتا ہے مجھے یہ ڈر تھا کہیں یہ پولیس وغیرہ یا ہمارے گھر والوں کو اطلاع نہ کر دے ۔ جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔
ثریا اتنی جلدی کیسے کوئی بندو بست ہو سکتا ہے مکان کے علاوہ ہمیں ایک آدھ انسانی سہارے کی بھی ضرورت ہے۔ ہم اس اتنے بڑے شہر میں نا واقف ہیں کاش ہم یہ کچھ نہ کرتے۔ یہ کہتے ہوئے وقار تقریبا رو دیا۔ وقار یہ کیا کہہ رہے ہو؟“ میں چیخ اٹھی۔ تم میرا سہارا بننے حوصلہ دینے کے بجائے مجھے الٹا ڈرا رہے ہو وقار میں نے محض تمہارے پیار میں نہ صرف خود کو بلکہ پورے گھر کو قبرستان میں دھکیل دیا ہے اور تم ابھی سے ہمت چھوڑ بیٹھے ہو۔ تمہیں سہارا دے دوں مجھے کون سہارا دے گا میں بھی تو تم جیسا ہی ہوں میں بھی اتنا ہی مجبور و بے بس ہوں جتنی تم ہو وہ روہانسا ہو گیا۔ بہرحال میں نے وقار کو مزید کچھ کہنا اور تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا اور میں کر بھی کیا سکتی تھی جبکہ میں مکمل طور پر ان دونوں ہی کے قبضے میں تھی۔
ثریا اتنی جلدی کیسے کوئی بندو بست ہو سکتا ہے مکان کے علاوہ ہمیں ایک آدھ انسانی سہارے کی بھی ضرورت ہے۔ ہم اس اتنے بڑے شہر میں نا واقف ہیں کاش ہم یہ کچھ نہ کرتے۔ یہ کہتے ہوئے وقار تقریبا رو دیا۔ وقار یہ کیا کہہ رہے ہو؟“ میں چیخ اٹھی۔ تم میرا سہارا بننے حوصلہ دینے کے بجائے مجھے الٹا ڈرا رہے ہو وقار میں نے محض تمہارے پیار میں نہ صرف خود کو بلکہ پورے گھر کو قبرستان میں دھکیل دیا ہے اور تم ابھی سے ہمت چھوڑ بیٹھے ہو۔ تمہیں سہارا دے دوں مجھے کون سہارا دے گا میں بھی تو تم جیسا ہی ہوں میں بھی اتنا ہی مجبور و بے بس ہوں جتنی تم ہو وہ روہانسا ہو گیا۔ بہرحال میں نے وقار کو مزید کچھ کہنا اور تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا اور میں کر بھی کیا سکتی تھی جبکہ میں مکمل طور پر ان دونوں ہی کے قبضے میں تھی۔
میں نے خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا اور آنے والے وقت اور فیصلوں کے انتظار میں بیٹھ گئی۔ میں نے خاموشی اختیار کر لی اور اندر ہی اندر روتی یہ کتنی بڑی خطا کر بیٹھی ہوں میں جس کا کفارہ مرکر بھی نہیں دے سکتی تھی ایک میری زندگی کا سوال ہوتا تو معمولی بات تھی اور پھر جس کے لیے یہ سب کچھ کیا وہ کیا نکلا وہ کیا تھا وہ تو خود معصوم روتا چیختا بچہ تھا۔ اُسے تو خود دلاسے اور سہارے کی ضرورت تھی میں سمجھ گئی تھی اس نے مجھے برباد کیا اور خود ہوا یہ صرف اس مشتاق کی نوازشیں ہیں وہ اب ہمیں گھر سے نکالنے کی یا گھر میں رہنے کی قیمت وصول کرنا چاہتا تھا اور اس کے نزدیک میں کچھ بھی نہیں تھی۔ سوائے بد کردار اور ایک داشتہ کے میری کوئی حیثیت ہی نہ تھی اس کا خیال تھا میں جس طرح چاہوں گا وہ ہوگا اور وقار کو تو پہلے ہی جانتا تھا اور یہی وجہ تھی وہ وقار کو استعمال کر رہا تھا اور اب اس کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ ایک دن میں کچن میں کھانا تیار کر رہی تھی تین گز کے فاصلے پر کمرے میں وقار لیٹا ہوا تھا کہ مشتاق کچن میں آ گیا وہ کافی حواس باختہ لگ رہا تھا اس کے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی اور میں جانتی تھی ایسا بہت جلد ہونے والا ہے اس لیے میرے لیے کوئی انہونی نہیں تھی اور میں پرسکون تھی اور میرا مجازی خدا میرے سر پر موجود تھا میری عزت کا رکھوالا اور میرا محافظ تین گز کے فاصلے پر تھا۔ بھوک لگی ہے بھیا میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا جبکہ میں اُسے دیکھ چکی تھی اور وہ سمجھ رہا تھا کہ میں نے اُسے دیکھا نہیں ہے ۔ ثریا تمھیں کیا معلوم تھا کہ میں ہوں؟ وہ اکھڑی سانسوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا ۔
مجھے یقین تھا اس لیے کہ وقار کبھی کچن میں نہیں آیا نہ آتا ہے میں جانتی ہوں پھر آپ ہی ہو سکتے ہیں اور کون ہو سکتا تھا اور پھر وقار کو اتنی بھوک نہیں لگتی جتنی آپ کو لگ سکتی ہے ۔ میں نے ایسے ہی بے تکی ہانکی ۔ جب یہ جانتی ہو تو پھر یہ بھی جان لو مجھے روٹی کی نہیں تمہاری بھوک ہے ۔ وہ بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا۔ میں آپ کی بہن ہوں مشتاق بھائی اور پھر آپ کے دوست کی عزت ہوں ۔ میں نے صورت حال مٹانے کی کوشش کی کہ وہ سنبھل جائے جبکہ میں سوچ چکی تھی یہ سب کچھ فضول ہے اور میں ان حالات میں بات کو بڑھانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ کیسی بہن اور کون بھائی نہ تم میری بہن ہو نہ میں تمہارا بھائی ہوں چھوڑو ان فضولیات کو اور وقت ضائع نہ کرو آجاؤ میری بانہوں میں یہ مدتوں سے تم جیسی دوشیزہ کے لیے ترس گئی ہیں ۔ اس کی کمینگی پورے عروج پر تھی۔ یہ پھر بات کریں گے ابھی وقار سامنے ہے دیکھ لے گا۔ میں نے پینترا بدل کر وقت ٹالنا چاہا۔ كون وقار کیسا وقار وہ تو تمہیں لایا ہی میرے لیے ہے اب تم میری ہو وقار کو بھول جاؤ۔ کہتے ہوئے وہ میرے قریب آ گیا اور زبردستی مجھے آغوش میں لے لیا میں نے چیخنا اور چلانا شروع کر دیا میں جو پہلے ہی پریشان تھی حواس کھو بیٹھی میرا خیال تھا آواز سن کر وقار دوڑتا آئے گا لیکن یہ میرا محض خیال تھا یہ تو سب ایک منصوبے کے تحت ہو رہا تھا۔
👇👇