آج میں جس عورت کی زندگی سے پردہ اٹھا رہی ہوں، وہ ان بدنصیب عورتوں میں سے ہے جو سب کچھ لٹانے کے باوجود تہی دست و تہی داماں رہتی ہیں۔ اس عورت کا نام مریم ہے۔ یوں تو مریم کا تعلق ایک محنت کش گھرانے سے تھا، مگر اس کے والد اپنے کاروبار کی وجہ سے بیٹی کو زیادہ وقت اور محبت نہ دے سکے۔ اس محرومی کا خمیازہ انہوں نے بڑھاپے میں یوں بھگتا کہ بیٹی کے دکھ میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔مریم کا شوہر خوشحال آدمی تھا، مگر وہ اپنی والدہ اور بہنوں کی ہر بات کو مقدم جانتا تھا، جو مریم کو پسند نہیں کرتی تھیں اور اسے طلاق دلوانا چاہتی تھیں۔
ان کی سازشوں کا شکار ہونے کی وجہ سے مریم سخت ذہنی اذیت میں زندگی گزار رہی تھی۔ وہ دو بچوں کی ماں تھی، ورنہ اس کا شوہر کب کا اسے گھر سے نکال چکا ہوتا۔نعیم کو بیوی سے محبت تو تھی، لیکن وہ اپنی ماں اور بہنوں کے بھڑکانے کی وجہ سے اکثر غلط فہمی کا شکار ہو جاتا اور بیوی کو تنگ کر دیتا تھا۔ تاہم، وہ اپنی بیٹی طاہرہ سے بےحد محبت کرتا تھا اور یہی محبت دونوں کے درمیان مقدس بندھن کی زنجیر بنی ہوئی تھی، جس نے انہیں جوڑے رکھا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ جب طاہرہ بڑی ہوئی تو اسے ماں کی مظلومیت اور بے بسی کا احساس ہوا۔ اس نے اپنے والد کو سمجھانا شروع کیا اور ان تمام مظالم سے آگاہ کیا جو اس کی دادی اور پھوپھیاں اس کی ماں پر ڈھاتی تھیں۔ اولاد سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی۔ نعیم بھی سمجھ گیا اور بیوی بچوں کو لے کر الگ ہو گیا۔ اس کے بعد ان کے گھر میں سکون آ گیا۔ اس نے والدہ کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان کا خرچہ علیحدہ مقرر کر دیا تھا۔نعیم ایک کاروباری آدمی تھا۔ سارا دن کام میں مصروف رہتا تھا۔ طاہرہ سادہ لوح اور فطرتاً کم گو لڑکی تھی، لہٰذا مریم نے زمانے کے حالات سے ڈر کر میٹرک کے بعد بیٹی کو گھر بٹھا لیا۔ اب اسے طاہرہ کے رشتے کی فکر لاحق تھی۔ وہ جلد از جلد اپنی بیٹی کو اس کے گھر کا کر دینا چاہتی تھی۔ جب بھی نعیم اچھے موڈ میں ہوتا، مریم کہتی کہ کچھ بیٹی کی فکر کرو، اس کی شادی کرنی ہے۔ کسی سے رشتے کے لیے بات کرو۔
نعیم جواب دیتا کہ میرے پاس بیٹی کو جہیز میں دینے کے لیے سب کچھ ہے، پھر فکر کس بات کی۔فکر اس بات کی ہے کہ تم نے خود کو برادری سے الگ کر رکھا ہے، اس لیے ہماری بیٹی کے رشتے میں نہ تو لوگ سنجیدہ ہیں اور نہ ہی ہمارے خیر خواہ۔ تمہاری والدہ اور بہنیں بھی ہر وقت تمہارے بارے میں الٹے سیدھے کلمات کہتی رہتی ہیں۔ ایسے میں بھلا ہماری بیٹی کے لیے اچھا رشتہ کہاں سے آئے گا۔ مریم نے کہا۔اس کی فکر مت کرو، میں اپنے دوستوں سے ذکر کروں گا۔ وہ سب مجھے جانتے ہیں، کوئی نہ کوئی وسیلہ بن جائے گا۔ ہماری طاہرہ ایک اچھی اور نیک لڑکی ہے، وہ لاکھوں میں ایک ہے۔ بھلا ایسی لڑکی کو رشتے کی کیا کمی ہو سکتی ہے۔یہ باپ کی خوش فہمی تھی، کیونکہ اچھے رشتوں میں مقدر کا بھی دخل ہوتا ہے۔ بے شک طاہرہ ایک اچھی اور نیک بچی تھی، لاکھوں میں ایک تھی، اکلوتی اور لاڈلی بھی تھی، مگر نعیم کا بیٹا بھی اکلوتا تھا، اور وہ لاکھوں میں ایک نہیں تھا۔ بلکہ دولت اور لاڈ پیار کی وجہ سے بالکل نکما، کام چور، لالچی اور گیا گزرا ہو چکا تھا۔
ماں باپ نے بہت چاہا کہ وہ کچھ پڑھ لکھ جائے، مگر پڑھائی کی بجائے وہ بے فکرے دوستوں کے ساتھ غلط مشاغل میں پڑ گیا۔ نہ وہ تعلیم میں آگے بڑھا، نہ ہی اپنے والد کے کاروبار میں دلچسپی لی۔ اس کے والد نے بڑی محنت و مشقت سے عزت اور دولت کمائی تھی، مگر یہ سب کچھ برباد ہونے کے دہانے پر تھا۔نعیم کا ایک دوست کینیڈا میں مقیم تھا، جس کے ساتھ اس کے کاروباری تعلقات بھی تھے۔ وہ کئی بار شہاب سے ملنے کینیڈا جا چکا تھا۔ ایک دن نعیم نے اس سے طاہرہ کے رشتے کا ذکر کیا۔ شہاب نے کہا کہ دوست، طاہرہ جیسے تمہاری بیٹی ہے، ویسے میری بھی بیٹی ہے۔ اگر تم برا نہ مانو، تو میرے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا لو اور اس کی شادی اپنی بیٹی سے کر دو۔ بے شک وہ تھوڑا سا لنگڑا کر چلتا ہے، مگر ایک اچھا اور نیک لڑکا ہے۔ اس سے زیادہ اپنی اولاد کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔
دوست کی باتوں نے نعیم کو اتنا متاثر کیا کہ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ نصرت معذور ہے اور اس کی بیٹی خوبصورت اور لاکھوں میں ایک ہے۔ بس اس نے بغیر سوچے سمجھے ہاں کر دی اور بیوی سے مشورہ تک نہیں کیا، حالانکہ اکلوتی بیٹی کو سات سمندر پار بیاہنے پر وہ ہرگز راضی نہ تھی۔ایک دن کینیڈا سے شہاب کا فون آیا۔ وہ بیٹے کے لیے شادی کی تاریخ مانگ رہا تھا۔ اب تو بیوی کو بتانا ہی تھا۔ جب مریم نے یہ سنا تو اس کا دل دہل گیا۔ اس نے کہا کہ ایک بار لڑکے کو بلا کر ہم سے ملواؤ، پھر شادی کی تاریخ طے کرنا۔مگر نعیم نے ایک نہ سنی۔ اس نے کہا کہ تم عورتیں عقل کی اندھی ہوتی ہو۔ میں اپنے دوست پر اعتبار کرتا ہوں۔ وہ میرا بچپن کا دوست ہے، مجھے کبھی دھوکا نہیں دے گا۔ اور تم لڑکے سے مل کر کیا کرو گی۔ میں نے مل لیا، بس یہی کافی ہے۔
لڑکا کوئی چور اچکا یا بدکردار تو نہیں ہے۔خیر، مقررہ تاریخ پر بارات آ گئی، مگر خوشی کے بجائے غم لے کر، کیونکہ دولہا لنگڑا تھا۔ یہ دیکھ کر سب کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔ مریم نے تو اسے نوشتۂ تقدیر سمجھ کر قبول کر لیا، مگر لڑکی نوخیز عمر میں تھی، روتے روتے ہلکان ہوئی جا رہی تھی کیونکہ اسے سات سمندر پار پردیس اور لنگڑا دولہا قبول نہیں تھا۔ نعیم نے بیٹی کو بھاری جہیز دیا تھا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ لڑکیاں زیورات اور قیمتی ملبوسات سے خوش ہو جاتی ہیں۔ یہی نہیں، وہ خود بارات کے ساتھ کینیڈا گیا اور طاہرہ کو وہاں ایک مکان خرید کر دے آیا تاکہ اس کی بیٹی کسی کی مرہون منت نہ ہو اور وہاں بھی راج کرے۔ اس نے ایک کثیر رقم بھی بیٹی کے نام بینک میں جمع کرا دی۔طاہرہ کا شوہر بیوی کو کینیڈا ساتھ لے گیا، مگر اس کے ساتھ بھی وہی تاریخ دہرائی گئی جو اس کی ماں کے مقدر کا حصہ بنی تھی۔ اتنا بھاری جہیز بھی اس کے سکھ کا ضامن نہ بن سکا اور اس کی ذات ساس نندوں کے زیرِ عتاب آ گئی۔ عورت، جو کائنات کا حسن کہلاتی ہے، نجانے کیوں کبھی کبھار ساس اور نند کے روپ میں کائنات کی بدصورتی کا باعث بن جاتی ہے۔
فطرتاً طاہرہ صابر لڑکی تھی۔ وہ زمانے کے ہر وار کو ہنس کر سہہ گئی، کیونکہ شادی کے بعد ہر سال ایک بچے کی ماں بن جاتی تھی۔ یوں بیاہ کے چوتھے سال وہ تین ننھے منے بچوں کی ماں بن چکی تھی۔ ممتا سے مجبور ہو کر، اپنے بچوں کی خاطر، وہ بیچاری ضبط و تحمل کے ساتھ حالات کے وار سہتی رہی۔ادھر باپ کی بے اندازہ دولت کی وجہ سے اس کے بھائی نصرت میں رعونت اور تکبر حد سے بڑھ گیا۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس نے اپنے باپ سے کینیڈا جا کر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی، جسے نعیم نے معمولی پس و پیش کے بعد قبول کر لیا۔ بہن نے بھی بھائی کی خواہش کا احترام کیا، مگر نصرت نے کینیڈا جا کر بہن کی زندگی میں انگارے بھرنے شروع کر دیے اور بہنوئی سے لڑنا جھگڑنا اس کا معمول بن گیا۔نصرت کو معلوم تھا کہ یہ گھر جس میں اس کا بہنوئی رہتا ہے، اس کے باپ نے خرید کر دیا ہے۔
بس وہ اس عمارت کو اپنا کہنے لگا اور بہنوئی کے ساتھ حقارت سے پیش آنے لگا۔ اس کا خیال تھا کہ اس گھر پر اس کا بھی حق ہے۔ وہ ہر وقت بہن کے شوہر کو طعنے دیتا اور کہتا کہ یہ میرے باپ کی عطا کردہ جگہ ہے۔دن رات کی چیخ و پکار سے تنگ آ کر طاہرہ کے سسرال والوں نے گھر بیچ دیا اور اس رقم سے نیا گھر اپنے نام سے خرید لیا۔ گھر بیچتے وقت انہوں نے طاہرہ کو یقین دلایا تھا کہ نیا مکان بھی تمہارے نام سے خریدیں گے، اسی لیے اس نے دستخط کر دیے، مگر جب نیا مکان خریدنے کا وقت آیا تو طاہرہ کے شوہر نے اسے اپنے نام سے خرید لیا۔یہ مکان طاہرہ کے لیے مزید دکھوں کا پیغام لے کر آیا۔ بات بات پر زبانی لڑائی، جو بڑھ کر مار پیٹ تک جا پہنچی۔ اُدھر بھائی بہن کو تنگ کرتا کہ جو مکان بیچا ہے اس میں سے مجھے بھی حصہ دو، ادھر شوہر اور سسرال والے کہتے کہ پاکستان جا کر اپنے حصے کی جائیداد میں سے ہمارا تمام حصہ لے آؤ، ورنہ واپس مت آنا۔پردیس میں طاہرہ کا سننے والا کوئی نہ تھا۔ تنگ آ کر اس نے تمام حالات اپنے باپ کو لکھ بھیجے۔ وہ خط پڑھ کر تڑپ اٹھا۔ اب اسے پتہ چلا کہ دور پردیس میں بیٹی کو بیاہنے کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔
ابھی وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ کیا کرنا چاہیے؟ اتنے میں طاہرہ پاکستان پہنچ گئی۔ ان لوگوں نے نصرت کے مطالبات سے تنگ آ کر اسے پاکستان بھیج دیا تھا کہ جا کر باپ سے کل جائیداد کا باقی حصہ بھی لے آؤ تاکہ ہم یہاں تمہارے بھائی کو بھی کچھ دے کر اس سے جان چھڑا سکیں، جو ہمارے گھر میں رہتا ہے اور جانے کا نام نہیں لیتا۔بچے شوہر کے پاس تھے، طاہرہ پاکستان اکیلی آئی تھی۔ نعیم نے چند دن غور کیا، پھر یہ سوچ کر جائیداد تقسیم کر دی کہ شاید اس سے بیٹی کے دکھوں کا ازالہ ہو سکے۔
جائیداد آدھی آدھی تقسیم ہونے کے بعد پندرہ دکانیں اور دو کوٹھیاں طاہرہ کے حصے میں آئیں، لیکن باپ نے باقی جائیداد اپنے ہی نام رہنے دی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ نصرت عیاش اور بے وقوف ہے، ابھی اس قابل نہیں کہ اپنے حصے کی جائیداد سنبھال سکے۔اب وہ پچھتا رہا تھا کہ ناحق بیٹے کو کینیڈا بھیجا، اس نے جا کر بہن کی اچھی بھلی زندگی اجیرن کر ڈالی۔ طاہرہ جائیداد کا بٹوارہ نہیں چاہتی تھی، مگر بچوں کی خاطر اس نے اپنا حصہ لے لیا تاکہ سسرال والے اسے سکون سے بچوں کے ساتھ رہنے دیں۔ وہ تمام کاغذات لے کر سسرال جانے کے لیے کینیڈا چلی آئی، لیکن اس کے جانے کے فوراً بعد باپ اس کے دکھ کا بوجھ سہہ نہ سکا اور اس کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔
باپ کی موت سے بے حال طاہرہ کو فوراً واپس آنا پڑا، مگر اس نازک وقت میں نہ تو شوہر آیا اور نہ سسرال والے، البتہ نالائق بھائی ساتھ آ گیا۔ اب وہی باپ کے تمام کاروبار کا مالک تھا۔اس سانحے کے تین ماہ بعد اس نے اپنی پسند کی لڑکی شازیہ سے کورٹ میرج کر لی۔ ماں کو بھی نہ بتایا اور چپکے سے اس لڑکی کو گھر لے آیا۔ شازیہ اچھے خاندان کی نہ تھی، اس کے ماں باپ بہت لالچی تھے۔ جب انہیں علم ہوا کہ نصرت کی بہن کے نام آدھی جائیداد ہے، جس میں سے اس کا بھائی مالک بن سکتا ہے، تو انہوں نے شازیہ کو سکھایا کہ تم نصرت سے کہو کہ وہ بہن کو قانونی دستاویزات منگوا کر ساری جائیداد اپنے قبضے میں لے لے، ورنہ تم اس سے طلاق کا مطالبہ کر دو۔بھائی نے بہن کو بیوی کے مطالبے سے آگاہ کیا اور مشکل بتائی۔ بہن آخر بہن ہوتی ہے، وہ بھائی کو افسردہ و مجبور نہ دیکھ سکی اور اس نے نصرت کے مطالبے پر جائیداد کے زیادہ حصے پر دستخط کر دیے۔نصرت اور اس کی بیوی تو خوش ہو گئے، مگر طاہرہ پر سسرال کی طرف سے قیامت ٹوٹ پڑی اور شوہر نے طیش میں آ کر اسے طلاق دے دی کہ ہم تمہیں صرف جائیداد کے لیے برداشت کر رہے تھے، ورنہ تم جیسی معمولی تعلیم یافتہ لڑکی، جو کینیڈا آ کر ملازمت بھی نہیں کر سکتی، کون برداشت کر سکتا ہے۔
اس دکھ نے اسے نیا حوصلہ بخشا اور وہ پاکستان جانے کے بجائے، سیدھی پولیس اسٹیشن پہنچ گئی۔ اس نے پولیس کو اپنی ساری بپتا کہہ سنائی۔ وہ پاکستان لوٹنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ وہاں اس کا شفیق باپ موجود نہ تھا، بلکہ بے رحم بھائی تھا، جو اس کی خوشیوں کا قاتل اور اس کے اجڑنے کا سبب بنا تھا۔ہم پاکستان میں عورت کو وہ حقوق دینے سے کتراتے ہیں جو دینِ اسلام نے اسے دیے ہیں، مگر غیر مسلم پھر بھی قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔انہوں نے ایک بے سہارا عورت کو مایوس نہیں کیا، جو ان سے انصاف کی طالب ہوئی تھی۔ حکومتِ کینیڈا نے اسے تحفظ فراہم کرتے ہوئے گھر دیا اور بچے اس کی سرپرستی میں دے دیے۔ بچوں کے تمام اخراجات حکومت نے برداشت کیے۔طاہرہ نے حالات کی نزاکت کے تحت جو فیصلہ کیا، وہ اس کے بچوں کے مستقبل کے لیے مینارۂ نور ثابت ہوا۔ وہ وہاں حالات کا مقابلہ کر رہی تھی، مگر مریم یہاں بے بس و مجبور تھی۔صبر کا صلہ ضرور ملتا ہے، کیونکہ مایوسی کفر ہے۔
(ختم شد)