درزی کی بیٹی

Sublimegate Urdu Stories

 فرید بازار سے سودا سلف لانے جا رہا تھا کہ اچانک اس نے دیکھا ایک ٹرک سامنے سے آرہا ہے اور ایک بچہ سڑک پار کرنے کے لیے دوڑ رہا ہے۔ فرید فوراً بچے کی جان بچانے کے لیے اس کے پیچھے دوڑا۔ بدقسمتی سے ٹرک ڈرائیور رفتار قابو میں نہ رکھ سکا اور جیسے ہی فرید بچے تک پہنچا، ٹرک اس کے بالکل قریب آ چکا تھا۔ فرید کے پاس بچے کو بچانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، اس نے چھلانگ مار کر بچے کو ایک طرف دھکیل دیا مگر خود کو نہ بچا سکا اور ٹرک کے نیچے آ گیا۔ 
👇sublimegate👇
لوگ فوراً اسے اسپتال لے گئے جبکہ ٹرک والا موقع سے فرار ہو گیا۔ جب فرید کے گھر والوں کو اطلاع ملی تو اس کی چاروں بیٹیاں رونے لگیں، دو تو صدمے سے بے ہوش ہو گئیں۔ ان بچیوں کی ماں پانچویں بچی کو جنم دیتے ہی دنیا سے رخصت ہو چکی تھی اور فرید ہی ان کا واحد سہارا تھا۔ سب سے بڑی بیٹی زاہدہ اُس وقت صرف بارہ برس کی تھی۔ ماں کے انتقال کے بعد تعلیم کا خواب چکنا چور ہو گیا اور ان کی زندگی باپ کے سہارے گزرتی رہی۔ آج باپ کے ساتھ پیش آنے والے حادثے نے ان کا آخری سہارا بھی چھین لیا۔ زاہدہ نے خود کو سنبھالا اور اسپتال پہنچی، جہاں اس نے باپ کو دیکھا جو زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ فرید نے بیٹی کا ہاتھ تھاما اور سرہانے کھڑے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا، پھر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

 وہ شخص غالباً فرید کا دوست تھا جو اطلاع ملنے پر اسپتال پہنچا تھا۔ زاہدہ باپ کے اشارے کا مطلب نہ سمجھ سکی اور وہیں بیٹھ کر روتی رہی۔ اس شخص، جس کا نام عاقب خان تھا، نے زاہدہ کو تسلی دی اور کہا کہ وہ ضروری کارروائی کے بعد فرید کی میت گھر لے آئے گا۔ عاقب خان کا ڈرائیور زاہدہ کو اس کے گھر چھوڑ کر واپس اسپتال چلا گیا۔ زاہدہ نے گھر پہنچتے ہی اپنی چھوٹی بہنوں کو گلے لگایا اور انھیں بتایا کہ ان کے ابو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ یہ سن کر بچیوں کا رونا مزید تیز ہو گیا کیونکہ ان کے باپ کی میت تھوڑی ہی دیر بعد گھر لائی جانے والی تھی۔

جن کا کوئی بھائی نہ ہو، ماں باپ نہ ہوں، اس معاشرے میں ان لڑکیوں کا اکیلے رہنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ چار کم عمر لڑکیاں بغیر والدین کے رہتی ہیں۔ معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں؛ کچھ نیک نیت، کچھ برے خیال کے حامل، اور کچھ ایسے بد نظر کہ ان کی نگاہوں میں ہمیشہ خباثت جھلکتی ہے۔ جب بھی یہ لڑکیاں مجبوری کے تحت گھر سے باہر نکلتیں، آوارہ لڑکے ان کے پیچھے لگ جاتے۔ زاہدہ کو اس بات کا شدت سے احساس تھا، اسی لیے جب اس کے ماموں ملنے آئے تو اس نے روتے ہوئے ان سے التجا کی کہ یا تو وہ ان کے گھر آ کر ساتھ رہیں یا ان لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جائیں، کیونکہ بغیر مرد کے ان کا اکیلے گھر میں رہنا مناسب نہیں۔ ماموں نے جب لڑکیوں کو اس قدر پریشان اور بے بسی کی حالت میں دیکھا، تو ان کا دل بھر آیا۔ کہنے لگے، بیٹی! ہم تو اپنا گھر چھوڑ کر نہیں آ سکتے، تم ہی تیاری کرو، ہم تمہیں اپنے گھر لے جاتے ہیں۔ یوں زاہدہ اور اس کی بہنیں ماموں کے ساتھ ان کے گھر چلی گئیں۔

ایک دن وہاں کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔ ماموں نے سب کو بیٹھک میں بٹھایا اور زاہدہ سے چائے لانے کو کہا۔ جب زاہدہ چائے بنا کر لے کر آئی تو دیکھا کہ وہاں ایک بڑی عمر کی عورت اور مرد بیٹھے ہیں۔ عورت کا رویہ قدرے سرد مہر تھا، مگر مرد خوش دکھائی دے رہا تھا۔ زاہدہ نے غور سے دیکھا تو پہچان گئی کہ یہ وہی شخص ہے جو اس کے والد کے آخری وقت میں ان کے پاس موجود تھا۔ وہ سلام کر کے بیٹھ گئی اور چائے پیالیوں میں ڈالنے لگی۔ تب اس شخص نے زاہدہ سے مخاطب ہو کر کہا، بیٹی، میں تمہارے والد کا پرانا دوست ہوں۔ ہم دونوں ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے اور گاؤں کے اسکول میں اکٹھے پڑھتے تھے۔ ایک بار میں اپنے بیٹے نوید کے ساتھ دریا پر گیا۔ تمہارے والد فرید بھی وہاں سیر کے لیے آیا ہوا تھا۔ میں کنارے پر ایک پتھر پر کھڑا اپنے بیٹے کے ساتھ دریا کا نظارہ کر رہا تھا کہ اچانک نوید کا پاؤں پھسل گیا۔ تمہارا والد کچھ دور کھڑا تھا، مگر جیسے ہی اس نے نوید کو دریا میں گرتے دیکھا، فوراً چھلانگ لگا دی۔ 

وہ ایک ماہر تیراک تھا، اس نے میرے بیٹے کی جان بچائی۔ میں نے فرید کو گلے لگا لیا اور یوں بچپن کی دوستی پھر سے تازہ ہو گئی۔ مڈل کے بعد میں شہر تعلیم کے لیے چلا گیا اور فرید کو اس کے والد نے ایک ٹیلر ماسٹر کی دکان پر بٹھا دیا تاکہ وہ کوئی ہنر سیکھ لے۔ بعد ازاں میری اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن روانگی ہوئی، وہاں تعلیم مکمل ہوتے ہی میری شادی ہو گئی اور میں مستقل وہیں مقیم ہو گیا۔ پچیس برس بعد جب وطن واپس آیا، تو یہ سوچا بھی نہ تھا کہ دوست سے یوں ملاقات ہو گی۔ تمہارے والد نے اپنے آخری لمحے میں تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں دینے کا اشارہ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ میں تم لوگوں کی خبرگیری کروں۔ یہ ان کا مجھ پر آخری اعتماد تھا۔ اب میں تم سب کا خیال رکھوں گا۔

زاہدہ باپ کو یاد کر کے رونے لگی۔ عاقب خان اسے یہ سب کہانی سنا رہے تھے اور ساتھ یہ بھی بتا رہے تھے کہ وہ لندن سے اس کے والد کو باقاعدگی سے خط لکھتے تھے۔ فرید کبھی جواب دیتے اور کبھی نہیں، مگر انہوں نے خط لکھنے کا سلسلہ بند نہ کیا۔ اب زاہدہ کو یاد آیا کہ اس کے والد اپنے ایک خاص دوست کا ذکر اکثر کرتے تھے، اور انہی کے خطوط سے الماری بھری ہوئی تھی۔ زاہدہ اپنے والد سے کہتی، ابا ، آپ اپنے دوست کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ تو وہ کہتے، بیٹی، خط بھیجنے میں پیسے بہت لگتے ہیں۔ شاید وہ اپنی غربت کے حالات اپنے امیر دوست کو بتانا نہیں چاہتے تھے۔ جب عاقب خان وطن واپس آئے اور دریا کے کنارے دونوں دوست اچانک آمنے سامنے آ گئے، تو فرید کے دل میں بھی بچپن کی دوستی کا وہ پاکیزہ احساس جاگ اٹھا، جب وہ دونوں بستہ گلے میں ڈالے اسکول ساتھ جاتے تھے۔ حالانکہ عاقب ایک زمیندار کا بیٹا تھا اور فرید ایک غریب کسان کا، مگر ان دنوں گاؤں میں امیری غریبی کا فرق کچھ خاص نہیں تھا۔

آج عاقب زاہدہ کا رشتہ لے کر آئے تھے۔ ماموں نے فوراً ہاں کر دی۔ سب لوگ حیران تھے کہ ایک درزی کی بیٹی کی شادی اتنے امیر گھرانے میں کیسے ہو گئی۔ کوئی رشک کر رہا تھا، تو کوئی حیرت کا اظہار کر رہا تھا، مگر مقدر میں کیا لکھا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ زاہدہ اگرچہ ایک بڑے گھر کی بہو بن کر آئی، لیکن اس کے ساتھ اس کی عزتِ نفس کی پامالی کا سامان بھی آ گیا۔ اس کی ساس نے پہلے دن سے ہی اسے قبول نہ کیا۔ وہ اپنے بیٹے سے بار بار یہی کہتی کہ آخر تم ایک درزی کی بیٹی کو بہو کیوں بنا کر لائے ہو؟ وہ زاہدہ کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتی اور اس کی تینوں نندیں ہر وقت اسے احساس دلاتیں کہ وہ ان کی برابری کے لائق نہیں، وہ صرف اس لیے آئی ہے کہ ان کی خدمت کرے۔ اگر دب کر رہے گی تو عافیت میں رہے گی، ورنہ اس گھر میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔

زاہدہ کا شوہر ایک سیدھا سادہ انسان تھا، مگر کبھی کبھار اپنی ماں اور بہنوں کی باتوں میں آ جاتا۔ عاقب صاحب کے گھر والے دل سے زاہدہ کو قبول نہیں کر پائے تھے۔ نندیں نہیں چاہتی تھیں کہ زاہدہ کی بہنیں اس سے ملنے آئیں، مگر بہنیں تو بہنیں ہوتی ہیں۔ وہ جب اداس ہوتیں، تو اپنی بڑی بہن سے ملنے چلی آتیں۔ یہ بات زاہدہ کی ساس کو بہت ناگوار گزرتی تھی۔ چنانچہ اس نے ایک سازش رچی۔ ایک دن جب زاہدہ کی بہنیں ملنے آئیں، تو نندوں نے گھر کا ایک قیمتی ہیرے کا ہار کہیں چھپا دیا اور شور مچا دیا کہ بھابھی کی بہنیں ہار لے گئی ہیں۔ اس الزام پر زاہدہ کے شوہر نے شدید غصے میں آ کر اسے مارا اور کہا کہ اپنی بہنوں سے کہو ہار واپس کریں۔ جب زاہدہ نے انکار کیا اور کہا کہ اس کی بہنیں چور نہیں ہو سکتیں، تو شوہر نے الزام اس پر ہی ڈال دیا کہ اگر بہنیں نہیں لے گئیں تو تم نے ہی ہار چھپایا ہے۔ یا تو ہار واپس کرو یا پھر اپنے ماموں کے گھر چلی جاؤ اور واپس مت آنا۔

اسی دوران عاقب صاحب نے یہ سارا جھگڑا سن لیا۔ وہ بولے، شور مچانا بند کرو، وہ ہار میں نے اپنی بیٹی کو سالگرہ پر تحفے میں دیا تھا، اور میں ہی اسے واپس لے آؤں گا۔ وہ فوراً سنار کے پاس گئے اور ویسا ہی دوسرا ہار خرید لائے۔ پھر اپنی بیٹی سے کہا، یہ لو تمہارا ہار اور آئندہ ایسی چیزیں سنبھال کر رکھا کرو، یہ کوئی معمولی چیزیں نہیں ہوتیں۔ خبر دار، دوبارہ ایسی بات نہ سنوں کہ کہیں رکھ دیا، یا کھو گیا۔ ہار واپس آ گیا، مگر جو زخم زاہدہ کے دل پر لگ چکے تھے، ان کا مرہم کوئی نہ تھا۔در اصل عاقب صاحب کو کامل یقین تھا کہ ہار زاہدہ نے یا اس کی بہنوں نے نہیں چرایا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بنا کچھ کہے دوبارہ ویسا ہی ہار خرید لائے، کیونکہ ان کے دل میں یہ احساس تھا کہ ہار اگر ہے بھی تو گھر میں ہی کہیں ہوگا، مگر جھگڑا ختم ہو جانا چاہیے۔ وہ گھر کے ماحول میں ساس بہو یا نند بھاوج کی سیاست کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ ان کا مزاج صاف، نیت خالص اور سوچ بلند تھی۔ 

اس کے علاوہ ان کے دل میں فرید کے لیے بے حد احترام تھا، جو ان کا بچپن کا ساتھی اور محسن تھا۔ وہ اس کربناک گھڑی کو کیسے بھول سکتے تھے جب فرید دمِ آخر بے بسی سے ملتجی نگاہوں کے ساتھ انہیں دیکھ رہا تھا، جیسے وہ اپنی بیٹی کے مستقبل کی ضمانت مانگ رہا ہو۔یہ وہی شخص تھا جس نے ساری زندگی غربت جھیلی، مگر کبھی اپنی کسی ضرورت کا ذکر اپنے دوست سے نہ کیا، نہ کچھ مانگا۔ لیکن موت کے قریب، صرف اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے اپنی آنکھوں کے اشارے سے اس اعتماد کو عاقب کے سپرد کر گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے عاقب کے دل پر گہرا نقش چھوڑ دیا۔ انہوں نے دل میں عہد کر لیا کہ وہ اپنے باوقار، خود دار دوست کی دوستی کا حق ادا کریں گے۔ چاہے وہ دنیا سے جا چکا ہو۔ یہی سوچ ان کے فیصلے کی بنیاد بنی کہ وہ فرید کی نیک سیرت، باعزت بیٹی زاہدہ کو اپنی بہو بنائیں گے، تاکہ صرف اس کا نہیں، بلکہ اس کی باقی یتیم بہنوں کا بھی سہارا بن سکیں۔

پرانے وقتوں کے لوگوں کی اپنی سوچیں ہوا کرتی تھیں۔ جو لوگ واقعی خاندانی اور شریف ہوتے تھے، وہ اپنی شرافت کی اسی طرح پاسداری کرتے تھے۔ عاقب صاحب بھی انہی شرفاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے نزدیک دولت کی اونچ نیچ سے زیادہ دوستی اور اخلاقی اقدار اہم تھیں، مگر افسوس کہ یہی بات ان کی بیگم میں نہ تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا کسی امیر گھرانے کی لڑکی سے شادی کرے۔ شوہر کی ضد کے آگے ان کا بس نہ چلا، تو مجبوری میں ہتھیار ڈال دیے، مگر ایک درزی کی بیٹی کو بہو بنا کر لانے کا ملال ان کے دل سے کبھی نہیں گیا۔ یہی احساس ان کی بیٹیوں، یعنی زاہدہ کی نندوں میں بھی موجود تھا۔ ان سب نے زاہدہ کو دل سے کبھی قبول نہ کیا، کیونکہ اگر قبول کر لیتیں تو برابری کا درجہ دینا پڑتا۔ یوں زاہدہ کی زندگی کے دکھ بھرے دن شروع ہو چکے تھے۔

زاہدہ نے سب کچھ اس لیے برداشت کیا کہ اگر وہ یہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تو اس کی اور اس کی چھوٹی بہنوں کا کیا بنے گا؟ ماموں خود ایک سفید پوش انسان تھے، بڑی مشکل سے ان کی تینوں بہنوں کو اپنے گھر میں رکھا ہوا تھا۔ ممانی ہر روز کسی نہ کسی بہانے شوہر سے جھگڑتی تھیں، حالانکہ وہ یتیم بچیاں پورا گھر سنبھالتی تھیں۔ مگر مستقبل میں ان کی شادیاں بھی کرنی تھیں اور یہ تمام اخراجات ماموں کے بس کی بات نہ تھی۔ عاقب صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ زاہدہ کی بہنوں کے لیے اچھے رشتے دیکھیں گے، اور وہ اس پر عملی کوشش بھی کر رہے تھے۔ انہوں نے زاہدہ کے ماموں سے اچھے تعلقات قائم رکھے ہوئے تھے، مگر ان کے گھر کی عورتوں کو اس بات کا علم نہ تھا۔ 

وہ تو بس کسی نہ کسی بہانے سے درزی کی بیٹی کو اس گھر سے نکالنے کے لیے موقع کی تلاش میں تھیں۔ لیکن زاہدہ سمجھدار تھی، ان کی بار بار کی کوششوں کے باوجود وہ میکے جانے پر آمادہ نہ ہوئی، کیونکہ جانتی تھی کہ اگر وہ بھی ماموں کے گھر چلی جائے تو ممانی باقی تینوں بہنوں کو بھی نکال باہر کریں گی۔ یہ ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ تھا جسے کوئی اور نہ سمجھ سکتا تھا، سوائے زاہدہ کے۔ وہ صرف عاقب صاحب کی وجہ سے اس گھر میں قدم جمائے ہوئے تھی۔ایک دن وہ اپنی بہن کے ساتھ لیڈی ڈاکٹر کے پاس گئی، کیونکہ اس کی طبیعت مسلسل خراب رہنے لگی تھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی۔ سارا دن نوید کا انتظار کرتی رہی تاکہ وہ آئے تو اسے خوش خبری دے۔ وہ سوچتی رہی کہ شاید اس خبر سے نوید کا رویہ بدل جائے اور وہ محبت سے پیش آئے۔ مگر نوید رات بارہ بجے تک گھر نہیں آیا۔ زاہدہ پریشان ہو کر اپنے کمرے سے نکلی اور راہداری میں لگی کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی تاکہ جیسے ہی شوہر آئے، وہ فوراً گیٹ کھول دے۔ تبھی اس نے دیکھا کہ اس کی نند راشدہ گلی میں ایک لڑکے سے باتیں کر رہی ہے۔ وہ فوراً نیچے آئی اور غصے سے پوچھا کہ تم گلی میں لڑکے سے کیوں بات کر رہی تھیں؟ اگر تمہارا بھائی ابھی آ جاتا تو؟ مجھے بتاؤ وہ کون تھا، ورنہ میں تمہاری ماں اور بھائی کو بتا دوں گی۔

راشدہ نے کچھ نہیں بتایا، مگر جب زاہدہ اوپر چلی گئی تو راشدہ نے خود اپنی ماں کو سب کچھ بتا دیا۔ ماں نے گھبرا کر کہا، ارے لڑکی، یہ کیا غضب ہو گیا! اس نے اپنی آنکھوں سے تمہیں لڑکے سے باتیں کرتے دیکھ لیا ہے، اور تمہیں جتا بھی دیا ہے۔ اب اگر یہ نوید اور تمہارے والد کو بتا دے، تو ہمیں ذلت اٹھانی پڑے گی۔ بہتر ہے تم فوراً یہ معاملہ سنبھالو اور اس کے کھلنے سے پہلے کوئی تدبیر نکالو۔دوسرے دن آدھی رات کو نوید جب گھر پہنچا تو اس نے ایک لڑکے کو گیٹ سے نکلتے اور گلی میں بھاگتے دیکھا۔ اس نے فوراً گاڑی دوڑائی اور لڑکے کو ٹکر مار کر گرا دیا، پھر باہر نکل کر پوچھا، تم کون ہو؟ اور ہمارے گھر کیا کرنے آئے تھے؟ لڑکے کو راشدہ نے پہلے ہی تیار کر دیا تھا۔ وہ بولا، میں چور نہیں ہوں، آپ کی بیوی نے بلایا تھا، وہ گیٹ پر کھڑی مجھ سے باتیں کر رہی تھی۔ 

کار کی آواز سن کر اوپر بھاگ گئی اور مجھے بھی کہا کہ جلدی بھاگ جاؤ، کہیں تم نہ دیکھ لو۔یہ سن کر نوید کو شدید دھچکا لگا۔ اس نے لڑکے کو پکڑ کر کہا، میرے ساتھ گھر چلو، اور یہی بات میری بیوی کے سامنے کہو۔ اگر تم سچے ہو، تو سب کے سامنے سچ ثابت کرو۔ اس وقت تک گھر کے سب افراد جاگ گئے تھے۔ لڑکے نے سب کے سامنے وہی بات دہرائی، جو راشدہ نے اسے سکھائی تھی۔ سب لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ زاہدہ بھی دم بخود رہ گئی، کیونکہ یہ وہی لڑکا تھا جسے اس نے کل اپنی نند کے ساتھ گلی میں باتیں کرتے دیکھا تھا۔ ساس نے موقع پا کر کہا، مجھے تو پہلے ہی شک تھا کہ یہ لڑکی ٹھیک نہیں، لیکن کوئی ثبوت نہ تھا، اس لیے چپ رہی۔یوں زاہدہ پر ایک جھوٹا الزام لگا دیا گیا، جس سے نہ صرف اس کی عزت خاک میں مل گئی بلکہ وہ امید جو اس نے آنے والے بچے کی صورت میں باندھی تھی، وہ بھی آنکھوں میں ہی دم توڑ گئی۔

عاقب نے کہا تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟ لگتا ہے سبھی اس کے خلاف گہری سازش میں شریک ہیں، ایک عاقب کے سوا جو یہ سارا تماشہ حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ زاہدہ رو رو کر کہہ رہی تھی یہ سب جھوٹ ہے۔ کل جب میں نے راشدہ کو اس لڑکے سے گیٹ کے پیچھے باتیں کرتے دیکھا تھا، تو میں نے اس سے کہا تھا کہ مجھے بتاؤ کیا معاملہ ہے اور یہ کون ہے؟ یہ سامنے کھڑی ہے، آپ اس سے پوچھ لیں کہ میں نے یہ کہا تھا یا نہیں؟

عاقب ابھی تحمل سے کام لینا چاہتے تھے۔ وہ بات کی تہہ تک پہنچ چکے تھے، مگر مصلحت کے تحت معاملے کو دیکھ رہے تھے۔ ایک طرف بہو تھی اور دوسری طرف بیٹی، دونوں ہی لڑکیاں ان کے گھر کی عزت تھیں، مگر نوید نوجوان تھا اور غصے میں آ گیا۔ اکثر رات دیر سے گھر آتا تھا، اس لیے حفاظت کے لیے پستول اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اس نے پستول نکالا اور لڑکے پر تان کر بولا سچ سچ بتا دے، دوشی کون ہے؟ میری بیوی یا بہن؟ بہن کو تو میں معاف کر دوں گا کیونکہ اس کے وارث میرے والد ہیں، یہ ان کا معاملہ ہے، جو کریں، مگر بیوی کا مالک میں ہوں، اسے نہ بخشوں گا۔
لڑکا گوں مگوں تھا کہ سچ کہے یا جھوٹ بولے، مگر وہ اپنی محبوبہ کی خاطر جھوٹ بولنے پر تیار نہ تھا۔ چپ رہا تو نوید اس پر گولی چلانے لگا۔ باپ نے آگے بڑھ کر لڑکے کو بچانا چاہا، اسی کشمکش میں گولی چل گئی جو عاقب کے سینے میں لگی اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے گر پڑے۔ زاہدہ کی چیخ نکل گئی۔ اسے لگا کہ آج وہ پھر سے بے سہارا اور یتیم ہو گئی ہے۔ وہ دعا کرنے لگا کہ خدا کرے میرے سسر کی جان بچ جائے، مگر ان کی جان نہ بچ سکی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس افراتفری میں لڑکے کو بھاگنے کا موقع مل گیا لیکن عورتیں زاہدہ پر ٹوٹ پڑیں۔

فائرنگ کی آواز پر پڑوسیوں کی آنکھ کھل گئی اور لوگ اکٹھے ہو گئے۔ جب انہوں نے خونی منظر دیکھا تو سب ششدر رہ گئے۔ پوچھا کہ عاقب صاحب پر گولی کس نے چلائی؟ اور آپ لوگ زاہدہ کو کیوں مار رہے ہیں؟ ساس بولی یہ رات گئے کسی لڑکے کو گیٹ کے اندر بلا کر بات کر رہی تھی۔ شوہر نے اسے دیکھ لیا اور لڑکے کو پکڑ لیا۔ تب لڑکے نے جیب سے پستول نکال کر فائر کیا جو عاقب صاحب کے لگ گئی اور وہ موقع پر گر گئے۔ یہ کہہ کر وہ رونے لگی، حالانکہ یہ سب جھوٹ تھا، مگر نوید جو خود باپ کا قاتل بن چکا تھا خاموش رہا۔ کہا کہ پولیس میں رپورٹ درج کروانی ہے۔ ایک ہمایے نے کہا کہ کسی نے نوید کو فون کر دیا ہے، پولیس تو آئے گی ہی۔

زاہدہ چاہتی تو اصل بات سب کو بتا سکتی تھی، مگر اس نے خاموشی اختیار کی اور اپنی غیر شادی شدہ نند کا نام نہ لیا کیونکہ وہ اپنے مرحوم سر کے احترام کو پامال نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سب اسے درزی کی لڑکی کہہ کر عزت کے لائق نہ جانتے تھے، مگر محلے میں اس کے شوہر کی عزت تھی۔ پولیس آئی، بیانات ہوئے، نوید نے پولیس والوں کی جیبیں بھریں اور کہا کہ اس معاملے کو نہ اچھالا جائے۔ ہم عزت دار لوگ ہیں، جاؤ اور اسی چور کو تلاش کرو جس نے گولی چلائی اور میرے والد زد میں آ گئے۔ پولیس والوں کو کیا چاہیے تھا؟ جب مدعی ہی چپ ہو تو گواہوں کو کیا کرنا؟
کچھ عرصہ بعد معاملہ رفع دفع ہو گیا، مگر نوید کے دل سے شک دور نہ ہو سکا۔ اس نے کہا اب تو مجھے اپنے ہونے والے بچے پر بھی شک ہے کہ یہ میرا ہے یا نہیں؟ اس بات پر زاہدہ کی غیرت جاگی۔ اس نے سوچا جو میری عزت کی حفاظت کرنے والا، ہمدردی کرنے والا، اس گھر کا بزرگ اور سرپرست تھا، وہ تو چلا گیا۔ اب یہاں رہ کر کیا کرنا ہے؟ جب اپنی ہونے والی اولاد کو ہی باپ ولدیت کا حق دینے سے ہچکچا رہا ہے، تو یہاں رہنے کا کیا فائدہ؟ لہٰذا ایک دن جب نوید نے اسے بدکردار کہہ کر کہا کہ یا تو اس متنازعہ بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے ختم کر دو یا پھر یہاں سے چلی جاؤ، تو اس نے جرات مندانہ فیصلہ کیا۔

ایک چھوٹے سے بیگ میں دو جوڑے کپڑے رکھے اور اپنے ماموں کے گھر چلی گئی۔ انہیں تمام احوال سے آگاہ کیا۔ ماموں نے کہا دکھ ہو یا سکون، اب یہاں رہ کر جھیلنا۔ تمہاری چھوٹی دونوں بہنوں کی شادیاں میں اپنے دونوں لڑکوں سے کر رہا ہوں۔ تمہاری ممانی بھی راضی ہیں کیونکہ میری بھاﺅ نے دن رات خدمت کر کے ان کا دل جیت لیا ہے، میری بیوی کو مہارانی بنا کر چھپر کھٹ پر بٹھا دیا ہے۔ پھر اگر تمہاری ایک بہن بچ جائے تو اس کا رشتہ بھی تمہاری ممانی اپنے چھوٹے بھائی سے کرنے کا سوچ رہی ہے۔ تم میرے گھر بے خوفی سے رہو اور اپنا بچہ پالو، پھر جو تمہاری قسمت میں ہوگا، دیکھا جائے گا-

ماموں کے ہاں آکر زاہدہ نے سکون کا سانس لیا۔ ماموں نے نوید سے طلاق دلوادی تھی۔ زاہدہ نے وہاں ایک بیٹے کو جنم دیا۔ اس کے بعد اس نے سلائی کا کورس کیا اور بطور درزن اپنا کام شروع کیا۔ وہ سلائی سے اتنا کما لیتی تھی کہ ماموں اور ممانی پر بوجھ نہ رہا۔ جب تک بچہ اسکول جانے کے قابل ہوا، وہ بھی ایک ماہر درزن مشہور ہو گئی۔ اب نزدیکی محلوں سے ڈھیروں کپڑے اس کے پاس سلنے کو آتے۔ وہ اتنی محنت اور صفائی سے سلائی کرتی کہ اچھے اچھے درزیوں سے بھی بازی لے گئی۔ جہاں ایک جوڑے کی سلائی پر درزی ہزار یا بارہ سو روپے لیتے، وہ سات سو میں سل دیتی تھی۔ 
جو عورتیں کم اجرت دے سکتی تھیں، ان کے کپڑے بھی رعایت پر سلوا دیتی۔ اس طرح اس کی ساکھ بن گئی۔ پہلے وہ درزی کی بیٹی کہلاتی تھی اور اب زاہدہ ایک مشہور درزن بن گئی تھی۔ اپنے اس ہنر سے اس نے بیٹے کو پڑھا لکھا کر اعلیٰ آفیسر بنا دیا۔آج وہ اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہی ہے، لیکن جب ماضی کے زخم یاد آتے ہیں تو بس ایک ہی بات کہتی ہے کہ خدا بچپن میں کسی بچے کو یتیم نہ کرے۔ یہ یتیمی کے دکھ کبھی نہیں بھلائے جاتے۔
(ختم شد)
👇👇
اگر کہانی پسند آئی ہو تو کمنٹ میں ضرور بتایئں شکریہ