رات کی حسرت

Sublimegate Urdu Stories

ایک ہی دن میں رابعہ کے تینوں لڑکے مر گئے۔ رابعہ کے دو لڑکے صبح ہی کھیتوں میں چلے گئے اور ایک بھینس کی رسی کھول کر چھوٹے بھائی کو گھوڑا بنا کر رسی اس کے گلے میں ڈال دی اور دوسرا سرا ایک کتے کے گلے میں باندھ دیا جب کتا سر پٹ دوڑا تو میرو لہو لہان ہو گیا اور دم توڑ گیا۔ جب اس کے ماں باپ پہنچے وہ مر چکا تھا، بدحواسی میں رابعہ اپنے آٹھ ماہ کے بچے کو زمین پر بٹھا گئی شوہر کیساتھ بیٹے کو لے کر بھاگی جو بد قسمتی سے رینگتا ہوا نالے میں جا پڑا تھا۔
👇sublimegate👇
وہ بڑی عجیب عورت ہے۔ جہاں گیلی مٹی دیکھتی ہے، کھلونے بنانے بیٹھ جاتی ہے۔ پھر کھلونے اٹھائے بچوں کے پیچھے بھاگتی ہے اور مٹی بھرے ہاتھوں سے انہیں اپنے بنائے ہوئے بھالو اور گگو گھوڑے دینے کی کوشش کرتی ہے۔ بچے اس کا حلیہ دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں یا کھلونے پرے پھینک دیتے ہیں اور پتھر مارنے لگتے ہیں۔یہ پگلی ایک نیک عورت ہے۔ بچوں کو گالیاں دیتی ہے نہ مارتی ہے، بس اک ٹک ان کو دیکھتی جاتی ہے۔ تب ہی سب اسے پیرو کی پگلی کہتے ہیں۔ ہمارے گاؤں میں پیرو نیک آدمی کو کہا جاتا ہے اور پیر بخش تو یوں بھی بڑا نیک آدمی تھا۔ چوک قریشی موڑ پر اس کی دکان تھی۔ یہ سادہ دل دیہاتی کسی کو کچھ نہ کہتا۔ کوئی چائے کی پیالی پی کر پیسوں کے بدلے گالی دے جاتا، تو بھی چپ ہو رہتا یا دعا دے کر کہتا،او کاکا، خیر ہو تیری! پیسے نہیں دیتا، نہ دے، غصہ تو نہ کر۔باپ کا چائے کا کھوکھا تھا، پیرو نے دکان کر لی۔ 

جب یہ سولہ برس کا تھا تو خیر بخش نے اس کی شادی اپنی بھتیجی سے کر دی، لیکن اس لڑکی کی عمر کم تھی۔ پیرو نے صرف دو برس گرہستی کی خوشی دیکھی۔ جب وہ اٹھارہ کا تھا تو پہلی بیوی رضائے الٰہی سے انتقال کر گئی۔ماں باپ مر گئے تو پیرو تنہا رہ گیا۔ لوگوں نے کہا، پھر سے گھر بسالو، کب تک ایسے پھرو گے؟ مکان ہو اور گھر والی نہ ہو تو مسکن کاٹنے کو دوڑتا ہے۔پیرو جوان تھا، صحت مند تھا، کماؤ بھی تھا۔ ایسے میں عورت کی آرزو کس مرد کو نہیں ہوتی، مگر وہ شادی کے نام سے بدک جاتا اور کانوں کو ہاتھ لگانے لگتا۔معاملہ یہ نہ تھا کہ وہ شادی سے بھر پایا تھا، بات یہ تھی کہ اس کا بیٹا اصغر تین برس کا تھا۔ وہ اپنے بیٹے پر سوتیلی ماں کا عذاب نازل نہیں کرنا چاہتا تھا۔بیوی اس کی ضرورت تھی مگر بچے میں ظلم سہنے کی تاب نہ تھی۔اصغر چچی، پھوپھی اور اسی قبیل کی رشتہ دار عورتوں کے آنچلوں میں پناہ ڈھونڈتا رہا۔ جلد ہی پیرو کو احساس ہو گیا کہ یہ بالک کسی دوسری عورت کی گود میں نہیں سما سکتا۔ وہ بیٹے کو گھر لے آیا۔

اصغر باپ کا پیار پا کر خوش ہو گیا، لیکن وہ بیٹے کو ماں نہیں دے سکتا تھا۔ بچے کی پرورش باپ کے لیے ٹیڑھی کھیر تھی۔سچ ہے، ممتا کا وصف تو صرف عورت کی صفت ہے، بچے کے لیے ماں کا ہونا ضروری تھا۔بہت سوچ بچار کے بعد آخر پیرو نے دوسری شادی کر لی۔ خالہ سے یہ شرط طے ہوئی کہ رابعہ نہ صرف بچے کو ماں کا پیار دے گی بلکہ اس کے دل سے محرومی کے سارے زخم دھو ڈالے گی۔رابعہ الہڑ و کم سن تھی، ان باتوں کو نہیں سمجھتی تھی۔ ماں نے جو نصیحتیں کیں، وہ میکے کی دہلیز پر جھٹک آئی تھی۔دلہن بننے کی اسے چاہ تھی، لیکن پیر بخش کے گھر آ کر وہ ڈر گئی۔ اس کے تیور دیکھ کر ہر وقت سہمی رہتی۔پہلے دن ہی پیرو نے دلہن کو سنجیدگی سے اصغر کے بارے میں کچھ نصیحتیں کیں، پھر بچے کو اس کے پہلو میں لٹا کر دوسری چارپائی پر لیٹ گیا۔ کچھ دیر تک وہ کسمساتی رہی، حسرت سے پیرو کو دیکھا۔ وہ تو اپنی ذمہ داری کا بوجھ اس کے نازک پہلو میں ڈال کر گہری نیند سو چکا تھا۔

رات کے اگلے پہر یہ بے چاری بھی نیند کی بانہوں میں جھول گئی۔ یوں اس رشتے کی ابتدا ہی غلط انداز سے ہوئی۔ رابعہ کا دل جیتنے کا یہ طریقہ احسن نہ تھا۔ پہلے تو پیرو کو اس الہڑ لڑکی سے پیار جتانا لازم تھا، لیکن نادان مرد نے اس امر کو ضروری خیال نہ کیا۔ تاہم ابتدا میں وہ شوہر کے ڈر سے اصغر کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آتی رہی۔ رفتہ رفتہ اس کے کندنی بدن نے گھر کے چاروں کونوں میں فسوں پھیلا دیا، تو اصغر کی کم بختی آگئی۔ پیرو کی بازپرس اور رابعہ کا پیار دونوں گم ہوگئے، یہاں تک کہ رابعہ دلیر اور پیر بخش بزدل ہوگیا۔جوں ہی شوہر کے دل پر رابعہ کا راج ہوا، وہ اصغر کے معاملے میں نہایت سخت گیر اور سرد مہر ثابت ہوئی۔ کوئی حربہ نہ چھوڑا اور معصوم بچے کے ساتھ مدِّ مقابل کا سا سلوک کرنے لگی۔ اسے ذہنی اور جسمانی دکھ پہنچانے میں حد کر ڈالی۔اصغر کے دل پر کیا بیتی؟ بے زبانوں کی کہانیاں ان کے آنسوؤں میں بہہ جاتی ہیں۔ انہیں کوئی رقم نہیں کرتا، تو کوئی پڑھ کیسے سکتا ہے؟ دنیا کا سب سے بڑا ظلم تو بچوں کو پیار کے لیے ترسانا اور ان کی روحوں کو پامال کرنا ہے۔ رابعہ خود ماں بن کر بھی اس معصوم کے لیے ماں نہ بن سکی۔ وہ اپنے بچوں میں اتنی مدہوش ہوگئی کہ سوتیلے بیٹے کا دل، جو خالی کشکول تھا، اس میں پیار کے دو میٹھے بول بھی نہ ڈال سکی۔ایک روز یہ کومل کونپل باپ اور سوتیلی ماں کی بے حسی و غفلت کے باعث مرجھا گئی۔ اصغر کی موت کا پیرو کو کچھ دن صدمہ رہا، پھر وہ ایک بھولی بسری کہانی بن گیا۔
ایک دن کا ذکر ہے، پیرو زمیندار کے ٹیوب ویل پر گیا ہوا تھا۔ رابعہ گھر میں کھجور کے پتوں سے چٹائی کے لیے پٹیاں بن رہی تھی۔ اس کے دونوں بیٹے گھر سے نکل گئے۔ یہ صبح کے دس بجے کا وقت تھا۔ دونوں کھلیان میں چلے گئے۔ بڑے نے چھوٹے سے کہا، آؤ گھوڑا بنیں۔ رسی تو ہے نہیں۔ شیرو نے میرو سے کہا، قریب ہی بھینس کی کھولی ہے، اس کا رسہ نکال لیتا ہوں۔ پہلے تم گھوڑا بنو۔ چار برس کے میرو نے گردن آگے کر دی۔ بڑے بھائی نے اس کے گلے میں رسی کا پھندا ڈالا اور ہنکانے لگا۔ رسے کا دوسرا سرا کُتے کے گلے میں بندھا تھا۔ لڑکے کے ہنکانے سے وہ بھاگنے لگا۔ وہ کتا اچھا خاصا ادھیڑ عمر تھا۔ وہ کھیت میں بھاگا تو چھوٹا لڑکا زمین پر گھسٹنے لگا۔ پہلے رسہ اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا بنا، پھر لڑکا کانٹوں بھری زمین پر اوندھا گرا۔ارے اٹھ میرے گھوڑے، جلدی چل! شیرو بانکے جا رہا تھا اور کتا بھاگے جاتا تھا۔ میرو مٹی کے ڈھیلوں بھری کھردری زمین پر اچھل اچھل کر گر رہا تھا۔ فٹ بال کی طرح وہ اور زور سے گھسٹتا جاتا، لیکن منہ زور جانور کو روک لینا محال تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والے ایک کسان کی نظر جب سرپٹ بھاگتے کتے پر پڑی تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ رسے کے دوسرے سرے سے بندھے چھوٹے سے لڑکے کا کچومر نکل چکا تھا۔ شیرو نے جب دیکھا کہ میرو مر گیا ہے، تو خوف سے بھاگ کر باڑ میں چھپنے لگا، جو کانٹوں بھری تھی۔

 آگے تھوڑی سی بُھری ٹہنیاں پڑی تھیں۔ اس بچے کو علم نہ تھا کہ وہ کانٹوں کی باڑ میں پھنس کر لیر و لیر تو ہو سکتا ہے، چھپ نہیں سکتا۔ میٹھی روٹی ٹوکری تلے ٹھنڈی ہو چکی تھی اور بچے ابھی تک گھر نہیں لوٹے تھے۔ رابعہ ان کو ڈھونڈنے نکلی۔ اپنے آٹھ ماہ کے بچے کو اس نے گود میں اٹھا رکھا تھا۔ کھلیان میں آئی تو بابو کسان نے کہا، پیاری بہنا! تو کہاں تھی؟ دیکھ، تیرے میرو کا کیا حال ہوا ہے۔ میں نے بھینس کے جنے کو بڑی مشکل سے قابو کیا ہے ۔بچے کی حالت دیکھ کر رابعہ کا کلیجہ شق ہوا۔ وہ لہولہان تھا۔ ترنت اس نے جیرے کو گود سے اتارا اور دوڑتی ہوئی پیرو کی طرف گئی، جو ٹیوب ویل چلا رہا تھا۔ جلدی آ، پیرو، دیکھ تو اپنے میرو کی حالت! یہ کہہ کر وہ سینہ کوبی کرنے لگی۔ پیر بخش نے لڑکے کو اٹھایا، مگر وہ دم توڑ چکا تھا۔دونوں پگڈنڈی پر بھاگے، جہاں بدحواسی میں رابعہ اپنے آٹھ ماہ کے بچے کو زمین پر بٹھا گئی تھی۔ اب وہ وہاں نہیں تھا۔ چند لمحوں میں کدھر گیا میرا جیرہ؟ ابھی تو ٹھیک طرح سے چلتا بھی نہیں ہے۔ پگڈنڈی کے ساتھ نالہ بہہ رہا تھا، وہ رینگتا ہوا نالے میں جا پڑا تھا اور ڈبکیاں لگا رہا تھا۔ بہادر کسان نے اسے بھی نکالا اور دوسرے بچے کی لاش بھی اسی نے اٹھائی۔ میاں بیوی بہادر کے ہمراہ روتے ہوئے گھر کو چلے تو یاد آیا کہ شیرو ساتھ نہیں ہے۔
 تھوڑی سی تلاش سے وہ بھی مل گیا۔ زہر بھرے خاروں نے نازک بدن کو چھلنی کر ڈالا تھا۔ وہ تو چھپنے کو باڑ میں گھسا تھا، تکلیف کی تاب نہ لا کر سانسوں نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔رابعہ نے ایک نظر اس کو دیکھا اور بس پچھاڑ کھا گئی۔اسی دن سے پھر کسی نے اسے اپنے گھر کی چھت تلے نہ پایا۔ گھر لاتے تو چیختی چلاتی باہر بھاگ جاتی۔ بال بکھرائے، کھلے آسمان تلے پھرتی رہتی۔ بچوں کی طرف لپکتی، تو وہ پتھر مارنے لگتے۔ وہ انہیں نہیں مارتی تھی، بس تکے کی طرح دیکھے جاتی۔ بانہیں کھول کر ان کی طرف بڑھنا چاہتی اور کہتی، مجھ سے بھاگو نہیں، اصغر! ادھر آؤ، مجھے پیار کرنے دو۔کون بچہ بھلا کسی باؤلی کی بانہوں میں جانا پسند کرتا ہے؟ پاگل عورتیں تو بچوں کے لیے تماشے کی چیز ہوتی ہیں۔ وہ سب جمع ہوجاتے اور اسے چھیڑنے کے لیے اَؤ اَؤ کی آوازیں نکالتے، اور جب وہ ان کی جانب بڑھتی تو بھاگ جاتے۔ رابعہ جب تک زندہ رہی، یونہی ان کھلنڈروں کے تعاقب میں بھاگتی رہی، مگر وہ کبھی اس کے ہاتھ نہ آئے۔

(ختم شد)

اگر کہانی پسند آئی ہو تو فیس بک کمنٹ میں ضرور بتائیں۔ شکریہ